Explained with ayahs 99–113
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔
خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
سورة الصّٰٓفّٰت 67
یہاں پہنچ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے جن صاحبزادے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خود اس قربانی کے لیے پیش کردیا تھا، وہ کون تھے۔ اب سے پہلے اس سوال کا جواب ہمارے سامنے بائیبل کی طرف سے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ
" خدا نے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام ـــــ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔ " (پیدائش، 221۔ 2)
اس بیان میں ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ (ان دونوں کی نسل میں بعض اچھے بھی ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو صریح اپنا نقصان کر رہے ہیں، اس آیت کے ذریعہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید کردی گئی ہے کہ ان حضرات انبیا (علیہم السلام) کی اولاد میں سے ہونا ہی انسان کی فضیلت اور نجات کے لئے کافی ہے۔ اس آیت نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ کسی نیک انسان سے نسبی تعلق نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کا اصل مدار انسان کے اپنے عقائد اور اعمال پر ہے۔
Read the full tafseer →وبارکنا علیہ علی اسحاق ومن ذرتی تھا محسن وظایم لنفسہ مبین (113)
ضمیر مجرور کا مرجع
علیہ کی ضمیر مجور کا مرجع حضرت اسماعیل ہیں۔ جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو مرجع قرار دیا ہے ان کی رائے بالکل غلط ہے۔ اگر مرجع حضرت ابراہیم ؑ ہوتے تو اس کے بعد من ذریتھما کی جگہ ومن ذریتہ موزوں رہتا۔ اس لئے کہ حضرت اسحاق حضرت ابراہیم ؑ کے کوئی مدمقابل نہیں بلکہ انہی کی ذات میں سے ہیں۔
حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کے اخلاف کو ایک یاد دہانی
فرمایا کہ ہم نے اسماعیل اور اسحاق دونوں کو اس دنیا میں برد مند کیا۔ دونوں کی اولاد خود پھولی پھلی۔ ان کی اولاد میں سے کچھ اپنے صالح باپوں کے نقش قدم پر چلنے والے خوب کار اور مخلص…
Read the full tafseer →113۔ 1 یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیاء و رسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعقوب ؑ ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے 12 قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیاء ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے اسماعیل ؑ سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہوئے۔
113۔ 2 شرک اور معصیت، ظلم و فساد کا ارتکاب کرکے خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک و بد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کردیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے، یہود و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–122
22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔
Read the full tafseer →ومن ذریتھما ۔۔۔۔ لنفسہ مبین (37: 113) ” اب ان دونوں کی ذریت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے “۔ اور انہی کی اولاد سے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تھے۔
Read the full tafseer →2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ دونوں کہا دونوں بیٹوں کو۔ دونوں سے بہت اولاد پھیلی۔ اسحاق کی اولاد میں انبیاء بنی اسرائیل ہوئے۔ اور اسماعیل کی اولاد میں عرب ہیں جن میں ہمارے پیغمبر مبعوث ہوئے۔ یعنی اولاد میں سب یکساں نہیں، اچھے بھی جو بڑوں کا نام روشن رکھیں اور برے بھی جو اپنی بدکاریوں کی وجہ سے ننگ خاندان کہلانے کے مستحق ہیں۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے " ومن ذریتہما " کی ضمیر " ابراہیم واسحاق " کی طرف راجع کی ہے۔ مگر حضرت شاہ صاحب نے اسماعیل و اسحاق کی طرف راجع کر کے مضمون میں زیادہ وسعت پید اکردی۔
Read the full tafseer →آیت 113{ وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ } ”اور ہم نے برکت نازل کی اس پر بھی اور اسحاق علیہ السلام پر بھی۔“
{ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ} ”اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکوکار بھی تھے اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔“
”ان دونوں“ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق ﷺ مراد ہیں۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ﷺ کا یہ واقعہ قصص النبیین کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ قصص النبییّن اور انباء الرسل کی اصطلاحات قرآن کے اس مطالعہ کے دوران قبل ازیں متعدد بار زیر بحث آچکی ہیں۔
Read the full tafseer →67 ذُرِّیَّتِھِمَا میں تثنیہ کی ضمیر سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے اور سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق کی طرف بھی۔ جن سے دو بڑی قومیں پیدا ہوئیں۔ ایک بنی اسماعیل اور دوسرے بنی اسرائیل۔ بنو اسماعیل میں صرف نبی آخر الزمان مبعوث ہوئے جبکہ بنی اسرائیل میں بیشمار انبیاء پیدا ہوئے۔ اور اچھے اور برے لوگ ان دونوں قوموں میں موجود رہے۔
Read the full tafseer →59۔ (کہ دونوں کی نسل سے بکثرت انبیاء پیدا کیے گئے) انبیاء بنی اسرائیل ظاہر ہے کہ سب کے سب حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہی کی اولاد میں تھے
60۔ (یہاں تک کہ ایمان سے محروم ہیں) ایسے لوگوں کے لئے پیغمبر زادگی ہرگز کام نہیں آسکتی۔ (آیت) ” ذریتھما “ کے صیغہ تثنیہ سے اشارہ ادھر بھی ہوگیا کہ نسل ابراہیمی علاوہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے کسی اور واسطہ سے بھی چلے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113
ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →وبرکنا علیہ اور ہم نے ابراہیم پر برکت نازل کی۔
یعنی دین و دنیا کی برکتیں ہم نے ابراہیم پر جاری کردیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ابراہیم کی اولاد میں ہم نے برکت عطا کی (آپ کی نسلی اولاد کی تعداد بہت بڑھا دی) ۔
وعلی اسحاق اور (خصوصیت کے ساتھ) اسحاق کو بھی برکت عطا کی۔ آپ کی نسل میں ایک ہزار نبی پیدا ہوئے ‘ سب
سے پہلے حضرت یعقوب ہوئے اور سب سے آخر میں (آپ کی نسل سے) حضرت عیسیٰ ہوئے۔
ومن ذریتہما محسن و ظالم لنفسہ مبین اور دونوں کی نسل میں نیکوکار بھی ہوئے اور اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم
کرنے والے بھی۔
مُحْسِنٌ یعنی کچھ لوگ اچھے کردار والے یا ایمان وطاعت اختیار کر کے اپنے نفس سے بھلائی کرنے والے ہوئے اور کچھ…
Read the full tafseer →اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں اور ان دونوں کی نسل میں بعض موحد بھی ہیں اور بعض کھلے کفر میں مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →وَبٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ : ”عَلَيْهِ“ سے مراد ابراہیم اور اسماعیل ؑ میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انھیں بہت اولاد عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ رکھا۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”دونوں“ کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی، اسحاق ؑ کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل ؑ کی اولاد ہیں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر ﷺ ہوئے۔“ (موضح)
وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ : یعنی ان کی اولاد میں سے نیک بھی ہوں گے، بد بھی، عدل کرنے والے بھی ہوں گے اور اپنی جان پر صاف ظلم کرنے والے بھی۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا : ”شاید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔
2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَبٰرَكْنَا [اور ہم نے برکت دی ] عَلَيْهِ [اس لڑکے (اسمعیل (علیہ السلام) ) پر ] وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ ۭ [اور اسحاق (علیہ السلام) پر ] وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا [اور ان دونوں کی اولاد میں سے ] مُحْسِنٌ [کوئی نیکی کرنے والا ہے ] وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ [اور اپنے آپ پر کوئی صریح ظلم کرنے والا ہے ] ۔
ترکیب : آیت 113 ۔ وترکنا علیہ میں علیہ کی ضمیر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بھی مانا جاسکتا تھا اور کے پہلے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے بھی۔ گرامر کے لحاظ سے دونوں کی گنجائش موجود تھی لیکن آگے من ذریتھما میں ھما کی ضمیر نے واضح کردیا کہ علیہ کی ضمیر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت
(وَبَشَّرْنَاہُ بِاِِسْحَاقَ نَبِیًّا مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (اور ہم نے ابراہیم کو بشارت دی اسحاق کی کہ وہ نبی ہوں گے صالحین میں سے) (وَبَارَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰی اِِسْحَاقَ ) (اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں) (وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ) (اور ان دونوں کی نسل میں بعض اچھے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کھلے طور پر اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو بیٹے عطا فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے جن کے ذریعے مکہ معظمہ آباد ہوا ہے اور ان کے ساتھ مل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
دوسری بشارت کا ذکر
وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین۔۔۔ الی۔۔۔ و ظالم لنفسہ مبین۔
گذشتہ آیات میں پہلے فرزند یعنی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے اور اکلوتے بیٹے تھے اور ان کے ذبح اور فدیہ کا حال ذکر کیا اب اس کے بعد ان کے دوسرے فرزند یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک دوسرے فرزند کی بشارت دی کہ تمہارے ایک اور فرزند ہوگا جس کا نام اسحاق ہوگا اور وہ نبی ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا اور باتفاق علما حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
51:۔ ولقد مننا الخ : یہ تیسرا اور چوتھا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی قوم کو فرعون نے غلام بنا رکھات تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی قوم کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور پھر فرعون کے لشکر سے دریا میں معجزانہ راستے بنا کر ان کو بچایا۔ وہ تو خود مصائب میں خداوند تعالیٰ کے محتاج ہیں اسلیے شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ مننا میں احسان سے دینی اور دنیوی احسانات مراد ہیں انعمنا علیہما بالنبوۃ وغیرہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ (روح ج 23 ص 138) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
ربط آیات
پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…
Read the full tafseer →وَبٰرَكْنَا عَلَيْہِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ 0 ۭ وَمِنْ ذُرِّيَّـتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِيْنٌ 113ۧ
برك
أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء .
قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96]
( ب رک ) البرک
اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے…
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کے ہم زمانہ لوگوں عرب و یہود و نصاریٰ وغیرہم کو جو ان کی ذریت کہلانے کا فخر حاصل کرتے ہیں۔ یہ سناتا ہے۔
ومن ذریتہما محسن و ظالم لنفسہٖ مبین کہ ان کی نسل کے لوگوں میں سے نیک بھی ہیں، جیسا کہ جناب محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کے پیرو اور ظالم بھی ہیں اور وہ ظلم انہی کے لیے ہے، اس کا وبال انہی پر پڑے گا، بت پرستی، بدکاری کا وہی نتیجہ پاویں گے۔ اس جملہ میں تعریض ہے کہ جو ابراہیم و اسحاق و اسماعیل کے طریقے پر نہیں، وہ ان کی نسل سے ہونے کے فخر کو محض بیکار جانے۔ نہ وہ اس برکت کے وعدہ کا شریک ہے، ان کے بیٹے نے تو باپ کی (راہِ حق میں) یہاں تک اطاعت کی کہ جان دینے پر آمادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
وَبَشَّرْنٰـہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَبٰـرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ ط وَمِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّـنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ۔ (الصآفات : 112، 113)
(اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی کی صالحین میں سے۔ اور ہم نے اسے اور اسحاق کو برکت دی اور ان کی ذُرِّیت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم کرنے والا ہے۔ )
حضرت اسحاق (علیہ السلام) قربانی کا انعام ہیں
تورات کی روایت کے مطابق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اس وقت پیدا ہوئے جبکہ ان کے والد ماجد کی عمر 86 سال تھی۔ اور تورات ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کی عمر 13 سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تحریف ہونے کے باوجود تورات کتاب پیدائش (باب 17، 24، 25) میں موجود ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ جس وقت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو خلیل (علیہ السلام) کی عمر 86 سال کی تھی اور جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر ننانوے یا سو سال تھی۔ تحقیق کے مطابق آپ کنعان میں پیدا ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں 137 سال کی عمر میں وفات پائی۔ جناب اسحاق…
Read the full tafseer →ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر برکات کا نزول :
113: وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ (اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں) ہم نے ان پر زمین و دنیا کی برکات کا فیضان فرمایا۔ ایک قول یہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں برکت عنایت فرمائی اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکت یہ تھی کہ ان کی اولاد میں ایک ہزار پیغمبر پیدا فرمائے۔ جن میں اول یعقوب اور آخری عیسیٰ (علیہم السلام) تھے۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ (ان کی اولاد میں بعضے اچھے بھی تھے) محسن یہاں مومن کے معنی میں ہے۔ وَّظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ (اور بعض ایسے ہیں جو اپنا نقصان کرنے والے ہیں) ظالم بمعنی کافر۔ مُبِیْنٌ…
Read the full tafseer →113، وبارکنا علیہ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں ، وعلی اسحاق، ان کی نسل سے بہت سے انبیاء کرام (علیہم السلام) پیدا ہوئے۔ ، ومن ذریتھما محسن ، اس سے مؤ من ہونا مراد ہے۔ ، و ظالم لنفسہ، اور ناشکرے ہیں ۔ ، مبین، اور ان کا کفر ظاہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83
یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔
اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی
قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
76 حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کے لیے برکات خداوندی کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے برکتیں نازل کیں ابراہیم پر بھی اور اسحاق پر بھی "۔ کہ ان کے بعد رسالت و نبوت اور دینی و دنیاوی سیادت و قیادت کے مناصب زیادہ تر انہی کی نسل میں رہے۔ چناچہ ان کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) تک آنے والے تمام انبیاء و رسل کا تعلق انہی کی نسل سے تھا جو بلاشبہ ایک بہت بڑا اور منفرد شرف و اعزاز ہے۔ بہرکیف یہ اس ارشاد ربانی کے معنیٰ و مطلب کا ایک مطلب و احتمال ہے کہ " علیہ " کی ضمیر مجرور کا مرجع حضرت ابراہیم ہیں اور اسی کو اکثر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–113
آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113:
اسرار و معارف :
یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →ف 2 برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انہیں کثیر اولاد بنایا اور ان کی اولاد میں سلسلہ نبوت رکھا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دونوں کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی۔ اسحاق ( علیہ السلام) کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل ( علیہ السلام) کی اولاد میں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر ﷺ ہوئے۔ ( اضح)
Read the full tafseer →(37:113) برکنا علیہ۔ ہم نے اس پر برکتیں نازل فرمائیں یعنی دنیاوی برکتیں کہ ان کی نسل کی کثرت اور دینی برکتیں کہ ان کی اولاد سے بکثرت انبیاء پیدا کئے گئے۔
وعلی اسحاق یہاں علی کو مکرر تخصیص کے لئے لایا گیا ہے : اور خصوصیت کے ساتھ اسحاق (علیہ السلام) کو بھی برکتین عطا کیں۔ کہ آپ کی نسل سے ایک ہزار نبی پیدا ہوئے۔ سب سے پہلے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سب سے آخر میں (آپ کی نسل سے ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
ذریتھما۔ مضاف مضاف الیہ ان دونوں کی ذریت (اولاد) ضمیر تثنیہ مذکر غائب حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) کی طرف راجع ہے۔
محسن۔ اسم فاعل واحد مذکر احسان (افعال)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
قربانی اسماعیل علیہ السلام۔
(ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
[23] یعنی اسماعیل (علیہ السلام) پر۔
[24] اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے قریش مکہ تھے جو اپنے وقت میں تمام عرب کے پیشوا اور سردار تھے۔ دوسری طرف اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے بنی اسرائیل ہوئے جن سے دنیا کے دو بڑے مذاہب یہودیت اور نصرانیت نکلے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے بنی اسماعیل (یعنی قریش) اور بنی اسرائیل (یعنی یہود) کو یاد دلانا ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ کن پاکیزہ لوگوں کی اولاد ہیں، ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا تھا اور کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–119
ف 1: یہ ایک پرانا اختلاف ہے ۔ کہ ذبیچ کون ہے ۔ حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق ؟ صحیح اور محققانہ رائے یہ ہے کہ اس سعادت کا فخر حضرت اسماعیل کو حاصل ہوا ۔ دلائل یہ ہیں :۔
(1) قرآن کا انداز بیان اس پر شاہد ہے ۔ کیونکہ اس سارے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے ۔ وبشرناہ باسحاق یتبا من الصالحین ۔ کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی نبوت اور سعادت کی خوشخبری سنائی ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے اس بات کی بھی بشارت دی تھی ۔ کہ حضرت اسحاق کی نسل بڑھے گی ۔ اور ان کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ۔ ومن وراء اسحاق یعقوب پھر یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ جس بیٹے کو آئندہ چل کر نبوت کا اعزاز حاصل کرنا ہے ۔…
Read the full tafseer →(113) اور ہم نے ابراہیم پر اور اسحاق پر اپنی برکتیں نازل فرمائیں اور ان دونوں کی نسل میں سے کچھ نیکوکار ہیں اور کچھ اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی ہیں۔ دین ودنیا کی برکتوں سے نوازا اور ان کی نسل دنیا میں خوب پھیلی عام طور سے مفسرین نے دونوں سے ابراہیم اور اسحق مراد لئے ہیں لیکن شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دونوں کہا دونوں بیٹوں کو دونوں سے بہت اولاد پھیلی اسحق کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل کی اولاد میں عرب جس میں ہمارا پیغمبر ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
ف 5۔ اس میں اظہار ہوگیا اس بات کا کہ اصول کا نیک ہونا ذریات کے کام نہیں آسکتا جبکہ وہ کود ایمان سے محروم ہوں اس میں علمائے یہود کے تفاخر کا قلع کردیا۔
Read the full tafseer →ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں اور دونوں کی نسل سے نیک لوگ پیدا کیے :
113۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی برکتوں کا ذکر تو گزشتہ آیات میں تفصیل سے گزر چکا ہے اور اسحاق (علیہ السلام) پر بھی برکت نازل کی ان کو یعقوب جیسا فرزند عطا کیا اور نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ ان سے چلایا اور انکی اولاد میں بڑے بڑے جلیل القدر نبی ورسول پیدا ہوئے اگرچہ سارے کے سارے بھی نبی ورسول نہ تھے تاہم کچھ نبی ورسول تھے اور کچھ ان کی نبوت و رسالت کی تصدیق کرنے والے ۔ ہاں ! کچھ ان میں ایسے بھی تھے جو اپنی ہی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے اور ان کا ظلم بھی اظہر من الشمس تھا اور نیکوں سے برے اور بروں سے نیک اور صالح پیدا…
Read the full tafseer →In the last verse, it was said: وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ (and among the progeny of both of them, some are good and some are utterly unjust to their own selves.- 37:113). Refuted through this verse is the false pride of the Jews that being among the progeny of these noble prophets (علیہم السلام) is in itself sufficient to bless one with merit and salvation. This verse openly declares that having lineal connection with a man of virtue is not a sufficient guarantee of one's salvation, in fact, this thing depends on one's own beliefs and deeds.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
67 Here, the question arises: Who was the son whom the Prophet Abraham had got ready to offer as a sacrifice, and who had willingly offered himself to be slaughtered as a sacrifice? The first answer to this question is given by the Bible; and it is this: "And it came to pass after these things, that God did tempt Abraham, and said unto him, Abraham: . . . Take now thy son thine only son Isaac, whom thou lovest, and get thee into the land of Moriah; and offer him there for a burnt offering upon one of the mountains which I will tell thee of." (Gen. 22: 1-2). In this statement, on the one hand,…
Read the full tafseer →