Al-Ahzaab 33:70

Al-Ahzaab · from ayah 70

33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ۟ۙيٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا

مومنو خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, fear Allah and speak words of appropriate justice.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 9 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:70

اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے اور بات ہمیشہ ٹھیک کیا کرو

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔ اور راستی کی بات کہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات کیا کرو سیدھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! اللہ سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, fear Allah and speak the truth:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, fear Allah, and speak in straightforward words.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, fear Allah, and speak in straightforward words.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Have Taqwa of Allah and speak (always) the truth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Guard your duty to Allah, and speak words straight to the point;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, fear Allah and speak words of appropriate justice.

— Saheeh International

Believers, have fear of God and speak righteous words.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! be careful of (your duty to) Allah and speak the right word,

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! fear Allah, and speak a straight speech.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Fear Allah, and (always) say a word directed to the Right:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 70–71

تقویٰ کی ہدایت۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے تقویٰ کی ہدایت کرتا ہے ان سے فرماتا ہے کہ اس طرح وہ اس کی عبادت کریں کہ گویا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور بات بالکل صاف، سیدھی، سچی، اچھی بولا کریں، جب وہ دل میں تقویٰ ، زبان پر سچائی اختیار کرلیں گے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انہیں اعمال صالحہ کی توفیق دے گا اور ان کے تمام اگلے گناہ معاف فرما دے گا بلکہ آئندہ کیلئے بھی انہیں استغفار کی توفیق دے گا تاکہ گناہ باقی نہ رہیں۔ اللہ رسول کے فرمانبردار اور سچے کامیاب ہیں جہنم سے دور اور جنت سے سرفراز ہیں۔ ایک دن ظہر کی نماز کے بعد مردوں کی طرف متوجہ ہو کر حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 69–71

سورة الْاَحْزَاب 118 یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید میں " اے لوگو جو ایمان لائے ہو " کے الفاظ سے کہیں تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا گیا ہے، اور کہیں مسلمانوں کی جماعت بحیثیت مجموعی مخاطب ہے جس میں مومن اور منافق اور ضعیف الایمان سب شامل ہیں، اور کہیں روئے سخن خالص منافقین ہی کی طرف ہے۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو الذین اٰمنوا کہہ کر جب مخاطب کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ان کو شرم دلانا ہوتا ہے کہ تم لوگ دعویٰ تو ایمان لانے کا کرتے ہو اور حرکتیں تمہاری یہ کچھ ہیں۔ سیاق وسباق پر غور کرنے سے ہر جگہ بآسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس جگہ الذین اٰمنوا سے مراد کون ہیں۔ یہاں سلسلۂ کلام صاف بتارہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عادة اللہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو ایسے جسمانی عیوب سے بھی بری رکھا جاتا ہے جو موجب نفرت ہوں اس واقعہ میں قوم کے عیب لگانے پر اس سے برات کا حق تعالیٰ نے اتنا اہتمام فرمایا کہ بطور معجزہ پتھر کپڑے لے کر بھاگا اور موسیٰ ؑ اضطراراً لوگوں کے سامنے ننگے آگئے یہ اہتمام اس کی نشان دہی کرتا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کے اجسام کو بھی قابل نفرت و تحقیر عیوب سے عموماً پاک اور بری رکھتا ہے، جیسا کہ حدیث بخاری سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء سب کے سب عالی نسب میں پیدا کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ عرفاً جس نسب اور خاندان کو لوگ حقیر سمجھتے ہوں اس کی بات سننے ماننے کے لئے تیار ہونا مشکل ہے۔ اسی طرح تاریخ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–71

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وقولو قولا سدیدا۔ یصلح لکم اعمالکم ویغفرلکم ذنوبکم ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فازفوازعظماّ 70۔ 71) یہود کی روش سے احتراز کرنے کی ہدایت کے بعد اس صحیح روش کے اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی جو اللہ اور رسول پر ایمان کا تقاضا ہے۔ فرمایا کہ اللہ سے ڈرو۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے نہ بنو۔ وہ مجرموں کو پکڑتا دیر میں ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس کی پکڑ سے نہ بھاگ سکتا ہے، نہ کوئی اس سے رہائی دلا سکتا ہے۔ ’ وقولو قولا سدیدا ‘ یعنی ایمان لانے کے مدعی بنے ہو تو وہ بات کہو جو اس ایمان کا براہ راست تقاضا ہے اور اس کا سیدھا سادہ لازمی مطالبہ ہے۔ یہ اشارہ سمعنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70۔ 1 یعنی ایسی بات جس میں کجی اور انحراف ہو، نہ دھوکا اور فریب۔ بلکہ سچ اور حق ہو، یعنی جس طرح تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے تاکہ ٹھیک نشانے پر جا لگے اسی طرح تمہاری زبان سے نکلی ہوئی بات اور تمہارا کردار راستی پر مبنی ہو، حق اور صداقت سے بال برابر انحراف نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–71

51: بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں بہت ستایا تھا۔ حضور سرور عالم ﷺ کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ایسی حرکت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–71

یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔ قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی ﷺ کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 70–71

3 یعنی اللہ سے ڈر کر درست اور سیدھی بات کہنے والے کو بہترین اور مقبول اعمال کی توفیق ملتی ہے اور تقصیرات معاف کی جاتی ہیں حقیقت میں اللہ و رسول کی اطاعت ہی میں حقیقی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے جس نے یہ راستہ اختیار کیا مراد کو پہنچ گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا } ”اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات کیا کرو سیدھی۔“ چونکہ اس سے پہلے کی آیات میں عام گھریلو زندگی کے معاملات سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں ‘ چناچہ اس سیاق وسباق میں اس حکم کا مفہوم یہ ہوگا کہ اپنے گھریلو معاملات میں بھی تم لوگ تقویٰ کی روش اپنائے رکھو اور اپنی زبان کے استعمال میں محتاط رہو۔ یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ گفتگو میں بھی راست گوئی اور راست بازی کا خیال رکھو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 69–70

107 اس آیت کی تائید و توثیق درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے (حنین کی جنگ کا) مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص کہنے لگا : اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے۔ میں رسول اللہ کے پاس آیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے اثرات نمودار ہوئے اور فرمایا : اللہ موسیٰ پر رحم کرے انھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد باب ماکان النبی یعطی المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ) اور درج ذیل حدیث اس آیت کی تفسیر پیش کرتی ہے : خ بنی اسرائیل کی موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسانی :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

149۔ یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خوف خدا کو بطور حال اپنے اوپر طاری کرلو۔ خطاب ایمان والوں سے ہے۔ ایمان کی دولت تو انہیں حاصل ہی ہے، اب ارشاد یہ ہورہا ہے کہ مرتبہ تقوی بھی حاصل کرو، 150۔ یعنی افراط وتفریط سے الگ اور عدل و اعتدال کے مطابق بات جچی تلی اور پکی منہ سے نکالو، ” قول سدید “۔ تو خود بھی تقوی ہی کی ایک فرد ہے، خصوصیت کے ساتھ اس کے الگ بیان کرنے سے مقصود زبان کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے، جہاں تک اعضاء وجوارح کا تعلق ہے جو اہمیت ومرکزیت وہمہ جہتی زبان کو حاصل ہے۔ کسی اور عضو کو نصیب نہیں اور یہ اگر قابو میں آگئی تو انسان گناہوں کی کتنی بڑی تعداد سے بچ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–73

آیت نمبر 69 تا 73 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے نبی کے ساتھ ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو مثلاً یہ کہہ کر ایذاء دی کہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ (برہنہ) غسل کرنے سے سوائے اس کے کچھ مانع نہیں کہ وہ عظیم الخصیتین ہے پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے اس ان کو بری فرمادیا، اس طریقہ سے کہ (ایک روز) غسل کے ارادہ (موسیٰ نے) اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، تو پتھر ان کے کپڑے لیکر فرار ہوگیا، اور بنی اسرائیل کے سرداروں کے درمیان جاکر رکا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو وہاں جا کر پکڑا اور اس سے اپنے کپڑے لئے چناچہ ان لوگوں نے موسیٰ کو دیکھ لیا کہ ان کو عظیم الخصیتین ہونے کا مرض نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وقولوا قولاً سدیدًا . اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ یعنی اللہ کو جو بات ناپسند ہے ‘ اس سے پرہیز کرو ‘ ایذاء رسول کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے سدیدًا کا ترجمہ کیا ہے ” صحیح بات “۔ قتادہ نے کہا : انصاف کی بات۔ بعض نے کہا : سیدھی بات۔ کچھ لوگوں نے کہا : حق تک پہنچنے کا قصد رکھنے والی بات۔ تمام اقوال کا نتیجہ ایک ہی ہے یعنی سچی بات جو قطعاً جھوٹی نہ ہو اور نہ اٹکل پر مبنی ہو کیونکہ جھوٹ فنا ہوجاتا ہے اور سچ باقی رہتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : آیت میں بازداشت ہے اس بات سے جو حضرت زینب کے معاملہ میں لوگوں نے ناحق بغیر کسی اعتدال کے اختیار کرلی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 70–71

(70۔ 71) اے ایمان والو جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ان باتوں میں اس کی اطاعت کرو اور سچائی کی بات یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کہو وہ اس کے بدلے میں تمہارے اعمال کو قبول کرے گا اور اسی صلہ میں تمہارے گناہ معاف کردے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی پیروی کرے گا وہ جنت حاصل ہونے اور دوزخ سے نجات ملنے کی وجہ سے بہت بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا : ”سَدَّ یَسُدُّ“ (ن) بند کرنا، پر کرنا اور ”سَدَّ یَسَدُّ“ (س، ض) سیدھا ہونا۔ ”سَدِيْدًا“ سیدھا، درست۔ ”سَدَّدَ یُسَدِّدُ“ (تفعیل) سیدھا کرنا۔ علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قُلِ اللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ وَسَدِّدْنِیْ وَاذْکُرْ بالْھُدٰی ھِدَایَتَکَ الطَّرِیْقَ وَالسَّدَادِ سَدَاد السَّھْمِ) [ مسلم، الذکر والدعاء، باب في الأدعیۃ : 2725 ] ”یوں کہو کہ اے اللہ ! مجھے ہدایت دے اور سیدھا کر دے اور ہدایت کی دعا کرتے ہوئے صحیح راستے پر جانے کو دل میں رکھو اور سیدھا کرنے کی دعا کرتے ہوئے تیر کے سیدھا کرنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 70–71

(آیت) قولاسدیدا یعنی ایسا قول جو اعتدال پر ہو اور حق پر ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : درست۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : حضرت زینب اور حضرت زید کے بارے میں درست قول کرو۔ اور نبی کریم ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب نہ کرو جو حلال نہ ہو۔ عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : قول سدید لا الہ الا اللہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس کا ظاہر اس کے باطن کے موافق ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو اس کے علاوہ کا ارادہ نہ کیا گیا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد دو جھگڑنے والوں کے درمیاں صلح کی کوشش کرنا ہے۔ یہ تسدید السھم (1) سے ماخوذ ہے تاکہ اس کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–71

2۔ احمد نے الزہد وابو داوٗ دنے مراسیل میں عروہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر اکثر یہ فرمایا کرتے تھے آیت اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور درست بات کہو۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے کتاب التقوی میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوتے تھے تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا۔ 4۔ سمویہ نے اپنے فوائد میں سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تھے یا ان کو کچھ سکھاتے تھے تو اس آیت کی تلاوت ضرور فرماتے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدید سے لے کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اتَّقُوا اللّٰهَ [تم لوگ تقوی اختیار کرو اللہ کا ] وَقُوْلُوْا [اور کہو ] قَوْلًا سَدِيْدًا [ٹھیک بات ] ۔ نوٹ۔ 1: شاہ عبد القادر نے آیات 70 ۔ 71 کا جو ترجمہ کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدھی بات کا عادی ہونے پر اصلاح اعمال کا جو وعدہ ہے وہ صرف دینی اعمال ہی نہیں ہیں بلکہ دنیا کے سب کام بھی اس میں داخل ہیں۔ جو شخص قول سدید کا عادی ہوجائے یعنی جھوٹ نہ بولے، سوچ سمجھ کر بات کرے، کسی کو فریب نہ دے، دل خراش بات نہ کرے، اس کے اعمال آخرت بھی درست ہوجائے گے اور دنیا کے کام بھی بن جائیں گے۔ شاہ عبد القادر کا ترجمہ یہ ہے ” کہو بات سیدھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–70

ایمان والوں کو خطاب کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی صحیح بخاری ص 42، ص 483 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) شرمیلے آدمی تھے اور پردہ کرنے کا خوب زیادہ اہتمام کرتے تھے حتیٰ کہ اگر ان کے جسم کی کھال بھی نظر آجاتی تو اس سے بھی شرماتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) تنہا غسل کرتے تھے، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں تکلیف پہنچائی اور یوں کہا کہ یہ شخص اس قدر پردہ کرتا ہے ہو نہ ہو اس کی کھال میں کوئی عیب ہے یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–71

خاتمہ سورت بر ترغیب از ایذاء رسول وترغیب اطاعت رسول ﷺ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا۔۔۔ الی۔۔۔ فقد فاز فوزا عظیما۔ (ربط) ابتداء سورت سے لے کر یہاں تک منافقین کی انواع و اقسام کی ایذاؤں کا ذکر تھا اور گذشتہ آیات میں ایذا رسول کو موجب لعنت قرار دیا اب سورت کو اسی مضمون پر ختم کرتے ہیں اور اس سورت کے متفرق مضامین کا خلاصہ ہے کہ رسول خدا کو ایذا پہنچانا موجب ہلاکت ولعنت ہے اور تقویٰ اور رسول کی اطاعت موجب صلاح اور فلاح اور باعث رحمت اور کیمیاء سعادت ہے۔ ابتداء سورت میں نبی کریم ﷺ کو تقویٰ کا حکم تھا اب آخر سورت میں اہل ایمان کو تقویٰ کا حکم دیا جس درجہ کا تقویٰ ہوگا اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 70–71

68:۔ یا ایہا الذین امنوا الخ، اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ غلط بیانی اور اتہام تراشی سے دور رہو۔ اور ہمیشہ صدق اور راست گوئی کو اپنا شعار بناؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو قبول فرمائے گا اور ان کا اجر عطا کرے گا۔ یصلح لکم اعمالکم بالقبول والاثابۃ علیہا علی ما روی عن ابن عباس و مقاتل (روح ج 22 ص 95) اور تمہارے گناہ معاف فرمائے گا۔ دارین میں سب سے بڑی کامیابی اسے نصیب ہوگی جو اللہ اور اس کے رسول کا مطیع و فرمانبردار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–71

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی ایذارسانی سے منع فرمایا تھا کہ ایسا کرنے والے لعنتی ہیں ، اسی طرح کسی عام مومن مرد یا عورت کو تکلیف پہنچانا بھی ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے۔ پھر اللہ نے اہ لایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں ، مشرکوں اور یہود و نصاریٰ کی طرح اللہ کے نبی کے متعلق کوئی ایسی بات زبان پر نہ لائیں جو آپ کے لئے اذیت کا باعث ہو۔ اگر کوئی مومن ایسا کرے گا تو اس کے ایمان میں خلل واقع ہوجائے گا لہٰذا ایسی بات سے پرہیز کرنا چاہئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذارسانی اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے اور مومنوں کو خبردار کیا ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا۝ 70ۙ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–71

ترکیب : کالذین خبر کان، مما متعلق ببراہ وکان الجملۃ معطوفۃ علی فبراہ اللہ ویمکن ان تکون حالا من الضمیر فی فبراہ یصلح و یغفر مجزوم جواب للامر و من یطع اللہ شرط۔ فقد فاز جو ابہ سدیدا قا صدا ای مستقیما صالحا صوابا من سدیسد سدوداً ا وجیہا ذاوجاھۃ۔ تفسیر : منافقوں کو تو تہدید کی ہی تھی جو رسول کریم ﷺ کو طرح طرح ایذائیں دیا کرتے تھے، مگر کچھ نادان مسلمان بھی بعض مواقع میں بےسوچے سمجھے بےہودہ باتیں کہہ گزرتے تھے، جن کو ان آیات میں منع کیا گیا اور حکم دیا کہ منہ سے اچھی باتیں کہا کرو تاکہ تمہارے اعمال درست ہوں، یعنی مقبول ہوں اور تمہارے گناہ بخشے جاویں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اس لیے ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–71

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُواللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا۔ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَـکُمْ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ فَقَدْ فَازَفَوْزًا عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 70، 71) (اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ ) قومِ موسیٰ کے طرزعمل سے بچنے کے لیے دو ہدایات یہود کی یہ روش کہ وہ اپنے جلیل القدر پیغمبرکو کبھی اپنی باتوں سے ایذا پہنچاتے اور کبھی آپ کے احکام کی نافرمانی سے آپ کو دکھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–71

فہم القرآن ربط کلام : جاری خطاب کی ابتدا میں مومنوں کو ایک دوسرے کو اذّیت دینے سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں اسی فرمان کا تتّمہ ہورہا ہے۔ اے مومنو ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ایک دوسرے سے ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کیا کرو۔ اگر تم صاف اور سیدھی بات کا طریقہ اپناؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کردار کی اصلاح فرمائے گا۔ جس کے بدلے تمہارے گناہ معاف کیے جائیں گے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ کھلی اور عام دعوت ہے کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی پائے گا۔ یہ آیات ان آیات میں شامل ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ خطبہ نکاح میں پڑھا کرتے تھے۔ ان میں تین ہدایات دی گئی ہیں۔ 1 انسان کو ہر حال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

درست بات کا حکم : 70: یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور راستی کی بات کہو) ۔ سدیدًا (سچی اور درست بات) نمبر 2۔ حق جس سے مقصود ہو۔ السدادؔ : حق کا قصد کرنا اور عدل والا قول۔ مطلب یہ ہے لوگوں کو اس بات سے منع کرنا مقصود ہے۔ جس میں وہ مصروف تھے۔ قصہ زینب ؓ ۔ جس میں میانہ روی اور عدل سے گری باتیں کی جارہی تھیں۔ اور اس بات پر برانگیختہ کرنا ہے۔ کہ ہر موقعہ پر عدل والی بات کہیں کیونکہ حفاظت لسان ضروری ہے اور درست بات ہر خیر کی جڑ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70، یایھا الذین امنو ا اتقو اللہ وقولوا قولا سدیدا، حضرت ابن عباس ؓ نے سدید اکا ترجمہ کیا ہے ، صحیح بات ۔ قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے انصاف کی بات ۔ بعض نے کہا سیدھی بات۔ حسن نے کہا کہ سچی بات مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ سیدید اسے مراداس کا قول لاالہ الا اللہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–70

63 تا 71۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہیں سنا نے کو جو لوگ گھڑی گھڑ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تم ان کو جواب دو کہ اس کا علم خدا کو ہے اور تم کو کیا خبر شائد قریب ہو جیسا اور جگہ فرمایا اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ نزدیک آیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے اور پھینک دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دھکتی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں اور نہ پادیں گے کافر کسی کو اپنا دوست اور مددگار جو عذاب سے ان کو چھوڑادے پھر فرمایا جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ چالے جاویں گے کہیں گے کاش ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–70

آیت 69 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول محمد ﷺ کو جو معزز، نہایت نرم دل اور رحیم ہیں، اذیت نہ پہنچائیں۔ ان پر جو آپ کے لئے اکرام و احترام واجب ہے وہ اس کے برعکس رویے سے پیش نہ آئیں اور ان لوگوں کی مشابہت اختیار نہ کرلیں جنہوں نے کلیم الرحمٰن حضرت موسیٰ بن عمران کو اذیت پہنچائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ان کی تکلیف وہ باتوں سے برأت دی اور ان کی برأت کو ان کے سامنے ظاہر کردیا، حالانکہ موسیٰ تہمت اور اذیت کے لائق نہ تھے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت با آبرو، اس کے مقرب بندے، اس کے خاص رسول اور اس کے مخلص بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کو اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–73

قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 70–71

140 تقویٰ اور قول سدید کو اپنانے کی ہدایت : سو اس سے ایمان والوں کو تقویٰ اور قول سدید کو اپنانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والو، ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے اور بات کہا کرو درست "۔ یعنی ایسی بات جو کہ حق و صداقت اور عدل و انصاف پر مبنی ہو ۔ " قولا قاصدا غیر جائر، حقا غیر باطل " ۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو ایذائے رسول کی یہودی روش سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین کے بعد اب یہ اس صحیح روش کو اپنانے اور اختیار کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی جا رہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کا تقاضا ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس بات کی ہدایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–71

کامیابی کے اصول تشریح : یہاں پہلے تو مومنوں کو مثال دے کر نصیحت کی گئی ہے کہ جس طرح سیدناموسیٰ کو ان کی قوم نے ہر طرح سے تکلیفیں پہنچائی حتی کہ وقتاً فوقتاً ان پر الٹے سیدھے بہتان اور عیب لگائے تم اپنے نبی سیدنامحمد ﷺ کے ساتھ اس طرح سے پیش نہ آنا۔ خبردارر ہو اس بات سے کہ جس طرح موسیٰ کو اللہ نے اپنی رحمت میں چھپا کر تمام پریشانیوں سے نجات دے دی اور ان کی بد کردار قوم پر لعنت بھیجی اور ان کو در بدر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا کہیں تم بھی اس طرح عذاب اور پریشانیوں میں نہ گھر جاؤ۔ کیونکہ نبی رسول تو اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں ان پر تو ہر وقت اللہ کی رحمت، مدد اور فضل ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ ظلم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–73

آیات 69 تا 73 اسرارومعارف اے ایمان والو تم ایسے مت ہوجانا یا ایسا رویہ اختیار نہ کرنا جیسا کہ قوم موسیٰ نے کیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ایذا کا سبب بنے تھے کبھی اطاعت نہ کرکے اور کبھی ان پر الزام تراشی کر کے مگر اللہ نے انہیں ان سب باتوں سے بری کردیا فتوحات بھی نصیب ہوئیں الزامات سے بھی بچ گئے اس لیے کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت معزز تھے یعنی نبی تھے اور سب انبیاء بہت معزز ہوتے ہیں۔ اور اے مسلمانوں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی کھری بات کہو کہ سچی بات کہنے والے کو اچھے کردار کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے کہ کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت اور اللہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 70–71

ف 6 یعنی تقویٰ کی راہ اختیار کرنے سے تو تمہاری عملی زندگی درست ہوگی اور سیدھی بات کہنے سے گناہ معاف ہوں گے۔ ( کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:70) قولا سدیدا موصوف وصفت سچی بات، درست بات، ٹھکانہ کی بات۔ سدید بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے سددسہمہ تیر کو نشانہ پر لگایا۔ تیر کو سیدھا ہدف پر پھینکا۔ کہ اپنے نشانہ سے ادھر ادھر نہ جائے اور کہتے ہیں ھو یسد فی قولہ وہ ٹھکانہ کی بات کہتا ہے اور قلت لہ سددا من القول وسددا میں نے اس سے ٹھیک اور سیدھی بات کہی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–73

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 73 لا تکونوا : تم نہ ہوجانا اذوا : تکلیف پہنچائی برا : اس نے بری کردیا وجیہ : باعزت و عظمت سدید : سیدھا فاز : کامیاب ہوگیا عرضنا : ہم نے پیش کردیا ابین : (سب نے) انکار کردیا ان یحمل : یہ کہ وہ اٹھائے اشفقن : (سب) ڈر گئے حمل : اٹھا لیا ظلوم : بہت ظالم جھول : بہت زیادہ جاہل یتوب : وہ متوجہ ہوتا ہے تشریح : آیت نمبر 69 تا 73 سورۃ الاحزاب جس میں زیادہ تر نبی کریم ﷺ کے آداب واحترام کے اصول سکھائے گئے ہیں اس سورت کے آخر میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح یہودوں نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں ان پر جھوٹے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–70

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اے مسلمانو، تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجانا، کہ جنہوں نے حضرت موسیٰ کو ستایا، حضرت موسیٰ کو اس عیب سے جو لوگوں نے لگایا تھا بری کیا، اور حضرت موسیٰ اللہ کے نزدیک بڑے عزت دار تھے ، امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیادار اور بڑے پردہ کرنے والے تھے شرم کے سبب سے ان کا بدن بنی اسرائیل میں سے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا اس لیے بنی اسرائیل میں کچھ موذی، (شرارتی ) لوگوں نے ان کو ستایا اور کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ اپنے بدن کے کسی عیب کے سبب سے اس قدر پردہ کرتے ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے انکواس عیب سے یوں بری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–71

[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–70

ف 1: اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم نے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے مگر اللہ کا قانون ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو الزامات سے بری کرتا ہے اور الزام تراشنے والے اور دکھ پہنچانے والے لوگوں کو ذلیل ورسوا کرتا ہے دیکھو موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر کے متعلق بھی اس کی قوم نے کتنا اذیت دہ رویہ اختیار کیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت بخشی ۔ اور ان کو قوم کی نظروں میں مفتحر ثابت کیا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 70–71

ف 4۔ یعنی ہر امر میں اس کی اطاعت کرو۔ 5۔ جس میں عدل اور اعتدال سے تجاوز نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ، بات سیدھی اور صاف کرو 70 ۔ ایمان والوں کو مخاطب کرکے ان کو سیدھی اور صاف بات کرنے کا حکم دیا جارہا ہے ، قول سدید کے معنی سچی بات ، سیدھی بات اور صحیح بات کے ہیں چناچہ سدید کا لفظ ان سب معنوں پر محیط ہے اس لئے ایسے لفظ سے حکم دیا تاکہ اس میں ساری باتیں بھی شامل ہوجائیں یعنی ایسی سچی بات ہو کہ جھوٹ کا اس میں شائبہ تک نہ ہو ، صواب ہو جس میں خطا کا شائبہ تک نہ ہو ، ٹھیک بات ہو اس میں مذاق اور دل لگی نہ ہو ، نرم بات ہو دلخراش نہ ہو بلا شبہ زبان کی اصلاح باقی اعضاء و اعمال کی اصلاح میں موثر ذریعہ ہے اور یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے یکساں حیثیت رکھتا ہے اور ساتھ ہی تقویٰ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Customarily, Allah Ta'ala keeps prophets free from physical defects causing aversion In this event, Allah Ta'ala has demonstrated such unusual concern to have Sayyidna Musa (علیہ السلام) absolved of the blame imputed to him by his people which took no less than a miracle whereby a rock ran away with Sayyidna Musa's clothes and he, compelled by circumstances beyond his control, came out undressed before the people. This extra-ordinary care shown by Allah Ta’ ala to free his prophet from this blame points out to the fact that Allah Ta'ala keeps even the bodies of His prophets generally free and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–71

118 One should note that the Holy Qur'an has at some places addressed the true Muslims with: 'O you who have believed," and at others the Muslim community as a whole, which includes the believers as well as the hypocrites and the Muslims of the weak faith, and at still others only the hypocrites. When the hypocrites and the Muslims of the weak faith are addressed with: "O you who have believed," it is meant to put them to shame, as if to say, "You claim to have affirmed faith, but your acts and deeds do not support your claim." A little study of the context can easily show which class of the…

Read the full tafseer →