Explained with ayahs 53–54
احکامات پردہ۔
اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ حضرت عمر ؓ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ سے مروی ہے کہ تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى01205) 2۔ البقرة :125) میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آجائے آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 95
یہ اس حکم عام کی تمہید ہے جو تقریباً ایک سال کے بعد سورة نور کی آیت 27 میں دیا گیا۔ قدیم زمانے میں اہل عرب بےتکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے۔ کسی شخص کو کسی دوسرے شخص سے ملنا ہوتا تو وہ دروازے پر کھڑے ہو کر پکارنے اور اجازت لے کر اندر جانے کا پابند نہ تھا۔ بلکہ اندر جا کر عورتوں اور بچوں سے پوچھ لیتا تھا کہ صاحب خانہ گھر میں ہے یا نہیں۔ یہ جاہلانہ طریقہ بہت سی خرابیوں کا موجب تھا۔ اور بسا اوقات اس سے بہت گھناؤنے اخلاقی مفاسد کا بھی آغاز ہوجاتا تھا۔ اس لیے پہلے نبی ﷺ کے گھروں میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی شخص، خواہ وہ قریبی دوست یا دور پرے کا رشتہ دار ہی کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
رسول اللہ ﷺ کی زاہدانہ زندگی اور اس کے ساتھ تعدد ازواج کا مسئلہ
اعداء اسلام نے ہمیشہ مسئلہ تعدد ازواج اور خصوصاً رسول اللہ ﷺ کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی کو سامنے رکھا جائے تو کسی شیطان کو بھی شان رسالت کے خلاف وسوسہ پیدا کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ جس سے ثابت ہے کہ آپ نے سب سے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے کیا، جو بیوہ سن رسیدہ صاحب اولاد اور دو شوہروں کے نکاح میں رہنے کے بعد آئی تھیں، اور پچاس سال کی عمر تک صرف اسی ایک سن رسیدہ بیوی کے ساتھ شباب کا پورا زمانہ گزارا۔ یہ پچاس سالہ دور عمر مکہ کے لوگوں کے سامنے گزرا۔ چالیس…
Read the full tafseer →11۔ آگے کا مضمون۔ آیات 53۔ 62
آگے منافقین کی ریشہ دوانویں اور ایذا رسانیوں کے سدِ باب کے لئے نبی ﷺ کی ازواج کو بھی اور عام مسلمانوں کی بہوئوں بیٹیوں کو بھی پردے سے متعلق بعض ہدایات دی گئی ہیں۔ کچھ احکام سورة نور میں بھی پردے سے متعلق بیان ہوچکے ہیں۔ اس سورة میں اس باب کی تکمیل کردی گئی ہے تاکہ اشرارومفسدین کی دراندازی کے لئے کوئی رخنہ باقی نہ رہے۔ آخر میں منافقین کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اب بھی وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کے بارے میں ایسے احکام دے دیے جائیں گے کہ ان کے لئے اس سرزمین میں سرچھپانا ممکن ہوجائے گا… اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
12۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 1 اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت پر حضرت زینب کے ولیمے میں صحابہ کرام تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ ﷺ کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا اور اخلاق کی وجہ سے آپ ﷺ نے انھیں جانے کے لئے نہ کہا (صحیح بخاری) چناچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہوچکا ہو پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو۔ کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے ورنہ ملطب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے اجازت کے بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
44: ان آیات میں معاشرت کے کچھ آداب بتائے گئے ہیں اور یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب حضور اقدس ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کے موقع پر ولیمے کا اہتمام فرمایا، اس وقت کچھ حضرات کھانے کے وقت سے کافی پہلے آبیٹھے جبکہ ابھی کھانا تیار نہیں ہوا تھا، اور کچھ حضرات کھانے کے بعد دیر تک آپ کے مکان مبارک میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی تھا، اور ان حضرات کے دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے آپ کو ان کے ساتھ مشغول رہنا پڑا، جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، یہ واقعہ تو چونکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ پیش آیا تھا، اس لئے اس آیت میں آپ کے گھروں کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، لیکن ان آیتوں کے…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اللہ کان بکل شئ علیما (53 – 54) امام بخاری نے حضرت انس ابن مالک کی روایت نقل فرمائی ہے کہ حضور ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے شادی کی تو روٹی اور گوشت کی دعوت دی اور مجھے بلانے کے لیے بھیجا گیا۔ لوگ آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا یہاں تک کہ کوئی نہ رہا۔ تو میں نے کہا حضور اکرم ﷺ کوئی رہ نہیں گیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا اب دسترخوان اٹھالو۔ کمرے میں تین آدمی بیٹھ گئے جو باتیں کر رہے تھے۔ حضور اکرم ﷺ نکلے اور حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں گئے۔ اور فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے فرمایا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اے رسول خدا ﷺ آپ کی نئی بیوی کیسی…
Read the full tafseer →5 یعنی بدون حکم و اجازت کے دعوت میں مت جاؤ اور جب تک بلائیں نہیں پہلے سے جا کر نہ بیٹھو کہ وہاں بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے۔ اور گھر والوں کے کام کاج میں حرج واقع ہو۔
6 یعنی کھانے سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھر کا راستہ لینا چاہیے۔ وہاں مجلس جمانے سے میزبان اور دوسرے مکان والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ باتیں گو نبی کے مکانوں کے متعلق فرمائی ہیں۔ کیونکہ شان نزول کا تعلق ان ہی سے تھا۔ مگر مقصود ایک عام ادب سکھلانا ہے۔ بےدعوت کسی کے یہاں کھانا کھانے کی غرض سے جا بیٹھنا یا طفیلی بن کر جانا، یا کھانے سے قبل یوں ہی مجلس جمانا، یا فارغ ہونے کے بعد گپ شپ لڑانا درست نہیں۔
7 یعنی آپ حیا کی وجہ سے اپنے نفس پر…
Read the full tafseer →آیت 53 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَـکُمْ اِلٰی طَعَامٍ } ”اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی ﷺ کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے“
{ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰـہُ } ”نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا“
اس حوالے سے سورة النور کا یہ حکم بھی یاد کرلیں : { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَہْلِہَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ } ”اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں داخل نہ…
Read the full tafseer →86 گھروں میں داخلہ پر پابندی (استیذان):۔ اس آیت میں کئی ایک معاشرتی آداب بیان فرمائے جارہے ہیں۔ اسی سورة میں پہلے ازواج النبی کو مخاطب کرکے کہا گیا تھا کہ عورتوں کا اصل مقام گھر ہے۔ انھیں نہ تو بلاضرورت گھر سے باہر نکلنا چاہئے اور نہ پہلی جاہلیت کی طرح عورتوں کو بن ٹھن کر باہر نکلنا اور اپنی زیب وزینت کی نمائش کرنا چاہئے اور یہ حکم بس باہر نکلنے تک یا آواز پر پابندی تک موقوف تھا۔ اب بھی لوگ سب گھروں میں حتیٰ کہ خود رسول اللہ کے گھروں میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے اور سیدنا عمر کو بالخصوص یہ بات ناگوار تھی کہ نبی کے گھر میں ہر طرح کے لوگ بلاروک ٹوک داخل ہوا کریں۔ چناچہ انھیں کی اس خواہش کے…
Read the full tafseer →122۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو بےدعوت جاؤ مت اور دعوت پر جاؤ جب بھی اتنا قبل سے مت پہنچ جاؤ، بعض لوگ خدمت رسول میں کھانا کھانے کے لیے جاتے اور بہت قبل سے جا کر بیٹھ جاتے اور کھانے کے انتظار میں بیٹھے رہتے۔ آپ ﷺ مروت کی بنا پر زبان سے تو کچھ نہ فرماتے۔ لیکن طبعا گرانی ضرور ہی محسوس فرماتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، تہذیب مجلسی وآئین منزلی شریعت اسلامی کے اہم مقاصد میں سے ہے، قرآن کو اس باب میں ہدایات دنیا ضرور تھا۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ گونزول آیت آداب نبوی میں سے ہے مگر حکم عام ہے۔ وھذا الحکم وان نزل خاصا فی النبی ﷺ وازواجہ فالمعنی عام فیہ وغیرہ (جصاص) ” یہ بتصریح علماء سرکار نبوی کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
آیت نمبر 53 تا 58
ترجمہ : اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلابلائے) مت جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے دعوت کے طور پر آنے کی اجازت دیدی جائے تو اس طرح داخل ہوسکتے ہو کہ کھانے کی تیاری کے منتظر نہ رہو، اِنیٰ ، اَنیٰ یَانِی کا مصدر ہے، لیکن جب تم کو بلایا جائے تب جاتا کرو پھر جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور آپس میں باتوں میں دلچسپی لیکر بیٹھے نہ رہا کرو بلاشبہ اس بیٹھے رہنے سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تم کو چلے جانے کے لئے کہنے کے بارے میں تمہارا لحاظ کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بیان حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا یعنی حق بیان کرنے کو ترک نہیں کرتا، اور ایک قراءت میں…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر نظرین انہ . اے
ایمان والو ! نبی کے گھر میں (بن بلائے) مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کیلئے اجازت دی جائے ‘ ایسے طور پر کہ اس کے پکائے جانے کے منتظر نہ رہو۔ بغوی نے ابن شہاب (زہری) کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت انس نے بیان کیا : جس وقت رسول اللہ مدینہ میں تشریف لائے میں اس وقت دس سال کا تھا۔ میری مائیں رسول اللہ کی خدمت پر میری موافقت کرتی تھیں۔ میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی اور حضور ﷺ کی وفات کے وقت میری عمر بیس سال تھی۔ حجاب کے واقعہ کا علم مجھے سب لوگوں سے زیادہ ہے۔ آیت حجاب کا نزول رسول اللہ اور زینب بنت جحش کی خلوت…
Read the full tafseer →کچھ حضرات صبح و شام رسول اکرم کے گھروں میں جایا کرتے تھے اور کھانے کے انتظار میں بیٹھ کر ازواج مطہرات کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے اس سے رسول اکرم کو رنجش ہوئی مگر آپ شرمائے کہ انہیں باہر جانے کا حکم دیں یا بغیر اجازت اندر آنے سے منع کردیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرما دیا۔
کہ اے ایمان والو نبی کے گھروں میں بغیر اجازت مت جایا کرو اور یہ کہ جس وقت تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے مگر پھر بھی ایسے وقت جاؤ کہ اس کھانے کے پکنے کے منتظر نہ ہو اور جب بلایا جائے تو چلے جایا کرو اور جس وقت کھالو تو فورا اٹھ کر چلے آیا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔
یہ بغیر اجازت جانا بیٹھے رہنا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ۔۔ : گزشتہ آیات میں نبی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے باہمی معاملات کے متعلق راہ نمائی فرمائی گئی، اب امت کو امہات المومنین کے چند آداب بتائے جاتے ہیں اور آپ ﷺ کے گھروں میں داخلے کے متعلق چند احکام بیان ہوتے ہیں، جو کچھ عرصہ بعد سورة نور میں تمام مسلمانوں کے گھروں میں داخلے کے لیے بھی نافذ کردیے گئے۔ دور جاہلیت میں عرب لوگ بلا تکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے، کسی سے ملنے کے لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت لینے یا انتظار کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی، بلکہ ہر شخص گھر کے اندر جا کر عورتوں سے بات کرلیتا اور صاحب خانہ…
Read the full tafseer →اس میں سولہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت لا تدخلو بیوت النبی الا ان یوذن لکم، ان محل نصب میں ہے۔ یہ اس معنی میں ہے آیت الا ان یوذن لکم یعنی جار کے حذف کے ساتھ منصوب ہے یہ استثناء اول یعنی بیوت النبی سے نہیں ( بلکہ لاتدخلو کی ضمیر سے ہے) آیت الی طعام غیر ناظرین اناہ غیر یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تم اس حال میں دخل نہ ہو۔ غیر میں جر طعام کی صفت ہونے کے اعتبار سے درست نہیں کیونکہ اگر یہ نعت ہوتی تو فاعل کا ظاہر کرنا ضروری تھا تو ارشاد ہوتا : غیر ناظرین اناہ انتم اسی کی مثل علم نحو میں ہے ھذا رجل مع رجل ملازم لہ اگر تو چاہے تو کہے : ھذا رجل مع رجل ملازم لہ ھو۔
یہ آیت دو قصوں کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1۔ البخاری وابن جریر وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ابن خطاب ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے پاس نیک اور برے لوگ آتے ہیں اگر آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم فرمادیں (تو اچھا تھا) تو اس پر اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیات اتاری۔
میزبان کو تکلیف پہنچانا جائز نہیں
2۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والبخاری ومسلم والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنی میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے نکاح فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کو (ولیمہ پر) بلایا صحابہ کرام ؓ نے کھایا پھر باتیں کرنے کے لیے بیٹھ گئے، اچانک آپ نے یہ ارادہ کیا کہ آپ کھڑے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اے لو گو ! جو ایمان لائے ] لَا تَدْخُلُوْا [تم لوگ داخل مت ہو ] بُيُوْتَ النَّبِيِّ [ان نبی ﷺ کے گھروں میں ] اِلَّآ اَنْ يُّؤْذَنَ [سوائے اس کے کہ اجازت دی جائے ] لَكُمْ [تمھیں ] اِلٰى طَعَامٍ [کھانے کی طرف ] غَيْرَ نٰظِرِيْنَ [بغیر دیکھنے والے ہوتے ہوئے ] اِنٰىهُ ۙ [اس کے تیارہونے کو ] وَلٰكِنْ اِذَا [اور لیکن جب ] دُعِيْتُمْ [بلا یا جائے تم لوگوں کو ] فَادْخُلُوْا [تو داخل ہو ] فَاِذَا طَعِمْتُمْ [پھر جب کھالو تم لوگ ] فَانْتَشِرُوْا [تو بکھر جائو ] وَلَا مُسْـتَاْنِسِيْنَ [اور نہ سننے کی خواہش کرنے والے ] لِحَدِيْثٍ ۭ [کسی بات کے لئے ] اِنَّ [بیشک ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
نزول آیت حجاب کا واقعہ
حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ جب رسول خدا نے حضرت زینب ؓ (بنت جحش) سے نکاح کیا (اور ولیمہ کھانے کے لیے آپ ﷺ کے دولت کدہ پر) لوگ حاضر ہوئے تو طعام ولیمہ کھا کر وہیں باتیں کرتے ہوئے بیٹھے رہ گئے، حضور اقدس ﷺ نے (چاہا کہ وہ لوگ اٹھ جائیں لہٰذا آپ نے) ایسا طرز اختیار فرمایا کہ آپ اٹھ رہے ہیں (اور وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ ﷺ کے مزاج میں وسعت اخلاق کے باعث لحاظ بہت تھا اس وجہ سے آپ ﷺ نے صاف طور سے یہ نہ فرمایا کہ چلے جاؤ) وہ آپ ﷺ کو اٹھتے دیکھ کر بھی نہ اٹھے، جب آپ ﷺ نے یہ حال دیکھا تو اٹھ کر چلے گئے، آپ ﷺ کے اٹھ جانے پر کچھ آدمی تو چلے گئے اور کچھ رہ گئے، حضور اقدس ﷺ (حضرت عائشہ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
نداء اہل ایمان ونزول حکم حجاب برائے خواتین اسلام واحتراز
از ایذاء رسول عالی مقام وتحریم نکاح ازواج مطہرات
بعد وفات سید البریات علیہ افضل الصلوات والتحیات
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں نکاح کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے خصائص کو بیان فرمایا اور ان امور کی ممانعت فرمائی جو نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے لئے باعث ایذا اور موجب تکلیف ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایذا نبوی کے انواع و اقسام اور ان کے احکام کا بیان ہوچکا تھا اس لئے اب آئندہ آیات میں ایک خفیف اور معمولی ایذا نبوی کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو بعض لوگوں…
Read the full tafseer →54:۔ یا ایہا الذین الخ، یہ مومنوں سے ساتواں خطاب ہے، ایمان والوں کو آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے کچھ حقوق و آداب تعلیم کیے گئے۔ تاکہ ایک طرف خود رسول اللہ ﷺ اور ازواج مطہرات اس تکلیف اذیت سے مھفوظ رہیں جو ان آداب کو نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوسکتی تھی۔ اور دوسری طرف کفار و منافقین کو افواہیں پھیلانے کا موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ پہلا اور دوسرا ادب لا تدخلوا بیوت النبی الخ، پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوجاؤ۔ اور جب کبھی آپ کھانے پر تمہیں بلائیں تو کھانا تیار ہونے سے پہلے ہی آپ کے گھر نہ پہنچ جاؤ۔ اور کھانا تیار ہونے کا انتظار کرنے لگو۔ تیسرا ادب، ولکن اذا دیتم…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سلسلے میں نبی ﷺ کی خصوصیات بیان فرمائیں اور اب اگلی آیت میں اللہ کے نبی کے گھر کے آداب سکھائے ہیں۔ نیز ازواج مطہرات کے متعلق بھی بعض آداب کا تذکرہ کیا ہے۔ جو عام مومنوں کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سے بعض چیزیں محض ازواج مطہرات کے لئے ہی خاص نہیں بلکہ عام ایمان والوں کے لئے بھی واجب التعمیل ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کا ذکر کر کے عام لوگوں کو بھی یہی ادب سکھایا گیا ہے۔
دعوت طعام کے آداب
ارشاد ہوتا ہے یایھالذین امنوا اے ایمان والو ! لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو۔ یہاں تک کہ تم کو کھانا کھانے کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّآ اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىہُ 0 ۙ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْـتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ 0 ۭ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ 0 ۡوَاللہُ لَا يَسْتَحْيٖ مِنَ الْحَقِّ 0 ۭ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔــلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاۗءِ حِجَابٍ 0 ۭ ذٰلِكُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ 0 ۭ وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُــؤْذُوْا رَسُوْلَ اللہِ وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْۢ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ترکیب : الا ان یوذن فی موضع الحال ای لا تدخلوا الا ماذونا لکم الی طعام متعلق بیوذن لا نہ فی معنی یدعو غیر ناظرین بالنصب علی الحال من الفاعل فی یدخلوا اومن المجرد فی لکم و یقرء بالجر علی الصفۃ للطعام وھو غیر جائز عندالبصریین میں لانہ جری علی غیر ماھولہ فیجب ان یبرزالفاعل فیکون غیر ناظرین انتم۔ ولا مستانسین معطوف علیٰ ناظرین اومقدر بفعل ای ولا تدخلوا اولا تمکثوا مستانسین۔
تفسیر : ازواج مطہرات کے حقوق جو نبی ( علیہ السلام) پر تھے، ان کو بیان فرما کر اب وہ حقوق بیان فرماتا ہے جو لوگوں پر ہیں اور نیز بزرگوں کے ساتھ حسن معاشرت کا کیا طریقہ ہے۔
ایک حکم : فقال یا ایھا الذین آمنوا لاتدخلوا بیوت النبی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤذَنَ لَـکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَنٰظِرِیْنَ اِنٰـہُ لا وَلٰـکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلاَ مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ ط اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْـکُمْ ز وَاللّٰہُ لاَ یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ ط وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ط ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ ط وَمَا کَانَ لَـکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْـکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْ م بَعْدِہٖٓ اَبَدًا ط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : ازواجی زندگی کے اصول بتلانے کے ساتھ مسلمانوں کو آداب معاشرت سمجھائے جاتے ہیں یہاں دورجاہلیت کی ایک اور رسم کے خاتمے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے کچھ مسلمان نبی کریم ﷺ کے گھر میں بلا اجازت داخل ہوجاتے اور بن بلائے مہمان بن جایا کرتے تھے۔ حیا کے پیش نظر آپ ﷺ انہیں کچھ نہ کہتے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو ! نبی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو اور نہ ہی بن بلائے مہمان بننے کی کوشش کیا کرو۔ جب تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ خواہ مخواہ باتیں کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے گھر میں بیٹھے…
Read the full tafseer →آپ کے گھروں میں داخلہ کے وقت اذن کا حکم :
53: یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ (اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو) ۔ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہُ (مگر جس وقت تم کو کھانے کیلئے اجازت دی جائے۔ ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو) ۔
نحو : ان یوذن لکم یہ موضع حال میں ہے تقدیر کلام یہ ہے لا تدخلوا الامأ ذونًا لکم۔ تم مت داخل ہو مگر اس حال میں کہ تمہیں اجازت دی گئی ہو۔ یا ظرف کے معنی میں ہو۔ تقدیر کلام یہ ہے وقت ان یوذن لکم۔ اور غیر ناظرین یہ لا تدخلوا سے حال ہے۔ اور استثناء حال اور وقت دونوں ہی سے واقع…
Read the full tafseer →آیت یا یھا الذین امنوالا تد خلواکاشان نزول
تفسیر 53۔ ، یایھا الذین امنو الا تد خلوابیوت النبی الا ان یؤذن لکم ، اس آیت کا نزول زینب بنت حجش کے بارے میں ہوا۔ جب ان کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ولیمہ کیا۔ ابن شہاب (زہری) کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا جس وقت رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے میں اس وقت دس سال کا تھا۔ میری ماں رسول اللہ ﷺ کی خدمت پر میری موافقت کرتی تھیں ۔ میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی اور حضور ﷺ کی وفات کے وقت میری عمربیس سال تھی ۔ حجاب کے واقعہ کا علم مجھے سب لوگوں سے زیادہ ہے۔ آیت حجاب کا نزول رسول اللہ ﷺ اور زینب بنت حجش کی خلوت گاہ میں ہوا۔ صبح کو رسول اللہ ﷺ حضرت…
Read the full tafseer →53۔ یہ آیت پردہ کی ہے اور اس کے انھدر کئی حکم اور آداب ہیں اور یہ آیت بھی ان آیتوں میں سے ہے جو حضرت عمر ؓ کے مشورہ کے موافق نازل ہوئی ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 503 ج 3) جس میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کے ساتھ تین باتوں میں موافق ہوا ایک یہ کہ میں نے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کاش ابراہیم (علیہ السلام) کے مقام کو آپ مصلیٰ بنادیں تو اللہ نے آیت واتخذ وامن مقام ابراہیم مصلیٰ اتاری دوسرے پردہ کے بارے میں میں نے عرض کیا اللہ نے آیت حجاب بھیجی تیسرے جب نان نفقہ کی زیادتی کی خواہش میں سب بی بیاں آپ کے پاس اکٹھی ہوئیں تو میں نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت 52
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی ازواج مطہرات کی قدر دانی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے اعمال کا قدر دان ہے۔۔۔ کہ اس نے ان کو اپنے سایہ رحمت میں لے لیا اور رسول اللہ ﷺ کو انھی پر اقتصار و انحصار کرنے کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے اللہ کے رسول اور آخرت کو چنا تھا، چناچہ فرمایا : (لا یحل لک النسآء من بعد) ” ان کے سوا اور عورتیں آپ کے لئے جائز نہیں۔ “ یعنی ان موجودہ ازواج مطہرات کے بعد (ولا ان تبدل بھن من ازواج) ” اور نہ یہ کہ آپ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلیں۔ “ یعنی ان میں سے کسی کو طلطاق دے کر، اس کی جگہ کسی اور کو نکاح میں نہ لائیں۔ اس آیت کریمہ کی بنا پر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
عورتوں کو پردہ کرنے کے حکم کا بیان
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر ناظرین اناہ۔ اے ایمان لانے والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو بجز اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لئے (آنے کی) اجازت دی جائے اور (وہاں جاکر) اس کی تیاری کے منتظر نہ ہو) ۔
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ابوعثمان سے، ان کا نام جعد بن دینار ہے، اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے جب حضرت زینب ؓ سے عقد کیا تو حضرت ام سلیم ؓ نے نے پتھر کے ایک چھوٹے سے برتن میں آپ کے لئے ہدیہ کے طور پر حلوہ بھیجا۔ حضور ﷺ نے مجھے…
Read the full tafseer →107 اہل ایمان کیلئے بعض خاص ہدایات وتعلیمات کا ذکر : یہاں سے اہل ایمان کے لئے بعض ان ہدایات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن کا تعلق نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) سے متعلق حقوق و آداب اور اصلاح معاشرہ سے ہے۔ اس آیت کریمہ کو " آیت حجاب " کہا جاتا ہے کہ اس میں پردے کا حکم نازل ہوا ہے۔ صحیحین یعنی صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے حضرت زینب بنت حجش ؓ سے عقد نکاح فرمانے کے بعد جب دعوت ولیمہ پکائی تو اس موقع پر کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہیں بیٹھ کر خوش گپیوں میں مشغول ہوگئے، جس سے رسول اللہ ﷺ کو تنگی اور کوفت ہو رہی تھی۔ حضرت زینب دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
زندگی کے کچھ آداب
تشریح : ان آیات میں بہت سے اسلامی آداب معاشرت سکھائے گئے ہیں یہاں انہیں نبی ﷺ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے جب کہ اصل میں ہر مسلمان کو اپنے رہن سہن میل ملاقات میں ان تمام احکامات کی پیروی ضرور کرنی چاہیے کیونکہ ان اصولوں سے معاشرے میں سکون، خوشی، محبت، ایثار اور خوش خلقی و خلوص پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ آداب یہ ہیں۔
پہلا ادب : کہ کسی کے گھر بغیر اجازت گھس جانا خلاف تہذیب ہے۔ خاص طور سے بنی کے گھروں میں صرف اس وقت جاؤ جب ان کی طرف سے کھانے کی دعوت دی جائے۔ اس صورت میں بھی آداب کا خیال رکھو کیونکہ نبی ﷺ خاص طور سے بےحد مصروف شخصیت ہیں اس لیے ان کے وقت اور مصروفیات کا خیال رکھتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
آیات 53 تا 58
اسرارومعارف
اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں بلا اجازت داخل مت ہوا کرو اگر آپ ﷺ کھانے کی دعوت پہ بلائیں تو بھی ادب یہ ہے کہ عین وقت پر جاؤ کہ وہاں کھانے کے انتظار میں بیٹھنا نہ پڑے اور ادھر ادھر مت دیکھو نہایت ادب و احترام سے جاؤ اور کھانا کھا کر فورا رخصت چاہو باتوں میں لگ کر مت بیٹھ رہو کہ یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں مگر اللہ ایسی باتوں کو صاف بیان فرما دیتا ہے کہ یہ فطری ناگواری بھی تمہارے لیے برکات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے اور حق بات اور سیدھا راستہ یہی ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے۔ ازواج النبی ﷺ سے بات کرنا ہو یا کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے…
Read the full tafseer →ف 3 حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ولیمہ پر لوگوں کو دعوت دی۔ جب کھانا کھاچکے تو بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ اٹھنے کے لیے تیار ہوئے مگر کچھ لوگ پھر بھی بیٹھے رہے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ اٹھ کر چلے گئے۔ آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ تین شخص ابھی تک بیٹھے باتوں میں مشغول ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ آخر جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی اور آپ ﷺ حضرت زینب ؓ کے ہاں تشریف لائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( شوکانی) ۔4 اس آیت کو آیت حجاب ( پردہ کی آیت) کہا جاتا ہے۔ یہ پردہ کا مسئلہ اس آیت میں دوسرا مسئلہ ہے۔ روایات صحیحہ میں ہے کہ آیت حجاب…
Read the full tafseer →(33:53) لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام غیر نظرین انہ۔
لا تدخلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ بیوت النبی مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لا تدخلوا۔ الا حرف استثنا ان یوذن لکم (فی معنی الظرف) ایوقت مستثنیٰ الی طعام متعلق یوذن۔ غیر نفی کے لئے آیا ہے ناظرین ای منتظرین اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت جر۔ انہ مضاف مضاف الیہ۔ انی۔ پکنا ۔ پک کر تیار ہونا۔ انی الشی۔ یانی اناء وانا۔ فھو انی۔ غنی کے وزن پر حان وادرک یعنی بلغ غایتہ او نضجہ۔ یعنی کھانے کے پک کر تیار ہوجانے کو انی کہتے ہیں۔ غیر ناظرین انہ۔ یعنی بغیر اس حالت کے کہ اس کھانے کے پکنے کا (بیٹھ کر) انتظار کرنے والے ہو۔
یہ جملہ لا تدخلوا کا حال ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
لغات القرآن : آیت نمبر 53 تا 54
لاتدخلوا : تم داخل نہ ہو
ان یوذن : یہ کہ اجازت دے دی گئی ہو
غیر نظرین : نہ تکنے والے
انی : تیار ہوجانے کا وقت
دعیتم : تمہیں بلایا گیا
لا مستانسین : جی لگا نہ نہ بیٹھنے والے
اسئلوا : مانگو۔ سوال کرو
وراء الحجاب : پردے کے پیچھے
اطھر : زیادہ پاکیزہ
تشریح آیات نمبر 53 تا 54
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی گھریلو زندگی اور آپ کے ادب و احترام کے آداب سکھائے ہیں۔ چونکہ آپ کی محبوب ذات اور آپ کے گھرانے کے ہر فرد کی زندگی دوسروں کے لئے بہترین نمونہ زندگی ہے اس لئے آپ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے ذریعہ بعض وہ احکامات دیئے گئے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
معاشرتی آداب۔
(ف 1) شان نزول : جب نبی ﷺ نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی توجماعتیں کی جماعتیں آتی تھیں اور کھانے سے فارغ ہوکر چلی جاتی تھیں، آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہوکر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کردیا، اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے مکان تنگ تھا اس سے گھروالوں کو تکلیف ہوئی اور حرج ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کرسکے، نبی ﷺ اٹھے اور ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور دورہ فرما کر تشریف لائے اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضور ﷺ پھر واپس ہوگئے یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوگئے تب حضور اقدس دولت سرائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[54] یعنی وہ عورتیں آیت 50 میں فرما دیں اس سے زیادہ حلال نہیں۔ اور جواب موجود ہیں ان کو بدلنا حلال نہیں کیونکہ جب آپ ﷺ کی ازواج اس بات پر راضی ہوگئی ہیں کہ تنگی و عسرت میں آپ ﷺ کا ساتھ دیں گی اور انہوں نے دنیا کے عیش و آرام پر لات مار کر اللہ و رسول کی خوشنودی اور آخرت کا راستہ اختیار کرلینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اب آپ ﷺ کے لئے حلال نہیں کہ ان میں کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آداب دعوت
قرآن ایک مکمل دستور العمل ہے ۔ اس میں تمام ضروری مسائل سے تمسک کیا گیا ہے ۔ اور کسی بحث کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ جہاں عقائد کی تفصیل بتائی ہے ۔ وہاں عبادات کا بھی ذکر ہے ۔ معاشرت انسانی کی گتھیوں کو بھی سلجھایا گیا ہے ۔ اور اخلاق و سیرت کے متعلقہ لوازم کی بھی تشریح کی گئی ہے ۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ عام آداب یا عوایدر سمیہ کیا ہونے چاہئیں ۔ تاکہ مسلمان اپنی تہذیب میں دوسروں کے محتاج نہ ہوں ۔ اور ساری کائنات کے لئے ان کا وجود اسوہ اور نمونہ ہو ۔
حضرت زنیب کے ولیمہ کے موقع پر ایسا ہوا ۔ کہ بعض صحابہ دیر تک کھانے سے فراغت کے بعد حضور ﷺ کے ہاں بیٹھے رہے ۔ اور باتوں میں مشغول رہے جس سے…
Read the full tafseer →53۔ اے دین حق کو قبول کرنے والو تم نبی کے گھروں میں بےبلائے نہ جایا کرو مگر ہاں جب تم کو کھانے کے واسطے آنے کی اجازت دی جائے جانی کی حالت بھی اس طور پر ہو کہ تم کو اس کھانے کی ی تیاری کا انتظار نہ کرنا م پڑے یعنی پہلے سے نہ جا بیٹھو اور نہ کھانی کی نیت سے دعوت کے بغیرجائو بلکہ جب تم کو کھانا کھانے کیلئے بلایا جائے اس وقت جائو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جائو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہاکرو کیونکہ تمہاری یہ بات نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچاتی ہے سو نبی تم سے لحاظ کرتا اور شرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاف اور ٹھیک بات کہنے میں کسی سے شرم اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور پیغمبر کی بیویوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 5۔ یعنی بےدعوت تو جاومت، اور دعوت ہو تو تب بھی بہت پہلے سے مت جا بیٹھو۔
6۔ اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاو
7۔ یعنی بےضرورت تو پردہ کے پاس جانا اور بات کرنا بھی نہ چاہئے، لیکن ضرورت میں کلام کا مضائقہ نہیں مگر رویت نہ ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم وآخر ﷺ کے گھروں میں اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم
53 ۔ عربوں میں رواج تھا کہ ایک دوسرے کے گھر جانے کی ضرورت پیش آتی تو بغیر اجازت اندر چلے جاتے کسی شخص کو کسی دوسرے سے ملنا ہوتا تو وہ بےدھڑک اس کے گھر میں داخل ہوجاتا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر پکارنے اور اجازت لینے دینے کی عادت نہ تھی اور بدقسمتی سے ہمارے دیہاتوں میں آج تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ مہمان نواز بھی بہت تھے اور ہجرت سے پہلے بھی قریش مکہ کی اکثر دعوت کرتے رہتے اور ہجرت کے بعد بھی آپ ﷺ نے یہ معمول جاری رکھا اور جب دعوت عام ہوتی تو اس وقت مسلم وغیر مسلم کا فرق بھی نہ فرماتے سب کی دعوت کردیتے۔ قومی رواج کے…
Read the full tafseer →Commentary
These verses have laid down some etiquettes and rules of Islamic social behavior. The reason for mentioning them in the context of the previous verses is that these rules were initially revealed for the Holy Prophet's ﷺ household and his wives, although their applicability is not specific or exclusive to him.
The First Injunction Etiquettes for hosts and guests
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا…
Read the full tafseer →95 This is an introduction to the general Command that was given in Surah An-Nur: 27 about a year later. In the ancient times the Arabs would enter one another's house unceremoniously. If a person had to see another person he did not drink it was necessary to call at the door or take permission for entry, but would enter the house and ask the womenfolk and children whether the master was at home or not, This custom of ignorance was the cause of many evils and would often give rise to some serious evils. Therefore, in the beginning a rule was made in respect of the houses of the Holy Prophet…
Read the full tafseer →