Explained with ayahs 63–68
قیامت قریب تر سمجھو۔
لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی۔ اس کا علم حضور ﷺ کو ہے۔ آپ سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی ﷺ کی زبانی معلوم کروا دیا کہ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ سورة اعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکہ میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتدا سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) اور آیت میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
سورة الْاَحْزَاب 116
رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال عموماً کفار و منافقین کیا کرتے تھے۔ اور اس سے ان کا مقصد علم حاصل کرنا نہ تھا بلکہ وہ دل لگی اور استہزاء کے طور پر یہ بات پوچھا کرتے تھے۔ دراصل ان کو آخرت کے آنے پر یقین نہ تھا۔ قیامت کے تصور کو وہ محض ایک خالی خولی دھمکی سمجھتے تھے۔ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ اس لیے دریافت نہیں کرتے تھے کہ اس کے آنے سے پہلے وہ اپنے معاملات درست کرلینے کا ارادہ رکھتے ہوں، بلکہ انکا اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ اے محمد ﷺ ہم نے تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ کچھ کیا ہے اور آج تک تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہو، اب ذرا ہمیں بتاؤ تو سہی کہ آخر وہ قیامت کب برپا ہوگی جب ہماری خبر لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
خلاصہ تفسیر
یہ (منکر) لوگ آپ سے قیامت کے متعلق (منکرانہ) سوال کرتے ہیں (کہ کب ہوگی) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ اس (کے وقت) کی خبر بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو کیا خبر (کہ کب ہے، البتہ اجمالاً ان لوگوں کو جان رکھنا چاہئے کہ) عجب نہیں کہ قیامت ابھی واقع ہوجائے (کیونکہ جب کوئی وقت معین نہیں تو قریب زمانے میں اس کے واقع ہوجانے کا بھی احتمال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کا مقتضاء یہ تھا کہ یہ لوگ انجام سے ڈرتے اور اس کی تیاری میں لگتے، منکرانہ سوالات اور استہزاء سے بچتے۔
اور قیامت کو قریب فرمانے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قیامت ہر روز قریب ہی ہوتی جا رہی ہے، اور جو چیز سامنے سے آ رہی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
یوم تقلب وجوھھم فی النار یقولون لییتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا وقالوا ربنلان اطعان اساتنا وکبراء نا فاضلونا السبیلا ربنا اتھم ضعفین من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (66۔ 68)
’ تقلیب ‘ کے معنی الٹنے پلٹنے کے ہیں۔ گوشت کو آگ پر بھونتے ہیں تو اس کو کبھی ایک جانب سے بھونتے ہیں کبھی دوسری جانب سے۔ فرمایا کہ یہ گت ان کی بننے والی ہے۔ یہ دوزخ کی آگ میں اس اپنے چہروں کے بل اس طرح گھسیٹے جائیں گے کہ دونوں طرف سے ان کے چہرے بھن جائیں گے۔ چہرے کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے فرمایا کہ اعترافِ حق سے اعراض و استکبار کی رعونت کا سب سے زیادہ نمایاں مظہر و وہی ہوتا ہے جب اس کا حشر یہ ہونا ہے تو دوسری چیزیں اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
67۔ 1 یعنی ہم نے تیرے پیغمبروں اور داعیان دین کی بجائے اپنے ان بڑے اور برزگوں کی پیروی کی، لیکن آج ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمیں تیرے پیغمبروں سے دور رکھ کر راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ آبا پرستی اور تقلید فرنگ آج بھی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہے کاش مسلمان آیات الٰہی پر غور کر کے ان پگڈنڈیوں سے نکلیں اور قرآن و حدیث کی صراط مستقیم کو اختیار کرلیں کہ نجات صرف اور صرف اللہ اور رسول کی پیروی میں ہی ہے نہ کہ مشائخ واکابر کی تقلید میں یا آبا واجداد کے فرسودہ طریقوں کے اختیار کرنے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
50: جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کو پہلے خبردار کیا جاتا ہے پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔
یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔
ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔
خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
1 یہ شدت غیظ سے کہیں گے کہ ہمارے ان دنیاوی سرداروں اور مذہبی پیشواؤں نے دھوکے دے کر اور جھوٹ فریب کہہ کر اس مصیبت میں پھنسوایا۔ ان ہی کے اغواء پر ہم راہ حق سے بھٹکے رہے۔ اگر ہمیں سزا دی جاتی ہے تو ان کو دوگنی سزا دیجئے۔ اور جو پھٹکار ہم پر ہے اس سے بڑی پھٹکار ان بڑوں پر پڑنی چاہیے۔ گویا ان کو دوگنی سزا دلوا کر اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہیں گے۔ اسی مضمون کی ایک آیت سورة " اعراف " کے چوتھے رکوع میں گزر چکی ہے۔ وہیں ان کی اس فریاد کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 67 { وَقَالُوْٓا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآئَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا } ”اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
106 سادات اور کبراء سے کون لوگ مراد ہی ؟ ان دو آیات سے چند باتیں مستفاد ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی راہ سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے برگشتہ کرنے والے حضرات دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک دنیوی سردار، حاکم، رئیس، چودھری وغیرہ جن کا عوام پر اثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے لوگوں سے اپنی اطاعت کروائیں۔ دوسری قسم کے لوگ علماء اور مشائخ یعنی مذہبی پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کے گمراہ کرنے کا انداز دنیوی سرداروں سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں میں شرکیہ رسوم اور بدعات رائج کرتے، غلط فتوے دیتے، اولیاء اللہ کے تصرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
145۔ تینوں آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ جب دوزخ میں کافر ڈالے جائیں گے اور گھسیٹے جائیں گے جس سے ان کے چہرے الٹ پلٹ ہونے لگیں گے، تو کمال حسرت کا اظہار اپنے اسلام نہ لانے پر کریں گے اور کمال غضب کا اپنے گمراہ کرنے والے اکابر پر (آیت) ” یلیتنا ..... الرسولا “۔ آخرت میں کام آنے والی شے صرف اطاعت خدا و اطاعت رسول نکلے گی، باقی ہیچ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بڑوں کی مطلقا تقلید ہرگز کوئی عذر نہیں، اور آج کل کے بدعات اختیار کرنے والے اپنے مشائخ کے رسوم سے اکثر تمسک کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–68
آیت نمبر 59 تا 68
ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…
Read the full tafseer →وقالوا ربنا انا اطعنا سادتنا وکبرآء نافاضلوتا السبیلا . اور وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم اپنے
سرداروں اور بڑوں کے کہے پر چلے (یعنی وہ ہمارے لیڈر تھے جنہوں نے ہمارے لئے کفر کا طریقہ ایجاد کیا اور ہم اس طریقہ پر چلے) سو انہوں نے ہم کو راہ سے بھٹکا دیا (یعنی راہ کفر کو پرفریب بنا کر دکھایا اور سیدھے راستہ سے بہکا دیا) ۔
Read the full tafseer →اور پیرو کار یوں کہتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہمیں دین حق سے گمراہ کردیا۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا۔۔ : ”سَادَۃٌ“ ”سَیِّدٌ“ کی جمع ہے اور ”کُبَرَاءُ“ ”کَبِیْرٌ“ کی جمع ہے۔ ابن کثیر میں ہے : ”طاؤس نے فرمایا ”سَادَتَنَا“ سے مراد سردار اور چودھری ہیں اور ”وَكُبَرَاۗءَنَا“ سے مراد عالم ہیں۔“ قرآن مجید میں لوگوں کی گمراہی کا باعث بننے والے طبقے تین بتائے گئے ہیں، مستکبرین (چودھری، سردار) ، احبار (علماء) اور رہبان (درویش)۔ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا
وَ ھَلْ أَفْسَدَ الدِّیْنَ إِلَّا الْمُلُوْکُ
وَ أَحْبَارُ سَوْءٍ وَ رُْھْبَانُھَا
”دین کو بادشاہوں، برے علماء اور درویشوں ہی نے خراب کیا ہے۔“
یعنی جہنمی کہیں گے کہ ہم نے اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(آیت) یوم تقلب وجوھھم فی النار عام قراءت تاء کے ضمہ اور لام کے فتحہ کو ساتھ ہے اور فعل مجہول ہے۔ عیسیٰ ہمدانی اور ابن اسحاق نے نقلب نون اور لام مکسور کے ساتھ قراءت کی ہے۔
وجوھھم منصوب ہے۔ عیسیٰ نے یہ قراءت کی ہے۔ تقلب تاء مضموم اور لام مکسور ہے معنی یہ ہے جہنم ان کے چہروں کو الٹ سے گی۔ یہ الٹنا آگ کی لپک کے ساتھ ان کے رنگوں کو بدل دینا ہے۔ کسی لمحہ وہ سیاہ ہوجائیں گے اور کسی لمحہ سبز ہوجائیں گے۔ جب ان کے جلدوں کو دوسری جلدوں سے بدل دیا جائے گا تو وہ اس وقت تمنا کریں گے کہ وہ کفر نہ کرتے۔ (آیت) یقولون یالیتنا یہ جائز ہے کہ معنی ہو جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹے جائیں گے تو اس روز کہیں گے کاش !۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
1۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ربنا انا اطعنا سادتنا وکبراء نا (اے ہمارے ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کے کہنے پر چلے) یعنی ہم نے اپنے سرداروں کی اطاعت کی برائی میں اور شرک میں ربنا اٰتہم ضعفین من العذاب (اے ہمارے رب ان کو دگنا عذاب دے یعنی جہنم کا عذاب )
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی ربنا انا اطعنا سادتنا (یعنی ان سرداروں اور بڑوں میں) ابوجہل بن ہشام بھی تھا۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا [اور کہیں گے ] رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اِنَّآ اَطَعْنَا [بیشک ہم نے اطاعت کی ] سَادَتَنَا [اپنے سرداروں کی ] وَكُبَرَاۗءَنَا [اور اپنے بڑوں کی ] فَاَضَلُّوْنَا [تو ان لوگوں نے بہکا دیا ہم کو ] السَّبِيْلَا [راستے سے ] ۔
نوٹ۔ 2: آیت 67 میں سادتنا اور کبراء نا کے دو لفظ آئے ہیں سادۃ سے مراد تو ظاہر ہے کہ لیڈر اور سردار ہیں اور کبراء سے مراد ان کے خاندانی اور مذہبی پیشوا ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی آنکھ بند کرکے اطاعت کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو حق و باطل مین امتیاز کے لئے عقل عطا فرمائی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس کسوٹی سے کام لے، جو اس سے کام لے گا، اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
اس کے بعد یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی فرمانبرداری کی انہوں نے ہمیں ایمان قبول نہ کرنے دیا اور کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے، اس طرح سے انہوں نے ہمیں صحیح راستہ سے اور دین حق سے ہٹا کر گمراہ کردیا۔
(سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا) کے عموم میں چھوٹے بڑے چودھری، کفر کے سرغنے، گمراہی کے لیڈر سب ہی داخل ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں ایمان کی فضا بنتی ہے قوموں کے لیڈر اور چودھری ایمان سے روکتے ہیں جو شخص اسلام قبول کرلے اسے واپس کفر میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، کفر کی دعوت دینے کے لیے اور اپنی قوموں کو کفر پر جمانے کے لیے ان کے ملوک اور رؤسا اور امراء اور وزراء واغنیا بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
تہدید ووعید منافقین ومنکرین قیامت
مقرون بہ لعنت عذاب آخرت
قال اللہ تعالی۔ یسئلک الناس عن الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ والعنہم لعنا کبیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تہدید تھی آپ ﷺ جب کبھی منکرین حق کو آئندہ آنے والے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تو وہ بطور تمسخر یہ سوال کرتے کہ قیامت کب ہوگی اور اس قسم کے معاندانہ سوال سے محض آپ ﷺ کو تنگ کرنا اور ایذا دینا مقصود ہوتا تھا تو اس کا جواب دیا گیا کہ قیامت کا اصل وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن سمجھ لو کہ شاید وہ قریب ہی نہ ہو اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں اور دو انگلیاں ملا کر دکھلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
66:۔ ان اللہ الخ، قیامت جب بھی آئے، آئے گی ضرور، اس دن کفار و مشرکین کا ھشر یہ ہوگا کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم ہوں گے اور بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کا کوئی ھامی و مددگار نہ ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لے۔ یوم تقلب الخ قیامت کے جب ان کے چہروں کو آگ پر الٹ پلٹ کیا جائے گا تو وہ حسرت و ندامت سے کہیں گے۔ کاش ! ہم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر بطور معذرت کہیں گے۔ ربنا انا اطعنا الخ، اے ہمارے پروردگار ! ہم اس معاملے میں بےقصور ہیں۔ ہم دنیا میں علماء دین اور پیشوایان مذہب ہی کی اطاعت اور پیروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب اور ازواج مطہرات کے بارے میں احکام بیان فرمائے۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) پر درود وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچانے والوں کو ملعون ٹھہرایا اور انہیں عذاب کا مستحق قرار دیا۔ اسی طرح ایمان دار مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچانے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ ایسے لوگ بہتان طرازی کرتے ہیں اور بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے ازواج مطہرات ، حضور ﷺ کی بیٹیوں اور عام مومنہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم دیا اور غنڈہ گردی کرنے والے منافق قسم کے لوگوں کو تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ شرارتوں سے…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا 67
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ان اللہ لعن الکافرین الخ یہاں سے ان غفلت شعار لوگوں کا وہ معاملہ بیان فرماتا ہے جو آخرت میں بہت جلد ان کے سامنے آنے والا ہے کہ یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، ان کو اس بلا سے وہاں کوئی نہ چھڑا سکے گا، اس روز آگ میں ان کے منہ الٹے پلٹے جاویں گے۔ منہ سے مراد ان کی ذات ہے، یعنی وہ الٹے پلٹے جاویں گے کہ جس طرح کباب کو بھونتے وقت الٹا پلٹا کرتے ہیں، یہ دنیا میں ان کے الٹنے پلٹنے کی سزا ہے کہ کبھی کچھ کبھی کچھ کرتے تھے جو نفاق کی شان ہے اور وہاں ان کو اپنے مذہب اور اس کے پیشوائوں کا حال معلوم ہوگا کہ انہوں نے ہم کو مفت بد راہ کیا، اس لیے جل کر کہیں گے کہ خداوند ان کو دوگنا عذاب دے، ایک ان کی گمراہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
یَوْمَ ثُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰـلَیْتَنَـآ اَطَعْنَا اللّٰہ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ ۔ وَقَالُوْا رَبَّنَـآ اِنَّـآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ئَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلاَ ۔ رَبَّنَـآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 66 تا 68)
(جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹے پلٹے جائیں گے وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی تو انھوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کردیا۔ اور اے ہمارے رب، انھیں دونا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کی جہنم میں حالت اور فریادیں۔
جہنمیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا جہنمی سانس لینے کی غرض سے جہنم کی آگ سے منہ نکال کر آہ و زاریاں کرتے ہوئے کہیں گے ہائے کاش ! ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے سرداروں اور بڑوں کی پیروی کی اور گمراہ ہوئے۔ اے ہمارے رب ہماری درخواست ہے کہ ہمارے سیاسی اور مذہبی پیشواؤں کو دوگنا عذاب کیجیے اور ان پر بڑی سے بڑی پھٹکار کیجئے۔
قرآن مجید کے دوسرے مقام پر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کے مقابلے میں فرمائے گا کہ تم سب کو دوگنا عذاب ہے لیکن تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →کفار کی چیخ و پکار :
67: وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّا اَطَعْنَا سَادَتَنَا (اور وہ یوں کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں کا کہا مانا)
قراءت : شامی، سہل و یعقوب نے ساداتنا پڑھا ہے۔ جو جمع الجمع ہے اور مراد اس سے کفار کے وہ سردار ہیں جنہوں نے دوسروں کو کفر کی تلقین کی اور ان کے لئے کفر کی تزیین کی وَکُبَرَآ ئَ نَا (اور اپنے بڑوں کی) زیادہ عمر والے یا اپنے علماء کی فاضلو نا السبیلا (پس انہوں نے ہمیں راستہ سے گمراہ کیا تھا) عرب کہتے ہیں ضل السبیل واضلہ ایاہ اور الف کا اضافہ تو آواز کی خاطر ہے۔ آیات کے فاصلے اس طرح ہیں جیسے کہ اشعار کے قافیے ہوتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ وقف اور دلالت ہے کہ کلام…
Read the full tafseer →67، وقالور بناانا اطعنا سادتنا، ابن عامر اور یعقوب نے ، ساداتنا، تاء کے کسرہ کے ساتھ اور اس سے پہلے الف کے ساتھ پڑ ھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے فتحہ کے ساتھ ماقبل بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ، وکبر اء نافاضلو نا السبیلا،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
63 تا 71۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہیں سنا نے کو جو لوگ گھڑی گھڑ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تم ان کو جواب دو کہ اس کا علم خدا کو ہے اور تم کو کیا خبر شائد قریب ہو جیسا اور جگہ فرمایا اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ نزدیک آیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے اور پھینک دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دھکتی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں اور نہ پادیں گے کافر کسی کو اپنا دوست اور مددگار جو عذاب سے ان کو چھوڑادے پھر فرمایا جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ چالے جاویں گے کہیں گے کاش ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
آیت 64
لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو (قل) ” آپ کہہ دیجیے “ ان سے : (انما علمھا عند اللہ) اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔
(وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریباً ) ” اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو “ یعنی قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–73
قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…
Read the full tafseer →135 منکروں کے اپنے بڑوں پر الزام کا ذکر : سو اس سے منکروں کے اپنے بڑوں کے جرم اضلال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز یہ کہیں گے کہ ہمیں بہکا اور بھٹکا دیا ہمارے بڑوں نے سیدھی راہ سے "۔ اور راہ حق وصواب سے ہٹا کر اور بہکا کر انہوں نے ہمیں کفر و شرک اور معاصی وذنوب کی راہ ہلاکت پر ڈال دیا۔ جس کے نتیجے میں آج ہمیں یہ روز بد دیکھنا پڑا۔ سو علمائے سو پیران باطل اور لیڈران ضلالت کا طریقہ و وطیرہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ اپنی اہواء و اَغراض کی خاطر عام لوگوں کو راہ حق و صواب سے ہٹانے اور محروم کرنے کے لئے طرح طرح کے طور طریقے اپناتے اور قسماقسم کے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
برے لوگوں اور رہنماؤں کا انجام
تشریح : گناہ اور بےحیائی سے گھر، محلے، شہر، ملک اور دنیا میں بےسکونی بدامنی اور انتشار پھیلتا ہے اسی لیے رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے بڑے گناہ سے منع کیا ہے۔ سزا چھوٹے گناہ کی بھی ملے گی کیونکہ چھوٹا گناہ ہی بڑے گناہوں کی بنیاد بنتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک چھوٹی سی پنسل کی چوری ہی انسان کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ کیونکہ اس چوری کا پکڑا جانا انسان کی بےعزتی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس پریشانی میں وہ اپنا سکون کھو بیٹھتا ہے۔ اگر وہ چوری پکڑی جائے تو انسان کی عزت برباد ہوجاتی ہے وہ اپنی کلاس میں چور مشہور ہوجاتے ہیں حالانکہ چوری بڑی معمولی تھی اور اگر چوری پکڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–68
آیات 59 تا 68
اسرار ومعارف
آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا :
اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
ف 5 اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے ملعون اور معذب ہونگے۔ اب یہاں مومنین کو تنبیہ کی وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں جیسا رویہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ ” ستانے “ سے مراد زبان سے کوئی بد تمیزی کی بات کہنا بھی ہے اور ہاتھ سے تکلیف دینا بھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں میں کچھ مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ ایک انصاری کہنے لگا ” یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھا گیا “۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا :” موسیٰ ( علیہ السلام) پر…
Read the full tafseer →(33:67) سادتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے سردار۔ سادۃ سید کی جمع ہے نا ضمیر جمع متکلم۔ کبراء نا۔ مضاف مضاف الیہ کبراء کبیر کی جمع ہے نا ضمیر جمع متکلم۔ ہمارے بڑے لوگ ۔ یعنی ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا۔
اضلونا۔ ماضی جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ انہوں نے ہم کو گمراہ کیا۔ السبیلا ای عن طریق الحق۔ صحیح راستے سے۔ آخر میں الف اشباع کا ہے۔ جیسا کہ اوپر الرسولا میں آیا ہے یہ الف بامعنی نہیں ہے بلکہ محض اصلاح لفظ اور اشباع کے لئے آیا ہے جیسا کہ بعض اشعار کے آخر میں ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 68
ما یدری : (تجھے) کیا خبر ہے ؟
سعیر : جہنم۔ بھڑکتی آگ
تقلب : الٹ پلٹ دی جائے گی
یلیتنا : اے کاش کہ ہم
اطعنا : ہم نے اطاعت کی
سادتنا : ہمارے بڑے ۔ ہمارے سردار
ضعفین : دوگنا۔ دوہرا
العن : لعنت کر۔ رحمت سے دور کردے
کبیر : بڑا
تشریح : آیت نمبر 63 تا 68
کفار ومشرکین کو جب قیامت کے ہولناک دن سے ڈرایا جاتا تھا وہ قیامت کا کچھ علم رکھنے کے باوجود ڈھیٹ بن کر نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے تھیے کہ تم جس قیامت کا بار بار ذکر کرکے ہمیں ڈراتے ہو وہ قیامت آخر کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
(ف 1) شان نزول :
مشرکین جو تمسخر و استہزاء اور ستانے کے طور پر گھڑی گھڑی اے محبوب ﷺ تم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے ہیں گویا کہ ان کو بہت ہی جلدی ہے اور یہودی اس کو امتحانا پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو حکم فرامایا اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ صحیح بخاری ومسلم کو حضرت عائشہ عنہا کی حدیث ہے کہ جب لوگ اللہ کے رسول سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تو آپ ایک نوعمر لڑکے کی طرف نظرڈال کر یہ فرمادیا کرتے کہ اس لڑکے کے بوڑھا ہونے سے پہلے موجود لوگوں میں سے اکثر لوگ مرجائیں گے اور مرنے کے ساتھ ہی ان میں سے ہر ایک کو اپنا قیامت کا انجام معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
ف 2: یعنی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا علمصرف جناب باری کو و ہے کسی انسان کو ان سے بہرہ ور نہیں کیا گیا ۔ اس لئے اگر حضور ﷺ قیامت کے متعلق نہیں جانتے کہ اس کا ظہور کب ہوگا ۔ تو یہ ان کے منصب نبوت کے منافی نہیں ۔ کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور خود انسانی مصالح کا تقاضا ہے ۔ کہ اس کو فطرت کے بعض اسراء سے ناآشنا کیا جائے ۔ ورنہ ہمہ دانی کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ زندگی گزارنا دشوار ہوجائے اور دنیا الم وافسوس کا جہنم زاد بن جائے ۔
یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو دنیا میں اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے محروم تھے اور مشائخ و کبار کی اندھی عقیدت میں مبتلا تھے ۔ یہ اس وقت محسوس کرینگے کہ ان لوگوں نے ان…
Read the full tafseer →67۔ اور یہ بھی کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہم کو راہ راست سے بھٹکا دیا اور گمراہ کردیا۔ بڑوں سے مراد شاید رئوسا ، قریش اور مکھیا لوگ ہوں گے جن کو متبوع اور قابل اتباع سمجھا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ مراد ہوں جیسا کہ بڑے بوڑھیوں کی بات مانی جاتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علمئا سوء مراد ہوں ۔ ( واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ف 1۔ یعنی چہروں کے بل گھسیٹے جاویں گے کبھی چہرہ کی اس کروٹ کبھی اس کروٹ۔
Read the full tafseer →وہ بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے سرداروں نے ہم کو گمراہ کیا
67 ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جو دوزخ میں کف افسوس مل رہے ہیں ، انہوں نے پہلی بات جو کی وہو تو وہ تھی جو اوپر گزر گئی وہ افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کی ہوتی اور اب وہ دوسری بار بولے ہیں تو کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم معذرت خواہ ہیں ، ہمارا اتنا قصور نہیں جتنی ہم کو سزا دی جارہی ہے کیونکہ ہمارے سردار اور ہمارے پیشوا ہمیں جس راہ پر چلاتے رہے ہم چلتے رہے ، ہم خود گمراہ نہ تھے انہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اور سیدھی راہ سے بہکا دیا تھا۔ قرآن کریم نے ان کی اس بات کو اس طرح غلط قرار دیا کہ یہ تم جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
Commentary
Those hostile to Allah and the Messenger were warned of and alerted to curse and punishment in the present world and in the Hereafter while many factions among the disbelievers, in their own place, simply denied the eventuality of any Qiyamah (Doomsday) or 'Akhirah (Hereafter) and, because of their denial, used to mockingly ask: When would that Qiyamah come? An answer to their question has been given in the cited verse, that the Doomsday may be in near future. It has been said so because nobody knows the exact date of the Doomsday, and therefore everyone should be prepared for it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
116 The Holy Prophet was generally asked this question by the disbelievers and the hypocrites. By this they did not mean to obtain any knowledge but they did so out of fun and jest. As a matter of fact, they did not believe in the coming of the Hereafter at aII; they regarded its concept as an empty threat only. They did not ask about the time of its coming so that they could set their affairs right, but what they really meant was : "O Muhammad, we have been doing everything to frustrate your mission, and you have not been able to do any harm to us so far; now Iet us know as to when will…
Read the full tafseer →