As-Saaffaat 37:110

As-Saaffaat · from ayah 110

37:110

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۟كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ

نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We thus reward the doers of good.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:110

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم اسی طرح محسنوں کو صلہ دیا کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی طرح ہم خوب کاروں کو صلہ دیتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نیکو کاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus do We reward the good-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is how We reward those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

This is how We reward those who are good in their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus indeed do We reward the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, We thus reward the doers of good.

— Saheeh International

Thus, do We reward the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

Thus do We reward the doers of good.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! thus We compense the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus indeed do We reward those who do right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–113

ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات۔ خلیل اللہ جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔ بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کردیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ تھے یہی آپ کے لیے صاحبزادے تھے اور حضرت اسحاق سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 107–112

سورة الصّٰٓفّٰت 66 " بڑی قربانی " سے مراد، جیسا کہ بائیبل اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے، ایک مینڈھا ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ابراہیم ؑ کے سامنے پیش کیا، تاکہ بیٹے کے بدلے اس کو ذبح کردیں۔ اسے بڑی قربانی کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ وہ ابراہیم ؑ جیسے وفادار بندے کے لیے فرزند ابراہیم ؑ جیسے صابر و جاں نثار لڑکے کا فدیہ تھا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بےنظیر قربانی کی نیت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسے " بڑی قربانی " قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھر میں جانور قربان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 107–111

وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ آسمانی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھا تو حضرت جبرئیل ؑ ایک مینڈھا لئے کھڑے تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی مینڈھا تھا جس کی قربانی حضرت آدم ؑ کے صاحبزادے حضرت ہابیل نے پیش کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ جنتی مینڈھا حضرت ابراہیم ؑ کو عطا ہوا اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کے بجائے اس کو قربان کیا۔ اس ذبیحہ کو ”عظیم“ اس لئے کہا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا تھا اور اس کی قربانی کے مقبول ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ (تفسیر مظہری وغیرہ)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کذلک نجزی المحسنین (110) کذلک کا اشارہ اسی سلامتی و برکت کی طرف ہے۔ فرمایا کہ ہم اپنے خوب کار بندوں کو اسی طرح اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 108–112

112۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق ؑ کی اور اس کے نبی ہونے کی خوشخبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل ؑ تھے۔ جو اس وقت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے تھے اسحاق ؑ کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف۔ ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق ؑ کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں تو قف اختیار کیا (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 107–122

22: چونکہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا، اور حضرت اسماعیل علیہ زندہ سلامت رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کذلک نجزی المحسین (110) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ آزمائش میں ڈال کر ان سے وفا کا اظہار کرا کے ، ان کے ذکر کو دوام بخش کر ، ان پر سلام بھیج کر ، اور ان کو اعزاز دے کر ہم جزاء دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 110{ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

65 مُحْسِنِیْنَ کا ترجمہ اردو میں ایک دو لفظوں میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ لہذا عموماً اس کا ترجمہ نیکی کرنے والے یا نیکو کار کردیا جاتا ہے۔ إحْسَانٌ کا مطلب دراصل کسی کام کو بہتر سے بہتر طریق پر سرانجام دینا ہے۔ جیسا کہ حدیث جبریل سے واضح ہوتا ہے کہ جب سیدنا جبریل نے آپ سے یہ سوال کیا کہ إحْسَانٌ کیا چیز ہے۔ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : تو اللہ کی عبادت ایسے کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم اتنا تو سمجھے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے (متفق علیہ) اور احسان میں کم از کم تین باتوں کا ہونا ضروری ہے (1) جو کام کیا جائے پوری خلوص نیت سے اور رضائے الٰہی کے لئے کیا جائے۔ (2)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 85–113

آیت نمبر 85 تا 113 ترجمہ : اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے رب انی مغلوبٌ فانتصر کہہ کر پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے فریادرسی کرنے والے ہیں، یعنی اس نے ہم سے اپنی قوم کے لئے بد دعاء کی چناچہ ہم نے ان کو غرق کرکے ہلاک کردیا اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو بڑے بھاری غم یعنی غرق سے نجات دی اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رکھا، تو تمام لوگ نوح (علیہ السلام) ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے تین لڑکے تھے، سام یہ عرب اور فارس اور روم کے جدا علیٰ ہیں، اور حامؔ یہ سوڈان کے جد اعلیٰ ہیں، اور یافثؔ ترک اور خزرج اور یا جوج وماجوج اور جو ان کے پاس ہیں، ان کے جدا علیٰ ہیں، اور ہم نے بعد والوں میں یعنی انبیاء اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کذلک نجزی المحسنین ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ کَذٰلِکَ نَجْزِیْ سلامتی کی علّت ہے (یعنی ابراہیم کیلئے سلامتی اس وجہ سے ہوئی کہ ہم نیکی کرنے والوں کو یونہی بدلہ دیتے ہیں) کَذٰلِکَ سے پہلے اس جگہ لفظ اِنَّا (تاکیدیہ تحقیقیہ) اسلئے ذکر نہیں کیا کہ (تکرار سے کوئی فائدہ نہ تھا) آیت سابقہ میں اِنَّا مذکور ہے ‘ وہی کافی ہے (یعنی معنیً یہاں بھی وہی مراد ہے ‘ جو سابق آیت میں مراد تھی) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 103–111

(103۔ 111) غرض کہ جب دونوں حکم الہی کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے کروٹ پر لٹا دیا تو ہم نے آواز دی کہ ابراہیم آپ نے خواب کو سچا اور پورا کر کے دکھایا ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان اور ہم نے ایک موٹا مینڈھا اس کے بدلہ میں دیا اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 108–111

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (78 تا 81)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 102–113

102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 102–111

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذٰلِكَ نَجْزِي [اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 108–111

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو جنت سے لایا گیا تھا، اور بعض روایات میں ہے کہ اس مینڈھے کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآخِرِیْنَ سَلاَمٌ عَلٰی اِِبْرٰھِیْمَ ) (اور ہم نے بعد کے آنے والوں میں ابراہیم کے بارے میں یہ بات چھوڑ دی کہ سلام ہو ابراہیم پر) (کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (ہم مخلصین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں) چناچہ بعد کے آنے والی تمام امتوں میں ان کا اور ان کی قربانی کا تذکرہ ہے اور اہل شریعت کے احکام اس شریعت سے ماخوذ ہیں اور نماز میں جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ تو نمازیوں کو یاد ہی ہے انہوں نے دعا بھی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–111

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 109–110

50:۔ و بشرنہ الخ، سیاق وسباق قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کر کے شام میں سکونت پذیر ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے فرزند عطا کرنے کی دعا کی۔ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایک غلام حلیم کی ولادت کی خوشخبری دی۔ جب یہ غلام حلیم بڑا ہوا تو اس کو ذبح کرنے کا حکم آگیا۔ پھر جب واقعہ ذبح گذر گیا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دوسرے فرزند حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ قرآن کا یہ سیاق واضح دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت ہی اس واقعہ کے بعد ہوئی برکنا علیہ الخ :…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–113

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 110 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–112

ترکیب : فلما اسلما جو ابہ محذوف ظھر صبر ھما اوصدقھما او نحوہ ھذا عند البصرییں وعند الکوفیین جو ابہ نادیناہ والواو زائدۃ و تلہ صرعہ و اسقطہ فی القاموس تلہ تلامن باب قتل فھو متلول و تلیل صرعہ یقال تللت الرجل اذا القیتہ و التسل الصرع۔ تفسیر : ان آیات میں قابل بحث دو ہی بات ہیں۔ اول یہ کہ یہ بیٹے کے ذبح کرنے کا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح سے پیش آیا ؟ اس کی بابت ہمارے مفسروں کا یہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھیاسی برس کی عمر میں ہاجرہ مصری کے پیٹ سے ان کی بڑی منت والتجا کے بعد پہلوٹھا بیٹا اسماعیل ( علیہ السلام) عطا کیا جس کی نسبت یوں فرماتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 109–110

سَلٰـمٌ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ۔ کَذٰلِکَ نْجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 109، 100) (سلامتی ہے ابراہیم پر۔ اسی طرح ہم خوبکاروں کو جزاء دیتے ہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صدق و اخلاص کے باعث دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے سلامتی لازم کردی ہے۔ آج بھی جو شخص ان کا ذکر کرتا ہے ان کی سلامتی کے لیے دعا بھی کرتا ہے۔ اور یہ سلامتی اور برکت کسی حسب و نسب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق و اخلاص، وفاداری و جانثاری اور اخلاصِ عمل میں ہر طرح کی کمزوریوں سے پاک ہوں۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یقینا ایسے تھے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–111

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

110: کَذٰلِکَ نجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) ۔ یہاں کلام میں اِنَّاؔ استعمال نہیں فرمایا۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ہے۔ کیونکہ اس واقعہ میں پہلے کہا جاچکا۔ اس لئے دوسری مرتبہ ذکر کرنے کی بجائے اس پر اکتفاء کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 108–111

108، وترکنا علیہ فی الاخرین، یعنی ان کا ذکرخیر آنے والوں میں رکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–113

102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–113

آیت 83 یعنی نوح اور ان لوگوں کے گروہ میں، جو نبوت و رسالت، دعوت الی اللہ اور قبولیت دعا میں آپ کے طریقے پر ہیں، ابراہیم خلیل اللہ بھی شامل ہیں (اذ جآء ربہ بقلب سلیم) ” جب کہ وہ اپنے رب کے ہاں صاف دل لے کر آئے “ شرک، شبہات و شہوات سے جو تصور حق اور اس پر عمل کرنے سے مانع ہیں۔ جب بندہ مومن کا قلب ہر برائی سے پاک اور سلامت ہوگا، تو اسے ہر قسم کی بھلائی حاصل ہوگی۔ بندہ مومن کا سلیم القلب ہونا یہ کہ اس کا دل مخلوق کو دھوکہ دینے، ان سے حسد کرنے اور اس قسم کے دیگر برے اخلاق سے سلامت اور محفوظ رہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم نے محض اللہ کے مخلوق کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ اور اپنی قوم سے اس کی ابتد ا کی،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 102–140

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 106–111

73 ایک عظیم الشان اور بےمثال امتحان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ایک ۔ بڑی بھاری اور۔ کھلی آزمائش تھی "۔ اور اس سے بڑھ کر کھلی اور بڑی آزمائش اور کیا ہوگی کہ بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے بیٹے کا جو کہ نہایت ہونہار اور اطاعت گزارو صدق و فاشعار بیٹاہو۔ اور جو کہ خصوصی دعاؤں و التجاؤں سے اور بڑی امیدوں اور تمناؤں کے بعد بڑھاپے میں ملا ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ وہ دوڑ دھوپ کرنے اور کام آنے کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ ایسے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوجانا اور وہ بھی رب کی طرف سے محض خواب میں ملنے والے ایک اشارے کی بناء پر، جس کی کئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–113

آزمائش اطاعت اور اس کا بدلہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنی قوم سے ناامید ہوگئے تو آپ عراق سے ہوتے ہوئے شام میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیک نیتی، عبادت، آزمائش میں پورا اترنے اور اللہ کی راہ میں ہر مشکل اٹھانے حتیٰ کہ اپنا وطن بھی چھوڑ دینے کے بدلے میں آپ کو بےحد عزت عطا کی آپ کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری کیا اور تمام اہل کتاب آپ کی عزت کرتے ہیں۔ مسلمان خاص طور سے درود شریف میں سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور تا قیامت بھیجتے رہیں گے۔ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے وہ عرب ہیں جن میں سیدنا محمد ﷺ آخری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–113

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 75 تا 113: اسرار و معارف : یہ نہ سمجھا جائے کہ اہل حق کو صرف آخرت ہی میں کامیابی ہوگی اور دنیا پہ کافر ہی موج کرے گا ہرگز نہیں ۔ اگر وقتی طور پر کفر کو غلبہ مل جائے تو آخر تباہ ہو کر درس عبرت بن جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ حق کو ہی غالب رکھتے ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں غور کرو کہ صدیوں کفر اور کفار نے ان کا مذاق اڑایا انہیں ایذا دی پھر آخر انہوں نے ہمیں پکارا اور دعا کی کہ یا اللہ ان کے مقابلے میں میری مدد کر تو ہم ہی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ ہم نے ایسی سنی کہ اس ساری مصیبت سے بھی انہیں نجات دی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے پیروکار تھے اور انہیں عذاب سے بھی محفوظ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 108–112

ف 1 اس میں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس چیز کی دلیل ہے کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) تھے نہ کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کیونکہ ان کے تو جوانی کو پہنچ کر نبی بننے کی بشارت دی گئی تھی پھر ان کو ذبح کرنے کا حکم کیونکر دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 108–111

(37:108 ۔ 109 ۔ 110) مناسب تغیر وتبدل کے ساتھ آیات (78، 79، 80) مذکورہ بالا ملاحظہ ہوں۔ آیت 110 میں کذلک سے پہلے انا (تاکید و تحقیق کے لئے) اس لئے ذکر نہیں کیا گیا کہ تکرار سے کوئی فائدہ نہ تھا۔ آیت سابقہ نمبر 105 میں انا مذکور ہے۔ وہی کافی ہے (یعنی معنی یہاں بھی وہی مراد ہے جو سابق آیت میں مراد تھی) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–113

لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ ذاھب ( جانے والا) ھب (عطاء کر) غلام ( بیٹا ، لڑکا) حلیم ( برداشت کرنے والا ، حلیم الطبع) المنام ( نیند ، خواب) اسلما (دونوں نے گردن جھکادی) تلہ (اس کو لٹا دیا ، گرایا) جبین ( پیشانی) الرء یا ( خواب) ذبح عظیم (بڑا ذبیحہ (مینڈھا) محسن ( نیکیاں کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 99 تا 113 :۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی سب سے بڑی آزمائش یہی تھی کہ جب آپ نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور حقیقت کھول کر رکھ دی تب ان کو اس زبردست آگ میں پھینکا گیا جس کے شعلوں کی بلندی کا یہ حال تھا کہ اگر اس آگ پر سے کوئی پر نہ بھی گزر جاتا تو وہ جل بھن کر کباب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–113

قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 107–112

[22] حدیث میں آتا ہے کہ جنت سے ایک دنبہ بھیجا گیا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کے فدیے میں ذبح فرمایا۔ اسے بڑی قربانی اس لئے فرمایا کہ قربانی کی یہ رسم اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے قائم کردی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 102–112

ذبیح کون تھا ؟ 1: ان آیات میں دین کے لئے اور خدا کی اطاعت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عدیم النظیر قربانی کا ذکر ہے ۔ کہ کیوں کر انہوں نے باوجود باپ ہونے کے اپنے بیٹے کی گردن پر اپنے ہاتھ سے چھری رکھ دی ۔ اور کس سعادت مندی سے ان کے بیٹے نے اپنے کو اس ایثار عظیم کے لئے پیش کیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی تاریخ میں اس واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ کہ اللہ کے ایک اشارہ پر اپنے لخت جگر کو ذبح کردینے کا باپ تیہہ کرلے ۔ اور باپ کی فرمانبرداری میں بیٹا جانِ عزیز تک کی پرواہ نہ کرے ۔ حل لغات :۔ وتلہ ۔ التل کے اصل معنے اونچی جگہ کے ہیں ۔ اور فعل صورت میں یہ مقصد ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم اپنے مخلص بندوں کو یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں : 110۔ یہ وہی آیت جو اس سورت کی آیت 80 کے طور پر بھی گزر چکی ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ وہاں سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر میں آئی تھی اور اس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں آرہی ہے اور اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو محسنین کے لیے جزا مقرر کی ہے وہ اسی طرح بدستور جاری وساری ہے ‘ پہلے نیک بندوں کے لیے بھی اسی طرح تھی اور آئندہ نیک بندوں کو بھی ملتی رہے گی ، ہاں ! درجات کا فرق پہلے بھی تھا وہ آج بھی بدستور موجود ہے اور وہ جزا جو انبیاء ورسل کے لیے خاص تھی وہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے ساتھ ختم کردی گئی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 107–111

In verse 107, it was said: وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (And We ransomed him with a great sacrifice.). In Hadith reports, it is said that on hearing this voice from the heavens, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) looked up and saw Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) with a ram. From some reports, it appears that it was the same ram that was offered as sacrifice by Habil (Abel), the son of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) . Allah knows best. In short, a present of this ram of Paradise was made to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، and he sacrificed it in lieu of his son as commanded by Allah. This…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 107–112

66 "A great sacrifice" : A ram, as mentioned in the Bible and the Islamic traditions, that Allah's angel presented at the time before the Prophet Abraham, so that he should sacrifice it instead of his son. This has been called "a great sacrifice" because it was to serve as a ransom from a faithful servant like Abraham for a patient and obedient son like Ishmael, and Allah made it a means of fulfilling the intention of an unprecedented sacrifice. Another reason for calling it "a great" sacrifice is that AIlah made it a tradition till the Day of Resurrection that all the believers should offer…

Read the full tafseer →