As-Saaffaat 37:115

As-Saaffaat · from ayah 115

37:115

وَنَجَّیْنٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ ۟ۚوَنَجَّيۡنٰهُمَا وَقَوۡمَهُمَا مِنَ الۡكَرۡبِ الۡعَظِيۡمِ‌ۚ

اور ان کو اور ان کی قوم کو مصیبت عظیمہ سے نجات بخشی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We saved them and their people from the great affliction,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:115

اُن کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو اور ان کی قوم کو مصیبت عظیمہ سے نجات بخشی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ایک بڑے کرب سے نجات دی

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہیں اور ان کی قوم کو بڑی سختی سے نجات بخشی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے خود ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو سخت تکلیف سے نجات بخشی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں اور ان کی قوم کو شدید بےچینی سے نجات دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو اور ان کی قوم کو ایک عظیم مصیبت سے نجات دی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نجات بخشی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو اس کرب عظیم سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑے غم سے نجات دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک کرب عظیم سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کو اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات بخشی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We delivered both of them and their people from the great calamity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and We delivered them and their people from the great agony,

— Muhammad Taqi Usmani

and We delivered them and their people from the great agony,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We saved them and their people from the great distress,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And saved them and their people from the great distress,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We saved them and their people from the great affliction,

— Saheeh International

and saved them and their people from great distress.

— Muhammad Sarwar

And We delivered them both and their people from the mighty distress.

— Muhammad Habib Shakir

And delivered them and their people from the great affliction.

— Abdul Majid Daryabadi

And We delivered them and their people from (their) Great Calamity;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:115

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 115–122

سورة الصّٰٓفّٰت 69 یعنی اس شدید مصیبت سے جس میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–122

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بھی احسان کیا (کہ ان کو نبوت اور دیگر کمالات عطا فرمائے) اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم (یعنی بنی اسرائیل) کو بڑے غم سے (یعنی فرعون کی جانب سے پہنچائی جانیوالی تکالیف سے) نجات دی اور ہم نے ان سب کی (فرعون کے مقابلے میں) مدد کی، سو (آخر میں) یہی لوگ غالب آگئے (کہ فرعون کو غرق کردیا گیا، اور یہ صاحب حکومت ہوگئے) اور ہم نے (فرعون کے غرق ہونے کے بعد) ان دونوں (صاحبوں) کو (یعنی موسیٰ ؑ کو اصالتاً اور ہارون ؑ کو تبعاً) واضح کتاب دی (مراد تورات ہے کہ اس میں احکام واضح طور پر مذکور تھے) اور ہم نے ان کو سیدھے رستہ پر قائم رکھا، (جس کا اعلیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 114–116

ولقد مننا علی موسیٰ وھرون ونجینما و قومھما من الکرب العظیم ونصرھم فکانوا ھم الغلبین (116-114) حضرت موسیٰ اور ان کی قوم حضرت ابراہیم ؑ کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر رسول حضرت موسیٰ و حضرت ہ اورن (علیہما السلام) ہیں جو ایک جبار دشمن کو شکست دے کر ایک عظیم الشان امت کے بانی ہوئے اور جن کی لائی ہوئی شریعت ایک مدت دراز تک ایک وسیع دنیا پر حکمت ران رہی۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ اور ہ اورن کو بھی اپنی شریعت و ہدایت کے فضل سے نوازا اور ان کو اور ان کی قوم … بنی اسرائیل … کو ایک بہت بڑی کلفت … فرعونیوں کی غلامی … سے نجات دی اور ان کی مدد کی تو بالآخر وہی غالب رہے۔ نصرنھم میں ان نصرتوں کی طرف بھی اشارہ ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–122

22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 114–122

ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔ قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 114–115

3 یعنی فرعون اور اس کی قوم کے ظلم و ستم سے نجات دی۔ اور " بحرقلزم " سے نہایت آسانی کے ساتھ پار کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 115{ وَنَجَّیْنٰہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ”اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک کرب عظیم سے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 114–115

68 یعنی انہیں نبوت عطا فرمائی۔ معجزات بھی دیئے اور اپنی مدد کا وعدہ دے کر انہیں فرعون کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو فرعون کی غلامی اور طرح طرح کی تکلیفوں سے نجات دلائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 114–115

61۔ یعنی ظالم و مشرک حکومت کے پنجہ سے رہائی دی۔ (آیت) ” ولقد .... ہارون “۔ یعنی انہیں نبوت اور دوسرے کمالات سے مشرف کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–138

آیت نمبر 114 تا 138 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ و ہارون پر نبوت دے کر بڑا احسان کیا اور ان دونوں کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو بڑے غم (مصیبت) سے نجات دی، یعنی فرعون کے ان کو غلام بنانے سے، اور ہم نے قبطیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے اور ہم نے ان کو احکام و حدود وغیرہ میں جو اس میں بیان ہوئے ہیں واضح البیان کتاب عطا کی اور وہ تورات ہے اور ہم نے ان دونوں کو راہ مستقیم کی ہدایت دی اور ہم نے ان کیلئے بعد والوں میں ذکر خیر باقی رکھا، اور ہم اسی طرح جس طرح ان کو صلہ دیا نیک کام کرنے والوں کو صلہ دیا کرتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے اور بلاشبہ الیاس (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونجینھما وقومھما من الکرب العظیم اور ان دونوں کو اور انکی قوم والوں کو ہم نے بڑی مصیبت سے نجات دی۔ قوم سے مراد ہیں بنی اسرائیل ‘ اور کرب عظیم سے وہ تکلیفیں اور ایذائیں مراد ہیں جو فرعون ان کو دیا کرتا تھا۔ بعض نے نزدیک غرق ہونے سے محفوظ رکھنا مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 114–115

(114۔ 115) اور ہم نے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) پر بھی نبوت و اسلام کے ذریعے سے احسان کیا اور ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو غرق ہونے سے نجات دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنَجَّيْنٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : بہت بڑی مصیبت سے مراد فرعون کی غلامی، لڑکوں کا قتل اور عورتوں کا باقی رکھنا ہے۔ علاوہ ازیں سمندر میں غرق ہونے سے نجات بھی کرب عظیم سے نجات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 114–122

114 ۔ 122:۔ جب اس امر کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح ہونے سے نجات دی اور نبوت کے بعد جوان پر احسان کیا ساتھ یہ بھی زکر کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ (علیہما السلام) پر جو احسان کیا۔ الکرب العظیم۔ سے مراد وہ غلامی ہے جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے بچ گئے تھے۔ و نصرنھم فراء نے کہا : ضمیر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے لئے ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دو بھی جمع ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و اتینھما اور و ھدینھما ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ھم ضمیر حضرت موسیٰ ‘…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 112–122

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔ 2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنَجَّيْنٰهُمَا [اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو ] وَقَوْمَهُمَا [اور ان دونوں کی قوم کو ] مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ [اس بڑے دکھ سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں پر احسان کیا یعنی نبوت عطا کی اور اس بڑے انعام سے نوازا اور اس کے علاوہ بھی دوسری نعمتیں عطا فرمائیں، انہیں نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں اور ان کی قوم کو بڑی بےچینی سے نجات دی کیونکہ یہ لوگ مصر میں رہتے تھے جہاں کا صاحب اقتدار فرعون تھا وہ بڑا ظالم تھا اس کی حکومت میں بنی اسرائیل عاجز محض بنے ہوئے تھے (جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے) فرعون ان کے لڑکوں تک کو ذبح کردیتا تھا اور یہ چوں بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–122

قصہ سوم حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) وقال تعالیٰ ولقد مننا علی موسیٰ وھرون۔۔۔ الی۔۔۔ انہما من عبادنا ال مومنین۔ (ربط) اب یہ تیسرا قصہ ہے جس میں ان انعامات خداوندی کا ذکر کرتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر مبذول ہوئے اور پھر ان انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو کلیم اللہ کی اتباع کی برکت سے بنی اسرائیل پر مبذول ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور قہر اور ظلم وستم سے نجات دی اور قوم نوح کی طرح قوم فرعون کو غرق کیا اور ان کے اموال اور املاک کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا اور پھر ان کو توریت جیسی روشن کتاب عطا کی جو حدود اور احکام پر مشتمل تھی اور صراط مستقیم اور راہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

52:۔ و نجنہما الخ : یہ اور اس کا مابعد عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے کیونکہ ان آیتوں میں خاص انعامات کا ذکر ہے۔ یہ ایک دنیوی انعام تھا کہ اللہ نے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کے مظالم سے نجات دی۔ و نصرنھم الخ، یہ بھی اللہ کا ایک انعام ہے۔ ہم نے ان کی مدد کی اور قوم فرعون پر ان کو غلبہ عطا فرمایا۔ واتینہما الکتاب المستبین الخ، یہ دینی انعمات کا ذکر ہے۔ ہم نے ان کو ایک واضح اور مفصل کتاب (تورات) عطا فرمائی۔ اور اس کتاب کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔ وترکنا علیہما الخ۔ تا۔ من عبادنا المومنین۔ اس کی تفسیر گذر چکی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 114–138

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَجَّيْنٰہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ۝ 115ۚ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا قصہ حضرت موسیٰ و ہارون علی نبینا و علیھما السلام کا ہے جو آنحضرت ﷺ کے حال سے نہایت مناسبت رکھتا ہے، اس جگہ ان دونوں بھائیوں کی نسبت صرف یہی مقصود تھا کہ ان دونوں کو اور ان کی برکت سے ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے رہائی دی۔ شاہ مصر کی قید اور سخت تکلیف میں مبتلا تھے اور نہ صرف بلا سے بچایا بلکہ فرعونیوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرکے غالب کردیا کہ ان کا داؤ نہ چلا، صاف ملک مصر سے مصریوں کا مال و زیورات لے کر نکل آئے اور اے عرب ! تمہاری بہتری بھی محمد ﷺ کی اتباع میں ہے، تم بھی انہی کی برکت سے ملکوں کے مالک ہوجاؤ گے اور ان دونوں کو روشن کتاب یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 114–116

وَلَقَدْ مَنَـنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰـرُوْنَ ۔ وَنَجَّیْنٰـھُمَا وَقَوْمَھُمَا مِنَ الْـکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔ وَنَصَرْنٰـہُمْ فَکَانُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ (الصآفات : 114 تا 116) (ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔ اور ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی۔ ہم نے ان کو نصرت بخشی، تو وہی غالب آنے والے بنے۔ ) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دو رسولوں کی سرگزشت کے بعض اہم گوشوں کا تذکرہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں یوں تو بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی عظمت سے نوازا۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ نمایاں قدوقامت کی حامل دو شخصیتیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 112–117

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تحریف ہونے کے باوجود تورات کتاب پیدائش (باب 17، 24، 25) میں موجود ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ جس وقت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو خلیل (علیہ السلام) کی عمر 86 سال کی تھی اور جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر ننانوے یا سو سال تھی۔ تحقیق کے مطابق آپ کنعان میں پیدا ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں 137 سال کی عمر میں وفات پائی۔ جناب اسحاق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

115: وَنَجَّیْنٰھُمَا وَقَوْمَھُمَا (اور ہم نے ان دونوں اور ان کی قوم کو نجات دی) قوم سے بنی اسرائیل مراد ہیں۔ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ (بڑے غم سے) نمبر 1۔ غرق سے نمبر 2۔ فرعونی تسلط اور اس کے حواریوں کے ظلم وستم سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

115، ونجینا ھما وقومھما، اس سے بنی اسرائیل مراد ہیں ۔ ، من الکرب العظیم، بڑاغم تھا اور وہ بڑا غم فرعون سے بچنے کا تھا کہ اللہ ان کو فرعون سے دورکردے اور بعض نے کہا کہ غرق ہونے والا غم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 114–122

114۔ 122۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہم السلام) پر کئے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے۔ کہ ان کے لڑکوں کو مار ڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی۔ اور مدد کی کہ یہ ان پر غالب ہوگئے۔ اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ لگا۔ اور ان کی آنکھوں کے رو برو ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توراۃ شریف کو اتارا۔ اور بتائی ان کو راہ سیدھی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 114–122

آیت 114 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہ اورن کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تو رات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انہیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ : (آیت) ” یعنی انکے بعد آنے والوں میں ان کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 حضرت موسیٰ اور ہارون کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی بڑا احسان فرمایا۔ اور ہم نے ان دونوں کو اس کرب عظیم سے نجات دی "۔ جس میں وہ اپنی قوم کے کفر و شرک اور ظلم وعناد اور فرعونیوں کی غلامی کی وجہ سے مبتلا تھے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی زندگیوں کا اصل مشن اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ بندوں کو ان کے رب کے حضور جھکایا جائے کہ یہ ان کے رب کا ان پر حق ہے۔ اور اسی میں انکا بھلا اور بہتری ہے کہ یہی شاہ کلید ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی ۔ فَلَا اِلٰہ اِلٓا ہُوَ جَلَّ وَعَلاَ ۔ لَہ الْحَمْدُ وَلَہُ الشکر فی کلّ حالٍ مِّن الْاَحوال وبکُلِ مَوْطنٍ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–122

سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون (علیہم السلام) کا تذکرہ تشریح : لوگوں کو برائی سے ڈرانے اور نیکی کی طرف لانے کے لیے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ یہاں سیدنا نوح، سیدنا ابر اہیم، سیدنا اسماعیل و سیدنا اسحاق (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو نیکی صبر و استقامت اور فرمانبرداری کے بہترین نمونے تھے۔ ان کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں انعام و اکرام سے مالا مال کردیا گیا اور اسی لیے اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے۔ ” ہم یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں نیکو کاروں کو، بیشک وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں ہیں “۔ ( الصّافات : 121-122 )

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 114–138

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 114 ۔ تا۔ 138: اسرار و معارف : یہی حال موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو پیش آیا کہ فرعون نے سخت مقابلہ کیا اور انہیں تباہ کرنا چاہا جبکہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی غالب فرمایا اور فرعون کو اس کی قوم سمیت تباہ کرکے انہیں ان کی قوم سمیت اس سے نجات دی اور ہم نے ان کی مدد فرمائی تو وہ غالب اور کامیاب رہے انہیں اللہ نے کتاب عطا فرمائی جو واضح دلائل رکھتی تھی اور سیدھے راستے پر راہنمائی فرمائی۔ نیز ان کا ذکر خیر بعد والوں میں بھی باقی رکھا اللہ کی سلامتی ہو موسیٰ اور ہارون پر کہ ہم احسان کرنے والوں کا ایسے ہی بدلہ چکاتے ہیں وہ دونوں بھی ہمارے کھرے اور مخلص بندے تھے۔ پھر الیاس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 114–115

ف 3 مراد ہے غلامی کی وہ حالت جس میں وہ فرعون اور اسکی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:115) من الکرب العظیم۔ موصوف وصفت بہت بڑی مصیبت ، بہت سخت تکلیف۔ عظیم غم۔ کرب عظیم سے وہ تکلیفیں اور ایذائیں مراد ہیں جو فرعون ان کو دیا کرتا تھا۔ بعض کے نزدیک غرق ہونے سے محفوظ رکھنا مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–122

لغات القرآن آیت نمبر 114 تا 122 :۔ مننا ( ہم نے احسان کیا ) المستبین (واضح اور صاف صاف) ھدینا (ہم نے ہدایت دی ، رہنمائی کی) ترکنا ( ہم نے چھوڑا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں، جزا دیتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 114 تا 122 :۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر بڑے احسان اور کرم فرمائے انہیں اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو جو فرعونوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پسے چلے جا رہے تھے نجات عطاء فرمائی اور اس طرح ان کی مدد کی کہ وہی جو انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 114–122

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر کیے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے کہ ان لڑکوں کو مارڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی اور مدد کی یہ ان پر غالب ہوگئے اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ ، لگا اور ان کی آنکھوں کے روبروان کے دشمنوں کو ہلاک کیا، پھر اللہ نے ان پر تورات کو اتارا اور ان کو سیدھی راہ بتائی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے ہیں پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 113–122

[23] یعنی اسماعیل (علیہ السلام) پر۔ [24] اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش مکہ تھے جو اپنے وقت میں تمام عرب کے پیشوا اور سردار تھے۔ دوسری طرف اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے بنی اسرائیل ہوئے جن سے دنیا کے دو بڑے مذاہب یہودیت اور نصرانیت نکلے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے بنی اسماعیل (یعنی قریش) اور بنی اسرائیل (یعنی یہود) کو یاد دلانا ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 113–119

ف 1: یہ ایک پرانا اختلاف ہے ۔ کہ ذبیچ کون ہے ۔ حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق ؟ صحیح اور محققانہ رائے یہ ہے کہ اس سعادت کا فخر حضرت اسماعیل کو حاصل ہوا ۔ دلائل یہ ہیں :۔ (1) قرآن کا انداز بیان اس پر شاہد ہے ۔ کیونکہ اس سارے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے ۔ وبشرناہ باسحاق یتبا من الصالحین ۔ کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی نبوت اور سعادت کی خوشخبری سنائی ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے اس بات کی بھی بشارت دی تھی ۔ کہ حضرت اسحاق کی نسل بڑھے گی ۔ اور ان کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ۔ ومن وراء اسحاق یعقوب پھر یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ جس بیٹے کو آئندہ چل کر نبوت کا اعزاز حاصل کرنا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(115) منجملہ ان احسانات کے یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت اور بڑے غم سے نجات دی یعنی فرعون کو ایذاء رسانی اور اس کی غلامی سے نجات دی یا غرق ہوجانے کا اندیشہ تھا جب سمندر اور فرعون کی فوجوں کے مابین گھر گئے تھے اس وقت غرق سے بچالیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک بڑی مصیبت سے نجات دی : 115۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو احسان کیا وہ یہی تھا کہ ان کی قوم کو صدیوں کی غلامی سے نجات دی اور ان کے لیے سمندر پایاب ہوگیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن فرعون کو اس کے لاؤ لشکر سمیت غرق کردیا پھر قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے آپ کو تورات عطا کی اور ان کی داستان ایک بار سن لینے کے بعد انسان کا جسم گرم ہوجانا ایک فطری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اسی طرح سرفراز فرمادیتا ہے کہ انسان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا اور اس کی سختی دور کرتے کوئی زیادہ دیر نہیں لگتی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 114–122

Commentary Described in the verses cited above is the third event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Harun (علیہ السلام) . It has appeared in details at several places. Here it serves as an indicator. The purpose is to tell how Allah Ta’ ala helps out His sincere and obedient servants, and how He bestows so many of His rewards on them. Mentioned here are His favors bestowed upon Sayyidna Musa علیہ السلام and Harun (علیہ السلام) . These favors are of two kinds. First come positive favors that bring benefits as in: وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ (And We did bestow favors…

Read the full tafseer →