ازواج مطہرات کا عہد و فا۔
پہلی آیتوں میں گذر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو حضور ﷺ کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہوجائیں۔ لیکن امہات المومنین نے دامن رسول کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا۔ اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ حضور ﷺ کو اس آیت میں حکم ہوا کہ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرسکتے نہ آپ ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو ؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود حضور ﷺ…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 93
اس ارشاد کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جو عورتیں اوپر آیت نمبر 50 میں حضور ﷺ کے لیے حلال کی گئی ہیں ان کے سوا دوسری کوئی عورت اب آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جب آپ کی ازواج مطہرات اس بات کے لیے راضی ہوگئی ہیں کہ تنگی و ترشی میں آپ ﷺ کا ساتھ دیں اور آخرت کے لیے دنیا کو انہوں نے تج دیا ہے، اور اس پر بھی خوش ہیں کہ آپ ﷺ جو برتاؤ بھی ان کے ساتھ چاہیں کریں، تو اب آپ ﷺ کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں۔
سورة الْاَحْزَاب 94
یہ آیت اس امر کی صراحت کر رہی ہے کہ منکوحہ بیویوں کے علاوہ مملوکہ عورتوں سے بھی تمتع کی اجازت ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
رسول اللہ ﷺ کی زاہدانہ زندگی اور اس کے ساتھ تعدد ازواج کا مسئلہ
اعداء اسلام نے ہمیشہ مسئلہ تعدد ازواج اور خصوصاً رسول اللہ ﷺ کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی کو سامنے رکھا جائے تو کسی شیطان کو بھی شان رسالت کے خلاف وسوسہ پیدا کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ جس سے ثابت ہے کہ آپ نے سب سے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے کیا، جو بیوہ سن رسیدہ صاحب اولاد اور دو شوہروں کے نکاح میں رہنے کے بعد آئی تھیں، اور پچاس سال کی عمر تک صرف اسی ایک سن رسیدہ بیوی کے ساتھ شباب کا پورا زمانہ گزارا۔ یہ پچاس سالہ دور عمر مکہ کے لوگوں کے سامنے گزرا۔ چالیس…
Read the full tafseer →لا یعدلک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من زواج ولاعجبک حسنھن الا ما ملکت یمینک وکان اللہ علی کل شئی رقیبا (52)
مذکورہ بالا اصناف کی خواتین کے سوا دوسری تمام عورتیں نبی ﷺ کے لئے حرام کردی گئیں۔ ابن کثیر ؓ نے ایک پورے گروہ کی، جس میں ابی بن کعب، مجاہد، عکرمہ، ضحاک، ابو رزین، ابو صالح، حسن، قتادہ اور سری ؒ جیسے اکابر تفسیر شامل ہیں۔ یہ رائے نقل کی ہے کہ وہ سوی ذلک من اصناف النساء فلا یحل لک (اور ان کے سوا دوسری اقسام کی جو خواتین ہیں وہ تمہارے لئے جائز ہیں ہیں) آنحضرت ﷺ کے لئے ایک خاص دائرہ جو آیت 50 میں مذکور ہے، مخصوص کردیا گیا ہے اس سے باہر کوئی نکاح آپ نہیں کرسکتے تھے۔
’ ولا ان تبدل بھن من…
Read the full tafseer →52۔ 1 آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی ﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ ﷺ کو ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد 9 تھی اور دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ ﷺ کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ ﷺ نے کوئی نکاح نہیں کیا (ابن کثیر)
52۔ 2 یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ ﷺ کو اجازت تھی اور بعض نے (وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ)…
Read the full tafseer →43: یہ آیت پچھلی دو آیتوں کے کچھ عرصے کے بعد نازل ہوئی ہے، پیچھے آیات نمبر 28، 29 میں ازواج مطہرات کو جو اختیار دیا گیا تھا، اس کے جواب میں تمام ازواج مطہرات نے دنیا کی زیب وزینت کے بجائے آخرت کو اور آنحضرت ﷺ کی رفاقت کو ترجیح دی تھی، اس کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا، اور موجودہ ازواج مطہرات میں سے کسی کو طلاق دے کر ان کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنا بھی ممنوع قراردے دیا (بعض مفسرین نے اس آیت کی کسی اور طرح بھی تفسیر کی ہے، لیکن جو تفسیر اوپر ذکر کی گئی، وہ حضرت انس اور حضرت ابن عباس وغیرہ سے منقول ہے (روح المعانی بحوالہ ٔ بیہقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52)
نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں…
Read the full tafseer →2 یعنی جتنی قسمیں (اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ ) 33 ۔ الاحزاب :50) میں فرما دیں، اس سے زیادہ حلال نہیں۔ اور جواب موجود ہیں ان کو بدلنا حلال نہیں۔ یعنی یہ کہ ان میں سے کسی کو اس لیے چھوڑ دو کہ دوسری اس کی جگہ کر لاؤ۔ حضرت عائشہ اور ام سلمہ سے روایت ہے کہ یہ ممانعت آخر کو موقوف ہوگئی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نہ اس کے بعد کوئی نکاح کیا نہ ان میں سے کسی کو بدلا۔ آپ ﷺ کی وفات کے وقت سب ازواج برابر موجود رہیں۔
3 یعنی لونڈی یا باندی۔ حضور ﷺ کی دو حرم (باندیاں) مشہور ہیں۔ ایک ماریہ قبطیہ جن کے شکم سے صاحبزادہ حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے بچپن میں انتقال کر…
Read the full tafseer →آیت 52 { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْم بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ } ”اب اس کے بعد اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں“
یعنی آئندہ نہ تو آپ ﷺ مزید کوئی نکاح کریں اور نہ ہی اپنی ازواجِ مطہرات رض میں سے کسی کو طلاق دیں۔
{ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ } ”اگرچہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے“
یعنی بر بنائے طبع بشری کسی خاتون کی طرف کوئی رغبت ہونے کے باوجود بھی اب آپ ﷺ کو مزید نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آیت کے یہ الفاظ فطرتِ انسانی کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ انسانی فطرت کے اس طبعی میلان کی عکاسی…
Read the full tafseer →84 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کو جن چار قسم کی بیویوں سے نکاح کرلینے کی اجازت دی جاچکی ہے ان کے علاوہ دوسری عورتیں آپ پر حلال نہیں بس یہی کافی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بیویاں اس بات پر آمادہ ہوگئی ہیں کہ جو آپ کی طرف سے روکھا سوکھا ملے اس بات پر وہ صابر و شاکر رہیں۔ اور باری کا مطالبہ کرکے بھی آپ کو پریشان نہ کریں نہ اسے وجہ نزاع بنائیں تو اب آپ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ ان صابر و شاکر بیویوں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ کوئی اور لے آئیں۔ خواہ وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو بھی اب انھیں بیویوں پر صابر و شاکر رہنا چاہئے۔
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد جس…
Read the full tafseer →119۔ (چنانچہ اہل قرابت میں سے غیر مہاجر بیویاں حلال نہیں اور دوسری عورتوں میں سے غیر مومن ات حلال نہیں) (آیت) ” من بعد “۔ یعنی ان بیویوں کے علاوہ جن کے اوصاف ابھی بیان ہوچکے۔ قال عکرمۃ والضحاک معنی الایۃ لایحل لک النساء الا اللاتی احللنا لک بالصفۃ التی تقدم ذکرھا (معالم) اے من بعد الاصناف التی سمیت قالہ ابی بن کعب وعکرمۃ وابورزین وھو اختیار محمد بن جریر (قرطبی)
120۔” اس طرح سے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور بجائے ان کے دوسری کرلیں، اور یوں بدون ان کے طلاق دیئے ہوئے اگر کسی سے نکاح کرلیں تو اس کی ممانعت نہیں۔ اسی طرح اگر بلاقصد تبدل کسی کو طلاق دیں تو اس کی بھی ممانعت ثابت نہیں۔ بلکہ لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →لایحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج ولو اعجبک حسنھن الا ما
ملکت یمینک . ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان (موجودہ) بیبیوں (کو چھوڑ کر ان) کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں ‘ خواہ آپ کو ان کا حسن دل پسند ہو مگر جو آپ کی باندیاں ہوں (ان کو گھٹا بڑھا سکتے ہیں) ۔
مِنْم بَعْدُ یعنی آج کے بعد یہاں تک کہ اگر موجودہ عورتوں میں سے کوئی مرجانے تو اس کی جگہ بھی دوسری بیوی کرنا درست نہیں۔
وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ یعنی یہ بھی آپ کیلئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے کر کسی اور عورت سے اس کی بجائے نکاح کرلیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ نے بیبیوں کو…
Read the full tafseer →ان کے علاوہ اور عورتیں جن میں یہ قید نہ ہو آپ کے لیے حلال نہیں یا یہ کہ جو نو ازواج مطہرات اس وقت آپ کے نکاح میں موجود ہیں ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں اور اس وقت یہ ازواج مطہرات آپ کے نکاح میں موجود تھیں، حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق، حضرت حفصہ بن عمر بن الخطاب، حضرت زینبت بنت جحش، حضرت ام سلمہ بنت ابی مایہ مخزومی، حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت صفیہ بنت حی ابن اخطب، حضرت میمونہ بنت حارث، حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت جویریہ بنت الحارث المصطلیقہ اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان موجودہ بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں کرلیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ مذکورہ رشتہ داروں میں سے…
Read the full tafseer →لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ۔۔ : پچھلی آیات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہوجائیں، لیکن جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑنا پسند نہ کیا اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دی تو انھیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلا یہ ملا کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ اب آپ ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرسکتے، نہ ہی ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں، گو اس کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ یہ صراحت اس لیے فرمائی کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ بیویوں کی تعداد نو (9) سے زیادہ کرنا جائز نہیں، ان میں…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ علماء کا اس ارشاد آیت لایحل لک النساء من بعد کی تاویل میں سات اقوال ہیں : (1) یہ آیت سنت سے منسوخ ہے اس کی ناسخ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث ہے : رسول اللہ ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے عورتوں کا حلال کردیا (2) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ یہ ایک اور آیت کے ساتھ منسوخ ہے۔ امام طحاوی نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال نہیں ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا کہ آپ عورتوں میں سے جس سے چاہیں شادی کرلیں مگر محرم کے ساتھ شادی نہیں کرسکتے (3) وہ آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت ترجی من…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی ابو داوٗد وابن مردویہ احمد وابن المنذر وابن جریر وابن مردویہ نے زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابی ؓ سے عرض کیا مجھے آپ بتائیے اگر نبی ﷺ کی بیویاں فوت ہوجائیں تو کیا آپ کے لیے شادی کرنا حلال نہ ہوتا ؟ فرمایا رسول اللہ ﷺ کے لیے کیا مانع ہے۔ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ (کہ آپ کے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں ہیں) اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے خاص قسم کی عورتیں حلال کی ہیں اور ان کی صفت بھی بیان کردی اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہالنبی انا احللنا لک ازواجک سے لے کر آیت وامرأۃ مومنۃ تک پھر فرمایا آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ یعنی آپ کے…
Read the full tafseer →لَا يَحِلُّ لَكَ [حلال نہیں ہوں گی آپ ﷺ کے لئے ] النِّسَاۗءُ [عورتیں ] مِنْۢ بَعْدُ [اس کے بعد سے ] وَلَآ اَنْ تَــبَدَّلَ بِهِنَّ [اور نہ یہ کہ آپ ﷺ تبدیل کریں ان کے بدلے ] مِنْ اَزْوَاجٍ [بیویوں سے ] وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ [اور اگرچہ بھلا لگے آپ ﷺ کو ] حُسْنُهُنَّ [ان کا حسن ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جس کا ] مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ ۭ [مالک ہوا آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور ہے اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] رَّقِيْبًا [نگہبانی کرنے والا ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد آپ کے لیے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ آپ ان بیویوں کے بدلے دوسری عورتیں سے نکاح کرسکتے ہیں
اس آیت کا مطلب ظاہری الفاظ اور سباق کے اعتبار سے یہ ہے کہ اس وقت (اس آیت کے نزول کے وقت) جو آپ کے نکاح میں عورتیں ہیں آپ انہیں کو اپنے نکاح میں رکھیں ان کے علاوہ کسی عورت سے آپ کو نکاح کرنا حلال نہیں ہے اور اس کی بھی اجازت نہیں ہے کہ ان میں کسی عورت کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور عورت سے نکاح کرلیں۔ حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے اور دیگر ائمہ تفسیر سے آیت بالا کی یہ تفسیر منقول ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کو اختیار دے دیا کہ چاہو تو دنیا لے لو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ذکر بعض احکام نکاح و طلاق وبعض خصائص نبوی دوبارہ نکاح
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذا نکحتم ال مومن ات۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء رقیبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت زینب ؓ کے نکاح اور طلاق کا قصہ مذکور تھا۔ اس لئے آئندہ آیات میں نکاح اور طلاق وغیرہ کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں۔ بعض احکام تو وہ ہیں جو عام مومنین سے متعلق ہیں اور بعض احکام وہ ہیں جو خاص آنحضرت ﷺ کے نکاح سے متعلق ہیں اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہیں جو آپ ﷺ کی فضیلت اور شرف اور کرامت کی دلیل ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی ایک خاص شان امتیازی ہے جس کی بنا پر نبی کے حق میں بعض احکام امت کے احکام سے جدا ہیں اور نکاح…
Read the full tafseer →53:۔ لا یحل لک الخ مذکورہ بالا چار اقسام کی عورتوں کے علاوہ آپ کے لیے کسی اور عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں اور نہ موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی دوسری عورت سے نکاح جائز ہے ای من بعد الاصناف التی سمیت قال ابی بن کعب و عکرمۃ و ابو رزین وھو اختیار محمد بن جریر (قرطبی ج 4 ص 220) ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ جتنی قسمیں کہہ دیں اس سے زیادہ حلال نہیں اور جو ہیں ان کا بدلنا حلال نہیں، اس طرح یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ شاہ ولی اللہ اور دوسرے کئی علماء نے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو نو عورتیں اس وقت آپ کے نکاح میں ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ربط آیات
گزشتہ درس میں نکاح کے سلسلے میں حضور ﷺ کی چار خصوصیات کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ مہر کی ادائیگی پر آپ کے لئے چار سے زیادہ بیویاں بھی حلال ہیں۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی ملک میں یعنی لونڈیاں بھی آپ پر حلال ہیں اور عام مسلمانوں کے برخلاف نبی کی لونڈیوں سے کوئی امتی نکاح نہیں کرسکتا۔ تیسری بات اللہ نے یہ فرمائی کہ آپ کے لئے آپ کی چچازاد پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور خالہ زاد میں سے صرف وہ عورتیں حلال ہیں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اگر کوئی مومنہ عورت اپنے آپ کو نبی (علیہ السلام) کی ذات کے لئے ہبہ کر دے تو آپ اس سے بغیر مہر کے بھی نکاح…
Read the full tafseer →لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَــبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ حُسْنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا 52ۧ
حلَال
حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی: وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] ، وقال تعالی: هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116]
( ح ل ل ) الحل
اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ حل ( ض ) اشئی حلا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے حلال ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] اور جو حلال…
Read the full tafseer →دوسرا حکم : لایحل لک النساء من بعد یہ حضرت ﷺ کو دوسرا حکم ہے کہ آپ کو اور کوئی عورت حلال نہیں۔ مفسرین کے اس کی تفسیر میں چند اقوال ہیں۔ ابن عباس ؓ و مجاہد و ضحاک و قتادہ و حسن و ابن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت ﷺ کو ان موجودہ نو بیویوں کے سواء جو آپ کے پاس تھیں جنہوں نے اللہ اور رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا تھا اور بیویوں سے نکاح کرنا منع ہوگیا تھا، ان کی اس نیکی کے بدلے میں اور وہ نو بیویاں یہ تھیں۔ عائشہ، حفصہ بنت عمر، اُم حبیبہ بنت ابی سفیان، سودہ بنت زمعہ ‘ اُم سلمہ بنت ابی امیہ، صفیہ بنت حی بن اخطب، جو خیبر کی رئیس یہودی کی بیٹی تھیں۔ میمونہ بنت الحارث ہلالیہ، زینب بنت جحش اسدیہ، جویریہ بنت…
Read the full tafseer →لاَ یَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْ م بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلاَّ مَامَلَـکَتْ یَمِیْنُکَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ رَّقِیْبًا۔ (الاحزاب : 25)
(اس کے بعد آپ کے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ آپ ان کی جگہ دوسری بیویاں لے آئیں چاہے ان کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا لگے، سوائے لونڈیوں کے، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ )
نکاح کے معاملے میں آنحضرت ﷺ پر بعض پابندیاں
آیت پچاس میں خواتین کی جن اصناف کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کے علاوہ تمام عورتیں نبی کریم ﷺ کے لیے حرام کردی گئیں۔ ہمارے اکثر آئمہ ٔ تفسیر کے ساتھ ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو مزید اختیارات۔
نبوت کے فرائض کی انجام دہی کے لیے نبی معظم ﷺ کو حق مہر اور بعض ازواجی پابندیوں سے آزاد کردیا گیا تاکہ آپ ایک حد تک گھریلو ما حول سے آزاد ہو کر دعوت کا کام جاری رکھ سکیں۔ آپ کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں جس کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں اور جس کو چاہیں الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلالیں۔ گویا کہ جس بیوی سے جیسا برتاؤ کرنا چاہیں کریں آپ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بفرض محال اگر کسی بیوی کے ساتھ کوئی کمی، بیشی ہوجاتی ہے تو وہ اسے محسوس نہ کرے۔ اس طرح ہر بیوی اپنے مقام پر…
Read the full tafseer →موجودہ کے علاوہ حلال نہیں :
52: لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآ ئُ (حلال نہیں آپ کے لئے عورتیں) ۔
نحو، قراءت : ابو عمرو، یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے علاوہ دیگر قراء نے مذکر صیغہ پڑھا ہے۔ کیونکہ تانیث جمع غیر حقیقی ہے اور جب بلا فصل قال نسوۃؔ ] یوسف : 30[ میں جائز ہے تو فاصلہ کی موجودگی میں بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ مِنْ بَعْدُ (ان کے علاوہ) ان نو کے علاوہ کیونکہ 9 ازواج یہ آپ کے لئے اسی طرح نصاب تھا جیسا امت کیلئے چار نصاب ہے۔ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ (اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان ازواج کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں) ان کو طلاق دے کر۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو آپ ان ازواج تمام کی جگہ…
Read the full tafseer →تفسیر 52، لایحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن ازواج ، ابو عمر و اور یعقوب نے ، لاتحل ، تاء کے ساتھ اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ان نو بیویوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اختیار دیا اور بیویوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہی اختیار کیا تو اللہ نے ان کی قدردانی عطافرمائی۔
لا یحل لک النساء من بعد کی تفسیر
جب رسول اللہ ﷺ نے بیبیوں کو اختیار دے دیا اور بیبیوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی اختیار کیا تو اللہ نے ان کی قدردانی فرمائی اور پیغمبر کے لیے موجودہ بیبیوں کے علاوہ دوسری عورتوں کو حرام کردیا اور اس کی بھی ممانعت کردی کہ ان بیبیوں میں سے کسی کو طلاق دے کر کسی اور عورت سے…
Read the full tafseer →52۔ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ ؓ اور تابعین (رح) کے دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کی تفصیل بتلائی ہے کہ یا قریشی عورت مہاجر ہو تو مہر کے بعد اس سے نکاح حلال ہے یا نذر کے طور پر جو عورت اپنے آپ کو پیش کرے تو بلا مہر اس سے نکاح حلال ہے اب اس آیت کی رو سے سوائے ان دو قسموں کے اور کسی قسم کی عورت سے نکاح کسی عورت سے آنحضرت ﷺ کو نکاح کرنا جائز نہیں پہلے قول کی روایت ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح ہوچکی 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کیرو ص 502 ج 3۔ ) اور تفسیر کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول مقدم گنا جاتا ہے اس لیے یہی تفسیر صحیح ہے اور اس تفسیر کے صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت 52
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی ازواج مطہرات کی قدر دانی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے اعمال کا قدر دان ہے۔۔۔ کہ اس نے ان کو اپنے سایہ رحمت میں لے لیا اور رسول اللہ ﷺ کو انھی پر اقتصار و انحصار کرنے کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے اللہ کے رسول اور آخرت کو چنا تھا، چناچہ فرمایا : (لا یحل لک النسآء من بعد) ” ان کے سوا اور عورتیں آپ کے لئے جائز نہیں۔ “ یعنی ان موجودہ ازواج مطہرات کے بعد (ولا ان تبدل بھن من ازواج) ” اور نہ یہ کہ آپ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلیں۔ “ یعنی ان میں سے کسی کو طلطاق دے کر، اس کی جگہ کسی اور کو نکاح میں نہ لائیں۔ اس آیت کریمہ کی بنا پر وہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج۔ ان عورتوں کے بعد آپ کے لئے کوئی جائز نہیں اور نہ یہی کہ آپ ان بیویوں کی جگہ دوسری کرلیں) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ ان خواتین کے بعد جن کا اوپر ذکر ہوا ہے کسی سے نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہو یا یہود یہ یا نصرانیہ یا کافرہ۔
مجاہد سے قول باری (الا ما ملکت یمینک۔ مگر ہاں بجز ان کے جو آپ کی لونڈیاں ہوں) کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہودیہ یا نصرانیہ لونڈی سے ہم بستری کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ سعید نے قتادہ سے قول باری (لا یحل لک النساء ولا ان تبدل بھن من ازواج) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا…
Read the full tafseer →105 حضور ﷺ کے نکاح سے متعلق بعض پابندیوں کا ذکر وبیان : یعنی نہ تو آپ ﷺ کیلئے ان ازواج مطہرات پر کسی اور کا اضافہ کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے کی۔ کہ جب انہوں نے دنیا اور اس کی زینت کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول ہی کو اختیار کیا تو اب آپ ﷺ کو بھی ان سے نظر نہیں ہٹانی چاہیئے ۔ " اَما من بعد ھؤلاء التسع فلا یجوز لک العشرۃ فما فوقہا " ۔ (الجامع : ج 2 ص 172) ۔ " من بعد ہؤلاء التسع الّٰتِی فی عصمتک " ۔ (صفوۃ : ج 2 ص 532) ۔ قال ابن عباس ؓ حبسہ اللّٰہ تعالیٰ علیہن کما حبہن علیہ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ روایات سے ثابت ہے کہ بعد میں یہ آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
نبی کے لیے احکامات اور خاص رعایتیں
تشریح : اوپر دی گئی آیات میں سات احکامات نکاح و طلاق کے بارے میں دیے گئے ہیں جو خاص طور پر صرف نبی اکرم ﷺ کے لیے دیے گئے ہیں۔ مگر ان تمام احکامات میں آپ کے لیے بھی حدود رکھی گئی ہیں کہ ان سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے نکاح اور طلاق کا معاملہ اختیار کریں۔ کیونکہ اللہ ہر مسئلہ کی حقیقت، انجام اور اچھائی و برائی سے اچھی طرح واقف ہے اس لیے اس نے عام مسلمانوں کے لیے کچھ مختلف احکامات دیے ہیں اور نبی اکرم کی برتری کے اور معروفیت کے سبب کچھ خاص رعایتیں ان کو دی ہیں۔ پھر آخر میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52
اسرارومعارف
ذکر اللہ کی تاکید :
اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →ف 1 مفسرین کا بیان ہے کہ جب ” ازواج مطہرات “ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کرلیا کما مترفی آیۃ التخیر تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بدلہ دیا کہ آنحضرت ﷺ کے لئے ان کے ماسوا اور عورتوں سے نکاح کرنا حرام فرما دیا اور یہ بھی منع کردیا کہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے کر اس کی بجائے کسی دوسرے عورت سے نکاح کیا جائے۔ یہ آیت حضرت حفصہ ؓ کی طلاق کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : اس آیت میں نفس طلاق سے منع نہیں فرمایا، بلکہ ممانعت اس کی ہے کہ طلاق اس مقصد سے ہو کہ اس کی بجائے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا جائے۔ (ابن کثیر) مگر یہ حرمت اوپر کی آیت ” انا حللنا لک الخ “ سے منسوخ ہوگئی…
Read the full tafseer →(23:52) لا یحل۔ حل یحل حل سے نہی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل النساء ہے جو جمع مونث غیر حقیقی ہے اور اس کے لئے فعل واحد مذکر لانا جائز ہے پھر یہ فصل کے ساتھ واقع ہوا ہے حالانکہ بلا فصل بھی تذکیر جائز ہے۔
من بعد ای من بعد التسع اللاتی فی عصمتک الیوم۔ یعنی ان نو بیویوں کے علاوہ جو آپ کے نکاح میں اس وقت ہیں دوسری عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں۔ ولا ان تبدل بھن من ازواج۔ وائو عاطفہ ہے تبدل اصل میں تتبدل تھا ایک تا تخفیفا حذف کی گئی تبدل تفعل سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو بدل ڈالے تو تبدیل کرلے۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ازواج حاضرہ کی طرف راجع ہے من ازواج تاکید نفی اور ازواج بالتحریم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 52
ترجی (ارجاء) : موخر کرنا ۔ دور رکھنا
توی (ایواء) : قریب کرنا
ابتغیت : تو نے تلاش کیا۔ طلب کیا
عزلت : تو نے الگ کردیا
ادنی : قریب
ان تقر : یہ کہ ٹھنڈی رہیں
اعین (عین) : آنکھیں
لا یحزن : وہ ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گی
رقیب : نگران۔ گہری نظر رکھنے والا
تشریح : آیات نمبر 51 تا 52
اللہ تعالیٰ نے قرآن کرم میں عدل و انصاف کی بعض شرائط کے ساتھ اس بات کو واضح طور پر بیان فرمادیا ہے کہ ہر مومن زیادہ سے زیادہ چار بیویاں تک رکھ سکتا ہے ۔ ان کے نان و نفقہ (کھانے پینے اور ضروریات زندگی) اور ہر ایک کے پاس شب باشی یعنی رات گذارنے کی باری مقرر کرنا لازمی اور ضروری ہے اس کے خلاف جائز…
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان نوبیویوں کے بعد جو آپ کے نکاح میں ہیں جنہیں آپ نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ اور رسول کو اختیار کیا کیونکہ آنحضرت کے لیے ازواج کا نصاب نو ہے جیسے کہ امت کے لیے چار، فرمایا انہیں طلاق دے کر ان کی جگہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلو، ایسا بھی نہ کرو، یہ احترام ان ازواج کا اس لیے ہے کہ جب نبی ﷺ نے انہیں اختیار دیا تھا تو انہوں نے اللہ رسول کو اختیار کیا اور آسائش دنیا کو ٹھکرادیا۔ چناچہ رسول کریم نے انہیں پر اکتفا فرمایا، اور آخیر تک یہی بی بیاں حضور کی خدمت میں رہیں، حضرت عائشہ وام سلمہ سے مروی ہے کہ آخیر میں حضور کے لیے حلال کردیا گیا تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[54] یعنی وہ عورتیں آیت 50 میں فرما دیں اس سے زیادہ حلال نہیں۔ اور جواب موجود ہیں ان کو بدلنا حلال نہیں کیونکہ جب آپ ﷺ کی ازواج اس بات پر راضی ہوگئی ہیں کہ تنگی و عسرت میں آپ ﷺ کا ساتھ دیں گی اور انہوں نے دنیا کے عیش و آرام پر لات مار کر اللہ و رسول کی خوشنودی اور آخرت کا راستہ اختیار کرلینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اب آپ ﷺ کے لئے حلال نہیں کہ ان میں کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
حضور ﷺ کے تعددازدواج کا فلسفہ
2: مخالفین نے تعدد ازدواج پر بہت سے اعتراض کئے ہیں اور کہا ہے کہ جس شخص کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں ہوں ۔ وہ کیونکر روحانیت کا پیکر ہوسکتا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک روحانیت کے معنے مجرد اور ہبانیت کے ہیں ۔ اور خدا رسیدہ شخص ان کے نظریہ کے مطابق وہ ہے جو دنیوی برکات سے یک قلم محروم ہو ۔ قطع نظر اس اصول کے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شادی کے محرکات میں جنس جذبات نہ تھے ۔ بلکہ تبلیغی حاجات کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ حضور ﷺ قبائل عرب میں اشاعت دین کی خاطر یہ رستہ استوار کریں ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حقائق پر غور فرمائیے :۔
(1) پچیس سال کی عمر تک آپ نے کامل تجرد کی…
Read the full tafseer →52۔ اے پیغمبر مذکورہ بالا اقسام کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ خیال ہے کہ آپ موجوہ بیویوں کے بدلے اور عورتوں سے نکاح کریں اور ان کو چھوڑ کر ان کی جگہ اور عورتوں سے نکاح کرلیں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی بھلا معلوم ہو مگر ہاں جو آپ کی مملوکہ ہوں یعنی لونڈیوں میں رخصت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر نگہبان و نگران ہے۔ یعنی نہ تو اس تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ان کو بدل سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیدیں اور اس کی جگہ کسی اور کو کرلیں ۔
بعض محققین نے فرمایا کہ جس طرح عام امت کے مسلمانوں کو چار تک کی اجازت ہے اسی طرح حضرت خدیجہ الکبری ؓ کی وفات کے بعد نو بیویوں سے زیادہ…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی اہل قرابت میں سے غیر مہاجرات حلال نہیں اور دوسری عورتوں میں سے غیر مومنات حلال نہیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعدآزاد عورتوں میں سے آپ ﷺ کسی کو اپنی زوجیت میں نہیں سے سکتے
52 ۔ زیر نظر آیت اس سورة الاحزاب میں امہات المومنین کے ذکر کی مناسبت کی وجہ سے بیان کی گئی ہے حالانکہ اس کا نزول یقینا فتح مکہ کے بعد کا ہے کیونکہ سیدہ میمونہ ؓ سے نکاح آپ ﷺ نے عمرہ ادا کرنے کے موقع پر کیا اور یہ نکاح گویا ذیقعدہ 7 ھ میں ہوا اور زیر نظر آیت یقینا اس کے بعد نازل ہوئی جس میں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ جن آزاد عورتوں سے آپ ﷺ نے نکاح کرلیا بس کرلیا اب آپ ﷺ کسی آزاد عورت سے نکاح نہیں کرسکتے اور نہ ہی ایسا ہوسکتا ہے کہ کسی بیوی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی دوسری بیوی کو لاسکتے ہیں اور نہ ہی یہ کہ پہلی بیویوں میں سے کوئی…
Read the full tafseer →The pious life of the Holy Prophet ﷺ and the issue of polygamy
The enemies of Islam have always targeted the issue of polygamy, specially the number of the wives of the Holy Prophet ﷺ for their criticism. But if the whole life of the Holy Prophet ﷺ is kept in view, even the Satan cannot find scope to cast doubts on the character of the Holy Prophet ﷺ . It is a proved fact that his first marriage at the age of twenty-five was with Sayyidah Khadijah 4.U1 who was an aged widow with children and had been married twice before. The Holy Prophet ﷺ spent his whole prime of life, upto the age of…
Read the full tafseer →93 This has two meanings: (1) `No other woman except those made lawful to you in verse 50 above, is any more lawful to you"; and (2) 'when your wives have become pleased and ready to stay with you through every kind of hardship and have rejected the world in preference to the Hereafter, and are satisfied that you may treat them as you please, it is no longer lawful for you that you should divorce any of them and take another wife instead."
94 This verse explains why one is pemitted to have conjugal relations with one's slave-girls besides the wedded wives, and there is no restriction on their…
Read the full tafseer →