Explained with ayahs 59–62
تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون ؟
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہوجائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہوجائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیا کے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
سورة الْاَحْزَاب 113
" دل کی خرابی " سے مراد یہاں دو قسم کی خرابیاں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرنے کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کا بدخواہ ہو۔ دوسرے یہ کہ آدمی بدنیتی، آوارگی اور مجرمانہ ذہنیت میں مبتلا ہو اور اس کے ناپاک رجحانات اس کی حرکات و سکنات سے پھوٹے پڑتے ہوں۔
سورة الْاَحْزَاب 114
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں گھبراہٹ پھیلانے اور ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے آئے دن مدینے میں اس طرح کی خبریں اڑایا کرتے تھے کہ فلاں جگہ مسلمانوں کو بڑی زک پہنچی ہے اور فلاں جگہ مسلمانوں کے خلاف بڑی طاقت جمع ہو رہی ہے اور عنقریب مدینہ پر اچانک حملہ ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
جو شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوجائے اس کی سزا قتل ہے
آیت مذکورہ میں منافقین کی دو شرارتوں کا ذکر کے ان سے باز نہ آنے کی صورت میں جس سزا کا ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ملعونین اینما اخذوا وقتلوا تقتیلا، ”یعنی یہ لوگ جہاں رہیں گے لعنت اور پھٹکار ان کے ساتھ ہوگی، اور جہاں ملیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور قتل کردیئے جائیں گے۔“ یہ سزا عام کفار کی نہیں، بیشمار نصوص قرآن و سنت اس پر شاہد ہیں کہ عام کفار کے لئے شریعت اسلام میں یہ قانون نہیں ہے، بلکہ قانون یہ ہے کہ اول ان کو دعوت اسلام دی جائے، ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے اس پر بھی وہ اسلام نہ لائیں تو مسلمانوں کے تابع ذمی بن کر رہنے کا حکم دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم چم لا یجاورونک فیھا الا قلیلا۔ ملعونین۔ اینما ثقفوا اخذوا وقتلوتقیلا (60۔ 61)
یہ ان اشرار ومنافقین کو دھمکی دی ہے کہ اگر یہ اپنی ان شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کے باب میں چشم پوشی و مسامحت کا جو رویہ اب تک رہا ہے وہ یکسر بدل جائے گا اور ہم تم کو (خطاب نبی ﷺ سے ہے) ہر قدم پر ان کے محاسبہ و تعاقب کا حکم دے دیں گے۔ پھر ان کو اس شہر میں بہت کم رہنا نصیب ہوگا۔ اس کے بعد جتنے دن بھی یہ یہاں جئیں گے معلون ہو کر زندگی گزاریں گے۔ ہر قدم پر ان کی دار وگیر ہوگی۔ یہ پکڑے جائیں گے اور نہایت عبرت انگیز طریقوں سے قتل ہوں گے۔
’ والذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
61۔ 1 یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر
Read the full tafseer →49: یہاں منافقین کو خبر دار کیا گیا ہے کہ اس وقت ان کی منافقت چھپی ہوئی ہے، لیکن اگر انہوں نے اپنی نازیبا حرکتیں نہ چھوڑیں جن میں عورتوں کو چھیڑنے اور بےبنیاد افواہیں پھیلانے کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے تو ان کی منافقت صاف واضح ہوجائے گی، اور اس صورت میں ان کے ساتھ غیر مسلم دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ”
اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →5 یعنی اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے تاچند روز میں ان کو مدینہ سے نکال باہر کریں، اور جتنے دن رہیں ذلیل و مرعوب ہو کر رہیں چناچہ یہود نکالے گئے اور منافقوں نے دھمکی سن کر شاید اپنا رویہ بدل دیا ہوگا اس لیے سزا سے بچے رہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جو لوگ بدنیت تھے مدینہ میں عورتوں کو چھیڑتے، ٹوکتے، اور جھوٹی خبریں اڑاتے، مخالفوں کے زور اور مسلمانوں کے ضعف و شکست کی وجہ سے تھا۔ " ان کو یہ فرمایا۔
Read the full tafseer →آیت 61 { مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا } ”یہ پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں ‘ جہاں بھی پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور ُ بری طرح قتل کردیے جائیں گے۔“
یہ الفاظ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی شدید بیزاری اور ناراضی کا مظہر ہیں مگر حضور ﷺ کی سیرت سے منافقین کے خلاف ایسا کوئی اقدام ثابت نہیں ہے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو ایسا کوئی حکم باقاعدہ طور پر نہیں دیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →102 اس سے مراد بنو قریظہ کا انجام ہے۔ بنونضیر کا سردار حیی بن اخطب بھی ان کے ساتھ ہی قتل ہوا تھا جس نے بنوقریظہ کو عہد شکنی پر مجبور کیا تھا۔
Read the full tafseer →141۔ نفاق کی حقیقت بھی کفر ہی ہے۔ اس پر صرف پردہ اسلام کا پڑا ہوتا ہے۔ اس لیے منافقوں کے ساتھ معاملہ اصلا وہی ہونا چاہیے تھا جو کافروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ پناہ تو صرف اظہار اسلام کی بناء پر حاصل رہتی ہے۔ جب علانیہ مخالفتیں کرنے لگے تو یہ مانع بھی اٹھ گیا اور ان کے ساتھ معاملہ وہی ہوگا جو کفر کا مقتضائے اصلی ہے یعنی اخراج، قید قتل سب جائز۔ (تھانوی (رح) ملخصا) (آیت) ” الا قلیلا “۔ قدرے قلیل یعنی جب ان کے اخراج کا حکم ہوگا، تو اس کے لئے ایک مدت بھی معین ہوجائے گی۔ اتنی مدت کیلئے بسبب معاہدہ کے مامون رہیں گے۔ اس کے بعد جہاں ملیں گے، قید وقتل کی اجازت ہوگی (تھانوی (رح) ملخصا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–68
آیت نمبر 59 تا 68
ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…
Read the full tafseer →ملعونین . (وہ بھی ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے۔
اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلاً . جہاں ملیں گے ‘ ان کی پکڑ دھکڑ ہوگی اور مار دھاڑپڑے گی۔
مَلْعُوْنِیْنَ حالت نصب میں ہے ‘ منافقوں کی مذمت کی گئی ہے (گویا کلام اس طرح تھا : اَذُمُّ مَلْعُوْنِیْنَ میں ملعونوں کو مذموم قرار دیتا ہوں) یا حال ہونے کی بناء پر یہ لفظ منصوب ہے اور استثناء کے ذیل میں ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : لاَ یُجَاوِرُوْنَکَ الاَّ مَلْعُوْنِیْنَ (آپ کے ساتھ نہ رہ سکیں گے ‘ مگر ملعون ہونے کی حالت میں) تقتیل بات تفعیل ‘ کثرت قتل پر دلالت کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(61۔ 62) اور ہر طرف سے مارے پٹے رہیں گے جہاں بھی ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی اسی طرح دنیا میں عذاب الہی ان لوگوں پر نازل ہوتا چلا آرہا ہے جو ان منافقین سے پہلے گزرے ہیں۔
کہ جب انہوں نے انبیائے کرام اور مومنین سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کرنے کا حکم دے دیا اور آپ عذاب الہی کے دستور میں کوئی رد و بدل نہ پائیں گے۔ چناچہ ان منافقین کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی تو وہ اپنی باتوں سے رک گئے۔
Read the full tafseer →مَّلْعُوْنِيْنَ ڔ اَيْنَـمَا ثُــقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَــقْتِيْلًا : یعنی ایسے لوگ ملعون ہیں، جہاں پائے جائیں گے انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں مذکورہ احکام وقتی اور عارضی نہیں، بلکہ قرآن مجید کے دوسرے احکام کی طرح قیامت تک کے لیے ہیں۔ اب بھی حکومت پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کا یہی علاج کرے، جو لوگ بھرے بازار سے لڑکیاں اٹھا لیں، لڑکے اٹھا کر ان سے قوم لوط کا عمل کریں، پورے معاشرے کے سامنے نکاح کے بغیر بدکار مرد عورت اکٹھے رہ کر اللہ کی حدود کو للکارتے رہیں۔ ان کا علاج یہی ہے کہ انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے، تاکہ دوبارہ کسی کو ایسا کرنے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 3۔ (آیت) ثم لایجاورون فیھا، ھاضمیر سے مراد مدینہ طیبہ ہے۔ لاقلیلایہ یجاورونک کی ضمیر سے حال ہے۔ اور اس طرح ہوگا جس طرح اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کیونکہ وہ تھوڑے ہی تھے۔ یہ فراء کے دو جوابوں میں سے ایک جواب ہے۔ اس کے نزدیک یہی اولی ہے۔ وہ آپ کے پاس نہیں رہتے مگر اپنے قلیل ہونے کی حالت میں۔ دوسرا جواب ہے معنی ہو الاوقتا قلیلا مگر تھوڑاوقت، یعنی تیرے ساتھ تھوڑاوقت ہی رہیں گے، یعنی وہ اس میں تھوڑا عرصہ رہیں گے یہاں تک کہ ہلاک ہوجائیں گے۔ تو یہ محذوف مصدر محذوف ظرف کی صفت ہوگا۔ یہ اس پر دال ہے کہ جو مدینہ طیبہ میں آپ کے ساتھ رہ رہا ہے تو وہ ” جار “ ہے۔ سورة النساء میں یہ بحث گزرچکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
1۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافقوں میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نفاق کو ضاطہر کریں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم (منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہی ن اگر باز نہ آئیے تو ہم ضرور آپ کو ان کے خلاف برانگیختہ کردیں گے یعنی ہم ضرور آپ کو ان سے لڑنے کے لیے اکسائیں گے۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الارحاف “ سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اہل نفاق اسکو بھیلاتے…
Read the full tafseer →مَّلْعُوْنِيْنَ ڔ [لعنت کئے ہوئے ] اَيْنَـمَا [جہاں کہیں ] ثُــقِفُوْٓا [پائے جائیں ] اُخِذُوْا [تو پکڑے جائیں ] وَقُتِّلُوْا [اور قتل کئے جائیں ] تَــقْتِيْلًا [جیسا قتل کئے جانے کا حق ہے ] ۔
Read the full tafseer →(مَلْعُوْنِیْنَ ) جب مدینہ منورہ سے جلا وطن کیے جائیں تو حالت لعنت میں پھرتے رہیں گے ان پر اللہ کی پھٹکار ہوگی۔ (اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْاتَقْتِیْلًا) پھر جہاں کہیں بھی ہوں گے پکڑے جائیں گے اور خوب قتل کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
ذکر بعض انواع ایذاء منافقین ومرجفین
بتعرض نسواں و تخویف اھل ایمان
وقال اللہ تعالی۔ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق اور عام ایذاء رسول اور ایذا مومنین پر وعید کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں منافقین اور مرجفین کی خاص خاص ایذاؤں کا ذکر کر کے ان کی بابت ہدایات دیتے ہیں تاکہ ان ایذاؤں کا سدباب ہوجائے اور یہ ایذاء دو طرح سے تھی ایک تو یہ کہ سر راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے۔ پردہ کے حکم سے تو اس ایذاء رسانی کا علاج ہوا۔ اور دوسری ایذا رسانی اس طرح سے تھی کہ ایسی جھوٹی خبریں اڑاتے کہ جس سے مسلمان پریشان ہوجائیں اور گھبرا جائیں جسے آج کل کی اصطلاح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
63:۔ لئن لم ینتہ الخ، یہ منافقین پر زجر اور تخویف دنیوی ہے۔ والذین فی قلوبھم مرض سے بدکار اور فجار مراد ہیں جن کے دلوں میں بدکاری کے خیالات کی بیماری تھی۔ والمرجفون فی المدینۃ۔ یہود مدینہ جو عام مسلمانوں اور خصوصاً مسلمان عورتوں کے بارے میں غلط افواہیں اڑاتے تھے تاکہ ان کے خلاف بدگمانی پھیلے اور انہیں ذہنی اذیت پہنچے۔ والمرجفون فی الدینۃ من الیھود المج اور ین لھا عما ہم علیہ من نشر اخبار السوء عن سرایا المسلمین وغیر ذلک من الاراجیف الملفقۃ المستبعۃ للاذیۃ سالت عکرمۃ عن الذین فی قلوبھم مرض فقال ھم اصحاب الفواحش و عن عطاء انہ فسرھم بذلک ایضا (روح ج 22 ص 90) ۔ اس آیت میں ان افراد کو متنبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
گزشتہ آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ کے گھر کے اداب بیان فرمائے۔ پھر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان ہوتا ہے اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی پر وعید سنائی گئی کہ ایسا کرنا دنیا و آخرت میں لعنتی بننا ہے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ذلت ناک عذاب کی وعید سناتا ہے ، پھر فرمایا جس طرح اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانا بہت بری بات ہے اسی طرح عام بےگناہ اہ لایمان کی ایذارسانی بھی صریح بہتان اور کھلا گناہ ہے۔ اللہ نے ایسی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو پردے کا حکم دیا…
Read the full tafseer →مَّلْعُوْنِيْنَ 0 ۚ ۛ اَيْنَـمَا ثُــقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَــقْتِيْلًا 61
لعن
اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18]
( ل ع ن ) اللعن
۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
ترکیب : یدنین ھو مثل قولہ قل لعبادی یقیموا الصلوٰۃ فی ابراھیم فتذکرہ من جلا بیبھن للتبعیض فان المرۃ ترخی بعض جلبا بھا والبعض علی راسھا ثم لایج اور ونک عطف علیٰ نغرینک و ثم للدلاتہ علی ان الجلاء اشد علیھم من سائر المصائب۔ الاقلیلا زمانا اوجوار اقلیلا، ملعونین نصب علی او الحال والاستثناء یتنا ولہ لایجاورون الاملعونین۔
تفسیر : پیغمبر ( علیہ السلام) اور مومنین کی ایذاء کی برائی کے بعد ایذاء کے بعض اسباب دور کرنے کی تدبیر بتلاتا ہے۔ فقال یا ایہا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین الخ ابن سعد نے طبقات میں ابی مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت ﷺ کی بیویاں حاجت ضروری کے لیے باہر جایا کرتی تھیں۔ (جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّـکَ بِہِمْ ثُمَّ لاَ یُجَاوِرُوْنَـکَ فِیْھَآ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ مَّلْعُوْنِیْنَ ج اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً ۔ (الاحزاب : 61)
(اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم تمہیں ان پر اکسا دیں گے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ رہنے کا بہت ہی کم موقع پائیں گے۔ ان پر لعنت کی جائے گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بےدریغ قتل کیے جائیں گے۔ )
منافقین کو تنبیہ
خواتینِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
فہم القرآن
ربط کلام : مومن عورتوں کو اوباش لوگوں کی اذّیت سے بچانے کے لیے پردے کا حکم اور اس کا طریقہ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ کے مشرکین اللہ کے رسول ﷺ کے انتہا درجہ کے مخالف تھے۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ خاندانی روایات کا خیال رکھتے ہوئے کسی حد تک اخلاقی اقدار کا احترام کرتے تھے۔ یہ اخلاقی پاسداری کا نتیجہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر انہوں نے رات بھر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا لیکن دیواریں پھلانگ کر آپ کے گھر داخل نہ ہوئے کہ اس طرح خواتین خانہ کی بےحرمتی ہوگی اور عرب میں ہماری بدنامی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں مدینہ کے یہود اور منافقین کی…
Read the full tafseer →61: مَّلْعُوْنِیْنَ (وہ بھی پھٹکارے ہوئے)
نحو : یہ شتم کی وجہ سے منصوب اے ادم ملعونین نمبر 2۔ حال کی وجہ سے تقدیر کلام یہ ہے لا یج اور ونک الا ملعونین پس حرف استثناء ظرف وحال دونوں پر اکٹھا داخل ہوا ہے جیسا کہ پہلے گزرا یادر ہے کہ یہ اخذوا کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ کلمہ شرط کا مابعد اپنے ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔ اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ (جہاں ملیں گے) وہ پائے جائیں گے۔ اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا (پکڑ دھکڑ اور ماردھاڑ کی جائے گی) قتِّلوا کی تشدید کثرت کو ظاہر کرتی ہے۔
Read the full tafseer →61، ملعونین ، وہ ہر طرف پھٹکا رے ہوئے تھے ۔ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے ۔ ، اینما ثقفوا، جہاں بھی ملیں گے ان کی پکڑدھکڑ ہوگی۔ ، اخذواوقتلو اتقتیلا، یہ کثرت قتل پر دلالت کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
59 تا 62۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سوردہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ جس طرح پردہ کا حکم اترا ہے اسی طرح یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی مستو راتیں گھر کے باہر نہ نکلا کریں طبقات ابن سعد میں محمد بن کعب حسن بصری اور ابو مالک کی روایتوں 1 ؎ سے حضرت عمر ؓ کے اس مشورہ کے دینے کا سبب یہ بتلایا ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 221 ج 5۔ ) کہ مسلمان عورتیں جب چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرتی تھیں تو مدینہ میں بعضے منافق لوگ ایسے ناہموار تھے کہ عورتوں کو راست میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
آیت 59
اس آیت کریمہ کو ” آیت حجاب “ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لئے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے، نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا : (یاھا الذین امنوا قوآ انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6/66) ” اے مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کی آگ سے بچاؤ۔ “
(اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ (یدنین علیھن من جلا بیبھن) ” وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–73
قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
127 اَشرار و منافقین کو آخری اور کھلی تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں کے اندر روگ ہے تو ہم آپ کو ان پر ایسا مسلط کردیں گے کہ اس کے بعد یہ لوگ آپ کے ساتھ مدینے میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا "۔ اور مرض سے یہاں پر مراد زنا اور بدکاری کا مرض ہے جو کہ معاشرے کے امن و استقرار کو تباہ کردینے والا مرض اور خطرناک روگ ہے ۔ " وہم الزناۃ " ۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر) ۔ اَہْلُ الرَّیْبِ الذِیْنَ غَلَبَتْہُمْ شَہْوَاتُہُمْ وَرَکَنُوْا اِلَي الْخَلاعَۃ والفجور۔ (جامع البیان) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ زنا کاری اور شہوت پرستی دلوں کا روگ اور فتنہ و فساد کی جڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم
تشریح : ان آیات میں تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ پردے کے بارے میں یہی وضاحت ہوسکتی ہے کہ یہ معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم کرتا ہے۔ یہ آیت دراصل اس وقت نازل ہوئی جب سیدناعمرنے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ کچھ بدقماش لوگ عورتوں کو تنگ کرتے ہیں۔ منع کرنے پر کہتے ہیں کہ ” ہم نے سمجھا لونڈ یاں ہیں “۔ تو سیدناعمر ؓ نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ ہماری عورتیں پردہ کر کے باہر نکلیں تاکہ بدمعاشوں کو معلوم ہو کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور وہ ان سے شرارت نہ کریں۔ اس پر حکم ہوا کہ بڑی چادر سے جسم اچھی طرح لپیٹ لیں اور گھونگٹ نکال لیا کریں۔
پھر ان لوگوں کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–68
آیات 59 تا 68
اسرار ومعارف
آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا :
اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 1 یعنی ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ اسلامی معاشرہ میں اوباش اور بد معاش قسم کے لوگوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا، بلکہ پہلے تو انہیں سنبھلنے اور اپنی روش بدلنے کے لئے تنبیہ کی جاتی ہے اور اگر وہ باز نہیں آتے تو ان کا طاقت کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اور توراۃ میں بھی یہ تقید ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کردو “۔
Read the full tafseer →(33:61) ملعونین۔ اسم مفعول جمع مذکر بحالت نصب ملعون واحد۔ لعنت کئے ہوئے۔ پھٹکارے ہوئے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) اگر ملعونین پر وقف کیا جائے تو یہ جملہ سابقہ کے ساتھ ہوگا۔ اس صورت میں یہ ضمیر فاعل لا یجاورونک کا حال ہے یعنی وہ جو وقت یا مدت بھی آپ کے پڑوس میں رہیں گے ملعونین کی حالت میں رہیں گے ہر طرف سے ہر وقت ان پر پھٹکار ہوگی !
(2) اگر قلیلا پر وقف کیا جائے تو یہ جملہ سابقہ کے ساتھ ہوگا۔ اس صورت میں یہ این ما ثقفوا کی ضمیر ہم سے حال ہوگا۔ جہاں بھی پائے جائیں گے وہ مورد لعن و پھٹکار ہوں گے۔
اینما۔ این شرطیہ ہے اور ما موصولہ ہے جہاں کہیں۔ ثقفوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب ثقف پالینا۔ وہ پائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
لغات القرآن : آیت نمبر 59 تا 62
یدنین : لٹکا لیں ۔ قریب کرلیں
جلابیب (جلباب) چادریں ۔ لباس پر اوڑھی جانے والی چادر
المرجفون : افواہیں پھیلانے والے
نغرین : ہم چھوڑ دیں گے۔ ہم مسلط کردیں گے
لا یج اور : ساتھ نہ رہیں گے
ثقفوا : پائے گئے
اخذوا : پکڑے گئے
لن تجد : تو ہرگز نہ پائے گا
تشریح : آیت نمبر 59 تا 62
دین اسلام کے تقریباً تمام احکامات میں ایک خاص تدریج ہے جو آہستہ آہستہ تکمیل تک پہنچتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کا پورا معاشرہ جہالتوں ، تاریکیوں ، زندگی کی بےاعتدالیوں اور کفر و شرک میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کو اصول زندگی سکھانے کے لئے تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن کریم نازل کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
(ف 1) شان نزول :
جب منافق لوگ شریف عورتوں کو راستہ میں چھیڑا کرتے تھے اور جب ان منافقوں کو دھمکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ شریف مسلمان عورتوں کو تم کیوں چھیڑا کرتے ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے ان کو شریف جان کر نہیں چھیڑا بلکہ لونڈی جان کرچھیڑا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں پھر فرمایا کہ منافقوں کی ایک اور بھی ایذرسانی تھی وہ یہ کہ مدینہ میں طرح طرح کی خوفناک خبریں اڑا کر لوگوں کو پریشان کیا کرتے تھے کہ فلاں بادشاہ چڑھ کر آتا ہے وہ آکریوں قتل عام کرے گا، فلاں قوم آتی ہے ان سب کی نسبت فرمایا ہے کہ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلون میں بیماری ہے شک وشبہ یامرض زناکاری ہے اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
ف 1: بات یہ تھی کہ اول اول چونکہ پردہ کارواج نہ تھا ۔ اس لئے مسلمان عورتیں ضروریات کی وجہ سے گھروں سے نکلتیں تو بدکار اور آوارہ لوگ ان کو چھیتے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسی حرکات کا کیوں ارتکاب کرتے ہو ۔ تو کہتے ہمیں غلط فہمی ہوئی ہم یہ سمجھے تھے کہ شائد غلام عورتیں ہیں ۔ لونڈیوں سے چھیڑ چھاڑ اس وقت اس قبیل کے لوگوں میں معیوب نہیں تھی ۔ اس پردہ کا یہ حکم نازل ہوا کہ امہات المومنین اور عام مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ کھلے منہ باندیوں کی طرح گھروں سے باہر نہ نکلا کریں ۔ بلکہ نکلیں تو گھونگھٹ نکال کر تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ یہ شریف پردہ دار خاتونیں ہیں ۔ لونڈیاں نہیں ہیں ۔ اور اس طرح ان…
Read the full tafseer →61۔ اور وہ تھوڑے دنوں بھی اس حالت سے کہ ہر طرف سے پھٹکارے ہوئے جہاں پائے جائیں گرفتار کئے جائیں اور شدت کے ساتھ قتل کئے جائیں۔ یعنی منافق لوگ اپنی مفسد انہ شرارتوں سے بازنہ آئے اور شہوت پرست منافق عورتوں کی چھیڑ چھاڑ سے باز نہ آئے اور افواہیں اڑانے والے جو جنگ کے زمانہ میں مسلمانوں کی شکست اور کفار کی فتح کا پروپیگنڈہ کیا کرتے ہیں جن کا ذکر سورة نساء میں گزر چکا ہے ، یہ لوگ اپنی افواہوں سے با ز نہ آئے تو ہم آپ کو حکم دیں گے کہ ان کو جلا وطنی پر مجبور کردیں اور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے کہ آپ ان کو جلا وطنی کی سزا دیں اور اس حکم کی وجہ سے یہ مدینے میں آپ کے ساتھ نہ رہ سکیں گے آپ کے ساتھ کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ف 7۔ یعنی ان کے اخراج کا حکم کردیں گے۔
Read the full tafseer →منافقین پھٹکارے گئے ہیں اور اب وہ جہاں بھی جائیں گے لعنت ان کو نہیں چھوڑے گی
61 ۔ گزشتہ آیت میں منافقین مدینہ کا انجام بتایا گیا تھا اور زیر نظر آت نے اس کی مزید وضاحت فرمادی ہے کہ لعنت وپھٹکار کے مستحق ٹھہرے ہیں گویا اب جہاں بھی وہ مدینہ میں رہیں گے لعنت و پھٹکار ہی میں رہیں گے جب تک ظاہر نہیں ہوں گے اور جب ظاہر ہوں گے تو پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ { اینما ثقفوا } بلا شبہ عام ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں گے لیکن چونکہ یہ پیش گوئی مدینۃ النبی کے لئے تھی اسی لئے { اینما ثقفوا } کے معنوں میں ” فی المدینۃ “ کے الفاظ تسلیم کیے جائیں گے کیونکہ اوپر آیت میں یہ قید موجود ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
A person who turns an apostate (murtadd) after having embraced Islam is killed in punishment
Two mischiefs made by the hypocrites have been mentioned in the cited verse and it has been said that should they fail to abstain from indulging in these any further, the punishment they shall face will be: مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا (Wherever they are found, they shall be seized, and shall be killed thoroughly - 61). This punishment is not meant for disbelievers at large. Numerous textual authorities from the Qur'an and Sunnah bear it out that this is not the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
113 "Having diseased hearts" points to two kinds of evils: (1) That a person should be an iII-wisher of Islam and the Muslims although he gets himself counted among the Muslims; and (2) that he should be cherishing evil intentions and having criminal mentality and his evil tendencies be manifesting themselves in everything he thinks and does.
114 This unplies the people who, in order to cause panic among the Muslims and to lower their morale, used to spread rumours in Madinah to the effect that the Muslims had suffered such and such serious setback, that a huge army was gathering together…
Read the full tafseer →