Explained with ayahs 139–148
واقعہ حضرت یونس ؑ۔
حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 83
اصل الفاظ ہیں شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْن۔ یقطین عربی زبان میں ایسے درخت کو کہتے ہیں جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے، جیسے، کدو، تربوز، ککڑی وغیرہ بہرحال وہاں کوئی ایسی بیل معجزانہ طریقہ پر پیدا کردی گئی تھی جس کے پتے حضرت یونس پر سایہ بھی کریں اور جس کے پھل ان کے لیے بیک وقت غذا کا کام بھی دیں اور پانی کا کام بھی۔
Read the full tafseer →وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ (اور ہم نے ان پر ایک بیلدار درخت بھی اگا دیا تھا) یقطین ہر اس درخت کو کہتے ہیں جس کا تنہ نہ ہو۔ روایات میں ہے کہ یہ کدو کی بیل تھی۔ اس درخت کو اگانے کا منشا یہ تھا کہ حضرت یونس ؑ کو سایہ حاصل ہو۔ یہاں شجرة کا لفظ بتارہا ہے کہ یا تو اسی کدو کی بیل کو اللہ نے معجزہ کے طور پر تنہ دار بنادیا تھا، یا کوئی اور درخت تھا جس پر وہ بیل چڑھا دی تھی، تاکہ اس سے گھنا سایہ مل سکے، ورنہ بیل سے سایہ ملنا مشکل تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
فنبذنہ بالعمرآء وھو سقم، وانبتنا علیہ شجرہ ۃ من یقطین (146-145)
اللہ تعالیٰ کے حکم سے بالآخر مچھلی نے دریا کی کسی ریتی پر ان کو اگل دیا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بالکل ہی مضمحل اور نڈھال ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہاں کدو کے قسم کے کسی بیل کا سامان کردیا جس کے سایہ نے ان کو دریا کے کنارے کی سخت دھوپ سے بچایا اور کچھ عرصہ کے بعد ان کے اوسان بجا ہوئے۔
Read the full tafseer →146۔ 1 یَقْطِیْنِ ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
27: تسبیح پڑھنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ایک کھلے میدان کے کنارے لاکر ڈال دے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس وقت حضرت یونس ؑ بہت کمزور ہوچکے تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ ان کے جسم پر بال نہیں رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر ایک درخت اگایا، بعض روایات میں ہے کہ وہ کدو کا درخت تھا اس سے انہیں سایہ بھی حاصل ہوا، اور شاید اسکے پھل کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے علاج بھی بنادیا، نیز وہاں ایک بکری بھیج دی گئی، جس کا آپ دودھ پیتے رہے، یہاں تک کہ تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین (37: 146) ” اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا “۔ اور یہ کدو کی بیل تھی۔ یہ اپنے پھیلے ہوئے بتوں کے ذریعہ انہیں دھوپ سے بچاتی اور یہ ان سے مکھیوں کو بھی دور رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مکھیاں اس درخت کے قریب نہیں جاتیں۔ یہ اللہ کا لطف و کرم تھا اور معجزانہ تدابیر تھیں۔ جب ان کی صحت لوٹ آئی تو اللہ نے ان کو اپنی اس قوم کھے پاس واپس بھیجا جن سے ناراض ہوکر وہ آگئے تھے۔ حضرت یونس کے بعد یہ لوگ ڈرگئے تھے ، ایمان لے آئے تھے۔ اللہ سے استغفار کیا اور اجتماعی طور پر معافی مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان پر وہ عذاب سنت الہیہ کے مطابق نہ آیا جو مکذبین پر آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
7 مچھلی کو حکم ہوا اس نے حضرت یونس کو اپنے پیٹ سے نکال کر ایک میدان میں ڈال دیا غالباً کافی غذا و ہوا وغیرہ نہ پہنچنے کی وجہ سے بیمار اور نحیف ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ دھوپ کی شعاع اور مکھی وغیرہ کا بدن پر بیٹھنا بھی ناگوار ہوتا تھا۔ اللہ کی قدرت سے وہاں کدو کی بیل اگ آئی۔ اس کے پتوں نے ان کے جسم پر سایہ کرلیا اور اسی طرح قدرت خداوندی سے غذا وغیرہ کا سامان بھی ہوگیا۔
Read the full tafseer →آیت 146{ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ } ”تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اگا دیا۔“
عربی میں ”یقطین“ ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا ‘ بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے ‘ جیسے کدو ‘ تربوز ‘ ککڑی وغیرہ۔ ”یقطین“ کے بارے میں ہمارے ایک دوست جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کی تحقیق ماہنامہ میثاق فروری 1980 ء میں شائع ہوئی تھی۔٭ موصوف کا تعلق کراچی سے تھا ‘ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے دوران وہ مکران میں بھی رہے۔ میثاق کے مستقل قاری تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ‘ بہت نیک انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مکران کا ساحل طبعی طور پر ساحل ِعراق…
Read the full tafseer →86 آپ کی رہائش اور خوراک کا بندوبست :۔ یَقْطِیْنٌکا اطلاق ہر اس پودے پر ہوتا ہے جس کا تنا نہ ہو مثلاً کدو، ککڑی، تربوز وغیرہ اور بالخصوص اس کا اطلاق پیٹھا کدو کی بیل پر ہوتا ہے۔ اور مفسرین کی اکثر رائے کے مطابق یہی پودا وہاں اگ آیا تھا۔ اس کے پتے چوڑے چوڑے ہوتے ہیں جو دھوپ وغیرہ سے سایہ کا کام دیتے ہیں۔ نیز کہتے ہیں کہ مکھی اس پودے کے نزدیک نہیں آتی۔ آپ کی خوراک کا اللہ تعالیٰ نے کیا انتطام فرمایا ؟ کتاب و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ روزانہ ایک ہرنی آتی جس کا آپ دودھ پی لیتے تھے۔ تاآنکہ چند دنوں میں آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔
Read the full tafseer →79۔ (جو آپ کو مکھیوں وغیرہ سے محفوظ رکھتا تھا، اور جس کی ہوا صحت بخش تھی) (آیت) ” یقطین “۔ کے لفظی معنی ہر بیلدار درخت کے ہیں، کدو، خربوزہ وغیرہ سب اس میں آجاتے ہیں۔ وکل شجرۃ لاتقوم علی ساق کالدباء والبطیخ والحنظل ونحو ذلک فھی عند العرب یقطین (ابن جریر) روایتوں میں آتا ہے کہ مراد اس سے لوکی کا درخت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین اور ان پر ہم نے ایک بیل دار درخت بھی لگا دیا۔
بغوی نے مقاتل اور حسن کا قول بیان کیا ہے کہ جس درخت کا تنانہ ہو اور اس کی بیل زمین پر پھیلی ہو اور سردی کے زمانہ میں باقی نہ رہتا ہو وہ یقطین ہے جیسے کدو ‘ کھیرا ‘ ککڑی ‘ خربوزے کی بیل۔ بغوی نے لکھا ہے : خلاف معمول اس بیلدار درخت کا تنا بھی تھا۔ یقطین بروزن یفعیل ‘ قَطن سے ماخوذ ہے۔ قَطَنَ بالمکان اس جگہ وہ اقامت پذیر ہوگیا۔
(مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں : کدو کے درخت نے حضرت یونس کے بدن کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنے پتوں میں چھپالیا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہی قول تمام علماء تفسیر کا ہے۔ عبد بن حمید اور ابن جریر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
(145۔ 146) پھر ہم نے ان کو نکال کر ایک میدان میں ڈال دیا اور وہ وقت کمزور اور لاغر تھے اور ان کا بدن بچہ کے بدن کی طرح نرم ہوگیا تھا اور ہم نے ان پر دھوپ سے حفاظت کے لیے ایک بیل دار درخت بھی اگایا۔
Read the full tafseer →وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ : ”قَطَنَ بالْمَکَانِ“ (ن) کسی جگہ اقامت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ ”يَّقْطِيْنٍ“ اس میں سے ”یَفْعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے۔ یہ لفظ ہر ایسے پودے پر بولا جاتا ہے جس کا تنا نہ ہو، مثلاً کدو، ککڑی، تربوز اور خربوزہ وغیرہ۔ زیادہ تر پیٹھے کدو کو ”يَّقْطِيْنٍ“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ زمین پر پڑا رہتا ہے۔ ”عَلَيْهِ“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیل کا تنا معجزانہ طور پر اونچا کردیا، جس سے یونس ؑ پر سایہ ہوگیا، یا وہ بیل کسی اور بلند چیز پر چڑھ کر انھیں سایہ اور غذا مہیا کرتی رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
145 ۔ 148:۔ ترمذی حکیم نے کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام آبق رکھا کیونکہ وہ عبودیت سے بھاگ تھے کیونکہ عبودیت کا مفہوم ہے خواہش نفس کو چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ کے امور کے موقع پر اپنی جان قربان کردینا۔ جب فرشتے کی جانب سے سختی ہوئی تو انہوں نے اپنے نفس کی قربانی نہ دی جس کی وضاحت سورة الانبیاء میں پہلے گزر چکی ہے اور اپنی خواہش نفس کو ترجیح دی تو ان پر آبق کا نام لازم آگیا۔ فرشتہ کی جانب سے سختی اللہ تعالیٰ کے امر میں تھی اپنے ذاتی امر میں نہ تھی اللہ تعالیٰ کے حق کے متعلق تھی اپنے حق کے متعلق نہ تھی حضرت یونس (علیہ السلام) نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو درست بات تھی اس کو نہ پایا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے…
Read the full tafseer →وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ [اور ہم نے اگایا ان (علیہ السلام) پر ] شَجَرَةً [ایک پودا ] مِّنْ يَّقْطِيْنٍ [کدو کی بیل میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا
ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
قصہ ششم یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔
یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
59:۔ وارسلنہ الخ : حضرت یونس (علیہ السلام) کو جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا تھا اس کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ اَوْ بمعنی بَلْ ہے۔ قال الفراء او بمعنی بل (قرطبی۔ مدارک) ۔ فامنوا الخ، قوم یونس (علیہ السلام) نے آثار عذاب دیکھ کر توبہ کرلی تھی۔ اور وہ حضرت یونس (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے اس لیے اللہ نے ان کو عذاب سے بچا لیا۔ اور حین حیات میں انہیں دنیوی منافع سے متمتع ہونے کا موقع دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ربط آیات
پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط…
Read the full tafseer →وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْہِ شَجَرَۃً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ 146ۚ
نبت
النَّبْتُ والنَّبَاتُ : ما يخرج من الأرض من النَّامِيات، سواء کان له ساق کا لشجر، أو لم يكن له ساق کالنَّجْم، لکن اختَصَّ في التَّعارُف بما لا ساق له، بل قد اختصَّ عند العامَّة بما يأكله الحیوان، وعلی هذا قوله تعالی: لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] ومتی اعتبرت الحقائق فإنّه يستعمل في كلّ نام، نباتا کان، أو حيوانا، أو إنسانا، والإِنْبَاتُ يستعمل في كلّ ذلك . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً وَزَيْتُوناً وَنَخْلًا وَحَدائِقَ غُلْباً وَفاكِهَةً وَأَبًّا[ عبس/ 27- 31]
( ن ب ت ) النبت والنبات
۔ ہر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
فَنَبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَھُوَ سَقِیْمٌ۔ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ ۔ (الصآفات : 145، 146)
(پھر ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں اور وہ نڈھال تھا۔ اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔ )
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور
آخر مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا کی کسی ریتی پر حضرت یونس (علیہ السلام) کو اگل دیا۔ آپ چونکہ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے بالکل مضمحل اور نڈھال ہوگئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم پر بال تک نہ رہے تھے۔ ایسی کمزور حالت میں نہ زمین کی سختی آپ کے لیے قابل برداشت تھی اور نہ موسم کی شدت۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک بیلدار درخت آپ کے اوپر اگا دیا تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–149
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔
حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…
Read the full tafseer →146: وَاَنْچبَتْنَاعَلَیْہِ شَجَرَۃً (اور ہم نے ان پر ایک درخت بھی اگا دیا تھا) ان کے جسم کو سایہ دینے کیلئے وہ درخت اگا یا جیسا کہ انسان پر خیمہ تن دیا جائے۔ مِّنْ یَّقْطِیْنٍ (بیلدار) جمہور کا قول ہے کہ یہ کدو ہے۔ اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ مکھیاں اس پر جمع نہیں ہوتیں اور تمام درختوں اور بیلوں سب سے جلداگتا ہے اور جلد پھلتا اور بلندہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کدو کو پسند فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں ! یہ میرے بھائی یونس کا درخت ہے۔ (قال ابن حجر لم اجدہ)
Read the full tafseer →146، انبتنا علیہ، اس کے لیے اور بعض نے کہا اس کے پاس ، شجرۃ من یقطین، کدو کی بیل تمام مفسرین کے نزدیک ہے۔ حسن اور مقاتل کا بیان ہے کہ جس درخت کا تنانہ ہو اور اس کی بیل زمین پر پھیلتی ہو اور سردی کے زمانہ میں باقی نہ رہتا ہو، وہ یقطین ہے۔
مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) درخت کے سائے میں رہنے لگے۔ ایک پہاڑی بکری آپ کے پاس آجاتی تھی۔ آپ صبح وشام اس کا دودھ پیتے تھے۔ آخرجب گوشت میں کچھ سختی آگئی ، بال اگ آئے اور قوت بھی آگئے تو آپ سوگئے لیکن جب بیدار ہوئے تو درخت سوکھ چکا تھا، دھوپ کی تپش بدن پر لگی تو آپ کو درخت کے سوکھ جانے کا بڑاغم ہوا اور رونے لگے۔ اللہ نے جبرئیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–147
آیت 133
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔
(ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–146
کسی کو قتل وغیرہ پر قرعہ اندازی نہیں ہوسکتی
قول باری ہے (فساھم فکان من المدحضین۔ پھر وہ شریک قرعہ ہوئے اور وہ مجرم قرار پائے گئے) بعض جہلانے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی بیمار شخص اپنے غلاموں میں سے چند کو آزاد کرنے کا اعلان کردے تو آزادی کے لئے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی واجب ہوگی اور جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ آزادہوجائے گا۔
یہ استدلال معتدل کی غفلت اور جہالت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سمندر میں پھینکے جانے کے سلسلے میں شریک قرعہ ہوئے تھے، یہ صورت فقہاء میں سے کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے جس طرح ایسی قرعہ اندازی جائز نہیں کہ جس کے نام قتل کا قرعہ نکل…
Read the full tafseer →97 حضرت یونس کی حفاظت کے لیے قدرت کے خاص انتظام کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد حضرت یونس کی حفاظت کے لیے قدرت کی طرف سے خاص انتظام فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اگا دیا ان پر ایک بیلدار درخت "۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) اس کے زیر سایہ دھوپ کی تپش و تمازت اور مکھیوں وغیرہ کے ہجوم اور ان کے اثر و مضرت سے محفوظ رہ سکیں۔ بیلدار درخت، جس کے پتے بیل کی طرح کے ہوں۔ جیسے کہ کدو وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ اور اس کا تنا درخت کی طرح ہو تاکہ آپ (علیہ السلام) اس کے سائے سے صحیح طور پر استفادہ کرسکیں۔ سو یہ ایک خاص قسم کا درخت تھا جو آنجناب کے لئے پیدا فرمایا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
سیدنا یونس (علیہ السلام) کا کشتی میں بیٹھنا اور مچھلی کے پیٹ میں جانا
تشریح : سیدنا یونس (علیہ السلام) کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ مگر اس کا اندازذرا مختلف ہے۔ ہوا اس طرح کہ آپ کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ موصل کے علاقہ میں نینوا شہر میں آپ بھیجے گئے آپ نے سات سال تک لگا تار لوگوں کو سمجھایا مگر حسب معمول انہوں نے نافرمانی کی اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ ” اب تم پر عذاب آنے والا ہے “۔ آپ نے دعا کی آپ اللہ کی اجازت یا مرضی کے بغیر شہر سے نکلے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ آپ سے انجانے میں غلطی ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو اس کی سزا یوں دی گئی کہ کشتی ڈوبنے لگی جس پر یہ کہا گیا کہ کوئی غلام آقا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →ف 9” یقطین “ ہر ایسے درخت کو کہتے ہیں جو تنے پر کھڑا نہیں ہوتا۔ اس لئے اس سے کھر وغیرہ ہر چیز کی بیل مراد ہوسکتی ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” کہتے ہیں کہ وہ کدو کی بیل تھی “۔ ( موضح) بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس چٹیل میدان میں خرق عادت کے طور پر ایک بیل اگا دی جس کے پتوں سے ان پر سایہ بھی ہوتا رہا اور اس کے پھل غذا اور پانی کا کام بھی دیتے رہے۔ ( واللہ اعلم ) (شوکانی)
Read the full tafseer →(37:146) وانبتنا علیہ۔ ماضی جمع متکلم۔ انبات (افعال) مصدر سے ہم نے اگایا۔ علیہ اس پر۔ یعنی اس پر سایہ کرنے کیلئے ۔
من یقطین۔ من تبعیضیہ ہے۔ یقطین اسم جنس ہے۔ ایسی نباتات جس کا تنہ نہ ہو۔ مالا ساق لہ من النبات۔ بغوی نے حضرت حسن اور مقاتل کا قول بیان کیا ہے کہ جس درخت کا تنہ نہ ہو اور اس کی بیل زمین پر پھیلتی چلی جائے اور سردی کے زمانہ میں باقی نہ رہے۔ وہ یقطین ہے۔ جیسے کدو۔ کھیرا۔ ککڑی۔ خربوزے کی بیل اکثر علمائے تفسیر نے اس سے مراد کدو کی بیل ہی لیا ہے۔ گو بعج نے اس سے کیلے کا درخت یا انجیر کا درخت بھی مراد لیا ہے۔ یقطین بروزن یفعیل قطن سے ماخوذ ہے۔ قطن بالمکان۔ اس جگہ وہ اقامت پذیر ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت یونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ۔
(ف 2) حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہدایت کی جب ان کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبرسنائی اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے جب ان لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی دیکھے توجنگل میں جاکر بہت روئے اور گڑگڑائے اللہ نے ان کے حال پر رحم فرماکران سے عذاب نازل نہیں کیا، حضرت یونس کو معلوم ہوا کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اپنے دل میں سوچا کہ جس قوم کے نزدیک جھوٹا ٹھہرچکا ہوں اس قوم کی سرحد میں بھی ٹھہرنا مناسب نہیں، یہ سوچ کر آپ نے دریائی سفر کارادہ کیا کشتی پر سوار ہوئے کشی دریا میں چلنے لگی جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص…
Read the full tafseer →[33] بیل کے درخت سے مراد ہے کدو، ککڑی یا تربوز کا درخت تاکہ اس کے پتے یونس (علیہ السلام) پر سایہ بھی کریں اور اس کا پھل ان کے لئے غذا اور پانی کا کام دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ…
Read the full tafseer →(146) اور ہم نے اس پر ایک بیل دار درخت اگادیا۔ یعنی مچھلی نے ایک بن گھاس کے میدان میں ان کو اگل دیا اور چونکہ وہ بیمار مضمحل اور ناتواں تھے مچھلی کے پیٹ کی حدت نے اس کو اس قدر گھلا دیا تھا کہ ایک گوشت کا لوتھڑا معلوم ہوتے تھے وہاں ہم نے ان پر کدو کی بیل اگا دی اور وہ اس طرح ان پر چھا گئی کہ مکھی اور مچھر کے ضرر سے محفوظ رہے اور دھوپ سے ان کی حفاظت ہوئی پہاڑی بکری کو حکم دیا گیا جو صبح اور شام ان کو دودھ پلاجایا کرتی تھی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں وہ کدو کی بیل تھی۔
غرض چند روز میں ان کے جسم میں کھال اور بال وغیرہ جم آئے اور وہ تندرست و توانا ہوگئے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جب کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
ف 3۔ مطلب یہ کہ پیٹ سے نکلنا میسر نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →ہم نے اس کے لیے بیل دار پودے اگائے :
146۔ انسان جہاں بھی جائے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہر جگہ موجود ہیں ، یونس (علیہ السلام) بھی چلتے چلاتے جہاں قیام پذیر ہوئے وہاں خضردات ونباتات کی بہتات تھی اور یونس (علیہ السلام) کی خاطر اللہ نے ان چیزوں میں مزید اضافہ فرما دیا ۔ بقطین ہر قسم کی بیلوں کو کہا جاتا ہے جیسے کدو ‘ گھیا ‘ انگور ‘ داکھ ‘ کریلا ‘ پیٹھا ‘ خربوزہ ‘ تربوز اور ایسے پھلوں کو بھی کہا جاتا ہے جو سارا سال نہیں بلکہ اپنے اپنے موسموں میں ہوتے ہیں اور اکثر بیلیں اور موسمی پھل سردیوں کی بنسبت گرمیوں میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) جب نبوت سے قبل نینوی سے…
Read the full tafseer →Said next, it was: وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ (and We caused a tree of gourd to grow over him. - 146). The word: يَقْطِينٍ (yagtin) signifies every such tree that has no trunk. It appears in Hadith narrations that it was a gourd creeper. The purpose of having a tree grow there was to make the provision of shade for Sayyidna Yunus (علیہ السلام) . The word: شَجَرَةً (shajarah: tree) at this place serves as an indicator of two possibilities: Either Allah had made this very plant of gourd grow with a trunk by way of a miracle, or it was some other tree on which the creeping…
Read the full tafseer →83 The Arabic word yaqtin applies to a tree which does not stand on a stem but grows and spreads like a creeper, e.g. a pumpkin, cucumber, water-melon, etc. In any case, a creeper was produced miraculously, so that its leaves should provide shade to the Prophet Jonah and its fruit should serve him both as food and as shade.
Read the full tafseer →