Explained with ayahs 139–148
واقعہ حضرت یونس ؑ۔
حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 84
" ایک لاکھ یا اس سے زائد " کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تعداد میں شک تھا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کی بستی کو دیکھتا تو یہی اندازہ کرتا کہ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہی ہوگی، کم نہ ہوگی۔ اغلب یہ ہے کہ یہ وہی بستی تھی جس کو چھوڑ کر حضرت یونس بھاگے تھے۔ ان کے جانے کے بعد عذاب آتا دیکھ کر جو ایمان اس بستی کے لوگ لے آئے تھے اس کی حیثیت صرف توبہ کی تھی جسے قبول کر کے عذاب ان پر سے ٹال دیا گیا تھا۔ اب حضرت یونس ؑ دوبارہ ان کی طرف بھیجے گئے تاکہ وہ نبی پر ایمان لا کر باقاعدہ مسلمان ہوجائیں۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے سورة یونس، آیت 98 نگاہ میں…
Read the full tafseer →(آیت) وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ (اور ہم نے ان کو ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا) یہاں یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علیم و خیبر ہیں، ان کو اس شک کے اظہار کی کیا ضرورت ہے کہ ایک لاکھ یا اس سے زیادہ آدمی تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ عام لوگوں کی مناسبت سے کہا گیا ہے، یعنی ایک عام آدمی انہیں دیکھتا تو یہ کہتا کہ ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ اوپر ہے (مظہری) اور حضرت تھانوی نے فرمایا کہ یہاں شک کا اظہار مقصود ہی نہیں ہے، انہیں ایک لاکھ بھی کہا جاسکتا ہے، اور اس سے زیادہ بھی، اور وہ اس طرح کہ اگر کسر کا لحاظ نہ کیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
وارسلنم الی مائۃ الف اویزیدون، فامنوا فمتعنھم الی حین (148-147)
جب ان کے اوسان بجا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر ان کی قوم کے پاس دعوت کے لئے بھیجا جس کی تعداد ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیاہ تھی اور یہ سارے لوگ اسلام لائے اور اللہ تعالیٰ نے انکو عذاب سے بچایا اور ان کی مہلت مقررہ تک کے لئے ان کو کھانے پینے کا موقع دیا۔ اوبل کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تورات کے صحیفوں سے معلم ہوتا ہے کہ ایمان لانے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
148۔ 1 ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ) 10۔ یونس :98) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
27: تسبیح پڑھنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ایک کھلے میدان کے کنارے لاکر ڈال دے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس وقت حضرت یونس ؑ بہت کمزور ہوچکے تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ ان کے جسم پر بال نہیں رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر ایک درخت اگایا، بعض روایات میں ہے کہ وہ کدو کا درخت تھا اس سے انہیں سایہ بھی حاصل ہوا، اور شاید اسکے پھل کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے علاج بھی بنادیا، نیز وہاں ایک بکری بھیج دی گئی، جس کا آپ دودھ پیتے رہے، یہاں تک کہ تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین (37: 146) ” اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا “۔ اور یہ کدو کی بیل تھی۔ یہ اپنے پھیلے ہوئے بتوں کے ذریعہ انہیں دھوپ سے بچاتی اور یہ ان سے مکھیوں کو بھی دور رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مکھیاں اس درخت کے قریب نہیں جاتیں۔ یہ اللہ کا لطف و کرم تھا اور معجزانہ تدابیر تھیں۔ جب ان کی صحت لوٹ آئی تو اللہ نے ان کو اپنی اس قوم کھے پاس واپس بھیجا جن سے ناراض ہوکر وہ آگئے تھے۔ حضرت یونس کے بعد یہ لوگ ڈرگئے تھے ، ایمان لے آئے تھے۔ اللہ سے استغفار کیا اور اجتماعی طور پر معافی مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان پر وہ عذاب سنت الہیہ کے مطابق نہ آیا جو مکذبین پر آتا…
Read the full tafseer →8 یعنی اگر صرف عاقل بالغ گنتے تو لاکھ تھے اور اگر سب چھوٹوں بڑوں کو شامل گنتے تو زیادہ تھے یا یوں کہو کہ ایک لاکھ سے گزر کردو لاکھ تک نہیں پہنچے تھے۔ ہزار کی کسر نہ لگاؤ تو ایک لاکھ کہہ لو۔ اور کسر لگائی جائے تو لاکھ کے اوپر چند ہزار زائد ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 147{ وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ } ”پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔“
یعنی صحت یاب ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوبارہ رسالت کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ قرآن میں اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دوبارہ آپ علیہ السلام کو اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا یا کسی اور قوم کی طرف۔ لیکن گمان غالب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام دوبارہ اپنی ہی قوم میں مبعوث ہوئے اور اس آیت میں آپ علیہ السلام ہی کی قوم کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بہر حال سورة یونس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے…
Read the full tafseer →87 اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی قوم کے ہاں جانے کا حکم دیا۔ جس سے آپ بھاگ آئے تھے۔ ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ انہوں نے جس آہ وزاری سے توبہ کی تھی اللہ نے ان کی توبہ قبول کرکے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا اور وہ کسی رہنمائی کرنے والے کے منتظر تھے۔ سیدنا یونس کو تلاش کرتے رہے۔ مگر وہ کہیں نہ ملے۔
Read the full tafseer →80۔ یہ شہرنینوا تھا جو دریائے دجلہ کے داہنے کنارے پر واقع تھا۔ جہاں آج موصل واقع ہے ٹھیک اس کے مقابل۔ توریت میں اس کی آبادی ایک لاکھ بیس ہزار آدمیوں سے زیادہ درج ہے ، (یوفاہ۔ 4: 11) کپتان جو نس نے 1853 ء میں جاکر شہر کے کھنڈروں کی باضابطہ پیمائش کی تھی، ان کی تحقیق میں شہر کا رقبہ 1800 ایکڑ تھا، اور ہر فرد کے لیے اگر 50 گز مربع زمین فرض کیجائے، تو کل آبادی کا تخمینہ ایک لاکھ جو ہتر ہزار یا 75 ہزار تک پہنچتا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ اوتخییر کے لیے ہے۔ یعنی اگر صرف عاقلوں، بالغوں کو رکھو تو ایک لاکھ، اور کل آبادی کو لوتو اور زائد۔ توریت میں ہے :۔” یوفاہ خداوند کے کلام کے مطابق اٹھ کر نینوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →وارسلنہ الی ماءۃ الف او یزیدون اور ہم نے ان کو سو ہزار یا اس سے بھی زائد آدمیوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا
تھا۔ بغوی نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ مذکورۂ بالا مصیبت سے پہلے حضرت یونس کو نینوا علاقۂ موصل کے باشندوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا گیا (اور ان کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے زائد تھی) عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بھی قتادہ کا یہی قول بیان کیا ہے اور حسن کا قول بھی یہی منقول ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے برآمد ہونے کے بعد آپ کو ایک لاکھ آدمیوں کیلئے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا (اور یہ لوگ نینوا کے ہی باشندے تھے) بعض نے کہا : کچھ اور لوگ تھے (جن کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →اور ہم نے ان کو ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی بیس ہزار زائد آدمیوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔
Read the full tafseer →وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ : تندرست ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کی طرف پیغام حق پہنچانے کے لیے بھیج دیا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی آبادی تھی جہاں سے وہ ناراض ہو کر گئے تھے اور جن کی توبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے محفوظ رکھا تھا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو لفظ ”اَوْ“ استعمال فرمایا ہے کہ ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا ”یا“ وہ زیادہ ہوں گے، یہ لفظ تو شک کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ دیکھنے والوں کے لحاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
145 ۔ 148:۔ ترمذی حکیم نے کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام آبق رکھا کیونکہ وہ عبودیت سے بھاگ تھے کیونکہ عبودیت کا مفہوم ہے خواہش نفس کو چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ کے امور کے موقع پر اپنی جان قربان کردینا۔ جب فرشتے کی جانب سے سختی ہوئی تو انہوں نے اپنے نفس کی قربانی نہ دی جس کی وضاحت سورة الانبیاء میں پہلے گزر چکی ہے اور اپنی خواہش نفس کو ترجیح دی تو ان پر آبق کا نام لازم آگیا۔ فرشتہ کی جانب سے سختی اللہ تعالیٰ کے امر میں تھی اپنے ذاتی امر میں نہ تھی اللہ تعالیٰ کے حق کے متعلق تھی اپنے حق کے متعلق نہ تھی حضرت یونس (علیہ السلام) نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو درست بات تھی اس کو نہ پایا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے…
Read the full tafseer →وَاَرْسَلْنٰهُ [اور ہم نے بھیجا ان (علیہ السلام) کو ] اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ [ایک لاکھ (لوگوں) کی طرف ] اَوْ يَزِيْدُوْنَ [یا وہ لوگ (کچھ) زیادہ ہوں گے ] ۔
نوٹ۔ 3: آیت 147 میں یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علیم وخبیر ہے اس کو اس شک کے اظہر کی کیا ضرورت ہے کہ ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ آدمی تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ عام لوگوں کی مناسبت سے کہا گیا ہے۔ یعنی ایک عام آدمی انھیں دیکھتا تو یہ کہتا کہ یہ تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ اوپر ہے۔ اور حضرت تھانوی نے فرمایا کہ یہاں شک کا اظہار مقصود ہی نہیں ہے۔ انھیں ایک لاکھ بھی کہا جاسکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی۔ اور اس طرح کہ اگر کسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا
ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
قصہ ششم یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔
یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
59:۔ وارسلنہ الخ : حضرت یونس (علیہ السلام) کو جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا تھا اس کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ اَوْ بمعنی بَلْ ہے۔ قال الفراء او بمعنی بل (قرطبی۔ مدارک) ۔ فامنوا الخ، قوم یونس (علیہ السلام) نے آثار عذاب دیکھ کر توبہ کرلی تھی۔ اور وہ حضرت یونس (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے اس لیے اللہ نے ان کو عذاب سے بچا لیا۔ اور حین حیات میں انہیں دنیوی منافع سے متمتع ہونے کا موقع دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ربط آیات
پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط…
Read the full tafseer →وَاَرْسَلْنٰہُ اِلٰى مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ 147ۚ
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ۔ فَاٰ مَنُوْا فَمَتَّعْنٰـھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (الصآفات : 147، 148)
( ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا۔ پس وہ لوگ ایمان لائے اور ہم نے انھیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ )
قوم کی طرف مراجعت اور قوم کی خوش نصیبی
کچھ عرصہ بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کی حالت سنبھلی، آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے غائب ہوجانے کے بعد جب آپ کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو وہ بچوں، بوڑھوں اور جانوروں سمیت گھروں سے باہر نکل آئے اور اللہ تعالیٰ سے انتہائی گریہ زاری کے ساتھ اپنی غفلت کی معافی مانگی، اپنے کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–149
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔
حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…
Read the full tafseer →147: وَاَرْسَلْنٰہُ اِلٰی مِا ئَۃِ اَلْفٍ (اور ہم نے ان کو ایک لاکھ آدمیوں کی طرف پیغمبر بنایا) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی طرف لقمہ بنائے جانے سے پہلے مبعوث ہوئے۔
نحو : قد مضمر ہے۔
اَوْیَزِیْدُوْنَ (یا اس سے زیادہ) جب دیکھنے والا دیکھے تو اس کی نگاہ میں زیادہ نظر آئیں اور وہ کہے یہ ایک لاکھ ہیں بلکہ اس سے زیادہ۔
قول الزجاج :
بہت سے علماء نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے بل یزیدون بلکہ یہ تو اس سے زائد ہیں۔ گویا اوؔ بل کے معنی میں ہے۔ فراء ابوعبیدہ کا یہی قول ہے ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا۔
Read the full tafseer →147، وارسلناہ الی مائۃ الف، قتادہ کا قول ہے کہ مذکورہ بالا مصیبت سے پہلے حضرت یونس (علیہ السلام) کو نینوا علاقہ موصل کے باشندوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ سے نمودار ہونے کے بعد پیغمبربنا کربھیجا۔ بعض نے کہا کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دوسری قوم کی طرف ان کو بھیجا گیا۔
، اویزیدون، مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ اوبمعنی بل کے ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ کی طرف معنی میں مستعمل ہے مگر مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اگر ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ ایک لاکھ ہیں یا زیادہ ہیں جیسے کوئی شخص کسی گروہ کو دیکھ کر کہتا ہے ۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–147
آیت 133
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔
(ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–182
او جب اللہ کی طرف منسوب ہو تو شک کے بجائے بلکہ کے معنی میں ہوگا
قول باری ہے (وارسلناہ الی مائۃ الف اویزیدون۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے زائد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” بلکہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔ “ ایک قول کے مطابق یہاں حرف آئو کے معنی ایہام کے ہیں گویا یوں فرمایا گیا ” ہم نے انہیں ان دو میں سے ایک تعداد کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ “
ایک قول کے مطابق اس شک کا تعلق مخاطبین سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف شک کی نسبت جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →98 حضرت یونس کی رسالت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت یونس کے پھر اپنی قوم کی تبلیغ کے لیے بھیجے جانے کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو پیغمبر بنا کر بھیجا ایک لاکھ یا کچھ زیادہ لوگوں کی طرف "۔ یعنی یہ " او " شک کے لئے نہیں بلکہ یہ " بل " کے معنیٰ میں اور اضراب کے لئے ہے۔ (المراغی، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ اور اس سے مراد اسی بستی کے لوگ ہیں جہاں آپ (علیہ السلام) اس سے پہلے مبعوث ہوئے تھے اور اب دوبارہ آپ (علیہ السلام) کو انہی لوگوں کی طرف بھیجا گیا۔ اور انہوں نے سچی توبہ کرلی اور آپ پر ایمان لے آئے اور عذاب سے بچ گئے۔ (حوالہ مذکورہ بالا) بہرکیف آنجناب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
سیدنا یونس (علیہ السلام) کا کشتی میں بیٹھنا اور مچھلی کے پیٹ میں جانا
تشریح : سیدنا یونس (علیہ السلام) کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ مگر اس کا اندازذرا مختلف ہے۔ ہوا اس طرح کہ آپ کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ موصل کے علاقہ میں نینوا شہر میں آپ بھیجے گئے آپ نے سات سال تک لگا تار لوگوں کو سمجھایا مگر حسب معمول انہوں نے نافرمانی کی اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ ” اب تم پر عذاب آنے والا ہے “۔ آپ نے دعا کی آپ اللہ کی اجازت یا مرضی کے بغیر شہر سے نکلے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ آپ سے انجانے میں غلطی ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو اس کی سزا یوں دی گئی کہ کشتی ڈوبنے لگی جس پر یہ کہا گیا کہ کوئی غلام آقا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
ف 10 ان سے نینوی شہر کے لوگ ہی مراد ہیں جس سے بھاگ کر حضرت یونس ( علیہ السلام) سمندر کی طرف آئے تھے۔11 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی تھی اور وہ عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی تھی اور وہ عذاب سے بچ گئے تھے چناچہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کو جب اپنی قوم کے ایمان لانے کی اطلاع ملی تو وہ واپس آگئے۔ ( دیکھئے سورة یونس ( علیہ السلام) آیت 98)
Read the full tafseer →(37:147) او یزیدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حکایت حال ماضی (فعل مضارع جو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے۔ ملاحظہ ہو (28:4) یستضعف۔ یذبح) او یزیدون یا وہ زیاددہ تھے (اگر او اپنے اصلی معنی ” یا “ کے استعمال ہوا ہے) او بمعنی بل بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ مقاتل اور کلبی نے کہا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا :۔ ایک لاکھ کی طرف بلکہ اس سے بھی زیادہ کی طرف ہم نے یونس ( علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔
او بمعنی وائو بھی ہوسکتا ہے یک صد ہزار و زیادہ بقول علامہ پانی پتی (رح) ۔ ایسا ہی او کا استعمال عذرا او نذرا (77:6) میں ہے۔ لیکن علماء کی اکثریت نے یہاں او بمعنی ” یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت یونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ۔
(ف 2) حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہدایت کی جب ان کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبرسنائی اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے جب ان لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی دیکھے توجنگل میں جاکر بہت روئے اور گڑگڑائے اللہ نے ان کے حال پر رحم فرماکران سے عذاب نازل نہیں کیا، حضرت یونس کو معلوم ہوا کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اپنے دل میں سوچا کہ جس قوم کے نزدیک جھوٹا ٹھہرچکا ہوں اس قوم کی سرحد میں بھی ٹھہرنا مناسب نہیں، یہ سوچ کر آپ نے دریائی سفر کارادہ کیا کشتی پر سوار ہوئے کشی دریا میں چلنے لگی جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
[34] یعنی عاقل بالغ لوگ تو لاکھ تھے اور چھوٹے بھی شمار کئے جائیں تو لاکھ سے زیادہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ…
Read the full tafseer →(147) اور ہم نے اس کو ایک لاکھ یا لاکھ سے زیادہ آدمیوں پر پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر عاقل بالغ گئے تو لاکھ تھے اور اگر سب کو شامل گنئے تو زیادہ تھے اللہ کو شک نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آئو بمعنی بل ہو۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کسر کا اعتبار نہ کرو تو ایک لاکھ کہو اور کسر کا اعتبار کرو تو لاکھ سے زیادہ کہو بہرحال وہ لوگ حضرت یونس کی تلاش میں تھے، اجمالی ایمان تو پہلے ہی لے آئے تھے تفصیل ایمان حضرت یونس کی دوبارہ تشریف آوری پر لائے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
ف 3۔ مطلب یہ کہ پیٹ سے نکلنا میسر نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →ہم نے اس کو لاکھ لوگوں کی بستی کی طرف بھیجا بلکہ وہ اس سے زیادہ ہی تھے :
147۔ یونس (علیہ السلام) جب دریا کو پار کر کے پھرتے پھراتے کسی ایسے مقام پر ٹھہر گئے جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ٹھہرانے کا بندوبست کیا ہوا تھا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکلنا ہوا اور مصر سے نکل کر پھرتے پھراتے مدین میں پہنچنا تو رب کو منظور تھا اور اس کے لیے ایسے حالات کو پیدا کردیا یہی یونس (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا اتفاق دیکھئے کہ یہ دونوں ہی سفر ان ہونے والے نبیوں کو نبوت سے قبل پیش آئے اور اس معاملہ میں ان دونوں کو کیسا توافق ثابت ہوگیا تو وہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور اس بستی کی طرف…
Read the full tafseer →It was said in verse 147: Y); وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ (And We had sent him [ as messenger ] to one hundred thousand, or more). A difficulty may arise here. Is it not that Allah Ta’ ala is Knowing and Aware? Why would He have to express the doubt that the number of those people was 'one hundred thousand, or more?' It can be answered by saying that this statement has been made in congruity with the view of common people, that is, if an average person would have seen them, he would have said that their number is one hundred thousand or somewhat more than that…
Read the full tafseer →84 The mention of "a hundred thousand people or more" does not mean that Allah had any doubt about their number, but it means that a casual observer would have estimated the population to be more than a hundred thousand people in any case. Probably it was the same place which the Prophet Jonah had left and fled. After his departure when the people of the place saw the scourge approaching they believed, but this was only a kind of repentance which was accepted and the scourge averted. Now, the Prophet Jonah was again sent .to them so drat the people should believe in him as a Prophet and…
Read the full tafseer →