روایات و احکامات
بخاری شریف میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر عار رکھا کرتی تھی جو اپنا نفس حضور ﷺ کو ہبہ کریں اور کہتی تھیں کہ عورتیں بغیر مہر کے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے حوالے کرنے میں شرماتی ہیں ؟ یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو میں نے کہا کہ آپ کا رب آپ کے لئے کشادگی کرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں عامر شعبی سے مروی ہے کہ جنہیں موخر کر رکھا تھا ان میں حضرت ام شریک تھی۔ ایک مطلب اس…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 91
اس آیت سے مقصود نبی ﷺ کو خانگی زندگی کی الجھنوں سے نجات دلانا تھا تاکہ آپ ﷺ پورے سکون کے ساتھ اپنا کام کرسکیں۔ جب اللہ تعلی نے صاف الفاظ میں حضور ﷺ کو پورے اختیارات دے دیے کہ ازواج مطہرات میں سے جس کے ساتھ جو برتاؤ چاہیں کریں تو اس بات کا کوئی امکان نہ رہا کہ یہ مومن خواتین آپ ﷺ کو کسی طرح پریشان کرتیں یا آپس میں مسابقت اور رقابت کے جھگڑے پیدا کر کے آپ کے لیے الجھنیں پیدا کرتیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ اختیار پالینے کے بعد حضور ﷺ نے تمام ازواج کے درمیان پورا پورا عدل فرمایا، کسی کو کسی پر ترجیح نہ دی، اور باقاعدہ باری مقرر کر کے آپ ﷺ سب کے ہاں تشریف لے جاتے رہے۔ محدثین میں…
Read the full tafseer →چھٹا حکم
(آیت) ترجی من تشاء منہن وتوی الیک من تشاء۔ ، ترجی، ارجاء سے مسشتق ہے، جس کے معنی موخر کرنے کے ہیں، اور تو ی، ایواء سے مشتق ہے جس کے معنی قریب کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو اختیار ہے کہ ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں موخر کردیں جس کو چاہیں اپنے قریب کریں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا مخصوص حکم ہے، عام امت کے لوگوں کے لئے جب متعدد بیویاں ہوں تو سب میں برابری کرنا ضروری ہے، اس کے خلاف کرنا حرام ہے۔ برابری سے مراد نفقہ کی برابری اور شب باشی میں برابری ہے کہ جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاریں اتنی دوسری اور تیسری کے ساتھ گزارنا چائے، کمی بیشی ناجائز ہے۔ مگر نبی کریم ﷺ کو اس معاملے میں مکمل…
Read the full tafseer →ترجی من تشاء منھن وتوی الیک من تشاء ومن ابتغیت ممن عذلت فلا جناح علیک ذلک ادنی ان تعرا حینھن ولا یحزن ویرضین بما اتینھن کلھن واللہ یعلم فی قلوبکم وکان اللہ علیما حلیما (51)
اوپر تفصیل سے یہ بات گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے یہ سارے نکاح اصلاً مصلحت دین کے لئے تھے اس وجہ سے جس طرح ازواج کی تعداد کے معاملے میں آپ ﷺ کو عام ضابطہ سے مستثنی رکھا اسی طرح حقوق زوجیت کے معاملے میں بی آپ ﷺ کو آزادی دے دی کہ یہ چیز تمام تر آپ کی صوابدید پر ہے۔ آپ جس کو چاہیں اپنے پاس بلائیں، جس کو چاہیں نہ بلائیں۔ اگرچہ بیویوں کے درمیان عدل کا معاملہ بڑی اہمیت رکھنے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپو کو اس پابند سے بھی آزاد…
Read the full tafseer →51۔ 1 اس میں آپ ﷺ کی ایک اور خصوصیت کا بیان ہے، وہ یہ کہ بیویوں کے درمیان باریاں مقرر کرنے میں آپ ﷺ کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ جس کی باری چاہیں موقوف کردیں یعنی اسے نکاح میں رکھتے ہوئے اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیں یہ تعلق قائم رکھیں۔
51۔ 2 یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ ﷺ چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ ﷺ کو حاصل ہے۔
51۔ 3 یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہونگی، غمگین نہیں ہونگی اور جتنا کچھ آپ ﷺ کی طرف سے انھیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی اسلئے کہ انھیں معلوم ہے کہ پیغمبر ﷺ یہ سب کچھ…
Read the full tafseer →41: عام مسلمانوں پر یہ بات فرض ہے کہ اگر ان کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو وہ ہر معاملے میں ان کے ساتھ برابری کا سلوک کریں، چنانچہ جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاریں اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے ساتھ گزارنا فرض ہے، لیکن اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لئے باریاں مقرر کرنے کی یہ پابندی اٹھالی گئی ہے، چنانچہ آپ کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کی باری ملتوی فرماسکتے ہیں، لیکن یہ بھی وہ سہولت ہے جس سے آنحضرت ﷺ نے زندگی بھر فائدہ نہیں اٹھایا اور ہمیشہ تمام ازواج مطہرات سے مکمل برابری کا معاملہ فرمایا۔
42: مطلب یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52)
نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں…
Read the full tafseer →1 یعنی واہبتہ النفس کے متعلق اختیار ہے قبول کرو یا نہ کرو۔ اور موجودہ بیویوں میں سے جس کو چاہو رکھو یا طلاق دے دو ۔ نیز جو بیویاں رہیں آپ پر قسم (باری باری سے رہنا) واجب نہیں، جسے چاہیں باری میں آگے پیچھے کرسکتے ہیں۔ اور جسے کنارے کردیا ہو اسے دوبارہ واپس لینے کا بھی اختیار ہے۔ یہ حقوق و اختیارات آپ ﷺ کو دیے گئے تھے، مگر آپ نے مدت العمران سے کام نہیں لیا۔ معاملات میں اس قدر عدل و مساوات کی رعایت فرماتے تھے جو بڑے سے بڑا محتاط آدمی نہیں کرسکتا۔ اس پر بھی اگر قلبی میلان کس کی طرف بےاختیار ہوتا تو فرماتے۔ " اللہم ہذا قسمی فیمآ املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک " (اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے ان…
Read the full tafseer →آیت 51 { تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ وَتُـــْٔــوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ } ”آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔“
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو خصوصی اجازت دے دی گئی کہ آپ ﷺ کے لیے تمام ازواجِ مطہرات رض کے درمیان مساوات کا برتائو اور برابری کا سلوک کرنا ضروری نہیں۔ آپ ﷺ کو اجازت تھی کہ آپ ﷺ چاہیں تو کسی زوجہ محترمہ کے پاس زیادہ دیر ٹھہریں اور چاہیں تو کسی کو نسبتاً کم وقت دیں۔
{ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ } ”اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ‘ ان میں سے کسی کو دوبارہ قریب کرنا چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج…
Read the full tafseer →81 بیویوں کی باری کے سلسلے میں آپ کو خصوصی ہدایت :۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک اور رعایت یہ مل گئی کہ آپ پر سے اپنی بیویوں کے پاس باری باری رہنے کی پابندی اٹھا لی گئی۔ بالفاظ دیگر آپ کی بیویوں کا آپ پر یہ حق ساقط کردیا گیا کہ فلاں رات آپ باری کے حساب سے فلاں بیوی کے پاس رہیں گے۔ اور اس سقوط حق سے اللہ تعالیٰ کا مقصد نبی اور اس کی بیویوں دونوں پر سے تنگی کو رفع کرنا مقصود تھا۔ نبی کی تنگی کا دور ہونا تو واضح ہے اور بیویوں سے تنگی کا دور ہونا اس لحاظ سے ہے کہ جب انھیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی کا اس کے ہاں شب بسری کرنا اس کا حق نہیں ہے تو ان کے باہمی تنازعات اور چپقلش از…
Read the full tafseer →114۔ یعنی یہ عام مومنین کے احکام سے آپ ﷺ کے حق میں بعض امتیازات وتخصیصات آپ ﷺ کی مخصوص مصلحتوں کے لحاظ ہیں تاکہ آپ ﷺ کے مقاصد پیغمبرانہ ومصالح میں ہرج واقع نہ ہو۔ اخبر اللہ تعالیٰ بتوسعہ علی النبی ﷺ فی اباحتہ لہ وعلی ال مومنین فی ما اطلقہ لھم (جصاص) (آیت) ” لکیلا یکون یکون علیک حرج “۔ کا ربط نحوی (آیت) ” قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم “۔ سے ہے۔ (آیت) ” وما ملکت ایمانھم “۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے ہے۔
115۔ چناچہ رحیمیت کی بناء پر احکام میں بڑی سہولتیں ملحوظ رکھتا ہے۔ پھر اگر سہل احکام کی تعمیل میں بھی غفلت ہوجائے تو غفوریت کی بناء پر جب چاہے معاف بھی کردیتا ہے۔
116۔ یعنی جس کو جتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →ترجی من تشآء منھن وتؤی الیک من تشآء . ان میں سے آپ جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں)
اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے پاس رکھیں۔ یہ آیت سن کر حضرت عائشہ نے کہا : میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہش جلد پوری کردیتا ہے۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پر غیرت آتی تھی جو اپنی ذات کو رسول اللہ کیلئے ہبہ کرتی تھیں اور میں کہتی تھی : کیا عورت اپنے آپ کو ہبہ کرسکتی ہے ؟ لیکن جب آیت تُرْجِیْ مَنْ تَشَآء الخ نازل ہوئی تو میں نے کہا : مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ آپ کا رب آپ کی خواہش جلد پوری کردیتا ہے۔
تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ کا معنی ہے آپ…
Read the full tafseer →ان مذکورہ بالا رشتہ داروں میں سے آپ جس کو چاہیں خود سے دور رکھیں اور اس سے شادی نہ کریں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور اس سے شادی کرلیں۔
اور جن کو دور رکھا تھا پھر ان کو طلب کریں اور ان سے شادی کریں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں یا یہ حکم ازواج مطہرات کی باری مقرر کرنے کے بارے میں ہے کہ آپ پر ان کی باری کی کوئی رعایت واجب نہیں چاہے جس کو باری دیں اور چاہے جس کو باری نہ دیں اور جن کو باری وغیرہ نہیں دی تھی پھر ان کو طلب کریں تو اس میں بھی آپ پر کچھ گناہ نہیں۔
رخصت و اجازت میں زیادہ توقع ہے کہ ان ازواج مطہرات کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ جبکہ اس اجازت کا اللہ کی طرف سے ہونا ان کو معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بیویوں کے بارے میں مزید رعایتوں کا بیان ہے۔ ان میں سے ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں اپنے نفس آپ کے لیے ہبہ کریں، ان میں سے آپ جسے چاہیں مؤخر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں، آپ پر ان کی پیش کش قبول کرنا لازم نہیں اور ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں آپ کے نکاح میں ہیں، آپ پر ان کے پاس باری باری جانے کی پابندی نہیں، آپ جس کے پاس چاہیں رات بسر کریں، جسے چاہیں مؤخر رکھیں۔
وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ : تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی باری آپ نے ختم…
Read the full tafseer →اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت ترجی من تشاء ترجی کو مہموز اور غیر مہموز دونوں طرح پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے ارجیت الامر، ارجاتہ۔ جب تو اسے موخر کردے۔ وتوی آپ ملائیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : آوی الیہ الف پر مد ہے اس کا معنی اپنے ساتھ ملانا ہے۔ آوی الف مقصورہ کے ساتھ۔ اس کے ساتھ ملنا ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ اس بارے میں جو اقوال ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پر باری ترک کرنے کی سہولت ہے۔ آپ ﷺ پر بیویوں میں باری واجب نہیں۔ یہ قول اس کے مناسب ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ یہی وہ معنی ہے جو صحیح میں حضرت…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ترجی من تشاء سے مراد ہے کہ جس کو آپ چاہیں موخر کردیں۔
2۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ترجی من تشاء ان میں سے جس کو آپ چاہیں دور رکھیں یعنی امہات المومنین میں سے آیت وتؤوی اور جس کو چاہیں پاس رکھیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان میں سے جس کے بارے میں آپ پسند کریں اسے آزاد کردیں اور جس کے بارے میں چاہیں اسے گھر میں روک لیں اور فرمایا آیت ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناھ علیک ذلک ادنی ان تقر اعینہن ولا جحزن وریضین بما اتیتہن کلہن اور جن سے آپ کنارہ کش ہوگئے اگر ان میں سے پھر کسی کو طلب کرلیں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں اس میں زیادہ توقع…
Read the full tafseer →تُرْجِيْ [آپ ﷺ مؤخر کریں ] مَنْ تَشَاۗءُ [اس کو جس کو آپ ﷺ چاہیں ] مِنْهُنَّ [ان میں سے ] وَ تُـــــْٔوِيْٓ [اور آپ ﷺ ٹھہرائیں ] اِلَيْكَ [اپنے پاس ] مَنْ تَشَاۗءُ ۭ [جس کو آپ ﷺ چاہیں ] [وَمَنِ ابْتَغَيْتَ : اور جس کو آپ ﷺ چاہیں ] مِمَّنْ [ان میں سے جن کو ] عَزَلْتَ [آپ ﷺ نے کنارے کیا ] فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ [تو کوئی بھی الزام نہیں ہے آپ ﷺ پر ] ذٰلِكَ اَدْنٰٓى [یہ زیادہ قریب ہے ] اَنْ تَقَرَّ [کہ ٹھنڈی ہوں ] اَعْيُنُهُنَّ [ان (ازواج) کی آنکھیں ] وَلَا يَحْزَنَّ [اور وہ غمگین نہ ہوں ] وَيَرْضَيْنَ [اور وہ راضی ہوں ] بِمَآ [اس سے جو ] اٰتَيْتَهُنَّ [آپ ﷺ دیں ان کو ] كُلُّهُنَّ ۭ [وہ سب کی…
Read the full tafseer →ازواج مطہرات ؓ کے بارے میں آپ کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جسے چاہیں دور کردیں
آیت بالا میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ کے نکاح میں جو عورتیں ہیں ان میں باری مقرر کرنے یا نہ کرنے کا آپ کو اختیار ہے کہ جس کو چاہیں باری دینے میں شامل فرما دیں اور جس کو چاہیں شامل نہ فرمائیں یعنی ازواج کے درمیان باری تقسیم کرنا آپ پر واجب نہیں ہے جیسا کہ امت کے افراد پر واجب ہے، اگر آپ نے کسی کو باری میں شمار نہیں فرمایا اور اس کے بعد پھر اس کے لیے باری مقرر کرنا چاہیں تو پھر سے باری میں شامل فرما سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو مذکورہ بالا اختیار دے دیا اور آپ کی ازواج کو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ذکر بعض احکام نکاح و طلاق وبعض خصائص نبوی دوبارہ نکاح
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذا نکحتم ال مومن ات۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء رقیبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت زینب ؓ کے نکاح اور طلاق کا قصہ مذکور تھا۔ اس لئے آئندہ آیات میں نکاح اور طلاق وغیرہ کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں۔ بعض احکام تو وہ ہیں جو عام مومنین سے متعلق ہیں اور بعض احکام وہ ہیں جو خاص آنحضرت ﷺ کے نکاح سے متعلق ہیں اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہیں جو آپ ﷺ کی فضیلت اور شرف اور کرامت کی دلیل ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی ایک خاص شان امتیازی ہے جس کی بنا پر نبی کے حق میں بعض احکام امت کے احکام سے جدا ہیں اور نکاح…
Read the full tafseer →51:۔ ترجی الخ، آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جسے چاہیں اپنے سے دور رکھیں۔ اور جن کو آپ نے اپنے سے دور کر رکھا تھا، ان کو پھر طلب کرلیں تو بھی آپ پر گناہ نہیں۔ جس طرح عام مسلمانوں پر اپنی متعدد بیویوں کے درمیان وقت کی تقسیم لازم ہے۔حضور ﷺ پر یہ پابندی بھی نہ تھی۔ ھذہ الایۃ تدل علی ان القسم بینہم لم یکن واجبا علی النبی ﷺ وانہ کان مخیرا فی القسم لمن شاء منہن و ترک من شاء منہن (جصاص) ۔
52:۔ ذلک الخ، حقوق زوجیت کے بارے میں جو پابندیاں عام مسلمانوں پر عائد ہیں وہحضور ﷺ پر عائد نہیں ہیں۔ اور آپ کی بیویوں کو ان امور میں آپ پر کوئی دعوی نہیں۔ یہ آپ کی مرضی اور مصلحت پر ہے آپ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ربط آیات
گزشتہ درس میں نکاح کے سلسلے میں حضور ﷺ کی چار خصوصیات کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ مہر کی ادائیگی پر آپ کے لئے چار سے زیادہ بیویاں بھی حلال ہیں۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی ملک میں یعنی لونڈیاں بھی آپ پر حلال ہیں اور عام مسلمانوں کے برخلاف نبی کی لونڈیوں سے کوئی امتی نکاح نہیں کرسکتا۔ تیسری بات اللہ نے یہ فرمائی کہ آپ کے لئے آپ کی چچازاد پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور خالہ زاد میں سے صرف وہ عورتیں حلال ہیں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اگر کوئی مومنہ عورت اپنے آپ کو نبی (علیہ السلام) کی ذات کے لئے ہبہ کر دے تو آپ اس سے بغیر مہر کے بھی نکاح…
Read the full tafseer →تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْہُنَّ وَتُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ 0 ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ 0 ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُہُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَہُنَّ كُلُّہُنَّ 0ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا 51
ترجی۔ مضارع واحد مذکر حاضر ارجاء ( افعال) مصدر، تو ڈھیل دیوے، تو پیچھے رکھے۔ ر ج و۔ مادہ۔ ارجی یرجی کسی معاملہ کو موخر کرنا۔ ارج فعل امر۔ تو موخر کر۔ تو ٹال دے۔ تو تاخیر کر۔ تو التوا میں رکھ۔ قالوا ارجہ واخاہ (7: 111) وہ بولے اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو ۔…
Read the full tafseer →ترکیب : من ابتغیت من موضع نصب بابتغیت وھی شرطیۃ والجواب فلا جناح علیک ویمکن ان یکون مبتداء والعائد محذوف ای والتی ابتغی تھا والخبر فلا جناح کلہن منصوب علی توکید الضمیر فی اٰتیتھن والرفع علی توکید الضمیر فی یرضین من ازواج من مزیدۃ لتاکید الاستغراق و لو اعجبک حال من فاعل تبدل والتقدیر مفروضاً اعجابک بھن الا ما ملکت استثناء من النساء و ھو فی موضع رفع بدلا من النساء او فی موضع نصب علی اصلہ۔
تفسیر : ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ان بیویوں کی بابت معاشرت کے متعلق احکام سناتا ہے اور ہم بارہا ثابت کرچکے ہیں کہ یہ بیویاں دراصل مدرسہ دینیہ کی طالب علم تھیں جو بوجہ مذکورہ ان کو ازواج میں داخل کیا گیا تھا،…
Read the full tafseer →تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْھُنَّ وَتُؤِْیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ ط وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ غَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکَ ط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلاَ یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰ تَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 51)
(آپ ان بیویوں میں سے جس کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے طالب بنیں جن کو آپ نے دور کردیا تھا اس میں بھی کوئی حرج نہیں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں، اور وہ اس پر راضی رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو مزید اختیارات۔
نبوت کے فرائض کی انجام دہی کے لیے نبی معظم ﷺ کو حق مہر اور بعض ازواجی پابندیوں سے آزاد کردیا گیا تاکہ آپ ایک حد تک گھریلو ما حول سے آزاد ہو کر دعوت کا کام جاری رکھ سکیں۔ آپ کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں جس کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں اور جس کو چاہیں الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلالیں۔ گویا کہ جس بیوی سے جیسا برتاؤ کرنا چاہیں کریں آپ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بفرض محال اگر کسی بیوی کے ساتھ کوئی کمی، بیشی ہوجاتی ہے تو وہ اسے محسوس نہ کرے۔ اس طرح ہر بیوی اپنے مقام پر…
Read the full tafseer →51: تُرْجِیْ (اور اپنے سے دور رکھیں)
قراءت : بلا ہمزہ مدنی، حمزہ، علی، خلف، حفص نے پڑھا اور دیگر قراء نے ہمزہ سے پڑھا۔ ترجی کا معنی مؤخر کرنا، دور رکھنا ہے۔
اصل مقصد کو جامع تقسیم :
مَنْ تَشَآ ئُ مِنْھُنَّ وَتُئْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآ ئُ (جن کو آپ چاہیں ان میں سے اور نزدیک رکھیں ان میں جس کو آپ چاہیں) تُئْوِیکا معنی ملانا، نزدیک کرنا ہے۔ یعنی جس سے چاہیں اپنی خوابگاہ کو الگ فرمائیں اور جس سے چاہیں مضا جعت فرمائیں یا جس کو چاہیں طلاق دیں اور جس کو چاہیں روک رکھیں یا جن کے لئے چاہیں باری کی تقسیم فرمائیں اور جن کے لئے چاہیں نہ فرمائیں یا امت کی عورتوں سے جس سے چاہیں نکاح کرلیں اور جن سے…
Read the full tafseer →51، ترجی ، تم اس کو مؤ خر کرو۔ ، من تشاء منھن وتووی ، اور تمہاری طرف اس کو ملائے۔
ترجی من تشاء کی تفسیر
، الیک من تشاء ، اس آیت میں اہل تفسیر کا اختلاف ہے۔ سب زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ اس آیت کا نزول باری تقسیم کرنے کے سلسلہ میں ہوا۔ پہلے عورتوں میں برابری کرنا رسول اللہ ﷺ پر واجب تھا ، اس آیت کے نزول کے بعد برابری رکھنے کا حکم ساقط کردیا گیا اور عورتوں کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کو پورا اختیار دے دیا گیا۔
ابو زید اور ابن زید نے کہا اس آیت کا نزول اس وقت ہواجب بعض امہات المؤمنین نے رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ میں رشک کیا اور بعض نے زیادہ مصارف طلب کیے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک سب سے ترک تعلق…
Read the full tafseer →51۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین کے تین قول ہیں پہلا یہ کہ اس آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ اجازت دی ہے کہ ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں حسب دستور اپنے نکاح رکھیں جس کو چاہیں طلاق دے دیں دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں فقط اس بات کی اجازت ہے کہ ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری برابر یا کمتی بڑھتی جس طرح ہیں یا رشتہ داروں میں جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے یہ آیت ان عورتوں کے حکم میں ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر آنحضرت ﷺ کو یہ اجازت دی ہے کہ ان میں سے جس عورت کو آپ چاہیں اپنی خدمت میں کی ہیں ان سے فقط دوسرے اور تیسرے قول کو تائید ہوتی ہے چناچہ…
Read the full tafseer →آیت 51
نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ پر رحمت اور آپ کے لئے وسعت ہے کہ آپ کو اپنی ازواج مطہرات کی باریوں کی تقسیم کے ترک کرنے کو مباح فرمایا۔ اگر آپ ان کی باریاں مقرر کرتے ہیں تو یہ آپ کی نوازش ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اپنی اواج مطہرات کے درمیان ہر چیز تقسیم کر رکھی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے :” اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے بس میں ہے اور جو میرے بس میں نہیں (اے اللہ ! ) اس پر مجھے ملامت نہ کرنا۔ “ (1) یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ترجی من تشآء منھن) اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں، اس کو اپنے پاس بلائیں نہ اس کے پاس رات بسر کریں۔ (وتوی الیک من تشآء) اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ترجی من تشآء منھن وتووی الیک من تشآء۔ آپ ان میں سے جسے چاہیں دور کردیں اور جسے چاہیں قریب کرلیں) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ہے، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمو سے، انہوں نے منصور سے اور انہوں نے ابورزین سے درج بالا آیت کی تفسیر روایت کی ہے کہ جن ازواج مطہرات کو دور رکھا گیا تھا وہ یہ تھیں حضرت میمومنہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ ، حضرت صفیہ ؓ ، حضرت جویریہ ؓ اور حضرت ام حبیبہ ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت زینب ؓ کو باریوں کے تعین میں یکساں رکھا گیا تھا۔ اور حضور ﷺ ان کے درمیان مساوات قائم رکھتے تھے۔
ہمیں عبداللہ بن محمد بن…
Read the full tafseer →101 حقوق زوجیت کے بارے میں پیغمبر کیلئے آزادی : یعنی زوجات کے درمیان عدل و برابری آپ پر فرض نہیں۔ مگر آپ ﷺ نے اس کے باوجود ہمیشہ عدل و مساوات ہی سے کام لیا ۔ صَلوات اللّہ وسلامُہ عَلَیْہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ازواج کی تعداد کے بارے میں آپ ﷺ کو عام حکم سے مستثنی رکھا گیا، اسی طرح حقوق زوجین کے بارے میں بھی آپ ﷺ کو آزادی دی گئی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے ساری ہی نکاح اصل میں مصلحت دین کیلئے تھے۔ اس لیے اس بارے بھی معاملہ آپ ﷺ کی صوابدید پر رکھا گیا کہ آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں سے جسکو چاہیں اپنے پاس بلائیں اور جسکو چاہیں نہ بلائیں کہ آپ ﷺ پر اس بارے برابری کی کوئی پابندی نہیں۔ اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
نبی کے لیے احکامات اور خاص رعایتیں
تشریح : اوپر دی گئی آیات میں سات احکامات نکاح و طلاق کے بارے میں دیے گئے ہیں جو خاص طور پر صرف نبی اکرم ﷺ کے لیے دیے گئے ہیں۔ مگر ان تمام احکامات میں آپ کے لیے بھی حدود رکھی گئی ہیں کہ ان سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے نکاح اور طلاق کا معاملہ اختیار کریں۔ کیونکہ اللہ ہر مسئلہ کی حقیقت، انجام اور اچھائی و برائی سے اچھی طرح واقف ہے اس لیے اس نے عام مسلمانوں کے لیے کچھ مختلف احکامات دیے ہیں اور نبی اکرم کی برتری کے اور معروفیت کے سبب کچھ خاص رعایتیں ان کو دی ہیں۔ پھر آخر میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52
اسرارومعارف
ذکر اللہ کی تاکید :
اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →ف 9 لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری اور تقسیم میں مساوات قائم رکھتے۔ بعض نے اس سے خاص کردہ عورتیں مراد لی ہیں جو اپنے تئیں آپ ﷺ کو ہبہ کریں مگر جمہور علمائے تفسیر (رح) کے نزدیک یہ آیت آپ ﷺ کی دوسری ازواج ؓ کو بھی شامل ہے اور ان کو بھی جو اپنے تئیں ہبہ کریں۔ ان سب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے کہ انکے درمیان باری مقرر فرمائیں یا نہ فرمائیں۔ آپ ﷺ پر واجب نہیں ہے، ابن جریر ؓ نے اسی کو اختیار کرلیا ہے اور اس سے مختلف احادیث کے درمیان تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ ( ابن کثیر، شوکانی)10 کیونکہ یہ جان لیں گی کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے ایسا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کا اختیار دیا…
Read the full tafseer →(33:5 1) ترجی۔ مضارع واحد مذکر حاضر ارجاء (افعال) مصدر، تو ڈھیل دیوے، تو پیچھے رکھے۔ ر ج و۔ مادہ۔ ارجی یرجی کسی معاملہ کو موخر کرنا۔ ارج فعل امر۔ تو موخر کر۔ تو ٹال دے۔ تو تاخیر کر۔ تو التوا میں رکھ۔ قالوا ارجہ واخاہ (7: 111) وہ بولے اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو ۔
الاتقان میں اس کے معنی دئیے ہیں : ترجی ای توخر (پیچھے ڈال دو ، علیحدہ کر دو ) روح المعانی میں ہے کہ :۔
ای توخر من تشاء من نسائک وتترک مضاجع تھا اپنی بیویوں سے جس کو چاہو علیحدہ رکھو اور اس کے ساتھ لیٹنے کو ترک کردو۔ توی الیک۔ مضارع واحد مذکر حاضر ایواء (افعال) مصدر تو جگہ دیتا ہے تو جگہ دے گا اوی مادہ۔ اوی ۔۔ الی البیت ۔ گھر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 52
ترجی (ارجاء) : موخر کرنا ۔ دور رکھنا
توی (ایواء) : قریب کرنا
ابتغیت : تو نے تلاش کیا۔ طلب کیا
عزلت : تو نے الگ کردیا
ادنی : قریب
ان تقر : یہ کہ ٹھنڈی رہیں
اعین (عین) : آنکھیں
لا یحزن : وہ ہرگز رنجیدہ نہ ہوں گی
رقیب : نگران۔ گہری نظر رکھنے والا
تشریح : آیات نمبر 51 تا 52
اللہ تعالیٰ نے قرآن کرم میں عدل و انصاف کی بعض شرائط کے ساتھ اس بات کو واضح طور پر بیان فرمادیا ہے کہ ہر مومن زیادہ سے زیادہ چار بیویاں تک رکھ سکتا ہے ۔ ان کے نان و نفقہ (کھانے پینے اور ضروریات زندگی) اور ہر ایک کے پاس شب باشی یعنی رات گذارنے کی باری مقرر کرنا لازمی اور ضروری ہے اس کے خلاف جائز…
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب آپ کو اختیار ہے کہ جس بی بی کو چاہیں پاس رکھیں اور بی بیوں میں باری مقرر کریں یا نہ کریں لیکن باوجود اس اختیار کے سید عالم تمام ازواج مطہرات کے ساتھ عدل فرماتے تھے اور ان کی باریاں برابر رکھتے، بجز حضرت سودہ کے جنہوں نے اپنی باری کا دن حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو دیدیا تھا، اور بارگاہ رسالت میں عرض کیا تھا کہ میرے لیے یہی کافی ہے کہ میرا حشر آپ کی ازواج میں ہو۔
مسئلہ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چندبیویاں کرلے، اور پھر ان کے درمیان مساوات و انصاف قائم نہ رکھے تو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھے گا کہ اس کا آدھاجسم گلاہوا ہوگا، اور نیز یہ بھی فرمایا کہ جس…
Read the full tafseer →[52] مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر ادائے حقوق زوجیت کے بارے میں وہ متعدد پابندیاں عائد نہیں جو عام مسلمانوں کے لئے ہیں اور آپ ﷺ کی بیویوں کو بہت سے معاملات میں آپ ﷺ پر کوئی دعویٰ یا حق نہیں۔ یہ محض آپ ﷺ کی خوشی و مصلحت پر ہے کہ آپ ﷺ فلاں فلاں امور میں ان کی دلجوئی و رعایت کرتے رہیں۔ تو جب ان کا حق ہی باقی نہیں رہا۔ اور انھیں یہ معلوم ہوگیا کہ یہ انتظامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو بجائے رنج کے تعمیل احکام میں انھیں مسرت ہوگی۔
[53] یعنی اسے اپنے علم کامل کی وجہ سے ہر ایک کی بدگمانیوں اور گستاخانہ خیالات کی خبر ہے اور جس کو جب چاہے پکڑ لے لیکن اپنے کمال حلم کی وجہ سے فوراً نہیں پکڑتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
حضور ﷺ کے تعددازدواج کا فلسفہ
2: مخالفین نے تعدد ازدواج پر بہت سے اعتراض کئے ہیں اور کہا ہے کہ جس شخص کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں ہوں ۔ وہ کیونکر روحانیت کا پیکر ہوسکتا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک روحانیت کے معنے مجرد اور ہبانیت کے ہیں ۔ اور خدا رسیدہ شخص ان کے نظریہ کے مطابق وہ ہے جو دنیوی برکات سے یک قلم محروم ہو ۔ قطع نظر اس اصول کے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شادی کے محرکات میں جنس جذبات نہ تھے ۔ بلکہ تبلیغی حاجات کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ حضور ﷺ قبائل عرب میں اشاعت دین کی خاطر یہ رستہ استوار کریں ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حقائق پر غور فرمائیے :۔
(1) پچیس سال کی عمر تک آپ نے کامل تجرد کی…
Read the full tafseer →51۔ اے پیغمبر آپ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہیں دور رکھیں اور مؤخر کردیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ نے ایک خاص وقت تک کے لئے اپنے سے الگ کررکھا تھا اور مؤخر کردیا تھا ان میں سے ایک آپ کسی کو پھر طلب کرنا چاہیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں اس رعایت میں اس باپ کی زیادہ توقع ہے کہ ان بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ غعمگین او آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دے دیں گے اس پر سب راضی اور خوشی رہیں گی اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا برد بار اور تحمل والا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ باری وغیرہ کی جو…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی جس کو چاہیں اور جب تک چاہیں اس کو باری نہ دیں، اور جس کو چاہیں اور جب تک چاہیں اس کو باری دیں۔
2۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کی باری وغیرہ کی رعایت آپ پر واجب نہیں۔
3۔ یعنی خوش رہیں گی۔
Read the full tafseer →اس سلسلہ میں نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے مزید ہدایات
51 ۔ آپ ﷺ کی خصوصیات کا ذکر ابھی جاری ہے اور آپ ﷺ سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ” ان بیویوں میں سے آپ ﷺ جس کو چاہیں اپنے سے علیحدہ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ ﷺ نے علیحدہ کیا تھا ان میں سے کسی کو اپنے پاس طلب کرلیں تو آپ ﷺ کے لئے کچھ مضائقہ نہیں ہے “ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی خصوصیات میں جب یہ امر رکھا کہ امت کے مردوں کے لئے جو قید لگائی گئی تھی کہ ان میں سے کوئی شخص بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا تو آپ ﷺ کو اس قید سے مستثنیٰ قرار دیا کہ آپ ﷺ جن عورتوں سے دینی خدمت لینا چاہیں یا جو عورتیں دین کی خدمت کے لئے…
Read the full tafseer →Sixth Injunctions
تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ("You may postpone (the turn) of any one you wish from among them, and may accommodate with you any one you wish." - 51) This rule is specific to the Holy Prophet ﷺ . The normal rule is that a Muslim husband having more than one wife must distribute his nights between his wives in equal numbers and similarly must provide means of sustenance and maintenance to each one of them equally. It is not permissible to violate the principle of equality. But the Holy Prophet ﷺ has been exempted from this rule and has been…
Read the full tafseer →91 This verse was meant to relieve the Holy Prophet of the domestic worries and anxieties so that he could carry out his duties with full peace of mind. When Allah clearly gave hire the power and the authority to treat any of his wives as he liked, there remained no chance that those believing ladies would trouble him in any way, or would create complications for him by their mutual rivalries and domestic squabbles. But in spite of having this authority from Allah the Holy Prophet meted out full justice to his wives. He did not prefer one to the other and would visit each of them regularly by…
Read the full tafseer →