Al-Ahzaab 33:57

Al-Ahzaab · from ayah 57

33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا

جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who abuse Allah and His Messenger - Allah has cursed them in this world and the Hereafter and prepared for them a humiliating punishment.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 7 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:57

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اُس نے ان کے لئے ذِلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت فرمائی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں لعنت کی اور ان کے لئے اس نے رسوا کن عذبا تیار کر رکھا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جو لوگ ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت (اور پھٹکار) ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت (کے اس ابدی جہاں) میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے ایک بڑا ہی رسواکن عذاب

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے عذاب ذلیل کرنے والا تیار کر رکھا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو } اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اور ان کے لیے اس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily those who cause annoyance to Allah and His Messenger - Allah has cursed them in this world and in the Hereafter and has prepared for them a humiliating chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, those who annoy Allah and His Messenger are cursed by Allah in this world and in the Hereafter, and He has prepared for them a humiliating punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, those who annoy Allah and His Messenger are cursed by Allah in this world and in the Hereafter, and He has prepared for them a humiliating punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who annoy Allah and His Messenger, Allah has cursed them in this world and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who malign Allah and His messenger, Allah hath cursed them in the world and the Hereafter, and hath prepared for them the doom of the disdained.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who abuse Allah and His Messenger - Allah has cursed them in this world and the Hereafter and prepared for them a humiliating punishment.

— Saheeh International

Those who annoy God and His Messenger will be condemned by God in this life and in the life to come. He has prepared for them a humiliating torment.

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) those who speak evil things of Allah and His Apostle, Allah has cursed them in this world and the here after, and He has prepared for them a chastisement bringing disgrace.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who annoy Allah and His apostle, --Allah hath cursed them in the world and the Hereafter, and hath gotten ready for them a torment Ignominious.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who annoy Allah and His Messenger - Allah has cursed them in this World and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating Punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–58

ملعون و معذب لوگ۔ جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 108 اللہ کو اذیت دینے سے مراد دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے، اس کے مقابلے میں کفر و شرک اور دہریت کا رویہ اختیار کیا جائے، اور اس کے حرام کو حلال کرلیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی جائے، اور رسول کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو (قصداً) ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے، اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ (ایسا کام) کیا ہو (جس سے وہ مستحق سزا ہوجاویں) ایذاء پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا (اپنے اوپر) بار لیتے ہیں (یعنی اگر وہ ایذاء قولی ہے تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہے تو مطلق گناہ ہی ہے)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ واعدلھم عذاب مھینا (57) یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو اللہ کے رسول کی دل آزادی اور توہین کے مرتکب ہو رہے تھے۔ فرمایا کہ رسول کو ایذا پہنچانا خود اللہ کو ایذا پہنچانا ہے۔ رسول خدا کا محبوب اور اس کا نمائندہ ہوتا ہے اور خدا اور اس کے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں تو جن کا رویہ اس کے خلاف ہوگا وہ لازماً خدا اور اس کے فرشتوں کے مخالف اور خدا کو ایذا پہنچانے والے ٹھہرے۔ ان کی اس حرکت کی پاداش میں ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی لعنت ہے۔ یہ دنیا بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ یہ امر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

57۔ 1 اللہ کو ایذا دینے کا مطلب ان کے افعال کا ارتکاب ہے جو وہ ناپسند فرماتا ہے ورنہ اللہ پر ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے ؟ جسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے (صحیح بخاری) یعنی یہ کہنا کہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کردیا یہ صحیح نہیں اس لیے کہ افعال اللہ کے ہیں زمانے یا فلک کے نہیں اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانا آپ کی تکذیب آپ کو شاعر کذاب ساحر وغیرہ کہنا ہے علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–58

46: جیسا کہ سورة نور : 31 میں گذر چکا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں، لہذا غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ضروری ہے، لیکن چونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ غیر مسلم عورتیں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتی تھیں، اس لئے امام رازی اور علامہ آلوسی نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اپنی عورتوں سے مراد اپنے میل جول کی عورتیں ہیں چاہے مسلمان ہوں یا کافر، ان سے پردہ واجب نہیں ہے۔ ان کی تفصیل سورة نور کی مذکورہ آیت میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–57

ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واعد لھم عذاب مھینا (56 – 57) اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں نبی کی تعریف کی جاتی ہے اور فرشتوں کی طرف سے درود کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کیا ہی عظیم مرتبہ ہے حضور ﷺ کا اللہ کے ہاں کہ یہ پوری کائنات آپ کے لیے دعا گو ہے۔ اس کے ذریعہ پوری کائنات منور ہوجاتی ہے اور اللہ کی جانب سے یہ ثنا اور تعریف ہوتی ہے اور جو باقی ہے اور ازلی اور ابدی ہے اور پوری کائنات اس کی ہمقدم ہے۔ اس نعمت اور تکریم سے بڑی اور نعمت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم انسانوں کے درودوسلام کا اللہ اور پوری کائنات کے درود وسلام سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 اوپر مسلمانوں کو حکم تھا کہ نبی کریم ﷺ کی ایذاء کا سبب نہ بنیں بلکہ ان کی انتہائی تعظیم و تکریم کریں جس کی ایک صورت صلوٰۃ وسلام بھیجنا ہے۔ اب بتلایا کہ اللہ و رسول کو ایذا دینے والے دنیا و آخرت میں ملعون و مطرود اور سخت رسواکن عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اللہ کو ستانا یہ ہی ہے کہ اس کے پیغمبروں کو ستائیں یا اس کی جناب میں نالائق باتیں کہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو“ یہ منافقین کا ذکر ہے۔ بعض دوسری مدنی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی منافقین کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ { لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًا } ”اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اور ان کے لیے اس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

97 اللہ اور اس کے رسول کو ایذا کی صورتیں :۔ اللہ کو دکھ پہنچانے کی کئی صورتیں ہیں۔ پہلی صورت شرک ہے کہ اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک بنا لیا جائے چناچہ ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آدم کا بیٹا مجھے سخت دکھ پہنچاتا ہے۔ جب کہتا کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دین اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سب لوگ فی الحقیقت اللہ اور اس کے رسول دونوں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جو رسول اللہ کو الزام تراشیوں اور طعن وتشنیع سے دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور ایسے مواقع رسول اللہ کی زندگی میں بکثرت آتے رہے۔ وہ لوگ حقیقتاً اللہ ہی کو دکھ پہنچاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

133۔ (قصدا) ظاہر ہے کہ قصد کے ساتھ رسول کو ایذاء پہنچانا صرف کافروں اور منافقوں کا کام ہوسکتا ہے۔ چناچہ آگے وعیدیں انہیں کے حق میں ہیں۔ جو مسلمان اپنی سادہ لوحی اور بےخیالی سے بلاارادہ ایذاء رسول کا سبب بن جاتے تھے ان کا ذکر اوپر گذر چکا۔ (آیت) ” اللہ ورسولہ “۔ ایذاء رسول کے ساتھ ایذاء الہی کو ضم کردینا ایذاء رسول کی اہمیت واشدیت کے اظہار کے لئے ہے۔ اللہ کو ایذاء پہنچانا یہی ہے کہ اس کی مرضیات کے خلاف عمل کئے جائیں ..... یا یوں کہا جائے کہ مقصود کلام ایذاء رسول ہے اور اللہ کے نام کے ساتھ عطف رسول کے اعزاز واکرام کیلئے ہے۔ ؛ اے یوذون رسول اللہ ﷺ وذکر اسم اللہ للتشریف (مدارک) اوعبر بایذاء اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–58

آیت نمبر 53 تا 58 ترجمہ : اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلابلائے) مت جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے دعوت کے طور پر آنے کی اجازت دیدی جائے تو اس طرح داخل ہوسکتے ہو کہ کھانے کی تیاری کے منتظر نہ رہو، اِنیٰ ، اَنیٰ یَانِی کا مصدر ہے، لیکن جب تم کو بلایا جائے تب جاتا کرو پھر جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور آپس میں باتوں میں دلچسپی لیکر بیٹھے نہ رہا کرو بلاشبہ اس بیٹھے رہنے سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تم کو چلے جانے کے لئے کہنے کے بارے میں تمہارا لحاظ کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بیان حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا یعنی حق بیان کرنے کو ترک نہیں کرتا، اور ایک قراءت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یؤذون اللہ . بیشک جو لوگ اللہ کو اذیت دیتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ان لوگوں مراد ہیں یہودی ‘ عیسائی اور مشرک۔ یہودی تو کہتے تھے : عُزَیْرُ ابْنَُ اَﷲِ اور یَدُ اللہ مَغْلُوْلَۃٌ اور اِنَّ اللہ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِییَآء اور عیسائی کہتے تھے : الْمَسِیْحُ ابْنُ اللہ اور کہتے تھے : اِنَّ اللہ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ اور مشرک کہتے تھے : ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور بت (معبود ہونے میں) اللہ کے ساجھی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : آدم کے بیٹے نے میری تکذیب کی اور اس کو ایسا کرنا جائز نہ تھا اور آدم کے بیٹے کے مجھے گالی دی اور اس کیلئے یہ جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں قتل و جلا وطنی اور آخرت میں دوزخ کے ساتھ عذاب دیتا ہے جس میں یہ ذلیل کیے جائیں گے یہ آیت کریمہ یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : قرآن مجید میں وعدہ و وعید اور ترغیب و ترہیب دونوں کا تذکرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کی عظمت، شان اور ان کے پاس آپ کی مدح و ثنا کے حوالے کے ساتھ ایمان والوں کو آپ کی مدح و ثنا اور آپ پر صلاۃ وسلام کا حکم دینے کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو مدح و ثنا کے بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں۔ فرمایا ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مراد ان لوگوں سے منافقین ہیں، جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اذیت دینے سے کیا مراد ہے ؟ علماء میں سے جمہور نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے ساتھ کفر کرنا، بیوی، بچے اور شریک کو اس کی طرف منسوب کرنا اور اس کی ایسی صفت ذکر کرنا جو اس کے شایان نہ ہو (3) ، جس طرح یہودی نے کہا : اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کے ہاتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ نصاری نے کہا : حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ نعوذباللہ۔ مشرکوں نے کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور بت اس کے شریک ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اسے یہ حق نہ تھا، اس نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ان الذین یؤذوان اللہ ورسولہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی ﷺ پر طعن کی تھی جب آپ صفیہ بنت حیی ؓ کو اپنے حرم میں لے آئے۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ہوئی جنہوں نے عائشہ ؓ پر تہمت لگائی اور نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جو آدمی مجھے اذیت دیتا ہے اور ان لوگوں کو اپنے گھر میں جمع کرتا ہے جو مجھے اذیت دیتے ہیں اسے میری طرف سے کون عذر پیش کرے گا یعنی میری صفائی دے گا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ 3۔ الحاکم نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اہل شام میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک جو لوگ ] يُؤْذُوْنَ [تکلیف دیتے ہیں ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ کو اور اس کے رسول کو ] لَعَنَهُمُ اللّٰهُ [ لعنت کی ان پر اللہ نے ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ [ دنیا اور آخرت میں ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [اور اس نے تیار کیا ان کے لئے ] عَذَابًا مُّهِيْنًا [ایک ذلیل کرنے والا عذاب ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–58

ایذا دینے والے اور تہمت لگانے والوں کا برا انجام رسول اللہ ﷺ کے اکرام و احترام کا حکم دینے اور آپ پر صلوٰۃ وسلام بھیجنے کا حکم فرمانے کے بعد آپ کو تکلیف دینے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کردی۔ لعنت پھٹکار ڈالنے اور اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی لعنت کافروں ہی پر ہے۔ گو بعض معصیتوں پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔ (کن کن افراد پر لعنت وارد ہوئی ہے انہیں ہم نے چہل حدیث میں جمع کردیا ہے اس کا مطالعہ کیا جائے) اللہ تعالیٰ تاثر اور انفعال سے پاک ہے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–58

حکم وجوب صلاۃ وسلام وتحریم ایذاء خدا و رسول وایذاء عامہء اھل اسلام قال اللہ تعالیٰ ان اللہ وملئکۃ یصلون علی النبی۔۔۔ الی۔۔۔ فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان اور علو مقام کو بیان کیا اور ازواج مطہرات کے ادب اور احترام کو بیان کیا۔ اور شروع سورت میں بھی یہی مضمون تھا۔ النبی اولی بال مومنین من انفسہم وازواجہ امھاتہم۔ اب ان آیات میں پھر نبی کریم ﷺ کی جلالت شان ظاہر کرنے کے لئے صلاۃ وسلام کا حکم دیتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا حق یہ ہے کہ آپ ﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھا جائے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ وجود باجود حق جل شانہ کی رحمتوں اور عنایتوں کا ذریعہ ہے اور ملا اعلیٰ میں آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60:۔ ان الذین الخ، یہ کفار و منافقین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے اللہ اور اس کے رسول کی ایذا سے مراد ہے کہ ان کے احکام کی مخالفت کی جائے اور ان کے ناپسندیدہ افعال و اعمال کا ارتکاب کیا جائے عبر بایذاء اللہ ورسولہ عن فعل ما لا یرضی بہ اللہ ورسولہ کالکفر (مدارک) ارید بالایذاء ارتکاب مالا یرضیانہ من الکفر وکبائر المعاصی مجاز لانہ سب او لازم لہ (روح ج 22 ص 87) ۔ لعنہم اللہ الخ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں اپنی رحمت و برکت سے محروم کر دے گا۔ اور ان کو آخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یا اللہ کی ایذا سے شرک کرنا اورحضور ﷺ کی ایذاء سے آپ کو ساحر و مجنون وغیرہ کہنا مراد ہے۔ قال الجمہور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–58

ربط آیات گزشتہ درس میں حضور نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا ذکر تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے نبی پر خصوصی رحمت فرماتا ہے اور فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ، لہٰذا اے ایمان والو ! تم بھی اپنے نبی پر درود وسلام کے پھو ل نچھاور کیا کرو۔ اور اس کام کے لئے نبی کے ادب و احترام اور خلوص نیت کو ملحوظ خاطر رکھو۔ اس سے پہلے حضور ﷺ کے گھر میں داخلے اور کھانا کھانے کے آداب بیان ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ امتی کا نکاح ہمیشہ کے لئے حرام قرار دیا گیا ، اور نبی (علیہ السلام) کو قولی ، فعلی ، ذہنی ، جسمانی ہر قسم کی اذیت پہنچانے سے منع کیا گیا۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِيْنًا۝ 57 أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ، قوله تعالی: فَآذُوهُما [ النساء/ 16] إشارة إلى الضرب، ونحو ذلک في سورة التوبة : وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ : هُوَ أُذُنٌ [ التوبة/ 61] ، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 61] ، ولا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسی [ الأحزاب/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–58

اس کے بعد حضرت ﷺ کو ایذا دینے والوں کی سزا بیان فرماتا ہے۔ ان الذین یوذون اللہ و رسولہ الخ کہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو آخرت میں ذلت کا عذاب ہوگا اور آپ کے ساتھ متبعین کا بھی رتبہ بیان فرماتا ہے۔ والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات الخ کہ وہ جو ناحق مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں، ان پر بہتان لگتے ہیں اور صریح گناہ کا بار اٹھاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا۔ (الاحزاب : 57) (بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے اس نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانے کا مفہوم اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتے یا اس کا سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بہت بلند ہے کہ اسے ایذا پہنچائی جائے۔ کوئی شخص اپنے اندر یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی تکلیف پہنچا سکے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–58

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ایک طرف اپنے محبوب پیغمبر ﷺ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور دوسری جانب ان لوگوں پر پھٹکار کرتا ہے جو نبی اکرم ﷺ کی گستاخیاں کرتے ہیں۔ اس فرمان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کبریاء کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ” اللہ “ کو تکلیف دیتے ہیں ” اللہ “ ان پر لعنت پھٹکار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ” فِیْ نَفْسِہٖ “ کوئی چیز تکلیف نہیں دے سکتی۔ بالفرض کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی باغی اور سرکش ہوجائے تو رائی کے دانے سے ہزاروں گنا کم بھی اللہ تعالیٰ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ وہ کا ئنات کی خیر وشر سے کامل اور اکمل طور پر بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تکلیف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفر کرنا ایذائے رسول ہے : 57: اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں) یوذون اللہ ورسولہ سے مراد رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینا ہے اور اسم الٰہی تشریف کیلئے ہے۔ نمبر 2۔ اللہ اور رسول کی ایذاء یہ مجازاً تعبیر ہے ایسے افعال کی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند نہ ہوں۔ مثلاً کفر اور انکار نبوت وغیرہ۔ دونوں کے متعلق مجازقرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کیلئے حقیقی ایذاء مانی جائے تو حقیقت و مجاز کا اجتماع ایک لفظ کے ماتحت لازم آئے گا اور یہ درست نہیں اس لئے مجاز ہی مراد لیا۔ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 57، ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیاوالا خرۃ واعدلھم عذابا مھینا ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے مراد ہیں یہودی عیسائی اور مشرک یہودی تو کہتے تھے، عزیز ابن اللہ اور یداللہ مغلولۃ اور، ان اللہ فقیرونحن اغنیاء ، اور عیسائی کہتے تھے، المسیح ابن اللہ، کہتے تھے، ان اللہ ثالث ثلثہ، اور مشرک کہتے تھے ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور بت اللہ تعالیٰ کے ساجھی ہیں۔ حدیث قدسی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرے بندے نے مجھے گالی دی ، اس نے کہا کہ اللہ کا بیٹا ہے حالا ن کہ میں اکیلا ہوں ، بےنیازہوں ، وہ ذات جو نہ جنا گیا اور نہ کسی کو اس سے جنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–58

57‘ 58۔ یہ آیتیں ان لوگوں کے حق میں اتری ہیں جو پیٹھ پیچھے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو برا کہتے تھے اور جنہوں نے اللہ کے رسول کی بی بی حضرت عائشہ ؓ پر طوفان لگایا جس کا قصہ سورة تور میں گزر چکا ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیس نے فرمایا لوگ زمانہ کو برا کہہ کر مجھ کو ایذادیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے زمانہ کا برا ہو کہ ہمارے ساتھ اس نے ایسا اور ایسا کیا اس میں یہ لوگ دنیا کے کاموں کو زمانہ کی طرف نسبت کر کے اس کو برا کہتے تھے اور حقیقت میں ان کاموں کا کرنے والا اللہ ہے اس لیے وہ ناسمجھی سے گویا اللہ کو برا کرہتے تھے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–57

آیت 56 ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کے کمال، اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں آپ کے بلند درجات، آپ کی بلند قدر و منزلت اور آپ کے ذکر رفیع کی طرف اشارہ ہے، چناچہ فرمایا : (ان اللہ وملٓئکتہ یصلن) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں اور ملا اعلیٰ کے سامنے اپنے نبی محمد ﷺ کی مدح و ثنا بیان کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ تمام فرشتے آپ کی مدح و ثنا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ (یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیماً ) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی اقتدا میں، آپ کے بعض حقوق کی جزا کے طور پر، اپنے ایمان کی تکمیل کے لئے، آپ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں) یعنی جو لوگ اللہ کے دوستوں اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کی ذات کو ایذا لاحق ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے مجازی طور پر اس کا اطلاق ہوا ہے کیونکہ مخاطبین کو یہ بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے جس طرح یہ قول باری ہے (واسئل القریۃ گائوں سے پوچھو) یعنی گائوں والوں سے پوچھو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

120 اللہ کو ایذا پہنچانے کا جرم اور اس کی سنگینی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو "۔ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ کفر و شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے۔ اور اس کی طرف اولاد کی نسبت کر کے، جیسا کہ یہود نے کہا کہ " عزیر اللہ کے بیٹے ہیں " اور نصاریٰ نے کہا کہ " حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں " اور مشرکین مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا وغیرہ۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوہ وغیرہ) ۔ اور صحیحین یعنی صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔ وہ زمانے کو گالی دیتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–58

اللہ تعالیٰ رسول ﷺ اور مومنوں کو تکلیف دینے والے ملعون لوگ تشریح : ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کررہے ہیں اور اس کے رسول کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ) نیزان آیات میں ان لوگوں کے لیے بھی وعید ہے جو عام مومنوں مسلمانوں اور بالخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہ اتہامات لگا کر انہیں پریشان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–58

آیات 53 تا 58 اسرارومعارف اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں بلا اجازت داخل مت ہوا کرو اگر آپ ﷺ کھانے کی دعوت پہ بلائیں تو بھی ادب یہ ہے کہ عین وقت پر جاؤ کہ وہاں کھانے کے انتظار میں بیٹھنا نہ پڑے اور ادھر ادھر مت دیکھو نہایت ادب و احترام سے جاؤ اور کھانا کھا کر فورا رخصت چاہو باتوں میں لگ کر مت بیٹھ رہو کہ یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں مگر اللہ ایسی باتوں کو صاف بیان فرما دیتا ہے کہ یہ فطری ناگواری بھی تمہارے لیے برکات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے اور حق بات اور سیدھا راستہ یہی ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے۔ ازواج النبی ﷺ سے بات کرنا ہو یا کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اللہ تعالیٰ کو ستانا کفر و شرک اور اس کی نافرمانی کرنا ہے اور رسول ﷺ کو ستانا یہ ہے کہ آپ ﷺ کو تکذیب و مخالفت کی جائے، ازواج ؓ و مطہرات پر طعن وتشنیع کیا جائے، صحابہ ؓ کے حق میں طعن کیا جائے۔ حدیث میں ہے :” من اذاھم فقد اذانی “ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 57–58

(33:58) بغیر ما اکتسبوا۔ با حرف جر ما موصولہ ہے۔ اکتسبوا صلہ۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب یہاں مومنین ومومنت کے لئے آیا ہے۔ اکتسب وکسب دونوں کسب سے مشتق ہیں۔ پہلا باب افتعال سے (اکتساب) مصدر اور دوسرا (باب ضرب) سے کسب مصدر۔ دونوں بمعنی کمانا۔ حاصل کرنا۔ فائدہ میں پانا کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ کسب سے مراد جو فعل خیر یا جلب نفع کے قبیل سے ہو اور اکتساب سے مراد ہر وہ نفع ہے جو انسان اپنی ذات کے لئے حاصل کرتا ہے بشرطیکہ اس کا حصول اس کے لئے جائز ہو۔ اول الذکر میں کامیابی و ناکامی کی صورت میں کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے، اور موخر الذکر میں ناکامی کی صورت میں وبال کرنے والے پر ہوگا۔ بعض کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–58

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 58 لا جناح : کوئی گناہ نہیں ہے اتقین : ڈرتی رہیں یصلون : رحمتیں بھیجتے ہیں۔ درود بھیجتے ہیں سلموا : سلام بھیجو تسلیما : خوب سلما بھیجنا یوذون : تکلیف پہنچاتے ہیں لعن : اس نے لعنت کی ۔ رحمت سے دور کیا اکتسبوا : تم نے کمائی کی۔ تم نے کمایا احتملوا : انہوں نے اٹھا لیا بھتان : بہتان ۔ الزام اثما مبینا : کھلا گناہ تشریح آیت نمبر 55 تا 58 اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کا بےانتہا ادب و احترام کرنے کے احکامات ارشاد فر مائے ہیں ۔ اور اس زمانہ کے رواج کے برخلاف یہ فرمایا تھا کہ جب تک ان کو گھروں پر آنے کی دعوت نہ دی جائے تو اس وقت تک وہ بغیر اجازت کے نبی کریم ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–58

منافقوں کا انجام اور عظمت صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ (ف 2) آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے میرے صحابہ اجمعین کو ایذادی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذادی اس نے گویا اللہ کو ایذادی۔ اس حدیث کو ملا کر ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ جس کسی نے ناسمجھی سے اللہ تعالیٰ کے ایذا کی کوئی بات منہ سے نکالی، یا اللہ کے رسول یا، آپ کے صحابہ کے ایذا کی کوئی بات یا مسلمان مرد یا عورت پر جھوٹا کوئی بہتان لگایا توایساشخص اللہ کی رحمت سے دور قرار پاکر بڑا گناہ گار اور سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 57–58

[59] اللہ کو اذیت دینے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے اور دوسرے یہ کہ اس کے رسول کو اذیت دی جائے، کیونکہ جس طرح رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اسی طرح رسول ﷺ پر طعن اللہ پر طعن اور رسول ﷺ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–57

پیغمبر ﷺ پر دود بھیجو 1: اس سے قبل کی آیتوں میں یہ بتایا تھا ۔ کہ پیغمبر ﷺ کا رتبہ اور مقام کس درجہ رفیع ہے ۔ اور کیونکر وہ اور اس کی ازواج مطہرات بدرجہ غایت احترام کی مستحق ہیں ۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ پیغمبر کا احترام صرف عالم ادنیٰ یا عالم تاسوت تک محدود نہیں ہے ۔ بلکہ ملاء اعلیٰ تک حضور ﷺ پر صلوٰۃ وبرکات کا تحفہ بھیجتے ہیں ۔ اس لئے تم پر بھی واجب ہے کہ اس کا احترام کرو ۔ اور اس پر رحمت اور سلام بھیجو ۔ اس آیت میں لفظ صلوٰۃ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ صلوٰۃ کے معنے برکت کے ہیں یعنی خدا اپنی برکات رسول ﷺ پر بھیجتا ہے اور فرشتوں کے درود کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ رسول ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

57۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول ﷺ کو ستانے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔ یہاں بھی اوپر کی طرح عموم مجاز ہے اللہ تعالیٰ کی ایذا رسانی سے مراد ان افعال کا ارتکاب ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور نا رضا مندی کا موجب ہوں ۔ قصدا ً کا لفظ تمہید میں میں نے عرض کیا کیونکہ اوپر جو باتیں گزری ہیں مثلاً ازواج مطہرات کا نان و نفقہ طلب کرنا یا کھانے کے بعد پیغمبر کے گھر میں باتیں کرنا وہاں مقصد ایذا نہ تھا اور اس آیت میں اس ایذا رسانی پر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر اللہ کی لعنت ہے اور ذلت کا عذاب 57 ۔ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانا کیا ہے ؟ بلا شبہ ایسا کام کرنا جس سے انسان چاہے وہ عام ہو یا خاص کو ایذا پہنچے اور یہ فطری امر ہے اور ایسا کام اللہ عزوجل کے ساتھ کرنا بھی ایذا پہنچانا ہے اگرچہ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی ایذا اس کو پہنچا سکے مطلب یہ ہے کہ فاعل کی طرف سے ایسا کام سرزد ہوگیا جس سے ایذا پہنچنا ایک فطری امر ہے تو کیا ایذا پہنچانے والے نے اپنی طرف سے ایذا پہنچادی اللہ تعالیٰ کو اگر ایذا نہیں پہنچی تو یہ اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ایذا پہنچا ہی نہیں سکتا۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–57

Commentary In verses previous to this, some peculiarities and distinctions of the Holy Prophet ﷺ were mentioned as an adjunct to which the command to observe Hijab was revealed while some injunctions of Hijab will also appear later on. In between, the present verse contains a command to do something for which all these peculiarities and distinctions have been instituted in his blessed person, that is, the recognition and expression of the greatness of the station of the Holy Prophet ﷺ as well as an invitation to imbibe into one's own self the virtues of reverence, love and obedience for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

108 "To trouble Allah" implies two things: That Allah should be disobeyed, that an attitude of disbelief and shirk and atheism be adopted with regard to Him, and that things made unlawful by Him be made lawful; and (2) that His Messenger be troubled, for just as obedience to the Messenger is obedience to Allah, so is opposition and disobedience of the Messenger opposition and disobedience of Allah.

Read the full tafseer →