اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۟اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, he was of Our believing servants.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۟اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, he was of Our believing servants.
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا
وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
بیشک وه ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا
یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،
بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔
بلاشبہ وہ ہمارے ایماندار بندوں سے تھے
بیشک وہ ہمارے باایمان بندوں میں سے تھا
بلاشبہ وہ ہمارے خاص ایماندار بندوں میں سے تھے
بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں تھے۔
یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا
بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے
Surely he was one of Our believing servants.
Surely, he is among Our believing servants.
Surely, he is among Our believing servants.
Verily, he was one of Our believing servants.
Lo! he is one of Our believing slaves.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, he was of Our believing servants.
He was one of Our believing servants.
Surely he was one of Our believing servants.
Verily he was one of Our believing bondmen.
For he was one of our believing Servants.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 99–113
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
سورة الصّٰٓفّٰت 66 " بڑی قربانی " سے مراد، جیسا کہ بائیبل اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے، ایک مینڈھا ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ابراہیم ؑ کے سامنے پیش کیا، تاکہ بیٹے کے بدلے اس کو ذبح کردیں۔ اسے بڑی قربانی کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ وہ ابراہیم ؑ جیسے وفادار بندے کے لیے فرزند ابراہیم ؑ جیسے صابر و جاں نثار لڑکے کا فدیہ تھا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بےنظیر قربانی کی نیت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسے " بڑی قربانی " قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھر میں جانور قربان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ آسمانی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھا تو حضرت جبرئیل ؑ ایک مینڈھا لئے کھڑے تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی مینڈھا تھا جس کی قربانی حضرت آدم ؑ کے صاحبزادے حضرت ہابیل نے پیش کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ جنتی مینڈھا حضرت ابراہیم ؑ کو عطا ہوا اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کے بجائے اس کو قربان کیا۔ اس ذبیحہ کو ”عظیم“ اس لئے کہا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا تھا اور اس کی قربانی کے مقبول ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ (تفسیر مظہری وغیرہ)
Read the full tafseer →انہ من عبادنا المومنین (111) لفظ مومنین یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ بیشک ابراہیم ؑ ہمارے حقیقی مومن بندوں میں سے تھا۔ اس سے ایمان کی اصل حقیقی ایمان وہ ہے جس کے اندر اخلاص و احسان کی وہ روح ہو جس کی مثال حضرت ابراہیم ؑ نے پیش کی۔ ہر مدعی کا ایمان اللہ کے ہاں درخواعتنا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–112
112۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق ؑ کی اور اس کے نبی ہونے کی خوشخبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل ؑ تھے۔ جو اس وقت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے تھے اسحاق ؑ کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف۔ ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق ؑ کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں تو قف اختیار کیا (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–122
22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔
Read the full tafseer →انہ من عبادنا المؤمنین (111) ” “۔ یہ ہے جزاء ان کے ایمان کی اور اس کی حقیقت وہ ہے جو اس آزمائش میں کامرانی سے ظہور میں آئی۔ اس کے بعد اللہ ان پر ایک بار پھر تجلیات فرماتا ہے۔ اور اللہ کا ایک بار پھر کرم ہوتا ہے۔ اور وہ یوں کہ بڑھاپے میں ان کو ایک دو سرا لڑکا اسحاق دیا جاتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی برکت دی جاتی ہے۔ اور ان کے بیٹے اسحاق کو بھی برکت دی جاتی ہے اور حضرت اسحاق کو بھی صالح نبی بنایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
13 یعنی ہمارے اعلیٰ درجہ کے ایماندار بندوں میں۔
Read the full tafseer →آیت 111{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
65 مُحْسِنِیْنَ کا ترجمہ اردو میں ایک دو لفظوں میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ لہذا عموماً اس کا ترجمہ نیکی کرنے والے یا نیکو کار کردیا جاتا ہے۔ إحْسَانٌ کا مطلب دراصل کسی کام کو بہتر سے بہتر طریق پر سرانجام دینا ہے۔ جیسا کہ حدیث جبریل سے واضح ہوتا ہے کہ جب سیدنا جبریل نے آپ سے یہ سوال کیا کہ إحْسَانٌ کیا چیز ہے۔ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : تو اللہ کی عبادت ایسے کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم اتنا تو سمجھے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے (متفق علیہ) اور احسان میں کم از کم تین باتوں کا ہونا ضروری ہے (1) جو کام کیا جائے پوری خلوص نیت سے اور رضائے الٰہی کے لئے کیا جائے۔ (2)…
Read the full tafseer →57۔ (توحید کامل کے علمبردار، عبدیت کامل کے مظہر) یہ موقع ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی انتہائی مدح وثنا کا ہے، اس موقع پر بھی کیا ارشاد ہوتا ہے ؟ یہ کہ وہ ہمارے بڑے اچھے بندے تھے ! ...... گویا مشرک وجاہلی قوموں کو یاد دلایا کہ کہیں انہیں خدائی کے مرتبہ پر نہ پہنچا دینا، اور ان کے نام کو برھما وغیرہ کی شکل میں بدل کر کہیں انہیں دیوتا نہ بنا لینا ! اللہ اللہ کس درجہ اہتمام توحید ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–113
آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…
Read the full tafseer →انہ من عبادنا المؤمنین بلاشبہ وہ ہمارے (خالص پختہ) ایمان والے بندوں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–111
(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (78 تا 81)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…
Read the full tafseer →اِنَّهٗ [بیشک وہ ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ [ہمارے ایمان لانے والے بندوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو جنت سے لایا گیا تھا، اور بعض روایات میں ہے کہ اس مینڈھے کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآخِرِیْنَ سَلاَمٌ عَلٰی اِِبْرٰھِیْمَ ) (اور ہم نے بعد کے آنے والوں میں ابراہیم کے بارے میں یہ بات چھوڑ دی کہ سلام ہو ابراہیم پر) (کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (ہم مخلصین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں) چناچہ بعد کے آنے والی تمام امتوں میں ان کا اور ان کی قربانی کا تذکرہ ہے اور اہل شریعت کے احکام اس شریعت سے ماخوذ ہیں اور نماز میں جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ تو نمازیوں کو یاد ہی ہے انہوں نے دعا بھی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–111
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
51:۔ ولقد مننا الخ : یہ تیسرا اور چوتھا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی قوم کو فرعون نے غلام بنا رکھات تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی قوم کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور پھر فرعون کے لشکر سے دریا میں معجزانہ راستے بنا کر ان کو بچایا۔ وہ تو خود مصائب میں خداوند تعالیٰ کے محتاج ہیں اسلیے شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ مننا میں احسان سے دینی اور دنیوی احسانات مراد ہیں انعمنا علیہما بالنبوۃ وغیرہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ (روح ج 23 ص 138) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ 111 عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…
Read the full tafseer →اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 111) (یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ ) مومن یہاں اپنے مکمل معنی میں ہے۔ علم الیقین ہو، عین الیقین ہو یا حق الیقین ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور آپ کے احکام کے بارے میں ہر طرح کے یقین کی قوت سے مالامال تھے۔ اور یہ یقین کی قوت ہی کے کرشمے ہیں کہ بڑی سے بڑی قربانی کے وقت بھی ان کے پائے استقامت میں کبھی تزلزل نہ آیا۔ ان کی پوری زندگی خودفراموشی اور اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقتی یاد سے وابستہ ہے۔ وہ جانثاری اور فداکاری کی تصویر ہیں۔ ان کے ایمان کا کم سے کم درجہ وہ ہے جسے اقبال نے خراج تحسین پیش کیا ہے : یقیں مثل خلیل آتش نشینی یقیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…
Read the full tafseer →111: اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
108، وترکنا علیہ فی الاخرین، یعنی ان کا ذکرخیر آنے والوں میں رکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–113
آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–140
ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–111
73 ایک عظیم الشان اور بےمثال امتحان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ایک ۔ بڑی بھاری اور۔ کھلی آزمائش تھی "۔ اور اس سے بڑھ کر کھلی اور بڑی آزمائش اور کیا ہوگی کہ بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے بیٹے کا جو کہ نہایت ہونہار اور اطاعت گزارو صدق و فاشعار بیٹاہو۔ اور جو کہ خصوصی دعاؤں و التجاؤں سے اور بڑی امیدوں اور تمناؤں کے بعد بڑھاپے میں ملا ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ وہ دوڑ دھوپ کرنے اور کام آنے کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ ایسے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوجانا اور وہ بھی رب کی طرف سے محض خواب میں ملنے والے ایک اشارے کی بناء پر، جس کی کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–113
آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–113
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–112
ف 1 اس میں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس چیز کی دلیل ہے کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) تھے نہ کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کیونکہ ان کے تو جوانی کو پہنچ کر نبی بننے کی بشارت دی گئی تھی پھر ان کو ذبح کرنے کا حکم کیونکر دیا جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
(37:108 ۔ 109 ۔ 110) مناسب تغیر وتبدل کے ساتھ آیات (78، 79، 80) مذکورہ بالا ملاحظہ ہوں۔ آیت 110 میں کذلک سے پہلے انا (تاکید و تحقیق کے لئے) اس لئے ذکر نہیں کیا گیا کہ تکرار سے کوئی فائدہ نہ تھا۔ آیت سابقہ نمبر 105 میں انا مذکور ہے۔ وہی کافی ہے (یعنی معنی یہاں بھی وہی مراد ہے جو سابق آیت میں مراد تھی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
[22] حدیث میں آتا ہے کہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا گیا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے فدیے میں ذبح فرمایا۔ اسے بڑی قربانی اس لئے فرمایا کہ قربانی کی یہ رسم اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے قائم کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–112
ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →(111) بلا شبہ وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسا ایمان کس کو نصیب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
ف 4۔ کہ ان کو محل و عار و بشارت بالسلامت کا بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے ایک بندہ تھا : 111۔ (مؤمن) امن دینے والا ۔ انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی مؤمن ہے ۔ وہ بندے جن سے امن ظاہر ہو یا مجسمہ امن ہوں اور ان سے کسی طرح بھی امن کے منافی کوئی چیز نہ پائی جاتی ہو اور اصطلاح شرعی میں ایمان والا وہی ہوگا جس سے امن کے خلاف کوئی چیز موجود نہ ہو اور آج کل جن لوگوں نے اپنے نام کے ساتھ مومن کا لفظ لازم وضروری قرار دے لیا ہے وہ وہی ہیں جو مجسمہ شر اور برائی ہیں جن میں خیر نام کی چیز شاید ہی کہیں پائی جاتی ہو اور لوگوں کے دل دکھانا جن کا نصب العین ہے گویا انہوں نے مومن کے لفظ ہی کو ناپاک کر کے رکھ دیا ہے ، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
In verse 107, it was said: وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (And We ransomed him with a great sacrifice.). In Hadith reports, it is said that on hearing this voice from the heavens, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) looked up and saw Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) with a ram. From some reports, it appears that it was the same ram that was offered as sacrifice by Habil (Abel), the son of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) . Allah knows best. In short, a present of this ram of Paradise was made to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، and he sacrificed it in lieu of his son as commanded by Allah. This…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
66 "A great sacrifice" : A ram, as mentioned in the Bible and the Islamic traditions, that Allah's angel presented at the time before the Prophet Abraham, so that he should sacrifice it instead of his son. This has been called "a great sacrifice" because it was to serve as a ransom from a faithful servant like Abraham for a patient and obedient son like Ishmael, and Allah made it a means of fulfilling the intention of an unprecedented sacrifice. Another reason for calling it "a great" sacrifice is that AIlah made it a tradition till the Day of Resurrection that all the believers should offer…
Read the full tafseer →