پردہ کی تفصیلات
چونکہ اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا تھا اس لئے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس آیت میں کردیا۔ سورة نور میں بھی اسی طرح فرمایا کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں، باپوں، سسروں، لڑکوں، خاوند کے لڑکوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، عورتوں اور ملکیت جن کی ان کے ہاتھوں میں ہو۔ ان کے سامنے یا کام کاج کرنے والے غیر خواہشمند مردوں یا کمسن بچوں کے سامنے۔ اس کی پوری تفسیر اس آیت کے تحت میں گذر چکی ہے۔ چچا اور ماموں کا ذکر یہاں اس لئے نہیں کیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے لڑکوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کریں۔ حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ تو ان دونوں کے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 102
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور حواشی نمبر 38 تا 42۔ اس سلسلے میں علامہ آلوسی کی یہ تشریح بھی قابل ذکر ہے کہ " بھائیوں، بھانجوں، اور بھتیجوں کے حکم میں وہ سب رشتہ دار آجاتے ہیں جو ایک عورت کے لیے حرام ہوں، خواہ وہ نَسَبی رشتہ دار ہوں یا رضاعی۔ اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ عورت کے لیے بمنزلۂ والدین ہیں۔ یا پھر ان کے ذکر کو اس لیے ساقط کردیا گیا کہ بھانجوں اور بھتیجوں کا ذکر آجانے کے بعد ان کے ذکر کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ بھانجے اور بھتیجے سے پردہ نہ ہونے کی جو وجہ ہے وہی چچا اور ماموں سے پردہ نہ ہونے کی وجہ بھی ہے "۔ (رعحالمعانی)
سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(آیت) ان تبدواشیئاً او تخفوہ فان اللہ کان بکل شئی علیماً ، آخر آیت میں پھر اس مضمون کو دہرایا گیا، کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے ارادوں اور خیالات سے بھی واقف ہے، تم کسی چیز کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ کے سامنے سب ظاہر ہی ہے۔ اس میں تاکید ہے کہ مذکور الصدر احکام میں کسی قسم کا شک و شبہ یا وسوسہ دل میں پیدا نہ ہونے دیں، اور احکام مذکورہ کی مخالفت سے بچنے کا پورا اہتمام کریں۔
آیت مذکورہ میں تین احکام بیان کئے گئے ہیں، ان میں عورتوں کے پردہ کا مسئلہ کئی وجہ سے تفصیل طلب ہے، اس لئے بقدر ضرورت لکھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →لا جناح علیھن فی ابائھن ولا ابنائھن ولا اخوانھن ولا ابناء اخوانھن ولا ابناء اخواتھن ولا نسائھن ولا ماملکت ایمانھن واتقین اللہ ان اللہ کان علی کل شئی شھیدا (55)
یہ آیت اسی محل میں ہے جس محل میں سورة نور کی آیت 31 :’ ولا یبدین زینتھن الایۃ ‘ ہے۔ دونوں میں الفاظ بھی اکثر مشترک ہیں۔ اوپر والی آیت میں ازواجِ نبی ؓ کے گھروں میں دوسروں کے داخل ہونے پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں سے جو لوگ مسثنی ہیں یہ ان کی تفصیل ہے۔ خاص ہم رشتوں کا ذکر کردیا ہے اور مقصود یہ ہے کہ جو رشتہ دار ان کے حکم میں داخل ہیں وہ سب اس پابندی سے مستثنی ہیں۔ ان کے اوپر صرف وہی پابندیاں ہوگی گی۔ جو سورة نور میں مذکور…
Read the full tafseer →55۔ 1 جب عورتوں کے لئے پردے کا حکم نازل ہوا تو پھر گھروں میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے جانے والے رشتے داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں ؟ چناچہ اس آیت میں ان اقارب کا ذکر کردیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں۔ اس کی تفصیل (وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
46: جیسا کہ سورة نور : 31 میں گذر چکا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں، لہذا غیر مسلم عورتوں سے بھی پردہ ضروری ہے، لیکن چونکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ غیر مسلم عورتیں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتی تھیں، اس لئے امام رازی اور علامہ آلوسی نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اپنی عورتوں سے مراد اپنے میل جول کی عورتیں ہیں چاہے مسلمان ہوں یا کافر، ان سے پردہ واجب نہیں ہے۔ ان کی تفصیل سورة نور کی مذکورہ آیت میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →لاجناح علیھن ۔۔۔۔۔ کل شئ شھیدا (55) ” “۔
یہ وہی محرم ہیں جن کے سامنے تمام مسلمان عورتوں کو حجاب نہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان دو آیات میں سے کون سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ یعنی یہ آیت جو ازواج نبی کے ساتھ مخصوص ہے یا سورة نور کی وہ عام آیت جو تمام مسلم عورتوں کے لیے ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ پہلے حکم ازواج مطہرات کے لیے آیا اور پھر عام مسلم عورتوں کے لیے اور یہ اللہ کی طرف سے فرائض عائد کیے جانے کے مزاج کے مطابق ہے۔
اس اجازت کو بھی خدا کے خوف کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کو ذہن میں رکھنا ایسے مقامات پر بالعموم زکوہ ہوتا ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →3 اوپر ازواج مطہرات کے سامنے مردوں کے جانے کی ممانعت ہوئی تھی۔ اب بتلا دیا کہ محارم کا سامنے جانا منع نہیں۔ اس بارے میں جو حکم عام مستورات کا سورة " نور " میں گزر چکا وہ ہی ازواج مطہرات کا ہے۔ " وَلَا نِسَاۗىِٕـهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ " کی تشریح ہم سورة " نور " میں کرچکے ہیں وہاں مطالعہ کرلیا جائے۔
4 یعنی پردہ کے جو احکام بیان ہوئے اور جو استثناء کیا گیا پوری طرح ملحوظ رکھو ذرا بھی گڑ بڑ نہ ہونے پائے۔ ظاہر و باطن میں حدود الٰہیہ محفوظ رہنی چاہئیں۔ اللہ سے تمہارا کوئی حال چھپا ہوا نہیں۔ یعلم خائنۃ الاعین وماتخفی الصدور
Read the full tafseer →آیت 55 { لاَ جُنَاحَ عَلَیْہِنَّ فِیْٓ اٰبَآئِہِنَّ } ”کوئی حرج نہیں اُن ازواجِ نبی ﷺ پر ان کے باپوں کے معاملے میں“
جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض اگر چاہیں تو اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ رض کے گھر میں آئیں یا حضرت عمرفاروق رض اپنی بیٹی حضرت حفصہ رض کے گھر میں آئیں ‘ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
{ وَلَآ اَبْنَآئِہِنَّ وَلَآ اِخْوٰنِہِنَّ } ”اور نہ کوئی حرج ہے ان کے بیٹوں کے بارے میں ‘ اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں“
{ وَلَآ اَبْنَآئِ اِخْوٰنِہِنَّ وَلَآ اَبْنَآئِ اَخَوٰتِہِنَّ } ”اور نہ ان کے بھائیوں کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کی بہنوں کے بیٹوں کے بارے میں“
{ وَلَا نِسَآئِہِنَّ وَلَا مَا مَلَکَتْ…
Read the full tafseer →94 کون کون سے رشتہ دار محرم ہیں ؟۔ اس آیت میں ان محرم رشتہ داروں کا ذکر ہے۔ جو نبی کے گھر میں آجاسکتے ہیں اور ان سے پردہ کی ضرورت نہیں۔ یا لونڈی غلام وغیرہ اور ان کی تفصیل پہلے سورة نور کی آیت 31 کے حواشی کے تحت گزر چکی ہے۔ پھر ان میں رضاعی رشتے بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پردہ کا حکم اترنے کے بعد ابو القُعَیْس کے بھائی افلح نے (جو میرے رضاعی چچا تھا) مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے جواب دیا کہ میں نبی اکرم سے پوچھے بغیر اجازت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ افلح کے بھائی ابو القعیس نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ اس کی بیوی نے پلایا تھا۔…
Read the full tafseer →131۔ (اس لئے ان تمام احکام کی نگہداشت لازمی ہے) اوپر ازواج رسول اللہ ﷺ کے حجاب کا حکم مذکور ہوچکا۔ اب بیان یہ ہوا کہ فلاں فلاں کے سامنے، باحجاب آجانا درست ہے۔ لیکن حصران میں مقصود نہیں۔ محرموں کا ذکر سورة النور (پ 18) میں بھی آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
آیت نمبر 53 تا 58
ترجمہ : اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلابلائے) مت جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے دعوت کے طور پر آنے کی اجازت دیدی جائے تو اس طرح داخل ہوسکتے ہو کہ کھانے کی تیاری کے منتظر نہ رہو، اِنیٰ ، اَنیٰ یَانِی کا مصدر ہے، لیکن جب تم کو بلایا جائے تب جاتا کرو پھر جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور آپس میں باتوں میں دلچسپی لیکر بیٹھے نہ رہا کرو بلاشبہ اس بیٹھے رہنے سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تم کو چلے جانے کے لئے کہنے کے بارے میں تمہارا لحاظ کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بیان حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا یعنی حق بیان کرنے کو ترک نہیں کرتا، اور ایک قراءت میں…
Read the full tafseer →لا جناح علیھن فی ابآءھن ولا ابنآءھن ولا اخوانھن ولا انبآء اخوانھن ولا ابناآء اخواتھن
ولا نسآءھن ولا ما ملکت ایمانھن واتقین اللہ ان اللہ کان علی کل شیء شھیدًا . نبی کی بیبیوں پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں سے (بےپرواہ باتیں کرنے میں) نہ اپنے بیٹوں سے ‘ نہ اپنے بھائیوں سے ‘ نہ اپنے بھتیجوں سے ‘ نہ اپنے بھانجوں سے ‘ نہ اپنی عورتوں سے ‘ نہ اپنے مملوک لوگوں سے ‘ اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر حاضر (ناظر) ہے۔
چچا اور ماموں کا ذکر آیت میں نہیں کیا کیونکہ بھتیجوں اور بھانجوں کا ذکر کرنے کے بعد دلالت النص سے چچا اور ماموں کا حکم معلوم ہوجاتا ہے کیونکہ بھتیجوں کے رشتہ سے امہات المؤمنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ازواج مطہرات پر اور عام مسلمانوں کی عورتوں پر اپنے باپوں کے سامنے آنے کے بارے میں اور بالمشافہ ان سے بات چیت کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور اسی طرح کوئی گناہ نہیں ہے، اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور بھانچوں اور اپنی عورتوں اور اپنی باندیوں کے سامنے آنے میں اور ان سے گفتگو کرنے میں۔
باقی ان تمام احکام کے پورے کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو وہ تمہارے تمام کاموں سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِيْٓ اٰبَاۗىِٕـهِنَّ۔۔ : یعنی ان رشتہ داروں کے سامنے آنے اور حجاب کے بغیر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے محرم رشتہ داروں کا بھی یہی حکم ہے، خواہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ پردے کے متعلق امہات المومنین کا حکم بھی وہی ہے جو عام مسلمان عورتوں کا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نور کی آیت (31) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ جب حجاب والی آیت نازل ہوئی تو آباء، ابناء اور قریبی رشتہ داروں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : ہم بھی ان سے حجاب کے پیچھے سے بات کریں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان افراد کا ذکر کیا ہے جن کے سامنے عورت ظاہر ہو سکتی ہے چچا اور ماموں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ دونوں والدین کے قائم مقام ہیں۔ چچا کو بھی اب کہہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت نعبد الھک والہ اباءک ابراھیم واسماعیل ( البقرہ : 133) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے چچا تھے۔ زجاج نے کہا : چچا اور ماموں بعض اوقات اپنی اولاد کے سامنے عورت کی صفت بیان کرتے ہیں، کیونکہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لا جناح علیہن فی اٰباء ہن خاص طور پر آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی اور نساء ہن سے مراد مسلمان عورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قول آیت ولا ما ملکت ایمانہن یعنی غلاموں اور باندیوں میں سے اور ان کے لیے رخصت دے دی گئی کہ وہ ان کو دیکھ سکتے ہیں حجاب کا حکم نازل ہو کے بعد بھی۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابوداوٗد نے اپنے ناسخ میں وابن جریر نے وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاجناح علیہن فی اٰباء ہن ان پر گناہ نہیں ہے ان کے باپوں کے بارے میں یعنی جن رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ نبی…
Read the full tafseer →لَا جُنَاحَ [کوئی گناہ نہیں ہے ] عَلَيْهِنَّ [ان خواتین پر ] فِيْٓ اٰبَاۗىِٕـهِنَّ [اپنے باپوں (کے سامنے ہونے) میں ] وَلَآ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ [ اور نہ اپنے بیٹوں میں ] وَلَآ اِخْوَانِهِنَّ [اور نہ اپنے بھائیوں میں ] وَلَآ اَبْنَاۗءِ اِخْوَانِهِنَّ [اور نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں میں ] وَلَآ اَبْنَاۗءِ اَخَوٰتِهِنَّ [اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں میں ] وَلَا نِسَاۗىِٕـهِنَّ [اور نہ خواتین میں ] وَلَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ ۚ [اور نہ ان میں جن کے مالک ہوئے ان کے داہنے ہا تھ ] وَاتَّـقِيْنَ اللّٰهَ ۭ [اور تم خواتین اللہ کا تقوٰی اختیار کرو ] اِنَّ اللّٰهَ كَانَ [یقینا اللہ ہے ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ…
Read the full tafseer →عورتوں کو اپنے محرموں کے سامنے آنے کی اجازت ہے
روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوئی تو ازواج مطہرات کے آباو ابنا اوراقارب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم بھی ان سے پردہ کے پیچھے سے بات کیا کریں، اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور ازواج مطہرات کو اجازت دے دی گئی کہ اپنے باپوں اور بیٹوں اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں اور بہنوں کے بیٹوں کے سامنے آسکتی ہیں۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (وفی حکمھم کل ذی رحم محرم من نسب اور ضع علی ماروی ابن سعد عن الزھری) (ج 22: ص 74) یعنی آیت کریمہ میں چار رشتوں کا ذکر ہے، دوسرے جو محرم ہیں نسب سے ہوں یا رضاع سے ان کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر لکھا ہے کہ آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
نداء اہل ایمان ونزول حکم حجاب برائے خواتین اسلام واحتراز
از ایذاء رسول عالی مقام وتحریم نکاح ازواج مطہرات
بعد وفات سید البریات علیہ افضل الصلوات والتحیات
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں نکاح کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے خصائص کو بیان فرمایا اور ان امور کی ممانعت فرمائی جو نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے لئے باعث ایذا اور موجب تکلیف ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایذا نبوی کے انواع و اقسام اور ان کے احکام کا بیان ہوچکا تھا اس لئے اب آئندہ آیات میں ایک خفیف اور معمولی ایذا نبوی کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو بعض لوگوں…
Read the full tafseer →ٖ 58:۔ لا جناح الخ، یہاں ان رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ازواج مطہرات پر حجاب لازم نہ تھا۔ اور وہ یہ ہیں، باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجہ، ایمان والی عورتیں اور باندیاں واتقین اللہ۔ اس میں خطاب ازواج مطہرات سے ہے۔ فرمایا تم بھی اللہ سے ڈرتی رہو اور اللہ کے اوامرو نواہی میں اس کی اطاعت کرتی رہو۔ اللہ تعالیی ہر چیز سے باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب سکھائے کہ آپ کے گھروں میں بلا اجازت نہ جائو۔ اگر تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو قبل از وقت نہ جائو اور جب کھانا کھا چکو تو بات چیت کے لئے بیٹھے نہ رہو۔ بلکہ اٹھ کر چلے جائو۔ اگرچہ نبی کریم (علیہ السلام) اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں مگر انہیں بلاوجہ رک جانے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ پھر نبی کی ازواج مطہرات کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ان سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو سامنے نہ آئو۔ بلکہ پردہ داری کا خیال رکھتے ہوئے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کی طہارت کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے تاکہ دلوں میں کسی قسم کے وسوسے نہ…
Read the full tafseer →لَا جُنَاحَ عَلَيْہِنَّ فِيْٓ اٰبَاۗىِٕـہِنَّ وَلَآ اَبْنَاۗىِٕہِنَّ وَلَآ اِخْوَانِہِنَّ وَلَآ اَبْنَاۗءِ اِخْوَانِہِنَّ وَلَآ اَبْنَاۗءِ اَخَوٰتِہِنَّ وَلَا نِسَاۗىِٕـہِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُنَّ 0 ۚ وَاتَّـقِيْنَ اللہَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدًا 55
جناح
وسمي الإثم المائل بالإنسان عن الحق جناحا ثم سمّي كلّ إثم جُنَاحاً ، نحو قوله تعالی: لا جُناحَ عَلَيْكُمْ «1» في غير موضع، وجوانح الصدر :
الأضلاع المتصلة رؤوسها في وسط الزور، الواحدة : جَانِحَة، وذلک لما فيها من المیل
اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کردے اسے جناح کہا جاتا ہے ۔ پھر عام گناہ کے…
Read the full tafseer →ترکیب : لا جناح استیناف، فی اباء ھن متعلق بمحذوف ای الدخول او مثلہ مایناسب المقام، واتقین اللہ استیناف او معطوف علی الکلام السابق لانہ فی معنی الانشاء و ان ترکناہ علی ظاہرہ فیجوز عطف الجملۃ الانشایۃ علی الجملۃ الخبریۃ عند الفصحاء، تسلیما مصدر موکد۔
تفسیر کن مردوں سے پردہ نہیں : آیت حجاب بظاہر عموم الفاظ کے لحاظ سے یہ کہتی تھی کہ ازواج مطہرات کے باپ بھائیوں، دیگر محارم سے بھی پردہ ہے اور اس میں بڑی وقت تھی، اس لیے اس آیت لاجناح علیہن فی آبائہن الخ میں اس بات کو ظاہر کردیا کہ ان لوگوں سے پردہ نہیں۔ اس آیت میں ہے کہ ازواج مطہرات کے باپوں اور ان کے بیٹوں سے عام ہے کہ حضرت سے ہوں یا ان کے پہلے…
Read the full tafseer →لاَ جُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْٓ اٰبَآئِھِنَّ وَلَآ اَبْنَـآئِھِنَّ وَلَآ اِخْوَانِھِنَّ وَلَآ اَبْنَـآئِ اِخْوَانِھِنَّ وَلَآ اَبْنَـآئِ اَخَوٰ تِھِنَّ وَلاَ نِسَائِھِنَّ وَلاَ مَامَلَـکَتْ اَیْمَانُھُنَّ ج وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدًا۔ (الاحزاب : 55)
(ازواجِ نبی پر کوئی گناہ نہیں ان کے باپوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بیٹوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھتیجوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھانجوں کے بارے میں، اور نہ ان کے میل جول کی عورتوں کے بارے میں، اور نہ ان کے مملوکوں کے بارے میں، اور اللہ سے ڈرتی رہو، بیشک اللہ ہر چیز…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں پردے کا ذکر ہوا۔ اب ان رشتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
پہلی آیت میں ازواج مطہرات کے حوالے سے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پردے میں رہ کر ان سے سوال کیا کریں۔ بظاہر یہ حکم امّہات المومنین کے متعلق دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں امت کی ماؤں کو مخاطب کر کے پو ری امت کی عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس میں یہ وضاحت موجود نہ تھی کہ کون سے مردوں سے پردہ نہیں کرنا چاہیے۔ اب ان رشتوں کی وضاحت کی جاتی ہے جن سے پردہ نہیں کرنا۔ اگر خاوند، باپ اور بھائی کے علاوہ ہر کسی سے پردہ کرنا عورت کے لیے واجب ہوتا تو اس سے عورت ایک طرح کی…
Read the full tafseer →اقارب کے احکام :
55: آیت حجاب نازل ہوئی تو باپوں، بیٹوں اور اقارب نے کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ہم بھی ان سے پردے کے پیچھے سے بات کریں پس یہ آیت نازل ہوئی۔ لَاجُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْ ٰابَآئِھِنَّ وَلَآ اَبْنَآپھِنَّ وَلاَ اِخْوَانِھِنَّ (پیغمبر (ﷺ) کی بیویوں پر اپنے باپوں کے بارے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں کے) وَلَآ اَبْنَآپھِنَّ وَلاَ اِخْوَانِھِنَّ وَلاَ نِسَائِھِنَّ (اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے) نسائھن سے مومنہ عورتیں مراد ہیں۔
وَلَا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ (اور نہ اپنی لونڈیوں کے) یعنی ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان…
Read the full tafseer →55، لاجناح علیھن فی آبائھن ولا ابنا ئھن ولا اخوانھن ولا ابناء اخوانھن ولا ابناء اخواتھن ، ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں، اگر انہوں نے حجاب کو ترک کردیا ۔ ، ولا نسائھن ، اور مسلمان عورتوں کا ازواج مطہرات کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ کتابی عورتوں کو ان کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ بعض نے کہا کہ یہ عام ہے مسلمان عورتیں ہوں یاکتابی کیونکہ ، ولا نسائھن ، فرمایا کیوں کہ یہ سب انہی کی جنس سے ہیں۔
، ولا ماملکت ایمانھن، اس بارے میں اختلاف ہے کہ غلام کی بیوی بھی ان کے لیے محرم ہے یا نہیں۔ بعض کہ محرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ، ولا ماملکت ایمانھن، کی وجہ سے اور بعض نے کہا کہ وہ بھی…
Read the full tafseer →55۔ جب اللہ نے اجنبی آدمیوں سے پردہ کا حکم کردیا تو فرمایا کہ ان رشتہ داروں سے پردہ وہ واجب نہیں ہے جس طرح سورة نور میں گزر چکا حاصل یہ ہے کہ عورتوں کو اپنے باپ بیٹے بھائی بھتیجے بھانجے مسلمانوں کی عورتوں اور غلام سے پردہ نہیں ہے سورة نور میں پردہ کی تفصیل زیادہ ہے پھر فرمایا اللہ کے رسول کی بیویوں کو ان حکموں کی پابندی میں ظاہر اور باطن میں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور باطن کا سب حال معلوم ہے ‘ ابوداؤد بیہقی اور تفسیر ابن مردویہ میں انس بن مالک ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ نیل الاو طار ص 245 ج 6 نبز دیکھئے مشکوۃ باب النظرالی المخطوبہ وبیان العورات فصل دوسری۔ ) جس کا حاصل یہ…
Read the full tafseer →آیت 55
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ازاج مطہرتا سے اگر کوئی چیز طلب کی جائے تو پردے کے پیچھے سے طلب کی جائے تو لفظ عام استعمال کیا جس کا اطلاق سب پر ہوتا ہے، اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس حکم میں سے ان محرم اقارب کو مستثنیٰ قرار دیا جائے جو یہاں مذکور ہیں کہ جن سے پر وہ نہ کرنے میں (لا جناح علیھن) ” ان پر کوئی حرج نہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے چچاؤں اور ماموؤں کا ذکر نہیں کیا کیونکہ جب خالاؤں اور پھوپھیوں پر بھتیجوں اور بھانجوں سے پردہ کرنا واجب نہیں تو چچا اور ماموں سے پردہ کرنا بدرجہ اولیٰ واجب نہیں، نیز ایک دوسری آیت کا منطوق، جس میں نہایت صراحت کے ساتھ چچا اور ماموں کا ذکر ہے،…
Read the full tafseer →قول باری ہے (لا جناح علیھن فی ابآء ھن ولا ابنآئھن ان (رسول کی ازواج) پر کوئی گناہ نہیں (سامنے آنے میں) اپنے باپوں کے ، اپنے بیٹوں کے) تاآخر آیت ۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت مذکورہ افراد سے ازواج مطہرات کو کنار کش نہ رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کے محرم رشتہ داروں اور ملنے جلنے والی خواتین کا ذکر کیا ہے۔ ان خواتین سے ۔ واللہ اعلم۔ آزاد عورتیں مراد ہیں (ولا ماملکت ایمانھن۔ اور نہ اپنی لونڈیوں کے) اس سے لونڈیاں مراد ہیں۔ کیونکہ عورتوں پر نظر ڈالنے کی اباحت کی جو صورتیں ہیں ان میں غلام اور لونڈی دونوں کا حکم یکساں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
115 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے "۔ اس لئے اس سے تمہاری کوئی حالت و کیفیت کبھی مخفی و مستور نہیں رہ سکتی۔ پس ہمیشہ فکر و کوشش اس امر کی کرو کہ اس کے ساتھ تمہارا معاملہ ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے درست رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو تمہاری ہر بات کو جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ خواہ تم اس کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو کہ اس عالم الغیب والشہادۃ کے یہاں سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو صراط مستقیم پر گامزن ہونے اور گامزن رہنے کے لیے بنیادی چیز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معرفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
زندگی کے کچھ آداب
تشریح : ان آیات میں بہت سے اسلامی آداب معاشرت سکھائے گئے ہیں یہاں انہیں نبی ﷺ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے جب کہ اصل میں ہر مسلمان کو اپنے رہن سہن میل ملاقات میں ان تمام احکامات کی پیروی ضرور کرنی چاہیے کیونکہ ان اصولوں سے معاشرے میں سکون، خوشی، محبت، ایثار اور خوش خلقی و خلوص پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ آداب یہ ہیں۔
پہلا ادب : کہ کسی کے گھر بغیر اجازت گھس جانا خلاف تہذیب ہے۔ خاص طور سے بنی کے گھروں میں صرف اس وقت جاؤ جب ان کی طرف سے کھانے کی دعوت دی جائے۔ اس صورت میں بھی آداب کا خیال رکھو کیونکہ نبی ﷺ خاص طور سے بےحد مصروف شخصیت ہیں اس لیے ان کے وقت اور مصروفیات کا خیال رکھتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
آیات 53 تا 58
اسرارومعارف
اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں بلا اجازت داخل مت ہوا کرو اگر آپ ﷺ کھانے کی دعوت پہ بلائیں تو بھی ادب یہ ہے کہ عین وقت پر جاؤ کہ وہاں کھانے کے انتظار میں بیٹھنا نہ پڑے اور ادھر ادھر مت دیکھو نہایت ادب و احترام سے جاؤ اور کھانا کھا کر فورا رخصت چاہو باتوں میں لگ کر مت بیٹھ رہو کہ یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں مگر اللہ ایسی باتوں کو صاف بیان فرما دیتا ہے کہ یہ فطری ناگواری بھی تمہارے لیے برکات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے اور حق بات اور سیدھا راستہ یہی ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے۔ ازواج النبی ﷺ سے بات کرنا ہو یا کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے…
Read the full tafseer →ف 7 اور ان کی اقتدا میں تمام مسلمان عورتوں کو۔8 ان کے حکم میں تمام وہ رشتہ دار آجاتے ہیں جو عورت کے محارم میں سے ہیں۔ تشریح کیلئے دیکھئے۔ ( سورة نور : 31) اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ بمنزلہ والدین کے ہیں۔ (شوکانی) ۔ ہاں چچا و ماموں، خالہ اور پھوپھی سے پردہ ضروری ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے چچا زاد بھائی گو اسکے پاس آنے سے منع فرما دیا تھا۔ ) ابن جریر) ۔
Read the full tafseer →(33:55) ولا جناح علیھن فی ابائہن۔ لا اثم علیہن فی ترک الحجاب من ابائہن۔ یعنی باپ بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے کے سامنے مسلمان عورتیں اور لونڈیاں بلا حجاب آجا سکتی ہیں۔ نسائہن ان کی (شریک دین) عورتیں۔ عام مسلمان عورتیں۔
اتقین۔ فعل امر جمع مونث حاضر۔ (اتقاء ) (افتعال) مصدر۔ وقی مادہ۔ تم عورتیں ڈرتی رہو۔ پرہیزگار بنی رہو۔ خطاب ازواج النبی ﷺ سے ہے غیبت سے خطاب کی طرف التفات تقوی کی اہمیت کو ذہن نشین کرانے کے لئے ہے۔ شھیدا کان کی خبر ہے۔ گواہ، شاہد۔ نگران۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 58
لا جناح : کوئی گناہ نہیں ہے
اتقین : ڈرتی رہیں
یصلون : رحمتیں بھیجتے ہیں۔ درود بھیجتے ہیں
سلموا : سلام بھیجو
تسلیما : خوب سلما بھیجنا
یوذون : تکلیف پہنچاتے ہیں
لعن : اس نے لعنت کی ۔ رحمت سے دور کیا
اکتسبوا : تم نے کمائی کی۔ تم نے کمایا
احتملوا : انہوں نے اٹھا لیا
بھتان : بہتان ۔ الزام
اثما مبینا : کھلا گناہ
تشریح آیت نمبر 55 تا 58
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کا بےانتہا ادب و احترام کرنے کے احکامات ارشاد فر مائے ہیں ۔ اور اس زمانہ کے رواج کے برخلاف یہ فرمایا تھا کہ جب تک ان کو گھروں پر آنے کی دعوت نہ دی جائے تو اس وقت تک وہ بغیر اجازت کے نبی کریم ﷺ کے…
Read the full tafseer →پردہ کا حکم۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگاکرو۔ یہ بات وسواس اور خطرات سے امن میں رکھتی ہے اور تم کو زیبا نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف کوئی ایسا کام کروجوخاطر اقدس پر گراں ہو، جس عورت سے نبی ﷺ نے عقد فرمایا وہ حضور کے سوا ہر شخص پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو امت کے لوگوں کے لیے ماں ٹھہرادیا تو اللہ کے رسول کی کسی بیوی سے امت کا کوئی شخص کبھی نکاح نہیں کرسکتا، اس میں اعلام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بڑی عظمت عطا فرمائی اور آپ کی حرمت ہر حال میں واجب کی۔
شان نزول : جب پردہ کا حکم…
Read the full tafseer →[56] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نور حاشیہ 35 صفحہ 836۔
Read the full tafseer →کچھ ایسے لوگ بھی تھے ۔ جو ازواج مطہرات کے متعلق یہ خواہش رکھتے تھے ۔ کہ حضور ﷺ کے بعد ان سے شادی کرلیں گے ۔ چناچہ طلحہ بن عبیداللہ صاف طور پر کہتا تھا کہ اگر میں محمد (ﷺ) کے بعد زندہ رہا ۔ تو عائشہ ؓ سے ضرور شادی کروں گا ۔ فرمایا ۔ اس نوع کے ناپاک جذبات کو دل سے نکال دو ۔ پیغمبر کی عزت و حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بیویاں ساری امت کی مائیں قرار پائیں ۔ ان کے متعلق اس قسم کے خیالات رکھنا خبث باطنی اور گناہ ہے ۔ یہ حکم نہ بھی ہوتا اور یہ آیتیں نازل نہ ہوتیں جب بھی ازواج مطہرات کے سامنے کردار و سیرت کا اتنا بہترین ذخیرہ تھا ۔ کہ وہ عمر بھر بھی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتیں ۔ بھلا جن لوگوں…
Read the full tafseer →55۔ نبی کی عورتوں پر اپنے باپوں کے اور اپنے بیٹیوں کے اور اپنے بھائیوں کے اور اپنے بھتیجوں کے اور اپنے بھانجوں کے اور اپنی عورتوں یعنی مسلمان عورتوں کے اور اپنی لونڈیوں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ نہیں اور اے پیغمبر کی عورتوں ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو بیشک اللہ تعالیٰ ہر شے پر حاضرو ناظر ہے۔ باپ بیٹے ، بھائی ، بھتیجے ، بھانجے ، مسلمان عورتیں اور ما ملکت سے مراد باندیاں ہیں ۔ مشہور قول کے موافق اور یہ مستثنیٰ کا حکم ان لوگوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ محارم نسبی اور محرمات رضاعی سب اس میں داخل ہیں جس طرح چچا اور ماموں کا ذکر نہیں مگر وہ محرمات میں ہیں یہاں تک آپ کی ازواج مطہرات کی بحث تھی اب آگے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی اس سے کوئی امر مخفی نہیں، پس خلاف میں احتمال سزا کا ہے۔
Read the full tafseer →امہات المومنین ہوں یا عام ایمان والیاں ان کو جن لوگوں سے کوئی پردہ نہیں ہے
55 ۔ گزشتہ آیت میں امہات المومنین کے ہاں آنے جانے ، ان سے سوال کرنے اور جواب لینے کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا کہ رو در رو نہیں بلکہ آڑ کے پیچھے سے بات کرو اور پردہ میں رہ کر سوال کرو۔ زیر نظر آیت میں اس حکم سے بعض لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے کہ یہ پابندی ان لوگوں پر عائد نہیں ہوتی اور جن لوگوں پر یہ پابندی نہیں ہوتی اور جن لوگوں پر پابندی نہیں وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا ان کے باپ ہیں ، بیٹے ہیں ، ان کے بھائی اور بھتیجے ہیں ، اس طرح ان کے بھانجے اور گھروں میں آنے جانے والی خاندانی عورتیں ہیں اور وہ مملوک بھی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (If you disclose any thing, or conceal it, Allah is All-Knowing about everything - 33:54). It has been repeated again in this verse that Allah Ta’ ala knows even the intents and thoughts hidden in the hearts. So whether you disclose or conceal, Allah Ta’ ala knows it all. What is being emphasized here is that one should not let any doubt or suspicion enter one's mind or heart about the above-stated rules, and must avoid any violation of these rules.
The issue of Hijab for women, out of the three injunctions in…
Read the full tafseer →102 For explanation, see E.N.'s 38 to 42 of Surah An-Nur. 'Allama Alusi's commentary in this connection is also noteworthy. He says, "Brothers and sons of brothers and sisters include aII those relatives who are unlawful for a woman, whether they are blood relations or foster relations. This list does not mention the paternal and maternal uncles because they are like the parents to the woman, or perhaps they have been left out because there was no need to mention them after mentioning their sons, For the reason for not observing purdah from the brother's son and sister's son is the same as of…
Read the full tafseer →