Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کے اوصاف۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ اس سے وہی گمراہ ہوسکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں۔ ازاں بعد فرشتوں کی برات اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 90
اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے " پس تم اور تمہاری یہ عبادت، اس پر تم کسی کو فتنے میں نہیں ڈال سکتے صرف اس کو جو ـــــــــــ " اس دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اے گمراہو، یہ جو تم ہماری پرستش کر رہے ہو اور ہمیں اللہ رب العالمین کی اولاد قرار دے رہے ہو، اس سے تم ہم کو فتنے میں نہیں ڈال سکتے۔ اس سے تو کوئی ایسا احمق ہی فتنے میں پڑ سکتا ہے جس کی شامت سر پر سوار ہو۔ دوسرے الفاظ میں گویا فرشتے اپنے ان پرستاروں سے کہہ رہے ہیں کہ " برد ایں دام بر مرغ وگرنہ "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبً آ (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسبی تعلق قرار دیا ہے) اس جملے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ گویا معاذ اللہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ تعالیٰ کا زوجیت کا تعلق ہے، اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔ چناچہ ایک تفسیری روایت میں ہے کہ جب مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا تو حضرت ابوبکر نے پوچھا کہ ان کی ماں کون ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ جنات کی سردار زادیاں (تفسیر ابن کثیر، ص 32 ج 4) لیکن اس تفسیر پر یہ اشکال رہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
فانکم وماتعبدون ماانتم علیہ بقتنین والا ھو صال الجحیم (163-161)
اللہ تعالیٰ کی آزمائشیں صرف امتحان کے لئے ہیں
بعض اہل تاویل نے علیہ بفتنین میں علی کو خلاف کے مفہوم میں لیا ہے اور ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ مجھے اس پر جزم نہیں ہے لیکن اگر یہ توجیہ قبول کرلی جائے تو ان آیات میں جنات پرستوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم اور تمہارے یہ معبود دونوں مل کر، اپنے اس فتنے کے ذریعے سے جو تم نے کھڑا کیا ہے۔ خدا سے صرف انہی لوگوں کو برگشتہ کرسکتے ہو جو اپنی بد اعمالیوں کے باعث خود جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ گویا جو بات ابلیس کے چیلنج کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی کہتیرا زور صرف انہی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
163۔ 1 یعنی تم اور تمہارے معبودان باطلہ کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہیں، سوائے ان کے جو اللہ کے علم میں پہلے ہی جہنمی ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ کفر و شرک پر مصر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
30: یہ ان مشرکین کے ایک اور بےہودہ عقیدے کی تردید ہے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ جنات کے سرداروں کی بیٹیاں فرشتوں کی مائیں ہیں، گویا العیاذ باللہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیویاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
5 بہت لوگ سمجھتے ہیں کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی باگ ہے۔ یہ جس کو چاہیں بھلائی پہنچائیں اور خدا کا مقرب بنادیں اور وہ جسے چاہیں برائی اور تکلیف میں ڈال دیں یا گمراہ کردیں شاید ان ہی مفروضہ اختیارات کی بناء پر انہیں اولاد یا سسرال بنایا ہوگا۔ اس کا جواب دیا کہ تمہارے اور ان کے ہاتھ میں کوئی مستقل اختیار نہیں۔ تم اور جن شیاطین کو تم پوجتے ہو سب مل کر ایک قدرت نہیں رکھتے کہ بدون مشیت ایزدی ایک متنفس کو بھی زبردستی گمراہ کرسکو۔ گمراہ وہ ہی ہوگا جسے اللہ نے اس کی سوئے استعداد کی بناء پر دوزخی لکھ دیا اور اپنی بدکاری کی وجہ سے از خود دوزخ میں پہنچ گیا۔
Read the full tafseer →آیت 163{ اِلَّا مَنْ ہُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ } ”سوائے اس کے جو خود جہنم میں گرنے والا ہو۔“
یہاں سے آگے چند آیات میں فرشتوں کی گفتگو کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے ان آیات کا ربط سورت کی ابتدائی آیات سے ملتا ہے۔ ابتدائی آیات میں فرشتوں کا ذکر اس طرح ہوا تھا : { وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی“۔ اب ان ہی فرشتوں کی باہمی گفتگو نقل کی جا رہی ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
93 یعنی اے مشرکین عرب ! تم اور تمہارے معبود مل کر بھی شرک اور شرکیہ عقائد کی مدافعت میں اور اسلام کا راستہ روکنے میں جتنے ہتھکنڈے استعمال کرسکتے ہو۔ اور جتنی سازشیں تیار کرسکتے ہو کرلو۔ اللہ کے مخلص بندوں کو تم اپنے دام فریب میں پھنسا نہیں سکتے۔ تم صرف ایسے شخص کو ہی پھنسا سکتے ہو جو تمہارا ہی ہم جنس ہو اور اس نے جہنم میں جانے کا تہیہ کر رکھا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–163
88۔ (علم الہی میں) یعنی شیاطین میں اور کسی میں بھی، قوت نہیں علم الہی مشیت تکوینی کے مطابق پہلے سے تجویز کئے ہوتا ہے۔ یہ علم الہی بھی ظاہر ہے کہ کسی بندہ کو کفر وضلالت کے اختیار پر مجبور نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →الا من ھو صال الجحیم ‘ مگر اسی کو جو (ا اللہ کے علم میں) جہنم رسیدہ ہونے والا ہے۔
یہ خطاب مکہ والوں کو ہے اور فَ جزائیہ ہے ‘ شرط محذوف ہے یعنی جب تم نے اللہ کی جنات سے رشتہ داری قائم کر رکھی ہے تو تم اور تمہارے سارے معبود اس قول سے کسی کو اغواء نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
(161۔ 163) سو اے اہل مکہ تم بھی اور تمہارے سارے معبود بھی کسی کو عبادت الہی سے نہیں پھیر سکتے مگر وہی ابلیس جو تمہارے ساتھ دوزخ میں بھی جائے گا یا یہ کہ مگر اسی کو جو علم الہی میں جہنم رسیدہ ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
فَاِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ :”عَلَيْهِ“ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ ”فَاتِنِیْنَ“ فتنے میں ڈالنے والے، بہکانے والے۔ ”صَالٍ“ صَلِيَ یَصْلٰی صِلِیًّا“ (س) (داخل ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ یعنی اے گروہ کفار و مشرکین ! تم اور تمہارے باطل معبود کسی کو اللہ تعالیٰ کے خلاف بہکا کر گمراہ نہیں کرسکتے، سوائے اس کے جس نے خود ہی جہنم میں جانے کا تہیہ کر رکھا ہو۔ اس کے مخلص بندوں کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”یعنی تم انسان اور تمہارے شیطان اللہ کی مرضی کے بغیر گمراہ نہیں کرسکتے، گمراہ وہی ہوگا جس کو اس نے دوزخی لکھ دیا۔“ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
161 ۔ 163:۔ مسئلہ نمبر -1 وما تعبدون میں ما ‘ الذی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدریہ ہے یعنی تم اور تمہاری ان بتوں کی عبادت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم اپنے معبودوں کے ساتھ جن کی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو یہ کہا جاتا ہے : جاء فلاں و فلان ‘ جاء فلان مع فلان دونوں کا معنی و مفہوم ایک ہی ہے۔
علیہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے بفتنین یعنی گمراہ کرنے والے۔ نحاس نے کہا : جتنا مجھے علم ہے اہل تفسیر کا اس پر اتفاق ہے تم کسی کو گمراہ کرنے والے نہیں مگر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ مقدر کر دے کہ وہ اسے گمراہ کریں۔ شاعر نے کہا۔
فرد بنعتمہ کیدہ علیہ و کان لننا فا تنا (1)
اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–164
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانکم “ یعنی اے مشرکین کی جماعت (آیت ) ” وما تعبدون “ یعنی جھوٹے معبودوں کی جو تم عبادت کرتے ہو۔ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ (یعنی تم گمراہ نہیں کرسکتے) یعنی تم نماز پڑھنے والوں کو گمراہ نہیں کرسکتے (آیت ) ” الا من ھو صال الجحیم “ (مگر اسی کو جو جہنم رسید ہونے والا ہے) یعنی اس کو جس کے بارے میں میرے علم میں یہ بات گزر چکی کہ وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوگا۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) واللالکائی (رح) نے السنہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین (162) الامن ھو صال الجحیم “ یعنی نہ تم گمراہ ہو مگر جس…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ [مگر اس کو جو ہے (کہ)] هُوَ [وہ ] صَالِ الْجَحِيْمِ [بھڑکتی آگ کو سیکنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–170
فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔
چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔
(ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
65:۔ وما منا الخ : یہاں سے لنحن المسبحون تک فرشتوں کے حال کا دوسری بار اعادہ ہے۔ فرشتے خود اپنی عبودیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کا اللہ کی بارگاہ میں ایک معین مقام ہے جس سے وہ ذرا آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ ہم سب اللہ کے سامنے صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اس کی عبادت میں مصروف یا اس کے احکام کے منتظر اور ہم اللہ کی تنزیہ و تقدیس کرتے اور مشرکین کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی برتری اور اس کی تنزیہہ کا اعلان کرتے ہیں۔ فرشتے خود اعلان کر رہے ہیں کہ وہ نہ معبود ہیں، نہ خدا کی بیٹیاں اور نہ اس کی بارگاہ میں شفیع غالب والمراد انہم یخبرون انہم یعبدون اللہ بالتسبیح والصلوۃ ولیسو معبودین ولا بنات اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
ربط آیات
اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ ہُوَصَالِ الْجَحِيْمِ 163
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103]
وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق :
تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–163
فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟
دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
فَاِنَّـکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ ۔ مَـآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفٰتِنِیْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ ھُوَصَالِ الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 161 تا 163)
(پس بیشک تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اللہ سے برگشتہ نہیں کرسکتے۔ مگر انھیں کو جو جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ )
جنات کی پرستش کرنے والوں کو تنبیہ
اس آیت کریمہ میں جنات کی پرستش کرنے والوں اور ان کو معبود ماننے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم جنات کی مدد سے انسانوں کو گمراہ کرنے کا جو کاروبار کرتے ہو اور تم اس میں بہت کچھ کامیابی کی امید رکھتے ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم جنات کی مدد سے اور ان کو ساتھ لے کر کیسے بھی فتنے اٹھائو اور گمراہی کے لیے کیسے کیسے پاپڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–163
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔
قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی…
Read the full tafseer →163: اِلَّا مَنْ ھُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ (مگر اسی کو جو جہنم رسید ہونے والا ہے) ۔ صالؔ یہ لام مک سورة کے ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم کسی کو گمراہی پر نہیں ڈال سکتے۔ مگر وہ لوگ ہی گمراہی کا شکار ہونگے جن کے متعلق علم الٰہی میں بد اعمالیوں سے جہنمی ہونا لکھا جاچکا۔ عرب کہتے ہیں۔ فتن فلان علی فلان امراتہ جیسا تم کہو افسدھا علیہ۔ اس نے اس عورت کو اس کے متعلق بگاڑ کر رکھ دیا۔ قول حسن (رح) : تم جو کہ ایسی بات کہنے والے ہو اور جن بتوں کو تم پوجتے ہو تم بتوں کی عبادت پر کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ہو مگر جس کے متعلق یہ طے ہوچکا ہو کہ اس نے جہنم ہی میں داخل ہونا ہے۔ ایک قول یہ ہے تم گمراہ نہیں کرسکتے مگر…
Read the full tafseer →163، الا من ھو صال الجحیم، مگر اس شخص کو جس کے لیے جہنم میں جانا مقدرہوچکا ہے جس پر اللہ کی بدبختی غالب آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
158۔ 163۔ شعب الایمان بیہقی تفسیر سدی تفسیر کلبی تفسیر مقاتل وغیرہ میں قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ ایک روز حضرت ابوبکر صدیق اور کچھ مشرک لوگوں سے اس باب میں بحث ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹاں ہیں۔ تو ان بیٹیوں کی ماں کون ہے قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے جواب دیا کہ جنوں کے سرداروں کی بیٹیوں سے نعوذ باللہ من ذلک اللہ تعالیٰ نے شادی کی اور اس شادی کے سبب سے یہ لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کو فرشتے کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور فرمایا اے رسول اللہ کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
آیت 161
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : اے مشرکو ! تم اور تمہارے خود ساختہ الہ کسی کو فتنے میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کو بیان کرنا مقصود ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔
آیت
یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے برأت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لئے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–165
105 صدق و اخلاص ذریعہ نجات و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مجرم لوگوں کو کل قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگہ میں پکڑا اور جکڑا ہوا حاضر کیا جائے گا سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے "۔ کہ وہ اس طرح کے شرکیہ عقائد سے بھی بچے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کے عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اور نجات سے بہرہ ور ہوں گے۔ (المراغی، الجامع وغیرہ) ۔ سو یہ استثناء ۔ { اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ۔ سے ہے۔ کیونکہ " محضرون " کے اندر یہ مفہوم موجود ہے کہ مجرموں کو خدا کے حضور گرفتار کرکے پیش کیا جائے گا۔ اس لیے اس استثناء کے ذریعے یہ بات واضح فرما دی کہ اس سے صرف وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟
تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ف 5 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” تم اور عبادت جو تم کرتے ہو، اس پر ( یعنی اس سے) تم کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر اس کو جو۔۔۔ “ پہلا ترجمہ “ ما تعبدون کے ” ما “ کو موصولہ ماننے کی صورت میں ہے۔ اور دوسرا ترجمہ اسے مصدر یہ ماننے کی صورت میں۔ نیز یہ دونوں ترجمے اس صورت میں ہیں جب ” علیہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر ” ما تعبدون “ کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے لئے قرار دی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ ” تم اور تمہارے معبود یا تم اور تمہاری عبادت اللہ تعالیٰ کے خلاف کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر اس کو جو ( قرطبی، شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی تم انسان اور تمہارے شیطان بےمرضی اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
(37:162) ما انتم علیہ بفاتنین : ما نافیہ ہے انتم سے مراد کفار اور ان کے معبود ان باطل ہیں۔ علیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے بفاتنین باء زائدہ ہے فاتنین اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر۔ فتنۃ مصدر واسم فعل فتون مصدر۔ بہکانے والے۔ گمراہ کرنے والے۔ یہ جملہ ان (آیت 161 ) کی خبر ہے۔
فانکم ۔۔ بفاتنین۔ پس تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو تم سارے (کسی کو) اللہ کے معاملہ میں نہیں بہکا سکتے۔
فائدہ : انتم میں پھر صیغہ خطاب استعمال ہوا ہے یہ برسبیل یغلیب ہے جیسے کہتے ہیں انت وزید تخرجان تو اور زید دونوں نکلو گے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–166
لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
فرشتوں کو خدا کی اولاد کہنے کا الزام۔
(ف 1) شان نزول : بعض لوگوں نے بنی خزاعہ میں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے خاندان میں اپنی سسرالی کی بعض جنات کے ساتھ ملنے سے فرشتے پیدا ہوئے (معاذ اللہ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–182
[36] یہ مشرکین عرب کے اس فاسد عقیدے کا بیان ہے کہ جنات کی سردار زادیوں سے اللہ کا زوجیت کا تعلق ہے اور اسی تعلق کے نتیجے میں فرشتے وجود میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–176
خدائے خیر اور خدائے شر
1: قرآن حکیم میں تمام عقائد باطلہ کی تردید موجود ہے ۔ جو اس وقت رائج تھے ۔ اور یا ان کے مقبول ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان تھا ۔ گو بظاہر صرف اہل کتاب اور مشرکین کو زیادہ تر مخاطب فرمایا ہے لیکن اگر غور وتعمق سے دیکھا جائے ۔ تو اس کتاب معرفت میں تمام مذہبی اور دینی تصورات کی توضیح اور تردید موجود ہے ۔ عربوں میں ایک عقیدہ اس وقت یہ موجود تھا ۔ کہ دنیا کے دو الگ الگ خدا ہیں ۔ ایک خیر کا خدا ہے جس سے سوائے حسن و جمال کے اور بھلائیوں کے اور کسی بات کا صدور نہیں ہوتا ۔ دوسرا شر کا خدا ہے ۔ جس سے مفاسد اور مضرات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے ۔ کہ علم کلام کا یہ…
Read the full tafseer →(163) مگر ہاں اسی کو جہنم میں داخل ہونے والا ہے۔ یعنی تم نیکی اور بدی کی تقسیم کرکے یہ سمجھتے ہو کہ فرشتے جس کو چاہیں نیک بنادیں اور تم اور تمہارے معبود جنات اور شیاطین جس کو چاہیں منکر بنادیں تو یاد رکھو تم اور تمہارے تمام معبود مل کر بھی کسی کو بہکا اور گمراہ نہیں کرسکتے اور بدون حضرت حق کی مشیت کے کسی کو بہکا کر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نہیں سکتے مگر ہاں جس کو اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی سوء استعداد اور طبعی فساد کی وجہ سے دوزخی لکھ دیا ہو وہ گمراہ اور بےراہ ہوسکتا ہے تمہارے اور تمہارے معبودوں کے اختیار میں نہیں ہے کہ تم جس کو چاہو گمراہ کرسکو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم انسان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–163
ف 1۔ حاصل مقام کا یہ ہوا کہ جس کے تم مدعی ہو اس میں تین تو قبح ہیں اور دلیل ایک بھی نہیں، نہ مشاہدہ اور نہ عقل اور نہ نقل۔
Read the full tafseer →سوائے ان لوگوں کے جن کو جہنم میں داخل ہونا ہے :
163۔ یہ گزشتہ آیت کے ساتھ پیوستہ ہے گویا فرمایا جا رہا ہے کہ تم اور تمہارے باطل معبود خواہ کتنی ہی کوشش کریں تم کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر ہاں ! وہ بدبخت جن کو دوزخ کا ایندھن بننا ہے ۔ گویا وہ آدمی جو شیطان کے بہکاوے میں آکر اور ان فتنہ گروں کے فتنہ میں مبتلا ہو کر رہ جائے وہ ایسا ہی ہے کہ بس جہنم کا ایندھن بن گیا خواہ وہ کوئی ہو کہاں ہو اور کیسا ہو کیونکہ ہمارے ہاں نسلوں ‘ ذاتوں دنیوی عزتوں ‘ مالوں خاندانوں اور عہدوں کا کوئی لحاظ نہیں ہے ۔ ہمارے پاس سیرت ‘ کردار اور اخلاق ‘ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہی کو دیکھا جاتا ہے اور یہی چیز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–166
In verse 158, it was said: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا (And they have made up between Him and the Jinns some kinship). There are two explanations of this sentence. According to the first Tafsir, this is a description of the false belief held by the Mushriks of Arabia that the daughters of the chieftains of the Jinns are mothers of the angels. As if, God forbid, the daughters of the chieftains of the Jinns have marital relations with Allah Ta’ ala and, as a result of this bond, angels have come to exist. Hence, it appears in an exegetical narration when the Mushriks of…
Read the full tafseer →90 Another translation of this verse can be: "Therefore, you and your worship: on this you cannot tempt into mischief anyone except him . . . " According to this second translation, the meaning would be: "O you who have gone astray, by this worship that you arc performing before us, and regarding us as the children of Allah, Lord of the worlds, you cannot tempt us into mischief. By this you can only beguile a fool who might be working for his own doom. So, we refuse to fall into the trap that you have set for us."
Read the full tafseer →