Al-Ahzaab 33:60

Al-Ahzaab · from ayah 60

33:60

لَىِٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا ۟لَئِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِيۡنَ فِى قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لَـنُغۡرِيَـنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

— Fateh Muhammad Jalandhari

If the hypocrites and those in whose hearts is disease and those who spread rumors in al-Madinah do not cease, We will surely incite you against them; then they will not remain your neighbors therein except for a little.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:60

اگر منافقین، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر (اب بھی) یہ منافق اور وه جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وه لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان (کی تباہی) پر مسلط کردیں گے پھر تو وه چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں ره سکیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو شہر میں شرانگیز افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بُغض اور گستاخی کی) بیماری ہے، اور (اسی طرح) مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلانے والے لوگ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء رسانی سے) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر ضرور مسلّط کر دیں گے پھر وہ مدینہ میں آپ کے پڑوس میں نہ ٹھہر سکیں گے مگر تھوڑے (دن)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا اگر یہ منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ باز نہ آئے تو ہم تجھے ضرور ہی ان پر مسلط کردیں گے، پھر وہ اس میں تیرے پڑوس میں نہیں رہیں گے مگر کم۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر منافق لوگ اور وہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں دہشت انگیز افواہیں پھیلانے والے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے خلاف اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ تھوڑی ہی مدت آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں اگر باز نہ رہے تو ہم تم کو ان پر اکسا دیں گے، پھر وہ تمہارے ساتھ رہنے کا بہت ہی کم موقع پائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر باز نہ آئے منافق لوگ (اپنی بری حرکتوں سے) اور وہ لوگ جن کے دل میں روگ ہے (شہوت پرستی اور چھیڑ خانی کا) اور ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے مدینے میں (اگر یہ لوگ باز نہ آئے اپنی ان حرکتوں سے) تو ہم آپ کو ان پر ایسی سختی سے مسلط کردیں گے کہ پھر یہ لوگ آپ کے ساتھ مدینہ میں رہنے بھی نہ پائیں گے مگر بہت کم

— مولانا اسحاق مدنی

اگر منافقین اور وہ لوگ نہ باز آئے جن کے دلوں میں روگ ہے۔ اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں۔ تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کریں گے۔ پھر یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بس قدرے قلیل رہنے پائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں تو (اے نبی ﷺ !) ہم آپ کو ان پر اکسا دیں گے } پھر وہ آپ ﷺ کے پڑوسی بن کر اس (شہر) میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینہ کے شہر میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں اپنے کردار سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ تمہارے پڑوس میں بھی نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If the hypocrites and those in whose hearts there is a sickness, and the scandal mongers in Madinah do not desist from their vile acts, We shall urge you to take action against them, and then they will hardly be able to stay in the city with you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If the hypocrites and those having malady in their hearts and the ones who spread rumors in Madinah do not stop (their evil deeds), We will certainly stir you up against them, then they shall no longer live in it as your neighbors, but for a little while,

— Muhammad Taqi Usmani

If the hypocrites and those having malady in their hearts and the ones who spread rumors in Madinah do not stop (their evil deeds), We will certainly stir you up against them, then they shall no longer live in it as your neighbors, but for a little while,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If the hypocrites and those in whose hearts is a disease, and those who spread false news among the people in Al-Madinah stop not, We shall certainly let you overpower them, then they will not be able to stay in it as your neighbors but a little while.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If the hypocrites, and those in whose hearts is a disease, and the alarmists in the city do not cease, We verily shall urge thee on against them, then they will be your neighbours in it but a little while.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If the hypocrites and those in whose hearts is disease and those who spread rumors in al-Madinah do not cease, We will surely incite you against them; then they will not remain your neighbors therein except for a little.

— Saheeh International

If the hypocrites, those whose hearts are sick and those who encourage the spread of evil in the city, will not desist, We shall arouse you against them and they will only be allowed to be your neighbors for a short while.

— Muhammad Sarwar

If the hypocrites and those in whose hearts is a disease and the agitators in the city do not desist, We shall most certainly set you over them, then they shall not be your neighbors in it but for a little while;

— Muhammad Habib Shakir

If the hypocrites and those in whose hearts is a disease and the raisers of commotion in Madina desist not, We shall surely set thee up against them; thenceforth they shall not be suffered to neighbour thee therein except for a little while.

— Abdul Majid Daryabadi

Truly, if the Hypocrites, and those in whose hearts is a disease, and those who stir up sedition in the City, desist not, We shall certainly stir thee up against them: Then will they not be able to stay in it as thy neighbours for any length of time:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–62

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون ؟ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہوجائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہوجائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیا کے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–61

سورة الْاَحْزَاب 113 " دل کی خرابی " سے مراد یہاں دو قسم کی خرابیاں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرنے کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کا بدخواہ ہو۔ دوسرے یہ کہ آدمی بدنیتی، آوارگی اور مجرمانہ ذہنیت میں مبتلا ہو اور اس کے ناپاک رجحانات اس کی حرکات و سکنات سے پھوٹے پڑتے ہوں۔ سورة الْاَحْزَاب 114 اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں گھبراہٹ پھیلانے اور ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے آئے دن مدینے میں اس طرح کی خبریں اڑایا کرتے تھے کہ فلاں جگہ مسلمانوں کو بڑی زک پہنچی ہے اور فلاں جگہ مسلمانوں کے خلاف بڑی طاقت جمع ہو رہی ہے اور عنقریب مدینہ پر اچانک حملہ ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–60

خلاصہ تفسیر اے پیغمبر پانی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچی کرلیا کریں اپنے (چہرے کے) اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی (یعنی کسی ضرورت سے باہر نکلنا پڑے تو چادر سے سر اور چہرہ بھی چھپا لیا جائے جیسا کہ سورة نور کے ختم کے قریب غیر متبرجت بزینة میں اس کی تفسیر روایت سے گزر چکی ہے، چونکہ کنیزوں کے لئے سر فی نفسہ داخل ستر نہیں، اور چہرہ کھولنے میں ان کو آزاد عورتوں سے زیادہ رخصت ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آقا کی خدمت میں لگی رہتی ہیں، اس لئے کام کاج کے لئے ان کو باہر نکلنے اور چہرہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 60–61

لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم چم لا یجاورونک فیھا الا قلیلا۔ ملعونین۔ اینما ثقفوا اخذوا وقتلوتقیلا (60۔ 61) یہ ان اشرار ومنافقین کو دھمکی دی ہے کہ اگر یہ اپنی ان شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کے باب میں چشم پوشی و مسامحت کا جو رویہ اب تک رہا ہے وہ یکسر بدل جائے گا اور ہم تم کو (خطاب نبی ﷺ سے ہے) ہر قدم پر ان کے محاسبہ و تعاقب کا حکم دے دیں گے۔ پھر ان کو اس شہر میں بہت کم رہنا نصیب ہوگا۔ اس کے بعد جتنے دن بھی یہ یہاں جئیں گے معلون ہو کر زندگی گزاریں گے۔ ہر قدم پر ان کی دار وگیر ہوگی۔ یہ پکڑے جائیں گے اور نہایت عبرت انگیز طریقوں سے قتل ہوں گے۔ ’ والذین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60۔ ا مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے منافقین افواہیں اڑاتے رہتے تھے کہ مسلمان فلاں علاقے میں مغلوب ہوگئے، یا دشمن کا لشکر جرار حملہ آور ہونے کے لئے آرہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–60

47: اس آیت نے واضح فرما دیا ہے کہ پردے کا حکم صرف ازواج مطہرات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہے۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے چہروں پر جھکا کر انہیں چھپالیا کریں۔ مقصد یہ ہے کہ راستہ دیکھنے کے لیے آنکھوں کو چھوڑ کر چہرے کا باقی حصہ چھپالیا جائے۔ اس کی صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جس چادر سے پورا جسم ڈھکا ہوا ہے، اس کو چہرے پر اس طرح لپیٹ لیا جائے کہ آنکھوں کے سوا باقی چہرہ نظر نہ آئے، اور یہ صورت بھی ممکن ہے کہ چہرے پر الگ سے نقاب ڈال لیا جائے۔ 48: بعض منافقین عورتوں کو راستے میں چھیڑا کرتے تھے، اس آیت میں پردے کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–62

لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جن کو بدنظری اور شہوت پرستی کا روگ لگا ہوا ہے۔ 4 یہ غالبا یہود ہیں جو اکثر جھوٹی خبریں اڑا کر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا کرتے تھے اور ممکن ہے منافق ہی مراد ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60 { لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ} ”اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے“ { وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْْمَدِیْنَۃِ } ”اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں“ منافقین کی عادت بن گئی تھی کہ وہ ماحول میں سنسنی پھیلانے کے لیے طرح طرح کی من گھڑت ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے رہتے تھے۔ ان افواہوں سے ان کا مقصد مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنا اور ان کی اخلاقی ساکھ کو گرانا ہوتا تھا۔ انہیں خبردار کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ ان حرکات سے باز نہ آئے : { لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ } ”تو اے نبی ﷺ ! ہم آپ کو ان پر اکسا دیں گے“ ہم آپ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

100 منافقوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ واقعات کی روشنی میں :۔ یعنی ایک تو انھیں بدنظری اور شہوت پرستی کا روگ لگا ہوا ہے۔ دوسرے نفاق کا کہ وہ اپنے آپ کو شمار تو مسلمانوں میں کرتے ہیں۔ لیکن ہر معاملہ میں اس کے بدخواہ تنگ کرنے والے انھیں بدنام کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھی مدینہ کے یہود ہیں۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ہمراز اور دونوں مسلمانوں کے ایک جیسے دشمن ہیں۔ جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے مختلف قسم کی سنسنی خیز افواہیں گھڑتے اور پھیلاتے رہتے ہیں۔ مثلاً فلاں مقام پر مسلمانوں نے بڑی مار کھائی اور زک اٹھائی، فلاں مقام پر مسلمانوں کے لئے ایک بڑا بھاری لشکر جمع ہورہا ہے اور عنقریب مدینہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

138۔ (روگ آوارگی کا یا تاک جھانک کا) (آیت) ” والذین فی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد ایمان کی کمزوری ہے۔ وھو ضعف الیقین (جصاص) وھم قوم کان فیھم ضعف ایمان وقلۃ ثبات علیہ (روح) یہ وہ لوگ تھے جو مسلم کنیزوں سے راستہ اور گلی میں چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے۔ اور کبھی کبھی ان کے شبہ میں، مسلم معزز وشریف عورتوں سے بھی۔ 139۔ چھوٹی چھوٹی اور پریشان کرنے والی۔ مثلا یہ کہ فلاں غنیم چڑھائی کرنے کو ہے ..... آج کل کی اصطلاح میں، مسلم اسٹیٹ کو جنگ اعصابی میں مبتلا کرنے والے ...... یہ لوگ اپنے اس پر اپیگنڈا سے مسلمانوں پر اہل کفر کی دہشت اور رعب خواہ مخواہ طاری کرتے رہتے تھے۔ واخرون ممن لابصیرۃ لہ فی الدین یرجفون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–68

آیت نمبر 59 تا 68 ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (ضعف ایمان کی) بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں ‘ اگر باز نہ آئے۔ یعنی اگر منافق اپنے نفاق سے اور عورتوں کو چھیڑنے سے باز نہ آئے اور جن کے دلوں میں ضعف ایمان کی بیماری ہے ‘ وہ اپنے مذہبی عدم استقلال یا بدکاریوں سے باز نہ آئے اور مدینہ میں سنسنی پیدا کردینے والے اپنی سنسنی خیز جھوٹی خبروں کو پھیلانے سے باز نہ آئے۔ رَجْفَۃٌ کا معنی ہے زلزلہ ور حرکت کا شدید اضطراب۔ جب رسول اللہ فوجی دستوں کو (ادھر ادھر قبائل میں) بھیجتے تھے تو کچھ منافق مدینہ میں جھوٹی خبریں پھیلاتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگر یہ منافقین جیسا کہ ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جن کے دلوں میں مکر و خیانت ہے اور اسی طرح وہ لوگ جن کے دلوں میں شہوت پرستی کی خرابی ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کے عیبوں کی مدینہ منورہ میں غلط افواہیں پھیلانے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اگر یہ سب لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ضرور ان پر مسلط کردیں گے اور یہ لوگ مدینہ میں آپ کے پاس بہت ہی کم رہنے پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ۔۔ : ”لَــنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ“ ”أَغْرٰی یُغْرِیْ“ کا معنی ہے ابھارنا، اکسانا، بھڑکا دینا، مسلط کردینا۔ گزشتہ اور زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ سے بعض منافقین اور دل میں فسق و فجور کا روگ رکھنے والے لوگ راستے میں عورتوں کو چھیڑتے تھے اور جھوٹی خبریں پھیلا کر مسلمانوں کو پریشان کرتے تھے، جیسا کہ انھوں نے عائشہ ؓ پر بہتان کے معاملے میں کیا۔ ان آیات میں پہلے تو عورتوں کو پردے کا حکم دیا، تاکہ ایسے بدطینت لوگوں کو دست درازی کی جرأت نہ ہو سکے۔ پھر اس آیت میں دھمکی دی کہ اگر یہ منافق لوگ اور جن کے دلوں میں بدکاری کی بیماری ہے اس چھیڑ چھاڑ اور دست…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ (آیت) لئن لم ینتۃ المنافقون اہل تفسیر نے کہا : یہ تین اوصاف ایک شے کے ہیں۔ جس طرح سفیان بن سعید نے منصور سے وہ حضرت ابو رزین سے روایت نقل کرتے ہیں کہ (آیت) المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ سب ایک چیز ہیں یعنی انہوں نے ان اشیاء کو جمع کیا۔ وائو زائدہ ہے۔ جس طرح کہا : الیالملکالقرموابن الھامولیث الکتیبۃ فیامزدحم ملک، قرم، ابن ہمام، لیث الکتیبۃ سے ایک ہی ذات مراد ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان میں ایسے لوگ تھے جو افواہیں اڑایا کرتے تھے، کچھ لوگ ایسے تھے جو شک کی بنا پر عورتوں کا پیچھا کیا کرتے تھے اور کچھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–62

1۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافقوں میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نفاق کو ضاطہر کریں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم (منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہی ن اگر باز نہ آئیے تو ہم ضرور آپ کو ان کے خلاف برانگیختہ کردیں گے یعنی ہم ضرور آپ کو ان سے لڑنے کے لیے اکسائیں گے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الارحاف “ سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اہل نفاق اسکو بھیلاتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَىِٕنْ [بیشک اگر ] لَّمْ يَنْتَهِ [باز نہ آئے ] الْمُنٰفِقُوْنَ [منافق لوگ ] وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ [اور وہ لوگ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [کوئی روگ ہے ] وَّالْمُرْجِفُوْنَ [اور افواہ پھیلانے والے ] فِي الْمَدِيْنَةِ [مدینہ میں ] لَــنُغْرِيَنَّكَ [تو ہم لازما حاوی کردیں گے آپ ﷺ کو ] بِهِمْ [ان پر ] ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ [پھر یہ لوگ پڑوسی نہیں رہیں گے آپ ﷺ کے ] فِيْهَآ [اس (مدینہ) میں ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگر تھوڑا سا (عرصہ)] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودیوں اور منافقوں کی یہ جو حرکت تھی کہ وہ مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کریں، اس کے بارے میں فرمایا (لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ ) (الآیۃ) اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی ایمان کا ضعف 1 ؂ ہے ٹھیک طرح سے مسلمان نہیں ہوئے، اور وہ مدینہ منورہ میں خبریں اڑانے والے باز نہ آئے تو ہم آپ کو آمادہ اور برانگیختہ کریں گے کہ آپ ان کے ساتھ وہ معاملہ کریں جو دشمن کے ساتھ ہوتا ہے، جب آپ ایسا کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ مدینہ منورہ میں تھوڑے ہی وقت تک رہ سکیں گے۔ اس میں خطاب تو ہے رسول اللہ ﷺ کو لیکن تنبیہ ہے ان لوگوں کو جو بری حرکتیں کرتے ہیں اگر انہوں نے اپنی حرکتیں نہ چھوڑیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–62

ذکر بعض انواع ایذاء منافقین ومرجفین بتعرض نسواں و تخویف اھل ایمان وقال اللہ تعالی۔ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق اور عام ایذاء رسول اور ایذا مومنین پر وعید کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں منافقین اور مرجفین کی خاص خاص ایذاؤں کا ذکر کر کے ان کی بابت ہدایات دیتے ہیں تاکہ ان ایذاؤں کا سدباب ہوجائے اور یہ ایذاء دو طرح سے تھی ایک تو یہ کہ سر راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے۔ پردہ کے حکم سے تو اس ایذاء رسانی کا علاج ہوا۔ اور دوسری ایذا رسانی اس طرح سے تھی کہ ایسی جھوٹی خبریں اڑاتے کہ جس سے مسلمان پریشان ہوجائیں اور گھبرا جائیں جسے آج کل کی اصطلاح میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 60–61

63:۔ لئن لم ینتہ الخ، یہ منافقین پر زجر اور تخویف دنیوی ہے۔ والذین فی قلوبھم مرض سے بدکار اور فجار مراد ہیں جن کے دلوں میں بدکاری کے خیالات کی بیماری تھی۔ والمرجفون فی المدینۃ۔ یہود مدینہ جو عام مسلمانوں اور خصوصاً مسلمان عورتوں کے بارے میں غلط افواہیں اڑاتے تھے تاکہ ان کے خلاف بدگمانی پھیلے اور انہیں ذہنی اذیت پہنچے۔ والمرجفون فی الدینۃ من الیھود المج اور ین لھا عما ہم علیہ من نشر اخبار السوء عن سرایا المسلمین وغیر ذلک من الاراجیف الملفقۃ المستبعۃ للاذیۃ سالت عکرمۃ عن الذین فی قلوبھم مرض فقال ھم اصحاب الفواحش و عن عطاء انہ فسرھم بذلک ایضا (روح ج 22 ص 90) ۔ اس آیت میں ان افراد کو متنبہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 59–62

گزشتہ آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ کے گھر کے اداب بیان فرمائے۔ پھر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان ہوتا ہے اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی پر وعید سنائی گئی کہ ایسا کرنا دنیا و آخرت میں لعنتی بننا ہے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ذلت ناک عذاب کی وعید سناتا ہے ، پھر فرمایا جس طرح اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانا بہت بری بات ہے اسی طرح عام بےگناہ اہ لایمان کی ایذارسانی بھی صریح بہتان اور کھلا گناہ ہے۔ اللہ نے ایسی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو پردے کا حکم دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَۃِ لَــنُغْرِيَنَّكَ بِہِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْہَآ اِلَّا قَلِيْلًا۝ 60ۚۖۛ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ نِّفَاقُ ، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–61

ترکیب : یدنین ھو مثل قولہ قل لعبادی یقیموا الصلوٰۃ فی ابراھیم فتذکرہ من جلا بیبھن للتبعیض فان المرۃ ترخی بعض جلبا بھا والبعض علی راسھا ثم لایج اور ونک عطف علیٰ نغرینک و ثم للدلاتہ علی ان الجلاء اشد علیھم من سائر المصائب۔ الاقلیلا زمانا اوجوار اقلیلا، ملعونین نصب علی او الحال والاستثناء یتنا ولہ لایجاورون الاملعونین۔ تفسیر : پیغمبر ( علیہ السلام) اور مومنین کی ایذاء کی برائی کے بعد ایذاء کے بعض اسباب دور کرنے کی تدبیر بتلاتا ہے۔ فقال یا ایہا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین الخ ابن سعد نے طبقات میں ابی مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت ﷺ کی بیویاں حاجت ضروری کے لیے باہر جایا کرتی تھیں۔ (جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 60–61

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّـکَ بِہِمْ ثُمَّ لاَ یُجَاوِرُوْنَـکَ فِیْھَآ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ مَّلْعُوْنِیْنَ ج اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً ۔ (الاحزاب : 61) (اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم تمہیں ان پر اکسا دیں گے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ رہنے کا بہت ہی کم موقع پائیں گے۔ ان پر لعنت کی جائے گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بےدریغ قتل کیے جائیں گے۔ ) منافقین کو تنبیہ خواتینِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–62

فہم القرآن ربط کلام : مومن عورتوں کو اوباش لوگوں کی اذّیت سے بچانے کے لیے پردے کا حکم اور اس کا طریقہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ کے مشرکین اللہ کے رسول ﷺ کے انتہا درجہ کے مخالف تھے۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ خاندانی روایات کا خیال رکھتے ہوئے کسی حد تک اخلاقی اقدار کا احترام کرتے تھے۔ یہ اخلاقی پاسداری کا نتیجہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر انہوں نے رات بھر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا لیکن دیواریں پھلانگ کر آپ کے گھر داخل نہ ہوئے کہ اس طرح خواتین خانہ کی بےحرمتی ہوگی اور عرب میں ہماری بدنامی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں مدینہ کے یہود اور منافقین کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

60: لَپنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ (اگر باز نہ آئے منافقین اور وہ لوگ) فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ (جن کے دلوں میں بیماری ہے) فجور وفسق کی بیماری اس سے مراد زانی لوگ ہیں۔ دوسرے مقام پر یہی لفظ اس معنی میں ارشاد فرمایا فیطمع الذی فی قلبہ مرض۔ [ الاحزاب : 32] وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ (اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے) وہ کچھ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے غزوات و سرایا کے متعلق غلط خبریں پھیلاتے تھے اور کہتے ان کو شکست ہوئی اور قتل کردیئے گئے اور ان پر ایسا ایسا واقعہ گزرا وغیرہ۔ اس سے ان کا مقصد مؤمنوں کے دلوں کو توڑنا تھا عرب کہتے ہیں ارجف بکذا جبکہ وہ اس کے متعلق غیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

60، لئن لم بنتہ المنا فقون ، اپنی منافقت سے۔ والذین فی قلوبھم مرض، مرض سے مراد فجور (زنا) ہے۔ والمرجفون فی المدینۃ، جھوٹ کے ذریعے سے اور یہ اس وجہ سے کہ کچھ لوگ ان میں سے جو جنگوں میں آپ ﷺ کے ساتھ نکلتے ہیں ان کے دلوں میں ڈر، رعب پیدا کردیتے ہیں اور جب قتال کرنے لگ جاتے ہیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس دشمن آگیا ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں کوئی بری بات پھیل جائے، وہ جھوٹی خبریں اڑاتے تھے۔ ، لنغرینک بھم، ہم ان کو ان کے ساتھ جمع کردیں گے اور ان پر مسلط کردیں گے۔ ، ثم لا یجاورونک فیھا، وہ مدینہ مسلط کردیں گے تاکہ ان کو قتل کردیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–62

59 تا 62۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سوردہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ جس طرح پردہ کا حکم اترا ہے اسی طرح یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی مستو راتیں گھر کے باہر نہ نکلا کریں طبقات ابن سعد میں محمد بن کعب حسن بصری اور ابو مالک کی روایتوں 1 ؎ سے حضرت عمر ؓ کے اس مشورہ کے دینے کا سبب یہ بتلایا ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 221 ج 5۔ ) کہ مسلمان عورتیں جب چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرتی تھیں تو مدینہ میں بعضے منافق لوگ ایسے ناہموار تھے کہ عورتوں کو راست میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–63

آیت 59 اس آیت کریمہ کو ” آیت حجاب “ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لئے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے، نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا : (یاھا الذین امنوا قوآ انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6/66) ” اے مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کی آگ سے بچاؤ۔ “ (اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ (یدنین علیھن من جلا بیبھن) ” وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–73

قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–61

127 اَشرار و منافقین کو آخری اور کھلی تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں کے اندر روگ ہے تو ہم آپ کو ان پر ایسا مسلط کردیں گے کہ اس کے بعد یہ لوگ آپ کے ساتھ مدینے میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا "۔ اور مرض سے یہاں پر مراد زنا اور بدکاری کا مرض ہے جو کہ معاشرے کے امن و استقرار کو تباہ کردینے والا مرض اور خطرناک روگ ہے ۔ " وہم الزناۃ " ۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر) ۔ اَہْلُ الرَّیْبِ الذِیْنَ غَلَبَتْہُمْ شَہْوَاتُہُمْ وَرَکَنُوْا اِلَي الْخَلاعَۃ والفجور۔ (جامع البیان) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ زنا کاری اور شہوت پرستی دلوں کا روگ اور فتنہ و فساد کی جڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–62

تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم تشریح : ان آیات میں تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ پردے کے بارے میں یہی وضاحت ہوسکتی ہے کہ یہ معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم کرتا ہے۔ یہ آیت دراصل اس وقت نازل ہوئی جب سیدناعمرنے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ کچھ بدقماش لوگ عورتوں کو تنگ کرتے ہیں۔ منع کرنے پر کہتے ہیں کہ ” ہم نے سمجھا لونڈ یاں ہیں “۔ تو سیدناعمر ؓ نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ ہماری عورتیں پردہ کر کے باہر نکلیں تاکہ بدمعاشوں کو معلوم ہو کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور وہ ان سے شرارت نہ کریں۔ اس پر حکم ہوا کہ بڑی چادر سے جسم اچھی طرح لپیٹ لیں اور گھونگٹ نکال لیا کریں۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–68

آیات 59 تا 68 اسرار ومعارف آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا : اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 مراد منافیق یا یہود ہیں جو جھوٹی خبریں پھیلا کر مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کرتے۔” کچھ بدنیت لوگ تھے مدینہ میں عورتوں کو چھیڑتے اور پاکدامن عورتوں کے متعلق طرح طرح کے افسانے گھڑ کر لوگوں میں پھیلاتے “۔7 یعنی آپ ﷺ کو انکے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دینگے۔ پھر ان میں بعض کو جلا وطن اور بعض کو قتل کر دینگے حتیٰ کہ مدینہ کی سرزمین سے ان کا صفایا ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:60) لئن۔ اس میں لام زائدہ ہے ان حرف شرط ہے ۔ اگر۔ لم ینتہ مضارع نفی حجد بلم ۔ واحد مذکر غائب انتھاء (افتعال) مصدر۔ ینتہ اصل میں ینتھی تھا لم کے عمل سے یگر گئی۔ وہ نہیں رکا۔ وہ باز نہ آیا۔ یہاں آیۃ میں جمع کے لئے آیا ہے۔ وہ نہ رکے۔ وہ باز نہ آئے۔ نھی مادہ (ناقص یائی) ۔ لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض۔ وائو حرف عطف ہے۔ الذین کا عطف المنفقون پر ہے مریض قلب سے مراد وہ ہیں جن کا ایمان کمزور ہے۔ والمرجفون اس کا عطف بھی المنافقون پر ہے اس کا واحد المرجف ہے الرجف مصدر (باب نصر) کے معنی اضطراب شدید ہے۔ اور رجفت الارض کے معنی زمین میں زلزلہ آنے کے ہیں۔ بحر رجاف متلاطم سمندر قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–62

لغات القرآن : آیت نمبر 59 تا 62 یدنین : لٹکا لیں ۔ قریب کرلیں جلابیب (جلباب) چادریں ۔ لباس پر اوڑھی جانے والی چادر المرجفون : افواہیں پھیلانے والے نغرین : ہم چھوڑ دیں گے۔ ہم مسلط کردیں گے لا یج اور : ساتھ نہ رہیں گے ثقفوا : پائے گئے اخذوا : پکڑے گئے لن تجد : تو ہرگز نہ پائے گا تشریح : آیت نمبر 59 تا 62 دین اسلام کے تقریباً تمام احکامات میں ایک خاص تدریج ہے جو آہستہ آہستہ تکمیل تک پہنچتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کا پورا معاشرہ جہالتوں ، تاریکیوں ، زندگی کی بےاعتدالیوں اور کفر و شرک میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کو اصول زندگی سکھانے کے لئے تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن کریم نازل کیا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–62

(ف 1) شان نزول : جب منافق لوگ شریف عورتوں کو راستہ میں چھیڑا کرتے تھے اور جب ان منافقوں کو دھمکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ شریف مسلمان عورتوں کو تم کیوں چھیڑا کرتے ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے ان کو شریف جان کر نہیں چھیڑا بلکہ لونڈی جان کرچھیڑا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں پھر فرمایا کہ منافقوں کی ایک اور بھی ایذرسانی تھی وہ یہ کہ مدینہ میں طرح طرح کی خوفناک خبریں اڑا کر لوگوں کو پریشان کیا کرتے تھے کہ فلاں بادشاہ چڑھ کر آتا ہے وہ آکریوں قتل عام کرے گا، فلاں قوم آتی ہے ان سب کی نسبت فرمایا ہے کہ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلون میں بیماری ہے شک وشبہ یامرض زناکاری ہے اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–71

[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–62

ف 1: بات یہ تھی کہ اول اول چونکہ پردہ کارواج نہ تھا ۔ اس لئے مسلمان عورتیں ضروریات کی وجہ سے گھروں سے نکلتیں تو بدکار اور آوارہ لوگ ان کو چھیتے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسی حرکات کا کیوں ارتکاب کرتے ہو ۔ تو کہتے ہمیں غلط فہمی ہوئی ہم یہ سمجھے تھے کہ شائد غلام عورتیں ہیں ۔ لونڈیوں سے چھیڑ چھاڑ اس وقت اس قبیل کے لوگوں میں معیوب نہیں تھی ۔ اس پردہ کا یہ حکم نازل ہوا کہ امہات المومنین اور عام مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ کھلے منہ باندیوں کی طرح گھروں سے باہر نہ نکلا کریں ۔ بلکہ نکلیں تو گھونگھٹ نکال کر تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ یہ شریف پردہ دار خاتونیں ہیں ۔ لونڈیاں نہیں ہیں ۔ اور اس طرح ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

60۔ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بدی کا روگ ہے اور بدکاری کے مرض میں مبتلا ہیں اور وہ جو مدینہ میں پریشان کن افواہیں اڑایا کرتے ہیں یہ سب لوگ اپنی ناشائسہت اور سوقیانہ حرکات سے با ز نہ آجائیں گے تو ہم یقینا آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے اور ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے پھر ان لوگوں کو مدینے میں آپ کی ہمسائیگی نصیب نہ ہوگی اور تیرے ساتھ یہ لوگ مدینے میں نہ رہ سکیں گے مگر بہت کم اور بہت تھوڑے دنوں ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر منافقین جھوٹی خبریں پھیلانے والے باز نہ آئے تو ان کو مدینہ بدر کردیا جائے گا 60 ۔ اب منافقین اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو آخری وارننگ (Warning) دی جارہی ہے کہ تمہاری اصلاح کے لئے تم کو بہت وقت دیا جاچکا اب اس سے زیادہ تم کو برداشت نہیں کیا جائے گا اگر تم اپنے ان افعال سے باز آگئے تو خیر ورنہ تم کو مدینہ النبی سے نکال دیا جائے گا اور اس طرح نبی کریم ﷺ سے گویا وعدہ کیا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو آپ کو یعنی مسلمانوں کو ان منافقوں اور جھوٹی خبریں اڑانے والوں پر مکمل طور تسلط دے دیا جائے گا ، ان کی نشاندہی کردی جائے گی پھر وہ آپ کے معاشرہ اسلامی میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ { مرجفون }…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

Commentary The previous verses have maintained that causing pain to any Muslim, man or woman, is forbidden and is a major sin, and in particular, inflicting pain on the Holy Prophet ﷺ is an act of infidelity, liable to Allah's curse. Now, there were two kinds of pain caused by the hypocrites to all Muslims and to the Holy Prophet ﷺ . Preventive measures against these have been provided in the verses cited above. As a corollary, stated there are a few additional injunctions in a certain congruity to be unfolded later on. One of these two kinds of pain caused was at the hands of vagabonds from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–61

113 "Having diseased hearts" points to two kinds of evils: (1) That a person should be an iII-wisher of Islam and the Muslims although he gets himself counted among the Muslims; and (2) that he should be cherishing evil intentions and having criminal mentality and his evil tendencies be manifesting themselves in everything he thinks and does. 114 This unplies the people who, in order to cause panic among the Muslims and to lower their morale, used to spread rumours in Madinah to the effect that the Muslims had suffered such and such serious setback, that a huge army was gathering together…

Read the full tafseer →