Explained with ayahs 139–148
واقعہ حضرت یونس ؑ۔
حضرت یونس ؑ کا قصہ سورة یونس میں بیان ہوچکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ یہ نام ممکن ہے آپ کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہوگیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 82
یعنی جب حضرت یونس ؑ نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا اور وہ ایک بندہ مومن و قانت کی طرح اس کی تسبیح میں لگ گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔ ساحل ایک چٹیل میدان تھا جس میں کوئی روئیدگی نہ تھی، نہ کوئی ایسی چیز تھی جو حضرت یونس ؑ پر سایہ کرتی، نہ وہاں غذا کا کوئی سامان موجود تھا۔
اس مقام پر بہت سے عقلیت کے مدعی حضرات یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں جا کر کسی انسان کا زندہ نکل آنا غیر ممکن ہے۔ لیکن پچھلی ہی صدی کے اواخر میں اس نام نہاد عقلیت کے گڑھ (انگلستان) کے سواحل سے قریب ایک واقعہ پیش آ چکا ہے جو ان کے دعوے کی تردید کردیتا ہے۔ اگست 1891 ء…
Read the full tafseer →فَنَبَذْنٰهُ بالْعَرَاۗءِ وَهُوَ سَقِيْمٌ (پس ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت مضمحل تھے) العراء کے معنی ہیں کھلا میدان جس میں کوئی درخت نہ ہو۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوگئے تھے، اور جسم پر بال بھی باقی نہ رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
فنبذنہ بالعمرآء وھو سقم، وانبتنا علیہ شجرہ ۃ من یقطین (146-145)
اللہ تعالیٰ کے حکم سے بالآخر مچھلی نے دریا کی کسی ریتی پر ان کو اگل دیا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بالکل ہی مضمحل اور نڈھال ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہاں کدو کے قسم کے کسی بیل کا سامان کردیا جس کے سایہ نے ان کو دریا کے کنارے کی سخت دھوپ سے بچایا اور کچھ عرصہ کے بعد ان کے اوسان بجا ہوئے۔
Read the full tafseer →145۔ 1 جیسے ولادت کے وقت بچہ یا جانور کا چوزہ ہوتا ہے، کمزور اور ناتواں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
27: تسبیح پڑھنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ایک کھلے میدان کے کنارے لاکر ڈال دے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس وقت حضرت یونس ؑ بہت کمزور ہوچکے تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ ان کے جسم پر بال نہیں رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر ایک درخت اگایا، بعض روایات میں ہے کہ وہ کدو کا درخت تھا اس سے انہیں سایہ بھی حاصل ہوا، اور شاید اسکے پھل کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے علاج بھی بنادیا، نیز وہاں ایک بکری بھیج دی گئی، جس کا آپ دودھ پیتے رہے، یہاں تک کہ تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
7 مچھلی کو حکم ہوا اس نے حضرت یونس کو اپنے پیٹ سے نکال کر ایک میدان میں ڈال دیا غالباً کافی غذا و ہوا وغیرہ نہ پہنچنے کی وجہ سے بیمار اور نحیف ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ دھوپ کی شعاع اور مکھی وغیرہ کا بدن پر بیٹھنا بھی ناگوار ہوتا تھا۔ اللہ کی قدرت سے وہاں کدو کی بیل اگ آئی۔ اس کے پتوں نے ان کے جسم پر سایہ کرلیا اور اسی طرح قدرت خداوندی سے غذا وغیرہ کا سامان بھی ہوگیا۔
Read the full tafseer →آیت 145{ فَنَـبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ سَقِیْمٌ} ”تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا۔“
اس تسبیح اور استغفار آیت کریمہ کے ورد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس مصیبت سے نجات دی اور اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ علیہ السلام کو ساحل پر اگل دیا۔ لیکن مچھلی کے معدے میں رہنے اور اس کے معدے میں موجود انہضامی رطوبتوں digestive juices کے اثرات کے باعث آپ علیہ السلام کی حالت بہت خستہ سقیم ہوچکی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
85 مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا :۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ و استغفار کو قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل کے کنارے پر پھینک دے۔ چناچہ مچھلی نے جیسے آپ کو نگلا تھا ویسے ہی صحیح وسالم ایک چٹیل میدان کے قریب اگل دیا۔ آپ اس وقت سخت نحیف و ناتواں تھے۔ جلد بھی بہت نرم و نازک بن گئی تھی۔ اس وقت آپ کی وہی حالت تھی جیسے ایک بچہ کی ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →78۔ (شکم ماہی میں قید کے اثر سے) مچھلی نے جب بحکم خداوندی آپ کو ساحل پر اگل دیا تو آپ نے اپنے کو ایک چٹیل میدان میں پایا۔ عرآء سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی ایک بھی درخت اس میدان میں نہ ہو۔ توریت میں ہے :۔” اور خداوند نے مچھلی کو کہا، اور اس نے یوفاہ کو خشکی پر اگل دیا۔ (یوفاہ 30: 10) (آیت) ” سقیم “۔ پر مفصل حاشیہ ابھی نمبر 41 میں گزر چکا ہے۔ آپ شکم ماہی میں کتنی مدت رہے، اس کے جواب میں متعدد قول سلف سے نقل ہوئے ہیں، لیکن جیسا کہ امام رازی (رح) نے کہا ہے۔ کسی بھی مدت کی تعیین پر کوئی دلیل قائم نہیں۔ ولا ادری بای دلیل عینوا ھذہ المقادیر (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
آیت نمبر 139 تا 182
ترجمہ : بلاشبہ یونس (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے ہیں (اس وقت کو یاد کرو) جب (یونس علیہ السلام) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی قوم ناراض ہوئے، جب ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو کشتی پر سوار ہوگئے کشتی دریا کے بیچوں بیچ جاکر ٹھہرگئی، تو ملاحوں نے کہا کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کو قرعہ ظاہر کر دے گا، چناچہ کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو یہ قرعہ کے ذریعہ مغلوب ہوگئے، چناچہ ان کو دریا میں ڈال دیا، تو ان کو مچھلی نے نگل لیا، حال یہ کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے، یعنی اپنے رب کی اجازت کے بغیر دریا…
Read the full tafseer →فنبذنہ بالعرآء وھو سقیم پھر ہم نے ان کو (مچھلی کے پیٹ سے برآمد کر کے) ایک میدان میں ڈال دیا اور اس
وقت وہ بدحال تھے۔
فَنَبَذْنٰہُ یعنی مچھلی کو اگل دینے کا حکم دے دیا۔ العراء وہ جگہ جو درختوں وغیرہ سے خالی ہو۔ وھو سقیم یعنی بغیر پروں کے چوزے کی طرح تھے۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ آپ کا گوشت بسک گیا تھا ‘ ہڈیاں کمزور ہوگئی تھیں ‘ بدن میں قوت باقی نہیں رہی تھی۔
مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کتنی مدت رہے ‘ علمائ کے اقوال اس کے متعلق مختلف ہیں۔ بغوی نے بحوالۂ مقاتل بن حبان لکھا ہے کہ تین روز رہے۔ عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ عطا نے کہا : سات روز۔ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
(145۔ 146) پھر ہم نے ان کو نکال کر ایک میدان میں ڈال دیا اور وہ وقت کمزور اور لاغر تھے اور ان کا بدن بچہ کے بدن کی طرح نرم ہوگیا تھا اور ہم نے ان پر دھوپ سے حفاظت کے لیے ایک بیل دار درخت بھی اگایا۔
Read the full tafseer →فَنَبَذْنٰهُ بالْعَرَاۗءِ وَهُوَ سَقِيْمٌ : ”اَلْعَرَآءُ“ چٹیل میدان، جس میں کوئی درخت اور سائے کی چیز نہ ہو۔ مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انھیں سمندر سے باہر ایک چٹیل میدان میں اسی طرح صحیح سالم اگل دیا جس طرح نگلا تھا، مگر مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے ان کی جلد نہایت نرم و نازک ہوگئی تھی اور وہ اس وقت سخت کمزور اور بیمار تھے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے خاص احسان سے توبہ کی قبولیت کی وجہ سے ان کا مرتبہ پہلے سے بلند ہوچکا تھا۔ دیکھیے سورة قلم (49، 50) یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں کتنے دن رہے، تھوڑی دیر رہے یا تین دن یا سات دن یا چالیس دن، جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
145 ۔ 148:۔ ترمذی حکیم نے کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام آبق رکھا کیونکہ وہ عبودیت سے بھاگ تھے کیونکہ عبودیت کا مفہوم ہے خواہش نفس کو چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ کے امور کے موقع پر اپنی جان قربان کردینا۔ جب فرشتے کی جانب سے سختی ہوئی تو انہوں نے اپنے نفس کی قربانی نہ دی جس کی وضاحت سورة الانبیاء میں پہلے گزر چکی ہے اور اپنی خواہش نفس کو ترجیح دی تو ان پر آبق کا نام لازم آگیا۔ فرشتہ کی جانب سے سختی اللہ تعالیٰ کے امر میں تھی اپنے ذاتی امر میں نہ تھی اللہ تعالیٰ کے حق کے متعلق تھی اپنے حق کے متعلق نہ تھی حضرت یونس (علیہ السلام) نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو درست بات تھی اس کو نہ پایا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے…
Read the full tafseer →فَنَبَذْنٰهُ [پھر ہم نے پھینک دیا ان (علیہ السلام) کو ] بِالْعَرَاۗءِ [کھلے میدان میں ] وَهُوَ سَقِيْمٌ [اس حال میں کہ وہ بیمار تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا
ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
قصہ ششم یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔
یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
58:۔ فنبذناہ الخ، ہم نے اس کو ایک میدان میں ڈال دیا جہاں کوئی سایہ دار درخت نہ تھا۔ اس وقت وہ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے نحیف اور مضمحل تھے تو ہم نے اس پر ایک بیلدار درکت پیدا کردیا۔ جس میں وہ اپنے بدن کو لپیٹ کر مکھیوں سے محفوظ رہیں۔ یقطین ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو بےساق اور بیلدار ہو، کل شجرۃ لا تقوم علی ساق کالدباء والبطیخ والحنظل و نحول ذلک فھی عند العرب یقطین (ابن جریر) ۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس سے مراد لو کی ہے۔ الجمہور علی انہ القرع وفائدتہ ان الذباب لا یجتمع عندہ (مدارک ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ربط آیات
پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط…
Read the full tafseer →فَنَبَذْنٰہُ بِالْعَرَاۗءِ وَہُوَسَقِيْمٌ 145ۚ
نبذ
النَّبْذُ : إلقاء الشیء وطرحه لقلّة الاعتداد به، ولذلک يقال : نَبَذْتُهُ نَبْذَ النَّعْل الخَلِق، قال تعالی: لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ [ الهمزة/ 4] ، فَنَبَذُوهُ وَراءَ ظُهُورِهِمْ [ آل عمران/ 187] لقلّة اعتدادهم به، وقال : نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ [ البقرة/ 100] أي : طرحوه لقلّة اعتدادهم به، وقال : فَأَخَذْناهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْناهُمْ فِي الْيَمِ [ القصص/ 40] ، فَنَبَذْناهُ بِالْعَراءِ [ الصافات/ 145] ، لَنُبِذَ بِالْعَراءِ [ القلم/ 49] ، وقوله : فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] فمعناه : ألق إليهم السّلم، واستعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
وان یونس یہ چھٹا قصہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کا ہے جس کا مفصل بیان ہم سورة یونس میں کر آئے ہیں۔ یہ حضرت بھی بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ عبرانی میں ان کو یونہ کہتے ہیں۔ متی ان کے والد کا نام ہے۔ مسیح ( علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو باسٹھ برس آگے ان کو حکم ہوا کہ شہر نینوہ میں جاکر منادی کرے۔ انہوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ حلیم و غفار ہے جس عذاب کا میں ان سے وعدہ کروں گا، اس کے موافق شاید ان پر بلا نہ پہنچے، میں جھوٹا پڑوں اس لیے وہاں سے بھاگ کر شہر ترسیس کو چلے اور یافہ سے جو جہاز ترسیس جانے کو تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ راستہ میں سخت طوفان آیا، قرعہ ڈالا گیا کہ کس کے سبب سے یہ بلا آئی ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
فَنَبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَھُوَ سَقِیْمٌ۔ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ ۔ (الصآفات : 145، 146)
(پھر ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں اور وہ نڈھال تھا۔ اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔ )
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور
آخر مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا کی کسی ریتی پر حضرت یونس (علیہ السلام) کو اگل دیا۔ آپ چونکہ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے بالکل مضمحل اور نڈھال ہوگئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم پر بال تک نہ رہے تھے۔ ایسی کمزور حالت میں نہ زمین کی سختی آپ کے لیے قابل برداشت تھی اور نہ موسم کی شدت۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک بیلدار درخت آپ کے اوپر اگا دیا تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–149
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔
حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر…
Read the full tafseer →145: فَنَبذْنٰـہُ بِالْعَرَآ ئِ (پس ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا) پس ہم نے ان کو اس خالی جگہ میں ڈالا جس میں کوئی درخت نہ تھا اور نہ عمارت۔ وَھُوَ سَقِیْمٌ (اور وہ اس وقت مضمحل تھے) مچھلی کے نگلنے سے جو تکلیف ان کو پہنچی تھی اس سے بیمار تھے۔ روایت میں ہے کہ ان کا بدن مبارک بچے کی طرح نرم پڑچکا تھا جبکہ وہ پیدا ہو۔
Read the full tafseer →145، فنبذناہ، پس ہم نے ان کو ڈال دیا۔ ، بالعرائ، زمین پر۔ امام سدی (رح) نے کہا کہ ساحل پر ڈال دیا۔ عراء اس زمین کو کہتے ہیں جو درخت اور نباتات سے خالی ہو۔ ، وھو سقیم، چڑیا کے بچہ کی مانند ۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ آپ کا گوشت بسک گیا تھا ۔ ہڈیاں کمزور ہوگئیں ، بدن میں قوت باقی نہیں رہی تھی۔ اس بات میں اختلاف ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں کتنے عرصے رہے۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ تین روز وہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ عطاء کا قول ہے کہ سات روز۔ ضحاک کا قول ہے بیس دن۔ سدی ، کلبی و مقاتل بن سلیمان نے کہا کہ چالیس روز رہے۔ دفعبی کا قول ہے کہ چاشت کے وقت مچھلی نے نگلا تھا اور شام کو اگل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–147
آیت 133
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوط کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا، جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ (الا عجوزا فی الغبرین) سو اے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوط کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر تھی۔
(ثم دمرنا الاخرین) ” پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا : (آیت) ” ہم نے ان کی بستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–146
کسی کو قتل وغیرہ پر قرعہ اندازی نہیں ہوسکتی
قول باری ہے (فساھم فکان من المدحضین۔ پھر وہ شریک قرعہ ہوئے اور وہ مجرم قرار پائے گئے) بعض جہلانے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی بیمار شخص اپنے غلاموں میں سے چند کو آزاد کرنے کا اعلان کردے تو آزادی کے لئے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی واجب ہوگی اور جس کے نام قرعہ نکلے گا وہ آزادہوجائے گا۔
یہ استدلال معتدل کی غفلت اور جہالت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سمندر میں پھینکے جانے کے سلسلے میں شریک قرعہ ہوئے تھے، یہ صورت فقہاء میں سے کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے جس طرح ایسی قرعہ اندازی جائز نہیں کہ جس کے نام قتل کا قرعہ نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
96 تسبیح و استغفار موجب نجات وخلاص : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو انکو اس دن تک وہیں رہنا پڑتا جبکہ لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا "۔ یعنی قیامت کے دن تک کہ اس مچھلی کا پیٹ ہی آپ کے لئے قبر بن جاتا۔ اور جب نبیوں کا یہ حال ہے تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب طور پر کسی کی مشکل کشائی یا حاجت روائی کرسکے۔ سو معلوم ہوا کہ مشکل کشا وہی ہوسکتا ہے جو خود کبھی کسی مشکل میں نہ پھنسے۔ اور حاجت روا وہی ہوسکتا ہے جسے خود کبھی کوئی حاجت پیش نہ آئے۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ رب العزت ہی کی شان ہے۔ پس حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ جَلَّ جَلَالُہ وَعَزَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
سیدنا یونس (علیہ السلام) کا کشتی میں بیٹھنا اور مچھلی کے پیٹ میں جانا
تشریح : سیدنا یونس (علیہ السلام) کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ مگر اس کا اندازذرا مختلف ہے۔ ہوا اس طرح کہ آپ کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا۔ موصل کے علاقہ میں نینوا شہر میں آپ بھیجے گئے آپ نے سات سال تک لگا تار لوگوں کو سمجھایا مگر حسب معمول انہوں نے نافرمانی کی اس پر آپ نے لوگوں کو کہا کہ ” اب تم پر عذاب آنے والا ہے “۔ آپ نے دعا کی آپ اللہ کی اجازت یا مرضی کے بغیر شہر سے نکلے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ آپ سے انجانے میں غلطی ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو اس کی سزا یوں دی گئی کہ کشتی ڈوبنے لگی جس پر یہ کہا گیا کہ کوئی غلام آقا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–182
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 139 ۔ تا۔ 182:
اسرار و معارف :
ایک حال دنیا میں ایمان لانے والوں کی کامیابی کا یونس (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا مگر قوم نے نہ مانا اور یہاں تک تکلیف دی اور تنگ کیا کہ وہ ان سے الگ ہوگئے اور انہیں عذاب الہی کی پیشگوئی فرمائی ادھر وہ تشریف لے گئے ادھر قوم نے جب عذاب الہی کے آثار ان کی پیشگوئی کے مطابق دیکھے تو انہوں نے توبہ کرلی اور یونس (علیہ السلام) کی تلاش شروع کی عذاب ٹل گیا۔ یونس (علیہ السلام) اسی ناراضگی مٰں واپس نہ گئے یہ ان سے اجتہاداً خطا ہوئی کہ معاملہ ان کی ذات کا نہ تھا اللہ کے پیغام کا تھا جب انہوں نے مان لیا تو دوسرے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی ہم نے مچھلی کو حکم دیا اور اس نے ساحل پر پہنچ کر یونس کو ایک چٹیل میدان میں اگل دیا۔8 کہتے ہیں کہ وہ تھوڑی دیر یا ایک دن یا تین دن یا سات دن یا چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب مچھلی نے انہیں ساحل پر پہنچ کر اگلا تو وہ اس طرح نکلے جیسے مرغی کا چوزہ جس پر بال نہیں ہوتے۔ ( شوکانی) حضرت یونس ( علیہ السلام) کا مچھلی کے پیٹ میں جانا اور وہاں زند رہنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے بطور خرق عادت تھا۔
Read the full tafseer →(37:145) فنبذنہ۔ فاء تعقیب کا ہے یا یہ سببیہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی تسبیح کی وجہ سے ہم نے اسے میدان میں لا ڈالا۔ نبذنا۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ نبذ ینبذ (باب ضرب) نبذ مصدر سے ہم نے پھینک دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ہم نے اس کو ڈال دیا۔
عراء ۔ چٹیل میدان، جس میں گھاس یا درخت نہ ہو۔ کھلی جگہ جہاں کسی قسم کی اوٹ نہ ہو۔ بالکل خالی ہو۔ اس کی جمع اعراء ہے۔ ع ر و یا ع ر ی مادہ ہے۔ اسی سے باب سمع عری یعری عریۃ عری۔ (کپڑے سے) ننگا ہونا ہے۔ وھو سقیم۔ وائو حالیہ ہے۔ سقیم۔ سقم سے جس کے معنی بیمار ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی دکھی، بیمار۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
لغات القرآن آیت نمبر 139 تا 148 :۔ ابق (وہ بھاگا ، دوڑا) المحشون ( بھری ہوئی) ساھم (قرعہ ڈالا گیا) المدحضین ( دھکیلے گئے ، الزام لگائے گئے) التقم ( نگل لیا) الحوت ( مچھلی) العرائ (چٹیل میدان ، صاف میدان) سقیم ( بیمار) یقطین ( بیل دار پودا) مائۃ الف (ایک لاکھ) متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) حین (زمانہ ، مدت)
تشریح : آیت نمبر 139 تا 148 :۔ سورة الصافات میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت یونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ۔
(ف 2) حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہدایت کی جب ان کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبرسنائی اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے جب ان لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی دیکھے توجنگل میں جاکر بہت روئے اور گڑگڑائے اللہ نے ان کے حال پر رحم فرماکران سے عذاب نازل نہیں کیا، حضرت یونس کو معلوم ہوا کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اپنے دل میں سوچا کہ جس قوم کے نزدیک جھوٹا ٹھہرچکا ہوں اس قوم کی سرحد میں بھی ٹھہرنا مناسب نہیں، یہ سوچ کر آپ نے دریائی سفر کارادہ کیا کشتی پر سوار ہوئے کشی دریا میں چلنے لگی جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–145
[32] کہ خطائے اجتہادی سے حکم الٰہی کا انتظار کئے بغیر بستی سے نکل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–148
ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ…
Read the full tafseer →(145) آخر کار ہم نے اس کو ایک چٹیل اور پٹ پڑ میدان میں ڈال دیا اور اس کی حالت یہ تھی کہ وہ مضمحل اور ناتواں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
ف 3۔ مطلب یہ کہ پیٹ سے نکلنا میسر نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →پس ہم نے اس کو ایک کھلے میدان میں لا ڈالا ‘ اس حال میں کہ وہ سقیم تھا :
145۔ یہ حالت اس کشتی کے اترنے کی بیان کی جارہی ہے کہ انجام کار کشتی کنارے لگ اور لوگ اپنی اپنی منزل کو چلے گئے اور اس کھلے میدان میں اس اللہ کے ایک بندے کے سوا کوئی بھی نہ رہا اور اسی حالت کے پیش نظر ڈال دینا یا پھینکنا کے الفاظ استعمال ہوئے کیونکہ وہ سارے لوگوں سے الگ تھلگ ہوگیا جہاں اس کا کوئی بھی پرسان حال نہ رہا تھا اور ایسے حالات میں اس کے لیے وہ حالت نہایت دکھ دہ تھی کہ رات بھی اور اکیلا پن بھی اور دریا کا کنارہ بھی پھر اس سے زیادہ تکلیف کی حالت انسان کے لیے اور کون سی ہو سکتی ہے اس لیے اس کو سقیم کہا گیا ۔
Read the full tafseer →In verse 145, it was said: فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ (Then We cast him ashore in the open while he was ill.) The word: اَلعراء (al-'ara) used in the text means an open land with no trees. Some narrations tell us that, at that time, Sayyidna Yunus (علیہ السلام) had become very weak because of having remained confined within the belly of the fish and that he had no hair left on his body.
Read the full tafseer →82 That is, "When the Prophet Jonah confessed his fault, and began to glorify AIlah like a true and sincere believer, the fish spat him up on the beach by Allah's Command. The beach was a bare plain, without any vegetation on it, or anything to provide him shade, or any means of food." . Here, the rationalists have been heard expressing the misgiving that it is impossible for a tnan to come out alive from the belly of a fish. But, towards the end of the last century, an event took place near the sea-shores of England (the centre of this so-called rationalism), which belies this claim. In…
Read the full tafseer →