As-Saaffaat 37:12

As-Saaffaat · from ayah 12

37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ ۪۟بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُوۡنَ

ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But you wonder, while they mock,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:12

تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ تو تعجب کر رہا ہے اور یہ مسخرا پن کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) حقیقت تو یہ ہے کہ تم (ان کی باتوں پر) تعجب کرتے ہو، اور یہ ہنسی اڑاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ تمہیں اچنبھا آیا اور وہ ہنسی کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ آپ تعجب فرماتے ہیں اور وہ مذاق اڑاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ تو نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کو تو (اللہ کی ایسی قدرتوں پر) تعجب ہے اور یہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ تم تعج کر رہے ہو اور یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ تو تعجب ہی کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ (اے نبی ﷺ !) آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں آپ تو تعجب کرتے ہیں اور وہ تمسخر کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You marvel (at the wondrous creations of Allah) and they scoff at it,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But you wonder (at their denial), and they mock (at the idea of an Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani

But you wonder (at their denial), and they mock (at the idea of an Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, you wondered while they mock.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but thou dost marvel when they mock

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But you wonder, while they mock,

— Saheeh International

(Muhammad), you will be surprised that they still mock (God's revelations).

— Muhammad Sarwar

Nay! you wonder while they mock,

— Muhammad Habib Shakir

Aye! thou marvellest, and they scoff.

— Abdul Majid Daryabadi

Truly dost thou marvel, while they ridicule,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–19

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–14

سورة الصّٰٓفّٰت 8 یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بیشمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–13

(آیت) بل عجبت ویسخرون، و اذا ذکروا لا یذکرون، یعنی آپ کو تو ان لوگوں پر یہ تعجب ہوتا ہے کہ کیسے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود یہ لوگ نہیں مان رہے، لیکن یہ الٹا آپ کے دلائل و عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں، اور انہیں کتنا ہی سمجھا لو سمجھ کر نہیں دیتے، رہے نقلی دلائل، سو اس کے بارے میں ان کا ردعمل یہ ہے کہ

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بل عجبت ویسخرون (12) متکلم اور منا میں بعداد المشرقین یعنی تمہارے لئے ان کا انکار تعجب انگیز ہے اور ان کے لئے تمہارا یہ دعویٰ وجہ تمسخر ہے۔ تم حیران ہو رہے ہو کہ بھلائی کو عاقل ایسی واضح حقیقت کو کس طرح جھٹلا سکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ مذاق اڑا رہے ہیں کہ کوئی شخص عقل و ہوش رکھتے ہوئے اس طرح کی بات کس طرح کہہ سکتا ہے ! مطلب یہ ہے کہ تمہایر اور ان کے درمیان بع دالمشرقین ہے اور تم ان کی اس دوری کا صحیح اندازہ نہیں کر رہے ہو اس وجہ سے ان کا رویہ تمہارے لئے وجہ پریشانی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی آپ کو تو منکرین آخرت کے انکار پر تعجب ہو رہا ہے کہ اس کے امکان بلکہ وضاحت کے اتنے واضح دلائل کے باوجود وہ اسے مان کر نہیں دے رہے اور وہ آپ کے دعوائے قیامت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ کیوں کر ممکن ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی تجھ کو ان پر تعجب آتا ہے کہ ایسی صاف باتیں کیوں نہیں سمجھتے اور وہ ٹھٹھا کرتے ہیں کہ یہ (نبی) کس قسم کی بےسروپا باتیں کر رہا ہے۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ } ”بلکہ اے نبی ﷺ ! آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں !“ آپ ﷺ کو بجا طور پر ان کے رویے ّپر تعجب ہوتا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ میں تو انہیں اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہوں ‘ انہیں توحید کی طرف بلاتا ہوں ‘ اس توحید کی طرف جس کا ایک واضح تصور ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر بھی موجود ہے ‘ جبکہ یہ لوگ میری ان باتوں پر غور کرنے اور میری اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اُلٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8 یعنی آپ کو اللہ کے ایسے عظیم تخلیقی کارنامے سن کر تعجب ہوتا ہے مگر یہ لوگ نہایت بےفکری اور لاپروائی سے ایسی محیرا لعقول نشانیوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں یا آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کس قدر بےحس اور ناانصاف لوگ ہیں کہ اللہ کی ایسی واضح قدرتیں بھی ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ (عقیدۂ حشر وجزاوسزا پر) یعنی یہ لوگ انکار ہی پر بس نہیں کرتے، بلکہ تمسخر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ (آیت) ” عجبت “۔ یعنی آپ ﷺ کو اس پر حیرت ہورہی ہے کہ یہ لوگ انکار بعث میں، انکار قدرت خداوندی میں کتنے دلیر ہیں۔ بل عجبت من انکارھم للبعث (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل عجبت ویسخرون اور آپ کو تعجب ہوا اور وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ بَلْ ابتدائیہ ہے کلام سابق سے گریز کیلئے نہیں ہے بلکہ ایک مقصد سے دوسرے مقصد کی جانب انتقال مطلوب ہے ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ اور کافروں کی حالت بیان کرنا ہے۔ عجب اس حالت کو کہتے ہیں جو کسی غیر معمولی بات کو دیکھنے سے انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے ‘ عجبت میں یہی حالت مراد ہے۔ ایک حدیث میں عَجِبَ رَبُّکَ مِنْ قَوْمٍ یُسَاقُوْنَ اِلَی الْجَنَّۃِ فِی السَّلاَسِلِ ‘ اسی طرح سُبْحَانَہٗ مَا اَعْظَمَ شَأنُہٗ میں صیغۂ تعجب اسی معنی کیلئے استعمال کیا گیا۔ لفظ عجب کا اطلاق (صرف حالت پر نہیں بلکہ) غیرمعمولی چیز پر بھی ہوتا ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ تو ان کے جھٹلانے پر تعجب کرتے ہیں اور یہ منکر آپ کی اور آپ کی کتاب کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

بَلْ عَجِبْتَ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہاں ”بَلْ“ لانے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ”فَاسْتَفْتِهِمْ“ (ان سے پوچھ) کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کرچکے ؟ جواب اس کا اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ یقیناً وہ سب کچھ انسان کے دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں بیان فرمایا ہے۔ چناچہ اس سوال کا مقصد انھیں لاجواب کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اتنے واضح دلائل کے باوجود یہ لوگ قیامت سے انکار کیوں کرتے ہیں، یہ بات انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی، بلکہ اے نبی یا اے مخاطب ! اس پر تجھے تعجب ہوتا ہے اور تعجب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–17

یعنی اہل مکہ سے پوچھیئے۔ یہ مفتی سے فتوی طلب کرنے سے ماخوذ ہے ام من خلقنا سے مراد آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور سمندر ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں فرشتے اور سابقہ امتیں داخل ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اسے من کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سعد بن جبیر نے کہا : اس سے مراد فرشتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : سے مراد سابقہ امتیں ہیں (3) جو ہلاک ہو چکیں وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ آیت اشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اسے ابوارشد اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کی پلڑ اور قوت بہت زیادہ تھی اس کا ذکر سورة البلد میں آئیگا اس کی مثل یہ آیت ہے : لخلق السموت والارض لازب من خلق الناس) مومن (57: اور اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلْ عَجِبْتَ [بلکہ آپ ﷺ نے تعجب کیا ] وَيَسْخَرُوْنَ [حالانکہ وہ مذاق کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ ) (بلکہ یہ بات ہے کہ آپ تو ان کے انکار پر تعجب کرتے ہیں کیونکہ یہ قدرت الٰہیہ کے منکر ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں مذاق بناتے ہیں)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ بل عجبت الخ :۔ یہ فاستفتہم سے اضراب ہے۔ یعنی چھورئیے ان سے اس سوال کا کیا فائدہ ؟ وہ انتہاء درجہ کے معاند ہیں۔ ایسے واضح اور پختہ دلائل کو بھی وہ کافی نہیں سمجھتے۔ بلکہ ان دلائل کے حسن اور ان کی قطعیت پر آپ تو متعجب اور خوش ہیں لیکن وہ ظالم ضد وعناد میں آ کر ماننے کے بجائے آپ سے اور قرآن سے استہزاء کر رہے ہیں۔ بل عجبت مما نزل علیک من القرا و ھم یسخرون بہ (قرطبی ج 15 ص 69) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُوْنَ۝ 12۠ عجب العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا [يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] ، وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] ، ( ع ج ب ) العجب اور التعجب اس حیرت کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ ۔ (الصآفات : 12) (بلکہ آپ تعجب کررہے ہیں اور یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں۔ ) متکلم اور مخاطب کی سوچ اور ذوق میں تضاد یعنی قرآن کریم کے اتنے واضح اور آسان دلائل کے بعد ان کا انکار، اے پیغمبر ! آپ کے لیے تعجب انگیز ہے اور اسی لیے آپ حیران ہورہے ہیں کہ آخر ان کی عقلوں پر کیسے پتھر پڑگئے ہیں کہ بالکل سامنے کی بات کو بھی مان کر نہیں دے رہے کہ جن مخلوقات کی تخلیق ہر اعتبار سے نہایت حیرت انگیز ہے ان میں ان کے لیے کوئی عقلی استبعاد نہیں۔ اور انسان کی ازسرنو تخلیق یا انھیں زندہ کرکے اٹھانا جبکہ یہ اس واردات سے خود گزر چکے ہیں آخر کیا عقلی استبعاد رکھتی ہے کہ انھیں اس کا ماننا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–18

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12: بَلْ عَجِبْتَ (بلکہ آپ تعجب کرتے ہیں) کہ یہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ وَیَسْخَرُوْنَ (اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں) آپ سے اور آپ کے اس تعجب کرنے سے یا آپ کو ان کے انکار بعث پر تعجب ہے۔ اور وہ معاملہ بعث کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ قراءت : حمزہ، علی نے بل عجبتُ پڑھا ہے۔ میں نے اس کو بہت بڑاسمجھا ہے۔ العجبؔ جب کسی چیز کو بڑا سمجھا جائے گا۔ تو اس وقت جو گھبراہٹ پیش آتی ہے اللہ تعالیٰ کے حق میں خالص بڑا قرار دینے کے معنی میں لیا گیا ہے کیونکہ گھبراہٹ کا اطلاق اس پر نہیں کیا جاسکتا یا اس کا معنی یہ ہے۔ اے محمد ﷺ ! کہہ دیجئے بلکہ مجھے تعجب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 12۔ ، عجبت، حمزہ ، کسائی نے تاء کے صمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی قرأت ابن مسعود اور ابن عباس ؓ کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا تعجب آدمیوں کے تعجب کی طرح نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، فیسخرون منھم سخر اللہ منھم ، دوسری جگہ کبھارانکار ومذمت کے معنی کے لیے مستعمل ہوتا ہے اور کبھی بمعنی استحسان اور رضا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ جنید (رح) سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر تعجب نہیں کرتا لیکن اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب کے ساتھ موافقت کی ہے (یعنی جہاں پر آپ ﷺ نے تعجب کیا وہاں پر اللہ تعالیٰ نے بھی کیا) جیسا کہ اللہ رب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–25

آیت 12 (بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–13

8 انسان کی خود اپنی تخلیق میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے اپنے مادئہ تخلیق اور مراحل تکمیل میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے انکو پیدا کیا ایک چپکتے ہوئے ۔ لیسدار۔ گارے سے "۔ اسی لئے انسان میں چپکنے اور لپٹنے کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔ خواہ حق سے ہو یا باطل سے۔ تو جب اس بےجان اور حقیر مٹی سے ہم ایسا انسان عدم سے وجود میں لاسکتے ہیں تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو ان سے پوچھو کہ کیا آسمان و زمین، دریاؤں، پہاڑوں اور سورج و چاند جیسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مرنے کے بعد زندہ ہونا تشریحـ: جیسا کہ پہلے بھی مر کر زندہ ہونے اور حساب کتاب کا ذکر کئی دفعہ ہوچکا ہے یہاں اللہ کے بہترین نظام اور قادر مطلق ہونے کے حوالے سے پھر اس بات کو دہرایا گیا ہے۔ جو لوگ اتنے احمق ہیں کہ صاف دیکھ کر سن کر کسی صورت بھی اللہ و رسول پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو وہ بھلا اتنی مشکل بات کو کیسے سمجھ اور مان سکتے ہیں لہٰذا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے غصہ سے فرما دیا کہ کہہ دو کہ ” ہاں “ اور یہ بھی کہ ” تم ذلیل حالت میں اٹھائے جاؤ گے “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 تعجب کرنے سے مراد آپ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے کرشموں پر تعجب کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:12) بل۔ صاحب روح المعانی (رح) رقمطراز ہیں :۔ کہ بل اضراب کے لئے ہے۔ لیکن علامہ پانی پتی (رح) تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں :۔ بل ابتدائیہ ہے کلام سابق سے گریز کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک مقصد سے دوسرے مقصد کی جانب انتقال مطلوب ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ اور کفار کی حالت بیان کرنا ہے “ یعنی ایک طرف تعجب اور دوسری طرف مذاق و تمسخر۔ عجبت۔ عجب یعجب (سمع) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو نے تعجب کیا۔ تو نے اچنبھا جانا۔ یا بمعنی حال ۔ تو تعجب کرتا ہے۔ تو اچنبھا جانتا ہے۔ عجب اس حالت کو کہتے ہیں کہ جو کسی غیر معمولی بات کو دیکھنے سے انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ عجیب میں بھی یہی حالت مراد ہوتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

سورة صفات 1: اس سے قبل بنایا جاچکا ہے ۔ کہ قرآن میں قسم سے غرض استشہاد ہے ۔ منقسم بہ کی جلالت قدر یا عظمت کا اظہار نہیں ہے ۔ چناچہ سورة صافات کی تشریح اس نظریہ کے مطابق یوں ہوگی ۔ کہ اصل دعویٰ جو قابل اثبات ہے ۔ وہ توحید ہے ۔ جیسے کہ ارشاد ہے ان الھکم واحد اور دلیل میں ان حقائق کو پیش فرمایا ہے ۔ کہ اس تعلیم کو لانے والے اطاعت شعار فرشتے ہیں ۔ جو عتبہ جلال خداوندی کے سامنے حکم کے منتظر صف باندھے کھڑے رہتے ہیں ۔ وہ اپنے مواعظ وانوار سے نفوس قدسیہ کو مجل کرتے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معاصی سے روکتے ہیں جو ذکرو فکر کے صحائف کو پڑھتے ہیں ۔ اور اقاء والہام کی خدمات سرانجام دیتے ہیں ۔ یعنی جہاں تک اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) بلکہ آپ تو تعجب کرتے ہیں اور وہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تجھ کو ان سے تعجب آتا ہے کہ ایمان کیوں نہیں لاتے اور ان کو تجھ سے ٹھٹا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–17

ف 6۔ واقع میں یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ 7۔ غرض جب مخلوقات قویہ صلبہ کے ابتداء خلق پر ہم قادر ہیں تو مخلوق ضعیف کے اعادہ پر قدرت کیوں نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ کو تعجب ہوتا ہے کہ وہ لوگ کیسے مذاق اڑا رہے ہیں : 12۔ یہ کلام اہی کے ان سربستہ رازوں سے واقف نہیں اور ان کو اپنے سطحی علم سے حقیقت نظر نہیں آتی کیونکہ یہ لوگ وہم و گمان کی بنا پر ابھی کہانت ‘ سحر ‘ جنون سایہ اور جنات کے اثر اور زیادہ سے زیادہ پیروں فقیروں کی مار لگ جانے سے باہر نہیں نکل سکے اور ظاہر ہے کہ ان کو اس فکر کے تحت بات کرنا ہے جو ان کی گدیوں میں موجود ہے اور آج اگر انکو اپنے علوم پر فخر ہے تو بھی منوں علم رکھنے کے باوجود ابھی ان کے پاس عقل وفکر کا ایک تولہ بھی موجود نہیں اس معاملہ میں بالکل کورے ہیں ، آپ کی باتوں کو سن کر وہ ہنسی نہیں اڑائیں گے تو آخر کیا کریں گے بھی کیا ۔ ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

As for the reaction of disbelievers on rational proofs, it was said: بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُ‌ونَ وَإِذَا ذُكِّرُ‌وا لَا يَذْكُرُ‌ونَ (But you wonder [ at their denial ], and they mock [ at the idea of an Hereafter ]. And when any advice is given to them, they pay no heed to it. – 12-13). Given here first is the stance of the Holy Prophet ﷺ who wonders as to how could these people, after having such clear proofs before them, still remain reluctant to accept the truth while these people, on the contrary, indulge in making fun of the proofs and beliefs presented by him before them. In fact, no…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

8 This is an answer to the suspicions of the disbelievers of Makkah, which they presented about the Hereafter. They thought that the Hereafter was not possible, for it is impossible that the dead men should be recreated. In answer to it, Allah presents arguments for the possibility of the Hereafter and asks: "If you think that the recreation of the dead men is a very difficult task which We do not have the power to accomplish, do you think it is easy to create the earth and the heavens and the countless things that they contain? Why don't you use your common sense ? Do you think that God for…

Read the full tafseer →