موسیٰ ؑ کا مزاج۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ بہت ہی شرمیلے اور بڑے لحاظ دار تھے۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا۔ کتاب التفسیر میں تو امام صاحب اس حدیث کو اتنا ہی مختصر لائے ہیں، لیکن احادیث انبیاء کے بیان میں اسے مطول لائے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ بوجہ سخت حیا و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے۔ بنو اسرائیل آپ کو ایذاء دینے کے درپے ہوگئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ سے دور کردے۔ ایک دن حضرت موسیٰ ؑ تنہائی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
سورة الْاَحْزَاب 118
یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید میں " اے لوگو جو ایمان لائے ہو " کے الفاظ سے کہیں تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا گیا ہے، اور کہیں مسلمانوں کی جماعت بحیثیت مجموعی مخاطب ہے جس میں مومن اور منافق اور ضعیف الایمان سب شامل ہیں، اور کہیں روئے سخن خالص منافقین ہی کی طرف ہے۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو الذین اٰمنوا کہہ کر جب مخاطب کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ان کو شرم دلانا ہوتا ہے کہ تم لوگ دعویٰ تو ایمان لانے کا کرتے ہو اور حرکتیں تمہاری یہ کچھ ہیں۔ سیاق وسباق پر غور کرنے سے ہر جگہ بآسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس جگہ الذین اٰمنوا سے مراد کون ہیں۔ یہاں سلسلۂ کلام صاف بتارہا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے (کچھ تہمت تراش کر) موسیٰ ؑ کو ایذاء دی تھی سو ان کو خدا تعالیٰ نے بری ثابت کردیا اس چیز سے جو وہ کہتے تھے (یعنی ان کو تو کچھ نقصان نہ پہنچا تہمت لگانے والے ہی کذاب اور مستحق سزا ٹھہرے) اور وہ (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اللہ کے نزدیک بڑے معزز (پیغمبر) تھے (اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت ظاہر فرما دی جیسا کہ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کے لئے اس طرح کی تہمتوں سے برات عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم رسول کی مخالفت کر کے ان کو ایذاء نہ دینا کیونکہ ان کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے، ورنہ اس کے نتیجہ میں تم خود اپنا ہی نقصان کرلو گے اس لئے ہر کام…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تکونا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجیھار (69)
قیامت کا ذکر بیچ میں تذکیر و تنبیہ کے طور پر آگیا تھا اوپر سے ذکر ان منافقین کا چل رہا تھا جو نبی ﷺ اور مومنین و مومنات کو اپنی ریشہ دوانیوں اور تہمت تراشیوں سے روحانی و قلبی اذیتیں پہنچانے میں سرگرم تھے۔ اس تنبیہ کے بعد اسی مضمون کو ازسر نو لے لیا اور مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ ان یہودیوں کی روش کی تقلید نہ کرو جنہوں نے قدم قدم پر حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی تہمتوں، شکایتوں اور در پردہ سازشوں سے اذیتیں پہنچائیں لیکن اللہ نے ان کو ہر الزام و تہمت سے بری، نہایت عزت و آبرو کے ساتھ، اس دنیا سے اٹھایا یا البتہ…
Read the full tafseer →69۔ 1 اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نہایت با حیا تھے، چناچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنو اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ ؑ کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے۔ پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ حتٰی کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ ؑ نہایت حسین و جمیل ہر قسم کے داغ اور عیب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
51: بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں بہت ستایا تھا۔ حضور سرور عالم ﷺ کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ایسی حرکت نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔
قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی ﷺ کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →2 یعنی تم ایسا کوئی کام یا کوئی بات نہ کرنا جس سے تمہارے نبی کو ایذاء پہنچے۔ نبی کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اللہ کے ہاں ان کی بڑے آبرو ہے وہ سب اذیت دہ باتوں کو رد کر دے گا ہاں تمہاری عاقبت خراب ہوگی۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت لوگوں نے کیسی اذیت دہ باتیں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی وجاہت و مقبولیت کی وجہ سے سب کا ابطال فرما دیا اور موسیٰ کا بےخطا اور بےداغ ہونا ثابت کردیا۔ روایات میں ہے کہ بعض مفسد حضرت موسیٰ کو تہمت لگانے لگے کہ حضرت ہارون کو جنگل میں لے جا کر قتل کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک خارق عادت طریقہ سے اس کی تردید کردی۔ اور صحیحین میں ہے کہ حضرت موسیٰ حیا کی وجہ…
Read the full tafseer →آیت 69 { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی } ”اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اذیت دی تھی“
{ فَـبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا } ”تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی ‘ اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف سے کئی طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سورة الصف میں آپ علیہ السلام کے وہ الفاظ نقل ہوئے ہیں جو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے طرزعمل پر شکوہ کرتے ہوئے فرمائے تھے : { یٰـقَوْمِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
107 اس آیت کی تائید و توثیق درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے :
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے (حنین کی جنگ کا) مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص کہنے لگا : اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے۔ میں رسول اللہ کے پاس آیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے اثرات نمودار ہوئے اور فرمایا : اللہ موسیٰ پر رحم کرے انھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد باب ماکان النبی یعطی المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ)
اور درج ذیل حدیث اس آیت کی تفسیر پیش کرتی ہے :
خ بنی اسرائیل کی موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسانی :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں…
Read the full tafseer →146۔ (طرح طرح کی تہمتیں لگاکر) بنی اسرائیل کا معاملہ اپنے سردارو پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عجیب و غریب تھا۔ یہ لوگ طرح طرح انہیں چھیڑتے ہر ہر طرح ان کی نافرمانی کرتے، عجیب عجیب طرح انہیں غضب میں لاتے۔ یہاں ممکن ہے کہ اشارہ کسی خاص واقعہ کی جانب ہو، یا اسی عام مفسدانہ روش سے متعلق۔ آیت میں اشارہ نکلتا ہے ایذاء رسول اللہ ﷺ کی حرمت کا، خواہ وہ ایذاء براہ راست ذات رسول سے متعلق ہو یا بواسطہ اصحاب وازواج وغیرہ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں عام مسلمانوں کو بھی ممانعت ہے، جو اولیاء متقین کو ایسے امور کی تہمت سے تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں جن کی ان کو خبر بھی نہیں۔
147۔ (ہر ہر الزام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
آیت نمبر 69 تا 73
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے نبی کے ساتھ ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو مثلاً یہ کہہ کر ایذاء دی کہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ (برہنہ) غسل کرنے سے سوائے اس کے کچھ مانع نہیں کہ وہ عظیم الخصیتین ہے پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے اس ان کو بری فرمادیا، اس طریقہ سے کہ (ایک روز) غسل کے ارادہ (موسیٰ نے) اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، تو پتھر ان کے کپڑے لیکر فرار ہوگیا، اور بنی اسرائیل کے سرداروں کے درمیان جاکر رکا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو وہاں جا کر پکڑا اور اس سے اپنے کپڑے لئے چناچہ ان لوگوں نے موسیٰ کو دیکھ لیا کہ ان کو عظیم الخصیتین ہونے کا مرض نہیں…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا . اے ایمان والو ! ان لوگوں
کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو دکھ پہنچایا تھا ‘ پھر ان کی کہی ہوئی بات سے اللہ نے موسیٰ کی براءت ظاہر فرما دی۔
کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ وہی تھا جو حضرت ابوہریرہ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : موسیٰ بڑے حیادار ‘ شریف النفس اور اپنے (اندرونی) جسم کو چھپانے والے تھے ‘ انتہائی شرم کی وجہ سے وہ اپنی (اندرونی) جلد بھی ظاہر نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے کہا : موسیٰ جو اتنا اپنے بدن کو چھپائے رکھتے ہیں ‘ ضرور ان کو کوئی جلدی اندرونی بیماری ہے ‘ یا برص ہے ‘ یا خصیوں میں پانی…
Read the full tafseer →اے ایمان والو تم رسول اکرم کو تکلیف دینے میں ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے کچھ تہمت تراش کر موسیٰ کو تکلیف دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بری ثابت کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزیک بڑے معزز اور قدر و منزلت والے تھے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى : اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں پر لعنت اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ سورت کے شروع ہی سے منافقین کے رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے کا ذکر چلا آرہا ہے، جو کبھی جنگ احزاب میں یہ کہنے کی صورت میں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول نے محض دھوکا دینے کے لیے ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا تھا، کبھی میدان چھوڑ کر گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے کی صورت میں اور کبھی یہ کہہ کر کہ اب مسلمانوں کی مدینہ میں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی یہود اور دوسرے کفار کے ساتھ دوستی اور ان کی فتح کی خواہش رسول اللہ…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کفار کا ذکر کیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو اذیت دی مقصود مومنوں کو ایسی چیزوں سے خبردار کرنا تھا جو اذیت کا باعث ہوتی ہیں اور بنی اسرائیل کے ساتھ مشابہت سے مومنوں کو منع کیا جنہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی تھی۔ علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کس طرح اذیت دیتے تھے ؟ نقاش نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو ان کی اذیت یہ تھی کہ وہ یہ قول کرتے تھے : زید بن محمد۔ ابو وائل نے کہا : حضور ﷺ کو اذیت دی گئی کہ حضور ﷺ نے مال تقسیم کیا تو ایک انصاری نے کہا : یہ ایسی تقسیم ہے جس کے ساتھ اللہ…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید والباری والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیادار اور با پر دہ انسان تھے ان کے حیا کی وجہ سے ان کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا یعنی بنی اسرائیل کے لوگوں نے آپ کو اذیت دی یہ پردے کا اہتمام اس لیے کرتا ہے کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے۔ ان کو برص کی بیماری ہے یا خصیتین سوتے ہوئے ہیں یا کوئی اور مرض ہے انہوں نے جو بات کی تھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اس سے بری کرنے کا ارادہ کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک روز غسل کرنے کے لیے موسیٰ نے تنہائی میں کپڑے اتار کر ایک…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] لَا تَكُوْنُوْا [تم لوگ مت ہوجانا ] كَالَّذِيْنَ [ان کی مانند جنہوں نے ] اٰذَوْا [ستایا ] مُوْسٰى [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] فَبَرَّاَهُ [تو بری قرار دیا ان (علیہ السلام) کو ] اللّٰهُ [اللہ نے ] مِمَّا [اس سے جو ] قَالُوْا ۭ [انہوں نے کہا ] وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ [اور وہ تھے اللہ کے نزدیک ] وَجِيْهًا [بلند تربہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ایمان والوں کو خطاب کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی
صحیح بخاری ص 42، ص 483 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) شرمیلے آدمی تھے اور پردہ کرنے کا خوب زیادہ اہتمام کرتے تھے حتیٰ کہ اگر ان کے جسم کی کھال بھی نظر آجاتی تو اس سے بھی شرماتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) تنہا غسل کرتے تھے، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں تکلیف پہنچائی اور یوں کہا کہ یہ شخص اس قدر پردہ کرتا ہے ہو نہ ہو اس کی کھال میں کوئی عیب ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
خاتمہ سورت بر ترغیب از ایذاء رسول وترغیب اطاعت رسول ﷺ
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا۔۔۔ الی۔۔۔ فقد فاز فوزا عظیما۔
(ربط) ابتداء سورت سے لے کر یہاں تک منافقین کی انواع و اقسام کی ایذاؤں کا ذکر تھا اور گذشتہ آیات میں ایذا رسول کو موجب لعنت قرار دیا اب سورت کو اسی مضمون پر ختم کرتے ہیں اور اس سورت کے متفرق مضامین کا خلاصہ ہے کہ رسول خدا کو ایذا پہنچانا موجب ہلاکت ولعنت ہے اور تقویٰ اور رسول کی اطاعت موجب صلاح اور فلاح اور باعث رحمت اور کیمیاء سعادت ہے۔ ابتداء سورت میں نبی کریم ﷺ کو تقویٰ کا حکم تھا اب آخر سورت میں اہل ایمان کو تقویٰ کا حکم دیا جس درجہ کا تقویٰ ہوگا اسی…
Read the full tafseer →67:۔ یا ایہا الذین اٰمنوا الخ۔ یہ مومنوں سے نواں خطاب ہے۔ مومنوں کو تلقین فرمائی کہ خبردار رہو۔ منافقین اور فجار کی غلط افواہوں اور جھوٹی رپورٹوں سے متاثر ہو کر کہیں وہ کچھ نہ کر بیٹھنا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت کے لوگوں نے کیا تھا اور انہیں سخت ایذا پہنچائی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جھوٹی تہمت لگا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت اور پاکدامنی کا اظہار فرما دیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے یہاں بلند قدر و منزلت کے مالک تھے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں قارون اور اس کے ہمنواؤں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر زنا کی جھوٹی تہمت لگا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی ایذارسانی سے منع فرمایا تھا کہ ایسا کرنے والے لعنتی ہیں ، اسی طرح کسی عام مومن مرد یا عورت کو تکلیف پہنچانا بھی ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے۔ پھر اللہ نے اہ لایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں ، مشرکوں اور یہود و نصاریٰ کی طرح اللہ کے نبی کے متعلق کوئی ایسی بات زبان پر نہ لائیں جو آپ کے لئے اذیت کا باعث ہو۔ اگر کوئی مومن ایسا کرے گا تو اس کے ایمان میں خلل واقع ہوجائے گا لہٰذا ایسی بات سے پرہیز کرنا چاہئے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذارسانی
اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے اور مومنوں کو خبردار کیا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَہُ اللہُ مِمَّا قَالُوْا 0 ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِيْہًا 69ۭ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
ترکیب : کالذین خبر کان، مما متعلق ببراہ وکان الجملۃ معطوفۃ علی فبراہ اللہ ویمکن ان تکون حالا من الضمیر فی فبراہ یصلح و یغفر مجزوم جواب للامر و من یطع اللہ شرط۔ فقد فاز جو ابہ سدیدا قا صدا ای مستقیما صالحا صوابا من سدیسد سدوداً ا وجیہا ذاوجاھۃ۔
تفسیر : منافقوں کو تو تہدید کی ہی تھی جو رسول کریم ﷺ کو طرح طرح ایذائیں دیا کرتے تھے، مگر کچھ نادان مسلمان بھی بعض مواقع میں بےسوچے سمجھے بےہودہ باتیں کہہ گزرتے تھے، جن کو ان آیات میں منع کیا گیا اور حکم دیا کہ منہ سے اچھی باتیں کہا کرو تاکہ تمہارے اعمال درست ہوں، یعنی مقبول ہوں اور تمہارے گناہ بخشے جاویں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
اس لیے ان…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا ط وَکَانَ عِنْدَاللّٰہِ وَجِیْھًا۔ (الاحزاب : 69)
(اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو ایذا پہنچائی، تو اللہ نے انھیں ان باتوں سے بری کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک باوقار تھا۔ )
مسلمانوں کی تین قسمیں
مسلمان کہلانے والوں میں تین طرح کے لوگ شامل تھے۔ 1 نہایت مخلص مسلمان، 2 ضعیف الایمان لوگ 3 منافقین۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسے ہر طرح کے مسلمانوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔ البتہ سیاق وسباق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں مسلمانوں کی کون سی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت 53 سے ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ اے مسلمانو ! نبی اکرم ﷺ کے ہاں بن بلائے مہمان نہ بنا کرو اس طرح مہمان بننے سے نبی اکرم ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔ اب اس خطاب کا اختتام بھی مومنوں کو آداب سکھلاتے ہوئے کیا جارہا ہے
ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو ! کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں جیسا کردار اختیار نہ کرنا۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذّیت پہنچائی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کرم فرمایا اسے ان کی یا وہ گوئی سے بچا لیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بڑا وجیہ پیدا فرمایا تھا وجیہ کا معنٰی ہے جمال اور جلال رکھنے…
Read the full tafseer →69: یہ آیت زید اور زینب ؓ کے متعلق اتری۔ اور جو کچھ اس میں بعض لوگوں کی باتیں سنیں گئیں۔ یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ ٰاذَوْا مُوْسٰی (اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) فَبَرَّ اَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا (کو ایذاء دی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری کردیا جو انہوں نے کہا)
نحو : ماؔ مصدریہ ہے یا موصولہ ہے جو بھی ہو براءت سے مراد بات کا مضمون اور اس کا مواد ہے۔ اور وہ غیب والا معاملہ ہے اور ایذاء موسیٰ (علیہ السلام) سے مراد وہ رنڈی کی حکایت ہے جس کا قارون نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے متعلق زنا کا الزام لگائے۔ یا موسیٰ پر یہ…
Read the full tafseer →، یایھا الذین امنوالا تکونواکالذین اذواموسیٰ قبراہ اللہ مما قالوا، اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک کردیا جو انہوں نے کیا ۔ ، وکان عند اللہ وجیھا، وہ آبرو والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک اس مقام پر تھے کہ جو مانگتے تھے اللہ عطاء فرمادیتا تھا۔ بعض نے کہا کہ وجیہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے مجبوب اور مقبول بارگاہ تھے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت کا واقعہ
کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ وہی تھا جو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیاوار، شریف النفس اور اپنے (اندرونی ) جسم کو چھپا نے والے تھے، انتہائی شرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
63 تا 71۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہیں سنا نے کو جو لوگ گھڑی گھڑ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تم ان کو جواب دو کہ اس کا علم خدا کو ہے اور تم کو کیا خبر شائد قریب ہو جیسا اور جگہ فرمایا اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ نزدیک آیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے اور پھینک دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دھکتی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں اور نہ پادیں گے کافر کسی کو اپنا دوست اور مددگار جو عذاب سے ان کو چھوڑادے پھر فرمایا جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ چالے جاویں گے کہیں گے کاش ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آیت 69
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول محمد ﷺ کو جو معزز، نہایت نرم دل اور رحیم ہیں، اذیت نہ پہنچائیں۔ ان پر جو آپ کے لئے اکرام و احترام واجب ہے وہ اس کے برعکس رویے سے پیش نہ آئیں اور ان لوگوں کی مشابہت اختیار نہ کرلیں جنہوں نے کلیم الرحمٰن حضرت موسیٰ بن عمران کو اذیت پہنچائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ان کی تکلیف وہ باتوں سے برأت دی اور ان کی برأت کو ان کے سامنے ظاہر کردیا، حالانکہ موسیٰ تہمت اور اذیت کے لائق نہ تھے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت با آبرو، اس کے مقرب بندے، اس کے خاص رسول اور اس کے مخلص بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت موسیٰ کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–73
قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…
Read the full tafseer →137 ایمان والوں کو آداب پیغمبر کے بارے میں خاص ہدایت : سو اس سے ایمان والوں کو اپنے پیغمبر کی ایذا رسانی سے پرہیز و اجتناب کی تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والو، کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے حضرت موسیٰ کو ایذا پہنچائی تھی "۔ کہ تم بھی اپنے پیغمبر کو اسی طرح ستانے لگو جس طرح کہ حضرت موسیٰ کی امت نے ان کو ستایا۔ اور اس طرح تم بھی انہی کی طرح اپنی تباہی کا سامان کرلو ۔ والعیاذ باللہ ۔ روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ایک شخص نے اعتراض کیا کہ یہ تقسیم صحیح نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
کامیابی کے اصول
تشریح : یہاں پہلے تو مومنوں کو مثال دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ جس طرح سیدناموسیٰ کو ان کی قوم نے ہر طرح سے تکلیفیں پہنچائی حتی کہ وقتاً فوقتاً ان پر الٹے سیدھے بہتان اور عیب لگائے تم اپنے نبی سیدنامحمد ﷺ کے ساتھ اس طرح سے پیش نہ آنا۔ خبردارر ہو اس بات سے کہ جس طرح موسیٰ کو اللہ نے اپنی رحمت میں چھپا کر تمام پریشانیوں سے نجات دے دی اور ان کی بد کردار قوم پر لعنت بھیجی اور ان کو در بدر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا کہیں تم بھی اس طرح عذاب اور پریشانیوں میں نہ گھر جاؤ۔ کیونکہ نبی رسول تو اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں ان پر تو ہر وقت اللہ کی رحمت، مدد اور فضل ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ ظلم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
آیات 69 تا 73
اسرارومعارف
اے ایمان والو تم ایسے مت ہوجانا یا ایسا رویہ اختیار نہ کرنا جیسا کہ قوم موسیٰ نے کیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ایذا کا سبب بنے تھے کبھی اطاعت نہ کرکے اور کبھی ان پر الزام تراشی کر کے مگر اللہ نے انہیں ان سب باتوں سے بری کردیا فتوحات بھی نصیب ہوئیں الزامات سے بھی بچ گئے اس لیے کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت معزز تھے یعنی نبی تھے اور سب انبیاء بہت معزز ہوتے ہیں۔ اور اے مسلمانوں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی کھری بات کہو کہ سچی بات کہنے والے کو اچھے کردار کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے کہ کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
ف 5 اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے ملعون اور معذب ہونگے۔ اب یہاں مومنین کو تنبیہ کی وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں جیسا رویہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ ” ستانے “ سے مراد زبان سے کوئی بد تمیزی کی بات کہنا بھی ہے اور ہاتھ سے تکلیف دینا بھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں میں کچھ مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ ایک انصاری کہنے لگا ” یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھا گیا “۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا :” موسیٰ ( علیہ السلام) پر…
Read the full tafseer →(33:69) لا تکونوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم مت ہوجائو۔ اذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ایذاء (افعال) مصدر انہوں نے ستایا۔ انہوں نے اذیت دی۔۔ فبراہ۔ برا یبرء تبریۃ (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔
کان عند اللہ وجیھا۔ ای کان موسی۔۔ وجیھا منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔ وجیھا صیغہ صفت ہے وجاھۃ مصدر سے۔ قدرو منزلت والا۔ وجاہت والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 73
لا تکونوا : تم نہ ہوجانا
اذوا : تکلیف پہنچائی
برا : اس نے بری کردیا
وجیہ : باعزت و عظمت
سدید : سیدھا
فاز : کامیاب ہوگیا
عرضنا : ہم نے پیش کردیا
ابین : (سب نے) انکار کردیا
ان یحمل : یہ کہ وہ اٹھائے
اشفقن : (سب) ڈر گئے
حمل : اٹھا لیا
ظلوم : بہت ظالم
جھول : بہت زیادہ جاہل
یتوب : وہ متوجہ ہوتا ہے
تشریح : آیت نمبر 69 تا 73
سورۃ الاحزاب جس میں زیادہ تر نبی کریم ﷺ کے آداب واحترام کے اصول سکھائے گئے ہیں اس سورت کے آخر میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح یہودوں نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں ان پر جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اے مسلمانو، تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجانا، کہ جنہوں نے حضرت موسیٰ کو ستایا، حضرت موسیٰ کو اس عیب سے جو لوگوں نے لگایا تھا بری کیا، اور حضرت موسیٰ اللہ کے نزدیک بڑے عزت دار تھے ، امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیادار اور بڑے پردہ کرنے والے تھے شرم کے سبب سے ان کا بدن بنی اسرائیل میں سے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا اس لیے بنی اسرائیل میں کچھ موذی، (شرارتی ) لوگوں نے ان کو ستایا اور کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ اپنے بدن کے کسی عیب کے سبب سے اس قدر پردہ کرتے ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے انکواس عیب سے یوں بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ف 1: اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم نے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے مگر اللہ کا قانون ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو الزامات سے بری کرتا ہے اور الزام تراشنے والے اور دکھ پہنچانے والے لوگوں کو ذلیل ورسوا کرتا ہے دیکھو موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر کے متعلق بھی اس کی قوم نے کتنا اذیت دہ رویہ اختیار کیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت بخشی ۔ اور ان کو قوم کی نظروں میں مفتحر ثابت کیا ۔
Read the full tafseer →69۔ اے ایمانی دعوت کے قبول کرنے والے مسلمانو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت اور تکلیف پہنچائی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تہمت سے جو انہوں نے لگائی تھی بری ثابت کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا معزز اور ذی مرتبہ تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کی روش اختیار نہ کرنا اور جس طرح انہوں نے موسیٰ کی بد گوئی کر کے نقصان اٹھایا اسی طرح تم کو بھی ضرر پہنچ جائے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عیب لگا کر ستایا پھر اللہ تعالیٰ نے اس عیب اور تہمت سے ان کو بری کردیا ۔
کہتے ہیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام عام طورپر بڑے حیا دار اور شرمیلے…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی ان کا تو کچھ ضرر نہ ہوا تہمت لگانے والے ہی کذاب اور مستحق عقاب ٹھہرے۔
3۔ مطلب یہ کہ تم رسول کو ان کی مخالفت کر کے ایذا مت دینا کہ وہ اللہ کی مخالفت بھی ہے۔
Read the full tafseer →ایمان والو ! تم اپنے رسول کو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح مت دکھ دو
69 ۔ ” اے ایمان والو ! “ کا خطاب قرآن کریم میں ہر اس آدمی سے ہے جس نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے او یہ بات اپنی جگہ حق ہے کہ ہر دعویٰ کرنے والا اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوتا یا جس طرح کہ اس کو سچا ہونا چاہیے اس طرح کا سچا نہیں ہوتا تاہم اس کو خطاب تو اس طرح کیا جاسکتا ہے اور اس طرح کیا گیا ہے اور بلا شبہ ضعیف ال ایمان لوگ یا منافق ہمیشہ انبیاء کرام کے پے آزار ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بہرحال مسلمانوں میں بھی موجود تھے اور موجود ہیں۔ زیر نظر آیت میں ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ اے ایمان والو ! تم یہود کی طرح مت ہوجائو اور…
Read the full tafseer →Commentary
That causing pain to Allah and His Messenger brings fatal consequences was the subject of the previous verse. The present verse instructs Muslims that they should particularly guard against falling into any stance of hostility to Allah and His Messenger because it causes pain to them.
In the first verse (69), by mentioning an event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) an event in which his people had caused pain to him, Muslims have been warned that they should never do something like that. From this, it does not necessarily follow that Muslims may have actually done so.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
118 One should note that the Holy Qur'an has at some places addressed the true Muslims with: 'O you who have believed," and at others the Muslim community as a whole, which includes the believers as well as the hypocrites and the Muslims of the weak faith, and at still others only the hypocrites. When the hypocrites and the Muslims of the weak faith are addressed with: "O you who have believed," it is meant to put them to shame, as if to say, "You claim to have affirmed faith, but your acts and deeds do not support your claim." A little study of the context can easily show which class of the…
Read the full tafseer →