Explained with ayahs 139–148
واقعہ حضرت یونس ؑ۔
حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 85
حضرت یونس کے اس قصے کے متعلق سورة یونس اور سورة انبیا کی تفسیریں جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس پر بعض لوگوں نے اعتراضات کیے ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دوسرے مفسرین کے اقوال بھی نقل کردیے جائیں۔
مشہور مفسر قَتَادہ سورة یونس، آیت 98 کی تفسیر میں فرماتے ہیں " کوئی بستی ایسی نہیں گزری ہے جو کفر کرچکی ہو اور عذاب آجانے کے بعد ایمان لائی ہو اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس سے صرف قوم یونس مستثنیٰ ہے۔ انہوں نے جب اپنے نبی کو تلاش کیا اور نہ پایا، اور محسوس کیا کہ عذاب قریب آگیا ہے تو اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ ڈال دی " (ابن کثیر، جلد 2، ص 433)
اسی آیت کی تفسیر علامہ آلوسی…
Read the full tafseer →فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ (پس وہ ایمان لے آئے، سو ہم نے ان کو ایک زمانہ تک عیش دیا) ”ایک زمانہ تک“ کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا نہیں ہوئے ان پر کوئی عذاب نہیں آیا۔
مرزا قادیانی کی تلبیس کا جواب
یہ بات سورة یونس کی تفسیر میں بھی واضح کی جا چکی ہے اور اس آیت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حضرت یونس ؑ کی قوم پر جو عذاب ٹلایا گیا وہ اس لئے کہ آپ کی قوم بروقت ایمان لے آئی تھی۔ اس سے پنجاب کے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی اس تلبیس کا خاتمہ ہوجاتا ہے کہ جب اس نے اپنے مخالفوں کو یہ چیلنج کیا کہ اگر وہ اس طرح مخالفت کرتے رہے تو خدا کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ فلاں وقت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
وارسلنم الی مائۃ الف اویزیدون، فامنوا فمتعنھم الی حین (148-147)
جب ان کے اوسان بجا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر ان کی قوم کے پاس دعوت کے لئے بھیجا جس کی تعداد ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیاہ تھی اور یہ سارے لوگ اسلام لائے اور اللہ تعالیٰ نے انکو عذاب سے بچایا اور ان کی مہلت مقررہ تک کے لئے ان کو کھانے پینے کا موقع دیا۔ اوبل کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تورات کے صحیفوں سے معلم ہوتا ہے کہ ایمان لانے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
148۔ 1 ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ) 10۔ یونس :98) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →28: جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اور سورة یونس : 98 میں بھی گذر چکا ہے، حضرت یونس ؑ کی قوم عذاب کے آثار دیکھ کر عذاب آنے سے پہلے ہی ایمان لے آئی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا تھا اور وہ ایمان لا کر ایک عرصے تک زندہ رہے۔
Read the full tafseer →فامنوا فمتعنھم الی حین (37: 148) ” وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک مقررہ وقت تک ان کو متاع حیات دیا “۔ ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھی۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے۔ یہ قصہ یہاں یہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں جبکہ سابقہ قصص کا مدعا یہ بتانا تھا کہ جو ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا اے قوم محمد ، تم ان دو انجاموں میں سے اپنے لیے جو انجام چاہتے ہو ، اختیار کرلو۔ یہاں آکر اس سورت کا یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس پر وہ تاریخی جائزہ بھی ختم ہوتا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام ڈرانے والوں کی اقوام کے انجام کے بارے میں تھا ، خواہ وہ مومنین…
Read the full tafseer →9 یعنی ایمان و یقین کی بدولت عذاب الٰہی سے بچ گئے اور اپنی عمر مقدر تک دنیا کا فائدہ اٹھاتے رہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " وہی قوم جس سے بھاگے تھے ان پر ایمان لا رہی تھی۔ ڈھونڈتی تھی کہ یہ جا پہنچے۔ ان کو بڑی خوشی ہوئی۔ یہ قصہ پہلے گزر چکا ہے۔ سورة " یونس " اور سورة " انبیاء " میں دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 148{ فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ } ”تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں متاع دنیوی عطا کردی ایک خاص وقت تک۔“
یعنی ان کی توبہ اور ایمان کے بعد انہیں بقا کی ایک نئی مہلت fresh lease of existance دے دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
88 سیدنا یونس کا اپنی قوم میں واپس آنا :۔ جب سیدنا یونس اپنی قوم کے پاس پہنچے تو وہ پہلے ہی آپ کے منتظر بیٹھے تھے۔ وہ فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔ اور پھر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات ہونے لگے۔ چونکہ اس واقعہ میں سیدنا یونس کے ایک کمزور پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے۔ غالباً اسی لئے رسول اللہ نے یہ بتاکید فرما دیا کہ تمام انبیاء نبی ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں اور کسی نبی کو دوسرے پر فضیلت نہیں۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت نہ دو اور دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جس نے مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت دی اس نے جھوٹ بولا (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل موسیٰ )
دراصل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
81۔ خطاب اس گروہ سے ہے جو اس کا قائل تھا کہ خدا کے بیٹیاں ہیں، جو دیویاں ہیں، مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتاؤں سے کہیں زائد دیویاں تھیں، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” الربک البنات “۔ میں ہمزہ انکار توبیخی یا انکار ابطالی کا ہے۔ (مفتی، جلداول صفحہ 16)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →فامنوا فمتعنھم الی حین پھر وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ایک وقت (یعنی مقرروقت) تک زندگی سے
بہرہ اندوز کیا۔
یعنی عذاب کے معائنہ کے بعد یونس کی قوم ایمان لے آئے (اور ہم نے ان کے سروں سے عذاب اٹھا لیا) ۔
سوائے حضرت لوط اور حضرت یونس کے باقی انبیاء کے قصوں کے آخر میں سلام کا لفظ آیا ہے ‘ حضرت یونس اور حضرت لوط کیلئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عالی قدر اولوالعزم پیغمبروں کا امتیاز کے ساتھ تذکرہ مقصود ہو ‘ یا یہ سبب ہو کہ آخر میں مجمل طور پر تمام پیغمبروں کیلئے تو لفظ سلام استعمال کیا (جس میں لوط و یونس بھی شامل ہیں) اسی پر اکتفا کیا۔
Read the full tafseer →سو وہ لوگ ان پر ایمان لے آئے تھے تو ہم نے ان کو مرنے تک بلا کسی تکلیف کے عیش دیا تھا۔
Read the full tafseer →فَاٰمَنُوْا : شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”وہی قوم جس سے بھاگے تھے، ان پر ایمان لا رہی تھی۔ (وہ انھیں) ڈھونڈتی تھی کہ یہ جا پہنچے، (اس سے) ان کو بڑی خوشی ہوئی۔“ (موضح)
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ : یعنی انھیں عذاب سے بیک وقت ہلاک کرنے کے بجائے ہر ایک کو اس کی مقررہ عمر تک فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
145 ۔ 148:۔ ترمذی حکیم نے کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام آبق رکھا کیونکہ وہ عبودیت سے بھاگ تھے کیونکہ عبودیت کا مفہوم ہے خواہش نفس کو چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ کے امور کے موقع پر اپنی جان قربان کردینا۔ جب فرشتے کی جانب سے سختی ہوئی تو انہوں نے اپنے نفس کی قربانی نہ دی جس کی وضاحت سورة الانبیاء میں پہلے گزر چکی ہے اور اپنی خواہش نفس کو ترجیح دی تو ان پر آبق کا نام لازم آگیا۔ فرشتہ کی جانب سے سختی اللہ تعالیٰ کے امر میں تھی اپنے ذاتی امر میں نہ تھی اللہ تعالیٰ کے حق کے متعلق تھی اپنے حق کے متعلق نہ تھی حضرت یونس (علیہ السلام) نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو درست بات تھی اس کو نہ پایا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے…
Read the full tafseer →فَاٰمَنُوْا [پھر وہ لوگ ایمان لائے ] فَمَتَّعْنٰهُمْ [تو ہم نے برتنے کا سامان دیا ان لوگوں کو ] اِلٰى حِيْنٍ [ایک وقت تک ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا
ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
قصہ ششم یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔
یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
60:۔ فاستفتہم الخ : یہ فاستفتہم اھم اشد خلقا والے زجر کا اعادہ ہے برائے تنویر اور ابتدائے سورت سے متعلق ہے۔ یہاں سے لے کر الا من ھو صال الجحیم۔ تک فرشتوں اور جنوں کے حال کا اعادہ ہے بطور لف و نشر مرتب۔ مشرکین فرشتوں کو تو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اور ان کو خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر پکارا کرتے تھے لیکن اپنے لیے بیٹے پسند کرتے تھے۔ یہاں بطور زجر اس دعوی باطلہ پر ان سے دلیل طلب کی گئی۔ یہ دعوی چونکہ خلاف عقل اور سراسر باطل ہے اس لیے اس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ فاستخبر ھؤلاء الکفرۃ عن وجہ کون البنات وھن اوضع الجنسین لہ تعالیٰ بزعمہم والبنین الذین ھم ارفعہما لہم فانہم لا یستطیعون ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ربط آیات
پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط…
Read the full tafseer →فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰى حِيْنٍ 148ۭ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ۔ فَاٰ مَنُوْا فَمَتَّعْنٰـھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (الصآفات : 147، 148)
( ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا۔ پس وہ لوگ ایمان لائے اور ہم نے انھیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ )
قوم کی طرف مراجعت اور قوم کی خوش نصیبی
کچھ عرصہ بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کی حالت سنبھلی، آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے غائب ہوجانے کے بعد جب آپ کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو وہ بچوں، بوڑھوں اور جانوروں سمیت گھروں سے باہر نکل آئے اور اللہ تعالیٰ سے انتہائی گریہ زاری کے ساتھ اپنی غفلت کی معافی مانگی، اپنے کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–149
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔
حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…
Read the full tafseer →148: فَٰامَنُوْا (پھر وہ لوگ ایمان لے آئے تھے) ان پر اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر فَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ (تو ہم نے ان کو ایک زمانہ تک زندگی دی) حینؔ سے انتہائے اجل تک کا وقت مراد ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 148۔ ، فامنوا، عذاب کے معائنہ کے بعد یونس (علیہ السلام) کی قوم ایمان لے آئی ۔ ، فمتعنا ھم الی حین، جب اس کی اجل پوری ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →آیت 148
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور یونس بن متی کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء ومرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونس کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ (اذا بق) ” جب بھاگے “ یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب بتایا ہے نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →9 دین و ایمان ذریعہ نجات وبقاء : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو فائدہ اٹھانے دیا ایک خاص وقت تک "۔ یعنی اس وقت تک جو ان کی دنیاوی زندگی کے لئے مقرر تھا۔ یہاں سے ایک بات تو یہ واضح ہوگئی کہ اعمال کا پورا بدلہ تو اگرچہ آخرت ہی میں ملے گا لیکن ان کا اور کچھ نہ کچھ بدلہ انسان کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اچھائی کا بدلہ اچھائی کی شکل میں اور برائی کا بدلہ ان کا برائی کی شکل میں۔ اور دوسری بات یہ کہ سچی توبہ اور استغفار سے سختیاں ٹلتی اور عذاب دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑا اللہ اس کو ہر تنگی سے آسانی اور ہر غم سے رہائی نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
سیدنا یونس (علیہ السلام) کا کشتی میں بیٹھنا اور مچھلی کے پیٹ میں جانا
تشریح : سیدنا یونس (علیہ السلام) کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ مگر اس کا اندازذرا مختلف ہے۔ ہوا اس طرح کہ آپ کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ موصل کے علاقہ میں نینوا شہر میں آپ بھیجے گئے آپ نے سات سال تک لگا تار لوگوں کو سمجھایا مگر حسب معمول انہوں نے نافرمانی کی اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ ” اب تم پر عذاب آنے والا ہے “۔ آپ نے دعا کی آپ اللہ کی اجازت یا مرضی کے بغیر شہر سے نکلے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ آپ سے انجانے میں غلطی ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو اس کی سزا یوں دی گئی کہ کشتی ڈوبنے لگی جس پر یہ کہا گیا کہ کوئی غلام آقا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
ف 10 ان سے نینوی شہر کے لوگ ہی مراد ہیں جس سے بھاگ کر حضرت یونس ( علیہ السلام) سمندر کی طرف آئے تھے۔11 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی تھی اور وہ عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی تھی اور وہ عذاب سے بچ گئے تھے چناچہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کو جب اپنی قوم کے ایمان لانے کی اطلاع ملی تو وہ واپس آگئے۔ ( دیکھئے سورة یونس ( علیہ السلام) آیت 98)
Read the full tafseer →(37:148) فامنوا۔ میں فاء سببیہ ہے ضمیر فاعل جمع مذکر غائب قوم یونس (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ (ہم نے حضرت یونس کو ان کی قوم کی طرف بھیجا) تو وہ لوگ ایمان لے آئے۔
متعنہم۔ متعنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے تمتع (تفعیل) مصدر سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کو دنیاوی سامان دے کر بہرہ مند کیا۔
الی حین ایک زمانہ تک یا ایک وقت مقررہ تک ای الی اجالہم المسماۃ فی الازل۔ ان کے ازل سے مقررہ وقت تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت یونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ۔
(ف 2) حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہدایت کی جب ان کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبرسنائی اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے جب ان لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی دیکھے توجنگل میں جاکر بہت روئے اور گڑگڑائے اللہ نے ان کے حال پر رحم فرماکران سے عذاب نازل نہیں کیا، حضرت یونس کو معلوم ہوا کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اپنے دل میں سوچا کہ جس قوم کے نزدیک جھوٹا ٹھہرچکا ہوں اس قوم کی سرحد میں بھی ٹھہرنا مناسب نہیں، یہ سوچ کر آپ نے دریائی سفر کارادہ کیا کشتی پر سوار ہوئے کشی دریا میں چلنے لگی جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
[34] یعنی عاقل بالغ لوگ تو لاکھ تھے اور چھوٹے بھی شمار کئے جائیں تو لاکھ سے زیادہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ…
Read the full tafseer →(148) پھر اس واقعہ کے بعد وہ سب لوگ ایمان لائے یعنی تفصیل ایمان اور ہم نے ان کو ایک خاص وقت تک سود مند کیا اور ایک مدت تک بہرہ مند کیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہی قوم جن سے بھاگے تھے ان پر ایمان لارہے تھے ڈھونڈتے تھے یہ جا پہنچے ان کو بڑی خوشی ہوئی۔
خلاصہ : یہ کہ نینوا کے لوگ آ کرلے گئے یا یہ خود تشریف لے گئے دونوں لڑکے اور بیوی صحیح سلامت ان کو مل گئے بڑے لڑکے اور بیوی کو قریب کے گائوں والوں نے نکال لیا اور چھوٹے بچہ کو بھیڑیے کے منہ سے چھڑا لیا۔ وقت مقرر سے ان لوگوں کی مدت عمر مراد ہے کہ اسلام لانے کے بعد حضرت یونس کے ہمراہ مدت العمر آرام اور عیش میں رہے چندانبیاء (علیہم السلام) کا…
Read the full tafseer →ف 4۔ اوپر قصص سے ان سب انبیاء (علیہم السلام) کا جن کی نبوت عقلا ثابت ہے مومن و موحد و عابد و مخلص اور داعی الی التوحید والایمان ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کے قبل شروع سورت میں عقلی دلائل توحید کے مذکور ہوچکے ہیں۔ آگے ان دلائل نقلیہ و عقلیہ پر بطور تفریع کے ابطال شرک و کفر کا فرماتے ہیں، اور وجہ تفریع کی دلیل عقلی پر تو ظاہر ہے، اور دلیل نقلی پر یہ ہے کہ نبوت کے لئے صدق لازم، پس توحید کا حق ہونا ضروری اور بطلان شرک کا اس کے لوازم میں سے ہونا ظاہر۔
Read the full tafseer →پس اس قوم کے لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو ایک وقت تک فائدہ دے دیا :
148۔ اس آیت میں یونس (علیہ السلام) کی قوم کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ ہم نے یونس (علیہ السلام) کے وہاں سے نکل جانے کے بعد ان کی توبہ کو قبول کرتے ہوئے ان کو ایک وقت تک اس دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دے دی تھی اور یہ اس لیے ہوا کہ ہمارا فیصلہ عذاب ابھی صادر نہیں ہوا تھا کہ وہ ایمان لے آئے اور توبہ کے وقت کے اندر ہی توبہ کرلی اور یہ فائدہ اس طرح کا فائدہ تھا جس طرح کا فائدہ دنیا کے سارے انسانوں کو دیا جا رہا ہے جو اچھے ہیں ان کو بھی اور جو اچھے نہیں ہیں ان کو بھی کیونکہ قانون امہال کے تحت ہم کسی قوم کو بھی اس کی…
Read the full tafseer →The expression: إِلَىٰ حِينٍ (ila hin: for a time) in: فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ([ 147] So, they believed, then, We let them enjoy for a time.- 148) means that as long as they did not revert to their kufr and shirk, no punishment visited them.
Exposing the fraud of the Qadyani imposter
It has already been demonstrated in the Tafsir of Surah Yunus (علیہ السلام) (Ma’ ariful-Qur’ an, English, Volume IV), and it is clear from this verse too, that the reason why the punishment due to visit the people of Sayyidna Yunus (علیہ السلام) was averted was that his people had started…
Read the full tafseer →85 Some people have taken exception to what we have written concerning this story of the Prophet Jonah in our commentary of Surahs Yunus and AI-Anbiya'. It would therefore be proper that we should reproduce here the explanations given by the other commentators in this regard. The famous commentator Qatadah in his commentary of verse 98 of Surah Yunus says: There has been no habitation which disbelieved and might have believed after the arrival of the scourge, and then might have been left unpunished. The only exception were the people of the Prophet Jonah. When they searched for their Prophet…
Read the full tafseer →