Yaseen 36:5

Yaseen · from ayah 5

36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ ۟ۙتَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ

یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[This is] a revelation of the Exalted in Might, the Merciful,

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:5

(اور یہ قرآن) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ قرآن اللہ زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ قرآن اس ذات کی طرف سے اتارا جارہا ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی رحمت بھی کامل۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عزت والے مہربان کا اتارا ہوا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ) بڑی عزت والے، بڑے رحم والے (رب) کا نازل کردہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ سب پر غالب، نہایت مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو غالب اور رحم کرنے والے کا نازل کردہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے خدائے عزیز و رحیم نے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ (قرآن) سراسر اتارا ہوا ہے اس ذات کا جو (سب پر) غالب انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

) یہ قرآن) نازل کیا گیا (خدائے) غالب ورحیم کی طرف سے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور اس قرآن کا) نازل کیا جانا ہے اس ہستی کی جانب سے جو بہت زبردست نہایت رحم فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ قرآن اللہ غالب اور مہربان نے نازل کیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(and this Qur'an) is a revelation from the Most Mighty, the Most Compassionate

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(this Qur‘an being) a revelation from the All- Mighty, the Very-Merciful,

— Muhammad Taqi Usmani

(this Qur‘an being) a revelation from the All- Mighty, the Very-Merciful,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Sent down by the Almighty, the Most Merciful,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A revelation of the Mighty, the Merciful,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[This is] a revelation of the Exalted in Might, the Merciful,

— Saheeh International

This is a revelation sent down from the Majestic and All-merciful

— Muhammad Sarwar

A revelation of the Mighty, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

This is a revelation of the Mighty, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

It is a Revelation sent down by (Him), the Exalted in Might, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–7

صراط مستقیم کی وضاحت۔ حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں جیسے یہاں یاسین ہے ان کا پورا بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں لہذا اب یہاں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یٰسین سے مراد اے انسان ہے۔ بعض کہتے ہیں حبشی زبان میں اے انسان کے معنی میں یہ لفظ ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ اللہ کا نام ہے، پھر فرماتا ہے قسم ہے محکم اور مضبوط قرآن کی جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا، کہ بالیقین اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سچے اچھے مضبوط اور عمدہ سیدھے اور صاف دین پر آپ ہیں، یہ راہ اللہ رحمٰن و رحیم صراط مستقیم کی ہے، اسی کا اترا ہوا یہ دین ہے جو عزت والا اور مومنوں پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 3 یہاں قرآن کے نازل کرنے والے کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ غالب اور زبردست ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ رحیم ہے۔ پہلی صفت بیان کرنے سے مقصود اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ یہ قرآن کسی بےزور ناصح کی نصیحت نہیں ہے جسے تم نظر انداز کردو تو تمہارا کچھ نہ بگڑے، بلکہ یہ اس مالک کائنات کا فرمان ہے جو سب پر غالب ہے، جس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اور جس کی پکڑ سے بچ جانے کی قدرت کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اور دوسری صفت بیان کرنے سے مقصود یہ احساس دلانا ہے کہ یہ سراسر اس کی مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنا رسول بھیجا اور یہ کتاب عظیم نازل کی تاکہ تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر یٰس (اس کی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے) قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں (اور) سیدھے رستہ پر ہیں (کہ اس میں جو آپ کی پیروی کرے خدا تک پہنچ جائے نہ کہ جیسا کفار کہتے ہیں لست مرسلاً ، یعنی آپ رسول نہیں، یا کہتے تھے بل افتراہ یعنی آپ نے خود گھڑ لیا ہے، جس کے لئے گمراہ ہونا لازم ہے اور قرآن تعمیم ہدایت کے ساتھ آپ کی رسالت و نبوت کی دلیل بھی ہے کیونکہ) یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور آپ پیغمبر اس لئے بنائے گئے ہیں) تاکہ آپ (اولاً) ایسے لوگوں کو (عذاب خداوندی سے) ڈراویں جن کے باپ دادے (قریب کے کسی رسول کے ذریعہ سے) نہیں ڈرائے گئے تھے، سو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تنزیل العزیز الرحیم (5) ’ تنزیل ‘ فعل مخذوف سے منصوب ہے۔ اس کے معنی کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم کرچکے ہیں کہ یہ کسی چیز کا درجہ بدرجہ نہایت اہتمام کے ساتھ اتارنے کے لئے بھی آتا ہے۔ یہ قرآن کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خدائے عزیز و رحیم نے نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ اتارا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں، اس کو سمجھیں اور اس سے صراط مستقیم، کی رہنمائی حاصل کریں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی دو صفتوں کے حوالہ ہے۔ ایک ’ عزیز ‘ دوسری ’ رحیم ‘۔ ان میں ایک صفت انداز کے لئے ہے اور دوسری بشارت کے لئے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی اس اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو عزیز ہے یعنی اس کا انکار اور اس کے رسول کو جھوٹا کرنے والے سے انتقام لینے پر قادر ہے رحیم ہے۔ یعنی جو اس پر ایمان لائے گا اور اس کا بندہ بن کر رہے گا اس کے لئے نہایت مہربان۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

تنزیل العزیز الرحیم (36: 5) ” یہ غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ ایسے مقامات پر اللہ اپنے بندوں سے اپنے آپ کو متعارف فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ کے کلام کی حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم ہے۔ وہ غالب ہے لہٰذا جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور رحیم ہے ، اس لیے اپنے بندوں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کے احکام میں رحمت کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قرآن کے نزول کے مقاصد کیا ہیں اور اس کی حکمت کیا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انجام بد د سے ڈرایا جائے اور ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ خصوصاً لتنذر قوما۔۔۔۔ فھم غفلون (36: 6) ” تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یہ دین کا سیدھا راستہ یا قرآن حکیم اس خدا کا اتارا ہوا ہے جو زبردست بھی ہے کہ منکر کو سزا دیے بغیر نہ چھوڑے، اور رحم فرمانے والا بھی کہ ماننے والوں کو نوازش و بخشش سے مالا مال کر دے۔ اسی لیے آیات قرآنیہ میں بعض آیات شان لطف و مہر کا اور بعض شان غضب و قہر کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ } ”اور اس قرآن کا نازل کیا جانا ہے اس ہستی کی جانب سے جو بہت زبردست ‘ نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 یعنی اس قرآن حکیم کو نازل کرنے والا کوئی کمزور قسم کا ناصح نہیں ہے جس نے کچھ احکام اور نصائح بھیج دیئے ہوں۔ جسے اگر تم قبول کرلو تو اچھا ہے اور اگر نظر انداز کردو تو بھی تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔ بلکہ اس کا نازل کرنے والا فرمانروائے کائنات ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور وہ رحیم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے تمہاری رہنمائی کے لئے یہ قرآن اور یہ نبی بھیج کر تم پر بہت مہربانی فرمائی ہے۔ تاکہ تم لوگ گمراہیوں سے بچ کر دنیا و آخرت کی فلاح سے ہمکنار ہوسکو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

2۔ یعنی انہیں اسی کا احساس نہیں کہ باز پرس اخروی ہے کیا چیز اور رسالت اور توحید کے معنی کیا ہیں۔ (آیت) ” لتنذر قوما “۔ قوم سے مراد قریش یا قوم عرب ہے۔ جو پیام اسلام کی اولین مخاطب تھی، جس دور سے دنیا اس وقت گزر رہی تھی۔ اور جس منزل میں اس وقت تھی، لوگوں کی سمجھ بھی آسکتا ہے تو عالمگیر نبوت اور کائناتی پیامبری کا تخیل تو وقت کے عام ذہنوں کی گرفت سے بالکل ہی باہر تھا۔ یہی راز ہے اس کا کہ قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کے پیام کی عالمگیری کو اس تصریح اور اس تکرار کے ساتھ نہیں بیان کیا ہے جس طرح آپ ﷺ کی پیامبری خود آپ ہی کی قوم، قریش یا عرب کی طرف بیان کی ہے۔ نبوت محمدی ﷺ کی یہ عالمگیر حیثیت بھی بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–12

آیت نمبر 1 تا 12 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) اور یہ قرآن حکیم خدائے زبردست و مہربان کا کلام ہے۔ تاکہ آپ اس قرآن حکیم کے ذریعے سے قریش کو ڈرائیں جن کے آباؤ اجداد آپ سے پہلے قریب کے کسی رسول کے ذریعے نہیں ڈرائے گئے سو اسی کی وجہ سے یہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم : یعنی یہ کسی بےاختیار اور بےبس شخص کا کلام نہیں جس کے جھٹلانے کی کوئی پروا نہ ہو، بلکہ اس اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے مقابلے میں نہ کوئی اپنا کلام لاسکتا ہے نہ اس کے کلام کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے اور نہ اسے جھٹلا کر کوئی اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ بیحد رحم والا بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لیے رسول بھیجا، کتاب نازل فرمائی، پھر تمہیں مہلت دی اور جھٹلانے پر فوراً نہیں پکڑا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

یسین میں قرأت کی کئی صورتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور نسائی نے نون کو واد میں ادغام کر کے پڑھا ہے۔ ابو عمروف ‘ اعمش اور حمزہ نے یٰسٓکو نون کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے عیسیٰ بن عمر نے یٰسنٓ یعنی نون کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن ابی اسحاق اور نصر بن عاصم نے اسے نون کے کسرہ کی ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون اعور اور محمد بن سمیقع نے یٰسنٓ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ پانچ قرائتیں ہیں۔ پہلی قرأت ادغام کے ساتھ ہے جس طرح لغت عربیہ میں ضروری ہے کیونکہ نون کو واو میں مدغم کیا جاتا ہے جس نے ادغام کے بغیر پڑھا ہے اس نے کہا : حروف ہجاء کا طریقیہ ہے کہ ان پر وقف کیا جائے ادغام تو درمیان کلام میں ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے محمد ﷺ کی ذات اقدس اور دوسرے لفظ میں یوں ہے : یامحمد (اے محمد ﷺ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے یا محمد (اے محمد ﷺ 3:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اے انسان۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن عکرمہ اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یسین سے مراد ہے اسے انسان حبشی زبان میں۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم [اس رحیم بلا دست کا نازل کرنا ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–6

(لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُھُمْ ) آپ کو جو نبوت سے نوازا گیا ہے اور آپ پر جو قرآن مجید نازل کیا گیا ہے یہ اس لیے ہے کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادوں کو نہیں ڈرایا گیا یعنی آپ کے اولین مخاطب اہل مکہ ہیں ماضی قریب میں ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا جو انہیں ڈراتا، یوں تو یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں انہوں نے انہیں دین حق کی تبلیغ کی تھی، توحید سمجھائی تھی، شرک سے بچنے کی تاکید کی تھی لیکن بعد میں یہ لوگ کفر اور شرک پر لگ گئے۔ (ھذا اذا کانت مانافیہ کما ھو المتبادر وقال ابن عطیۃ یحتمل ان تکون ما مصدریۃ تکون نعتًا لمصدرٍ مؤکد ای لتنذر قومًا انذارًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–6

3:۔ لتنذر الخ : یہ المرسلین سے متعلق ہے آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے باپ دادا کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور وہ تعلیمات الٰہیہ سے بیخبر ہیں۔ مراد مشرکین عرب ہیں۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد ان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک حیث لم یبعث بمکۃ نبی بعد اسماعیل (علیہ السلام) فھم اشدا احیتاجا الی الرسالۃ من غیرہم (مظہری ج 8 ص 6) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة یسین ہے جو کہ اس کے ابتدائی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا (ابوسعود ص 247 ج 4 و قرطبی ص 1 ج 15) نام سورة المعمۃ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سورة دنیا و آخرت کی بہتری پر مشتمل ہے۔ مفسرین (السراج المنیر ص 335 ج 3) اس کا تیسرا نام دافعہ بیان کرتے ہیں کہ یہ برائی کو دور کرنے والی سورة ہے۔ اس کا ایک نام (السراج المنیر ص 335 ج 3) قاضیہ بھی ہے کو ین کہ اس کی تلاوت انسانی حاجات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ سارے نام امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (بیضاوی ص 276 ج 2) میں بیان کئے ہیں۔ یہ سورة مکی دور کے وسطی زمانہ میں سورة جن کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تراسی آیات اور پانچ رکوع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ۝ 5 ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

چلنے کے لیے مجبور کرسکتا ہے اور نہ صرف تحکم و جابرانہ طور پر بلکہ رحیم کا نازل کیا ہوا ہے، اس میں سراسر بہتری رکھی ہے جس طرح حکیم مشفق یا مادر مہربان مریض کو دوا پینے پر مجبور کرتے ہیں اسی طرح اس کی رحمت تم سے چمٹ رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اُنْذِرَ اٰبَـآؤُھُمْ فَھُمْ غٰفِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 5، 6) (اس قرآن کو) نہایت اہتمام سے اتارا ہے زبردست رحم والے نے۔ تاکہ آپ خبردار کریں ایک ایسی قوم کو جن کے باپ دادا کو خبردار نہیں کیا گیا، پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ) قرآن کریم کی عظمت و اہمیت گزشتہ آیتوں میں قرآن کو شاہد بنا کر اور جس کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ہیں اور صراط مستقیم پر ہیں، پیش نظر آیت کریمہ میں اسی قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے کی اہمیت و عظمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ تَنْزِیْلَکا لفظ یہاں منصوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–5

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو کفار آپ کے مخالف ہوگئے۔ ان کی مخالفت کا سبب بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں کفار کا پروپیگنڈہ تھا کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی ہرزہ سرائی کرتے تھے کہ سردار عبد المطلب کا پوتا راہ راست سے بھٹک چکا ہے۔ ان الزامات کی تردید کے لیے آپ کو سردار کے لقب سے پکارتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا حلف دے کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اس لیے صاحب قرآن رسول بنا کر بھیجا تاکہ ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کے انجام سے ڈرائیں جن کے باپ دادا کو متنبّہ نہیں کیا گیا تھا اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان پر آپ کے رب کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5: تَنْزِیْلَ (نازل کیا ہوا ہے) ۔ قراءت : شامی، کوفی سوائے ابوبکر کے اور علی نے لام کا نصب پڑھا ہے۔ اقرأ تنزیل۔ نمبر 2۔ یہ مصدر منصوب ہے ای نزل تنزیل۔ دیگرقراء نے رفع سے پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ ای ھو تنزیل اور مصدر بمعنی مفعول ہے۔ الْعَزِیْزِ (زبردست) وہ اپنی نظم کتاب کی فصاحت کے سبب سرکشوں کے اوہام پر غلبہ والا ہے۔ الرَّحِیْمِ (مہربان کی طرف سے ہے) اپنے خطاب کے معنی کی لطافت سے ہدایت والوں کے فہموں کو کھینچنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5، تنزیل العزیز الرحیم، تنزیل نصب کے ساتھ ، ابن عامر، حمزہ والکسائی وحفص نے پڑھا ہے اور لام کے نصیب کے ساتھ گویا نزل تنزیلاپڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ خبرہوگی ۔ عبارت یہ ہوگی : ھوتنزیل العزیز الرحیم،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–11

5 تا 11۔ اوپر قرآن شریف کی قسم کھا کر یہ اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی ہے وہ قرآن ایسے اللہ کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑا صاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ کے علم میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ اس قرآن کو نہیں مانیں گے اس لیے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 قرآن حکیم وسیلہ عزت و عظمت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم عزت و عظمت کا سرچشمہ اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے اس ذات کا جو نہایت ہی زبردست ہے "۔ پس نہ تو کوئی اس کے اس کلام مقدس میں کسی طرح کی کوئی مداخلت کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ کر نکل سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ اس کتاب عزیز کو اپنائیں گے وہ صحیح معنوں میں اور حقیقی عزت سے سرفراز ہوں گے اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس کے برعکس جو لوگ اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 9 باپ دادا سے مراد قریب کے باپ دادا ہیں کیونکہ عربوں میں نبی ﷺ سے پہلے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ماانذر میں ما کو نافیہ قرار دیا جائے اور اگر اسے موصولہ بمعنی جو مان لیا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا اس لئے کہ تو عرب کے ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادا ڈرائے گئے تھے کیونکہ وہ دین کی باتوں سے غافل ہوچکے تھے۔ اس صورت میں آباء سے مراد قدیم آباء ہونگے جن کی طرف حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی بعثت ہوئی۔ ( تنبیہ) قرآن کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت سب کے لئے عام تھی اور صحیح احادیث میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری نبوت عام ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:5) تنزیل العزیز الرحیم۔ تنزیل فعل محذوف کا مفعول مطلق (مصدر) ہے ای نزل العزیز الرحیم تنزیلا (مولانا اشرف علی تھانوی ) ای نزل اللہ ذلک تنزیلا (قرطبی) نزل اللہ ذلک تنزیل العزیز الرحیم (شو کافی) خدائے غالب و زبردست اور نہایت مہربان کی اسی تنزیل کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ ای ھذا منزل من اللہ۔ ضمیر مفعول کا مرجع القرآن ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–12

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

قرآن کے جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) اوپر قرآن کی قسم کھاکریہ اسکی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن ایسے کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والے کو سزا دینے میں بڑازبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑاصاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا ان میں سے اکثر لوگوں پر بات تقدیری ثابت ہوچکی ہے اس لیے اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–5

[1] یعنی تمہارے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ قرآن ہے جو سراسر حکمت سے لبریز ہے۔ یہ چیز خود شہادت دے رہی ہے کہ جو شخص ایسا حکیمانہ کلام پیش کر رہا ہے وہ یقینا اللہ کا رسول ہے۔ (نیز قرآنی قسموں کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القران بر صفحہ 1262)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔ قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا جو نہایت زبردست نہایت رحم والا ہے۔ کمال قوت کا مالک ہے اس لئے جو احکام چاہے نازل کرسکتا ہے کوئی روکنے والا نہیں اور نہایت مہربان ہے اس ل ئے بندوں کو وہی حکم دیتا ہے اور بندوں کیلئے وہی احکام نازل فرماتا ہے جو بندوں کے دین اور دنیا کے لئے موجب فلاح اور موجب بہبود ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ قرآن حکیم غالب آنے والے پیار کرنے والے اللہ نے نازل کیا ہے : 5۔ یہ قرآن کریم کی تحدی ہے جس کو ہمارے ہاں چیلنج کے نام سے بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے ہوا ہے اور اگر غور کرو گے تو تم کو خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ یہ چیلنج کوئی معمولی چیلنج نہیں ہے کیونکہ ایک امی قوم کے امی انسان کی طرف ایسے پر حکمت کلام کا نزول ہی منجانب اللہ ہونے کی ایک زبردست دلیل ہے اور اتنی بڑی شہادت ہے کہ اس سے بڑی کوئی دلیل یا شہادت ہو ہی نہیں سکتی کہ یہ باتیں اس امی انسان کے منہ سے نکل رہی ہیں جس نے آج تک کسی انسان سے ایک حرف تک نہیں سیکھا اور کسی استاد کے سامنے تہ زانو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary The Merits of Surah Ya Sin Sayyidna Ma'qil Ibn Yasar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: یٰسٓ قَلبُ القُرآن (Surah Ya Sin is the heart of the Qur'an) and some words of this Hadith tell us that a person who recites Surah Ya Sin exclusively for the sake of Allah and the 'Akhirah is forgiven, and that it should be recited over the dead among us (reported by Ahmad and Abu Dawud and an-Nas'i and Ibn Hibban and al-Hakim and others - as in Ruh-ul-Ma’ ani and al-Mazhari). Imam al-Ghazzali said that one reason for calling Surah Ya Sin the heart of the Qur'an could be that, in this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 Here, two of the attributes of the Sender of the Qur'an have been mentioned. First, that He is All-Mighty; second, that He, is All-Merciful. The first attribute is meant to impress the reality that the Qur'an is not the counsel of a powerless preacher, which if you overlook or ignore, will not bring any harm to you; but this is the Edict of that Owner of the Universe, Who is All-Mighty, Whose decrees cannot be withheld from being enforced by any power, and Whose grasp cannot be avoided by anyone. The second attribute is meant to make one realize that it is all due to His kindness and mercy…

Read the full tafseer →