Explained with ayahs 57–58
ملعون و معذب لوگ۔
جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 109
یہ آیت بہتان کی تعریف متعین کردیتی ہے، یعنی جو عیب آدمی میں نہ ہو، یا جو قصور آدمی نے نہ کیا ہو وہ اس کی طرف منسوب کرنا۔ نبی ﷺ نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی کی روایت ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا غیبت کیا ہے ؟ فرمایا ذکر کا خاک بمَا یکرہ۔ " تیرا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار ہو۔ " عرض کیا گیا اور اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو۔ فرمایا ان کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتّہ۔ " اگر اس میں وہ عیب موجود ہے جو تو نے بیان کیا تو تو نے اس کی غیبت کی۔ اور اگر وہ اس میں نہیں ہے تو تو نے اس پر بہتان لگایا۔ " یہ فعل صرف ایک…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
سابقہ آیات میں مسلمانوں کو ان چیزوں پر تنبیہ کی گئی تھی جن سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا و تکلیف پہنچتی تھی، مگر کچھ مسلمان ناواقفیت یا بےتوجہی کی وجہ سے بلاقصد ایذاء اس میں مبتلا ہوجاتے تھے، جیسا کہ آپ کے بیوت میں بلا دعوت چلے جانا یا دعوت کے وقت سے پہلے آ کر بیٹھ جانا یا کھانے کے بعد آپ کے گھر میں باہمی بات چیت میں مشغول ہو کر دیر لگانا وغیرہ جس پر (آیت) یایہا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الآیہ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ یہ وہ ایذاء تھی جو بلاقصد و ارادہ غفلت سے پہنچ جاتی تھی، اس پر تو صرف تنبیہ کردینا کافی سمجھا گیا۔ مذکور الصدر دو آیتوں میں اس ایذاء و تکلیف کا ذکر ہے جو مخالفین اسلام…
Read the full tafseer →والذین یوذون المومنین والمومنت بغیر اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا (58)
اوپر کی آیات میں منافقین کا وہ رویہ زیر بحث آیا ہے جو انہوں نے خاص نبی ﷺ کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا۔ اب یہ عام مومنین و مومنات کو متہم کرنے کے لئے جو شرارتیں کر رہے تھے، وہ ان کی طرف اشارہ ہے۔ سورة نور کی تفسیر میں ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ ان منافقین کے دلوں پر ہی بات شاق تھی کہ مسلمانوں کو دوسرے تمام گروہوں کے مقابل میں غیر معمولی اخلاقی برتری حاصل ہے جو ان کی دعوت کو مقبولیت میں بڑے اہم عامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے حسد کے جنون میں اس کا توڑ یہ نکالا کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے خلاف بےسروپا الزامات…
Read the full tafseer →یعنی ان کو بدنام کرنے کے لیے ان پر بہتان باندھنا ان کی ناجائز تنقیص و توہین کرنا جیسے روافض صحابہ کرام ؓ پر سب وشتم کرتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں رافضی منکوس القلوب ہیں ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
46: جیسا کہ سورة نور : 31 میں گذر چکا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں، لہذا غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ضروری ہے، لیکن چونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ غیر مسلم عورتیں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتی تھیں، اس لئے امام رازی اور علامہ آلوسی نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اپنی عورتوں سے مراد اپنے میل جول کی عورتیں ہیں چاہے مسلمان ہوں یا کافر، ان سے پردہ واجب نہیں ہے۔ ان کی تفصیل سورة نور کی مذکورہ آیت میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →والذین یؤذون ۔۔۔۔۔۔ واثما مبینا (58) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مدینہ میں ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو اس طرح مومنین اور مومنات کو اذیت رسانی کے مشغلے میں مصروف تھا۔ مومنین کے بارے میں بری باتیں رات اور دن منسوب کی جاتی تھیں۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ، تہمتیں لگاتے ، جس طرح ہر زمان و مکان میں اسلامی تحریکات کے خلاف ہوا کرتا ہے۔ بدکار اور اشرار کے ہر معاشرے میں مومنین اور مومنات کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک ہوا ہے۔ مریض دل لوگ اور منافقین کا کسب ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اللہ نے مومنات کا دفاع یہاں اپنے ذمہ لیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ان کے دشمن جھوٹے اور جہنمی ہیں اور اللہ سے سچا اور کون ہو سکتا ہے۔
اس…
Read the full tafseer →7 یہ منافق تھے جو پیٹھ پیچھے بد گوئی کرتے رسول کی، آپ کی ازواج مطاہرات پر جھوٹے طوفان اٹھاتے جیسا کہ سورة " نور " میں گزر چکا۔ آگے بعض ایذاؤں کے انسداد کا بندوبست کیا گیا ہے جو مسلمان عورتوں کو ان کی طرف سے پہنچتی تھیں۔ روایات میں ہے کہ مسلمان مستورات جب ضروریات کے لیے باہر نکلتیں، بدمعاش منافق تاک میں رہتے۔ اور چھیڑ چھاڑ کرتے پھر پکڑے جاتے تو کہتے ہم نے سمجھا نہیں تھا کہ کوئی شریف عورت ہے۔ لونڈی باندی سمجھ کر چھیڑ دیا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 58{ وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا } ”اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو“
ان پر بےجا الزام لگاتے ہیں ‘ بہتان تراشی کرتے ہیں اور اس طرح کے دوسرے حربوں سے انہیں اذیت پہنچاتے ہیں۔
{ فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا } ”تو انہوں نے اپنے سر بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ لے لیا ہے۔“
واضح رہے کہ اس آیت کے نزول تک ”قذف“ زنا سے متعلق جھوٹی تہمت لگانا کی سزا کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لیے یہاں صرف اس جرم کی سنگینی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ‘ البتہ سورة…
Read the full tafseer →98 جب مسلمان عورتیں رات کو رفع حاجت کے لئے باہر نکلتیں تو کچھ اوباش لونڈے اور منافق ان سے بےہودہ قسم کی گفتگو اور چھیڑ چھاڑ کرتے اور جب ان سے باز پرس کی جاتی تو کہہ دیتے کہ ہم سمجھے یہ لونڈیاں ہیں۔ پھر کچھ منافق ایسے بھی تھے جو رسول اللہ کی پیٹھ پیچھے بدگوئی کرتے اور ازواج مطہرات پر بےہودہ قسم کے الزام تراشتے یہ سب قسم کے لوگ تہمت تراش اور بدترین قسم کے مجرم ہیں۔
Read the full tafseer →134۔ مسلمانوں کو اخلاق واعلی معاشرت کی تعلیم مل رہی ہے۔ (آیت) ” بغیر مااکتسبوا “۔ یعنی بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات کی ہو جس سے سزا وملامت کے واقعی مستحق ہوجائیں، اس قید کے لگ جانے سے تادیب وسیاست حسب قواعد شرعی کا جواز نکل آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
آیت نمبر 53 تا 58
ترجمہ : اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلابلائے) مت جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے دعوت کے طور پر آنے کی اجازت دیدی جائے تو اس طرح داخل ہوسکتے ہو کہ کھانے کی تیاری کے منتظر نہ رہو، اِنیٰ ، اَنیٰ یَانِی کا مصدر ہے، لیکن جب تم کو بلایا جائے تب جاتا کرو پھر جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور آپس میں باتوں میں دلچسپی لیکر بیٹھے نہ رہا کرو بلاشبہ اس بیٹھے رہنے سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تم کو چلے جانے کے لئے کہنے کے بارے میں تمہارا لحاظ کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بیان حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا یعنی حق بیان کرنے کو ترک نہیں کرتا، اور ایک قراءت میں…
Read the full tafseer →والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنت بغیر ما اکتسبوا . اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو
بے خطا دکھ دیتے ہیں۔ یعنی جو مؤمن مرد و عورت بےقصور ہوں ‘ کسی ایسے جرم کا انہوں نے ارتکاب نہ کیا ہو کہ ان کو دکھ پہنچانا لازم ہو یا ان کو جو لوگ اذیت پہنچاتے ہیں اور ان کو ناکردہ گناہ کے ساتھ متہم کرتے ہیں۔
فقد احتملوا بھتانًا واثمًا مبینًا . وہ بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار اپنے اوپر اٹھاتے ہیں۔
بُہْتَانًا اور اِثْمًا کی تنوین بہتان اور گناہ کی بڑائی کو ظاہر کر رہی ہے۔ مقاتل نے کہا : اس آیت کا نزول حضرت علی کے متعلق ہوا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ حضرت عائشہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
میں کہتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →اور جو لوگ مومن مردوں یعنی حضرت صفوان کو اور مومنہ عورتوں یعنی حضرت عائشہ پر سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ ایسا کام کیا ہوا افترا پردازی کرتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھائے۔ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ بد فعلی کیا کرتے تھے کہ جس سے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو تکلیف پہنچتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام سے روکا وہ رک گئے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا۔۔ : یعنی انھیں بدنام کرنے کے لیے ان کی طرف ایسے کاموں کی نسبت کرتے ہیں جو انھوں نے کیے ہی نہیں۔ یہ بہتان ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : ”اے اللہ کے رسول ! غیبت کیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ) ”تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ کہا گیا : ”یہ بتائیں اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (فَإِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہُ وَ إِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ مَا…
Read the full tafseer →مومنوں اور مومنات کو اذیت بھی قبیح افعال اور قبیح اقوال کے ساتھ ہوتی ہے، جس طرح گھڑا ہوا بہتان اور فحش تکذیب اس آیت کی مثل ہے جو سورة نساء میں ہے (آیت) ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ بریئا فقد احتمل بھتانا واثمامبینا (النساء) جس طرح یہاں فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اذیت سے مراد یہ ہے کہ اسے مذموم حسب کی وجہ سے یا مذموم پیشہ کی وجہ سے یا ایسی چیز کی وجہ سے جس کو جب سنے تو اس کے لیے بوجھ بنے، کیونکہ اس کو اذیت دینا فی الجملہ حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی اذیت میں اور مومنوں کی اذیت میں فرق کیا ہے پہلے کو کفر اور دوسرے کو گناہ کبیرہ بنایا ہے مومنوں کو اذیت دینے کے بارے…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی وابن سعد فی الطبقات وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین یوذون المومنین والمومنت سے مراد ہے کہ وہ لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اتری ہیں آیت بغیر ماکتسبوا جس کا انہیں علم نہیں ہوتا آیت فقد احتملوا بہتانا تو انہوں نے اٹھا لیا گناہ کو۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ خارش کی بیماری جہنم والوں پر ڈالی جائے گی وہ کھجلائیں گے یہاں تک کی ہڈیاں ظاہر ہوجائیں گی اور وہ کہیں اے ہمارے رب ! آپ نے ہم کو یہ تکلیف کیوں دی ؟ تو ان سے کہا جائے گا جو تم مسلمانوں کو تکلیفیں دیتے تھے۔
ادب سکھانے کے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ [اور جو لوگ تکلیف دیتے ہیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومن مردوں کو ] وَالْمُؤْمِنٰتِ [اور مومن عورتوں کو ] بِغَيْرِ مَا [اس کے بغیر جو ] اكْتَسَبُوْا [انہوں نے کمایا ] فَقَدِ احْتَمَلُوْا [تو انہوں نے بوجھ اٹھایا ہے ] بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا [بہتان اور کھلے گناہ کا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ایذا دینے والے اور تہمت لگانے والوں کا برا انجام
رسول اللہ ﷺ کے اکرام و احترام کا حکم دینے اور آپ پر صلوٰۃ وسلام بھیجنے کا حکم فرمانے کے بعد آپ کو تکلیف دینے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کردی۔ لعنت پھٹکار ڈالنے اور اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی لعنت کافروں ہی پر ہے۔ گو بعض معصیتوں پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔ (کن کن افراد پر لعنت وارد ہوئی ہے انہیں ہم نے چہل حدیث میں جمع کردیا ہے اس کا مطالعہ کیا جائے) اللہ تعالیٰ تاثر اور انفعال سے پاک ہے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
حکم وجوب صلاۃ وسلام وتحریم ایذاء خدا و رسول وایذاء عامہء اھل اسلام
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ وملئکۃ یصلون علی النبی۔۔۔ الی۔۔۔ فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان اور علو مقام کو بیان کیا اور ازواج مطہرات کے ادب اور احترام کو بیان کیا۔ اور شروع سورت میں بھی یہی مضمون تھا۔ النبی اولی بال مومنین من انفسہم وازواجہ امھاتہم۔ اب ان آیات میں پھر نبی کریم ﷺ کی جلالت شان ظاہر کرنے کے لئے صلاۃ وسلام کا حکم دیتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا حق یہ ہے کہ آپ ﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھا جائے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ وجود باجود حق جل شانہ کی رحمتوں اور عنایتوں کا ذریعہ ہے اور ملا اعلیٰ میں آپ ﷺ…
Read the full tafseer →61:۔ والذین یوذوان الخ، یہاں ایمان والوں کو ایذا دینے کی مذمت فرمائی جو لوگ مومن مروں اور عورتوں کو بلا وجہ اور بلا قصور ایذاء پہنچاتے ہیں وہ بہت بڑا گناہ اور صریح جرم اپنے ذمے لیتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر (علیہ السلام) اور مومنین و مومنات پر ناحق اور ناکردہ گناہ کا اتہام دھرتے ہیں وہ صریح گناہ کرتے ہیں ای ینسبون الیھم ما ھم برء اء منہ لم یفعلوہ و لم یعملوہ (ابن کثیر ج 3 ص 517) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضور نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا ذکر تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے نبی پر خصوصی رحمت فرماتا ہے اور فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ، لہٰذا اے ایمان والو ! تم بھی اپنے نبی پر درود وسلام کے پھو ل نچھاور کیا کرو۔ اور اس کام کے لئے نبی کے ادب و احترام اور خلوص نیت کو ملحوظ خاطر رکھو۔ اس سے پہلے حضور ﷺ کے گھر میں داخلے اور کھانا کھانے کے آداب بیان ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ امتی کا نکاح ہمیشہ کے لئے حرام قرار دیا گیا ، اور نبی (علیہ السلام) کو قولی ، فعلی ، ذہنی ، جسمانی ہر قسم کی اذیت پہنچانے سے منع کیا گیا۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا 5 8ۧ
أذي
الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ، قوله تعالی:
فَآذُوهُما [ النساء/ 16] إشارة إلى الضرب، ونحو ذلک في سورة التوبة : وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ : هُوَ أُذُنٌ [ التوبة/ 61] ، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 61] ، ولا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسی […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
اس کے بعد حضرت ﷺ کو ایذا دینے والوں کی سزا بیان فرماتا ہے۔ ان الذین یوذون اللہ و رسولہ الخ کہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو آخرت میں ذلت کا عذاب ہوگا اور آپ کے ساتھ متبعین کا بھی رتبہ بیان فرماتا ہے۔ والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات الخ کہ وہ جو ناحق مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں، ان پر بہتان لگتے ہیں اور صریح گناہ کا بار اٹھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِمَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِاحْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا۔ (الاحزاب : 58)
(اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان چیزوں کے بارے میں ایذا دیتے ہیں جن کا انھوں نے ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ )
مدینہ میں منافقین اور چھپے دشمن جس طرح آنحضرت ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کو مختلف اذیتیں پہنچاتے تھے تاکہ آپ مسلمانوں کی مناسب تعلیم و تربیت کا اہتمام نہ کرسکیں اور یکسو ہو کر اسلامی مقاصد کو آگے نہ بڑھا سکیں۔ اسی طرح وہ مسلمان معاشرے میں ابتری پیدا کرنے کے لیے مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ایک طرف اپنے محبوب پیغمبر ﷺ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور دوسری جانب ان لوگوں پر پھٹکار کرتا ہے جو نبی اکرم ﷺ کی گستاخیاں کرتے ہیں۔
اس فرمان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کبریاء کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ” اللہ “ کو تکلیف دیتے ہیں ” اللہ “ ان پر لعنت پھٹکار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ” فِیْ نَفْسِہٖ “ کوئی چیز تکلیف نہیں دے سکتی۔ بالفرض کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی باغی اور سرکش ہوجائے تو رائی کے دانے سے ہزاروں گنا کم بھی اللہ تعالیٰ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ وہ کا ئنات کی خیر وشر سے کامل اور اکمل طور پر بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تکلیف…
Read the full tafseer →ایمان والوں کو ایذاء کی ممانعت :
58: وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (اور وہ لوگ جو ایمان والے مردوں اور مؤمنات کو) بِغِیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا (بغیر اس کے کہ وہ کچھ کرتے ایذاء پہنچاتے ہیں)
نکتہ : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ایذاء کو بلا قیدذکر کیا تو مؤمنوں اور مؤمنات کی ایذاء کو مقید فرمایا کیونکہ وہ تو ہمیشہ ناحق ہوتی ہے اور یہ کبھی حق سے ہوتی ہے جیسے حدودو تعزیرات میں اور کبھی ناحق اس لئے مقید کرنے کی ضرورت پڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ ان منافقین کے متعلق اتری جو علی مرتضی ؓ کو ایذاء دیتے تھے اور ان کو وہ کلمات سنا کر کرتے تھے۔ قول دیگر یہ ہے ان زانیوں کے متعلق…
Read the full tafseer →58، والذین یئوذوالمؤمنین والمؤمنات بغیر مااکتسبوا، یا ایسا عمل جو ان کی اذیت کا مو جب نبے ۔ مجاہدکا بیان ہے کہ بغیر کسی جرم پر ان کے اوپر الزام لادینا۔ اس سے ان کو اذیت پہنچانا۔ ، فقد احتملوابھتا نا واثمامبینا ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی ؓ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
آیت کے شان نزول میں مختلف اقوال
ضحاک اور کلبی کا بیان ہے کہ آیت کا نزول ان زنا کاروں کے حق میں ہواجو منافق تھے ، راتوں کو مدینہ کے راستوں میں گھوما کرتے تھے۔ جب رات کو عورتیں قضائے حاجت کے لیے گھروں سے باہر نکل کر (جنگل کی طرف) جاتی تھیں تو راستہ میں یہ ان کوستا تے تھے۔ اگر عورتیں خاموش رہتی تھیں تو یہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
57‘ 58۔ یہ آیتیں ان لوگوں کے حق میں اتری ہیں جو پیٹھ پیچھے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو برا کہتے تھے اور جنہوں نے اللہ کے رسول کی بی بی حضرت عائشہ ؓ پر طوفان لگایا جس کا قصہ سورة تور میں گزر چکا ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیس نے فرمایا لوگ زمانہ کو برا کہہ کر مجھ کو ایذادیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے زمانہ کا برا ہو کہ ہمارے ساتھ اس نے ایسا اور ایسا کیا اس میں یہ لوگ دنیا کے کاموں کو زمانہ کی طرف نسبت کر کے اس کو برا کہتے تھے اور حقیقت میں ان کاموں کا کرنے والا اللہ ہے اس لیے وہ ناسمجھی سے گویا اللہ کو برا کرہتے تھے ‘…
Read the full tafseer →آیت 58
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی تعظیم اور آپ پر صلوۃ وسلام کا حکم دینے کے بعد، آپ کو اذیت پہنچانے سے منع کیا اور جو آپ کو اذیت پہنچائے اس کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے، چناچہ فرمایا : (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ) ” بیشک وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو “ یہ آیت کریمہ ہرق سم کی قولی و فعلی اذیت سب وشتم، آپ کی تنقیص، آپ کے دین کی تنقیص اور ہر ایسا کام جس سے آپ کو اذیت پہنچے، سب کو شامل ہے۔ (لعنھم اللہ فی الدنیا) ” ان پر دنیا میں اللہ کی پھٹکار ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں رحمت سے دور کر کے دھتکار دیا ہے۔ دنیا کے اندر ان پر لعنت یہ ہے کہ شاتم رسول کی حتمی سزا قتل…
Read the full tafseer →قول باری ہے (والذین یئوذون المومنین والمومنات بغیرما اکتسبو اور جو لوگ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایذا پہنچاتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو) ایک قول کے مطابق یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کا ذکر پہلی آیت میں اضمار کے طور پر ہوا ہے یعنی اللہ کے دوست اضمار کے بعد اللہ تعالیٰ نے اظہار یعنی اس کی صورت میں ان کا ذکر کردیا اور یہ بتادیا کہ یہی لوگ پہلی آیت میں مراد ہیں۔ اور یہ خبر دی کہ انہیں ایذا پہنچانے والے لوگ بہتان اور گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیتے ہیں اور اسی بنا پر وہ اس عذاب اور لعنت کے مستحق قرار پاتے ہیں جن کا پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے۔
Read the full tafseer →123 اہل ایمان کی ایذا رسانی حرام ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے اہل ایمان کی ایذا رسانی کے جرم اور اس کی سنگینی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو بغیر کسی جرم و قصور کے ایذا پہنچاتے ہیں تو یقینا انہوں نے ایک بہت بڑے بہتان کا بوجھ اٹھایا اور کھلے جرم و گناہ کا ارتکاب کیا "۔ سو اہل ایمان کی ایذا رسانی کا جرم نہایت سنگین جرم ہے اور اس کا انجام بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کی طرف کوئی ایسا جرم اور گناہ منسوب کرنا جو انہوں نے کیا نہ ہو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف مسلمان کو ایذا اور تکلیف پہنچانا حرام ہے۔ اور اس کی حرمت کتنی بڑی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
اللہ تعالیٰ رسول ﷺ اور مومنوں کو تکلیف دینے والے ملعون لوگ
تشریح : ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کررہے ہیں اور اس کے رسول کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر )
نیزان آیات میں ان لوگوں کے لیے بھی وعید ہے جو عام مومنوں مسلمانوں اور بالخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہ اتہامات لگا کر انہیں پریشان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
آیات 53 تا 58
اسرارومعارف
اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں بلا اجازت داخل مت ہوا کرو اگر آپ ﷺ کھانے کی دعوت پہ بلائیں تو بھی ادب یہ ہے کہ عین وقت پر جاؤ کہ وہاں کھانے کے انتظار میں بیٹھنا نہ پڑے اور ادھر ادھر مت دیکھو نہایت ادب و احترام سے جاؤ اور کھانا کھا کر فورا رخصت چاہو باتوں میں لگ کر مت بیٹھ رہو کہ یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں مگر اللہ ایسی باتوں کو صاف بیان فرما دیتا ہے کہ یہ فطری ناگواری بھی تمہارے لیے برکات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے اور حق بات اور سیدھا راستہ یہی ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے۔ ازواج النبی ﷺ سے بات کرنا ہو یا کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے…
Read the full tafseer →ف 4 جو عیب کسی شخص میں نہ ہو اسے اس کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے ( کما درد فی الحدیث) اور حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا سب سے برا سود ہے۔ یہ وعید سب سے زیادہ گروہ رافضہ (شیعہ) پر صادق آتی ہے جو صحابہ کرام پر طعن کرتے اور ان سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف و ستائش کی ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(33:58) بغیر ما اکتسبوا۔ با حرف جر ما موصولہ ہے۔ اکتسبوا صلہ۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب یہاں مومنین ومومنت کے لئے آیا ہے۔ اکتسب وکسب دونوں کسب سے مشتق ہیں۔ پہلا باب افتعال سے (اکتساب) مصدر اور دوسرا (باب ضرب) سے کسب مصدر۔ دونوں بمعنی کمانا۔ حاصل کرنا۔ فائدہ میں پانا کے ہیں۔
بعض نے کہا ہے کہ کسب سے مراد جو فعل خیر یا جلب نفع کے قبیل سے ہو اور اکتساب سے مراد ہر وہ نفع ہے جو انسان اپنی ذات کے لئے حاصل کرتا ہے بشرطیکہ اس کا حصول اس کے لئے جائز ہو۔ اول الذکر میں کامیابی و ناکامی کی صورت میں کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے، اور موخر الذکر میں ناکامی کی صورت میں وبال کرنے والے پر ہوگا۔
بعض کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 58
لا جناح : کوئی گناہ نہیں ہے
اتقین : ڈرتی رہیں
یصلون : رحمتیں بھیجتے ہیں۔ درود بھیجتے ہیں
سلموا : سلام بھیجو
تسلیما : خوب سلما بھیجنا
یوذون : تکلیف پہنچاتے ہیں
لعن : اس نے لعنت کی ۔ رحمت سے دور کیا
اکتسبوا : تم نے کمائی کی۔ تم نے کمایا
احتملوا : انہوں نے اٹھا لیا
بھتان : بہتان ۔ الزام
اثما مبینا : کھلا گناہ
تشریح آیت نمبر 55 تا 58
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کا بےانتہا ادب و احترام کرنے کے احکامات ارشاد فر مائے ہیں ۔ اور اس زمانہ کے رواج کے برخلاف یہ فرمایا تھا کہ جب تک ان کو گھروں پر آنے کی دعوت نہ دی جائے تو اس وقت تک وہ بغیر اجازت کے نبی کریم ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
منافقوں کا انجام اور عظمت صحابہ کرام علیہم الرضوان۔
(ف 2) آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے میرے صحابہ اجمعین کو ایذادی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذادی اس نے گویا اللہ کو ایذادی۔ اس حدیث کو ملا کر ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ جس کسی نے ناسمجھی سے اللہ تعالیٰ کے ایذا کی کوئی بات منہ سے نکالی، یا اللہ کے رسول یا، آپ کے صحابہ کے ایذا کی کوئی بات یا مسلمان مرد یا عورت پر جھوٹا کوئی بہتان لگایا توایساشخص اللہ کی رحمت سے دور قرار پاکر بڑا گناہ گار اور سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
[59] اللہ کو اذیت دینے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے اور دوسرے یہ کہ اس کے رسول کو اذیت دی جائے، کیونکہ جس طرح رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اسی طرح رسول ﷺ پر طعن اللہ پر طعن اور رسول ﷺ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔
Read the full tafseer →ف 2: اللہ تعالیٰ تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی عزت اور حرمت نہایت عزیز ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی شخص کسی مرد مسلمان کو ذلیل کرے ۔ کیونکہ مسلمان کی عزت اور حرمت سے کائنات کا نظام حیات قائم ہے ۔ مسلمان کی ذات کے معنے حق وصداقت کی تذلیل ہے ۔ اور خدا پرستوں کی ایسی جماعت کی تحفیر ہے ۔ جو کائنات میں امام ہیں اور ساری دنیا کی راہ نمائی جن کا دینی فرض ہے
حل لغات :۔ لعنھم ۔ یعنی خدا ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے ۔
Read the full tafseer →58۔ اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ایذا اور تکلیف پہنچاتے ہیں تو یقینا وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے اور اپنے اوپر بارلیتے ہیں ۔ اگر اذیت قولی ہو تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہو تو صریح گناہ کی بات ہے۔
ہو سکتا ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق حضرت علی ؓ کو برا کہنے والوں کے حق میں ہو یا حضرت عائشہ ؓ پر بہتان باندھنے والوں کے حق میں ہو یا کسی اور واقعہ کے متعلق ہو بہر حال بغیر کسی ایسے فعل کے جو قابل سزا ہو کسی مومن مرد اور مومن عورت کی ایذا رسانی ہو جب بہتان اور صریح گناہ ہے ، مسلمان تو کیا بلکہ کسی انسان کو بھی ایذا…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی اگر وہ ایذا قولی ہے تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہے تو مطلق گناہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کا حال
58 ۔ زیر نظر آیت نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے کی مزید وضاحت کردی کہ وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟ فرمایا جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو بغیر کسی قصور کے ستایا کرتے ہیں کبھی ان پر جھوٹی تہمتیں لگاتے ہیں ، کبھی ان کو ہنسی اور مذاق کا نشانہ بناتے ہیں ، راہ چلتے ان کی بےعزتی اور بےحرمتی کرتے ہیں اور کبھی ان کو زدوکوب کرتے ہیں وہ سن لیں اور یادرکھیں کہ وہ بہتان تراشی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہے ہیں۔ غور کرو کہ جب عام مسلمانوں کی دل آزاری کا یہ حکم ہے اور یہی دراصل اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینا ہے…
Read the full tafseer →Commentary
In the previous verses, Muslims were warned against doing what caused pain to the Holy Prophet ﷺ . But, some Muslims used to get involved into doing such things unintentionally simply because of their lack of knowledge or attention. For example, walking into his living quarters without having been invited or, in the event of an invitation to eat at the house, coming in and sitting there much earlier than the time set for it or, once the meals were over, just keep hanging at the house talking to each other and keep delaying their due departure. Upon this, a warning has been served…
Read the full tafseer →109 This verse determines the definition of slander. It is to ascribe a fault to a person which he does not have, or an error which he has not committed. The Holy Prophet also has explained it. According to Abu Da'ud and Tirmidhi, when he was asked as to what is ghibat (backbiting), he replied: 'It is to make mention of your brother in a manner derogatory to him. " The questioner said, "And if the fault is there in my brother?" . The Holy Prophet replied: `If the fault that you mentioned is there in him, you backbite him; if it is not there, you slandered him." Such an act is not only a moral…
Read the full tafseer →