As-Saaffaat 37:149

As-Saaffaat · from ayah 149

37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُوْنَ ۟ۙفَاسۡتَفۡتِهِمۡ اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَۙ‏

ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So inquire of them, [O Muhammad], "Does your Lord have daughters while they have sons?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:149

پھر ذرا اِن لوگوں سے پوچھو، کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے!

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب ان (مکہ کے مشرکوں) سے پوچھو کہ : کیا (اے پیغمبر) تمہارے رب کے حصے میں تو بیٹیاں آئی ہیں اور خود ان کے حصے میں بیٹے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ اِن (کفّارِ مکّہ) سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان لوگوں سے پوچھئے : کیا آپ کے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور ان کے لئے بیٹے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ان سے پوچھو، کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ ذرا ان لوگوں سے یہ تو پوچھئے کہ کیا (یہ بات ان کے دلوں کو لگتی ہے ؟ کہ) آپ کے رب کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور خود ان کے لئے بیٹے !

— مولانا اسحاق مدنی

اب آپ لوگوں سے پوچھئے کہ کیا تمہارا پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے پوچھیں کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے پوچھو تو بھلا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں اور ان کے لیے بیٹے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So ask their opinion: “(Are you convinced) that your Lord should have daughters and you should have sons?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So ask them, :Does your Lord have daughters while they have sons?

— Muhammad Taqi Usmani

So ask them, :Does your Lord have daughters while they have sons?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Now ask them: "Are there (only) daughters for your Lord and sons for them"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Now ask them (O Muhammad): Hath thy Lord daughters whereas they have sons?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So inquire of them, [O Muhammad], "Does your Lord have daughters while they have sons?

— Saheeh International

(Muhammad), ask them, "Do daughters belong to your Lord and sons to them?

— Muhammad Sarwar

Then ask them whether your Lord has daughters and they have sons.

— Muhammad Habib Shakir

Now ask thou them: there for thy Lord daughters and for them sons?

— Abdul Majid Daryabadi

Now ask them their opinion: Is it that thy Lord has (only) daughters, and they have sons?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:149

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 149–156

سورة الصّٰٓفّٰت 86 یہاں سے ایک دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے۔ پہلا مضمون آیت نمبر 11 سے شروع ہوا تھا جس میں کفار مکہ کے سامنے یہ سوال رکھا گیا تھا " ان سے پوچھو، کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں "۔ اب انہی کے سامنے یہ دوسرا سوال پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے سوال کا منشا کفار کو ان کی اس گمراہی پر متنبہ کرنا تھا کہ وہ زندگی بعد موت اور جزا و سزا کو غیر ممکن الوقوع سمجھتے تھے اور اس پر نبی ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے۔ اب یہ دوسرا سوال ان کی اس جہالت پر متنبہ کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرتے تھے اور قیاسی گھوڑے دوڑا کر جس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–157

خلاصہ تفسیر (توحید کے دلائل تو اوپر بیان ہوچکے) سو (اب اس کے بعد) ان لوگوں سے (جو ملائکہ اور جنات کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس طرح کہ ملائکہ کو نعوذ باللہ خدا کی بیٹیاں اور جنات کے سرداروں کی بیٹیوں کو ان فرشتوں کی مائیں قرار دیتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے نسبی رشتہ ہے، اور جنات سے زوجیت کا تعلق ہے، سو ان سب سے) پوچھئے کہ کیا خدا کے لئے تو بیٹیاں (ہوں) اور تمہارے لئے بیٹے (ہوں، یعنی جب اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو تو عقیدہ مذکور میں خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہو، پس اس عقیدے میں ایک خرابی تو یہ ہے اور) ہاں (دوسری بات سنو کہ) کیا ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-6 آگے کا مضمون آیات 182-149 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ سورة کا خاتہم اسی مضمون پر ہوا ہے جس سے اس کا آغاز ہا ہے اور قرآن کے اسلوب بیان کی اس خصوصیت کی طرف متعدد سورتوں میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا ہے اسی پر اس کا اختتام بھی ہوا ہے۔ اس سورة کا آغاز اس کی ابتدائی آیات پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے، ملائکہ کی الوہیت اور جنات کی غیب دانی کے ابطال سے ہوا ہے۔ اس کے بعد قریش کی تنبیہ کے لئے حضرات انبیاء کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام انبیاء نے اسی بات کی دعوت دی ہے جس کی دعوت آج ان کو دی جا رہی ہے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ جن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 149–150

150۔ 1 یعنی فرشتوں کو جو یہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نے فرشتے پیدا کئے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کو عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 149–157

29: جیسا کہ سورت کے شروع میں عرض کیا گیا، مکہ مکرمہ کے بت پرست، فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ یہاں سے ان کے اس بےہودہ عقیدے کی تردید ہورہی ہے۔ یہ بت پرست اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ ان میں سے کچھ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اول تو یہ فرما رہے ہیں کہ یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ تم اپنے لیے تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیوں کا عقیدہ رکھتے ہو۔ پھر آگے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے، نہ بیٹوں کی نہ بیٹیوں کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 149–150

درس نمبر 210 ایک نظر میں اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 149–152

10 یعنی انبیاء کا حال تو سن لیا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ ، ہارون، الیاس، لوط، یونس (علیہم السلام) سب کی مشکلات اللہ کی امداد و اعانت سے حل ہوئیں۔ کوئی بڑے سے بڑا مقرب اس کی دستگیری سے بےنیاز نہیں۔ اب آگے تھوڑا سا فرشتوں اور جنوں کا حال سن لو۔ جن کی نسبت خدا جانے کیا کیا واہی تباہی عقیدے تراش کر رکھے ہیں۔ چناچہ عرب کے بعض قبائل کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ جب پوچھا جاتا کہ ان کی مائیں کون ہیں تو بڑے بڑے جنوں کی لڑکیوں کو بتلاتے۔ اس طرح (العیاذ باللہ) خدا کا ناطہ جنوں اور فرشتوں دونوں سے جوڑ رکھا تھا۔ آگے دونوں کا حال ذکر کیا جاتا ہے مگر اس سے پہلے بطور طوطیہ و تہمید کفار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 149{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھیں ‘ کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !“ یہاں مشرکین ِمکہ ّکے اس عقیدے پر جرح کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی یہ لوگ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ سے اولاد منسوب کرتے ہیں تو اس کے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 148–149

88 سیدنا یونس کا اپنی قوم میں واپس آنا :۔ جب سیدنا یونس اپنی قوم کے پاس پہنچے تو وہ پہلے ہی آپ کے منتظر بیٹھے تھے۔ وہ فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔ اور پھر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات ہونے لگے۔ چونکہ اس واقعہ میں سیدنا یونس کے ایک کمزور پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے۔ غالباً اسی لئے رسول اللہ نے یہ بتاکید فرما دیا کہ تمام انبیاء نبی ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں اور کسی نبی کو دوسرے پر فضیلت نہیں۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت نہ دو اور دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جس نے مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت دی اس نے جھوٹ بولا (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل موسیٰ ) دراصل یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 148–149

81۔ خطاب اس گروہ سے ہے جو اس کا قائل تھا کہ خدا کے بیٹیاں ہیں، جو دیویاں ہیں، مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتاؤں سے کہیں زائد دیویاں تھیں، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” الربک البنات “۔ میں ہمزہ انکار توبیخی یا انکار ابطالی کا ہے۔ (مفتی، جلداول صفحہ 16)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاستفتھم الربک البنات ولھم البنون سو آپ ان لوگوں سے پوچھئے کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کیلئے بیٹے ہیں۔ اس جملہ کا عطف سابق آیت فاسْتَفْتِھِمْ اَھُمْ اَشَدُّخَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا پر ہے ‘ اللہ نے اپنے رسول کو پہلے حکم دیا کہ منکرین قیامت سے انکار قیامت کی وجہ پوچھیں اور تقریری سوال کے طور پر فرمایا : کیا ان کی تخلیق مشکل اور سخت ہے یا ان کے علاوہ آسمان ‘ زمین ‘ ملائکہ اور گذشتہ اقوام عاد ‘ ثمود وغیرہ کی ؟ جب وہ اقرار کرلیں کہ آسمان ‘ زمین ‘ ملائکہ اوراقوام گذشتہ کی تخلیق سخت اور مشکل ہے تو لازمی طور پر ان لوگوں کو اس ہمہ گیر طاقت والے خدا کے عذاب سے ڈرنا چاہئے جس نے گذشتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو اب اس کے بعد مکہ والوں میں سے بنو ملیح سے پوچھیے کہ کیا اللہ کے لیے تو بیٹیاں ہوں اور تمہارے بیٹے۔ انہوں نے جواب میں کہا ہاں اس پر رسول اکرم نے ان سے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے لیے وہ چیز پسند کرتے ہو جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ : پچھلی آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین کے بد ترین عقائد میں سے ایک قیامت کا انکار تھا اور ایک شرک تھا، جس کی ایک صورت فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے بت بنا کر ان کی پرستش کرنا تھی۔ قرآن میں متعدد مقامات پر ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کی تردید کی گئی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (117) ، نحل (57، 58) ، بنی اسرائیل (40) ، زخرف (16 تا 19) اور نجم (21 تا 27) یہاں سورت کے شروع میں ان کے انکار قیامت پر فرمایا : (فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا ۭ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ) [ الصافات : 11 ]…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 149–157

149 ۔ 157:۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے سابقہ قوموں کی خبروں کو ذکر کیا تو اب کفار کے قول کے خلاف استدلال کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں فاستفتہم سورت کے آغاز میں جو اس قسم کا کلام ہے اس پر معطوف ہے اگرچہ دونوں میں طویل مساف ہے اے محمد ! ﷺ اہل مکہ سے پوچھو ! کیا تیرے رب کی بیٹیاں ہیں : اس کی وجہ یہ تھی کہ جہینہ ‘ خزاعہ ‘ بنو ملیح ‘ بنو سلمہ اور بنو عبدالدار نے یہ گمان کیا تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بٹیاں ہیں ‘ یہ سوال زجر و توبیخ کے لئے ہے۔ شھدون کا معنی ہے جب ہم نے فرشتوں کو مٔونث بنایا اس وقت وہ حاضر تھے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 149–159

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاستفتھم “ یعنی اس سے سوال کیجئے یعنی قریش کے مشرکین سے (آیت ) ” الربک البنات ولھم البنون “ (کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں اور انہوں نے کہا کہ فرشتے عورتیں ہیں، تو فرمایا (آیت ) ” ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون “ (کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے) اسی طرح فرمایا (آیت ) ” الا انھم من افکھم لیقولون (151) ولد اللہ وانہم لکذبون (152) اصطفی البنات علی البنین “ (خبردار وہ کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاسْتَفْتِهِمْ [تو آپ ﷺ ان لوگوں سے پوچھیں ] اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ [کیا آپ ﷺ کے رب کے لئے بیٹیاں ہیں ] وَلَهُمُ الْبَنُوْنَ [اور ان کے لئے بیٹے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–166

مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 148–149

60:۔ فاستفتہم الخ : یہ فاستفتہم اھم اشد خلقا والے زجر کا اعادہ ہے برائے تنویر اور ابتدائے سورت سے متعلق ہے۔ یہاں سے لے کر الا من ھو صال الجحیم۔ تک فرشتوں اور جنوں کے حال کا اعادہ ہے بطور لف و نشر مرتب۔ مشرکین فرشتوں کو تو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اور ان کو خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر پکارا کرتے تھے لیکن اپنے لیے بیٹے پسند کرتے تھے۔ یہاں بطور زجر اس دعوی باطلہ پر ان سے دلیل طلب کی گئی۔ یہ دعوی چونکہ خلاف عقل اور سراسر باطل ہے اس لیے اس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ فاستخبر ھؤلاء الکفرۃ عن وجہ کون البنات وھن اوضع الجنسین لہ تعالیٰ بزعمہم والبنین الذین ھم ارفعہما لہم فانہم لا یستطیعون ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 149–166

ربط آیات اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ۝ 149ۙ استفتا الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127] ، فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] ، استفتا اور کسی مشکل مسلہ کے جواب کو فتیا وفتوی کہا جاتا ہے ۔ استفتاہ کے معنی فتوی طلب کرنے اور افتاہ ( افعال ) کے معنی فتی دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127]( اے پیغمبر ) لوگ تم سے ( یتیم ) عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہدو کہ خدا تم کو ان کے ( ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 149–163

فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟ دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 149–150

فَاسْتَفْتِھِمْ اَلَرِبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمُ الْبَنُوْنَ ۔ اَمْ خَلَقْنٰا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّھُمْ شٰھِدُوْنَ ۔ (الصآفات : 149، 150) (پس ان لوگوں سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں۔ کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ) خاتمہ سورة کی آیات اور سابقہ مضمون کا اعادہ اور اختتام یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس مضمون سے اس سورة کا آغاز ہوا اسی پر اس کا اختتام بھی ہورہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب تک اس سورة میں جو کچھ کہا گیا ہے اب اس سورة کی آخری آیات میں اس کو Some off کیا جارہا ہے۔ انسان نے اسالیبِ کلام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 139–149

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قریش مکہ کی طرف التفات : 149: فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ (پس ان لوگوں سے پوچھیے کہ کیا تیرے رب کیلئے بیٹیاں) وَلَھُمُ الْبَنُوْنَ (اور ان کیلئے بیٹے) سورت کی ابتداء میں اسی جیسی آیت پر اس کا عطف ہے۔ آیت یہ ہے فاستفتہم اھم اشد خلقا ] الصافات : 11[ اگرچہ معطوفات کے مابین فاصلہ بہت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ پہلے قریش سے بعث بعد الموت کے انکار کا باعث دریافت کریں۔ پھر کلام کو ملا کر چلاتے رہے پھر حکم فرمایا کہ آپ قریش سے بھونڈی تقسیم جو انہوں نے تجویز کر رکھی ہے اس کی وجہ دریافت کریں۔ بقول ان کے لڑکیاں اللہ تعالیٰ کیلئے اور مذکر اولاد اپنے لئے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

149، فاستفتھم، اے محمد ! آپ اہل مکہ سے پوچھئے ، یہ سوال بطور تو بیخ کے ہے۔ ، الربک البنات ولھم البنون ، یہ اس وجہ سے کہ قبیلہ جہینہ اور قبیلہ بنوسلمہ دونوں کا یہ عقیدہ تھا کہ (نعوذ باللہ) فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ پر ایسا بڑا الزام ز ڈالتے ہیں، یہ الزام ظالم لوگ ہی کرسکتے ہیں، وہ کہتے تھے، جعلوا اللہ البنات ولا نفسھم النبین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 149–157

149۔ 157۔ اوپر پہلے کے انبیاء اور ان کی نافرمان امتوں کا ذکر فرما کر تنبیہ کے طور پر قریش کی ایک نافرمانی کا یوں ذکر فرمایا۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں جو کہتے ہو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے تو کیا اس وقت تم نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں۔ پھر فرمایا جب یہ بات نہیں ہے تو یہ ان لوگوں کا ایک جھوٹ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرا کر اللہ کے لئے بیٹیاں اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ یہ لوگ کیا بکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو بات یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہیں ہے تو اس کے سچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 149–157

آیت 149 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ سے فرماتا ہے : (فاستفتھم) یعنی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انہوں نے شرکت کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں۔ (الربک البنات ولھم البنون) ” کیا آپ کے رب کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں ؟ “ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنائی اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنادیں، حالانکہ وہ خود اپنے لیے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 149–151

100 مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹیاں اور ان کیلئے بیٹے ؟ "۔ یعنی دوہری گستاخی اور ڈبل کفر کہ اول تو اللہ پاک کے لئے اولاد تجویز کی۔ حالانکہ وہ ہر طرح کی اولاد سے پاک، بری اور بےنیاز ہے کہ اس کی شان ہے ۔ { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ } ۔ " نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد "۔ پھر اولاد بھی وہ تجویز کی جو ان کو خود اپنے لئے گوارا نہیں یعنی بیٹیاں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اول تو اللہ پاک کی طرف اولاد کی نسبت ہی ایک شدید قسم کی جہالت اور کفر ہے۔ اور اس پر مزید جہالت اور کفر یہ کہ یہ لوگ اس کیلئے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 149–166

کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 عرب کے بعض قبائل کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اسی کی تردید اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اسی جاہلی عقیدہ کی تردید کی گئی ہے۔ مثلاً نساء آیت 117، نحل آیت 57، 58، بنی اسرائیل آیت 40، زخرف آیت 16 تا 19 نجم آیت 21، 27،

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:149) فاستفتہم اس میںعاطفہ ہے اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ فاستفتہم اہم اشد خلقا ام من خلقنا پر ہے آیت (37:11) اللہ تعالیٰ نے پہلے (37:11) میں اپنے رسول کو حکم دیا کہ منکرین قیامت سے انکار قیامت کی وجہ پوچھیں اور تقریری سوال کے طور پر فرمایا :۔ ” کیا ان کی تخلیق مشکل ہے اور سخت ہے یا ان کے علاوہ آسمان و زمین، ملائکہ اور گذشتہ اقوام کی تخلیق سخت اور مشکل ہے تو لازمی طور پر ان لوگوں کو اس ہمہ گیر طاقت والے خدا کے عذاب سے ڈرنا چاہیے ۔ جس نے گذشتہ اقوام سے انتقام لیا اور کفر کی وجہ سے ان کو غارت اور تباہ کردیا۔ وہی ہمہ گیر خدا طاقت و قدرت رکھتا ہے تخلیق پر بھی اور دوبارہ زندہ کرنے پر بھی اور عذاب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 149–166

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 149–157

اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین سے پوچھو کہ اتنی بڑی عظمت وقدرت والے اللہ کے لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے تم لوگ خدا کے لیے ایسی چیز پسند کرتے ہو جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اور یہ کہتے ہو کہ فرشتے عورتیں ہیں اور خدا کی لڑکیاں ہیں اس کا جواب اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے تم کو خوب معلوم ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جو گواہی دیتے ہو بلکہ یہ لوگ اپنے شیطانی وسواس سے افتراء کرکے یہ کہتے ہیں کہ خدا کی اولاد ہے یہ جھوٹے ہیں کیا اس نے لڑکے چھوڑ کر لڑکیاں اپنے لیے بنائیں عورتوں کو اپنے لیے پسند کیا افسوس تمہارے حال و خیال پر، تم کیسے نامعقول حکم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 149–162

خدا کے بیٹیاں کیوں ہیں ؟ 1: خدا جانے کن وجوہ کی بناء پر مکہ والے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اور ان کے مجسموں کی پوجا کرتے تھے ۔ قرآن نے کئی مقامات پر اس عقیدے کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کی وضاحت کے ساتھ تردید فرمائی ۔ ان آیتوں سے مقصود بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے کی کمزوری ملاحظہ کریں ۔ فرمایا تم یہ تو سوچو ۔ کہ جب تم اپنے لئے لڑکیوں کے انتساب کو پسند کرتے ہو ۔ تو اللہ نے آخر بیٹیوں کو کیوں پسند کیا ۔ اگر اس کے اولاد ہے ۔ تو وہ اولاد ذکور کیوں نہیں ؟ غرض یہ ہے کہ جو چیزیں تمہارے لئے باعث فخر ہیں ۔ ان کو اگر تم اللہ کے لئے بھی باعث اعزاز سمجھتے ہو ۔ تو اس میں کچھ معقولیت ہوسکتی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(149) اے پیغمبر آپ ان کفار سے دریافت کیجئے کہ کیا آپ کے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے۔ کچھ معاند اور سرکش لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے معاذ اللہ ان کا رد فرمایا شاید یہود اور نصاریٰ کی بات سن کر کفار عرب نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوگا وہ مسیح اور عزیز کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے استہزاء ملائکہ کو بنات اللہ کہنا شروع کردیا اور وجہ یہ بیان کی کہ چونکہ ملائکہ ظاہر نہیں ہوتے اور وہ پردے میں رہتے ہیں اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ان کو اس نے پردہ میں رکھ چھوڑا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی جب اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو تو عقیدہ مذکورہ میں خدا کے لئے بیٹیاں کیسے تجویز کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے پوچھئے کیا ان کے لیے بیٹے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں : 149۔ مشرکین کے گروہوں کی نوعیت الگ تھی اور ہے ۔ عرب میں ایک گروہ مشرکین وہ بھی تھا جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتا تھا اور اپنے تخیل میں وہ سارے مشرکین سے اپنے آپ کو اللہ کے بہت قریب سمجھتا تھا ، وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمارے زمانہ کی طرح وہ لوگ بھی بیٹی کی سفارش کو سب سفارشوں سے بڑی سفارش خیال کرتے تھے اور ان کا تخیل یہ تھا کہ اللہ کی ان بیٹیوں کو اپنی حاجتوں اور مشکلوں کے وقت اور اگر آخرت ہے تو اس منزلوں کو آسان کرانے کے جو کام ہم کو یہ اللہ کی بیٹیاں دیں گی وہ اللہ کی نرینہ اولاد نہیں دے سکے گی اس لیے وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–157

Commentary Events relating to the noble prophets described earlier provided some good counsel and some lessons to learn. Now, once again, the text turns to the essential subject of the affirmation of pure monotheism (tauhid) and the refutation of ascribing partners to the pristine divinity of Allah (shirk). Then, described at this particular place is the shirk of a particular kind. The disbelievers of Arabia believed that angels were the daughters of Allah Ta’ ala, and the daughters of the chieftains of Jinns were the mothers of angels. According to ` Allamah Whidi, this belief was not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–156

86 Another theme starts from here. In the preceding theme that started from v. 11, the Quraish had been put this question: "Ask them: what is more difficult: their own creation or of those things that We have created?" Now, they are being asked this second question. The object of the first question was to warn the disbelievers of their deviation because of which they regarded life-after-death and the meting out of rewards and punishments as impossible, and therefore, mocked the Holy Prophet for it. Now they are being asked this second question to warn them of their ignorance due to which they…

Read the full tafseer →