Al-Ahzaab 33:68

Al-Ahzaab · from ayah 68

33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا ۟۠رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, give them double the punishment and curse them with a great curse."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:68

اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہمارے پروردگار ! ان کو دوگنا عذاب دے، اور ان پر ایسی لعنت کر جو بڑی بھاری لعنت ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ہمارے رب! انہیں آگ کا دُونا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! انہیں دوگنا عذاب دے اور اُن پر بہت بڑی لعنت کر،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! انھیں دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر، بہت بڑی لعنت۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(لہٰذا) اے پروردگار ! ان پر دگنا عذاب کر اور ان پر سخت لعنت کر

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب ! ان کو دونا عذاب دے اور ان پر بہت بھاری لعنت کر۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہمارے رب ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما بہت بڑی لعنت

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار انہیں دہرا عذاب دے اور ان پر بڑی ہی لعنت نازل کر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ہمارے پروردگار ! ُ تو ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما بہت ہی بڑی لعنت۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے رب ! ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Our Lord, mete out to them a double chastisement and lay upon them a mighty curse.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our Lord, give them twice the punishment, and send a curse on them, an enormous curse.

— Muhammad Taqi Usmani

Our Lord, give them twice the punishment, and send a curse on them, an enormous curse.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Our Lord! Give them double torment and curse them with a mighty curse!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! Oh, give them double torment and curse them with a mighty curse.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, give them double the punishment and curse them with a great curse."

— Saheeh International

Lord, make them to suffer double torment and subject them to the greatest condemnation."

— Muhammad Sarwar

O our Lord! give them a double punishment and curse them with a great curse.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! give them double torment and curse them with a great curse.

— Abdul Majid Daryabadi

"Our Lord! Give them double Penalty and curse them with a very great Curse!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–68

قیامت قریب تر سمجھو۔ لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی۔ اس کا علم حضور ﷺ کو ہے۔ آپ سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی ﷺ کی زبانی معلوم کروا دیا کہ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ سورة اعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکہ میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتدا سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) اور آیت میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 117 یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں اَعراف، 187۔ النازعات، 42۔ 46۔ سَبا، 3۔ 5۔ الملک 24۔ 27۔ المطفّفین، 10۔ 17۔ الحِجر، 2۔ 3۔ الفرقان، 27۔ 29۔ حم السجدہ، 26۔ 29۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–68

خلاصہ تفسیر یہ (منکر) لوگ آپ سے قیامت کے متعلق (منکرانہ) سوال کرتے ہیں (کہ کب ہوگی) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ اس (کے وقت) کی خبر بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو کیا خبر (کہ کب ہے، البتہ اجمالاً ان لوگوں کو جان رکھنا چاہئے کہ) عجب نہیں کہ قیامت ابھی واقع ہوجائے (کیونکہ جب کوئی وقت معین نہیں تو قریب زمانے میں اس کے واقع ہوجانے کا بھی احتمال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کا مقتضاء یہ تھا کہ یہ لوگ انجام سے ڈرتے اور اس کی تیاری میں لگتے، منکرانہ سوالات اور استہزاء سے بچتے۔ اور قیامت کو قریب فرمانے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قیامت ہر روز قریب ہی ہوتی جا رہی ہے، اور جو چیز سامنے سے آ رہی ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–68

یوم تقلب وجوھھم فی النار یقولون لییتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا وقالوا ربنلان اطعان اساتنا وکبراء نا فاضلونا السبیلا ربنا اتھم ضعفین من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (66۔ 68) ’ تقلیب ‘ کے معنی الٹنے پلٹنے کے ہیں۔ گوشت کو آگ پر بھونتے ہیں تو اس کو کبھی ایک جانب سے بھونتے ہیں کبھی دوسری جانب سے۔ فرمایا کہ یہ گت ان کی بننے والی ہے۔ یہ دوزخ کی آگ میں اس اپنے چہروں کے بل اس طرح گھسیٹے جائیں گے کہ دونوں طرف سے ان کے چہرے بھن جائیں گے۔ چہرے کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے فرمایا کہ اعترافِ حق سے اعراض و استکبار کی رعونت کا سب سے زیادہ نمایاں مظہر و وہی ہوتا ہے جب اس کا حشر یہ ہونا ہے تو دوسری چیزیں اسی کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

67۔ 1 یعنی ہم نے تیرے پیغمبروں اور داعیان دین کی بجائے اپنے ان بڑے اور برزگوں کی پیروی کی، لیکن آج ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمیں تیرے پیغمبروں سے دور رکھ کر راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ آبا پرستی اور تقلید فرنگ آج بھی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہے کاش مسلمان آیات الٰہی پر غور کر کے ان پگڈنڈیوں سے نکلیں اور قرآن و حدیث کی صراط مستقیم کو اختیار کرلیں کہ نجات صرف اور صرف اللہ اور رسول کی پیروی میں ہی ہے نہ کہ مشائخ واکابر کی تقلید میں یا آبا واجداد کے فرسودہ طریقوں کے اختیار کرنے میں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–68

50: جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کو پہلے خبردار کیا جاتا ہے پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 64–68

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–68

1 یہ شدت غیظ سے کہیں گے کہ ہمارے ان دنیاوی سرداروں اور مذہبی پیشواؤں نے دھوکے دے کر اور جھوٹ فریب کہہ کر اس مصیبت میں پھنسوایا۔ ان ہی کے اغواء پر ہم راہ حق سے بھٹکے رہے۔ اگر ہمیں سزا دی جاتی ہے تو ان کو دوگنی سزا دیجئے۔ اور جو پھٹکار ہم پر ہے اس سے بڑی پھٹکار ان بڑوں پر پڑنی چاہیے۔ گویا ان کو دوگنی سزا دلوا کر اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہیں گے۔ اسی مضمون کی ایک آیت سورة " اعراف " کے چوتھے رکوع میں گزر چکی ہے۔ وہیں ان کی اس فریاد کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68 { رَبَّنَآ اٰتِہِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا } ”اے ہمارے پروردگار ! ُ تو ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما ‘ بہت ہی بڑی لعنت۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

106 سادات اور کبراء سے کون لوگ مراد ہی ؟ ان دو آیات سے چند باتیں مستفاد ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی راہ سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے برگشتہ کرنے والے حضرات دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک دنیوی سردار، حاکم، رئیس، چودھری وغیرہ جن کا عوام پر اثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے لوگوں سے اپنی اطاعت کروائیں۔ دوسری قسم کے لوگ علماء اور مشائخ یعنی مذہبی پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کے گمراہ کرنے کا انداز دنیوی سرداروں سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں میں شرکیہ رسوم اور بدعات رائج کرتے، غلط فتوے دیتے، اولیاء اللہ کے تصرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 65–68

145۔ تینوں آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ جب دوزخ میں کافر ڈالے جائیں گے اور گھسیٹے جائیں گے جس سے ان کے چہرے الٹ پلٹ ہونے لگیں گے، تو کمال حسرت کا اظہار اپنے اسلام نہ لانے پر کریں گے اور کمال غضب کا اپنے گمراہ کرنے والے اکابر پر (آیت) ” یلیتنا ..... الرسولا “۔ آخرت میں کام آنے والی شے صرف اطاعت خدا و اطاعت رسول نکلے گی، باقی ہیچ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بڑوں کی مطلقا تقلید ہرگز کوئی عذر نہیں، اور آج کل کے بدعات اختیار کرنے والے اپنے مشائخ کے رسوم سے اکثر تمسک کیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–68

آیت نمبر 59 تا 68 ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربنا اتھم ضعفین من العذاب والعنھم لعنًا کبیرًا . اے ہمارے رب ! (جتنا عذاب تو نے ہم کو دیا اس سے) دوگنا عذاب ان کو دے (ایک گمراہ ہونے کا ‘ دوسرا گمراہ کرنے کا) اور ان پر سخت ترین پھٹکار برسا۔ بڑی نعلت سے مراد ہے سخت ترین لعنت۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبَّنَآ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا۔۔ : اپنی لاحاصل تمناؤں اور حسرتوں کے اظہار کے ساتھ ہی دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے اپنے سادات و اکابر کو دگنا عذاب دینے کی دعا کریں گے، مگر اس سے بھی انھیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (38، 39) اور سورة ص (55 تا 61)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت) ربنااتھم ضعفین من العذاب قتادہ نے کہا : مراد عذاب دنیا اور عذاب آخرت ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفرکا عذاب اور گمراہ کرنے کا عذاب ہے (3) ، یعنی جس قدر تو ہمیں عذاب دیتا ہے انہیں اس کا دگنا عذاب دے کیونکہ وہ گراہ ہوئے اور انہوں نے گمراہ کیا۔ (آیت) والعنھم لعنا کبیرا حضرت ابن مسعود ؓ آپ کے اصحاب، یحییٰ اور عاصم نے باء کے ساتھ قراءت کی باقی قراء نے ثاء کے ساتھ قراءت کی۔ اسے ابو حاتم، ابو عبید اور نحاس نے اپنایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون (ابقرہ) یہ معنی اکثر واقع ہوتا ہے۔ محمد بن ابی سری نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عسقلان کی مسجد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–68

1۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ربنا انا اطعنا سادتنا وکبراء نا (اے ہمارے ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کے کہنے پر چلے) یعنی ہم نے اپنے سرداروں کی اطاعت کی برائی میں اور شرک میں ربنا اٰتہم ضعفین من العذاب (اے ہمارے رب ان کو دگنا عذاب دے یعنی جہنم کا عذاب ) 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی ربنا انا اطعنا سادتنا (یعنی ان سرداروں اور بڑوں میں) ابوجہل بن ہشام بھی تھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اٰتِهِمْ [تو دے ان کو ] ضِعْفَيْنِ [دوگنا ] مِنَ الْعَذَابِ [عذاب میں سے ] وَالْعَنْهُمْ [اور تو لعنت بھیج ان پر ] لَعْنًا كَبِيْرًا [جیسے بڑی لعنت بھیجنے کا حق ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–68

اس کے بعد یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی فرمانبرداری کی انہوں نے ہمیں ایمان قبول نہ کرنے دیا اور کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے، اس طرح سے انہوں نے ہمیں صحیح راستہ سے اور دین حق سے ہٹا کر گمراہ کردیا۔ (سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا) کے عموم میں چھوٹے بڑے چودھری، کفر کے سرغنے، گمراہی کے لیڈر سب ہی داخل ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں ایمان کی فضا بنتی ہے قوموں کے لیڈر اور چودھری ایمان سے روکتے ہیں جو شخص اسلام قبول کرلے اسے واپس کفر میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، کفر کی دعوت دینے کے لیے اور اپنی قوموں کو کفر پر جمانے کے لیے ان کے ملوک اور رؤسا اور امراء اور وزراء واغنیا بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–68

تہدید ووعید منافقین ومنکرین قیامت مقرون بہ لعنت عذاب آخرت قال اللہ تعالی۔ یسئلک الناس عن الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ والعنہم لعنا کبیرا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تہدید تھی آپ ﷺ جب کبھی منکرین حق کو آئندہ آنے والے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تو وہ بطور تمسخر یہ سوال کرتے کہ قیامت کب ہوگی اور اس قسم کے معاندانہ سوال سے محض آپ ﷺ کو تنگ کرنا اور ایذا دینا مقصود ہوتا تھا تو اس کا جواب دیا گیا کہ قیامت کا اصل وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن سمجھ لو کہ شاید وہ قریب ہی نہ ہو اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں اور دو انگلیاں ملا کر دکھلایا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 64–68

66:۔ ان اللہ الخ، قیامت جب بھی آئے، آئے گی ضرور، اس دن کفار و مشرکین کا ھشر یہ ہوگا کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم ہوں گے اور بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کا کوئی ھامی و مددگار نہ ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لے۔ یوم تقلب الخ قیامت کے جب ان کے چہروں کو آگ پر الٹ پلٹ کیا جائے گا تو وہ حسرت و ندامت سے کہیں گے۔ کاش ! ہم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر بطور معذرت کہیں گے۔ ربنا انا اطعنا الخ، اے ہمارے پروردگار ! ہم اس معاملے میں بےقصور ہیں۔ ہم دنیا میں علماء دین اور پیشوایان مذہب ہی کی اطاعت اور پیروی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–68

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب اور ازواج مطہرات کے بارے میں احکام بیان فرمائے۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) پر درود وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچانے والوں کو ملعون ٹھہرایا اور انہیں عذاب کا مستحق قرار دیا۔ اسی طرح ایمان دار مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچانے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ ایسے لوگ بہتان طرازی کرتے ہیں اور بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے ازواج مطہرات ، حضور ﷺ کی بیٹیوں اور عام مومنہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم دیا اور غنڈہ گردی کرنے والے منافق قسم کے لوگوں کو تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ شرارتوں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَآ اٰتِہِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا۝ 68ۧ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 64–68

ان اللہ لعن الکافرین الخ یہاں سے ان غفلت شعار لوگوں کا وہ معاملہ بیان فرماتا ہے جو آخرت میں بہت جلد ان کے سامنے آنے والا ہے کہ یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، ان کو اس بلا سے وہاں کوئی نہ چھڑا سکے گا، اس روز آگ میں ان کے منہ الٹے پلٹے جاویں گے۔ منہ سے مراد ان کی ذات ہے، یعنی وہ الٹے پلٹے جاویں گے کہ جس طرح کباب کو بھونتے وقت الٹا پلٹا کرتے ہیں، یہ دنیا میں ان کے الٹنے پلٹنے کی سزا ہے کہ کبھی کچھ کبھی کچھ کرتے تھے جو نفاق کی شان ہے اور وہاں ان کو اپنے مذہب اور اس کے پیشوائوں کا حال معلوم ہوگا کہ انہوں نے ہم کو مفت بد راہ کیا، اس لیے جل کر کہیں گے کہ خداوند ان کو دوگنا عذاب دے، ایک ان کی گمراہی کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 66–68

یَوْمَ ثُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰـلَیْتَنَـآ اَطَعْنَا اللّٰہ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ ۔ وَقَالُوْا رَبَّنَـآ اِنَّـآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ئَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلاَ ۔ رَبَّنَـآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 66 تا 68) (جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹے پلٹے جائیں گے وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی تو انھوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کردیا۔ اور اے ہمارے رب، انھیں دونا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–68

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی جہنم میں حالت اور فریادیں۔ جہنمیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا جہنمی سانس لینے کی غرض سے جہنم کی آگ سے منہ نکال کر آہ و زاریاں کرتے ہوئے کہیں گے ہائے کاش ! ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے سرداروں اور بڑوں کی پیروی کی اور گمراہ ہوئے۔ اے ہمارے رب ہماری درخواست ہے کہ ہمارے سیاسی اور مذہبی پیشواؤں کو دوگنا عذاب کیجیے اور ان پر بڑی سے بڑی پھٹکار کیجئے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کے مقابلے میں فرمائے گا کہ تم سب کو دوگنا عذاب ہے لیکن تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: رَبَّنَآ ٰاتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ (اے ہمارے رب ان کو دوگنا عذاب دیجئے) گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا۔ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا (اور ان پر بڑی لعنت کیجئے) قراءت : کبیراً کو عاصم نے پڑھا ہے۔ تاکہ سخت لعنت اور بڑی لعنت پر دلالت ہو اور دیگرقراء نے تاء پڑھی تاء کہ لعنتوں کی گنتی زیادہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 68۔ ، ربنا اتھم ضعفین من العذاب ، ان کے عذاب سے دوگنادیا جائے گا۔ ، والعنھم لعنا کبیرا، عاصم نے کبیر ایاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ کلبی نے کہا ہے کہ بہت زیادہ عذاب کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ثاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملا ئکۃ والناس اجمعین ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–70

63 تا 71۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہیں سنا نے کو جو لوگ گھڑی گھڑ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تم ان کو جواب دو کہ اس کا علم خدا کو ہے اور تم کو کیا خبر شائد قریب ہو جیسا اور جگہ فرمایا اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ نزدیک آیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے اور پھینک دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دھکتی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں اور نہ پادیں گے کافر کسی کو اپنا دوست اور مددگار جو عذاب سے ان کو چھوڑادے پھر فرمایا جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ چالے جاویں گے کہیں گے کاش ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–68

آیت 64 لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو (قل) ” آپ کہہ دیجیے “ ان سے : (انما علمھا عند اللہ) اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ (وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریباً ) ” اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو “ یعنی قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–73

قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

136 گمراہ کن لیڈروں کے لیے دوہرے عذاب کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ایسے گمراہ پیروکار اپنے ان گمراہ کن لیڈروں کے بارے میں کہیں گے اور ہمارے رب انکو دوہرا عذاب دے "۔ ایک عذاب انکو خود گمراہ ہونے کا اور ایک دوسروں کو گمراہ کرنے کا ۔ " مِثْلًاعَلٰی ضَلاَلِہم وَ مِثْلَا عَلي اٍضْلالہم " ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ " سو وہ کہیں گے کہ ان بڑوں کو ہمارے عذاب کے مقابلے میں دوہرا عذاب دیا جائے۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا گمراہ کرنے کا "۔ " سادۃ "، " سید " کی جمع ہے جسکے معنیٰ " سردار " کے آتے ہیں اور " کبرا " جمع ہے " کبیر " کی جسکے معنیٰ بڑے کے آتے ہیں۔ سو ان سے مراد ان کی قوم قبیلہ کے وہ بڑے لوگ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–68

برے لوگوں اور رہنماؤں کا انجام تشریح : گناہ اور بےحیائی سے گھر، محلے، شہر، ملک اور دنیا میں بےسکونی بدامنی اور انتشار پھیلتا ہے اسی لیے رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے بڑے گناہ سے منع کیا ہے۔ سزا چھوٹے گناہ کی بھی ملے گی کیونکہ چھوٹا گناہ ہی بڑے گناہوں کی بنیاد بنتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک چھوٹی سی پنسل کی چوری ہی انسان کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ کیونکہ اس چوری کا پکڑا جانا انسان کی بےعزتی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس پریشانی میں وہ اپنا سکون کھو بیٹھتا ہے۔ اگر وہ چوری پکڑی جائے تو انسان کی عزت برباد ہوجاتی ہے وہ اپنی کلاس میں چور مشہور ہوجاتے ہیں حالانکہ چوری بڑی معمولی تھی اور اگر چوری پکڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–68

آیات 59 تا 68 اسرار ومعارف آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا : اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–69

ف 5 اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے ملعون اور معذب ہونگے۔ اب یہاں مومنین کو تنبیہ کی وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں جیسا رویہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ ” ستانے “ سے مراد زبان سے کوئی بد تمیزی کی بات کہنا بھی ہے اور ہاتھ سے تکلیف دینا بھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں میں کچھ مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ ایک انصاری کہنے لگا ” یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھا گیا “۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا :” موسیٰ ( علیہ السلام) پر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:68) اتہم۔ ایتاء (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو دے۔ ضعفین۔ صعف کا تثنیہ ۔ دوگنا۔ دو چند۔ العنہم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر، ہم مفعول جمع مذکر غائب ۔ (لعن) سے باب فتح۔ تو ان پر لعنت بھیج۔ لعنا کبیرا۔ موصوف وصفت۔ بڑی لعنت ۔ لعن مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–68

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 68 ما یدری : (تجھے) کیا خبر ہے ؟ سعیر : جہنم۔ بھڑکتی آگ تقلب : الٹ پلٹ دی جائے گی یلیتنا : اے کاش کہ ہم اطعنا : ہم نے اطاعت کی سادتنا : ہمارے بڑے ۔ ہمارے سردار ضعفین : دوگنا۔ دوہرا العن : لعنت کر۔ رحمت سے دور کردے کبیر : بڑا تشریح : آیت نمبر 63 تا 68 کفار ومشرکین کو جب قیامت کے ہولناک دن سے ڈرایا جاتا تھا وہ قیامت کا کچھ علم رکھنے کے باوجود ڈھیٹ بن کر نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے تھیے کہ تم جس قیامت کا بار بار ذکر کرکے ہمیں ڈراتے ہو وہ قیامت آخر کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–68

(ف 1) شان نزول : مشرکین جو تمسخر و استہزاء اور ستانے کے طور پر گھڑی گھڑی اے محبوب ﷺ تم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے ہیں گویا کہ ان کو بہت ہی جلدی ہے اور یہودی اس کو امتحانا پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو حکم فرامایا اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ صحیح بخاری ومسلم کو حضرت عائشہ عنہا کی حدیث ہے کہ جب لوگ اللہ کے رسول سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تو آپ ایک نوعمر لڑکے کی طرف نظرڈال کر یہ فرمادیا کرتے کہ اس لڑکے کے بوڑھا ہونے سے پہلے موجود لوگوں میں سے اکثر لوگ مرجائیں گے اور مرنے کے ساتھ ہی ان میں سے ہر ایک کو اپنا قیامت کا انجام معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–71

[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–68

ف 2: یعنی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا علمصرف جناب باری کو و ہے کسی انسان کو ان سے بہرہ ور نہیں کیا گیا ۔ اس لئے اگر حضور ﷺ قیامت کے متعلق نہیں جانتے کہ اس کا ظہور کب ہوگا ۔ تو یہ ان کے منصب نبوت کے منافی نہیں ۔ کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور خود انسانی مصالح کا تقاضا ہے ۔ کہ اس کو فطرت کے بعض اسراء سے ناآشنا کیا جائے ۔ ورنہ ہمہ دانی کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ زندگی گزارنا دشوار ہوجائے اور دنیا الم وافسوس کا جہنم زاد بن جائے ۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو دنیا میں اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے محروم تھے اور مشائخ و کبار کی اندھی عقیدت میں مبتلا تھے ۔ یہ اس وقت محسوس کرینگے کہ ان لوگوں نے ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

68۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوہری سزا دے یعنی سرداروں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ان پر ایسی لعنت کر جو بہت بڑی لعنت ہو ۔ بعض قرأت میں کثیر ا ً ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان پر بکثرت لعنت بھیج ، بہر حال اپنے گمراہ کرنیوالوں کے حق میں بددعا کرتے ہوں گے اسی قسم کی ایک بحث آٹھویں پارے سورة اعراف میں گزرچکی ہے وہاں دیکھ لیا جائے ، آگے پھر مسلمانوں کو پیغمبر ﷺ کی ایذا رسانی سے ممانعت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–68

ف 1۔ یعنی چہروں کے بل گھسیٹے جاویں گے کبھی چہرہ کی اس کروٹ کبھی اس کروٹ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اپنے سرداروں اور گزرگوں کے لئے دوگنے عذاب کی اپیل کریں گے 68 ۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ہمارے رونے اور چیخنے اور آہ وزاری کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہے کیونکہ یہ قانون الٰہی کے مطابق فیصلہ ہوچکا ہے اور قانون خداوندی کوئی موم کی ناک نہیں جدھر چاہا موڑ لیا اس لئے اب وہ اپنے ان سرداروں اور بزرگوں کے لئے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا وہ دوہرے عذاب کی اپیل کریں گے کہ اے اللہ ! ہم بےقصور ہیں ، ہمیں معافی ملنی چاہیے اور اگر ہم کو معافی نہیں ملتی تو ہماری یہ درخواست ضرور قبول ہو کہ ہمارے سیدوں ، سرداروں اور پیروں ، بزرگوں کو دوچند عذاب دیا جائے اس لئے کہ ان ظالموں نے اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا اور ہمارا بیڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–68

Commentary Those hostile to Allah and the Messenger were warned of and alerted to curse and punishment in the present world and in the Hereafter while many factions among the disbelievers, in their own place, simply denied the eventuality of any Qiyamah (Doomsday) or 'Akhirah (Hereafter) and, because of their denial, used to mockingly ask: When would that Qiyamah come? An answer to their question has been given in the cited verse, that the Doomsday may be in near future. It has been said so because nobody knows the exact date of the Doomsday, and therefore everyone should be prepared for it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

117 This thing has been stated at several places in the Qur'an. For instance, sec AI-A'raf: 187; An-Naziyat: 42-46: Saba: 3-5; AI-Mulk: 24-27; AIMutaffifin: 10-17; AI-Hijr: 2-3; Al-Furqan: 27-29; Ha Mim As-Sajdah: 26-29.

Read the full tafseer →