Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کے اوصاف۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
سورة الصّٰٓفّٰت 91
یعنی اللہ کی اولاد ہونا تو درکنار، ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے اس سے ذرہ برابر تجاوز تک کرنے کی مجال ہم نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
وانا لنحن الصآقون وانا لنحن السیحون دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ ہم ہر وقت اس کے حضور میں صف بستہ رہین والے اور اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ فرشتوں کی صف بستگی کا ذکر اس سورة کی پہلی ہی آیت میں ہوا ہے اور اس کے تحت ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ مستحون سے مقصود وہی چیز ہے جو سورة کے شروع میں تالیت ذکرا کے الفاظ سے بیان ہونی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ عرش الٰہی کے اردگرد فرشتوں کی نماز ہے جو عبدیت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ہاں اس کو ذکر سے تعبیر فرمایا ہے یہاں تسبیح سے اور قرآن میں نماز کی تعبیران دونوں ہی لفظوں سے ہوئی ہے یہ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی خدا کو ان تمام باتوں سے ارفع و منزہ قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
166۔ 1 مطلب یہ کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
31: یعنی خود فرشتے تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں نہیں کہتے، بلکہ اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے…
Read the full tafseer →8 یہاں تک فرشتوں کا کلام ختم ہوا۔ آگے اہل مکہ کا حال بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 166{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ۔ ”اور ہم تو سب کے سب اپنے ربّ کی تسبیح کرنے والے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
94 اللہ اور جبرئیل کے درمیان نور کے ستر (70) حجاب :۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور اپنا معبود قرار دیتے تھے۔ ان تین آیات میں فرشتوں کی زبان سے اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ یعنی تمہارے اس شرکیہ عقیدہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتہ کا ایک مقررہ درجہ اور مقام ہے جس سے آگے ہم بڑھ نہیں سکتے۔ چناچہ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسول اللہ نے سیدنا جبرئیل سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ تو جبرئیل نے جواب دیا کہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نور کے ستر (70) حجاب ہیں اگر میں اپنے مقام سے ذرا بھی آگے بڑھنے کی کوشش کروں تو جل جاؤں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
89۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم عبد محض اور محکوم خالص ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ جو خدمت ہم میں سے جس کے سپرد ہے، بس وہ ایس میں لگا رہتا ہے۔ یہ سب مضمون فرشتوں کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ اس سے ایک طرف تردید ان جاہلی قوموں کی بھی ہورہی ہے، جنہوں نے فرشتوں میں الوہیت اور معبودیت کی شان پائی ہے، اور دوسری طرف اہل کتاب کی بھی تردید ہے جنہوں نے بعض فرشتوں کو خطاکار وعصیاں شعار قرار دیا ہے (آیت) ” وما ...... معلوم “۔ بعض نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ ملائکہ کے لیے مقامات معین ومعلوم ہیں، جن میں علو و ترقی کی گنجائش نہیں، بخلاف انسان کے کہ وہ جس قدر بھی جدوجہد کرے، قرب وعلو کے مراتب طے کرتا رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →وانا لنحن المسبحون اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں (بھی) لگے رہتے ہیں۔ یعنی تمم عیوب اور نازیبا نقائص سے ‘
جیسے اللہ کا صاحب اولاد ہونا وغیرہ ‘ اس کا پاک ہونا بیان کرتے رہتے ہیں۔
وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَکا جملہ مفید حصر ہے ‘ اسی طرح وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَکا جملہ بھی مفید حصر ہے (اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا مسلمان آدمی اللہ کے سامنے عبادت میں صف بستہ نہیں ہوتے ؟ کیا وہ اللہ کی پاکی بیان نہیں کرتے ؟ اسلئے کہا جائے گا کہ) یہ حصر اضافی ہے ‘ کافروں کے مقابلہ میں ان اوصاف کی خصوصیت ملائکہ کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم کافروں کی طرح نہیں ہیں کہ عبادت اور تسبیح میں اللہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
(164۔ 166) آگے جبریل امین کا قول روایت کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا آسمان میں ایک درجہ مقرر ہے اور ہم نماز میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ۔ يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ) [ الأنبیاء : 19، 20 ] ”اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
164 ۔ 166:۔ یہ فرشتوں کا قول ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں کہا ہے اور جنہوں نے ان کی عبادت کی تھی ان کے انکار کے لئے ہے۔ مقاتل نے کا ہے : یہ تین آیات اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ سدرۃ المنتھی کے پاس تھے حضرت جبریل امین پیچھے ہٹ گئے تو نبی کریم ﷺ نے کہا : ” یہاں تو مجھے چھوڑ جائے گا “ حضرت جبریل امین نے عرض کی کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں اپنے مقام سے آگے بڑھوں ٭۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے قول کی حکایت بیان کرتے ہوئے ان آیات کو نازل فرمایا : وما منا الا لہ مقام معلوم۔۔
کو فیوں کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے : وما منا الا من لہ مقام معلوم تو اسم موصول کو حذف کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید بن (رح) وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “ (اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے (جہاں وہ عبادت کرتا ہے) یعنی فرشتوں کا (آیت ) ” وانا لنحن الضآفون “ (اور ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں (آیت) ” وانا لنحن المسبحون “ (اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا کہ ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اسی آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) کا قول ہے
4:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر (رح)…
Read the full tafseer →وَاِنَّا [اور یہ کہ ] لَنَحْنُ [یقینا ہم لوگ ] الْمُسَبِّحُوْنَ [تسبیح کرنے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔
چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔
(ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
66:۔ وان کانوا الخ : یہ شکوی مع تخویف دنیوی ہے۔ نزول قرآن سے پہلے مشرکین قریش کہا کرتے تھے کہ جس طرح پہلے لوگوں (یہود و نصاری) پر کتابیں اتریں۔ اگر اس طرح کی کوئی کتاب ہم پر نازل ہوتی تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے۔ اور خالص اس کی عبادت کرتے۔ جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آخری کتاب (قران) آگئی تو فورًا اس کا انکار کردیا۔ اس کفر و انکار کا انجام عنقریب ہی دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
ربط آیات
اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ 166
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
اس کے بعد خدا تعالیٰ ملائکہ کے وہ صفات ان کی زبانی اقرار کے موافق بیان فرماتا ہے کہ جن سے ان کا بندہ اور اس کی مخلوق ہونا ثابت ہوجاوے اور مشرکین کا خیال رد ہوجاوے فقال (1) وما منا الا لہ مقام معلوم۔ (2) وانا لحن الصافون، (3) وانا لنحن المسبحون یہ تین صفت ملائکہ کی ہیں کہ وہ یہ تین باتیں آپ کہتے ہیں، ان کا اقرار کرتے ہیں۔ پہلی صفت یہ کہ ہر ایک فرشتہ کا ایک درجہ معین ہے، اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ عام ہے کہ وہ درجہ تصرفات عالم سفلی و علوی کا ہو یا عبادت و تقرب کا ہو جو کام جس کو اور جو مرتبہ جس کو دیا گیا ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتا۔ دوسری صفت کے یہ معنی ہیں کہ ملائکہ حکمِ الٰہی بجالانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
وَمَا مِنَّـآ اِلاَّ لَـہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۔ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ ۔ (الصآفات : 164 تا 166)
(اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے۔ اور ہم اللہ کے حضور صف بستہ رہنے والے خدمتگار ہیں۔ اور ہم اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ )
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے فرشتوں کے مقام کی وضاحت
اوپر کی آیات میں فرشتوں کی حیثیت کو واضح کیا گیا اور ان سے متعلق مشرکین کے عقائد کی تردید کی گئی۔ لیکن اب ان کے مقام و مرتبہ کی مزید وضاحت کے لیے فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا اپنا اعتراف ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ مشرکین پر ان کی غلطی کو مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
فہم القرآن
ربط کلام : نیک جنّات اور مواحد بندوں کا عقیدہ بیان کرنے کے بعدملائ کہ کا عقیدہ اور ان کا اعتراف ذکر کیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے نیک جنّات اور مخلص بندوں کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی رشتہ داری ہے۔ جنّات، انسان اور ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ وہ سب کا واحد خالق، مالک اور رازق ہے یہی عقیدہ تمام ملائکہ کا ہے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہماری کیا مجال ہے کہ جہاں ہماری ڈیوٹی لگائی گئی ہے اس سے ایک انچ آگے پیچھے ہوسکیں اور جو ہمیں حکم دیا جاتا ہے اس میں بال برابر سستی کریں۔ ہم تو اپنی اپنی جگہ پر کھڑے اپنے خالق کے حکم…
Read the full tafseer →166: وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ (اور ہم پاکی بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں) المسبحون کا معنی اس کو عیبوں سے پاک قرار دینے والے ہیں یا نماز ادا کرنے والے ہیں۔
صحیح بات یہ ہے :
یہ آیت اور اس کا ماقبل سبحان اللّٰہ عما یصفون یہ ملائکہ کا کلام ہو تاکہ یہ ولقد علمت الجنۃ میں ملائکہ کے تذکرہ سے متصل ہوجائے۔ گویا تقدیر کلام اس طرح ہے ولقد علم الملائکۃ وشہدوا ان المشرکین مفترون علیہم فی مناسبۃ رب العزۃ وقالوا سبحان اللّٰہ فنزھوہ عن ذلک واستثنوا عباد اللہ المخلصین وبرؤوھم منہ وقالوا للکفرۃ والھتکم لا تقدرون ان تفتنوا علی اللّٰہ احدًامن خلقہ و تضلوہ الامن کان من اہل النار و کیف نکون مناسبین لرب…
Read the full tafseer →166، وانالنحن المسبحون ، ہم اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں وہ تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کو خبردی کہ وہ اللہ کو عبادت کرتے ہیں ۔ صلوۃ اور تسبیح کے ساتھ ۔ ان کے اور معبود ین نہیں جیسے کفار کے کئی کئی معبود ہوتے ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم کافروں کی طرح نہیں ہیں کیوں کہ عبادت اور تسبیح میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
164۔ 166 تفسیر قرطبی اور تفسیر مقاتل 2 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ مقام سدرۃ المنتہیٰ تک جبرئیل کے ساتھ پہنچے تو اس مقام پر پہنچ کر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آگے جانے سے رکے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ ایسے مقام پر مجھ کو تنہا چھوڑتے ہو حضرت جبرئیل نے ان تینوں آیتوں کے مضمون کے موافق جواب دیا۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قائل کرنے کو ان تین آیتوں میں نازل فرمایا کہ یہ ظالم مشرک فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور ان مورتوں کی پوجا کر کے مورتوں والے فرشتوں کو اپنا سفارشی قرار دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
آیت 161
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : اے مشرکو ! تم اور تمہارے خود ساختہ الہ کسی کو فتنے میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کو بیان کرنا مقصود ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔
آیت
یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے برأت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لئے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
109 فرشتوں کا کام اپنے رب کی تسبیح کرنا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہمارا کام تو تسبیح کرتے رہنا ہے اپنے رب کی "۔ یعنی اللہ پاک کی پاکی بیان کرنا ہر نقص و عیب اور ہر طرح کی خامی و کمزوری سے۔ نیز ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو خداوند قدوس کی خدائی میں شرکت تو دور کی بات ہے ہم تو ہمیشہ اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تسبیح میں اللہ پاک کی تنزیہ کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ یعنی اللہ پاک کو ان تمام باتوں سے منزہ اور اعلیٰ وارفع قرار دینا جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ پس وہ شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟
تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →ف 8 یا ” نماز پڑھتے رہتے ہیں ‘ لفظی ترجمہ یوں ہے ” اور ہم تسبیح کرنے والے ہیں “ حدیث میں ہے کہ آسمان میں قدم رکھنے کی کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اور یہی معنی ” مقام ملوم “ کے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(37:166) المسبحون : تسبیح (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر۔ تسبیح پڑھنے والے۔ سبحان اللّٰہ وبحمدہ کہنے والے۔ اللہ کی پاکی بیان کرنے واے اللہ کا ذکر کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–179
(ف 2) اوپر مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرماکران آیتوں میں ان مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ اس کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آئے اور قسمیں کھاکریہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خاص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے اور وہ قول وقرار کچھ یاد نہ رکھا سو اس انکار و انحراف کا جوانجام ہونے والا ہے عنقریب دیکھ لیں گے پھر فرمایا کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہرچ کی ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مدد پہنچاتا ہے اور آخرکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–176
خدائے خیر اور خدائے شر
1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…
Read the full tafseer →(166) اور ہم اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے والے ہیں۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آسمانوں میں ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں جہاں فرشتہ نماز پڑھتا اور تسبیح نہ کرتا ہو۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک دفعہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی ہم میں سے یعنی گروہ ملائکہ میں سے کوئی ایسا نہیں جس کی آسمانوں میں کوئی جگہ مقرر نہ ہو جہاں وہ عبادت کرتا اور نماز پڑھتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں تک ہوچکا فرشتوں کا کلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–166
ف 2۔ یعنی ان میں جو ملائکہ ہیں ان کا یہ مقولہ ہے کہ ہم تو بندہ محض ہیں، چناچہ جو خدمت ہم کو سپرد ہے اسی کی بجا آوری میں لگے رہتے ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →اور یہ کہ ہم سب تو اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں :
166۔ یہ وہی بات انہوں نے کہی ہے جو آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کے ذکر کے وقت کی تھی اور اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ (نحن نسبح بحمدک ونقدلک “ ۔ (البقرہ 2 : 30) وضاحت اس کی وہی ہے جو عروۃ الوثقی جلد اول کی مذکورہ آیت میں گزر چکی اور انسانوں کی تفہیم کے لیے انسانوں کی زبان میں بات کی گئی کہ فطرت انسانی کی انسان کو تفہیم ہو سکے اور وہ اپنی حقیقت کو پہچان جائے لیکن بہت ہی کم ایسا ہوا کہ انسانوں نے اس کی تفہیم کی ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
In verse 158, it was said: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (And they have made up between Him and the Jinns some kinship). There are two explanations of this sentence. According to the first Tafsir, this is a description of the false belief held by the Mushriks of Arabia that the daughters of the chieftains of the Jinns are mothers of the angels. As if, God forbid, the daughters of the chieftains of the Jinns have marital relations with Allah Ta’ ala and, as a result of this bond, angels have come to exist. Hence, it appears in an exegetical narration when the Mushriks of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–168
91 That is, "Not to speak of being Allah's children, we do not have the power to exceed in any way or degree the place and position and status appointed for each of us by Allah. "
Read the full tafseer →