As-Saaffaat 37:11

As-Saaffaat · from ayah 11

37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا ؕ— اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ ۟فَاسۡتَفۡتِهِمۡ اَهُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَاؕ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ لَّازِبٍ

تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then inquire of them, [O Muhammad], "Are they a stronger [or more difficult] creation or those [others] We have created?" Indeed, We created men from sticky clay.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:11

اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب ذرا ان (کافروں) سے پوچھو کہ ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا ہماری پیدا کی ہوئی دوسری مخلوقات کی ؟ ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان سے پوچھو کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِن سے پوچھئے کہ کیا یہ لوگ تخلیق کئے جانے میں زیادہ سخت (اور مشکل) ہیں یا وہ چیزیں جنہیں ہم نے (آسمانی کائنات میں) تخلیق فرمایا ہے، بیشک ہم نے اِن لوگوں کو چپکنے والے گارے سے پیدا کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو ان سے پوچھ کیا یہ پیدا کرنے کے اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں، یا وہ جنھیں ہم نے پیدا کیا ؟ بیشک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی !) آپ ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کرچکے ہیں۔ ہم نے انہیں لیسدار گارے سے پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ان سے پوچھو کہ کیا ان کے پیدا کرنے کا معاملہ زیادہ سخت ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کی ہیں ! ہم نے ان کو تو چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو پوچھو ان سے کہ کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا ہماری پیدا کردہ ان چیزوں کا (جن کا ذکر ابھی گزرا ؟) ان کو تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا ایک چپکتے ہوئے (لیسدار) گارے سے

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ ان سے پوچھئے کہ خلقت میں یہ لوگ زیادہ مضبوط ہیں یا وہ جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے ہم نے ان لوگوں کو تو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے اس کا بنانا ؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So ask them (that is, human beings): “Were they harder to create than the objects We created?” We created them from sticky clay.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now ask them, :Are they stronger in the formation of their bodies, or those (other beings) that We have created? Certainly, We did create them from sticky clay.

— Muhammad Taqi Usmani

Now ask them, :Are they stronger in the formation of their bodies, or those (other beings) that We have created? Certainly, We did create them from sticky clay.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then ask them: "Are they harder to create, or those whom We have created" Verily, We created them of a sticky clay.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then ask them (O Muhammad): Are they stronger as a creation, or those (others) whom we have created? Lo! We created them of plastic clay.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then inquire of them, [O Muhammad], "Are they a stronger [or more difficult] creation or those [others] We have created?" Indeed, We created men from sticky clay.

— Saheeh International

(Muhammad), ask them, "Have they (people) been created stronger than what We have created?" We have created them from moist clay.

— Muhammad Sarwar

Then ask them whether they are stronger in creation or those (others) whom We have created. Surely We created them of firm clay.

— Muhammad Habib Shakir

Ask them thou: are they stronger in structure or those others whom We have created? Verily We! We have created them of a sticky clay.

— Abdul Majid Daryabadi

Just ask their opinion: are they the more difficult to create, or the (other) beings We have created? Them have We created out of a sticky clay!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–19

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا، ابن مسعود ؓ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–14

سورة الصّٰٓفّٰت 8 یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بیشمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (جب دلائل توحید سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان عظیم الشان مخلوقات میں ایسے ایسے عظیم تصرفات پر قادر ہیں اور یہ ساری عظیم مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں) تو آپ ان (آخرت کا انکار کرنے والوں) سے پوچھئے کہ یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی یہ چیزیں (جن کا ابھی ذکر ہوا ؟ حقیقت یہی ہے کہ یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں، کیونکہ) ہم نے ان لوگوں کو (تو آدم کی تخلیق کے وقت اسی معمولی، چکنی مٹی سے پیدا کیا ہے، (جس میں نہ کچھ قوت ہے نہ سختی اور انسان جو اس سے بنا ہے وہ بھی زیادہ قوی اور سخت نہیں ہے اب سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم ایسی قوی اور سخت مخلوقات کو عدم سے وجود میں لانے پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے کا مضمون۔ آیات۔ 11۔ 74 آگے احوال ِ قیامت کی تفصیل ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پرستش کر رہے ہیں قیامت کے دن ان کا اور ان کے معبودں کا کیا حال ہونا ہے۔ شرک کے علم بردار لیڈر اور ان کے پیرو کس طرح ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ! اور اہل ایمان، جو تمام مخالفتوں کے علی الرغم توحید اور قیامت کے عقیدے پر جمے رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو کس فوزِ عظیم سے نوازے گا۔ آیت کی تلاوت فرمائیے۔ ارکان قیامت کی ایک واضح دلیل فاستفتھم اھم اشد خلقاً امر من خلقناً ط انا خلقنھم من طین لازیب (11) احوال قیامت کے باین کے لئے پہلے بطور تمہید اس کے امکان کے سوال کو لیا ہے کہ اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–11

11۔ 1 یعنی ہم نے جو زمین ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سے زیادہ سخت اور مشکل ہے ؟ یقینا نہیں۔ 11۔ 2 یعنی ان کے باپ آدم ؑ کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا بعید کیوں سمجھتے ہیں درآں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جبکہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل و اتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–27

6: مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے انسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاستفتھم اھم ۔۔۔۔۔ اباؤنا الاولون (11 – 17) ذرا ان سے پوچھو کہ تم مانتے ہو کہ ملائکہ ، سماوات ، زمین ، ان کے درمیان فضائیں ، شیاطین ، ستارے اور شہاب ثاقب سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ تو کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا اللہ کے ان جہانوں کی تخلیق ؟ اس سوال کے بعد ان کے جواب کا انتظار ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ جواب تو ظاہر ہے ۔ یہ سوال تو محض سرزنش کے لیے کیا گیا ہے اور ان کی غباوت پر تعجب کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے۔ اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ حددرجہ غافل اور حیران کن حد تک نافہم نہیں۔ چناچہ ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جاتی ہے کہ آغاز میں تمہیں ایک لیس دار گارے سے بنایا گیا ہے۔ اور یہ گارا اسی زمین سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی منکرین بعث سے دریافت کیجئے کہ آسمان، زمین، ستارے، فرشتے، شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد ظاہر ہے جو خدا ایسی عظیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اسے ان کا دوبارہ بنادینا کیا مشکل ہوگا۔ 2 یعنی ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے۔ ایک طرح کے چپکتے گارے سے جس کا پتلا ہم نے تیار کیا۔ آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ جس طرح پہلے تجھ کو مٹی سے بنایا دوبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا } ”تو اے نبی ﷺ ! ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے !“ یہ کفار و مشرکین کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد ان کا پھر سے زندہ ہوجانا کیسے ممکن ہے ؟ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جیسے انسانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اس وسیع و عریض کائنات کو بنانا ؟ اور یہ کہ جس اللہ نے یہ کائنات پیدا کی ہے ‘ اس کے اندر سورج اور چاند کا نظام بنایا ہے ‘ سیاروں ‘ ستاروں اور کہکشائوں کی دنیائیں آباد کی ہیں ‘ کیا تم اس اللہ کے بارے میں خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں پھر سے پیدا نہیں کرسکے گا ! { اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 مٹی کی مختلف حالتیں جن سے آدم کا پتلا بنایا گیا ڈارون کے نظریہ کا ابطال :۔ مٹی کو جن سات مختلف حالتوں سے گزار کر انسان کو پیدا کیا گیا ان کی تفصیل یہ ہے (1) تراب بمعنی خشک مٹی (40: 67) (2) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین (71: 17) (3) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا (6: 2) (4) طین لازب معنی لیسدار یا چپکدار مٹی (37: 11) (5) حماٍ مسنون بمعنی بدبودار کیچڑ (15: 26) (6) صلصال بمعنی ٹھیکرا یعنی حرارت سے پکائی ہوئی مٹی (15: 26) (7) صلصال کا لفخار بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری (55: 14) یہ مٹی یا زمین کی مختلف شکلیں ہیں۔ کسی وقت مٹی میں پانی کی آمیزش کی گئی تو بعد میں حرارت کے ذریعہ پانی کو خشک کردیا گیا۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (جو نہ قوت میں کوئی امتیاز رکھتی ہے نہ صلاحیت میں) (آیت) ” ام من خلقنا “۔ اللہ کی مخلوق تو انسان بھی ہے۔ یہاں اشارہ ان مخلوقات کی جانب ہے جن کا ذکر ابھی گزر چکا ہے، ستارے، آسمان، شیطان، فرشتے وغیرہ، اور تقابل ان کا انسان سے کیا گیا ہے۔ جس طین لازب جیسی معمولی اور کمزور چیز سے بنایا گیا ہے۔ یرید ماذکر من خلائقہ من الملئکۃ والسموت والارض وما بینھما (مدارک) فسئل ھؤلآء المنکرین للبعث ایما اشد خلقا ھم ام السموت والارض وما بینھما من الملئکۃ والشیاطین والمخلوقات العظیمۃ (ابن کثیر) من ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔ یہاں بہ قاعدۂ تغلیب لایا گیا ہے۔ جیئی بمن تغلیبا للعقلاء علی غیرھم (مدارک) وغلب اولی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاستفتھم اھم اشد خلقًا ام من خلقنا انا خلقنھم من طین لازبٍ سو آپ (مشرکین مکہ سے) دریافت کیجئے کہ کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ (دوسری مخلوق) جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ؟ ان کو تو ہم نے چیپ والی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مَنْ خَلَقْنَا سے مراد ہیں وہ تمام چیزیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ‘ یعنی آسمان ‘ زمین ‘ دونوں کی درمیانی کائنات ‘ مشارق ‘ مغارب ‘ ستارے ‘ شہاب ثاقب۔ مَنْ (ذی عقل مخلوق کیلئے استعمال ہوتا ہے لیکن) اس جگہ اہل عقل کو بےعقل مخلوق پر تغلیب دے کر سب باعقل اور بےعقل مخلوق کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ استفہام تقریری ہے ‘ یعنی انسانوں سے دوسری مخلوق کی تخلیق زیادہ (دشوار اور) شدید…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو آپ ان مکہ والوں سے پوچھیے کہ یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی چیزیں یعنی فرشتے ہم نے ان لوگوں کو تو ابتدا خلق آدم میں چکنی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا : کفار آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے جواب میں دو دلیلیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ اس سے پہلے ہم جو کچھ پیدا کرچکے ہیں، جن کا اس سورت میں ذکر ہے، یعنی آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق، صافات، زاجرات، تالیات، فرشتے، شیاطین اور ستارے وغیرہ، انھیں پیدا کرنا مشکل ہے یا ان لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا ؟ ظاہر ہے اتنی عظیم مخلوقات کے مقابلے میں انسان بےچارے کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہ کرسکے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–17

یعنی اہل مکہ سے پوچھیئے۔ یہ مفتی سے فتوی طلب کرنے سے ماخوذ ہے ام من خلقنا سے مراد آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور سمندر ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں فرشتے اور سابقہ امتیں داخل ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اسے من کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سعد بن جبیر نے کہا : اس سے مراد فرشتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : سے مراد سابقہ امتیں ہیں (3) جو ہلاک ہو چکیں وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ آیت اشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اسے ابوارشد اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کی پلڑ اور قوت بہت زیادہ تھی اس کا ذکر سورة البلد میں آئیگا اس کی مثل یہ آیت ہے : لخلق السموت والارض لازب من خلق الناس) مومن (57: اور اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاسْتَفْتِهِمْ [تو آپ ﷺ فتوی مانگیں ان سے ] اَهُمْ اَشَدُّ [کیا یہ لوگ زیادہ سخت (مضبوط) ہیں ] خَلْقًا [بلحاظ مخلوق کے ] اَمْ مَّنْ [یا وہ سب جن کو ] خَلَقْنَا ۭ [ہم نے پیدا کیا ] اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ [بیشک ہم نے پیدا کیا ان کو ] مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ [ایک چپکنے والے گارے سے ] ۔ ل ز ب (ن) لزوبا مضبوطی سے قائم ہونا۔ چمٹنا۔ لازب اسم الفاعل ہے۔ چمٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

معجزات کا استہزاء کرنے والوں اور وقوع قیامت کے منکرین کی تردید اور ان کے لیے وعید شدید ان آیات میں اثبات توحید بھی ہے اور اثبات معاد بھی ہے اور منکرین کے استعجاب کی تردید بھی۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ یہ لوگ یعنی منکرین بعث بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا دوسری چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ان کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، ظاہر ہے کہ وہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ جب انسان یہ جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ مضبوط اور سخت چیزیں موجود ہیں تو پھر دوبارہ اپنے پیدا کیے جانے کا کیسے انکار کرتا ہے ؟ (اِِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍ ) (بےشک ہم نے انہیں چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے) جو چپکتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–32

منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔ یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–11

5:۔ فاستفتہم الخ :۔ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے جو توحید کے ساتھ ساتھ حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے۔ فرمایا ان سے پوچھو تو کہ ان کی پیدائش مشکل ہے یا ان کے علاوہ دوسری مخلوقات کی۔ مثلاً فرشتے، آسمان، زمین، ستارے وغیرہ۔ انا خلقنہم من طین لازب۔ ان کو تو ہم چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور ان کی پیدائش فرشتوں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے مقابلے میں بہت معمولی بات ہے تو جو ذات پاک ایسی اہم اور غیر معمولی مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ ومن قدر علی خلق ھذہ الاشیاء قدر علی خلق مالا یعتد بہ بالاضافۃ الیہا (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–35

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے ، اے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا۝ 0 ۭ اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ۝ 11 استفتا الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127] ، فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] ، استفتا اور کسی مشکل مسلہ کے جواب کو فتیا وفتوی کہا جاتا ہے ۔ استفتاہ کے معنی فتوی طلب کرنے اور افتاہ ( افعال ) کے معنی فتی دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127]( اے پیغمبر ) لوگ تم سے ( یتیم ) عورتوں کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاسْتَفْتِہِمْ اَھُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا ط اِنَّا خَلَقْنٰـھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍ ۔ (الصآفات : 11) (پس ان سے پوچھئے کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ان کو تو ہم نے لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے۔ ) احوالِ قیامت سے پہلے امکانِ قیامت کی دلیل بعد کی آیات میں احوالِ قیامت کا بیان شروع ہورہا ہے۔ نزولِ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کے وقت قریش اور دیگر اہل مکہ کی جو کیفیت ہوتی تھی قرآن پاک کا ہر طالب علم اس سے واقف ہے۔ جیسے ہی آنحضرت ﷺ انذار کرتے ہوئے عذاب آخرت کا ذکر کرتے تو مخالفین فوراً بات کو اچک لیتے اور آپ کی ترغیب و ترہیب کو بےاثر کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–18

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشکل کی ایجاد مشکل نہیں تو آسان تر کی کیسے مشکل ہو ؟ 1 1: فَاسْتَفْتِھِمْ (پس ان سے آپ پوچھئے) کفار مکہ سے استفسار کرو۔ اَھُمْ اَشَدُّ خَلْقًا (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ مضبوط ہیں) خلقت میں مضبوط تر ہیں۔ عرب کا قول ہے شدیدالخلق و فی خلقہ شدۃ یا اصعب خلقا واشقہٗ اس معنی میں کہ اس میں ان کے انکار بعث کی تردید کی گئی ہے۔ اور وہ ذات جس کو اتنی بڑی مخلوقات بناناآسان ہے۔ اور ان کی ایجاد میں اسے کوئی مشکل پیش نہ آئی تو انسان کی پیدائش تو اس پر آسان تر ہے۔ اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا (یا ہماری پیدا کردہ یہ چیزیں) اس سے مراد مخلوقات میں سے جن کا تذکرہ ہوا مثلاً ملائکہ، آسمان و زمین اور جو ان کے مابین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11، فاستفتھم ، آپ اہل مکہ سے پوچھئے، اھم اشد خلقا ام من خلقنا، اس سے مراد آسمان و زمین اور پہاڑ ہیں ۔ یہ استفہام تقریری ہے یعنی یہ اشیاء زیادہ سخت ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، لخلق السموات والارض اکبرمن خلق الناس ، اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔ ، ء انتم اشد خلقا ام السماء ، اور بعض نے کہا، ام من خلقنا، اس سے مراد گزشتہ امتیں ہیں۔ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ گزشتہ اقوام مکہ والوں سے زیادہ قوی تھیں لیکن جرائم کی پاداشت میں ہم نے ان کو ان کو تباہ کردیا۔ پھر یہ لوگ عذاب سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پھر انسان کی تخلیق کا ذکر کر کیا۔ ، انا خلقناھم من طین لازب، چپکنے والی جو ہاتھ کے ساتھ چپک جائے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–23

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–13

8 انسان کی خود اپنی تخلیق میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے اپنے مادئہ تخلیق اور مراحل تکمیل میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے انکو پیدا کیا ایک چپکتے ہوئے ۔ لیسدار۔ گارے سے "۔ اسی لئے انسان میں چپکنے اور لپٹنے کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔ خواہ حق سے ہو یا باطل سے۔ تو جب اس بےجان اور حقیر مٹی سے ہم ایسا انسان عدم سے وجود میں لاسکتے ہیں تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو ان سے پوچھو کہ کیا آسمان و زمین، دریاؤں، پہاڑوں اور سورج و چاند جیسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–18

مرنے کے بعد زندہ ہونا تشریحـ: جیسا کہ پہلے بھی مر کر زندہ ہونے اور حساب کتاب کا ذکر کئی دفعہ ہوچکا ہے یہاں اللہ کے بہترین نظام اور قادر مطلق ہونے کے حوالے سے پھر اس بات کو دہرایا گیا ہے۔ جو لوگ اتنے احمق ہیں کہ صاف دیکھ کر سن کر کسی صورت بھی اللہ و رسول پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو وہ بھلا اتنی مشکل بات کو کیسے سمجھ اور مان سکتے ہیں لہٰذا ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے غصہ سے فرما دیا کہ کہہ دو کہ ” ہاں “ اور یہ بھی کہ ” تم ذلیل حالت میں اٹھائے جاؤ گے “۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اور ظاہر ہے کہ جو خدا اتنی عظیم الشان اور لا تعداد مخلوقات کو وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ زندگی بخشتا کچھ مشکل نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:11) فاستفتہم۔ استفت۔ استفتاء (استفعال) سے فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ الاستفتاء کے معنی الاستخبار عن امر حدث۔ کسی نئے امر کے متعلق خبر دریافت کرنا۔ نوجوان کو فتی اس کی نئی نئی جوانی کے لحاظ سے کہتے ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ خطاب یہاں نبی کریم ﷺ سے ہے۔ تو ان سے پوچھ ۔فصیحت کا ہے اور تعقیب کا بھی ہوسکتا ہے۔ اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ سخت۔ زیادہ مضبوط۔ زیادہ مشکل۔ خلقا۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ یعنی ازوجہ پیدائش۔ بطور پیدائش۔ ام من خلقنا۔ ام حرف عطف ہے بمعنی یا۔ من موصولہ ہے خلقنا اس کا صلہ یا وہ (دوسری مخلوق ) جس کو ہم نے پیدا کیا ہے از قسم ملائکہ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–49

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–23

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

سورة صفات 1: اس سے قبل بنایا جاچکا ہے ۔ کہ قرآن میں قسم سے غرض استشہاد ہے ۔ منقسم بہ کی جلالت قدر یا عظمت کا اظہار نہیں ہے ۔ چناچہ سورة صافات کی تشریح اس نظریہ کے مطابق یوں ہوگی ۔ کہ اصل دعویٰ جو قابل اثبات ہے ۔ وہ توحید ہے ۔ جیسے کہ ارشاد ہے ان الھکم واحد اور دلیل میں ان حقائق کو پیش فرمایا ہے ۔ کہ اس تعلیم کو لانے والے اطاعت شعار فرشتے ہیں ۔ جو عتبہ جلال خداوندی کے سامنے حکم کے منتظر صف باندھے کھڑے رہتے ہیں ۔ وہ اپنے مواعظ وانوار سے نفوس قدسیہ کو مجل کرتے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معاصی سے روکتے ہیں جو ذکرو فکر کے صحائف کو پڑھتے ہیں ۔ اور اقاء والہام کی خدمات سرانجام دیتے ہیں ۔ یعنی جہاں تک اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) اے پیغمبراب آپ ان کافروں سے دریافت کیجئے کہ ازروائے پیدائش ان لوگوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا ان مذکورہ چیزوں کا جن کو ہم نے پیدا کیا ہے بلاشبہ ہم نے ان کو ایک چپکتے گارے سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کا اور تاروں کا اور سورج اور ملا اعلیٰ کے فرشتوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت یا بنی نوع انسان کا پیدا کرنا کچھ سخت کام ہے جن کو ہم نے ایک چپکتی ہوئی مٹی اور گارے سے پیدا کیا ہے جن میں کوئی صلابت نہیں حالانکہ دوسری مخلوق زیادہ صلابت ہے جس ہم نے ان کو بنایا اور پیدا کیا ہے تو ان کا بنا لینا ہم کو کیا دشوار ہے جو ذات اقدس ایک بڑی سے بڑی مخلوق پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے اس کو ایک ضعیف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–17

ف 6۔ واقع میں یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ 7۔ غرض جب مخلوقات قویہ صلبہ کے ابتداء خلق پر ہم قادر ہیں تو مخلوق ضعیف کے اعادہ پر قدرت کیوں نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان کافروں کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا دوسری مخلوق کی جوان کو نظر آرہی ہے : 11۔ زمین و آسمان جیسی مہیب جو سمندروں ‘ دریاؤں اور پہاڑوں کو کھارہی ہے اور جو اجرام فلکی سے پر ہیں اور ایک گیند کی مانند نظر آرہے ہیں ان کی پیدائش زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے یا اس چھ پونے چھ فٹ قد کے ایک انسان کی جس کا سب کچھ دوسری چیزوں کے مقابلہ میں مختصر ہے ، پھر جس خلاق وعلیم نے علام الغیوب اور ستار العیوب نے اتنی بڑی بڑی چیزیں بنائی ہیں وہ ان انسانوں کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ انسان نہیں بنا سکتا یا ان آسمانوں اور زمینوں کو فنا کرکے نئے آسمان اور زمین معرض وجود میں نہیں لاسکتا ۔ آخر کیوں ؟ جبکہ اس نے اپنی قدرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary After having proved the belief in the Oneness of Allah, described in the present eight verses is the belief in the 'Akhirah or Hereafter along with an answer to doubts entertained by disbelievers about it. First of all, a rational proof has been given in support of the possibility of human resurrection in the very initial verse cited above. In gist, it refers to the huge heavenly bodies of the universe mentioned in previous verses, and points out to the obvious weakness of human beings as compared to them. Now when disbelievers do recognize that such great objects of creation as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

8 This is an answer to the suspicions of the disbelievers of Makkah, which they presented about the Hereafter. They thought that the Hereafter was not possible, for it is impossible that the dead men should be recreated. In answer to it, Allah presents arguments for the possibility of the Hereafter and asks: "If you think that the recreation of the dead men is a very difficult task which We do not have the power to accomplish, do you think it is easy to create the earth and the heavens and the countless things that they contain? Why don't you use your common sense ? Do you think that God for…

Read the full tafseer →