Explained with ayahs 63–68
قیامت قریب تر سمجھو۔
لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی۔ اس کا علم حضور ﷺ کو ہے۔ آپ سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی ﷺ کی زبانی معلوم کروا دیا کہ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ سورة اعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکہ میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتدا سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) اور آیت میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
سورة الْاَحْزَاب 116
رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال عموماً کفار و منافقین کیا کرتے تھے۔ اور اس سے ان کا مقصد علم حاصل کرنا نہ تھا بلکہ وہ دل لگی اور استہزاء کے طور پر یہ بات پوچھا کرتے تھے۔ دراصل ان کو آخرت کے آنے پر یقین نہ تھا۔ قیامت کے تصور کو وہ محض ایک خالی خولی دھمکی سمجھتے تھے۔ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ اس لیے دریافت نہیں کرتے تھے کہ اس کے آنے سے پہلے وہ اپنے معاملات درست کرلینے کا ارادہ رکھتے ہوں، بلکہ انکا اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ اے محمد ﷺ ہم نے تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ کچھ کیا ہے اور آج تک تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہو، اب ذرا ہمیں بتاؤ تو سہی کہ آخر وہ قیامت کب برپا ہوگی جب ہماری خبر لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
خلاصہ تفسیر
یہ (منکر) لوگ آپ سے قیامت کے متعلق (منکرانہ) سوال کرتے ہیں (کہ کب ہوگی) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ اس (کے وقت) کی خبر بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو کیا خبر (کہ کب ہے، البتہ اجمالاً ان لوگوں کو جان رکھنا چاہئے کہ) عجب نہیں کہ قیامت ابھی واقع ہوجائے (کیونکہ جب کوئی وقت معین نہیں تو قریب زمانے میں اس کے واقع ہوجانے کا بھی احتمال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کا مقتضاء یہ تھا کہ یہ لوگ انجام سے ڈرتے اور اس کی تیاری میں لگتے، منکرانہ سوالات اور استہزاء سے بچتے۔
اور قیامت کو قریب فرمانے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قیامت ہر روز قریب ہی ہوتی جا رہی ہے، اور جو چیز سامنے سے آ رہی ہو…
Read the full tafseer →13۔ آگے کا مضمون۔ آیات 63۔ 73
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے قیامت کی یاددہانی فرمائی ہے کہ مجرد اس بنا کر کہ اس کا وقت پیغمبر نہیں بتاسکتے یا لوگوں کے مطالبہ پر اس کو دکھا نہیں سکتے اس کو مذاق سجھنا نہایت نا عاقبت اندیشا نہ روش ہے۔ وہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کے ظہور کا وقت اگرچہ اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن وہ آکے رہے گی اور اس دن کوئی کسی کا حامی و شفیع نہ بن سکے گا بلکہ ہر شخص اپنے اعمال اور اپنی ذمہ داریوں سے متعلق خود مسئول ہوگا۔ اس دن کسی کا یہ عذر نافع نہیں ہوگا کہ اس نے اپنے لیڈروں اور بڑوں کو پیروی کی اور انہوں نے اس کو گمراہ کیا۔
اس کے بعد مسلمانوں بالخصوص منافقین کو تنبیہ فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
61۔ 1 یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
50: جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کو پہلے خبردار کیا جاتا ہے پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 193 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، اس میں لوگوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو وہ قیامت کے بارے میں کرتے تھے اور قیام قیامت کے لیے مطالبے کرتے تھے بلکہ دراصل ان کو وقوع قیامت کے بارے میں شک تھا۔ جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ البتہ اس کا وقت بہت دور بھی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اچانک ہی تمہیں آلے اور تم غفلت میں ڈوبے رہو۔ اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جو وقوع قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے ہرگز مسرت بخش نہیں ہے۔ جب ان کے چہرے جہنم میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور اس وقت وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت پر سخت نادم…
Read the full tafseer →7 گویا قیامت کے وقت کی ٹھیک تعیین کر کے اللہ نے کسی کو نہیں بتلایا۔ مگر یہاں اس کے قرب کی طرف اشارہ کردیا۔ حدیث میں ہے کہ آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلی اٹھا کر فرمایا " انا والساعۃ کہا تین " (میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں) یعنی بیچ کی انگلی جس قدر آگے نکلی ہوئی ہے میں قیامت سے بس اتنا پہلے آگیا ہوں قیامت بہت قریب لگی چلی آرہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " شاید یہ بھی منافقوں نے ہتھکنڈا پکڑا ہوگا کہ جس چیز کا (دنیا میں کسی کے پاس) جواب نہیں وہ ہی بار بار سوال کریں۔ اس پر یہاں ذکر کردیا۔ " اور ممکن ہے پہلے جو فرمایا تھا۔ (لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ…
Read the full tafseer →آیت 63 { یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ } ”اے نبی ﷺ ! لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔“
{ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ } ”کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔“
{ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَـکُوْنُ قَرِیْبًا } ”اور تمہیں کیا معلوم ‘ شاید کہ قیامت قریب ہی آچکی ہو۔“
Read the full tafseer →104 چونکہ قیامت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور اس کا متعین وقت بتانا بھی مصلحت الٰہی کے خلاف ہے۔ لہذا اس کا وقت معین کسی کو نہیں بتایا گیا اور کافر اور منافق یہ سوال بار بار اس لئے کرتے رہتے تھے کہ انہوں نے مسلمانوں کو زچ کرنے کے لئے ایک شغل بنایا ہوا تھا۔ جس سے ان کی مراد محض پیغمبر اسلام اور دعوت اسلام کا مذاق اڑانا اور اضحوکہ بنانا ہوتا تھا اسے وہ محض ایک خالی خولی دھمکی سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →143۔ (کہ کب آئے گی) وقت قیامت سے متعلق یہ سوال، براہ طنز واعتراض منکروں کی زبان سے ہورہا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–68
آیت نمبر 59 تا 68
ترجمہ : اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور (دیگر) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی چادریں (یعنی گونگھٹ کرلیا کریں) جَلَابِیْبْ ، جِلْبَابٌ کی جمع ہے، مِلْحَفَۃٌ اس چادر کو کہتے ہیں جس کو عورت اوڑھتی ہے، یعنی جب اپنی حاجت کے لئے نکلا کریں تو چادر کے کچھ حصے کو اپنے چہروں پر لٹکالیا کریں، سوائے ایک آنکھ کے، یہ اس طریقہ سے جلدی پہچان لی جاتا کریں گی کہ یہ آزاد عورتیں ہیں، تو ان کو چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے، بےپردگی کے بارے میں ان سے جو کچھ اب تک (کوتاہی) ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں جبکہ وہ ستر کو اختیار…
Read the full tafseer →یسئلک الناس عن الساعۃ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں۔ یعنی قیامت کا مقررہ وقت دریافت
کرتے ہیں۔ یہ سوال مشرکوں کی طرف سے انکاری استہزاء کے طور پر تھا اور یہودیوں کی طرف سے عداوت کی وجہ سے یا بطور آزمائش تھا کیونکہ توریت اور تمام کتب الٰہیہ میں وقوع قیامت کا کوئی مقررہ وقت نہیں بتایا گیا۔
قل انما علمھا عند اللہ . آپ کہہ دیجئے کہ قیامت (کی تعیین) کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ یعنی قیامت کا علم اللہ نے نہ کسی نبی کو عطا کیا ‘ نہ فرشتہ کو (اس کے سوا کسی کو معلوم نہیں) ۔
وما یدریک . اور (جب اللہ نے نہیں بتایا تو) کون چیز آپ کو بتاسکتی ہے۔
لعل الساعۃ تکون قریبًا . شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو۔ وہ…
Read the full tafseer →یہ لوگ آپ سے قیام قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ اس وقت کی خبر تو بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو اس کی کیا خبر کیا عجب کہ قیامت جلد ہی واقع ہوجائے۔
Read the full tafseer →يَسْـَٔـــلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ : قرطبی نے فرمایا : ”ان سوال کرنے والوں سے مراد وہی پیغمبر کو ایذا دینے والے، دل کے بیمار، منافق اور جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ ہیں، جن کا پیچھے ذکر ہوا، جب ان کو عذاب مہین سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے ”اَلسَّاعَۃُ“ عذاب کی وہ گھڑی، یعنی قیامت کب ہے ؟ مقصد ان کا پوچھنا نہیں تھا، بلکہ اس کا انکار اور مذاق اڑانا اور پیغمبر کو لاجواب کرنا تھا کہ انھیں اتنا بھی علم نہیں کہ قیامت کب ہوگی۔“ دیکھیے سورة اعراف (187) ، طٰہٰ (15) ، نمل (66) ، نازعات (42 تا 44) اور سورة ملک (25 تا 27) وغیرہ۔rnۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ : یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے…
Read the full tafseer →(آیت) یسئلک الناس عن الساعۃ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے والوں کو جب عذاب کی دھمکی دی گئی تو انہوں نے قیامت کے بارے میں سوال کیا، ان کے سوال کا مقصود اس امر کو بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا تھا، وہ یہ وہم دلانا چاہتے تھے کہ یہ امر وقوع پزیر نہیں ہوگا۔
(آیت) قل انماعلمھاعنداللہ ان کے سوال کا جواب دیجئے اور کہہ دیجئے : اس کا علم اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے وقت کو مخفی رکھا ہے تو یہ میری نبوت کو باطل کرنے والا نہیں اور نبی ہونے کی یہ شرط نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے بغیر غیب جانے۔ (آیت) ومایدریک کس نے آپ کو آگاہ کیا (آیت) لعل الساعۃ تکون قریبا ممکن ہے قیامت قریب ہی زمانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
1۔ ابن المنذر وابن نعیم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی آیت ومایدریک کے ضمن میں یہ بات ذکر کی گئی جو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے رسول اللہ ﷺ کو نہیں بتایا اور جہاں وما یدریک کے ضمن میں بات ذکر کی تو وہ بات نبی اکرم ﷺ کو بتادی ہے۔
Read the full tafseer →يَسْـَٔـــلُكَ [پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] النَّاسُ [لوگ ] عَنِ السَّاعَةِ ۭ [اس گھڑی (قیامت) کے بارے میں ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] عِلْمُهَا [اس کا علم ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے پاس ہے ] وَمَا يُدْرِيْكَ [اور آپ ﷺ کیا جانیں ] لَعَلَّ [شاید ] السَّاعَةَ [وہ گھڑی ] تَكُوْنُ [ہو ] قَرِيْبًا [نزدیک ] ۔
نوٹ۔ 1: حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ فعل ادرٰ یُدری سے جن چیزون کے لیے فعل ماضی ادرٰ آیا ہے، رسول اللہ ﷺ ان چیزوں کے متعلق جانتے تھے۔ اور جن چیزوں کے لئے فعل مضارع یدری آیا ہے آپ ﷺ ان کے متعلق نہیں جانتے تھے۔ حضرت ابن عباس کے قول کی توجیہ یہ ہے کہ ما ادراک میں ادرٰ کو اگر…
Read the full tafseer →کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے وہ بھی دوزخ میں اپنے سرداروں پر لعنت کریں گے اور ان کے لیے دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے
کافروں اور منافقوں کے سامنے جب قیامت کا ذکر آتا تھا تو اس کے واقع ہونے کا انکار کرتے ہوئے یوں کہتے تھے۔ یہ تو بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں ارشاد فرمایا (اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ ) کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے، اس کے واقع ہونے کا وقت متعین کرکے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتایا نہ کسی فرشتہ کو نہ کسی نبی کو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واقع ہی نہ ہوگی، اس کا وقوع مقرر اور مقدر ہے، اس کے آنے میں دیر لگنا اور تمہارے سامنے واقع نہ ہونا اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
تہدید ووعید منافقین ومنکرین قیامت
مقرون بہ لعنت عذاب آخرت
قال اللہ تعالی۔ یسئلک الناس عن الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ والعنہم لعنا کبیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تہدید تھی آپ ﷺ جب کبھی منکرین حق کو آئندہ آنے والے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تو وہ بطور تمسخر یہ سوال کرتے کہ قیامت کب ہوگی اور اس قسم کے معاندانہ سوال سے محض آپ ﷺ کو تنگ کرنا اور ایذا دینا مقصود ہوتا تھا تو اس کا جواب دیا گیا کہ قیامت کا اصل وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن سمجھ لو کہ شاید وہ قریب ہی نہ ہو اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں اور دو انگلیاں ملا کر دکھلایا…
Read the full tafseer →65:۔ یسئلک الناس الخ، یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین ازراہ طنز و استہزاء سوال کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی فرمایا جواب میں کہہ دو آئے گی ضرور لیکن اس کے آنے کا معین وقت صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں تمہیں کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب اور ازواج مطہرات کے بارے میں احکام بیان فرمائے۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) پر درود وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچانے والوں کو ملعون ٹھہرایا اور انہیں عذاب کا مستحق قرار دیا۔ اسی طرح ایمان دار مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچانے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ ایسے لوگ بہتان طرازی کرتے ہیں اور بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے ازواج مطہرات ، حضور ﷺ کی بیٹیوں اور عام مومنہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم دیا اور غنڈہ گردی کرنے والے منافق قسم کے لوگوں کو تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ شرارتوں سے…
Read the full tafseer →يَسْـَٔـــلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ 0 ۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللہِ 0 ۭ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَكُوْنُ قَرِيْبًا 63
ساعة
السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187]
( س و ع ) الساعۃ
( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔
علم
العِلْمُ :…
Read the full tafseer →ترکیب : قریباً 1 ؎ ای شیئا قریبا و انتصابہ علی انہ خبر کان، قریب فعیل وھو اذاکان فی معنی المفعول کما فی ھذہ الایۃ فیستوی فیہ المذکر والمؤنث کما فی قولہ تعالیٰ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین فلا یقال قریبۃ۔ وقیل المعنی تکون الساعۃ عن قریب ای فی زمان قریب وانتصابہ علی الظرفیۃ والتذکیر لکون الساعۃ فی معنی الیوم او الوقت مع ان الساعۃ لیس مونثا حقیقیا، یوم ظرف فیقولون الرسولا لرعایۃ الفواصل۔
1 ؎ ولاحاجۃ اے التقدیر الشی الموصوف۔
تفسیر : آنحضرت ﷺ دنیاوی عذاب کے سواء قیامت کے عذاب سے بھی ان بدکاروں، سرکشوں کو خوف دلایا کرتے تھے، لیکن وہ بدبخت اس بات کو کب باور کرتے تھے۔ ہنسی اور تمسخر کی راہ سے…
Read the full tafseer →یَسْئَـلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَاللّٰہِ ط وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَـکُوْنُ قَرِیْبًا۔ (الاحزاب : 63)
(لوگ آپ سے قیامت کے وقت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کیا جانیں شاید قیامت قریب ہی آلگی ہو۔ )
وقت کے معلوم نہ ہونے سے قیامت کے حقیقت ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا
آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے بعض دفعہ کفار اور منافقین سوالات کی صورت میں بنیادی عقائد کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے انداز سے یہ بات سمجھ چکے تھے کہ اسلامی زندگی کی استواری کا بیشتر انحصار عقیدہ آخرت پر ہے۔ اگر اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں کے دلوں میں منافقت اور بےحیائی کی بیماری ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت پر بھی یقین نہیں رکھتے۔ اگر ان کا قیامت پر یقین ہو تو وہ بےحیائی اور منافقت سے باز آجائیں۔
اگر منافقین کا قیامت پر سچا ایمان ہو تو وہ ایسی حرکات سے اجتناب کریں۔ ان کا قیامت پر یقین نہیں ہے اس لیے یہ لوگ معاشرے میں بےحیائی پھیلاتے ہیں رسول معظم ﷺ سے بار بار سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی۔ اس پر آپ کو حکم ہوا کہ دلائل کے تکرار کی بجائے آپ اس موقعہ پر بس اتنا فرمائیں کہ قیامت کے برپا ہونے کا دن صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ انہیں یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ تمہیں کیا خبر ! کہ قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ جس طرح…
Read the full tafseer →بطورِ استہزاء وقت قیامت کا سوال :
63: یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ (آپ سے لوگ قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں) ۔ مشرکین رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے وقت کو دریافت کرتے اور جلد آنے کا بطور استہزاء مطالبہ کرتے اور یہودی بطور امتحان سوال کرتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تورات اور ہر کتاب میں عمومی بتلایا ہے پس اپنے رسول کو حکم فرمایا کہ ان کو جواباً فرمائیں کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ پھر اپنے رسول ﷺ کے سامنے واضح فرمایا کہ قیامت قریب الوقوع ہے اس سے جلدمطالبہ کرنے والوں کو دھمکادیا اور امتحان کرنے والوں کو خاموش کردیا۔ فرمایا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ وَمَایُدْرِیْکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
63، یسئلک الناس عن الساعۃ قل انما علمھا عند اللہ وما یدریک ، کوئی بھی قیامت کے قائم ہونے کے وقت کسی چیز کے متعلق کوئی نہیں جانتا۔ ، لعل الساعۃ تکون قریبا،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
63 تا 71۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہیں سنا نے کو جو لوگ گھڑی گھڑ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تم ان کو جواب دو کہ اس کا علم خدا کو ہے اور تم کو کیا خبر شائد قریب ہو جیسا اور جگہ فرمایا اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ نزدیک آیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے اور پھینک دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دھکتی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں اور نہ پادیں گے کافر کسی کو اپنا دوست اور مددگار جو عذاب سے ان کو چھوڑادے پھر فرمایا جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ چالے جاویں گے کہیں گے کاش ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
آیت 59
اس آیت کریمہ کو ” آیت حجاب “ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لئے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے، نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا : (یاھا الذین امنوا قوآ انفسکم واھلیکم ناراً (التحریم :6/66) ” اے مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کی آگ سے بچاؤ۔ “
(اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ (یدنین علیھن من جلا بیبھن) ” وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–73
قول باری ہے (لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم۔ اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کردیں گے) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے نفاق کے اظہار کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ نے (لنغرینک ) کے معنی ” لنحر شنک “ (ہم آپ کو ابھاردیں گے) بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ کے اندر آپ کے پڑوس میں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
130 قیامت ایک اٹل حقیقت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کوئی مانے نہ مانے قیامت بہرحال ایک اٹل حقیقت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں "۔ اس سوال سے مقصود ان کا واقعۃً پوچھنا اور جاننا نہیں تھا بلکہ اس سے ان لوگون کا مقصود استعجاب واستبعاد اور وقوع قیامت کی حقیقت کبریٰ کی تکذیب اور اس کا استہزا اور مذاق اڑانا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ مذاق اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ آخر قیامت آتی کیوں نہیں۔ کب سے اس کے بارے میں سنتے چلے آرہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف اشرار و مفسدین کو جب قیامت کے بارے میں ڈرایا اور خبردار کیا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے کہ ہم نہ…
Read the full tafseer →قیامت کب آئے گی
تشریح : اس آیت میں قیامت کا ذکر ہے رسول اللہ ﷺ دنیاوی عذاب کے سوا قیامت کے عذاب سے بھی ان بدکاروں، سرکشوں، منافقوں کو خوف دلایا کرتے تھے لیکن یہ ڈھیٹ لوگ مذاقاً پوچھتے ہیں کہ ” بھئی تمہاری قیامت کب آئے گی ؟ “ تو اللہ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ ” اس کی خبر تو اللہ ہی کو ہے۔ تو آپ کیا جانے شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو “۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی لوح محفوظ یعنی گرینڈ کمپیوٹر میں محفوظ کر رکھا ہے۔ اس کے مطابق اپنے وقت مقررہ پر آجائے گی اور جب وہ آجائے گی تو پھر ذرا سی بھی مہلت نہ ملے گی یہ سب کچھ اتنا اچانک اور فوراً ہوگا کہ کوئی سمجھ نہ سکے گا۔ اور اس کا پتہ لگانا کہ کب آئے گی ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–68
آیات 59 تا 68
اسرار ومعارف
آپ ﷺ کی بیٹیاں چار تھیں صرف ایک نہ تھی یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا :
اے نبی اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین سے فرما دیجیے کہ وہ جب باہر نکلا کریں تو چادر لے کر اس کا ایک حصہ سر سے چہرے پر سرکا لیا کریں یہاں قرآن حکیم نے بھی بنات یعنی بیٹیاں جمع کہ کر حکم دیا ہے روافض کا کہنا کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی تھی باطل ہے۔ اور پردہ شرعی کی وضاحت فرمادی کہ مقصد نمائش اور وجود کو ڈھکنا اور لوگوں کی نگاہوں سے بچانا ہے لہذا خواتین چادر لے کر نکلیں اور اسے سر سے تھورا سا منہ پہ کھینچ لیا کریں۔ یہ اس لیے بھی کہ مومن خاتون کی پہچان رہے اور وہ غلام عورتوں یا غیر مسلم خواتین…
Read the full tafseer →ف 2 مفسرین کہتے ہیں کہ یہ سوال کرنیوالے وہی منافق اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے اور پیغمبر کو ایذا دینے والے لوگ تھے جب ان کو عذاب کی دھمکی دی گئی تو وہ بطور استہزاء اور تکذیب کے سوال کرنے لگے۔ ( قرطبی، شوکانی)3 یعنی اگر قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے مجھ سے مخفی رکھا ہے تو اس سے میری صداقت پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ نبی ہونے کی یہ شرط ہی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے تعلیم کے بغیر غیب دان بھی ہو۔4 اس میں ان کے لیے وعید ہے کہ قیامت یقینا آئے گی اور اس کا وقت کچھ دور نہیں ہے۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی اٹھا کر فرمایا :” بعثت انا والساعۃ کھاتین “ کہ میری بعثت اور قیامت ان دو…
Read the full tafseer →(33:63) الساعۃ۔ القیامۃ۔ ما یدریک۔ ما موصول استفہامیہ ۔ موضع رفع میں مبتدا یدریک خبر۔ مضارع واحد مذکر غائب ادراء مصدر (افعال) درء مادہ۔ ثلاثی مجرد میں باب ضرب سے آتا ہے ۔ (مصدر۔ درایۃ) ادراء بتلانا۔ آگاہ کرنا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر تجھے کون بتلائے تجھے کون چیز اطلاع دے۔ بمعنی تجھ کو کیا معلوم ۔ تجھے کوئی چیز نہیں سمجھا سکتی۔ تو کیا جانے :
لعل۔ شاید۔ قریبا۔ ای فی وقت قریب۔ یعنی شاید (روز قیامت ) قریب الوقت ہی ہو ۔ آنے ہی والا ہو۔ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور اس طرع کا استعمال کلام عرب میں اکثر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 68
ما یدری : (تجھے) کیا خبر ہے ؟
سعیر : جہنم۔ بھڑکتی آگ
تقلب : الٹ پلٹ دی جائے گی
یلیتنا : اے کاش کہ ہم
اطعنا : ہم نے اطاعت کی
سادتنا : ہمارے بڑے ۔ ہمارے سردار
ضعفین : دوگنا۔ دوہرا
العن : لعنت کر۔ رحمت سے دور کردے
کبیر : بڑا
تشریح : آیت نمبر 63 تا 68
کفار ومشرکین کو جب قیامت کے ہولناک دن سے ڈرایا جاتا تھا وہ قیامت کا کچھ علم رکھنے کے باوجود ڈھیٹ بن کر نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے تھیے کہ تم جس قیامت کا بار بار ذکر کرکے ہمیں ڈراتے ہو وہ قیامت آخر کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
(ف 1) شان نزول :
مشرکین جو تمسخر و استہزاء اور ستانے کے طور پر گھڑی گھڑی اے محبوب ﷺ تم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے ہیں گویا کہ ان کو بہت ہی جلدی ہے اور یہودی اس کو امتحانا پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو حکم فرامایا اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ صحیح بخاری ومسلم کو حضرت عائشہ عنہا کی حدیث ہے کہ جب لوگ اللہ کے رسول سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تو آپ ایک نوعمر لڑکے کی طرف نظرڈال کر یہ فرمادیا کرتے کہ اس لڑکے کے بوڑھا ہونے سے پہلے موجود لوگوں میں سے اکثر لوگ مرجائیں گے اور مرنے کے ساتھ ہی ان میں سے ہر ایک کو اپنا قیامت کا انجام معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
ف 2: یعنی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا علمصرف جناب باری کو و ہے کسی انسان کو ان سے بہرہ ور نہیں کیا گیا ۔ اس لئے اگر حضور ﷺ قیامت کے متعلق نہیں جانتے کہ اس کا ظہور کب ہوگا ۔ تو یہ ان کے منصب نبوت کے منافی نہیں ۔ کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور خود انسانی مصالح کا تقاضا ہے ۔ کہ اس کو فطرت کے بعض اسراء سے ناآشنا کیا جائے ۔ ورنہ ہمہ دانی کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ زندگی گزارنا دشوار ہوجائے اور دنیا الم وافسوس کا جہنم زاد بن جائے ۔
یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو دنیا میں اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے محروم تھے اور مشائخ و کبار کی اندھی عقیدت میں مبتلا تھے ۔ یہ اس وقت محسوس کرینگے کہ ان لوگوں نے ان…
Read the full tafseer →63۔ اے پیغمبر یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں یعنی یہ کہ وہ کب واقع ہوگی آپ فرما دیجئے کہ قیامت کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور آپ کو اس کی کیا خبر کہ وہ کب ہے شایدوہ قیامت قریب ہی آ لگی ہو ۔ یہ سوال آنحضرت ﷺ سے بطور استہزا اور بطور مذاق اکثر کیا گیا ہے یہاں بھی شاید ان منافقوں نے جن کا ذکراوپر ہوا ہے انہوں نے کیا ہو۔
بہرحال ! سوال کا مطلب صاف ہے کہ بتائو تم قیامت کا خوف بہت دلایا کرتے ہو آخر وہ کب آئے گی اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسکے واقع ہونے کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے آپ کو اس کی کیا خبر کہ وہ کب واقع ہوگی اور جب آپ کو اس کے وقت کا علم نہیں اور اس کا آنا یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
ف 8۔ کہ خدا تو کوئی بات جاری کرنا چاہے اور کوئی اس کو روک سکے، پس سنة اللہ میں احتمال فعل الوقوع کا دفعیہ فرمایا دیا اور لن تجد میں احتمال بعد الوقوع کا دفعیہ فرمایا کہ جب وہ واقع کرنے لگے تو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، آپ ﷺ ان کو جواب دیں
63 ۔ مشرکین مخالفین ومعاندین کا شروع سے یہ رویہ آرہا ہے کہ جب ان کو قیامت کا نام لے کر ڈرایا گیا تو انہوں نے ہمیشہ آپ ﷺ کا مذاق اڑایا اور پھر مذاق ہی مذاق میں پوچھنا شروع کردیا کہ اچھا جناب ذرا یہ تو ارشاد فرمائیے کہ وہ قیامت جس کا ذکر آپ ﷺ بار بار کرتے ہیں وہ کب آئے گی ؟ کبھی کہتے کہ دیکھو آپ ﷺ ہم کو ڈرا رہے ہیں اور منع کر رہے ہیں کہ یہ اور یہ کام مت کرو ورنہ تم کو عذاب آلے گا پھر جس جس کام سے آپ ﷺ نے ہم کو روکا ہے ہم نے وہ ایک ایک کام کیا ہے اور کرتے ہی چلے آرہے ہیں پر وہ تمہارا بتایا ہوا عذاب آکیوں نہیں جاتا ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
Commentary
Those hostile to Allah and the Messenger were warned of and alerted to curse and punishment in the present world and in the Hereafter while many factions among the disbelievers, in their own place, simply denied the eventuality of any Qiyamah (Doomsday) or 'Akhirah (Hereafter) and, because of their denial, used to mockingly ask: When would that Qiyamah come? An answer to their question has been given in the cited verse, that the Doomsday may be in near future. It has been said so because nobody knows the exact date of the Doomsday, and therefore everyone should be prepared for it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
116 The Holy Prophet was generally asked this question by the disbelievers and the hypocrites. By this they did not mean to obtain any knowledge but they did so out of fun and jest. As a matter of fact, they did not believe in the coming of the Hereafter at aII; they regarded its concept as an empty threat only. They did not ask about the time of its coming so that they could set their affairs right, but what they really meant was : "O Muhammad, we have been doing everything to frustrate your mission, and you have not been able to do any harm to us so far; now Iet us know as to when will…
Read the full tafseer →