As-Saaffaat 37:150

As-Saaffaat · from ayah 150

37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمْ شٰهِدُوْنَ ۟اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or did We create the angels as females while they were witnesses?"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:150

کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنا یا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا پھر جب ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا تھا تو کیا یہ دیکھ رہے تھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ہم نے ملائکہ کو عورتیں پیدا کیا اور وہ حاضر تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنا کر پیدا کیا تو وہ اس وقت (موقع پر) حاضر تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا، جب کہ وہ حاضر تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں ہی پیدا کیا تھا اور یہ اس وقت موجود تھے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ رہے تھے ! آگاہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا واقعہ میں ہم نے فرشتوں کو عورتیں ہی بنایا تھا اور یہ دیکھ رہے تھے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہم نے فرشتوں کو عورت پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تھا اور وہ اس کے گواہ ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ اس وقت موجود تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Did We create the angels as females the while they witnessed?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or, had We created angels as females while they were witnessing?

— Muhammad Taqi Usmani

Or, had We created angels as females while they were witnessing?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or did We create the angels female while they were witnesses

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or created We the angels females while they were present?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or did We create the angels as females while they were witnesses?"

— Saheeh International

Have We created the angels as females before their very eyes?

— Muhammad Sarwar

Or did We create the angels females while they were witnesses?

— Muhammad Habib Shakir

Or created We the angels females while they were witnesses?

— Abdul Majid Daryabadi

Or that We created the angels female, and they are witnesses (thereto)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:150

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے لئے دوہرا معیار۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں۔ پس فرماتا ہے ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے ؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ؟ پھر فرماتا ہے کہ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے۔ قرآن کی اور آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 149–156

سورة الصّٰٓفّٰت 86 یہاں سے ایک دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے۔ پہلا مضمون آیت نمبر 11 سے شروع ہوا تھا جس میں کفار مکہ کے سامنے یہ سوال رکھا گیا تھا " ان سے پوچھو، کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں "۔ اب انہی کے سامنے یہ دوسرا سوال پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے سوال کا منشا کفار کو ان کی اس گمراہی پر متنبہ کرنا تھا کہ وہ زندگی بعد موت اور جزا و سزا کو غیر ممکن الوقوع سمجھتے تھے اور اس پر نبی ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے۔ اب یہ دوسرا سوال ان کی اس جہالت پر متنبہ کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرتے تھے اور قیاسی گھوڑے دوڑا کر جس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–157

خلاصہ تفسیر (توحید کے دلائل تو اوپر بیان ہوچکے) سو (اب اس کے بعد) ان لوگوں سے (جو ملائکہ اور جنات کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس طرح کہ ملائکہ کو نعوذ باللہ خدا کی بیٹیاں اور جنات کے سرداروں کی بیٹیوں کو ان فرشتوں کی مائیں قرار دیتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے نسبی رشتہ ہے، اور جنات سے زوجیت کا تعلق ہے، سو ان سب سے) پوچھئے کہ کیا خدا کے لئے تو بیٹیاں (ہوں) اور تمہارے لئے بیٹے (ہوں، یعنی جب اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو تو عقیدہ مذکور میں خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہو، پس اس عقیدے میں ایک خرابی تو یہ ہے اور) ہاں (دوسری بات سنو کہ) کیا ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ام خلقنا الملٓئکۃ انا تاوھم شھدون (150) یعنی اس اعتماد کے ساتھ یہ لوگ جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فرشتے خدا کی بٹیاں ہیں تو آخر یہ بات کس دلیل کی بنا پر یہ کہہ رہے ہیں ؟ کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ لوگ وہاں موجود تھے ! سو رہ زخرف میں یہی بات الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ وجعل الملٓئکۃ الذین ھم عبدالرحمٰن انثا اتھدوا خلقھم متکتب شھد تھم ویسئلون (19) (کیا انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا ! کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ! ان کا یہ بیان لکھ رکھا جائے گا اور ان سے اس کی پرسش ہوگی۔)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 149–150

150۔ 1 یعنی فرشتوں کو جو یہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نے فرشتے پیدا کئے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کو عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 149–157

29: جیسا کہ سورت کے شروع میں عرض کیا گیا، مکہ مکرمہ کے بت پرست، فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ یہاں سے ان کے اس بےہودہ عقیدے کی تردید ہورہی ہے۔ یہ بت پرست اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ ان میں سے کچھ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اول تو یہ فرما رہے ہیں کہ یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ تم اپنے لیے تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیوں کا عقیدہ رکھتے ہو۔ پھر آگے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی اولاد کی ضرورت نہیں ہے، نہ بیٹوں کی نہ بیٹیوں کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 149–150

درس نمبر 210 ایک نظر میں اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 149–152

10 یعنی انبیاء کا حال تو سن لیا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ ، ہارون، الیاس، لوط، یونس (علیہم السلام) سب کی مشکلات اللہ کی امداد و اعانت سے حل ہوئیں۔ کوئی بڑے سے بڑا مقرب اس کی دستگیری سے بےنیاز نہیں۔ اب آگے تھوڑا سا فرشتوں اور جنوں کا حال سن لو۔ جن کی نسبت خدا جانے کیا کیا واہی تباہی عقیدے تراش کر رکھے ہیں۔ چناچہ عرب کے بعض قبائل کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ جب پوچھا جاتا کہ ان کی مائیں کون ہیں تو بڑے بڑے جنوں کی لڑکیوں کو بتلاتے۔ اس طرح (العیاذ باللہ) خدا کا ناطہ جنوں اور فرشتوں دونوں سے جوڑ رکھا تھا۔ آگے دونوں کا حال ذکر کیا جاتا ہے مگر اس سے پہلے بطور طوطیہ و تہمید کفار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 150{ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ } ”کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تھا اور وہ اس کے گواہ ہیں ؟“ کیا یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 150–156

89 قریش کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی انکار آخرت کے علاوہ دوسری بڑی گمراہی کا ذکر فرمایا ہے۔ جو شرک فی الذات یا شرک کی سب سے بڑی اور بدترین قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بھی صاحب اولاد ہے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر اس عقیدہ میں بھی وہ کئی طرح کی بےانصافیاں کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ پھر ان کے خیالی مجسمے اور بت بنا کر ان کی پوجا بھی کرتے تھے۔ ان میں تین مجسموں کا ذکر قرآن میں مذکور ہے۔ (1) لات یہ الٰہ کا مؤنث ہے یعنی لات کا استھان یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ یعنی جنہیں تم دیویاں قرار دے رہے ہو، اور درحقیقت وہ ملائکہ الہی ہیں، کیا ان کی نسوانیت تمہارے مشاہدہ میں آچکی ہے ؟ مفصل حاشیہ سورة آل عمران (پ 4) آیت 117 کے تحت میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 139–182

آیت نمبر 139 تا 182 ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام خلقنا الملئکۃ اناثًا وھم شاھدون ہاں ‘ کیا ہم نے فرشتوں کو (ان کی نظروں کے سامنے) عورتیں بنایا ہے کہ یہ (فرشتوں کو پیدا کرنے کے وقت) حاضر تھے ؟ یہ سوال استہزاہ آمیز ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ بہت ہی زیادہ جاہل ہیں اور انتہائی جہالت کی وجہ سے ایسی بات کہہ رہے ہیں کہ گویا یہ مشاہدہ کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 150–151

(150۔ 151) کیا بقول تمہارے ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور ان کے بننے کے وقت موجود تھے۔ بلکہ یہ اپنی سخن تراشی سے کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمْ شٰهِدُوْنَ : اس میں فرشتوں کے مؤنث ہونے کی تردید فرمائی کہ انھیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے مؤنث ہیں، کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا ہو کہ ہم نے انھیں مؤنث بنایا ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 149–157

149 ۔ 157:۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے سابقہ قوموں کی خبروں کو ذکر کیا تو اب کفار کے قول کے خلاف استدلال کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں فاستفتہم سورت کے آغاز میں جو اس قسم کا کلام ہے اس پر معطوف ہے اگرچہ دونوں میں طویل مساف ہے اے محمد ! ﷺ اہل مکہ سے پوچھو ! کیا تیرے رب کی بیٹیاں ہیں : اس کی وجہ یہ تھی کہ جہینہ ‘ خزاعہ ‘ بنو ملیح ‘ بنو سلمہ اور بنو عبدالدار نے یہ گمان کیا تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بٹیاں ہیں ‘ یہ سوال زجر و توبیخ کے لئے ہے۔ شھدون کا معنی ہے جب ہم نے فرشتوں کو مٔونث بنایا اس وقت وہ حاضر تھے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 149–159

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاستفتھم “ یعنی اس سے سوال کیجئے یعنی قریش کے مشرکین سے (آیت ) ” الربک البنات ولھم البنون “ (کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں اور انہوں نے کہا کہ فرشتے عورتیں ہیں، تو فرمایا (آیت ) ” ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون “ (کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے) اسی طرح فرمایا (آیت ) ” الا انھم من افکھم لیقولون (151) ولد اللہ وانہم لکذبون (152) اصطفی البنات علی البنین “ (خبردار وہ کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةَ [یا ہم نے پیدا کیا فرشتوں کو ] اِنَاثًا [مؤنث ہوتے ہوئے ] وَّهُمْ [اس حال میں کہ وہ لوگ ] شٰهِدُوْنَ [موقعہ پر موجود تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 149–160

مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–166

مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

61:۔ ام خلقنا الخ : کیا فرشتوں کو ہم نے ان کے سامنے مؤنث پید کیا ہے کہ وہ ان کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ؟ الا انہم الخ، اصل بات یہ ہے کہ اس پر ان کے پس کوئی دلیل نہیں۔ وہ محض جھوٹ بولتے ہیں۔ اور اللہ کی طرف والد کی نسبت کر کے اس کی ذات پاک پر محض افتراء کرتے ہیں۔ اور وہ اس دعوے میں سراسر جھوٹے ہیں۔ اصطفی البنات الخ، کیا اللہ نے اپنے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کو منتخب کیا ہے ؟ تمہیں کیا ہوگیا، کیسا بیہودہ حکم لگ رہے ہو ؟ کیا تم سوچ سے ذرا کام نہیں لیتے ؟ ام لکم سلطان الخ، یا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل بھی موجود ہے، تو لاؤ اگر تم سچے ہو تو وہ دلیل ہی پیش کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 149–166

ربط آیات اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ۝ 150 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 149–163

فاستفتہم الربک البنات و لہم البنون انبیاء کے قصے بیان فرما کر مذاہب مشرکین اور اس کے قبح کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ ضحاک کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ عرب خصوصاً قریش کے چند قبائل سلیم ‘ خزاعہ ‘ جہینہ ‘ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان سے مدد مانگتے تھے اور ان کے نام کے بت بناکر پرستش کرتے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے کہ ان سے یہ تو پوچھو کہ بیٹیوں کا ہونا تم پسند نہیں کرتے ہو، بیٹوں کے مقابلہ میں پھر خدا کیوں پسند کرنے لگا ؟ دوم خود فرشتوں کا اناث ہونا ان کو یا تو حس سے معلوم ہوا، سو وہ بھی غلط ہے کس لیے کہ ان لوگوں نے ان کو دیکھا نہیں۔ چہ جائیکہ پیدا ہونے کے وقت دیکھا ہو، اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 149–150

فَاسْتَفْتِھِمْ اَلَرِبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمُ الْبَنُوْنَ ۔ اَمْ خَلَقْنٰا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّھُمْ شٰھِدُوْنَ ۔ (الصآفات : 149، 150) (پس ان لوگوں سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں۔ کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ) خاتمہ سورة کی آیات اور سابقہ مضمون کا اعادہ اور اختتام یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس مضمون سے اس سورة کا آغاز ہوا اسی پر اس کا اختتام بھی ہورہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب تک اس سورة میں جو کچھ کہا گیا ہے اب اس سورة کی آخری آیات میں اس کو Some off کیا جارہا ہے۔ انسان نے اسالیبِ کلام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 150–163

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

150: اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓپکَۃَ اِنَاثًا وَّھُمْ شَاھِدُوْنَ (ہاں ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور وہ دیکھ رہے تھے) شاہد بمعنی حاضرموجود ہے۔ آیت میں ان کے علم کو مشاہدہ کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ ان سے استہزاء اور ان کی انتہائی جاہلیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ جس طرح یہ بات ان کے مشاہدہ میں نہیں آئی اسی طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ان کے دلوں میں پیدا کرنے سے بھی معلوم نہیں کیا اور نہ ہی مخبرصادق نے ان کو اطلاع دی۔ اور نہ استدلال و نظر سے دریافت ہوا۔ ( پھر ان کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ مؤنث ہیں) ۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ انتہائی جہالت کی بناء پر اپنے دلوں کو اطمینان دلانے کیلئے یہ کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

150، ام خلقنا الملائکۃ اناثا، یہ سوال بطور استہزاء کے ہے کہ کیا تمہاری نظروں میں ہم نے فرشتوں کو لڑکیاں پیدا کیا ہے۔ ، وھم شاھدون، کہ جب ہم ان کو پیداکر رہے تھے کیا اس وقت یہ لوگ حاضر تھے ؟ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے، اشھدواخلقھم، ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 149–157

149۔ 157۔ اوپر پہلے کے انبیاء اور ان کی نافرمان امتوں کا ذکر فرما کر تنبیہ کے طور پر قریش کی ایک نافرمانی کا یوں ذکر فرمایا۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں جو کہتے ہو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے تو کیا اس وقت تم نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں۔ پھر فرمایا جب یہ بات نہیں ہے تو یہ ان لوگوں کا ایک جھوٹ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرا کر اللہ کے لئے بیٹیاں اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ یہ لوگ کیا بکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو بات یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہیں ہے تو اس کے سچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 149–157

آیت 149 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ سے فرماتا ہے : (فاستفتھم) یعنی غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انہوں نے شرکت کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں۔ (الربک البنات ولھم البنون) ” کیا آپ کے رب کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں ؟ “ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنائی اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنادیں، حالانکہ وہ خود اپنے لیے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 147–182

او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “ ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 149–151

100 مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹیاں اور ان کیلئے بیٹے ؟ "۔ یعنی دوہری گستاخی اور ڈبل کفر کہ اول تو اللہ پاک کے لئے اولاد تجویز کی۔ حالانکہ وہ ہر طرح کی اولاد سے پاک، بری اور بےنیاز ہے کہ اس کی شان ہے ۔ { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ } ۔ " نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد "۔ پھر اولاد بھی وہ تجویز کی جو ان کو خود اپنے لئے گوارا نہیں یعنی بیٹیاں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اول تو اللہ پاک کی طرف اولاد کی نسبت ہی ایک شدید قسم کی جہالت اور کفر ہے۔ اور اس پر مزید جہالت اور کفر یہ کہ یہ لوگ اس کیلئے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 149–166

کیا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ تشریح : کفار مکہ کی نالائقی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ وہ شرک و کفر کی غلاظت میں ڈوبے رہتے اور جو منہ میں آتا بکتے رہتے۔ اسی میں سے ایک انتہائی غلط بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی۔ وہ کہتے کہ نعوذ باللہ فرشتوں اور جنوں کے ساتھ اللہ کی رشتہ داریاں ہیں جنوں کی سردار زادیوں سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ معاف کرے قرآن پاک میں کئی جگہ پر اللہ کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس کی ذات ہر قسم کی رشتہ داری سے بلند ہے۔ اسے کسی بیوی، بچے، بہن، بھائی، چچا، ماموں یا سسرالی رشتہ داروں کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ فرشتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 139–182

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182: اسرار و معارف : ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 یعنی کیا ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے جو آج یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فرشتے عورت ذات اور اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:150) ام۔ یا۔ خواہ ۔ کیا۔ حرف عطف ہے استفہام کے معنی دیتا ہے اور کبھی بمعنی بل (حرف اضراب) یعنی بلکہ، اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہام بھی آتا ہے اور کبھی ام زائدہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں آیت ہذا میں بطور حرف اضراب بمعنی بل آیا ہے ۔ تبکیت (جھڑکی، ڈانٹ، سرزنش) سابقہ (آیت 37:11) پر مزید ڈانٹ پلائی گئی ہے پہلے انکار قیامت پر سرزنش تھی۔ اور اب ان کے اس قول پر کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں : ام خلقنا الملئکۃ اناثا :۔ ای بل خلقنا الملئکۃ الذین ہم من اشرف الخلائق واقواہم واعظمہم تقدسا عن النقائص الطبیعیۃ اناثا والانوثۃ من اخص صفات الحیوان۔ کیا ہم نے فرشتوں کو جو اشرف المخلوقات میں سے ہیں اور بڑے طاقت ور ،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 149–166

لغات القرآن آیت نمبر 149 تا 166 :۔ استفت ( آپ ﷺ پوچھئے) البنات ( بنت) ( بیٹیاں) البنون ( بن) (بیٹے) انات (عورت ، عورت ذات) شھدون (دیکھنے والے) افک (الزام ، بہتان) اصطفی (اس نے پسند کرلیا) مالکم ( تمہیں کیا ہوگیا) نسب (رشتہ) یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) فتنین ( بہکانے والے) صال (جانے والا) المسبحون ( حمد وثناء کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 149 تا 166 :۔ جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت عرب کے لوگ عقیدوں اور عمل کی ہزاروں گندگیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو خالق اور بےحقیقت چیزوں کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ چناچہ عرب کے بعض اہم قبیلوں کا یہ عقیدہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 149–157

اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین سے پوچھو کہ اتنی بڑی عظمت وقدرت والے اللہ کے لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے تم لوگ خدا کے لیے ایسی چیز پسند کرتے ہو جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اور یہ کہتے ہو کہ فرشتے عورتیں ہیں اور خدا کی لڑکیاں ہیں اس کا جواب اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے تم کو خوب معلوم ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جو گواہی دیتے ہو بلکہ یہ لوگ اپنے شیطانی وسواس سے افتراء کرکے یہ کہتے ہیں کہ خدا کی اولاد ہے یہ جھوٹے ہیں کیا اس نے لڑکے چھوڑ کر لڑکیاں اپنے لیے بنائیں عورتوں کو اپنے لیے پسند کیا افسوس تمہارے حال و خیال پر، تم کیسے نامعقول حکم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 149–162

خدا کے بیٹیاں کیوں ہیں ؟ 1: خدا جانے کن وجوہ کی بناء پر مکہ والے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ اور ان کے مجسموں کی پوجا کرتے تھے ۔ قرآن نے کئی مقامات پر اس عقیدے کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کی وضاحت کے ساتھ تردید فرمائی ۔ ان آیتوں سے مقصود بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے عقیدے کی کمزوری ملاحظہ کریں ۔ فرمایا تم یہ تو سوچو ۔ کہ جب تم اپنے لئے لڑکیوں کے انتساب کو پسند کرتے ہو ۔ تو اللہ نے آخر بیٹیوں کو کیوں پسند کیا ۔ اگر اس کے اولاد ہے ۔ تو وہ اولاد ذکور کیوں نہیں ؟ غرض یہ ہے کہ جو چیزیں تمہارے لئے باعث فخر ہیں ۔ ان کو اگر تم اللہ کے لئے بھی باعث اعزاز سمجھتے ہو ۔ تو اس میں کچھ معقولیت ہوسکتی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(150) یاہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور وہ منکر ان کو بناتے وقت دیکھ رہے تھے - یعنی ملائکہ کی انوثت پر ان کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں ہے اور نہ یہ ان کے پیدا کرتے وقت موجود تھے، جو آنکھوں کا دیکھا حال بیان کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے ؟ کیا اس وقت وہ وہاں موجود تھے ؟ : 150۔ اس بات کے پیش نظر ان کو کہا جا رہا ہے کہ اتنی بری تقسیم تم نے کیسے کردی کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں اور پھر تم جو اتنے وثوق سے یہ دعوی کرتے ہو تو تمہارے پاس ضرور کوئی پکی دلیل ہوگی اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو پیدا فرمایا تو تم اس وقت وہاں موجود تھے اور تم نے دیکھا کہ یہ لڑکیاں ہیں یا کوئی تحریری ثبوت تم لوگ اپنے پاس رکھتے ہو ۔ اگر دونوں صورتوں میں کوئی بات بھی نہیں ہے کہ نہ تم فرشتوں کی آفرنیش کے وقت پاس تھے اور نہ ہی تمہارے پاس کوئی تحریری ثبوت موجود ہے تو یہ کتنی نادانی ہے کہ ایک غلط بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–157

Commentary Events relating to the noble prophets described earlier provided some good counsel and some lessons to learn. Now, once again, the text turns to the essential subject of the affirmation of pure monotheism (tauhid) and the refutation of ascribing partners to the pristine divinity of Allah (shirk). Then, described at this particular place is the shirk of a particular kind. The disbelievers of Arabia believed that angels were the daughters of Allah Ta’ ala, and the daughters of the chieftains of Jinns were the mothers of angels. According to ` Allamah Whidi, this belief was not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–156

86 Another theme starts from here. In the preceding theme that started from v. 11, the Quraish had been put this question: "Ask them: what is more difficult: their own creation or of those things that We have created?" Now, they are being asked this second question. The object of the first question was to warn the disbelievers of their deviation because of which they regarded life-after-death and the meting out of rewards and punishments as impossible, and therefore, mocked the Holy Prophet for it. Now they are being asked this second question to warn them of their ignorance due to which they…

Read the full tafseer →