Al-Ahzaab 33:59

Al-Ahzaab · from ayah 59

33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ ؕ— ذٰلِكَ اَدْنٰۤی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا

اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments. That is more suitable that they will be known and not be abused. And ever is Allah Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:59

اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انھیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی ! اپنی بیویوں، اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کردو کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے گھونگت لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے قرین ہے کہ ان کا امتیاز ہوجائے، پس ان کو کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے۔ اور اللہ غفور رحیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے پیغمبر ! کہو اپنی بیویوں بیٹیوں اور عام مسلمانوں کی عورتوں سے کہ وہ لٹکا دیا کریں اپنے (چہروں کے) اوپر کچھ حصہ اپنی چادروں کا یہ طریقہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جایا کریں پھر ان کو کوئی ایذاء نہ پہنچنے پائے اور اللہ تو بہرحال بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی آپ کہہ دیجیے اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور (عام) ایمانوالوں کی عورتوں سے کہ اپنے اوپر نیچی کرلیا کریں اپنی چادریں تھوڑی سی۔ اس سے وہ جلد پہنچان لی جایا کریں گی اور اس لئے انہیں ستایا نہ جائے گا۔ اور اللہ تو بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان خواتین سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں۔ یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو انہیں کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے۔ } اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانون کی عورتوں سے کہہ دو کہ جب باہر نکلا کریں تو اپنے مونہوں پر چادر لٹکا کر گھونگٹ نکال لیا کریں اس طرح وہ پہچانی جاسکیں گی (کہ وہ مسلمان ہیں) تو کوئی اور ان کو تکلیف نہ پہنچائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, enjoin your wives and your daughters and the believing women, to draw a part of their outer coverings around them. It is likelier that they will be recognised and not molested. Allah is Most Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers that they should draw down their shawls over them. That will make it more likely that they are recognized, hence not teased. And Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

O prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers that they should draw down their shawls over them. That will make it more likely that they are recognized, hence not teased. And Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! Tell your wives and your daughters and the women of the believers to draw their Jalabib over their bodies. That will be better that they should be known so as not to be annoyed. And Allah is Ever Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! Tell thy wives and thy daughters and the women of the believers to draw their cloaks close round them (when they go abroad). That will be better, so that they may be recognised and not annoyed. Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments. That is more suitable that they will be known and not be abused. And ever is Allah Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Prophet, tell your wives, daughters, and the wives of the believers to cover their bosoms and breasts. This will make them distinguishable from others and protect them from being annoyed. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

O Prophet! say to your wives and your daughters and the women of the believers that they let down upon them their over-garments; this will be more proper, that they may be known, and thus they will not be given trouble; and Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

O Prophet! say unto thy wives and thy daughters and women of the believers that they should let down upon them their wrapping- garments. That would be more likely to distinguish them so that they will not be affronted. And Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! Tell thy wives and daughters, and the believing women, that they should cast their outer garments over their persons (when abroad): that is most convenient, that they should be known (as such) and not molested. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–62

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون ؟ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہوجائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہوجائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیا کے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 110 اصل الفاظ ہیں یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَا بِیْبِھِنَّ۔ جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں۔ اور اِدْنَاء کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں، مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اِرْخَاء، یعنی اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے بعض مترجمین و مفسرین مغربی مذاق سے مغلوب ہو کر اس لفظ کا ترجمہ صرف " لپیٹ لینا " کرتے ہیں تاکہ کسی طرح چہرہ چھپانے کے حکم سے بچ نکلا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا مقصود اگر وہی ہوتا جو یہ حضرات بیان کرنا چاہتے ہیں تو وہ یُدْنِیْنَ اِلَیْھِنَّ فرماتا۔ جو شخص بھی عربی زبان جانتا ہو کبھی یہ نہیں مان سکتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–60

خلاصہ تفسیر اے پیغمبر پانی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچی کرلیا کریں اپنے (چہرے کے) اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی (یعنی کسی ضرورت سے باہر نکلنا پڑے تو چادر سے سر اور چہرہ بھی چھپا لیا جائے جیسا کہ سورة نور کے ختم کے قریب غیر متبرجت بزینة میں اس کی تفسیر روایت سے گزر چکی ہے، چونکہ کنیزوں کے لئے سر فی نفسہ داخل ستر نہیں، اور چہرہ کھولنے میں ان کو آزاد عورتوں سے زیادہ رخصت ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آقا کی خدمت میں لگی رہتی ہیں، اس لئے کام کاج کے لئے ان کو باہر نکلنے اور چہرہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یایھا النبی قلا لازوک وبنتک ونساء المومنین یدینین علیھن من جلابیبھن ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین وکان اللہ غفور رحیما (59) منافقین و اشرار کی ایذا رسانیوں سے محفوظ کرنے کے لئے نبی ﷺ کے اہل بیت کو بھی اور عام مسلمان خواتین کو بھی یہ ہدایت کردی گئی کہ جب انہیں کسی ضرورت سے گھروں سے باہر قدم نکالنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ اپنی بڑی چادروں کا کچھ حصہ اپنے چہروں پر لٹکا لیا کریں۔ اس طرح ان کے اور دوسری غیر مسلم عورتوں اور لونڈیوں کے درمیان امتیاز ہوجائے گا اور کسی کو ان سے تعرض کے لئے بہانہ ہاتھ نہیں آئے گا۔ سورة نور میں، یاد ہوگا، عزہ و اقربا سے متعلق یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ اجازت کے بعد گھروں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59۔ 1 جلابیب، جلباب کی جمع ہے جو ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے اپنے اوپر چادر لٹکانے سے مراد اپنے چہرے پر اس طرح گھونگٹ نکالنا ہے کہ جس سے چہرے کا بیشتر حصہ بھی چھپ جائے اور نظریں جھکا کر چلنے سے اسے راستہ بھی نظر آتا جائے پاک وہند یا دیگر اسلامی ممالک میں برقعے کی جو مختلف صورتیں ہیں عہد رسالت میں یہ برقعے عام نہیں تھے پھر بعد میں معاشرت میں وہ سادگی نہیں رہی جو عہد رسالت اور صحابہ وتابعین کے دور میں تھی عورتیں نہایت سادہ لباس پہنتی تھیں بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کے اظہار کا کوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک بڑی چادر سے بھی پردے کے تقاضے پورے ہوجاتے تھے لیکن…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–60

47: اس آیت نے واضح فرما دیا ہے کہ پردے کا حکم صرف ازواج مطہرات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہے۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے چہروں پر جھکا کر انہیں چھپالیا کریں۔ مقصد یہ ہے کہ راستہ دیکھنے کے لیے آنکھوں کو چھوڑ کر چہرے کا باقی حصہ چھپالیا جائے۔ اس کی صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جس چادر سے پورا جسم ڈھکا ہوا ہے، اس کو چہرے پر اس طرح لپیٹ لیا جائے کہ آنکھوں کے سوا باقی چہرہ نظر نہ آئے، اور یہ صورت بھی ممکن ہے کہ چہرے پر الگ سے نقاب ڈال لیا جائے۔ 48: بعض منافقین عورتوں کو راستے میں چھیڑا کرتے تھے، اس آیت میں پردے کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یایھا النبی قل ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (59) ” “۔ سدی کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایسے فساق موجود تھے جو اس دور میں رات کو نکلتے تھے ، اس وقت جب اندھیرا گہرا ہوجاتا تھا اور مدینہ کی تنگ گلیوں میں عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ کیونکہ لوگوں کے گھر تنگ تھے اور قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر نکلنا پڑتا تھا۔ یہ فساق ان عورتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ کسی عورت نے حجاب کیا ہوا ہے تو وہ یہ کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اس لیے۔ اس سے رک جاتے۔ اور جب وہ دیکھتے کہ پردہ نہیں ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ اپنے اوپر جلباب ڈال لیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزاد عورتیں ہیں تاکہ کوئی فاسق ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی بدن ڈھانپنے کے ساتھ چادر کا کچھ حصہ سر سے نیچے چہرہ پر بھی لٹکا لیویں۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر مسلمان عورتیں بدن اور چہرہ چھپا کر اس طرح نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لیے کھلی رہتی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ فتنہ کے وقت آزاد عورت کو چہرہ بھی چھپا لینا چاہیے۔ لونڈی باندیوں کو ضرورت شدیدہ کی وجہ سے اس کا مکلف نہیں کیا۔ کیونکہ کاروبار میں حرج عظیم واقع ہوتا ہے۔ 2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں بی بی ہے صاحب ناموس، بدذات نہیں نیک بخت ہے، تو بدنیت لوگ اس سے نہ الجھیں۔ گھونگھٹ اس کا نشان رکھ دیا۔ یہ حکم بہتری کا ہے۔ آگے فرما دیا اللہ ہے بخشنے والا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اگلی آیات میں پردے سے متعلق مزید احکام دیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ آیات میں اس حوالے سے ہم دو احکام پڑھ چکے ہیں۔ ان میں پہلا حکم یہ تھا کہ عورتوں کا اصل مقام ان کا گھر ہے ‘ وہ گھروں میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ جبکہ دوسرا حکم مردوں اور عورتوں کے باہمی میل جول پر پابندی سے متعلق تھا کہ غیر محرم مردوں کو دوسروں کے گھروں میں داخلے کی اجازت نہیں۔ اگر ضرورت کے تحت کسی مرد کو کسی غیر محرم خاتون سے کوئی بات کرنی ہو تو رُو در رُو نہیں ‘ بلکہ پردے کے پیچھے رہ کر بات کرے۔ اب اگلی آیت میں اس سلسلے کا تیسرا حکم دیا جا رہا ہے کہ مسلمان خواتین اگر کسی ضرورت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

99 اس حکم کے ذریعہ اوباش منافقوں کی چھیڑ چھاڑ کا سدباب کردیا گیا۔ نبی کی بیویوں، بیٹیوں اور سب مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ بڑی چادریں اپنے سر کے اوپر سے نیچے لٹکا لیا کریں۔ اس سے بآسانی معلوم ہوسکے گا کہ یہ لونڈیاں نہیں بلکہ شریف زادیاں ہیں۔ لہذا منافق انھیں چھیڑ چھاڑ کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ خ بنات النبی :۔ ضمناً اس سے اس بات کا پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ کی بیٹیاں تین یا تین سے زیادہ تھیں اور حقیقتاً یہ چار تھیں۔ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ ؓ جبکہ شیعہ حضرات آپ کی صرف ایک بیٹی (سیدہ فاطمہ) تو تسلیم کرتے ہیں۔ باقی کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ خ بڑی چادر اوڑھ کر عورتیں باہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

135۔ یعنی جب ضرورۃ باہر نکلنا ہو، تو اپنی چادریں اپنے اوپر سروں سے ذرالٹکا لیاکریں، تاکہ چہرہ کے اطراف تو خوب ڈھک جائیں اور خود چہرہ کی ٹکیا بھی ایک حد تک۔ ہمارے ملک میں اسی کو گھونگھٹ نکالنا کہتے ہیں۔ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ محل فتنہ پورا چہرہ مع اطراف و جوانب کے ہے نہ یہ کہ ملحقات چہرہ کو چھپا کر صرف چہرے کی ٹکیا کھلی رہنے دی جائے، کوئی عضو بجائے خود کیسا ہی حسین ہو، دوسروں کو متاثر جب ہی کرسکتا ہے جب وہ اپنے حسن تناسب کو ظاہر کررہا ہو اور اس حسن تناسب کا اظہار جبھی ممکن ہے جب اس عضو کے ملحقات بھی کھلے ہوں۔ (آیت) ” من جلابیبھن “۔ جلابیب جمع ہے جلباب کی اور جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں، جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 59–68

آیت نمبر 59 تا 68 ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی قل لازواجک وبنتک ونسآء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن . اے نبی ! آپ اپنی بیبیوں سے اور بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں۔ جلابیب ‘ جلباب کی جمع ہے ‘ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت دوپٹے اور کرتے کے اوپر سے لپیٹ لیتی ہے۔ بخاری نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حکم حجاب کے بعد حضرت سودہ قضائے حاجت کیلئے نکلیں ‘ عورت ڈیل ڈول کی تھیں جو ان کو پہچانتا تھا ‘ اس کیلئے (باوجود چہرہ پوشیدہ ہونے کے) مخفی نہیں ہوسکتی تھیں۔ چناچہ عمر بن خطاب نے (ظاہری قد اور جسامت) دیکھتے ہی پہچان لیا اور آواز دے کر کہا : سودہ !…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی کریم اپنی ازواج مطہرات اور اپنی صاحبزادیوں اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے چہرے اور سینوں پر سر سے چادریں نیچی کرلیا کریں اس پردہ کے حکم پر عمل کرنے آزاد عورتوں کو ممتاز طریقہ پر جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو ان کو تکلیف نہیں دی جایا کرے گی اور اللہ تعالیٰ پچھلی باتوں کا بخشنے والا اور موجودہ حالت پر مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ۔۔ : مسلمانوں کو ایذا دینے والوں کے لیے وعید کے بیان کے بعد مسلم عورتوں کو ایذا سے بچنے کے لیے پردے کی تاکید فرمائی۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی بیٹیاں ایک سے زیادہ تھیں۔ بعض لوگ فاطمہ ؓ کے علاوہ دوسری بیٹیوں کو آپ کی بیٹیاں تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے کہنے کے مطابق نبی ﷺ کی بیٹیوں سے مراد امت کی عورتیں ہیں، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ آیت میں نبی ﷺ کی بیویوں اور آپ کی بیٹیوں کے بعد مومنوں کی عورتوں کا الگ ذکر فرمایا ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آپ ﷺ کی چار بیٹیاں مذکور ہیں، زینب، ام کلثوم، رقیہ اور فاطمہ۔ ”وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ“ میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 (آیت) قل لازواجک وبنتک حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کی ایک ایک فضیلت کے بارے میں کلام گزرچکی ہے۔ قتادہ نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہو اتو اس وقت آپ ﷺ کے حرم میں نو ازواج تھیں۔ پانچ قریش کے خاندان سے حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت حفصہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ ؓ تین عام عربوں میں سے تھیں حضرت میمونہ، حضرت زینب بنت حجش اور حضرت جویریہ ؓ اور ایک حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھی حضرت صفیہ ؓ جہاں تک حضور ﷺ کی اولاد کا تعلق ہے تو نبی کریم ﷺ کی اولاد میں مذکر اور مونث بھی تھے۔ مذکر اولاد میں سے حضرت قاسم، ان کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری تھیں۔ آپ کے نام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن سعد والبخاری ومسلم وابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اپنی حاجت کے لیے باہر نکلیں پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اور یہ بھاری بدن والی عورت تھی جو ان کو پہچانتا تھا اس سے چھپی نہیں رہتی تھیں۔ عمر ؓ نے ان کو دیکھا اور کہا اے سودہ ! بلاشبہ تو ہم پر چھپ نہیں سکتی تو دیکھ لے کہ تو کس طرح باہر نکلی ہے وہ پلٹ کر واپس آئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تھے اور آپ رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اور آپ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی وہ داخل ہوئیں اور کہا یا رسول اللہ میں اپنی بعض حاجت کے لیے باہر نکلی تو عمر نے مجھ سے اس طرح اور اس طرح کہا آپ کی طرف وحی کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ [اے نبی آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّاَزْوَاجِكَ [اپنی بیویوں سے ] وَبَنٰتِكَ [اور اپنی بیٹیوں سے ] وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ [اور مومنوں کی عورتوں سے ] يُدْنِيْنَ [تو وہ قریب کرلیں گی ] عَلَيْهِنَّ [اپنے اوپر ] مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ [اپنی اڑھنیوں میں سے ] ذٰلِكَ [یہ ] اَدْنٰٓى [زیادہ بہتر ہے ] اَنْ يُّعْرَفْنَ [کہ وہ پہنچانی جائیں ] فَلَا يُؤْذَيْنَ ۭ [نتیجتاً وہ ستائی نہ جائیں گے ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور ہے اللہ ] غَفُوْرًا [بے انتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہمیشہ رحم کرنے والا ] ۔ نوٹ۔ 1: پردے کا حکم دینے کے ساتھ اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے ان یعرفن فلا یؤذین۔ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ازواج مطہرات اور بنات طاہرات اور عام مؤمنات کو پردہ کا اہتمام کرنے کا حکم، اور منافقین کے لیے وعید مفسرین نے لکھا ہے کہ رات کے قت (جب گھروں میں بیت الخلاء نہیں بنائے گئے تھے) عورتیں قضائے حاجت کے لیے کھجور کے باغوں میں نشیبی علاقوں میں جایا کرتی تھیں ان میں حرائر (آزاد) عورتیں اور اماء (باندیاں) دونوں ہوتی تھیں۔ منافقین اور بد نفس لوگ راستوں میں کھڑے ہوجاتے تھے اور عورتوں کو چھیڑتے تھے یعنی اشارے بازی کرتے تھے، ان کا دھیان باندیوں کی طرف ہوتا تھا اگر کبھی کسی آزاد عورت کو چھیڑتے اور اس پر گرفت کی جاتی تو کہہ دیتے تھے کہ ہم نے یہ خیال کیا تھا کہ شاید وہ باندی ہے۔ نیز دشمنان اسلام (جن میں مدینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–62

ذکر بعض انواع ایذاء منافقین ومرجفین بتعرض نسواں و تخویف اھل ایمان وقال اللہ تعالی۔ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق اور عام ایذاء رسول اور ایذا مومنین پر وعید کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں منافقین اور مرجفین کی خاص خاص ایذاؤں کا ذکر کر کے ان کی بابت ہدایات دیتے ہیں تاکہ ان ایذاؤں کا سدباب ہوجائے اور یہ ایذاء دو طرح سے تھی ایک تو یہ کہ سر راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے۔ پردہ کے حکم سے تو اس ایذاء رسانی کا علاج ہوا۔ اور دوسری ایذا رسانی اس طرح سے تھی کہ ایسی جھوٹی خبریں اڑاتے کہ جس سے مسلمان پریشان ہوجائیں اور گھبرا جائیں جسے آج کل کی اصطلاح میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

62:۔ یا ایہالنبی الخ۔ یہ آنحضرت ﷺ سے ساتواں خطاب ہے۔ نزول حجاب سے قبل جب مسلمان عورتیں رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر جاتیں تو منافقین انہیں تنگ کرتے اور آوازیں دیتے جب ان سے کہا جاتا تم ایسا کیوں کرتے ہو تو کہتے ہم نے سمجھا فلاں عورت ہے۔ آں حضرت ﷺ تک یہ شکایت پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو چادریں اوڑھ لیا کریں۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ آزاد اور شریف عورت ہے۔ کان للمراۃ من نساء المومنین قبل نزول ھذہ الایۃ تتبرز للحاجۃ فیتعرض لھا بعض الفجار یظن انھا امۃ فتصیح بہ فیذھب فشکوا ذلک الی النبی ﷺ و نزلت الایۃ بسسب ذلک (قرطبی ج 4 ص 243) اے پیغمبر اپنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 59–62

گزشتہ آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ کے گھر کے اداب بیان فرمائے۔ پھر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان ہوتا ہے اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی پر وعید سنائی گئی کہ ایسا کرنا دنیا و آخرت میں لعنتی بننا ہے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ذلت ناک عذاب کی وعید سناتا ہے ، پھر فرمایا جس طرح اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانا بہت بری بات ہے اسی طرح عام بےگناہ اہ لایمان کی ایذارسانی بھی صریح بہتان اور کھلا گناہ ہے۔ اللہ نے ایسی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو پردے کا حکم دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝ 59 نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–61

ترکیب : یدنین ھو مثل قولہ قل لعبادی یقیموا الصلوٰۃ فی ابراھیم فتذکرہ من جلا بیبھن للتبعیض فان المرۃ ترخی بعض جلبا بھا والبعض علی راسھا ثم لایج اور ونک عطف علیٰ نغرینک و ثم للدلاتہ علی ان الجلاء اشد علیھم من سائر المصائب۔ الاقلیلا زمانا اوجوار اقلیلا، ملعونین نصب علی او الحال والاستثناء یتنا ولہ لایجاورون الاملعونین۔ تفسیر : پیغمبر ( علیہ السلام) اور مومنین کی ایذاء کی برائی کے بعد ایذاء کے بعض اسباب دور کرنے کی تدبیر بتلاتا ہے۔ فقال یا ایہا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین الخ ابن سعد نے طبقات میں ابی مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت ﷺ کی بیویاں حاجت ضروری کے لیے باہر جایا کرتی تھیں۔ (جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰـتِکَ وَنِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 59) (اے نبی ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے گھونگٹ لٹکالیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں، پس ان کو کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے اور اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ ) خواتین کے لیے گھروں سے باہر جانے کے احکام اس سے پہلے کی چند آیات میں مسلمانوں کو معاشرت کے چند آداب سکھائے گئے تھے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–62

فہم القرآن ربط کلام : مومن عورتوں کو اوباش لوگوں کی اذّیت سے بچانے کے لیے پردے کا حکم اور اس کا طریقہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ کے مشرکین اللہ کے رسول ﷺ کے انتہا درجہ کے مخالف تھے۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ خاندانی روایات کا خیال رکھتے ہوئے کسی حد تک اخلاقی اقدار کا احترام کرتے تھے۔ یہ اخلاقی پاسداری کا نتیجہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر انہوں نے رات بھر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا لیکن دیواریں پھلانگ کر آپ کے گھر داخل نہ ہوئے کہ اس طرح خواتین خانہ کی بےحرمتی ہوگی اور عرب میں ہماری بدنامی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں مدینہ کے یہود اور منافقین کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پردے کا حکم : 59: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ (اے پیغمبر (ﷺ) اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے) وَنِسَآ ئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ (اور مؤمنوں کی بیویوں سے بھی کہہ دیں کہ نیچی کرلیا کریں اور اپنے اوپر) جَلَابِیْبِھِنَّ (تھوڑی سی اپنی چادریں) الجلبابؔ وہ کپڑا جس سے تمام جسم کو لپیٹاجائے جیسے بڑی چادر۔ قول مبرد (رح) : یدنین علیھن من جلا بیبہن کا معنی یہ ہے اپنے اوپر چادر کو ڈھیلا کر کے لٹکالیں اور اس سے اپنے چہروں اور کندھے کو ڈھانپ لیں۔ عرب کہتے ہیں جبکہ کپڑا عورت کے چہرے سے ہٹ جائے۔ اَدْنِی ثوبک علی وجھک اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لو۔ من تبعیضیہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 59، یایھا النبی قل لا زواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلا بیبھن ، جلباب کی جمع ہے، اس چادرکو کہنے ہیں جس کو عورت دوپٹے اور کرتے کے اوپر سے لپیٹ لیتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوعبیدہ ؓ نے فرمایا ، مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے چہروں اور سروں کو چادروں سے ڈھانک کر نکلیں، صرف ایک آنکھ کھلی رہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ آزاد عورتیں ہیں ۔ ، ذلک ادنی ان یعرفن ، کہ یہ آزاد عورتیں ہیں ۔ ، فلایؤ ذین ، ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کریں۔ ، وکان اللہ غفورارحیما، حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ ایک نقاب پوش باندی حضرت عمر ؓ کی طرف سے گزری ، آپ نے اس کا پردہ اٹھایا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–62

59 تا 62۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سوردہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ جس طرح پردہ کا حکم اترا ہے اسی طرح یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی مستو راتیں گھر کے باہر نہ نکلا کریں طبقات ابن سعد میں محمد بن کعب حسن بصری اور ابو مالک کی روایتوں 1 ؎ سے حضرت عمر ؓ کے اس مشورہ کے دینے کا سبب یہ بتلایا ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 221 ج 5۔ ) کہ مسلمان عورتیں جب چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرتی تھیں تو مدینہ میں بعضے منافق لوگ ایسے ناہموار تھے کہ عورتوں کو راست میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–63

آیت 59 اس آیت کریمہ کو ” آیت حجاب “ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لئے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے، نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا : (یاھا الذین امنوا قوآ انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6/66) ” اے مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کی آگ سے بچاؤ۔ “ (اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ (یدنین علیھن من جلا بیبھن) ” وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (یایھا النبی قل لازواجک وبناتک نسآء المومنین یدنین علیھن من جلا بیھن۔ اے نبی ! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر تھوڑی سی نیچی کرلیا کریں) حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ جلیاب چادر کو کہتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ چادریں اوڑھ لیا کریں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ حرائر یعنی آزاد خواتین ہیں لونڈیاں نہیں ہیں۔ اور اس طرح کوئی آوارہ منش انسان ان سے کوئی تعرض نہ کرسکے۔ محمد بن سیرین نے عبیدہ سے روایت کی ہے کہ چادر لپیٹ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں حسن بن ابی ربیع نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

124 حجاب سے متعلق بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان : سو اس سے اہل ایمان کی عورتوں کے لیے حجاب اور پردے سے متعلق بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اے پیغمبر کہو اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہ وہ ان ہدایات کی پابندی کریں "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی بیٹیاں کئی تھیں۔ کیونکہ یہاں پر جمع کا لفظ " بنات " استعمال فرمایا گیا ہے۔ اور علمائے تاریخ و سیر اس پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ کی صاحبزادیاں چار تھیں۔ زینب ؓ ‘ رقیہ ؓ ‘ ام کلثوم ؓ ‘ اور فاطمہ ؓ ۔ اور خود شیعوں کی معتبر کتابوں میں بھی اس کا ثبوت موجود ہے۔ ( جیسا کہ اصول کافی : ج 1 ص 339، حیات القلوب : ج…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 59–62

تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم تشریح : ان آیات میں تمام اہل ایمان خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ پردے کے بارے میں یہی وضاحت ہوسکتی ہے کہ یہ معاشرے سے بہت سی برائیاں ختم کرتا ہے۔ یہ آیت دراصل اس وقت نازل ہوئی جب سیدناعمرنے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ کچھ بدقماش لوگ عورتوں کو تنگ کرتے ہیں۔ منع کرنے پر کہتے ہیں کہ ” ہم نے سمجھا لونڈ یاں ہیں “۔ تو سیدناعمر ؓ نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ ہماری عورتیں پردہ کر کے باہر نکلیں تاکہ بدمعاشوں کو معلوم ہو کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور وہ ان سے شرارت نہ کریں۔ اس پر حکم ہوا کہ بڑی چادر سے جسم اچھی طرح لپیٹ لیں اور گھونگٹ نکال لیا کریں۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 59–68

آیات 59 تا 68 اسرار ومعارف آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا : اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی راستہ والے سمجھ لیں کہ یہ شریف زادیاں ہیں۔ یہ جان کر کوئی انہیں چھیڑنے کی جرأت نہ کریگا۔ روایات میں ہے کہ مسلمان عورتیں رات کو ضروریات کے لئے کہیں باہر نکلتیں تو منافقین انہیں چھیڑنے کی جرأت کرتے۔ پھر جب ان سے پوچھا جاتات و کہتے ” ہم سمجھے تھے کہ لونڈیاں ہیں “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( شوکانی) چاروں کے گھونگھٹ اوپر سے ڈال لیا کریں یعنی سارا چہرہ چھپالیا کریں صرف ایک آنکھ رہنے دیں۔ ( ابن جریر، واحمدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:59) یذنین۔ مضارع جمع مؤنث غائب ادناء (افعال) مصدر دنو مادہ وہ نیچے کرلیا کریں۔ دنی یدلوا (باب نصر) فعل لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قریب ہونا یا قریب کرنا۔ نیچا ہونا یا نیچا کرنا۔ ادنی قریب تر۔ کم تر۔ اور اس سے مؤنث دینا۔ جلا بیبھن۔ مضاف مضاف الیہ جلا بیب جلباب کی جمع ہے بڑی چادریں جو قمیض یا کرتے کے اوپر اوڑھی جاتی ہیں۔ ہن ضمیر جمع ازواجک و بنتک ونساء المومنین ہے۔ ادنی۔ نزدیک تر، قریب تر ۔ (اوپر ملاحظہ ہو) ۔ ان یعرفن۔ میں ان مصدریہ ہے یعرفن مضارع مجہول جمع مؤنث غائب۔ عرفان (باب ضرب) سے مصدر کہ وہ پہچانی جائیں۔ پہچانی جاسکیں۔ کہ ان کی شناخت ہوجائے۔ لا یؤذین۔ مضارع منفی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 59–62

لغات القرآن : آیت نمبر 59 تا 62 یدنین : لٹکا لیں ۔ قریب کرلیں جلابیب (جلباب) چادریں ۔ لباس پر اوڑھی جانے والی چادر المرجفون : افواہیں پھیلانے والے نغرین : ہم چھوڑ دیں گے۔ ہم مسلط کردیں گے لا یج اور : ساتھ نہ رہیں گے ثقفوا : پائے گئے اخذوا : پکڑے گئے لن تجد : تو ہرگز نہ پائے گا تشریح : آیت نمبر 59 تا 62 دین اسلام کے تقریباً تمام احکامات میں ایک خاص تدریج ہے جو آہستہ آہستہ تکمیل تک پہنچتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کا پورا معاشرہ جہالتوں ، تاریکیوں ، زندگی کی بےاعتدالیوں اور کفر و شرک میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کو اصول زندگی سکھانے کے لئے تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن کریم نازل کیا گیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–62

(ف 1) شان نزول : جب منافق لوگ شریف عورتوں کو راستہ میں چھیڑا کرتے تھے اور جب ان منافقوں کو دھمکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ شریف مسلمان عورتوں کو تم کیوں چھیڑا کرتے ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے ان کو شریف جان کر نہیں چھیڑا بلکہ لونڈی جان کرچھیڑا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں پھر فرمایا کہ منافقوں کی ایک اور بھی ایذرسانی تھی وہ یہ کہ مدینہ میں طرح طرح کی خوفناک خبریں اڑا کر لوگوں کو پریشان کیا کرتے تھے کہ فلاں بادشاہ چڑھ کر آتا ہے وہ آکریوں قتل عام کرے گا، فلاں قوم آتی ہے ان سب کی نسبت فرمایا ہے کہ اگر یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلون میں بیماری ہے شک وشبہ یامرض زناکاری ہے اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–71

[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–62

ف 1: بات یہ تھی کہ اول اول چونکہ پردہ کارواج نہ تھا ۔ اس لئے مسلمان عورتیں ضروریات کی وجہ سے گھروں سے نکلتیں تو بدکار اور آوارہ لوگ ان کو چھیتے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسی حرکات کا کیوں ارتکاب کرتے ہو ۔ تو کہتے ہمیں غلط فہمی ہوئی ہم یہ سمجھے تھے کہ شائد غلام عورتیں ہیں ۔ لونڈیوں سے چھیڑ چھاڑ اس وقت اس قبیل کے لوگوں میں معیوب نہیں تھی ۔ اس پردہ کا یہ حکم نازل ہوا کہ امہات المومنین اور عام مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ کھلے منہ باندیوں کی طرح گھروں سے باہر نہ نکلا کریں ۔ بلکہ نکلیں تو گھونگھٹ نکال کر تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ یہ شریف پردہ دار خاتونیں ہیں ۔ لونڈیاں نہیں ہیں ۔ اور اس طرح ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

59۔ اے نبی آپ اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی بیویوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی چادریں اوپر سے اوڑھ کر تھوڑی سی منہ کے آگے لٹکا لیا کریں یعنی سر اور چہرہ چھپالیا کریں یہ طریقہ کار اختیار کرنے سے اور اس علامت سے ان کا متمیز ہوجانا اور ان کا پہچانا کانا قریب تر ہوجائے گا اور وہ ستائی نہ جائیں گی اور ان کی اخلاقی تکلیف نہ پہنچائی جاسکے گی اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ مدینہ کے اوباپ لوگ جب عورتیں باہر نکلتی تھیں تو ان کو چھیڑتے تھے اور ان کا مذاق بناتے تھے لونڈیوں کو تو بےباک ہو کر چھیڑتے مگر آزادعورتوں کو چھیڑتے ہوئے ذرا ڈرتے تھے کہ اس کو اگر چھیڑیں گے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی کسی ضرورت سے باہر نکلنا پڑے تو چادر سے سر اور چہرہ بھی چھپا لیا جاوے۔ 6۔ یعنی اس سر اور چہرہ کے ڈھانکنے میں جو بلا قصد کمی یا بےاحتیاطی ہوجاوے تو اس کو معاف کردے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور ایمان والیوں کو پردے کا حکم دیں 59 ۔ گزشتہ آیات میں عام مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذا پہنچانے کو حرام اور گناہ کبیرہ ہونا بیان کیا گیا اور خصوصاً نبی کریم ﷺ کو ایذا دیناکفر اور موجب لعنت بتایا گیا تھا خیال رہے کہ منافقین کی طرف سے دو طرح کی ایذائیں سب مسلمانوں کو اور نبی اعظم وآخر ﷺ کو پہنچتی تھیں ایک یہ کہ منافقین میں سے عوام اور آوارہ قسم کے لوگ نوجوان لڑکیوں کو جب وہ اپنے کام کاج کے لئے باہر نکلتیں تو اکثر ستایا کرتے اور جب چار یاری میں بیٹھتے تو ان عورتوں کا ذکر بہت بےحیائی اور بےغیرتی کے ساتھ کرتے گویا جو کچھ اس وقت کے اوباش لوگ اور نئی روشنی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

Commentary The previous verses have maintained that causing pain to any Muslim, man or woman, is forbidden and is a major sin, and in particular, inflicting pain on the Holy Prophet ﷺ is an act of infidelity, liable to Allah's curse. Now, there were two kinds of pain caused by the hypocrites to all Muslims and to the Holy Prophet ﷺ . Preventive measures against these have been provided in the verses cited above. As a corollary, stated there are a few additional injunctions in a certain congruity to be unfolded later on. One of these two kinds of pain caused was at the hands of vagabonds from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

110 Jilbab is a large sheet and idna' is to draw close and wrap up, but when this word is used with the associating particle ala, it gives the meaning of letting something down from above. Some modern translators, under the influence of the West, have translated this word "to wrap up" so as to avoid somehow the Command about covering of the face. But if Allah had meant what these gentlemen want to consture, He would have said: yudnina ilai-hinna and not yudnina alai-hinna. Anyone who knows Arabic knows that yudnina 'alai-hinna cannot merely mean "wrapping up. " Moreover, the words min…

Read the full tafseer →