Al-Ahzaab 33:54

Al-Ahzaab · from ayah 54

33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْـًٔا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ۟اِنۡ تُبۡدُوۡا شَيۡئًـا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو کہ) خدا ہر چیز سے باخبر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whether you reveal a thing or conceal it, indeed Allah is ever, of all things, Knowing.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 7 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:54

تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو کہ) خدا ہر چیز سے باخبر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم کسی چیز کو ﻇاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چاہے تم کوئی بات ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ، اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ تو بیشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم کوئی بات ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ ، اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم کسی چیز کو ظاہر کر، خواہ چھائو، اللہ ہر چیز سے واقف ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم کوئی چیز خواہ ظاہر کرو خواہ اسے چھپا کر رکھو تو اللہ (کو وہ بہرحال معلوم ہے کہ وہ) ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا اسے (دل میں) پوشیدہ رکھوگے تو اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو اللہ یقینا ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ تو یاد رکھو اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(It does not matter) whether you disclose something or conceal it, for Allah certainly knows everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If you disclose any thing, or conceal it, Allah is All-Knowing about every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

If you disclose any thing, or conceal it, Allah is All-Knowing about every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whether you reveal anything or conceal it, verily, Allah is Ever All-Knower of everything.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whether ye divulge a thing or keep it hidden, lo! Allah is ever Knower of all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whether you reveal a thing or conceal it, indeed Allah is ever, of all things, Knowing.

— Saheeh International

Whether you reveal something or hid it, God has the knowledge of all things.

— Muhammad Sarwar

If you do a thing openly or do it in secret, then surely Allah is Cognizant of all things.

— Muhammad Habib Shakir

Whether ye disclose a thing or conceal it, verily Allah is of everything ever Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

Whether ye reveal anything or conceal it, verily Allah has full knowledge of all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–54

احکامات پردہ۔ اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ حضرت عمر ؓ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ سے مروی ہے کہ تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى01205) 2۔ البقرة :125) میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آجائے آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 101 یعنی اگر حضور ﷺ کے خلاف دل میں بھی کوئی برا خیال کوئی شخص رکھے گا، یا آپ ﷺ کی ازواج کے متعلق کسی کی نیت میں بھی کوئی برائی چھپی ہوگی تو اللہ تعالیٰ سے وہ چھپی نہ رہے گی اور وہ اس پر سزا پائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–55

(آیت) ان تبدواشیئاً او تخفوہ فان اللہ کان بکل شئی علیماً ، آخر آیت میں پھر اس مضمون کو دہرایا گیا، کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے ارادوں اور خیالات سے بھی واقف ہے، تم کسی چیز کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ کے سامنے سب ظاہر ہی ہے۔ اس میں تاکید ہے کہ مذکور الصدر احکام میں کسی قسم کا شک و شبہ یا وسوسہ دل میں پیدا نہ ہونے دیں، اور احکام مذکورہ کی مخالفت سے بچنے کا پورا اہتمام کریں۔ آیت مذکورہ میں تین احکام بیان کئے گئے ہیں، ان میں عورتوں کے پردہ کا مسئلہ کئی وجہ سے تفصیل طلب ہے، اس لئے بقدر ضرورت لکھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان ذلکم کان عند اللہ عظیما۔ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی ہی سنگین ہیں۔ یہاں اس کے وبال کی وضاحت نہیں فرمائی اور اس ابہام کے اندر جو تہدید تخویف ہضم ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ ان تبدوا شیاء اوتخفوہ فان اللہ کان بکل شئی علیما (54) یہ بھی تنبیہ ہے جو اوپر والی تنبیہ کو مزید موکد کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا چونکہ دلوں کے بھید سے بھی واقف ہے اس وجہ سے اس سے کوئی بات چھپائی نہیں جاسکے گی۔ اس دنیا میں تو اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لئے بھی نہایت حسین عذر تراشے جاسکتے ہیں لیکن یہ عذرات خدا کے ہاں نہیں کام آئیں گے۔ وہ دلوں کے مخفی کھوٹ بھی سب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 53–54

53۔ 1 اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت پر حضرت زینب کے ولیمے میں صحابہ کرام تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ ﷺ کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا اور اخلاق کی وجہ سے آپ ﷺ نے انھیں جانے کے لئے نہ کہا (صحیح بخاری) چناچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہوچکا ہو پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو۔ کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے ورنہ ملطب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے اجازت کے بغیر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–54

44: ان آیات میں معاشرت کے کچھ آداب بتائے گئے ہیں اور یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب حضور اقدس ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کے موقع پر ولیمے کا اہتمام فرمایا، اس وقت کچھ حضرات کھانے کے وقت سے کافی پہلے آبیٹھے جبکہ ابھی کھانا تیار نہیں ہوا تھا، اور کچھ حضرات کھانے کے بعد دیر تک آپ کے مکان مبارک میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی تھا، اور ان حضرات کے دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے آپ کو ان کے ساتھ مشغول رہنا پڑا، جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، یہ واقعہ تو چونکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ پیش آیا تھا، اس لئے اس آیت میں آپ کے گھروں کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، لیکن ان آیتوں کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان تبدوا شیئا ۔۔۔۔۔۔ شئ علیما (33: 54) ” “۔ لہٰذا یہ سب معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ ہر ظاہر اور چھپے کا جاننے والا ہے۔ ہر تدبیر اور ہر سوچ کو جانتا ہے اور یہ معاملہ اس کے ہاں ہے بھی گناہ کبیر۔ اگر کوئی پھر بھی اس کے ساتھ الجھتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور جس نے اللہ سے جنگ کی وہ مٹ گیا۔ اس عام حجاب کے بعد ازواج مطہرات کے لیے بعض محرمات سے پر وہ نہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ان کے سامنے آسکتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی زبان سے کہنا تو کجا دل میں بھی ایسا وسوسہ کبھی نہ لانا۔ اللہ کے سامنے ظاہر و باطن سب یکساں ہے دل کا کوئی بھید اس سے پوشیدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 { اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا } ”خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو ‘ اللہ یقینا ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 یعنی زبان سے تو کجا، کسی مومن کے دل میں ایسا خیال تک بھی نہ آنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کے سامنے تو ظاہر و باطن اور دل کے خیالات سب کچھ یکساں ہے۔ کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

130۔ (اور ہر شخص سے اپنے اسی علم محیط وکامل کے مطابق معاملہ کرے گا) یہاں چیزوں کے ابداء واخفاء دونوں کا تعلق ایذاء رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ یعنی کوئی بھی ایسی چیز کروگے جس سے رسول اللہ کو اذیت ہو تو خواہ اسے کھلم کھلا کرو، خواہ پوشیدہ رکھو، حق تعالیٰ کو بہرحال اس کی اطلاع رہے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–58

آیت نمبر 53 تا 58 ترجمہ : اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلابلائے) مت جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے دعوت کے طور پر آنے کی اجازت دیدی جائے تو اس طرح داخل ہوسکتے ہو کہ کھانے کی تیاری کے منتظر نہ رہو، اِنیٰ ، اَنیٰ یَانِی کا مصدر ہے، لیکن جب تم کو بلایا جائے تب جاتا کرو پھر جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور آپس میں باتوں میں دلچسپی لیکر بیٹھے نہ رہا کرو بلاشبہ اس بیٹھے رہنے سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تم کو چلے جانے کے لئے کہنے کے بارے میں تمہارا لحاظ کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بیان حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا یعنی حق بیان کرنے کو ترک نہیں کرتا، اور ایک قراءت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان تبدوا شیئا او تخفوہ فان اللہ کان بکل شیء علیما . اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا پوشیدہ رکھو گے ‘ اللہ (تو بہرحال) ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی رسول اللہ کو ایذاء یا ان کی بیبیوں سے نکاح کا ارادہ ظاہر کرو گے یا دلوں میں چھپائے رکھو گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول اس شخص کے حق میں ہوا جس نے رسول اللہ کے بعد حضرت عائشہ سے نکاح کرنے کا ارادہ دل میں پوشیدہ رکھا تھا۔ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے یعنی تم کو اس (ظاہر اور پوشیدہ) گناہ کی سزا دے گا۔ اس تمہیم میں اور امہات المؤمنین سے صراحۃً نکاح کی ممانعت کے بعد برہان بیان کرنے میں مزید زور وعید عذاب اور تخیف سزا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگر تم اس کے متعلق کوئی چیز زبان سے ظاہر کرو گے یا اس کے ارادہ کو دل ہی میں رکھو گے تو اللہ تعالیٰ کو ان دونوں باتوں کی خبر ہوگی اور وہ اس پر تمہاری گرفت فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تُبْدُوْا شَـيْـــــًٔا اَوْ تُخْفُوْهُ۔۔ : یعنی زبان سے تو کجا، کسی مومن کے دل میں ایسا خیال بھی نہیں آنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو ظاہر و باطن اور دل کے خیالات یکساں روشن ہیں، کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ ہراس چیز کو جانتا ہے جو ظاہر ہے یا مخفی ہے۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو ہوچکا ہے اور جو ابھی تک واقع نہیں ہوا۔ اس پر کوئی گزرا ہوا مخفی نہیں اور نہ آنے والا مستقبل مخفی ہے۔ یہ اپنے عموم پر ہے اس کے ساتھ اس کی مدح کی جارہی ہے وہ مدح اور حمد کا مستحق ہے۔ یہاں اس سے مراد توبیخ اور اس کے لیے وعید ہے جس کی سابقہ آیت میں اشارۃ بات کی گئی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جس کی طرف اس آیت کے ساتھ اشارہ کیا گیا تھا : آیت ذالکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن اور جس کی طرف اس ارشاد میں اشارہ کیا گیا تھا : آیت وما کان لکم ان توء ذو رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا انہیں اس آیت میں فرمایا : اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 53–54

1۔ البخاری وابن جریر وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ابن خطاب ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے پاس نیک اور برے لوگ آتے ہیں اگر آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم فرمادیں (تو اچھا تھا) تو اس پر اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیات اتاری۔ میزبان کو تکلیف پہنچانا جائز نہیں 2۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والبخاری ومسلم والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنی میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے نکاح فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کو (ولیمہ پر) بلایا صحابہ کرام ؓ نے کھایا پھر باتیں کرنے کے لیے بیٹھ گئے، اچانک آپ نے یہ ارادہ کیا کہ آپ کھڑے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ تُبْدُوْا [اگر تم لوگ ظاہر کرو ] شَـيْـــــًٔا [کوئی چیز ] اَوْ تُخْفُوْهُ [یا خفیہ رکھو اس کو ] فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ [تو بیشک اللہ ہے ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کا ] عَلِــيْمًا [علم رکھنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 53–54

نزول آیت حجاب کا واقعہ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ جب رسول خدا نے حضرت زینب ؓ (بنت جحش) سے نکاح کیا (اور ولیمہ کھانے کے لیے آپ ﷺ کے دولت کدہ پر) لوگ حاضر ہوئے تو طعام ولیمہ کھا کر وہیں باتیں کرتے ہوئے بیٹھے رہ گئے، حضور اقدس ﷺ نے (چاہا کہ وہ لوگ اٹھ جائیں لہٰذا آپ نے) ایسا طرز اختیار فرمایا کہ آپ اٹھ رہے ہیں (اور وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ ﷺ کے مزاج میں وسعت اخلاق کے باعث لحاظ بہت تھا اس وجہ سے آپ ﷺ نے صاف طور سے یہ نہ فرمایا کہ چلے جاؤ) وہ آپ ﷺ کو اٹھتے دیکھ کر بھی نہ اٹھے، جب آپ ﷺ نے یہ حال دیکھا تو اٹھ کر چلے گئے، آپ ﷺ کے اٹھ جانے پر کچھ آدمی تو چلے گئے اور کچھ رہ گئے، حضور اقدس ﷺ (حضرت عائشہ ؓ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–55

نداء اہل ایمان ونزول حکم حجاب برائے خواتین اسلام واحتراز از ایذاء رسول عالی مقام وتحریم نکاح ازواج مطہرات بعد وفات سید البریات علیہ افضل الصلوات والتحیات قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں نکاح کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے خصائص کو بیان فرمایا اور ان امور کی ممانعت فرمائی جو نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے لئے باعث ایذا اور موجب تکلیف ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایذا نبوی کے انواع و اقسام اور ان کے احکام کا بیان ہوچکا تھا اس لئے اب آئندہ آیات میں ایک خفیف اور معمولی ایذا نبوی کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو بعض لوگوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 57:۔ ان تبدوا الخ، بعض منافقین نے مذکورہ بالا حکم نازل ہونے سے پہلے دل میں تہیہ کر رکھا تھا کہحضور ﷺ کی وفات کے بعد وہ آپ کی زوجہ مطہرہ سے نکاح کرے گا۔ اور بعض خبیث منافقین نے برملا اس کا اظہار کیا تھا تو اللہ نے فرمایا۔ میں تو تمہاری ہر ظاہر و باطن کی حرکت کو جانتا ہوں۔ اگر تم شرارتوں سے باز نہیں آؤ گے تو سخت سزا دوں گا۔ فیجازیکم بما صدر منکم من المعاصی البادیۃ والخافیۃ لا محالۃ (روح جلد 22 ص 74) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–55

گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب سکھائے کہ آپ کے گھروں میں بلا اجازت نہ جائو۔ اگر تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو قبل از وقت نہ جائو اور جب کھانا کھا چکو تو بات چیت کے لئے بیٹھے نہ رہو۔ بلکہ اٹھ کر چلے جائو۔ اگرچہ نبی کریم (علیہ السلام) اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں مگر انہیں بلاوجہ رک جانے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ پھر نبی کی ازواج مطہرات کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ان سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو سامنے نہ آئو۔ بلکہ پردہ داری کا خیال رکھتے ہوئے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کی طہارت کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے تاکہ دلوں میں کسی قسم کے وسوسے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ تُبْدُوْا شَـيْـــــًٔا اَوْ تُخْفُوْہُ فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا۝ 54 بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–54

ترکیب : الا ان یوذن فی موضع الحال ای لا تدخلوا الا ماذونا لکم الی طعام متعلق بیوذن لا نہ فی معنی یدعو غیر ناظرین بالنصب علی الحال من الفاعل فی یدخلوا اومن المجرد فی لکم و یقرء بالجر علی الصفۃ للطعام وھو غیر جائز عندالبصریین میں لانہ جری علی غیر ماھولہ فیجب ان یبرزالفاعل فیکون غیر ناظرین انتم۔ ولا مستانسین معطوف علیٰ ناظرین اومقدر بفعل ای ولا تدخلوا اولا تمکثوا مستانسین۔ تفسیر : ازواج مطہرات کے حقوق جو نبی ( علیہ السلام) پر تھے، ان کو بیان فرما کر اب وہ حقوق بیان فرماتا ہے جو لوگوں پر ہیں اور نیز بزرگوں کے ساتھ حسن معاشرت کا کیا طریقہ ہے۔ ایک حکم : فقال یا ایھا الذین آمنوا لاتدخلوا بیوت النبی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْتُخْفُوْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 54) (تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو، اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) یعنی اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے خلاف دل میں کوئی برا خیال رکھے گا یا آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے متعلق کسی کی نیت میں کوئی برائی چھپی ہوگی تو اللہ تعالیٰ سے وہ چھپی نہ رہے گی کیونکہ وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ اس وجہ سے کوئی بات اس سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ دنیا میں غلط سے غلط بات کے بھی اچھے سے اچھے عذر تراشے جاسکتے ہیں لیکن یہ عذرات اللہ تعالیٰ کے یہاں کام نہیں آئیں گے۔ وہ دلوں کے مخفی کھوٹ بھی سب کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–54

فہم القرآن ربط کلام : ازواجی زندگی کے اصول بتلانے کے ساتھ مسلمانوں کو آداب معاشرت سمجھائے جاتے ہیں یہاں دورجاہلیت کی ایک اور رسم کے خاتمے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے کچھ مسلمان نبی کریم ﷺ کے گھر میں بلا اجازت داخل ہوجاتے اور بن بلائے مہمان بن جایا کرتے تھے۔ حیا کے پیش نظر آپ ﷺ انہیں کچھ نہ کہتے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو ! نبی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو اور نہ ہی بن بلائے مہمان بننے کی کوشش کیا کرو۔ جب تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ خواہ مخواہ باتیں کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے گھر میں بیٹھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

54: اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا (اگر تم کسی چیز کو ظاہر کر وگے) نبی اکرم ﷺ کی ایذاء میں سے یا ان سے نکاح کروگے۔ اَوْ تُخْفُوْہُ (یا اپنے دلوں میں اس کو چھپائو گے) ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا (پس اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں) ۔ پس وہ اس پر تمہیں سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 54، ان تبذواشیئا او تخفوہ فان اللہ کان بکل شیء علیما ، اس آیت کا نزول اس شخص کے حق میں ہواجس نے رسول اللہ ﷺ کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نکاح کرنے کا ارادہ دل میں پوشیدہ رکھا تھا ، کمامر۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو امہات المؤمنین کے باپوں بھائیوں اور دوسرے قریب ترین رشتہ داروں نے کہا کہ آئندہ ہم بھی رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں سے کلام کریں گے تو پردے کی آڑ سے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

54۔ حضرت عمر ؓ کی یہ حدیث جو اوپر گزری کی مقام ابراہیم کے مصلیٰ ٹھہرانے کی آیت اور یہ پردہ کی آیت اور چند آیتیں حضرت عمر ؓ کی رائے کے موافق نازل ہوئی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ کو پہلے پردہ کی صلاح دی تھی پھر حضرت زنیب ؓ کے ولیمہ والے دن یہ آیت نازل ہوئی اور صحیح بخاری وغیرہ کی حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث جو مشہور ہے کہ حضرت سودہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر حاجت بشری کے لیے گھر سے باہر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا یہ قصہ پردہ کی آیت کے بعد کا ہے 2 ؎ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 505 ج 3۔ ) اور حضرت عمر ؓ کی اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہوئی چناچہ اس کی صراحب صحیح بخاری کی حضرت عائشہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 54 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں داخل ہوتے وقت آپ کے آداب کا خیال رکھا کریں، لہٰذا فرمایا : (یایھا الذین امنوا لاتدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام) یعنی کھانے کے لئے داخلے کی اجازت کے بغیر نبی کریم ﷺ کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو اور نہ تم (نظرین انہ) کھانا تیار ہونے اور اس کے پکنے کا انتظار کیا کرو اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لوٹنے میں تاخیر نہ کیا کرو۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تم دو شرائط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے گھروں میں دال ہوا کرو : (1) داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد (2) تمہارا آپ کے گھر میں بیٹھنا ضرورت کے مطابق ہو۔ اسی لئے فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 53–54

عورتوں کو پردہ کرنے کے حکم کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر ناظرین اناہ۔ اے ایمان لانے والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو بجز اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لئے (آنے کی) اجازت دی جائے اور (وہاں جاکر) اس کی تیاری کے منتظر نہ ہو) ۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ابوعثمان سے، ان کا نام جعد بن دینار ہے، اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے جب حضرت زینب ؓ سے عقد کیا تو حضرت ام سلیم ؓ نے نے پتھر کے ایک چھوٹے سے برتن میں آپ کے لئے ہدیہ کے طور پر حلوہ بھیجا۔ حضور ﷺ نے مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–55

115 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے "۔ اس لئے اس سے تمہاری کوئی حالت و کیفیت کبھی مخفی و مستور نہیں رہ سکتی۔ پس ہمیشہ فکر و کوشش اس امر کی کرو کہ اس کے ساتھ تمہارا معاملہ ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے درست رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو تمہاری ہر بات کو جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ خواہ تم اس کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو کہ اس عالم الغیب والشہادۃ کے یہاں سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو صراط مستقیم پر گامزن ہونے اور گامزن رہنے کے لیے بنیادی چیز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معرفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–55

زندگی کے کچھ آداب تشریح : ان آیات میں بہت سے اسلامی آداب معاشرت سکھائے گئے ہیں یہاں انہیں نبی ﷺ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے جب کہ اصل میں ہر مسلمان کو اپنے رہن سہن میل ملاقات میں ان تمام احکامات کی پیروی ضرور کرنی چاہیے کیونکہ ان اصولوں سے معاشرے میں سکون، خوشی، محبت، ایثار اور خوش خلقی و خلوص پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ آداب یہ ہیں۔ پہلا ادب : کہ کسی کے گھر بغیر اجازت گھس جانا خلاف تہذیب ہے۔ خاص طور سے بنی کے گھروں میں صرف اس وقت جاؤ جب ان کی طرف سے کھانے کی دعوت دی جائے۔ اس صورت میں بھی آداب کا خیال رکھو کیونکہ نبی ﷺ خاص طور سے بےحد مصروف شخصیت ہیں اس لیے ان کے وقت اور مصروفیات کا خیال رکھتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–58

آیات 53 تا 58 اسرارومعارف اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں بلا اجازت داخل مت ہوا کرو اگر آپ ﷺ کھانے کی دعوت پہ بلائیں تو بھی ادب یہ ہے کہ عین وقت پر جاؤ کہ وہاں کھانے کے انتظار میں بیٹھنا نہ پڑے اور ادھر ادھر مت دیکھو نہایت ادب و احترام سے جاؤ اور کھانا کھا کر فورا رخصت چاہو باتوں میں لگ کر مت بیٹھ رہو کہ یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں مگر اللہ ایسی باتوں کو صاف بیان فرما دیتا ہے کہ یہ فطری ناگواری بھی تمہارے لیے برکات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے اور حق بات اور سیدھا راستہ یہی ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے۔ ازواج النبی ﷺ سے بات کرنا ہو یا کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اس آیت میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے جن کی طرف آیت ” ذلکم اطھر لقلوبکم “ اور ” ماکان لکم ان تو ذوارسول اللہ “ میں ارشاد فرمایا ہے۔ یعنی اگر تم آنحضرت ﷺ یا آپ کی ازواج ؓ مطہرات کے متعلق دل میں کوئی بڑا خیال رکھو گے تو اللہ تعالیٰ سے چھپا نہ رہے گا اور تمہیں اس کی ضرور سزا ملے گی۔ ( فھذہ الایۃ منحطفۃ علی ما قبلھا) (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33: 54) تبدوا۔ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان شرطیہ) جمع مذکر حاضر۔ ابداء (افعال) مصدر۔ (اگر ) تم (کسی شی کو) ظاہر کرو۔ تخفوہ۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع شی ہے۔ (خواہ) تم اس کو چھپائو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–54

لغات القرآن : آیت نمبر 53 تا 54 لاتدخلوا : تم داخل نہ ہو ان یوذن : یہ کہ اجازت دے دی گئی ہو غیر نظرین : نہ تکنے والے انی : تیار ہوجانے کا وقت دعیتم : تمہیں بلایا گیا لا مستانسین : جی لگا نہ نہ بیٹھنے والے اسئلوا : مانگو۔ سوال کرو وراء الحجاب : پردے کے پیچھے اطھر : زیادہ پاکیزہ تشریح آیات نمبر 53 تا 54 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی گھریلو زندگی اور آپ کے ادب و احترام کے آداب سکھائے ہیں۔ چونکہ آپ کی محبوب ذات اور آپ کے گھرانے کے ہر فرد کی زندگی دوسروں کے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے اس لئے آپ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے ذریعہ بعض وہ احکامات دیئے گئے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–54

معاشرتی آداب۔ (ف 1) شان نزول : جب نبی ﷺ نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی توجماعتیں کی جماعتیں آتی تھیں اور کھانے سے فارغ ہوکر چلی جاتی تھیں، آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہوکر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کردیا، اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے مکان تنگ تھا اس سے گھروالوں کو تکلیف ہوئی اور حرج ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کرسکے، نبی ﷺ اٹھے اور ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور دورہ فرما کر تشریف لائے اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضور ﷺ پھر واپس ہوگئے یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوگئے تب حضور اقدس دولت سرائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[55] یعنی زبان سے کہنا تو کجا دل میں بھی ایسا وسوسہ کبھی نہ لانا۔ اللہ کے سامنے ظاہر و باطن سب یکساں ہیں۔ دل کا کوئی بھید اس سے پوشیدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–54

آداب دعوت قرآن ایک مکمل دستور العمل ہے ۔ اس میں تمام ضروری مسائل سے تمسک کیا گیا ہے ۔ اور کسی بحث کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ جہاں عقائد کی تفصیل بتائی ہے ۔ وہاں عبادات کا بھی ذکر ہے ۔ معاشرت انسانی کی گتھیوں کو بھی سلجھایا گیا ہے ۔ اور اخلاق و سیرت کے متعلقہ لوازم کی بھی تشریح کی گئی ہے ۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ عام آداب یا عوایدر سمیہ کیا ہونے چاہئیں ۔ تاکہ مسلمان اپنی تہذیب میں دوسروں کے محتاج نہ ہوں ۔ اور ساری کائنات کے لئے ان کا وجود اسوہ اور نمونہ ہو ۔ حضرت زنیب کے ولیمہ کے موقع پر ایسا ہوا ۔ کہ بعض صحابہ دیر تک کھانے سے فراغت کے بعد حضور ﷺ کے ہاں بیٹھے رہے ۔ اور باتوں میں مشغول رہے جس سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

54۔ تم اگر کسی چیز کو ظاہر کرو گے یعنی زبان سے کہو گے یا اس کو چھپائو گے اور دل میں پوشیدہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح کرنے اور آپ ﷺ کی ایذا دہی کی بات کو خواہ وہ زبان سے ظاہر کرو، جیسا کہ ایک شخص کا قول مشہور ہے کہ اگر حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں حضرت عائشہ ؓ سے نکاح کروں گا ۔ غرض ! ایسی بات کا زبان سے نکالنا یا دل میں ایسا ارادہ دونوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ ایسا کرنے والوں کو سزا دے گا ازواج مطہرات کے پردے کے بارے میں جو عام حکم تھا اس سے بعض افراد و اشخاص کو آگے مستثنیٰ فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

ف 5۔ یعنی بےدعوت تو جاومت، اور دعوت ہو تو تب بھی بہت پہلے سے مت جا بیٹھو۔ 6۔ اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاو 7۔ یعنی بےضرورت تو پردہ کے پاس جانا اور بات کرنا بھی نہ چاہئے، لیکن ضرورت میں کلام کا مضائقہ نہیں مگر رویت نہ ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم ایک چیز کو چھپائو یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ تو ہر حال میں جاننے والا ہے 54 ۔ روحانی بیماریاں جسمانی بیماریوں سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتی ہیں لیکن جسمانی بیماریوں کا پتہ چل جاتا ہے اور روحانی بیماریوں کا پتہ ہی نہیں چلتا اور اسی طرح ان کا علاج بھی نہایت مشکل ہوتا ہے۔ جو لوگ دل کے اندر بات کو چھپائے رکھنے کے عادی ہوتے ہیں بلا شبہ وہ روحانی بیمار ہی ہوتے ہیں ، فرمایا : ایک چیز کو تم ظاہر کرو یا چھپا کر رکھو اللہ کے کے نزدیک تو دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ وہ ہر ایک بات کو اور ہر ایک چیز کو یکساں جانتا اور ایک ہی طرح سے علم رکھتا ہے اگر تم نبی کریم ﷺ کے ساتھ یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–55

إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (If you disclose any thing, or conceal it, Allah is All-Knowing about everything - 33:54). It has been repeated again in this verse that Allah Ta’ ala knows even the intents and thoughts hidden in the hearts. So whether you disclose or conceal, Allah Ta’ ala knows it all. What is being emphasized here is that one should not let any doubt or suspicion enter one's mind or heart about the above-stated rules, and must avoid any violation of these rules. The issue of Hijab for women, out of the three injunctions in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

101 That is, "If a person entertains an evil thought in his heart against the Holy Prophet, or harbours an evil intention about his wives, it will not remain hidden from Allah, and he will be punished for it. "

Read the full tafseer →