As-Saaffaat 37:164

As-Saaffaat · from ayah 164

37:164

وَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ ۟ۙوَمَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ‏

اور (فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[The angels say], "There is not among us any except that he has a known position.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:164

اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (فرشتے تو یہ کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (فرشتے کہتے ہیں:) ہم میں سے بھی ہر ایک کا مقام مقرر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم میں سے جو بھی ہے اس کی ایک مقرر جگہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم (فرشتوں) میں سے ہر ایک کا ایک معلوم مقام ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے بس ایک معین مقام ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ہمارا حال تو یہ ہے کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے اور بس

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین درجہ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم میں سے کوئی نہیں مگر اس کے لیے ایک مقام مقرر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اور فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for us, there is none but has an appointed station.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (the angels say,) :There is no one among us who does not have a known station,

— Muhammad Taqi Usmani

And (the angels say,) :There is no one among us who does not have a known station,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there is not one of us (angels) but has his known place;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There is not one of us but hath his known position.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[The angels say], "There is not among us any except that he has a known position.

— Saheeh International

The angels say, "Each of us has an appointed place.

— Muhammad Sarwar

And there is none of us but has an assigned place,

— Muhammad Habib Shakir

Of us there is none but hath a station assigned.

— Abdul Majid Daryabadi

(Those ranged in ranks say): "Not one of us but has a place appointed;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:164

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 161–170

فرشتوں کے اوصاف۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 164–168

سورة الصّٰٓفّٰت 91 یعنی اللہ کی اولاد ہونا تو درکنار، ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے اس سے ذرہ برابر تجاوز تک کرنے کی مجال ہم نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 158–166

وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وما منا الا لہ مقام معلوم وہ پہلی بات یہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا دائرہ کار متعین اور اس کی رسائی محدود ہے۔ ہو اپنی نسبت بھی یہی بیان دیتے ہیں کہ ان کی رسائی کی بھی ایک خاص حد ہے اس سے باہر وہ بھی نہیں جاسکتے اس مسئلہ پر سورة فاطر کی آیت 1 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اسپر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کی حیثیت خدا کے محکوم وتابعدار اہلکاروں کی ہے۔ ورنہ اپنے حدود سے باہر پر مار سکتے، نہ کسی امر میں خدا کے اذن کے بغیر دخل دے سکتے نہ کوئی کام بطور خود کرنے کی جرأت کرسکتے۔ اب کتنے احمق ہیں وہ لوگ جو خدا کے ان فکوم بندوں کو شریک خدائی مان کر ان سے یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–165

30: یہ ان مشرکین کے ایک اور بےہودہ عقیدے کی تردید ہے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں فرشتوں کی مائیں ہیں، گویا العیاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیویاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 161–166

فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔ یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہ کلام اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف سے گویا ان کی زبان سے فرمایا۔ جیسے بہت جگہ آدمیوں کی زبان سے دعائیں فرمائی ہیں۔ یعنی ہر فرشتہ کی ایک حد مقرر ہے۔ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ اس پر فرمایا کہ کافر کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جنوں کی عورتوں سے پیدا ہوئیں۔ سو جنوں کو اپنا حال خوب معلوم ہے اور فرشتے یوں کہتے ہیں ان کو بھی حکم الٰہی سے ذرا تجاوز کرنے کی گنجائش نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 164{ وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ} ”اور ہم میں سے کوئی نہیں مگر اس کے لیے ایک مقام مقرر ہے۔“ اس کو یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہوں کے درباروں میں تمام مقربین و مصاحبین میں سے ہر ایک کا کوئی خاص عہدہ ‘ مقام اور مرتبہ مقرر ہوتا تھا۔ ان میں کوئی پنج ہزاری ہوتا تھا تو کوئی دس ہزاری اور کوئی تیس ہزاری۔ اسی طرح اللہ کے حضور فرشتوں کے بھی الگ الگ مراتب ہیں ‘ جیسے ملائکہ مقربین ‘ ملااعلیٰ ‘ ملائکہ دنیا ‘ ملائکہ اسفل وغیرہ۔ یہاں فرشتوں کا قول نقل ہوا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین ّمقام ہے ‘ اور ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے ہم اس سے ذرہ برابر بھی تجاوز کرنے کی مجال…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 163–165

93 یعنی اے مشرکین عرب ! تم اور تمہارے معبود مل کر بھی شرک اور شرکیہ عقائد کی مدافعت میں اور اسلام کا راستہ روکنے میں جتنے ہتھکنڈے استعمال کرسکتے ہو۔ اور جتنی سازشیں تیار کرسکتے ہو کرلو۔ اللہ کے مخلص بندوں کو تم اپنے دام فریب میں پھنسا نہیں سکتے۔ تم صرف ایسے شخص کو ہی پھنسا سکتے ہو جو تمہارا ہی ہم جنس ہو اور اس نے جہنم میں جانے کا تہیہ کر رکھا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 164–166

89۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم عبد محض اور محکوم خالص ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ جو خدمت ہم میں سے جس کے سپرد ہے، بس وہ ایس میں لگا رہتا ہے۔ یہ سب مضمون فرشتوں کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ اس سے ایک طرف تردید ان جاہلی قوموں کی بھی ہورہی ہے، جنہوں نے فرشتوں میں الوہیت اور معبودیت کی شان پائی ہے، اور دوسری طرف اہل کتاب کی بھی تردید ہے جنہوں نے بعض فرشتوں کو خطاکار وعصیاں شعار قرار دیا ہے (آیت) ” وما ...... معلوم “۔ بعض نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ ملائکہ کے لیے مقامات معین ومعلوم ہیں، جن میں علو و ترقی کی گنجائش نہیں، بخلاف انسان کے کہ وہ جس قدر بھی جدوجہد کرے، قرب وعلو کے مراتب طے کرتا رہے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما منا الا لہ مقام معلوم اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین درجہ ہے۔ یعنی جنات (ملائکہ) نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقرر مقام عبودیت ہے ‘ یا آسمانوں میں ایک معین مقام ہے جہاں وہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آسمان چرچرایا اور اس کو چرچرانا چاہئے۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! چار انگل کی کوئی جگہ آسمان میں ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے سجدہ نہ کر رہا ہو۔ رواہ البغوی مقام معلوم سے یا مرتبۂ قرب سے مراد ہے ‘ سدی نے اس آیت کی تشریح میں یہی کہا کہ قرب اور مشاہدہ کا درجہ ہر فرشتے کا مقرر ہے۔ ابوبکر وراق نے کہا : مقام عبودیت مراد ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 164–166

(164۔ 166) آگے جبریل امین کا قول روایت کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا آسمان میں ایک درجہ مقرر ہے اور ہم نماز میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبانی ان کا اعتراف ذکر فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں بلکہ اس کے کامل اطاعت گزار بندے اور ہر وقت اس کی عبادت اور تسبیح کرنے والے ہیں۔ یعنی تمہارے اس شرکیہ عقیدے کے مقابلے میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتے کا ایک مقرر درجہ اور مقام ہے، جس سے آگے ہم نہیں بڑھ سکتے۔ ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنِّي أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لاَ تَسْمَعُوْنَ ، أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَہَا أَنْ تَءِطَّ مَا فِیْہَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلاَّ وَمَلَکٌ وَاضِعٌ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 164–166

164 ۔ 166:۔ یہ فرشتوں کا قول ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں کہا ہے اور جنہوں نے ان کی عبادت کی تھی ان کے انکار کے لئے ہے۔ مقاتل نے کا ہے : یہ تین آیات اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ سدرۃ المنتھی کے پاس تھے حضرت جبریل امین پیچھے ہٹ گئے تو نبی کریم ﷺ نے کہا : ” یہاں تو مجھے چھوڑ جائے گا “ حضرت جبریل امین نے عرض کی کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں اپنے مقام سے آگے بڑھوں ٭۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے قول کی حکایت بیان کرتے ہوئے ان آیات کو نازل فرمایا : وما منا الا لہ مقام معلوم۔۔ کو فیوں کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے : وما منا الا من لہ مقام معلوم تو اسم موصول کو حذف کردیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 160–164

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانکم “ یعنی اے مشرکین کی جماعت (آیت ) ” وما تعبدون “ یعنی جھوٹے معبودوں کی جو تم عبادت کرتے ہو۔ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ (یعنی تم گمراہ نہیں کرسکتے) یعنی تم نماز پڑھنے والوں کو گمراہ نہیں کرسکتے (آیت ) ” الا من ھو صال الجحیم “ (مگر اسی کو جو جہنم رسید ہونے والا ہے) یعنی اس کو جس کے بارے میں میرے علم میں یہ بات گزر چکی کہ وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوگا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) واللالکائی (رح) نے السنہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین (162) الامن ھو صال الجحیم “ یعنی نہ تم گمراہ ہو مگر جس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا مِنَّآ [اور (فرشتے کہتے ہیں) ہم میں سے نہیں ہے (کوئی)] اِلَّا لَهٗ [مگر اس کے لئے ] مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ: ایک معلوم مقام ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 161–170

فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔ چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–166

مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 162–164

65:۔ وما منا الخ : یہاں سے لنحن المسبحون تک فرشتوں کے حال کا دوسری بار اعادہ ہے۔ فرشتے خود اپنی عبودیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کا اللہ کی بارگاہ میں ایک معین مقام ہے جس سے وہ ذرا آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ ہم سب اللہ کے سامنے صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اس کی عبادت میں مصروف یا اس کے احکام کے منتظر اور ہم اللہ کی تنزیہ و تقدیس کرتے اور مشرکین کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی برتری اور اس کی تنزیہہ کا اعلان کرتے ہیں۔ فرشتے خود اعلان کر رہے ہیں کہ وہ نہ معبود ہیں، نہ خدا کی بیٹیاں اور نہ اس کی بارگاہ میں شفیع غالب والمراد انہم یخبرون انہم یعبدون اللہ بالتسبیح والصلوۃ ولیسو معبودین ولا بنات اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 149–166

ربط آیات اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۝ 164ۙ مَقامُ والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، ذلِكَ لِمَنْ خافَ مَقامِي وَخافَ وَعِيدِ [إبراهيم/ 14] ، وَلِمَنْ خافَ مَقامَ رَبِّهِ [ الرحمن/ 46] ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًّى [ البقرة/ 125] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 97] ، وقوله : وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] ، إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] ، خَيْرٌ مَقاماً وَأَحْسَنُ نَدِيًّا [ مریم/ 73] ، وقال : وَما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 164–166

اس کے بعد خدا تعالیٰ ملائکہ کے وہ صفات ان کی زبانی اقرار کے موافق بیان فرماتا ہے کہ جن سے ان کا بندہ اور اس کی مخلوق ہونا ثابت ہوجاوے اور مشرکین کا خیال رد ہوجاوے فقال (1) وما منا الا لہ مقام معلوم۔ (2) وانا لحن الصافون، (3) وانا لنحن المسبحون یہ تین صفت ملائکہ کی ہیں کہ وہ یہ تین باتیں آپ کہتے ہیں، ان کا اقرار کرتے ہیں۔ پہلی صفت یہ کہ ہر ایک فرشتہ کا ایک درجہ معین ہے، اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ عام ہے کہ وہ درجہ تصرفات عالم سفلی و علوی کا ہو یا عبادت و تقرب کا ہو جو کام جس کو اور جو مرتبہ جس کو دیا گیا ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کرسکتا۔ دوسری صفت کے یہ معنی ہیں کہ ملائکہ حکمِ الٰہی بجالانے کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 164–166

وَمَا مِنَّـآ اِلاَّ لَـہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۔ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ ۔ (الصآفات : 164 تا 166) (اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے۔ اور ہم اللہ کے حضور صف بستہ رہنے والے خدمتگار ہیں۔ اور ہم اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے فرشتوں کے مقام کی وضاحت اوپر کی آیات میں فرشتوں کی حیثیت کو واضح کیا گیا اور ان سے متعلق مشرکین کے عقائد کی تردید کی گئی۔ لیکن اب ان کے مقام و مرتبہ کی مزید وضاحت کے لیے فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا اپنا اعتراف ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ مشرکین پر ان کی غلطی کو مزید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 164–166

فہم القرآن ربط کلام : نیک جنّات اور مواحد بندوں کا عقیدہ بیان کرنے کے بعدملائ کہ کا عقیدہ اور ان کا اعتراف ذکر کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے نیک جنّات اور مخلص بندوں کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی رشتہ داری ہے۔ جنّات، انسان اور ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ وہ سب کا واحد خالق، مالک اور رازق ہے یہی عقیدہ تمام ملائکہ کا ہے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہماری کیا مجال ہے کہ جہاں ہماری ڈیوٹی لگائی گئی ہے اس سے ایک انچ آگے پیچھے ہوسکیں اور جو ہمیں حکم دیا جاتا ہے اس میں بال برابر سستی کریں۔ ہم تو اپنی اپنی جگہ پر کھڑے اپنے خالق کے حکم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

164: وَمَا مِنَّآ (اور نہیں ہے ہم میں سے کوئی ایک) ہر ایک ہم میں سے اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ (مگر کہ اس کا درجہ معین ہے) عبادت میں وہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ نحو : یہ موصوف کو حذف کر کے صفت کو اس کے قائم مقام لائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

146، ومامنا الا لہ مقام معلوم، یعنی ہم میں سے ہر ایک کا مقام معلوم ہے ، آسمانوں میں ایک معین مقام ہے جہاں وہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آسمان میں ایک بالشت جگہ بھی خالی نہیں کہ جس پر فرشتے نے نماز نہ پڑھی ہو اور تسبیح نہ کی ہو۔ حضرت ابی ذرؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ارشاد فرمایا کہ آسمان چرچرایا اور اس کو چرچرانا ہیے ۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، چار انگل کی کوئی جگہ آسمان میں ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے سجدہ نہ کررہاہو۔ سدی نے اس آیت کی تشریح میں کہا کہ قرب مشاہدہ کا درجہ ہر فرشتے کا مقرر ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 164–166

164۔ 166 تفسیر قرطبی اور تفسیر مقاتل 2 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ مقام سدرۃ المنتہیٰ تک جبرئیل کے ساتھ پہنچے تو اس مقام پر پہنچ کر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آگے جانے سے رکے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ ایسے مقام پر مجھ کو تنہا چھوڑتے ہو حضرت جبرئیل نے ان تینوں آیتوں کے مضمون کے موافق جواب دیا۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قائل کرنے کو ان تین آیتوں میں نازل فرمایا کہ یہ ظالم مشرک فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور ان مورتوں کی پوجا کر کے مورتوں والے فرشتوں کو اپنا سفارشی قرار دیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 161–166

آیت 161 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : اے مشرکو ! تم اور تمہارے خود ساختہ الہ کسی کو فتنے میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کو بیان کرنا مقصود ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔ آیت یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے برأت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لئے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 160–165

105 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگوں کو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگہ میں پکڑا اور جکڑا ہوا حاضر کیا جائے گا سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے "۔ کہ وہ اس طرح کے شرکیہ عقائد سے بھی بچے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کے عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور نجات سے بہرہ ور ہوں گے۔ (المراغی، الجامع وغیرہ) ۔ سو یہ استثناء ۔ { اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ۔ سے ہے۔ کیونکہ " محضرون " کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ مجرموں کو خدا کے حضور گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا۔ اس لیے اس استثناء کے ذریعے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 149–166

کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6” جس سے ہم ذرہ برابر تجاوز نہیں کرسکتے، کجا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کا دعویٰ کریں “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:164) وما منا الا لہ مقام معلوم۔ سابقہ مضمون سے آیات 164-165، 166 کا ربط یہ ہے کہ اوپر ذکر ہو رہا ہے تھا۔ کفار مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ حالانکہ وہ فرشتے ازخود کہتے ہیں وما منا الخ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں :۔ فھو من کلامہ تعالیٰ لکنہ حکی بلفظہم واصلہ وما منھم الالہ ۔۔ الخ اصل میں کلام اللہ تعالیٰ کا ہی ہے لیکن ان کی (فرشتوں کی) زیادتی بیان کیا گیا ہے اصل میں یہ اس طرح تھا ۔ وما منھم الا ۔۔ اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر ۔۔ الخ۔ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک متعین مقام ہے (164 اور ہم (سب) صت بستہ کھڑے رہتے ہیں (165) تو جب ان کا یہ حال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 149–166

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 164–165

(ف 1) شان نزول : تفسیر قرطبی اور تفسیر مقاتل میں چند روایتوں میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ معراج کی رات جب نبی ﷺ مقام درۃ المنتہی تک حضرت جبرائیل کے ساتھ پہنچے تو اس مقام پر پہنچ کر حضرت جبرائیل آگے جانے سے رکے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل سے کہا کہ ایسے مقام پر مجھ سے جدا ہوتے ہو، حضرت جبرئیل نے ان آیتوں کے مضمون کے موافق جواب دیا، اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قائل کرنے کو ان تین آیتوں میں نازل فرمایا کہ یہ ظالم مشرک فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور ان مورتوں کی پوجا کرتے ہیں اور فرشتوں کو اپناسفارشی قرار دیتے ہیں ان کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی جناب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 158–182

[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 163–176

خدائے خیر اور خدائے شر 1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(164) اور فرشتوں کا قول ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک درجہ اور ٹھکانا معین ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبان سے فرمایا جیسے دعائیں فرمائیں آدمیوں کی زبان سے ٹھکانا مقرر یعنی اپنی حد سے اسے آگے بڑھنا نہیں یہ اس پر فرمایا کہ کافر کہتے تھے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جنہوں کی عورتوں سے پیدا ہوتیاں سوجنوں کو اپنا حال معلوم ہے اور فرشتے یوں کہتے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک درجہ معین ہے اس کی بجاآوری میں لگے رہتے ہیں اور اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 164–166

ف 2۔ یعنی ان میں جو ملائکہ ہیں ان کا یہ مقولہ ہے کہ ہم تو بندہ محض ہیں، چناچہ جو خدمت ہم کو سپرد ہے اسی کی بجا آوری میں لگے رہتے ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام متعین ہے : 164۔ یہ فرشتوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں مگر اس کے لیے مقام متعین ہے اور کام بھی ہمارے سپرد ہے جو سپرد کردیا گیا ہے گویا ہم مخلوق ہیں اور جو جو ذمہ داری ہم کو سونپی گئی ہے اس کو ہم بغیر کسی حیل وحجت سرانجام دے رہے ہیں جیسا کہ قبل ازیں بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ فرشتے ایک طاقتور قوت کا نام ہے جو طاقت وقوت بغیر کسی جسم عطائی کے دیکھی نہیں جاسکتی اور جس طرح ان کا نام متعین ہے ان کا کام بھی یقینا معین ومقرر ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 158–166

In verse 158, it was said: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (And they have made up between Him and the Jinns some kinship). There are two explanations of this sentence. According to the first Tafsir, this is a description of the false belief held by the Mushriks of Arabia that the daughters of the chieftains of the Jinns are mothers of the angels. As if, God forbid, the daughters of the chieftains of the Jinns have marital relations with Allah Ta’ ala and, as a result of this bond, angels have come to exist. Hence, it appears in an exegetical narration when the Mushriks of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 164–168

91 That is, "Not to speak of being Allah's children, we do not have the power to exceed in any way or degree the place and position and status appointed for each of us by Allah. "

Read the full tafseer →