As-Saaffaat 37:112

As-Saaffaat · from ayah 112

37:112

وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۟وَبَشَّرۡنٰهُ بِاِسۡحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏

اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکوکاروں میں سے (ہوں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We gave him good tidings of Isaac, a prophet from among the righteous.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:112

اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکوکاروں میں سے (ہوں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے اس کو اسحاق ؑ نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی، کہ وہ صالحین میں سے ایک نبی ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا نبی ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے (اِسما عیل علیہ السلام کے بعد) انہیں اِسحاق ؑ کی بشارت دی (وہ بھی) صالحین میں سے نبی تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جو نبی ہوگا، صالح لوگوں سے (ہو گا)۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے نبی ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو اسحاق کی خوشخبری دی، ایک نبی کی زمرہ صالحین میں سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ایک اور انعام ان پر ہم نے یہ کیا کہ) ہم نے ان کو خوشخبری دے دی اسحاق (جیسے بیٹے) کی کہ وہ نبی ہوں گے (ہمارے قرب خاص) کے سزاواروں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاق ؑ کی کہ نبی اور نیک بندوں میں ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاق ؑ کی ایک نبی صالحین میں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکو کاروں میں سے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

And We gave him the good news of Isaac, a Prophet and among the righteous ones.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We gave him the good news of IsHaq (Isaac), a prophet from among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

And We gave him the good news of IsHaq (Isaac), a prophet from among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We gave him the glad tidings of Ishaq -- a Prophet from the righteous.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we gave him tidings of the birth of Isaac, a prophet of the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We gave him good tidings of Isaac, a prophet from among the righteous.

— Saheeh International

We gave him the glad news of the birth of Isaac, one of the righteous Prophets.

— Muhammad Sarwar

And We gave him the good news of Ishaq, a prophet among the good ones.

— Muhammad Habib Shakir

And We gave him the glad tidings of Is-haq, a prophet, and of the righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

And We gave him the good news of Isaac - a prophet,- one of the Righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:112

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 107–112

سورة الصّٰٓفّٰت 66 " بڑی قربانی " سے مراد، جیسا کہ بائیبل اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے، ایک مینڈھا ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ابراہیم ؑ کے سامنے پیش کیا، تاکہ بیٹے کے بدلے اس کو ذبح کردیں۔ اسے بڑی قربانی کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ وہ ابراہیم ؑ جیسے وفادار بندے کے لیے فرزند ابراہیم ؑ جیسے صابر و جاں نثار لڑکے کا فدیہ تھا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بےنظیر قربانی کی نیت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسے " بڑی قربانی " قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھر میں جانور قربان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ذبیح حضرت اسماعیل تھے یا حضرت اسحاق اوپر آیات کی تفسیر یہ تسلیم کرتے ہوئے کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جس بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ حضرت اسماعیل ؑ تھے، لیکن درحقیقت اس معاملہ میں مفسرین اور مورخین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عباس، حضرت ابن عباس، کعب الاحبار، سعید بن جبیر، قتادہ، مسروق، عکرمہ، عطائ، مقاتل، زہری اور سدی سے منقول ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق ؑ تھے، اس کے برخلاف حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو الطفیل، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، حسن بصری، مجاہد، حضرت عمر بن عبدالعزیز،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وبشرنہ باسحق نیتاً من الصلاحین (112) حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری اس امتحان میں کامیابی کی صلہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دوسرے بیٹے حضرت اسحاق کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس خوش خبری کے ساتھ ہی اس امر سے بھی آگاہ فرما دیا کہ وہ صالحین میں سے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو منصب نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ ان صفات کا ذکر بشارت کے ساتھ ہی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے لئے مجرد ایک فرزند کی ولادت کوئی اہمیت رکھنے والی بات نہیں تھی۔ وہ حضرت اسماعیل کو پا کر اولاد کی طرف سے بالکل مطمئن ہوچکے تھے چناچہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کو حضرت اسحاق کی خوشخبری دی گئی تو انہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 108–112

112۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق ؑ کی اور اس کے نبی ہونے کی خوشخبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل ؑ تھے۔ جو اس وقت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے تھے اسحاق ؑ کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف۔ ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق ؑ کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں تو قف اختیار کیا (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–122

22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وبشرنہ باسحق۔۔۔۔۔ لنفسہ مبین (112- 113) ” ۔ اسماعیل اور اسحاق کے بعد ان کی اولاد کا سلسلہ چلتا ہے لیکن ان کی اولاد کی وراثت ، وراثت گوشت و پوست نہیں ہے۔ یہ نظریاتی اور ملی وراثت ہے لہٰذا جو اس ملت پر رہا وہ محسن رہا اور جس نے ملت اور نطریات سے انحراف کیا وہ ظالم قرار پایا اور قرابت اور نسب اس کے لیے مفید نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 112{ وَبَشَّرْنٰہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ } ”اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاق علیہ السلام کی ‘ ایک نبی صالحین میں سے۔“ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا جو امتحان لیا ‘ اس میں کامیابی کے انعام کے طور پر آپ علیہ السلام کو دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی گئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 معلوم ہوا کہ پہلی خوشخبری کا تعلق سیدنا اسماعیل سے ہی ہے۔ اور قصہ ذبح کا تعلق انہی سے ہے۔ اس کے بعد دوسری بار سیدنا ابراہیم کو سیدنا اسحاق کی خوشخبری دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

58۔ یہ بنی اسمعیل (علیہ السلام) کو خاص طور پر سنایا جارہا ہے، کہ کہیں بنی اسرائیل کے مطاعن اسمعیل (علیہ السلام) اور بنی اسمعیل کے خلاف سنتے سنتے جواب میں یہ بھی حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نبوت و جلالت قدر سے انکار نہ کربیٹھیں (آیت) ” من الصلحین “۔ اسرائیلیوں کے ہاں ” نبی “ کے ساتھ ” صالح “ ہونا لازمی نہ تھا۔ کاہن کی طرح صرف غیب بین، غیب دان ہونا کافی تھا۔ قرآن اسی لئے بار بار انبیاء کے وصف صالحیت کو نمایاں کرتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وبشرنہ باسحق نبیًا من الصلحین اور ہم نے اسحاق کی ان کو بشارت دی کہ نبی اور نیک بختوں میں سے ہوں گے۔ یعنی ہم نے ابراہیم کو بشارت دی کہ ہم تم کو ایک لڑکا عنایت کریں گے جس کا نام اسحاق ہوگا اور جس کی نبوت کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے اور جو صالحین میں سے ہوگا۔ نبوت کے بعد صالح ہونے کا ذکر اسحاق کی عظمت شان اور تعریف کو ظاہر کر رہا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ صلاح ہی نبوت کا ہدف اصلی ہے۔ نبوت سے تمام (افکار و اعمال) کی درستگی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : اہل کتاب کا کہنا ہے کہ ذبح کا یہ واقعہ اسماعیل ؑ کے ساتھ نہیں بلکہ اسحاق ؑ کے ساتھ پیش آیا۔ بعض مسلم مفسرین نے بھی یہی بات کہی ہے، مگر یہ درست نہیں، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی دعا سے ملنے والے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کے ساتھ آزمائش کے بعد اسحاق ؑ کی خوش خبری کا ذکر فرمایا اور اس بات پر مسلمانوں کا اور اہل کتاب کا اتفاق ہے کہ اسماعیل ؑ پہلے پیدا ہوئے تھے۔ ایک اور نہایت مضبوط دلیل اس کی یہ ہے کہ جب فرشتوں نے ابراہیم ؑ کی بیوی کو اسحاق ؑ کی خوش خبری دی تو اس کے ساتھ ہی فرمایا : (ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ) [ ھود :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 102–113

102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 112–122

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔ 2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَبَشَّرْنٰهُ [اور ہم نے بشارت دی ان (علیہ السلام) کو ] بِاِسْحٰقَ [اسحاق (علیہ السلام) کی ] نَبِيًّا [نبی ہوتے ہوئے ] مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ [نیک لوگوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 112–113

حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت (وَبَشَّرْنَاہُ بِاِِسْحَاقَ نَبِیًّا مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (اور ہم نے ابراہیم کو بشارت دی اسحاق کی کہ وہ نبی ہوں گے صالحین میں سے) (وَبَارَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰی اِِسْحَاقَ ) (اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں) (وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ) (اور ان دونوں کی نسل میں بعض اچھے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کھلے طور پر اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو بیٹے عطا فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے جن کے ذریعے مکہ معظمہ آباد ہوا ہے اور ان کے ساتھ مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 112–113

دوسری بشارت کا ذکر وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین۔۔۔ الی۔۔۔ و ظالم لنفسہ مبین۔ گذشتہ آیات میں پہلے فرزند یعنی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے اور اکلوتے بیٹے تھے اور ان کے ذبح اور فدیہ کا حال ذکر کیا اب اس کے بعد ان کے دوسرے فرزند یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک دوسرے فرزند کی بشارت دی کہ تمہارے ایک اور فرزند ہوگا جس کا نام اسحاق ہوگا اور وہ نبی ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا اور باتفاق علما حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 111–114

51:۔ ولقد مننا الخ : یہ تیسرا اور چوتھا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی قوم کو فرعون نے غلام بنا رکھات تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی قوم کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور پھر فرعون کے لشکر سے دریا میں معجزانہ راستے بنا کر ان کو بچایا۔ وہ تو خود مصائب میں خداوند تعالیٰ کے محتاج ہیں اسلیے شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ مننا میں احسان سے دینی اور دنیوی احسانات مراد ہیں انعمنا علیہما بالنبوۃ وغیرہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ (روح ج 23 ص 138) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَبَشَّرْنٰہُ بِـاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ 112 بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–112

ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 112–113

وَبَشَّرْنٰـہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَبٰـرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ ط وَمِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّـنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ۔ (الصآفات : 112، 113) (اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی کی صالحین میں سے۔ اور ہم نے اسے اور اسحاق کو برکت دی اور ان کی ذُرِّیت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم کرنے والا ہے۔ ) حضرت اسحاق (علیہ السلام) قربانی کا انعام ہیں تورات کی روایت کے مطابق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اس وقت پیدا ہوئے جبکہ ان کے والد ماجد کی عمر 86 سال تھی۔ اور تورات ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کی عمر 13 سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 112–117

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تحریف ہونے کے باوجود تورات کتاب پیدائش (باب 17، 24، 25) میں موجود ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ جس وقت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو خلیل (علیہ السلام) کی عمر 86 سال کی تھی اور جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر ننانوے یا سو سال تھی۔ تحقیق کے مطابق آپ کنعان میں پیدا ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں 137 سال کی عمر میں وفات پائی۔ جناب اسحاق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

112: وَبَشَّرْنٰـہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا (ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت دی) نحو : نبیا یہ اسحاق سے حال مقدرہ ہے۔ مضاف کا محذوف ماننا ضروری ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی۔ وبشرناہ بوجود اسحاق نبیًا۔ ای بان یوجد مقدرۃ نبوتہ۔ ان کی نبوت کا مقدر ہونا پایا جائے۔ پس حال میں وجود عامل ہے۔ فعل بشارت عامل نہیں۔ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (کہ نبی اور نیک بختوں میں سے ہونگے) نحو : یہ دوسرا حال ہے۔ اور یہ بطور ثناء لایا گیا ہے۔ کیونکہ ہر پیغمبر کا صالحین میں سے ہونا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

112، وبشرناہ باسحاق نبیا من الصالحین، جنہوں نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ قرار دیا۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اس قصہ کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو نبی ہونے کی بشارت دی اور جو حضرات حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ مانتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نبوت کی خوشخبری سنائی ۔ عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ ان کو دومرتبہ خوش خبری دی گئی۔ ایک مرتبہ ان کی پیدائش اور دوسری مرتبہ ان کو نبوت ملنے کے وقت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–113

102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

75 حضرت ابراہیم کے لیے حضرت اسحاق کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو اسحاق کی خوشخبری دی جو کہ نبی ہوں گے ۔ ہمارے یہاں قرب خاص کے ۔ سزاواروں میں سے "۔ سو اس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوگئی کہ ذبیح حضرت اسماعیل تھے نہ کہ حضرت اسحق۔ جیسا کہ بعض اسرائیلی روایات میں وارد ہوا ہے اور انہی کی بنا پر بہت سے اسلاف کرام نے بھی اس قول کو اختیار کرلیا۔ سو ایسی تمام روایات بےبنیاد اور یہود کے افترا کا پلندہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ایک تو اس لئے کہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ذکر کے ضمن میں ذبح کا قصہ بیان فرمانے کے بعد حضرت اسحاق کا ذکر آگے الگ اور مستقل طور پر فرمایا جا رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–113

آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 108–112

ف 1 اس میں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس چیز کی دلیل ہے کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) تھے نہ کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کیونکہ ان کے تو جوانی کو پہنچ کر نبی بننے کی بشارت دی گئی تھی پھر ان کو ذبح کرنے کا حکم کیونکر دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:112) بشرنہ۔ بشرنا ماضی جمع متکلم تبشیر (تفعیل) مصدر سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو بشارت دی۔ خوشخبری دی باسحق۔ اسحاق غیر منصرف ہے بوجہ علمیت اور عجمہ۔ اسی لئے باء حرف جار آنے کے باوجود اس کے نیچے کسرہ نہیں آئی۔ نبیا۔ اسحاق سے حال ہے اور اسی طرح من الصلحین بھی اسحاق سے حال ہے۔ یعنی ہم نے اس (حضرت ابراہیم) کو بشارت دی اسحاق کی (اور حال یہ ہوگا) کہ وہ نبی ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–113

قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 107–112

[22] حدیث میں آتا ہے کہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا گیا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے فدیے میں ذبح فرمایا۔ اسے بڑی قربانی اس لئے فرمایا کہ قربانی کی یہ رسم اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے قائم کردی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 102–112

ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(112) اور ہم نے منجملہ اور احسانات کے ابراہیم کو اسحاق کی بھی بشارت دی تھی جو نبی اور شائستہ اور سعادتمند لوگوں میں گے ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہا کہ وہ پہلی خوشخبری اسماعیل کی تھی اور سارا قصہ ذبح کا انہی پر تھا یہود کہتے ہیں ذبح کیا اسحاق کو لیکن خلاف ہے اسحاق کی خوشخبری کے ساتھ خبر ہے یعقوب کی بھی سورة ہود میں ہوچکا اور خبر ہے نبی ہونے کی یہ سن کر حضرت ابراہیم پوچھتے کہ ابھی دونوں باتیں ظہور میں نہیں آئیں ذبح کیوں کر ہوگا۔ خلاصہ : یہ کہ یہود کا قول کہ وہ حضرت اسحق کو ذبح قرار دیتے ہیں یہ قرآنی نصوص سے معتبر نہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دو واقعے ہیں اسماعیل کے ساتھ منیٰ میں ہوا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے اس کو ایک اور بیٹے اسحاق کی بشارت دی کہ وہ بھی نبی اور نیک ہوگا : 112۔ اسحاق (علیہ السلام) سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سے پندرہ سال چھوٹے ہیں اور سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان کی بشارت کا ذکر سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے ، ان کی پیدائش کی خوشخبری اسی وقت دی گئی جب لوط (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور ساتھ ہی بیٹے کی عمر بھی رجسٹرڈ کردی اس لیے خبر دی گئی کہ براہ راست اسحاق (علیہ السلام) کی والدہ کو مخاطب کیا گیا اور اس کو بیٹے کی خبر دی اور ظاہر ہے کہ یہ سارہ ہی تھیں جو اسحاق (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھیں اور خوشخبری میں بتایا گیا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک فرزند دے گا اور پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Which son was to be slaughtered? Was it Sayyidna Ismai1 (علیہ السلام) ? Or, was it Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) ? The Tafsir of the verses cited above has been described on the assumption that the son who was to be slaughtered was Sayyidna Ismail (علیہ السلام) . But, the truth of the matter is that there is a severe difference of opinion among commentators and historians about it. That this son was Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) has been reported from among the Sahabah by Sayyidna ` Umar, Sayyidna ` Ali, Sayyidna ` Abdullah Ibn Mas` ud, Sayyidna ` Abbas, Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 107–112

66 "A great sacrifice" : A ram, as mentioned in the Bible and the Islamic traditions, that Allah's angel presented at the time before the Prophet Abraham, so that he should sacrifice it instead of his son. This has been called "a great sacrifice" because it was to serve as a ransom from a faithful servant like Abraham for a patient and obedient son like Ishmael, and Allah made it a means of fulfilling the intention of an unprecedented sacrifice. Another reason for calling it "a great" sacrifice is that AIlah made it a tradition till the Day of Resurrection that all the believers should offer…

Read the full tafseer →