Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔
اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
سورة الصّٰٓفّٰت 67
یہاں پہنچ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے جن صاحبزادے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خود اس قربانی کے لیے پیش کردیا تھا، وہ کون تھے۔ اب سے پہلے اس سوال کا جواب ہمارے سامنے بائیبل کی طرف سے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ
" خدا نے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام ـــــ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔ " (پیدائش، 221۔ 2)
اس بیان میں ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بھی احسان کیا (کہ ان کو نبوت اور دیگر کمالات عطا فرمائے) اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) کو بڑے غم سے (یعنی فرعون کی جانب سے پہنچائی جانیوالی تکالیف سے) نجات دی اور ہم نے ان سب کی (فرعون کے مقابلے میں) مدد کی، سو (آخر میں) یہی لوگ غالب آگئے (کہ فرعون کو غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے) اور ہم نے (فرعون کے غرق ہونے کے بعد) ان دونوں (صاحبوں) کو (یعنی موسیٰ ؑ کو اصالتاً اور ہارون ؑ کو تبعاً) واضح کتاب دی (مراد تورات ہے کہ اس میں احکام واضح طور پر مذکور تھے) اور ہم نے ان کو سیدھے رستہ پر قائم رکھا، (جس کا اعلیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
ولقد مننا علی موسیٰ وھرون ونجینما و قومھما من الکرب العظیم ونصرھم فکانوا ھم الغلبین (116-114)
حضرت موسیٰ اور ان کی قوم
حضرت ابراہیم ؑ کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر رسول حضرت موسیٰ و حضرت ہ اورن (علیہما السلام) ہیں جو ایک جبار دشمن کو شکست دے کر ایک عظیم الشان امت کے بانی ہوئے اور جن کی لائی ہوئی شریعت ایک مدت دراز تک ایک وسیع دنیا پر حکمت ران رہی۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ اور ہ اورن کو بھی اپنی شریعت و ہدایت کے فضل سے نوازا اور ان کو اور ان کی قوم … بنی اسرائیل … کو ایک بہت بڑی کلفت … فرعونیوں کی غلامی … سے نجات دی اور ان کی مدد کی تو بالآخر وہی غالب رہے۔ نصرنھم میں ان نصرتوں کی طرف بھی اشارہ ہے…
Read the full tafseer →114۔ 1 یعنی انہیں نبوت و رسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–122
22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔
قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
3 یعنی فرعون اور اس کی قوم کے ظلم و ستم سے نجات دی۔ اور " بحرقلزم " سے نہایت آسانی کے ساتھ پار کردیا۔
Read the full tafseer →آیت 114{ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَہٰرُوْنَ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ اور ہارون علیہ السلام پر بھی احسان فرمایا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
68 یعنی انہیں نبوت عطا فرمائی۔ معجزات بھی دیئے اور اپنی مدد کا وعدہ دے کر انہیں فرعون کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو فرعون کی غلامی اور طرح طرح کی تکلیفوں سے نجات دلائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
61۔ یعنی ظالم و مشرک حکومت کے پنجہ سے رہائی دی۔ (آیت) ” ولقد .... ہارون “۔ یعنی انہیں نبوت اور دوسرے کمالات سے مشرف کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
آیت نمبر 114 تا 138
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →ولقد مننا علی موسیٰ وھرون اور ہم نے موسیٰ و ہارون پر احسان کیا۔ یعنی نبوت اور دین و دنیا کی بہبودی عنایت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
(114۔ 115) اور ہم نے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) پر بھی نبوت و اسلام کے ذریعے سے احسان کیا اور ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو غرق ہونے سے نجات دی۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ : یعنی انھیں نبوت عطا کی اور دوسرے بیشمار احسانات فرمائے، جن میں سے بعض احسانات کا ذکر آگے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
114 ۔ 122:۔ جب اس امر کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح ہونے سے نجات دی اور نبوت کے بعد جوان پر احسان کیا ساتھ یہ بھی زکر کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ (علیہما السلام) پر جو احسان کیا۔ الکرب العظیم۔ سے مراد وہ غلامی ہے جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے بچ گئے تھے۔
و نصرنھم فراء نے کہا : ضمیر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے لئے ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دو بھی جمع ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و اتینھما اور و ھدینھما ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ھم ضمیر حضرت موسیٰ ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔
2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ مَنَنَّا [اور بیشک ہم احسان کرچکے ] عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ [موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں پر احسان کیا یعنی نبوت عطا کی اور اس بڑے انعام سے نوازا اور اس کے علاوہ بھی دوسری نعمتیں عطا فرمائیں، انہیں نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں اور ان کی قوم کو بڑی بےچینی سے نجات دی کیونکہ یہ لوگ مصر میں رہتے تھے جہاں کا صاحب اقتدار فرعون تھا وہ بڑا ظالم تھا اس کی حکومت میں بنی اسرائیل عاجز محض بنے ہوئے تھے (جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے) فرعون ان کے لڑکوں تک کو ذبح کردیتا تھا اور یہ چوں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
قصہ سوم حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام)
وقال تعالیٰ ولقد مننا علی موسیٰ وھرون۔۔۔ الی۔۔۔ انہما من عبادنا ال مومنین۔
(ربط) اب یہ تیسرا قصہ ہے جس میں ان انعامات خداوندی کا ذکر کرتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر مبذول ہوئے اور پھر ان انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو کلیم اللہ کی اتباع کی برکت سے بنی اسرائیل پر مبذول ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور قہر اور ظلم وستم سے نجات دی اور قوم نوح کی طرح قوم فرعون کو غرق کیا اور ان کے اموال اور املاک کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا اور پھر ان کو توریت جیسی روشن کتاب عطا کی جو حدود اور احکام پر مشتمل تھی اور صراط مستقیم اور راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
51:۔ ولقد مننا الخ : یہ تیسرا اور چوتھا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی قوم کو فرعون نے غلام بنا رکھات تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی قوم کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور پھر فرعون کے لشکر سے دریا میں معجزانہ راستے بنا کر ان کو بچایا۔ وہ تو خود مصائب میں خداوند تعالیٰ کے محتاج ہیں اسلیے شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ مننا میں احسان سے دینی اور دنیوی احسانات مراد ہیں انعمنا علیہما بالنبوۃ وغیرہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ (روح ج 23 ص 138) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰي مُوْسٰى وَہٰرُوْنَ 1 14ۚ
منن
والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164]
والثاني : أن يكون ذلک بالقول،
وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] فالمنّة منهم بالقول، ومنّة اللہ عليهم بالفعل، وهو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا قصہ :
یہ تیسرا قصہ حضرت موسیٰ و ہارون علی نبینا و علیھما السلام کا ہے جو آنحضرت ﷺ کے حال سے نہایت مناسبت رکھتا ہے، اس جگہ ان دونوں بھائیوں کی نسبت صرف یہی مقصود تھا کہ ان دونوں کو اور ان کی برکت سے ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے رہائی دی۔ شاہ مصر کی قید اور سخت تکلیف میں مبتلا تھے اور نہ صرف بلا سے بچایا بلکہ فرعونیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرکے غالب کردیا کہ ان کا داؤ نہ چلا، صاف ملک مصر سے مصریوں کا مال و زیورات لے کر نکل آئے اور اے عرب ! تمہاری بہتری بھی محمد ﷺ کی اتباع میں ہے، تم بھی انہی کی برکت سے ملکوں کے مالک ہوجاؤ گے اور ان دونوں کو روشن کتاب یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
وَلَقَدْ مَنَـنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰـرُوْنَ ۔ وَنَجَّیْنٰـھُمَا وَقَوْمَھُمَا مِنَ الْـکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔ وَنَصَرْنٰـہُمْ فَکَانُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ (الصآفات : 114 تا 116)
(ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔ اور ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی۔ ہم نے ان کو نصرت بخشی، تو وہی غالب آنے والے بنے۔ )
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دو رسولوں کی سرگزشت کے بعض اہم گوشوں کا تذکرہ
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں یوں تو بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی عظمت سے نوازا۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ نمایاں قدوقامت کی حامل دو شخصیتیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تحریف ہونے کے باوجود تورات کتاب پیدائش (باب 17، 24، 25) میں موجود ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ جس وقت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو خلیل (علیہ السلام) کی عمر 86 سال کی تھی اور جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر ننانوے یا سو سال تھی۔ تحقیق کے مطابق آپ کنعان میں پیدا ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں 137 سال کی عمر میں وفات پائی۔ جناب اسحاق…
Read the full tafseer →موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ :
114: وَلَقَدْ مَنَنَّا (اور ہم نے احسان کیا) یعنی انعام کیا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (موسیٰ و ہارون پر) ان کو نبوت سے نواز کر۔
Read the full tafseer →114، ولقد مننا علی موسیٰ وھارون، اور ہم نے آپ کو نبوت جیسی نعمت عطافرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
114۔ 122۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہم السلام) پر کئے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے۔ کہ ان کے لڑکوں کو مار ڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی۔ اور مدد کی کہ یہ ان پر غالب ہوگئے۔ اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ لگا۔ اور ان کی آنکھوں کے رو برو ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توراۃ شریف کو اتارا۔ اور بتائی ان کو راہ سیدھی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
آیت 114
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہ اورن کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تو رات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انہیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ : (آیت) ” یعنی انکے بعد آنے والوں میں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
76 حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کے لیے برکات خداوندی کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے برکتیں نازل کیں ابراہیم پر بھی اور اسحاق پر بھی "۔ کہ ان کے بعد رسالت و نبوت اور دینی و دنیاوی سیادت و قیادت کے مناصب زیادہ تر انہی کی نسل میں رہے۔ چناچہ ان کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) تک آنے والے تمام انبیاء و رسل کا تعلق انہی کی نسل سے تھا جو بلاشبہ ایک بہت بڑا اور منفرد شرف و اعزاز ہے۔ بہرکیف یہ اس ارشاد ربانی کے معنیٰ و مطلب کا ایک مطلب و احتمال ہے کہ " علیہ " کی ضمیر مجرور کا مرجع حضرت ابراہیم ہیں اور اسی کو اکثر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون (علیہم السلام) کا تذکرہ
تشریح : لوگوں کو برائی سے ڈرانے اور نیکی کی طرف لانے کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ یہاں سیدنا نوح، سیدنا ابر اہیم، سیدنا اسماعیل و سیدنا اسحاق (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو نیکی صبر و استقامت اور فرمانبرداری کے بہترین نمونے تھے۔ ان کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں انعام و اکرام سے مالا مال کردیا گیا اور اسی لیے اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے۔ ” ہم یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں نیکو کاروں کو، بیشک وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں ہیں “۔ ( الصّافات : 121-122 )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–138
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138:
اسرار و معارف :
یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔
پھر الیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ف 3 مراد ہے غلامی کی وہ حالت جس میں وہ فرعون اور اسکی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →(37:114) مننا۔ ماضی جمع متکلم من مصدر (باب نصر) ہم نے بڑا احسان کیا۔ ہم نے بڑی نعمت دی۔
مادہ م ن ن سے من مصدر مندرجہ ذیل معنی میں مستعمل ہے۔
(1) من یمن (نصر) من مصدر۔ نیز ( منۃ وامتنان) احسان جتانا۔ جیسے من علیہ بما صنع۔ اپنے کئے کا احسان جتانا۔ یا قرآن میں ہے :۔ لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:264) اپنے صدقون کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر ضائع نہ کرو۔
(2) من یمن (باب نصر) من وامن وتمنن سے بمعنی کم کرنا۔ منقطع کرنا۔ ختم کرنا۔ اس معنی میں قرآن مجید میں ہے فلہم اجر غیر ممنون (95:6) تو ان کے لئے اجر غیر منقطع ہے (یعنی جو نہ ختم کیا جائے گا اور نہ کم کیا جائے گا) ۔
(3) من یمن (باب نصر) مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 122 :۔ مننا ( ہم نے احسان کیا ) المستبین (واضح اور صاف صاف) ھدینا (ہم نے ہدایت دی ، رہنمائی کی) ترکنا ( ہم نے چھوڑا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں، جزا دیتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 114 تا 122 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر بڑے احسان اور کرم فرمائے انہیں اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو جو فرعونوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پسے چلے جا رہے تھے نجات عطاء فرمائی اور اس طرح ان کی مدد کی کہ وہی جو انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر کیے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے کہ ان لڑکوں کو مارڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی اور مدد کی یہ ان پر غالب ہوگئے اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ ، لگا اور ان کی آنکھوں کے روبروان کے دشمنوں کو ہلاک کیا، پھر اللہ نے ان پر تورات کو اتارا اور ان کو سیدھی راہ بتائی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
[23] یعنی اسماعیل (علیہ السلام) پر۔
[24] اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش مکہ تھے جو اپنے وقت میں تمام عرب کے پیشوا اور سردار تھے۔ دوسری طرف اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے بنی اسرائیل ہوئے جن سے دنیا کے دو بڑے مذاہب یہودیت اور نصرانیت نکلے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے بنی اسماعیل (یعنی قریش) اور بنی اسرائیل (یعنی یہود) کو یاد دلانا ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–119
ف 1: یہ ایک پرانا اختلاف ہے ۔ کہ ذبیچ کون ہے ۔ حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق ؟ صحیح اور محققانہ رائے یہ ہے کہ اس سعادت کا فخر حضرت اسماعیل کو حاصل ہوا ۔ دلائل یہ ہیں :۔
(1) قرآن کا انداز بیان اس پر شاہد ہے ۔ کیونکہ اس سارے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے ۔ وبشرناہ باسحاق یتبا من الصالحین ۔ کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی نبوت اور سعادت کی خوشخبری سنائی ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے اس بات کی بھی بشارت دی تھی ۔ کہ حضرت اسحاق کی نسل بڑھے گی ۔ اور ان کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ۔ ومن وراء اسحاق یعقوب پھر یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ جس بیٹے کو آئندہ چل کر نبوت کا اعزاز حاصل کرنا ہے ۔…
Read the full tafseer →(114) اور یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان فرمایا۔ جیسا کہ سورة طٰہٰ میں گزر چکا ہے۔ ولقد سننا علیک مرۃ اخری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
ف 5۔ اس میں اظہار ہوگیا اس بات کا کہ اصول کا نیک ہونا ذریات کے کام نہیں آسکتا جبکہ وہ کود ایمان سے محروم ہوں اس میں علمائے یہود کے تفاخر کا قلع کردیا۔
Read the full tafseer →(پچھلی آیت کی بقیہ تفسیر)
بات بالکل واضح ہے کہ یہاں کوئی بچے کی طلب نہیں کی اور یہ طلب اس لیے نہیں کی کہ الحمد للہ اب اولاد ان کے پاس موجود ہے لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کی خوشخبری خود بخود ان کی سنائی جارہ ہے اور ظاہر ہے کہ اب ابراہیم (علیہ السلام) بھی پہلے زیادہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور آج آپ کو اولاد کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے اس لحاظ سے آپ کو تعجب ہو رہا ہے کہ اس بوڑھاپے میں اولاد جب کہ ہم دونوں ہی بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جب چاہے اپنے قانون کے مطابق خوشخبری سنا دے اس تعجب سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے پاس اس سے پہلے کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے جناب استاذی حافظ عنایت اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–122
Commentary
Described in the verses cited above is the third event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Harun (علیہ السلام) . It has appeared in details at several places. Here it serves as an indicator. The purpose is to tell how Allah Ta’ ala helps out His sincere and obedient servants, and how He bestows so many of His rewards on them. Mentioned here are His favors bestowed upon Sayyidna Musa علیہ السلام and Harun (علیہ السلام) . These favors are of two kinds. First come positive favors that bring benefits as in: وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ (And We did bestow favors…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
67 Here, the question arises: Who was the son whom the Prophet Abraham had got ready to offer as a sacrifice, and who had willingly offered himself to be slaughtered as a sacrifice? The first answer to this question is given by the Bible; and it is this: "And it came to pass after these things, that God did tempt Abraham, and said unto him, Abraham: . . . Take now thy son thine only son Isaac, whom thou lovest, and get thee into the land of Moriah; and offer him there for a burnt offering upon one of the mountains which I will tell thee of." (Gen. 22: 1-2). In this statement, on the one hand,…
Read the full tafseer →