Al-Ahzaab 33:62

Al-Ahzaab · from ayah 62

33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ— وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا ۟سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُۚ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[This is] the established way of Allah with those who passed on before; and you will not find in the way of Allah any change.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:62

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز ردوبدل نہ پائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اللہ کا وہ معمول ہے جس پر ان لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم اللہ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ کی (یہی) سنّت اُن لوگوں میں (بھی جاری رہی) ہے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کے طریقے کی طرح ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور تو اللہ کے طریقے میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

گزشتہ لوگوں میں اللہ کا یہی طریقہ جاری رہا ہے اور آپ اللہ کے اس طریقہ میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے ہوگزرے ہیں اور تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جیسا کہ اللہ کا دستور رہا ہے ان لوگوں میں جو گزر چکے ہیں اس سے پہلے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کا یہی دستور رہا ہے ان لوگوں میں بھی جو (ان سے) پیشتر گذر چکے ہیں اور آپ اللہ کے دستور میں رد وبدل نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کی یہی ُ سنت ّرہی ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ پہلے گز رچکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی مرضی رہی ہے اور تم اللہ کی عادت میں تغیر و تبدل نہ پاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

This has been Allah's Way with those who have gone before, and you shall find no change in Allah's Way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

_ a consistent practice of Allah in the matter of those who have gone before. And you will never find a change in Allah‘s consistent practice.

— Muhammad Taqi Usmani

_ a consistent practice of Allah in the matter of those who have gone before. And you will never find a change in Allah‘s consistent practice.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That was the way of Allah in the case of those who passed away of old, and you will not find any change in the way of Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That was the way of Allah in the case of those who passed away of old; thou wilt not find for the way of Allah aught of power to change.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[This is] the established way of Allah with those who passed on before; and you will not find in the way of Allah any change.

— Saheeh International

This was the tradition of God with those who lived before. There will never be any change in the tradition of God.

— Muhammad Sarwar

(Such has been) the course of Allah with respect to those who have gone before; and you shall not find any change in the course of Allah.

— Muhammad Habib Shakir

That hath been the dispensation of Allah with those who have passed away afore; and thou shalt not find in the dispensation of Allah any change.

— Abdul Majid Daryabadi

(Such was) the practice (approved) of Allah among those who lived aforetime: No change wilt thou find in the practice (approved) of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–62

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون ؟ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہوجائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہوجائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیا کے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 115 یعنی یہ اللہ کی شریعت کا ایک مستقل ضابطہ ہے کہ ایک اسلامی معاشرے اور ریاست میں اس طرح کے مفسدین کو کبھی پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ جب بھی کسی معاشرے اور ریاست کا نظام خدائی شریعت پر قائم ہوگا اس میں ایسے لوگوں کو پہلے متنبہ کردیا جائے گا تاکہ وہ اپنی روش بدل دیں، اور پھر جب وہ باز نہ آئیں گے تو سختی کے ساتھ ان کا استیصال کر ڈالا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–62

جو شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوجائے اس کی سزا قتل ہے آیت مذکورہ میں منافقین کی دو شرارتوں کا ذکر کے ان سے باز نہ آنے کی صورت میں جس سزا کا ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ملعونین اینما اخذوا وقتلوا تقتیلا، ”یعنی یہ لوگ جہاں رہیں گے لعنت اور پھٹکار ان کے ساتھ ہوگی، اور جہاں ملیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور قتل کردیئے جائیں گے۔“ یہ سزا عام کفار کی نہیں، بیشمار نصوص قرآن و سنت اس پر شاہد ہیں کہ عام کفار کے لئے شریعت اسلام میں یہ قانون نہیں ہے، بلکہ قانون یہ ہے کہ اول ان کو دعوت اسلام دی جائے، ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے اس پر بھی وہ اسلام نہ لائیں تو مسلمانوں کے تابع ذمی بن کر رہنے کا حکم دیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سنتہ اللہ فی الذی خلوا من قبل ولن تجد لسنتہ اللہ تبدیلا (62) یہ بعینہ وہی اسلوب کلام ہے جو آیت 28 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے اس سے پہلو جو منافقین و کفار گر چکے ہیں ان کے ساتھ بھی اللہ نے یہی معاملہ کیا تو اللہ کی اس سنت کو تم پیش نظر رکھو، یہی معاملہ اللہ تمہارے ان دشمنوں کے ساتھ بھی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–66

61۔ 1 یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–68

50: جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کو پہلے خبردار کیا جاتا ہے پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–62

لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی عادت اللہ یہ ہی رہی ہے کہ پیغمبروں کے مقابلہ میں جنہوں نے شرارتیں کیں اور فتنے فساد پھیلائے اسی طرح ذلیل و خوار، یا ہلاک کیے گئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلی کتابوں میں یہ بھی حکم ہوا ہے کہ مفسدوں کو اپنے درمیان سے نکال باہر کرو۔ جیسا کہ حضرت شاہ صاحب " تورات " سے نقل فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 62 { سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ } ”اللہ کی یہی ُ سنت ّرہی ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔“ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا } ”اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

103 یعنی اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسولوں کے خلاف شرارتیں کیں اور فتنے فساد پھیلائے انھیں اسی طرح ذلیل و خوار اور ہلاک کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

142۔ یعنی باغیوں، غداروں کے ساتھ یہی معاملت قدیم آسمانی شریعتوں میں بھی رہی ہے۔ آپ کو کوئی نیاحکم نہیں مل رہا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–68

آیت نمبر 59 تا 68 ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل . اقوام گذشتہ میں اللہ نے (یہی) ضابطہ جاری کردیا تھا۔ یعنی جو لوگ انبیاء سے منافقانہ سلوک کرتے تھے اور سنسنی خیز خبریں پھیلا کر انبیاء کے مشن کو کمزور کرنا چاہتے تھے ‘ ان کو قتل کرنے کا ضابطہ اللہ نے مقرر کردیا تھا۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً . اور اللہ کے ضابطہ میں آپ ہرگز تبدیلی نہیں پائیں گے۔ یعنی نہ وہ خود اپنا دستور بدلتا ہے اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ اس کے ضابطے کو بدل دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 61–62

(61۔ 62) اور ہر طرف سے مارے پٹے رہیں گے جہاں بھی ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی اسی طرح دنیا میں عذاب الہی ان لوگوں پر نازل ہوتا چلا آرہا ہے جو ان منافقین سے پہلے گزرے ہیں۔ کہ جب انہوں نے انبیائے کرام اور مومنین سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کرنے کا حکم دے دیا اور آپ عذاب الہی کے دستور میں کوئی رد و بدل نہ پائیں گے۔ چناچہ ان منافقین کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی تو وہ اپنی باتوں سے رک گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سُـنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۔۔ : یعنی معاشرے کو پاک رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ عورتوں کو چھیڑنے والے اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کو گرفتار کیا جاتا تھا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا تھا۔ یہ سزا کوئی نئی نہیں، بلکہ پہلی تمام آسمانی شریعتوں میں ہمیشہ یہی سزا دی جاتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور نہ آئندہ اس میں تبدیلی ہوگی۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”تورات میں بھی یہ نقل ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کر دو۔“ (موضح)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 5۔ (آیت) سنۃ اللہ یہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو انبیاء کے بارے میں غلط باتیں عام کرے اور اپنے نفاق کو ظاہر کرے کہ اسے پکڑلیاجائے اور اسے قتل کردیا جائے۔ (آیت) ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا تو اللہ تعالیٰ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا (1) ؛ نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ سدی نے کہا : جس کو حق کی بنا پر قتل کیا گیا تو اس کے قاتل پر کوئی دیت لازم نہ ہوگی (2) ۔ مہدوی نے کہا : آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ وعید کے نفاذکو ترک کرنا جائز ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ منافق حضور ﷺ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ حضور ﷺ کا وصال ہوگیا۔ اہل فضل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–62

1۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافقوں میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نفاق کو ضاطہر کریں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم (منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہی ن اگر باز نہ آئیے تو ہم ضرور آپ کو ان کے خلاف برانگیختہ کردیں گے یعنی ہم ضرور آپ کو ان سے لڑنے کے لیے اکسائیں گے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الارحاف “ سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اہل نفاق اسکو بھیلاتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

سُـنَّةَ اللّٰهِ [(آپ ﷺ پائیں گے) اللہ کی سنت ] فِي الَّذِيْنَ [ان لوگوں میں جو ] خَلَوْا [گزرے ] مِنْ قَبْلُ ۚ [اس سے پہلے ] وَلَنْ تَجِدَ [اور آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں گے ] لِسُنَّةِ اللّٰهِ [اللہ کی سنت میں ] تَبْدِيْلًا [کوئی تبدیلی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) اللہ نے ان لوگوں میں طریقہ مقرر فرما دیا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں کہ فسادیوں کو قتل کیا جاتا رہے گا اور وہ جلا وطن کیے جاتے رہیں گے اور جہاں کہیں بھی ہوں گے ملعون و ماخوذ اور مقتول ہوتے رہیں گے۔ (وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا) اور آپ اللہ کے طریقہ یعنی عادت مستمرہ میں تبدیلی نہ پائیں گے۔ چونکہ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق تکوینی فیصلے ہونا امور فرغیہ میں سے نہیں ہیں اس لیے اس میں نسل کا احتمال نہیں۔ 1 ؂ وھم قوم کان فیھم ضعف ایمانھم وقلۃ ثبات علیہ عماھم علیہ من التزلزل وما یستتبعہ ما لا خیر فیہ۔ (روح المعانی) اور وہ ایسی قوم ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–62

ذکر بعض انواع ایذاء منافقین ومرجفین بتعرض نسواں و تخویف اھل ایمان وقال اللہ تعالی۔ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق اور عام ایذاء رسول اور ایذا مومنین پر وعید کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں منافقین اور مرجفین کی خاص خاص ایذاؤں کا ذکر کر کے ان کی بابت ہدایات دیتے ہیں تاکہ ان ایذاؤں کا سدباب ہوجائے اور یہ ایذاء دو طرح سے تھی ایک تو یہ کہ سر راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے۔ پردہ کے حکم سے تو اس ایذاء رسانی کا علاج ہوا۔ اور دوسری ایذا رسانی اس طرح سے تھی کہ ایسی جھوٹی خبریں اڑاتے کہ جس سے مسلمان پریشان ہوجائیں اور گھبرا جائیں جسے آج کل کی اصطلاح میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64:۔ سنۃ اللہ الخ، شر پسند اور فساد انگیز عناصر اور باغیوں کے بارے میں گذشتہ شریعتوں میں بھی اللہ کا یہی دستور تھا اور اب بھی یہی دستور ہے۔ اب کوئی نیاز طریق کار نافذ نہیں کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 59–62

گزشتہ آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ کے گھر کے اداب بیان فرمائے۔ پھر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان ہوتا ہے اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی پر وعید سنائی گئی کہ ایسا کرنا دنیا و آخرت میں لعنتی بننا ہے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ذلت ناک عذاب کی وعید سناتا ہے ، پھر فرمایا جس طرح اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانا بہت بری بات ہے اسی طرح عام بےگناہ اہ لایمان کی ایذارسانی بھی صریح بہتان اور کھلا گناہ ہے۔ اللہ نے ایسی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو پردے کا حکم دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سُـنَّۃَ اللہِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۝ 0 ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا۝ 62 سنن وتنحّ عن سَنَنِ الطّريق، وسُنَنِهِ وسِنَنِهِ ، فالسُّنَنُ : جمع سُنَّةٍ ، وسُنَّةُ الوجه : طریقته، وسُنَّةُ النّبيّ : طریقته التي کان يتحرّاها، وسُنَّةُ اللہ تعالی: قد تقال لطریقة حکمته، وطریقة طاعته، نحو : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23] ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] ، فتنبيه أنّ فروع الشّرائع۔ وإن اختلفت صورها۔ فالغرض المقصود منها لا يختلف ولا يتبدّل، وهو تطهير النّفس، وترشیحها للوصول إلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل کہ ہمیشہ سے اللہ کا دستور یوں ہی چلا آتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو غارت ہی کرتا ہے۔ ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلا اور اللہ کا یہ دستور کبھی نہیں پلٹے گا، اس کے بعد منافق اپنی اس حرکت بد سے باز آگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً ۔ (الاحزاب : 62) (یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے ہو گزرے ہیں، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائو گے۔ ) سنت اللہ اشارہ شاید دو باتوں کی طرف ہے، ایک تو یہ کہ جو لوگ اسلامی ریاست میں اسلام کے نظام اخلاق کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اسلامی ریاست کبھی انھیں کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیتی۔ اور انھیں بدترین سزائیں دیتی ہے۔ اور دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور آپ ﷺ جس نظام زندگی کو نافذ کرنے کے لیے اور انسانی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–62

فہم القرآن ربط کلام : مومن عورتوں کو اوباش لوگوں کی اذّیت سے بچانے کے لیے پردے کا حکم اور اس کا طریقہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ کے مشرکین اللہ کے رسول ﷺ کے انتہا درجہ کے مخالف تھے۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ خاندانی روایات کا خیال رکھتے ہوئے کسی حد تک اخلاقی اقدار کا احترام کرتے تھے۔ یہ اخلاقی پاسداری کا نتیجہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر انہوں نے رات بھر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا لیکن دیواریں پھلانگ کر آپ کے گھر داخل نہ ہوئے کہ اس طرح خواتین خانہ کی بےحرمتی ہوگی اور عرب میں ہماری بدنامی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں مدینہ کے یہود اور منافقین کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: سُنَّۃَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں یہ طریقہ رکھا) یہ مصدر مؤکد ہے ای سن اللہ فی الذین ینافقوں الانبیاء ان یقتلوا اینما وجدوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ ان لوگوں کے متعلق رہا ہے جو انبیاء (علیہم السلام) سے منافقت اختیار کرتے رہے ہیں کہ جہاں وہ پائے جائیں ان کو قتل کردیاجائے۔ فی الذین خلوا من قبل ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلاً ، (جو پہلے ہو گزرے ہیں اور تم ہرگز اللہ تعالیٰ کے دستور میں ردو بدل نہ پائو گے) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے طریقے نہیں بدلتے۔ بلکہ تمام امتوں میں ایک ہی طرح جاری رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

62، سنۃ اللہ، گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ جاری رہا ہے۔ ، فی الذین خلوامن قبل ، ان منافقین سے پہلے اور ان لوگوں جیسا انہوں نے عمل کیا۔ ، ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–62

59 تا 62۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سوردہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ جس طرح پردہ کا حکم اترا ہے اسی طرح یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی مستو راتیں گھر کے باہر نہ نکلا کریں طبقات ابن سعد میں محمد بن کعب حسن بصری اور ابو مالک کی روایتوں 1 ؎ سے حضرت عمر ؓ کے اس مشورہ کے دینے کا سبب یہ بتلایا ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 221 ج 5۔ ) کہ مسلمان عورتیں جب چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرتی تھیں تو مدینہ میں بعضے منافق لوگ ایسے ناہموار تھے کہ عورتوں کو راست میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–63

آیت 59 اس آیت کریمہ کو ” آیت حجاب “ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لئے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے، نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا : (یاھا الذین امنوا قوآ انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6/66) ” اے مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کی آگ سے بچاؤ۔ “ (اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ (یدنین علیھن من جلا بیبھن) ” وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–73

قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

129 اللہ کی سنت ناقابل تبدیل : سو اس واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم اللہ کی سنت ۔ اور اس کے دستور۔ میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے "۔ یعنی اس طرح کے فسادی لوگوں کو سزا دینا اللہ پاک کا پرانا دستور اور قدیم سنت ہے۔ اور اللہ کی سنت اور اس کا طریقہ سب کے ساتھ ایک ہی ہوتا ہے اور ایک ہی رہتا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اَیْ سُنَّۃُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ مَنْ اَرْجَفَ بالانْبِیاء وَاَظْہَرَ نِفَاقَہٗ اَنْ یُّوْخَذَ وَیُقْتَلَ- (قرطبی، مراغی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی مخالفت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–62

تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم تشریح : ان آیات میں تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ پردے کے بارے میں یہی وضاحت ہوسکتی ہے کہ یہ معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم کرتا ہے۔ یہ آیت دراصل اس وقت نازل ہوئی جب سیدناعمرنے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ کچھ بدقماش لوگ عورتوں کو تنگ کرتے ہیں۔ منع کرنے پر کہتے ہیں کہ ” ہم نے سمجھا لونڈ یاں ہیں “۔ تو سیدناعمر ؓ نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ ہماری عورتیں پردہ کر کے باہر نکلیں تاکہ بدمعاشوں کو معلوم ہو کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور وہ ان سے شرارت نہ کریں۔ اس پر حکم ہوا کہ بڑی چادر سے جسم اچھی طرح لپیٹ لیں اور گھونگٹ نکال لیا کریں۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–68

آیات 59 تا 68 اسرار ومعارف آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا : اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 61–62

ف 1 یعنی ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ اسلامی معاشرہ میں اوباش اور بد معاش قسم کے لوگوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا، بلکہ پہلے تو انہیں سنبھلنے اور اپنی روش بدلنے کے لئے تنبیہ کی جاتی ہے اور اگر وہ باز نہیں آتے تو ان کا طاقت کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اور توراۃ میں بھی یہ تقید ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کردو “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:62) سنۃ اللہ مصدر موکدہ۔ ای سن اللہ فی الذین ینافقون الانبیاء ان یقتلوا حیثما ثقفوا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور یا طریقہ جاریہ ہے ان کے لئے جنہوں نے منافقت کی انبیاء سے کہ جہاں بھی وہ پائے جائیں قتل کر دئیے جائیں۔ خلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ خلو (باب نصر) سے مصدر، وہ پہلے ہوچکے۔ پہلے ہو گذرے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–62

لغات القرآن : آیت نمبر 59 تا 62 یدنین : لٹکا لیں ۔ قریب کرلیں جلابیب (جلباب) چادریں ۔ لباس پر اوڑھی جانے والی چادر المرجفون : افواہیں پھیلانے والے نغرین : ہم چھوڑ دیں گے۔ ہم مسلط کردیں گے لا یج اور : ساتھ نہ رہیں گے ثقفوا : پائے گئے اخذوا : پکڑے گئے لن تجد : تو ہرگز نہ پائے گا تشریح : آیت نمبر 59 تا 62 دین اسلام کے تقریباً تمام احکامات میں ایک خاص تدریج ہے جو آہستہ آہستہ تکمیل تک پہنچتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کا پورا معاشرہ جہالتوں ، تاریکیوں ، زندگی کی بےاعتدالیوں اور کفر و شرک میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کو اصول زندگی سکھانے کے لئے تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن کریم نازل کیا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–62

(ف 1) شان نزول : جب منافق لوگ شریف عورتوں کو راستہ میں چھیڑا کرتے تھے اور جب ان منافقوں کو دھمکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ شریف مسلمان عورتوں کو تم کیوں چھیڑا کرتے ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے ان کو شریف جان کر نہیں چھیڑا بلکہ لونڈی جان کرچھیڑا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں پھر فرمایا کہ منافقوں کی ایک اور بھی ایذرسانی تھی وہ یہ کہ مدینہ میں طرح طرح کی خوفناک خبریں اڑا کر لوگوں کو پریشان کیا کرتے تھے کہ فلاں بادشاہ چڑھ کر آتا ہے وہ آکریوں قتل عام کرے گا، فلاں قوم آتی ہے ان سب کی نسبت فرمایا ہے کہ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلون میں بیماری ہے شک وشبہ یامرض زناکاری ہے اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–71

[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–62

ف 1: بات یہ تھی کہ اول اول چونکہ پردہ کارواج نہ تھا ۔ اس لئے مسلمان عورتیں ضروریات کی وجہ سے گھروں سے نکلتیں تو بدکار اور آوارہ لوگ ان کو چھیتے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسی حرکات کا کیوں ارتکاب کرتے ہو ۔ تو کہتے ہمیں غلط فہمی ہوئی ہم یہ سمجھے تھے کہ شائد غلام عورتیں ہیں ۔ لونڈیوں سے چھیڑ چھاڑ اس وقت اس قبیل کے لوگوں میں معیوب نہیں تھی ۔ اس پردہ کا یہ حکم نازل ہوا کہ امہات المومنین اور عام مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ کھلے منہ باندیوں کی طرح گھروں سے باہر نہ نکلا کریں ۔ بلکہ نکلیں تو گھونگھٹ نکال کر تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ یہ شریف پردہ دار خاتونیں ہیں ۔ لونڈیاں نہیں ہیں ۔ اور اس طرح ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

62۔ اللہ تعالیٰ کا یہی دستور ان لوگوں میں بھی جاری رہا ہے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے دستور میں کسی کی طرف سے کوئی رد و بدل نہ پائیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی روش یہی ہے وہ وہ ابنیاء (علیہم السلام) کی مدد کرتا ہے اور جن کا ظلم و طغیان حد سے تجاوز ہوجاتا ہے ان کو دنیا ہی میں سزا دینے کا حکم دیتا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روش اور اس کے طریقہ کو کوئی بدلنے والا نہیں مل سکتا جب وہ کسی دستور کو جاری کرنا چاہے تب بھی کوئی اس کی مشیت کو تبدیل نہیں کرسکتا اور نہ حکم جاری کردینے کے بعد کوئی اس کو روک سکتا ہے۔ بہر حال ! اس وعید سے باندیوں کی عصمت کا تحفظ بھی ہوگیا اور حرائر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–65

ف 8۔ کہ خدا تو کوئی بات جاری کرنا چاہے اور کوئی اس کو روک سکے، پس سنة اللہ میں احتمال فعل الوقوع کا دفعیہ فرمایا دیا اور لن تجد میں احتمال بعد الوقوع کا دفعیہ فرمایا کہ جب وہ واقع کرنے لگے تو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شروع سے اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آرہا ہے اور اللہ کا طریقہ کبھی غلط نہیں ہوتا 62 ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ شروع سے چلا آرہا ہے کہ اس نے جس بات یا چیز کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ ایسا ہوگا یعنی جس پیش گوئی کا اعلان بھی کسی رسول سے کروایا وہ بالکل اسی طرح ہوئی جس طرح رسول نے اس کا اعلان کیا یہ گویا ایک طرح سے چیلنج ہے کہ آج تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کی گئی پیش گوئی کوئی شخص ، دنیا کی کوئی تاریخ غلط نہیں کرسکی اور اس پیش گوئی کو جس کو گزشتہ دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے کوئی غلط ثابت نہیں کرسکے گا ، حالات کچھ سے کچھ ہوجائیں ، زمانہ کہیں کا کہیں پہنچ جائے ، دور جدید کا انسان آسمانی سیاروں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–62

A person who turns an apostate (murtadd) after having embraced Islam is killed in punishment Two mischiefs made by the hypocrites have been mentioned in the cited verse and it has been said that should they fail to abstain from indulging in these any further, the punishment they shall face will be: مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا (Wherever they are found, they shall be seized, and shall be killed thoroughly - 61). This punishment is not meant for disbelievers at large. Numerous textual authorities from the Qur'an and Sunnah bear it out that this is not the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

115 That is, "This is a permanent law of Allah's Shari'ah that in an Islamic society and state such mischief-mongers are never given an opportunity to flourish and prosper. Whenever the system of society and state is established on Divine Law, such people will be warned to mend their ways and if they still persisted in their evil ways they would be severely dealt with and exterminated."

Read the full tafseer →