As-Saaffaat 37:14

As-Saaffaat · from ayah 14

37:14

وَاِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ۪۟وَاِذَا رَاَوۡا اٰيَةً يَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they see a sign, they ridicule

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:14

کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو خوب مذاق اڑاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو یہ (اس سے سبق لینے کی بجائے) اس کا مذاق اڑاتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب کوئی نشان دیکھ لیتے ہیں تو اس کی ہنسی اڑاتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیـں تو ٹھٹھے کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and if they see any Sign, they laugh it away

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when they see a sign, they make fun of it,

— Muhammad Taqi Usmani

And when they see a sign, they make fun of it,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they see an Ayah (a sign) from Allah, they mock at it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And seek to scoff when they behold a portent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they see a sign, they ridicule

— Saheeh International

and when they see a miracle, they mock

— Muhammad Sarwar

And when they see a sign they incite one another to scoff,

— Muhammad Habib Shakir

And when they behold a sign, they turn to scoffing.

— Abdul Majid Daryabadi

And, when they see a Sign, turn it to mockery,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–19

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–14

سورة الصّٰٓفّٰت 8 یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بیشمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) واذاراوا آیة یستسخرون، الخ، یعنی جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جو آپ کی نبوت اور بالآخر عقیدہ آخرت پر دلالت کرتا ہے، تو یہ اسے بھی ٹھٹھوں میں اڑا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ اور اس سارے تمسخر و استہزاء کی ان کے پاس ایک ہی دلیل ہے اور وہ یہ کہ(آیت) ءاذا متنا وکنا تراباً وعظاماً انا لمبعوثون او آباؤنا الاولون، یعنی یہ بات ہمارے تصور میں نہیں آتی کہ ہم یا ہمارے آباء و اجداد خاک ہوجانے اور ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ کردیئے جائیں گے ؟ اس لئے ہم نہ کوئی عقلی دلیل مانتے ہیں اور نہ کسی معجزے وغیرہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ باری تعالیٰ نے اس کے جواب میں صرف ایک جملہ آخر میں ارشاد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–15

واذا رادایۃ یستخرون وقالوآ ان ھذا الا سحرمبین (17-14) فرمایا کہ اس طرح کے لوگ کسی بڑے سے بڑے معجزہ سے بھی قائل نہیں ہوتے۔ زچ کرنے کے لئے اس کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن جب کوئی نشانی ان کے سامنے آتی ہے تو اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–15

15۔ 1 یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو مذاق کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–15

4 یعنی نصیحت سن کر غور و فکر نہیں کرتے اور جو معجزات و نشانات دیکھتے ہیں انہیں جادو کہہ کر ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ وَاِذَا رَاَوْا اٰیَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ } ”اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8 یعنی آپ کو اللہ کے ایسے عظیم تخلیقی کارنامے سن کر تعجب ہوتا ہے مگر یہ لوگ نہایت بےفکری اور لاپروائی سے ایسی محیرا لعقول نشانیوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں یا آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کس قدر بےحس اور ناانصاف لوگ ہیں کہ اللہ کی ایسی واضح قدرتیں بھی ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–15

8۔ مطلب یہ ہوا کہ امکان بعث پر جب ان کے سامنے تقریر کی جاتی ہے۔ اور دلائل عقلی قائم کئے جاتے ہیں۔ تو یہ لوگ تکذیب اور کٹ حجتی پر تل جاتے ہیں، اور جب اثبات نبوت کے لئے کوئی معجزہ انکے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تو اس پر مشق تمسخر کرنے لگتے ہیں۔ (آیت) ” ایۃ “۔ ایسا خاص واقعہ جس سے اثبات رسالت ہوتا ہے۔ (آیت) ” قالوا ...... مبین “۔ یعنی قرآن کے اعجازی اثر، نیز رسول کے ہر معجزہ کی تاویل یہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ یہ تو اثر سحر کا ہے۔ قرآن مجید کی شدید اثر اندازی تو ایک حسی اور بدیہی واقعہ ہے۔ اس سے انکار تو ان منکروں سے بھی نہیں بن پڑتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کی بودی سی بودی توجیہ یہ کمزور سے کمزور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا راوا ایۃً یستسخرون اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو بہت زیادہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایک دوسرے کو مذاق اڑانے کیلئے بلاتا ہے۔ آیت سے مراد ہے وہ معجزہ جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل نے فرمایا : اس سے مراد شق القمر کا معجزہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–15

(13۔ 14) اور جب ان کو قرآن حکیم کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے تو نہیں سمجھتے اور جب یہ مکہ والے کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جیسا کہ انشقاق قمر اور کسوف شمس تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ محمد جو ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ تو صاف جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ : ”سَخِرَ یَسْخَرُ“ (س) مذاق اڑانا اور ”اِسْتَسْخَرَ“ (استفعال) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ میں لفظ ”خوب“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں، مثلاً چاند کا پھٹنا یا آپ کا راتوں رات مسجد اقصیٰ تک سیر کر کے آجانا اور اس کے متعلق ان کے ہر سوال کا درست جواب دینا وغیرہ، تو ایمان لانے کے بجائے خوب مذاق اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–17

یعنی اہل مکہ سے پوچھیئے۔ یہ مفتی سے فتوی طلب کرنے سے ماخوذ ہے ام من خلقنا سے مراد آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور سمندر ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں فرشتے اور سابقہ امتیں داخل ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اسے من کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سعد بن جبیر نے کہا : اس سے مراد فرشتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : سے مراد سابقہ امتیں ہیں (3) جو ہلاک ہو چکیں وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ آیت اشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اسے ابوارشد اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کی پلڑ اور قوت بہت زیادہ تھی اس کا ذکر سورة البلد میں آئیگا اس کی مثل یہ آیت ہے : لخلق السموت والارض لازب من خلق الناس) مومن (57: اور اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا رَاَوْا [اور جب کبھی وہ دیکھتے ہیں ] اٰيَةً [کوئی نشانی ] يَّسْتَسْخِرُوْنَ [تو مذاق اڑاتے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَاِِذَا رَاَوْا اٰیَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ) اور جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں۔ جو آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لیے ان کی نظروں کے سامنے آتا ہے تو اس کا مذاق اڑا دیتے ہیں

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–15

8:۔ وقالوا الخ :۔ یہ شکوی ہے اور ان معاندین کے استہزاء کی تفسیر ہے وہ معجزات کو جادو قرر دیتے ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے کا محض ظن وتخمین سے انکار کرتے ہیں۔ قل نعم الخ :۔ یہ جواب شکوی ہے مع تخویف اخروی۔ ہاں، ہاں ! تم ضرور دوبارہ زندہ کر کے خدا کے سامنے ذلت ورسوائی کے ساتھ پیش کیے جاؤ گے۔ فانماھی زجرۃ واحدۃ، الخ، انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کونسا مشکل ہوگا۔ بس ایک ہولناک آواز ہوگی اور سب لوگ زندہ ہو کر کھڑے ہوں گے اور قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ گے۔ زجرۃ واحدۃ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے والمراد بھا النفخۃ الثانیۃ فی الصور (روح ج 23 ص 79) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا رَاَوْا اٰيَۃً يَّسْتَسْخِرُوْنَ۝ 14۠ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–15

وَاِذَاذُکِّرُوْا لاَ یَذْکُرُوْنَ ۔ وَاَذَا رَاَوْا اٰیـَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الصآفات : 13 تا 15) (اور جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ ) بدذوقی کے نتائج جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول کرنے اور بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کا ذہنی سانچہ اس حد تک تبدیل ہوچکا ہے کہ وہ کسی صحیح بات کو قبول نہیں کرتا اور کوئی اچھی بات اس میں اترنے نہیں پاتی۔ کیونکہ افکار، ذہنی تربیت، صحیح ماحول اور امیال و عواطف، ذہنی ساخت کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–18

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: وَاِذَا رَاَوْاٰیَۃً (اور جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں) آیت سے مراد معجزئہ انشقاق قمر وغیرہ۔ یَّسْتَسْخِرُوْنَ (تو اس کی وہ ہنسی اڑاتے ہیں) وہ ایک دوسرے کو تمسخر کیلئے بلاتے ہیں۔ یا تمسخر میں مبالغہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14، واذا رأوا آیۃ ، ابن عباس اور مقاتل کے نزدیک اس سے مراد انشقاق قمر ہے۔ ، یستسخرون، وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کو مذاق اڑانے کیلئے بلاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–16

9 غفلت و لاپرواہی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : اور انسان کی غفلت و لاپرواہی کا ایک نمونہ، نشانی حق کا مذاق اڑانا ہے جو کہ باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسکا مذاق اڑاتے ہیں "۔ یعنی کوئی ایسا معجزہ جس سے حق پوری طرح واضح ہوجائے۔ جیسے معجزئہ شق القمر اور شجر و حجر کا کلام کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن، صفوہ وغیرہ) ۔ سو جب ان کی بےفکری، بےحسی اور لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ یہ معجزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد سبق لینے اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی بجائے الٹا اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو ان میں حق و ہدایت اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مرنے کے بعد زندہ ہونا تشریحـ: جیسا کہ پہلے بھی مر کر زندہ ہونے اور حساب کتاب کا ذکر کئی دفعہ ہوچکا ہے یہاں اللہ کے بہترین نظام اور قادر مطلق ہونے کے حوالے سے پھر اس بات کو دہرایا گیا ہے۔ جو لوگ اتنے احمق ہیں کہ صاف دیکھ کر سن کر کسی صورت بھی اللہ و رسول پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو وہ بھلا اتنی مشکل بات کو کیسے سمجھ اور مان سکتے ہیں لہٰذا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے غصہ سے فرما دیا کہ کہہ دو کہ ” ہاں “ اور یہ بھی کہ ” تم ذلیل حالت میں اٹھائے جاؤ گے “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–18

ف 6 یا ” ًتم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں) بےبس اور حقیر ہو۔ جیسے فرمایا : ( وکل اتوہ واخرین) اور سب اس کے حضور بےبس ہو کر حاضر ہوں گے۔ ( نمل : 87)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:14) ایۃ۔ نشانی ۔ دلیل۔ معجزہ، حکم خداوندی۔ آیت، یعنی جب اثبات رسالت کے متعلق ان کو جو معجزہ دکھایا جاتا ہے یا دلیل دی جاتی ہے اس کو یہاں ایۃ کہا گیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد شق القمر کا معجزہ ہے۔ یستسخرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استسخار (استفعال) مصدر سے وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ باب استفعال یا مبالغہ کے لئے آیا ہے ای یبالغون فی السخریۃ ویقولون انہ سحر (مذاق اڑانے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے ) یا طلب مادہ کے لئے ہے ای یطلب بعضہم من بعض ان یسخر منھا ایک دوسرے کو اس معجزہ کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے ہیں :۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–26

ختم نبوت پر ایک دلیل 1: اصل میں حضور ﷺ کی نبوت کے معنے یہ ہیں کہ وہ انسانوں کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے اور آپ کے سوا جس قدر امکانات وحی اور انکشاف کے ہوسکتے تھے ۔ اللہ نے ان کے تمام دروازوں کو مسدود کردیا ہے ۔ اب کسی شخص کہ یہ قوت نہیں ۔ کہ وہ ملا (اعلیٰ سے) احکام وتعلیمات حاصل کرسکے ۔ اور ان سے فیوض و انوار کو چھین سکے ۔ اسلام سے قبل یہ ہوتا تھا کہ انبیاء کے علاوہ جو کاہنوں کے گروہ تھے ۔ وہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں کرتے تھے ۔ اور ان کا ذریعہ معلومات یہ تھا کہ جنات فرشتوں کی سرگوشیاں سن لیتے تھے ۔ اور اس میں کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر ان کو بتا دیتے تھے ۔ جب حضور تشریف لائے تو اس وقت بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اور جب کوئی نشان اور معجزہ دیکھتے ہیں تو اور زیادہ ہنسی اڑاتے ہیں۔ یعنی ثبوت نبوت کی غرض سے کوئی ایسا معجزہ ان کو دکھایا جاتا ہے جس سے دوبارہ بعثت پر دلیل قائم کی جاسکے تو مزید ہنسی اڑاتے اور دل لگی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–17

ف 6۔ واقع میں یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ 7۔ غرض جب مخلوقات قویہ صلبہ کے ابتداء خلق پر ہم قادر ہیں تو مخلوق ضعیف کے اعادہ پر قدرت کیوں نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں : 14۔ یہ کائنات نشانات سے بھری پڑی ہے اور ان کی جب بھی کسی نشانی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو یہ لوگ توجہ دلانے والے کو بھی اور اس نشانی کو بھی اپنے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں اگر آپ کو معلوم کرنا ہو کہ وہ اللہ کی آیات کو نشانہ کس طرح بناتے ہیں اور ان کو نشانی ماننے سے کیسے انکاری ہیں تو زیر نظر جلد میں سورة الروم کی آیات 20 تا 27 کا مطالعہ کریں اور مرضی کی تفسیر کو دیکھیں ، قرآن کریم جو فی نفسہ نشانی ہی نشانی ہے بلکہ اتنا بڑا نشان ہے کہ اتنا بڑا نشان کسی نبی ورسول کو بھی نہ دیا گیا تو اس کو انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہو ابتایا پھر جب ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

As for reported proofs, their reaction is: وَإِذَا رَ‌أَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُ‌ونَ (And when they see a sign, they make a fun of it - 37:14). It means if they see a miracle that confirms the veracity of his prophethood, and the belief in 'Akhirah ultimately, they ridicule even something so serious and dismiss it by saying that it was nothing but clear magic. Why would they so scoff and jeer? Did they have some basis, some argument in support? They did and it was: أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ (Is it when we have died and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

8 This is an answer to the suspicions of the disbelievers of Makkah, which they presented about the Hereafter. They thought that the Hereafter was not possible, for it is impossible that the dead men should be recreated. In answer to it, Allah presents arguments for the possibility of the Hereafter and asks: "If you think that the recreation of the dead men is a very difficult task which We do not have the power to accomplish, do you think it is easy to create the earth and the heavens and the countless things that they contain? Why don't you use your common sense ? Do you think that God for…

Read the full tafseer →