As-Saaffaat 37:13

As-Saaffaat · from ayah 13

37:13

وَاِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ ۪۟وَاِذَا ذُكِّرُوۡا لَا يَذۡكُرُوۡنَ

اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they are reminded, they remember not.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:13

سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت مانتے نہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور سمجھائے نہیں سمجھتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب انھیں نصیحت کی جائے وہ قبول نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب سمجھایا جائے تو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو یاد دہانی کی جاتی ہے تو وہ دھیان نہیں کرتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ قبول نہیں کرتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب انہیں سمجھایا جاتا ہے تو یہ سمجھتے نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and when they are admonished, they pay no heed;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when any advice is given to them, they pay no heed to it.

— Muhammad Taqi Usmani

And when any advice is given to them, they pay no heed to it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they are reminded, they pay no attention.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they are reminded, they remember not.

— Saheeh International

They pay no attention when they are reminded

— Muhammad Sarwar

And when they are reminded, they mind not,

— Muhammad Habib Shakir

And when they are admonished, they receive not admcnition.

— Abdul Majid Daryabadi

And, when they are admonished, pay no heed,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–19

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–14

سورة الصّٰٓفّٰت 8 یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بیشمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–13

(آیت) بل عجبت ویسخرون، و اذا ذکروا لا یذکرون، یعنی آپ کو تو ان لوگوں پر یہ تعجب ہوتا ہے کہ کیسے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود یہ لوگ نہیں مان رہے، لیکن یہ الٹا آپ کے دلائل و عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں، اور انہیں کتنا ہی سمجھا لو سمجھ کر نہیں دیتے، رہے نقلی دلائل، سو اس کے بارے میں ان کا ردعمل یہ ہے کہ

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واذا ذکروا لایذکرون (13) یہ اس بعد ذہنی کا لازمی بیان ہوا ہے کہ جب ان کے سوچنے کا انداز اتنا مختلف ہے کہ جو چیز تمہارے نزدیک بدیہی ہے وہ ان کے نزدیک ایک مذاق ہے تو تمہاری ساری تذکیر و تنبیہ ان کے لئے بالکل بےسود ہے۔ ان کو جو نصیحت بھی کی جاتی ہے وہ سب ہوا میں اڑ جاتی ہے کوئی دلیل بھی ان پر کارگر نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–15

15۔ 1 یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو مذاق کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–15

4 یعنی نصیحت سن کر غور و فکر نہیں کرتے اور جو معجزات و نشانات دیکھتے ہیں انہیں جادو کہہ کر ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13{ وَاِذَا ذُکِّرُوْا لَا یَذْکُرُوْنَ } ”اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8 یعنی آپ کو اللہ کے ایسے عظیم تخلیقی کارنامے سن کر تعجب ہوتا ہے مگر یہ لوگ نہایت بےفکری اور لاپروائی سے ایسی محیرا لعقول نشانیوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں یا آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کس قدر بےحس اور ناانصاف لوگ ہیں کہ اللہ کی ایسی واضح قدرتیں بھی ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–15

8۔ مطلب یہ ہوا کہ امکان بعث پر جب ان کے سامنے تقریر کی جاتی ہے۔ اور دلائل عقلی قائم کئے جاتے ہیں۔ تو یہ لوگ تکذیب اور کٹ حجتی پر تل جاتے ہیں، اور جب اثبات نبوت کے لئے کوئی معجزہ انکے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تو اس پر مشق تمسخر کرنے لگتے ہیں۔ (آیت) ” ایۃ “۔ ایسا خاص واقعہ جس سے اثبات رسالت ہوتا ہے۔ (آیت) ” قالوا ...... مبین “۔ یعنی قرآن کے اعجازی اثر، نیز رسول کے ہر معجزہ کی تاویل یہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ یہ تو اثر سحر کا ہے۔ قرآن مجید کی شدید اثر اندازی تو ایک حسی اور بدیہی واقعہ ہے۔ اس سے انکار تو ان منکروں سے بھی نہیں بن پڑتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کی بودی سی بودی توجیہ یہ کمزور سے کمزور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا ذکروا الا یذکرون اور جب قرآن کے ذریعہ سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت پذیر نہیں ہوتے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب صحت حشر کی دلائل ان کے سامنے بیان کی جاتی ہیں تو اپنی حماقت اور قلت تدبر کی وجہ سے ان دلائل سے فائدہ اندوز نہیں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–15

(13۔ 14) اور جب ان کو قرآن حکیم کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے تو نہیں سمجھتے اور جب یہ مکہ والے کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ انشقاق قمر اور کسوف شمس تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ محمد جو ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ تو صاف جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

بَلْ عَجِبْتَ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہاں ”بَلْ“ لانے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ”فَاسْتَفْتِهِمْ“ (ان سے پوچھ) کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کرچکے ؟ جواب اس کا اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ یقیناً وہ سب کچھ انسان کے دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں بیان فرمایا ہے۔ چناچہ اس سوال کا مقصد انھیں لاجواب کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اتنے واضح دلائل کے باوجود یہ لوگ قیامت سے انکار کیوں کرتے ہیں، یہ بات انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی، بلکہ اے نبی یا اے مخاطب ! اس پر تجھے تعجب ہوتا ہے اور تعجب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–17

یعنی اہل مکہ سے پوچھیئے۔ یہ مفتی سے فتوی طلب کرنے سے ماخوذ ہے ام من خلقنا سے مراد آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور سمندر ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں فرشتے اور سابقہ امتیں داخل ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اسے من کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سعد بن جبیر نے کہا : اس سے مراد فرشتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : سے مراد سابقہ امتیں ہیں (3) جو ہلاک ہو چکیں وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ آیت اشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اسے ابوارشد اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کی پلڑ اور قوت بہت زیادہ تھی اس کا ذکر سورة البلد میں آئیگا اس کی مثل یہ آیت ہے : لخلق السموت والارض لازب من خلق الناس) مومن (57: اور اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا ذُكِّرُوْا [اور جب کبھی ان کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے ] لَا يَذْكُرُوْنَ [تو وہ لوگ یاد نہیں کرتے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَاِِذَا ذُکِّرُوْا لاَ یَذْکُرُوْنَ ) (اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے تو نہیں سمجھتے) دلائل عقلی ان کے سامنے لائے جاتے ہیں تو ان سے بھی منتفع نہیں ہوتے

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ و اذا ذکروا الخ :۔ اور ان کی عات ہی یہی ہے کہ جب کوئی نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ واذا راو ایۃ یستسخرون۔ اور جب کوئی معجزہ دیکھ لیتے ہیں تو ماننے کے بجائے ازراہ استہزاء و تمسخر اسے جادو وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا ذُكِّرُوْا لَا يَذْكُرُوْنَ۝ 13۠ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ ذكر (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–15

وَاِذَاذُکِّرُوْا لاَ یَذْکُرُوْنَ ۔ وَاَذَا رَاَوْا اٰیـَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الصآفات : 13 تا 15) (اور جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ ) بدذوقی کے نتائج جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول کرنے اور بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کا ذہنی سانچہ اس حد تک تبدیل ہوچکا ہے کہ وہ کسی صحیح بات کو قبول نہیں کرتا اور کوئی اچھی بات اس میں اترنے نہیں پاتی۔ کیونکہ افکار، ذہنی تربیت، صحیح ماحول اور امیال و عواطف، ذہنی ساخت کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–18

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: وَاِذَا ذُکِّرُوْا لَا یَذْکُرُوْنَ (اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے یہ سمجھتے نہیں) ان کی عادت یہ ہے کہ جب ان کو کسی چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13، واذا کر والا یذکرون، جب ان کو قرآن کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس سے نصیحت حاصل کرے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–13

8 انسان کی خود اپنی تخلیق میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے اپنے مادئہ تخلیق اور مراحل تکمیل میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے انکو پیدا کیا ایک چپکتے ہوئے ۔ لیسدار۔ گارے سے "۔ اسی لئے انسان میں چپکنے اور لپٹنے کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔ خواہ حق سے ہو یا باطل سے۔ تو جب اس بےجان اور حقیر مٹی سے ہم ایسا انسان عدم سے وجود میں لاسکتے ہیں تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو ان سے پوچھو کہ کیا آسمان و زمین، دریاؤں، پہاڑوں اور سورج و چاند جیسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مرنے کے بعد زندہ ہونا تشریحـ: جیسا کہ پہلے بھی مر کر زندہ ہونے اور حساب کتاب کا ذکر کئی دفعہ ہوچکا ہے یہاں اللہ کے بہترین نظام اور قادر مطلق ہونے کے حوالے سے پھر اس بات کو دہرایا گیا ہے۔ جو لوگ اتنے احمق ہیں کہ صاف دیکھ کر سن کر کسی صورت بھی اللہ و رسول پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو وہ بھلا اتنی مشکل بات کو کیسے سمجھ اور مان سکتے ہیں لہٰذا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے غصہ سے فرما دیا کہ کہہ دو کہ ” ہاں “ اور یہ بھی کہ ” تم ذلیل حالت میں اٹھائے جاؤ گے “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–18

ف 6 یا ” ًتم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں) بےبس اور حقیر ہو۔ جیسے فرمایا : ( وکل اتوہ واخرین) اور سب اس کے حضور بےبس ہو کر حاضر ہوں گے۔ ( نمل : 87)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:13) ذکروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب ماضی بمعنی حال۔ ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اور جب ان کو نصیحت کی جائے تو یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے۔ یعنی جب نصیحت کی باتیں سنائی جاتی ہیں اور دلائل عقلیہ سمجھائے جاتے ہیں تو یہ سنتے اور سمجھتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–17

ف 6۔ واقع میں یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ 7۔ غرض جب مخلوقات قویہ صلبہ کے ابتداء خلق پر ہم قادر ہیں تو مخلوق ضعیف کے اعادہ پر قدرت کیوں نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو ان کو قبول نہیں کرتے : 13۔ ایسے شپرہ چشم ہیں کہ اندھیرے کی طرف قدم اٹھاتے ہیں اور روشنی کی طرف دیکھنے کا نام نہیں لیتے بلکہ اس سے دور بھاگتے ہیں اور جو بھی ان کو نصیحت کرتا ہے تو اس کی نصیحت کو نصیحت ماننے سے انکاری ہیں پھر اس سے کیونکر وہ نصیحت حاصل کریں گے یہ وہی ہیں جو چلتی کا نام گاڑی رکھتے ہیں اور پھر مل کر اتنا زور سے اس کا گاڑی ‘ گاڑی کہتے ہیں کہ دوسرے خود بخود اس کا گاڑی کہنا شروع کردیتے ہیں اور اسی اکثریت کے بل بوتے پر وہ اپنی گاڑی ہانکے چلے جا رہے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

As for the reaction of disbelievers on rational proofs, it was said: بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُ‌ونَ وَإِذَا ذُكِّرُ‌وا لَا يَذْكُرُ‌ونَ (But you wonder [ at their denial ], and they mock [ at the idea of an Hereafter ]. And when any advice is given to them, they pay no heed to it. – 12-13). Given here first is the stance of the Holy Prophet ﷺ who wonders as to how could these people, after having such clear proofs before them, still remain reluctant to accept the truth while these people, on the contrary, indulge in making fun of the proofs and beliefs presented by him before them. In fact, no…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

8 This is an answer to the suspicions of the disbelievers of Makkah, which they presented about the Hereafter. They thought that the Hereafter was not possible, for it is impossible that the dead men should be recreated. In answer to it, Allah presents arguments for the possibility of the Hereafter and asks: "If you think that the recreation of the dead men is a very difficult task which We do not have the power to accomplish, do you think it is easy to create the earth and the heavens and the countless things that they contain? Why don't you use your common sense ? Do you think that God for…

Read the full tafseer →