حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ پر حلال ہیں۔ آپ کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المومنین حضرت حبیبہ بنت ابی سفیان عنہا کا مہر حضرت نجاشی ؒ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی ؓ کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ بھی تھیں پھر آپ نے انہیں آزاد کردیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کرلیا۔ اور حضرت جویریہ بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ نے حضرت ثابت بن…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 87
یہ دراصل جواب ہے ان لوگوں کے اعتراض کا جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ دوسرے لوگوں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع قرار دیتے ہیں، مگر خود انہوں نے یہ پانچویں بیوی کیسے کرلی۔ اس اعتراض کی بنیاد یہ تھی کہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کے وقت نبی ﷺ کی چار بیویاں موجود تھیں۔ ایک حضرت سودہ جن سے 3 قبل ہجرت میں آپ نے نکاح کیا تھا۔ دوسری، حضرت عائشہ جن سے نکاح تو 3 قبل ہجرت میں ہوچکا تھا مگر انکی رخصتی شوال 1 ہجری میں ہوئی تھی، تیسری، حضرت حفصہ جن سے شعبان 3 ھجری میں آپ کا نکاح ہوا۔ اور چوتھی، حضرت ام سلمہ، جنہیں حضور ﷺ نے شوال 4 ہجری میں زوجیت کا شرف عطا فرمایا۔ اس طرح حضرت زینب آپ کی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے نبی (بعض احکام آپ کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے آپ کا اختصاص اور شرف بھی ثابت ہوتا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں، حکم اول) ہم نے آپ کے لئے آپ کی یہ بیبیاں (جو کہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اور) جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں (باوجود چار سے زائد ہونے کے) حلال کی ہیں (حکم دوم) اور وہ عورتیں بھی (خاص طور پر حلال کی ہیں) جو تمہاری مملوکہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوا دی ہیں (اس خاص طور کا بیان معاف و مسائل میں آئے گا حکم سوم) اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں (مراد اس سے باپ کے خاندان کی بیٹیاں ہیں) اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں (مراد…
Read the full tafseer →یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک التہ اتیت اجورھن وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک و بنت عمک عمتک وبنت خالک وبنت خلتک التی ھاجرون معک وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی ان اراد النبی ان یستنکمھا خالصہ لک مندون المومنین قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وما ملکت ایمانھم نکیلا یکون علیک حرج وکان اللہ غفورا رحیما (50)
ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس وقت تحدید ازواج کا حکم نازل ہوا ہے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے نکاح میں چار ہی بیویاں… حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ … تھیں۔ اس وجہ سے نہ حضور کے لئے کسی بیوی کو طلاق دینے کا سوال پیدا ہوتا تھا اور نہ اس باب میں…
Read the full tafseer →50۔ 1 بعض احکام شرعیہ میں نبی ﷺ کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلا اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ ﷺ پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ؓ کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ ؓ کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔
50۔ 2 چناچہ حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کرلیا اور رحانہ اور…
Read the full tafseer →38:ٓآیت نمبر 50 اور 51 میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بارے میں وہ احکام بیان فرمائے ہیں جو صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان میں سے پہلا حکم یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے چار سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن آنحضرت ﷺ کو چار سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے۔ اس اجازت میں بہت سی حکمتیں تھیں جن کی تفصیل دیکھنی ہو تو ”معارف القرآن“ میں ملاحظہ فرمائیں۔
39: یہ دوسرا حکم ہے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، عام مسلمان اس میں شریک نہیں ہیں۔ اور وہ یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان عورت سے یا اہل کتاب (یعنی عیسائیوں اور یہودیوں) میں سے کسی عورت سے بھی نکاح کرسکتے ہیں، لیکن حضور نبی کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52)
نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں…
Read the full tafseer →3 یعنی لونڈیاں، باندیاں جو غنیمت وغیرہ سے ہاتھ لگی ہوں۔
4 تیری عورتیں جن کا مہر دے چکا یعنی جواب تیرے نکاح میں ہیں خواہ قریش سے ہوں اور مہاجر ہوں یا نہ ہوں سب حلال رہیں ان میں سے کسی کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کی بیٹیاں یعنی قریش میں سے جو باپ یا ماں کی طرف سے قرابت دار ہوں بشرط ہجرت کے حلال ہیں ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ اور جو عورت بخشے نبی کو اپنی جان یعنی بلا مہر کے نکاح میں آنا چاہے وہ بھی حلال ہے اگر آپ اس طرح نکاح میں لانا پسند کریں۔ یہ اجازت خاص پیغمبر کے لیے ہے گو آپ نے بھی اس پر عمل نہیں کیا (کما فی الفتح) شاید " ان اراد النبی " کی شرط سے اباحت مرجوحہ سمجھی ہو۔…
Read the full tafseer →آیت 50 { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں“
{ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ } ”اور ان کو بھی جو آپ ﷺ کی ملک یمین باندیاں ہیں ‘ ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور ’ فے ‘ عطا کیں“
جیسے مصر کے فرمانروا مقوقس نے حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کو آپ ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا۔
{ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ } ”اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی…
Read the full tafseer →78 آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت اور اس کی وجہ :۔ یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب ہے۔ سیدنا زینب بنت جحش جن سے آپ نے اللہ کے حکم سے نکاح کیا تھا یا جن کا نکاح سات آسمانوں پر ہوا تھا آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس سے پہلے چار بیویاں سیدہ عائشہ ؓ بنت ابی بکر سیدہ سودہ بنت زمعۃ ؓ سیدہ حفصہ ؓ بنت عمر اور سیدہ ام سلمہ ؓ موجود تھیں۔ اور عام مومنوں کے لئے چار بیویوں سے زائد کا جواز نہیں تھا۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عام قاعدہ سے مستثنیٰ کردیا۔ یہ اعتراض کافروں کی طرف سے تو یقینا تھا تاہم مسلمانوں کو بھی اس کا خیال آسکتا تھا۔ لہذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی کہ عام…
Read the full tafseer →107۔ (باوجود اس کے کہ وہ چار کے جائز عدد سے زائد ہیں) پیغمبر کے شرف و امتیاز نیز آپ کی ضرورتوں اور مصلحتوں کے پیش نظر آپ کی ازدواجی زندگی سے متعلق اب بعض مخصوص احکام کا بیان ہورہا ہے۔
108۔ (کنیز شرعی کی حیثیت سے) یعنی ان سب کے رکھنے کی آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے اجازت ہے۔ (آیت) ” افآء اللہ علیک “۔ کی قید سے زر خرید باندیاں اس حکم اجازت سے نکل گئیں۔
109۔ دونوں کا خلاصہ یہ کہ آپ کے والد کے خاندان کی بیٹیاں۔
110۔ دونوں کا حاصل یہ کہ آپ کی والدہ کے خاندان کی بیٹیاں۔
111۔ یعنی دادھیالی اور نانہالی خاندانوں کی بھی سب عورتیں نہیں، بلکہ وہی جنہوں نے عمل ہجرت میں موافقت کی ہو غیر مہاجر بیویاں اس قید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →یایھا النبی انا احللنالک ازواجک التی اتیت اجورھن اے نبی ! ہم نے آپ کیلئے آپ کی یہ بیویاں
جن کا مہر آپ دے چکے ہیں ‘ حلال کردی ہیں۔
اجور (اجر کی جمع ہے) سے مراد ہے مہر کیونکہ مہر تمتع اندوزی کا بدل ہے ‘ مہر ادا کردینے کی قید (احترازی نہیں بلکہ) ایک واقعہ کا بیان ہے۔ رسول اللہ کی عادت ہی تھی کہ ہر بیوی کا مہر آپ نے فوراً ادا کردیا تھا ‘ یا یوں کہا جائے کہ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ کی صراحت اس لئے کی کہ مہر معجل یعنی مہر کی فوراً ادائیگی افضل ہے اور رسول اللہ نے اسی کو اختیار کیا تھا۔ بہرحال باتفاق علماء (یعنی ان علماء کے نزدیک بھی جو مفہوم مخالف کے قائل ہیں) اس جگہ مفہوم مخالف نہیں ہے (یعنی یہ مطلب…
Read the full tafseer →اے نبی اکرم ہم نے آپ نے کے لیے آپ کی یہ ازواج مطہرات جن کو آپ ان کا مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں اور وہ عورتیں بھی حلال کی ہیں جو تمہاری ملکیت ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوا دی ہیں جیسا کہ حضڑت ماریہ قبطیہ اور آپ کی چچا کی بیٹیوں سے بھی آپ کے لیے شادی کرنا حلال ہے باوجود تعداد میں زیادہ ہونے کے کیونکہ یہ آپ کی خصوصیت ہے اور اسی طرح پھوپھی زاد بہنیں یعنی بنی عبدالمطلب اور آپ کی ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں یعنی بنی عبد مناف بن زہرہ جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی ہو۔
اور مسلمان عورت کو بھی خاص آپ کے لیے حلال کیا ہے جو بغیر مہر کے خود کو پیغمبر خدا کے حوالے کر بشرطیکہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ دوسرے لوگوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں ممنوع قرار دیتے ہیں تو خود انھوں نے چار سے زیادہ شادیاں کیسے کرلیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ تمام بیویاں حلال کی ہیں جن کا آپ نے مہر دیا ہے۔ مراد وہ بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ کے نکاح میں تھیں۔ مطلب یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے ہم ہیں اور آپ کے لیے اس شرط کو ختم کرنے والے بھی ہم ہیں۔ جن عورتوں سے آپ نے نکاح فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی، جن میں سے نو بیویاں…
Read the full tafseer →اس میں انیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ سدی نے کہا ابو صالح سے وہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ عہنا سے روایت نقل کرتے ہیں (1) ۔ کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے دعوت نکاح دی تو میں نے آپ ﷺ سے معذرت کی تو آپ نے میری معذرت کو قبول کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا : آیت انا احللنا لک۔ کہا : میں آپ ﷺ کے حلال نہ تھی کیونکہ میں نے ہجرت نہ کی تھی میں طلقاء (جن کو چھوڑ دیا گیا) میں سے تھی۔ اسے ابو عیسیٰ ترمذی نے روایت کیا ہے۔ کہا : یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے اسی سند سے پہچانتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : یہ بہت ہی ضعیف ہے۔ یہ حدیث کسی ایسی صحیح سند سے مروی نہیں جس سے استدلال کیا جاسکے (2) ۔
مسئلہ نمبر 2۔ جب…
Read the full tafseer →1۔ ابن سعد وابن راہویہ وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا میں نے معذرت کی آپ نے میرا عذر قبول فرمالیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی انااحللنا لک ازواجک سے لے کر آیت التی ہاجرن تک تو میں رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال نہیں کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور میں آزاد عورتوں میں سے تھی۔
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے دوسری سند سے ام ہانی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وبنت خٰلتک التی ہاجرن معک اور آپ کے چچا کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ [بیشک ہم نے حلال کیں آپ ﷺ کے لئے ] اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ [آپ ﷺ کی ان بیویوں کو جن کو ] اٰتَيْتَ [آپ ﷺ نے دیا ] اُجُوْرَهُنَّ [ان کا اجر (مہر)] وَمَا [اور ان کو جن کا ] مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ [مالک ہوا آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ (کنیز)] مِمَّآ [ان میں سے جن کو ] اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ [لوٹایا اللہ نے آپ ﷺ پر (مال غنیمت میں)] وَبَنٰتِ عَمِّكَ [اور آپ ﷺ کے چچا کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ [اور آپ ﷺ کے پھوپھیوں کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ خَالِكَ [اور آپ ﷺ کے ماموں کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ [اور آپ ﷺ کے خالاؤں کی بیٹیاں ] الّٰتِيْ [جنہوں نے ]…
Read the full tafseer →نکاح کے بعض احکام رسول اللہ ﷺ کی بعض خصوصیات
حضرت خدیجہ ؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے متعدد عورتوں سے نکاح فرمایا جن کے اسمائے گرامی آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا) کے ذیل میں بیان کیے جاچکے ہیں، ان بیویوں میں اکثر بیویاں مہاجرات تھیں، البتہ صفیہ ؓ بنت حی بن اخطب یہود خیبر کے قیدیوں میں سے اور حضرت جویریہ ؓ غزوہ بنی المصطلق کے قیدیوں میں سے تھیں ان بیویوں کو آیت بالا میں (الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ ) میں بیان فرمایا اور آپ کی بعض سراری یعنی باندیاں بھی تھیں جنہیں (وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآء اللّٰہُ عَلَیْکَ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ذکر بعض احکام نکاح و طلاق وبعض خصائص نبوی دوبارہ نکاح
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذا نکحتم ال مومن ات۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء رقیبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت زینب ؓ کے نکاح اور طلاق کا قصہ مذکور تھا۔ اس لئے آئندہ آیات میں نکاح اور طلاق وغیرہ کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں۔ بعض احکام تو وہ ہیں جو عام مومنین سے متعلق ہیں اور بعض احکام وہ ہیں جو خاص آنحضرت ﷺ کے نکاح سے متعلق ہیں اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہیں جو آپ ﷺ کی فضیلت اور شرف اور کرامت کی دلیل ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی ایک خاص شان امتیازی ہے جس کی بنا پر نبی کے حق میں بعض احکام امت کے احکام سے جدا ہیں اور نکاح…
Read the full tafseer →49:۔ یا ایہا النبی الخ یہ آں حضرت ﷺ سے چھٹا خطاب ہے۔ اس میں حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ کے لیے حسب ذیل چار قسم کی عورتیں حلال ہیں۔ اور ان کے علاوہ اور آپ کے لیے حلال نہیں اول، التی اتیت اجورھن یعنی وہ بیویاں جو آپ کے نکاح میں ہیں اور آپ ان کا مہر ادا کرچکے ہیں وہ قریش سے ہوں یا غیر قریش سے مہاجرہ ہوں یا غیر مہاجرہ۔ دوم وما ملکت یمینک الخ جو باندیاں مال غنیمت میں سے اللہ نے آپ کو دی ہیں۔ سوم و بنت عمک الخ، قریش کی وہ عورتیں جو آپ کے ساتھ ہجرت کرچکی ہیں۔ چہارم وہ ایمان والی عورت جو بلا مہر اپنے کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کردے۔ خالصۃ لک الخ، بلا مہر نکاح کرنا یہ صرف آپ کے لیے خاص حکم ہے…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیت میں مطلقہ عورت کی عدت کا مسئلہ بیان ہوا تھا کہ اگر کسی عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی جائے تو اس کے لئے کوئی عدت نہیں ، وہ جس وقت چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ پھر اللہ نے حسن معاشرت کے ضمن میں فرمایا کہ طلاق شدہ عورت کو کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر اچھے طریقے سے رخصت کرو۔ اور اگر مہر مقرر ہے اور ابھی ادا نہیں کیا تو وہ بھی ادا کرو۔ اگر مہر مقرر نہیں ہوا تو کپڑوں کا جوڑا دینا واجب ہوگا ، بصورت دیگر مستجب ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سلسلے میں پیغمبر ﷺ کی سات خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے چار خصوصیات اس آیت کریمہ میں آگئی ہیں اور باقی تین آمدہ دروس میں بیان ہوں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَہُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِيْ ہَاجَرْنَ مَعَكَ 0 ۡوَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَہَا 0 ۤ خَالِصَۃً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ 0 ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْہِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 50
حلَال
حَلَّ الشیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ترکیب : وامراۃ منصوب بفعل محذوف یفسر و ما قبلہ ای حللنا لک امراۃ مؤمنۃ ویمکن ان یکون معطوفا علی ماسبق ولا یمنعہ ان التی للاستقلال فی قولہ ان وھبت لان المراد بالاحلال الاعلام بالحل اذا وقع الفعل علی ذلک کما یقال ابحت لک الکلام بزیدان سلم علیک خالصۃ یمکن ان یکون حالا من الضمیر فی وھبت وان یکون صفۃ المصدر اے ھبۃً ویجوزان یکون مصدرا ای اخلصنا لک ذلک اخلاصا و قد جاءت فاعلہ مصدر امثل العاقبۃ۔
تفسیر … اول حکم : اس کے بعد خود اس صلائے عام کا نبی ( علیہ السلام) کو حکم دیتا ہے۔ فقال وبشر المؤمنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا کہ ایمانداروں کو خوشخبری دے کہ اللہ کا ان پر بڑا فضل ہے۔ دنیا میں ان کو ہر طرح…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَـکَ اَزْوَاجَکَ الَّتِیْٓ اٰ تَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَـکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰـتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ ز وَامْرَاۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَالنَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا ق خَالِصَۃً لَّـکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط قَدْعَلِمْنَا مَافَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلاَ یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 50)
(اے نبی ہم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مومنوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اسی طرح سرور دوعالم کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ بھی اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ تاہم آپ کو اپنی بیویوں کے بارے میں کچھ رعایت دی گئی ہے تاکہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں گھریلو حالات رکاوٹ نہ بن سکیں۔
1 مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے ازواجی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ جس میں ازواجی زندگی میں نبی ﷺ کے امتیازات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو حق مہر کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اس لیے پہلے وضاحت فرمادی کہ آپ…
Read the full tafseer →نہم شرط ‘ تابید نکاح ہے :
50: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْ (اے نبی مکرم (ﷺ) ہم نے آپ کیلئے آپ کی یہ بیویاں جن کے مہر) اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ (آپ دے چکے ہیں حلال کی ہیں) اجور کا معنی مہر ہے۔ کیونکہ مہر بضع کا بدلہ ہے۔ ( اتیت اجورھن کی قید احترازی نہیں۔ واقعی ہے کیونکہ آپ جلد ادا فرماتے تھے)
کرخی (رح) کا قول :
لفظ اجارہ سے نکاح اسی لئے جائز ہے کیونکہ مہرکو اجور فرمایا۔
جواب کرخی m :
نکاح کی شرط تابید ہے اور اجارہ کی شرط تاقیت ہے اور دونوں میں منافات ہے اور ایتائو ھاؔ کا معنی اعطاء ھا عا جلاً ان کو جلد ادا کرنا یا اس کو مقرر کرنا اور عقد میں اس کا نام…
Read the full tafseer →تفسیر 50، یایھا النبی انا احللنالک ازواجک اللاتی آتیت اجورھن، اس سے مراد مہر ہے۔ ، وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک ، اس آیت میں کفار پر رد ہے۔ کفار یہ کہتے تھے کہ ان کو پہلے قید کیا، پھر ان سے نکاح کرایا جیسے صفیہ اور جو یریہ جبکہ حضرت ماریہ کسی جہاد سے گرفتارکرکے نہیں لائی گئی تھیں بلکہ مقو قس شاہ مصر نے بطور ہدیہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ان کو بھیجا تھا۔ ، وبنا ت عمک وبنات عماتک ، اس سے مراد قریش کی عورتیں ہیں ۔ ، وبنات خالک وبنات خالاتک ، خاندان بنوزہرہ کی بیٹیاں۔ ، اللاتی ھاجرن معک ، جنہوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی اور جن عورتوں نے ان میں سے کسی عورت کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور مدینہ آئی، ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت 50
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ پر کچھ ایسی چیزیں حلال ٹھہرائیں جو مومنوں کے لئے بھی حلال ہیں اور کچھ چیزیں ایسی بھی حلال ٹھہرائیں جو صرف آپ کے لئے مختص ہیں، چناچہ فرمایا : (یاھا النب انا احلنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن) ” اے نبی ! ہم نے تیرے لئے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کا اجر دے چکا ہے۔ “ یعنی آپ نے جن بیویوں کو مہر عطا کردیا ہے۔ یہ ان امور میں شمار ہوتا ہے جو نبی ﷺ اور یدگر اہل ایمان کے درمیان مشترک ہیں، کیونکہ اہل ایمان کے لئے بھی ان کی وہی بیویاں مباح ہیں جن کو انہوں نے حق مہر ادا کردیا ہے۔ (و) ” اور “ اسی طرح ہم نے آپ کے لئے…
Read the full tafseer →بیویوں کے بارے میں کیا فرض ہوا ؟
قول باری ہے (قا علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم۔ ہم کو وہ (احکام) معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں کے بارے میں ان پر مقرر کیے ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ یہ فرض کردیا گیا کہ عورت کا نکاح ولی اور دو گواہوں نیز مہر کے بغیر نہ کرایا جائے۔ مرد چار سے زیادہ شادیاں نہ کرے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ یہ فرض کردیا گیا ہے کہ مرد چار شادیاں کرے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وما ملکت ایمانھم اور ان کی لونڈیوں کے بارے ) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس اباحت کا علم ہے جو اس نے ملک یمین کی بنیاد پر اہل ایمان کے لئے کردی ہے جس طرح یہ اباحت حضور ﷺ کے لئے کردی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
93 نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر : سو اس ارشاد سے ایمان والوں کیلئے نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خصوصی ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں اور اس بارے جو حکم مومن عورتوں کا ہے یہی حکم کتابیہ عورتوں کا بھی ہے مگر مومنہ کی قید لگا کر گویا اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ مومن کے لئے اصل اور بہتر یہی ہے کہ وہ ایماندار عورت ہی سے نکاح کرے نہ کہ کتابیہ سے ۔ قولہ المؤمنات تحریض علی نکاحہن ۔ (جامع : ج 2 ص 170) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگوں میں سے جو کوئی نکاح کے بعد اپنی بیوی کو قبل ازمسیس یعنی رخصتی اور ملاقات سے پہلے ہی طلاق دے دے تو اس پر عدت کی کوئی پابندی نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
نبی کے لیے احکامات اور خاص رعایتیں
تشریح : اوپر دی گئی آیات میں سات احکامات نکاح و طلاق کے بارے میں دیے گئے ہیں جو خاص طور پر صرف نبی اکرم ﷺ کے لیے دیے گئے ہیں۔ مگر ان تمام احکامات میں آپ کے لیے بھی حدود رکھی گئی ہیں کہ ان سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے نکاح اور طلاق کا معاملہ اختیار کریں۔ کیونکہ اللہ ہر مسئلہ کی حقیقت، انجام اور اچھائی و برائی سے اچھی طرح واقف ہے اس لیے اس نے عام مسلمانوں کے لیے کچھ مختلف احکامات دیے ہیں اور نبی اکرم کی برتری کے اور معروفیت کے سبب کچھ خاص رعایتیں ان کو دی ہیں۔ پھر آخر میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52
اسرارومعارف
ذکر اللہ کی تاکید :
اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →ف 3 مراد آنحضرت ﷺ کی بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں۔4 اس اجازت کے تحت آپ ﷺ نے صفیہ ؓ ، جویرہ ؓ اور ماریہ قبطیہ ؓ اور ریحانہ ؓ کو اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا۔ صفیہ ؓ اور جویرہ ؓ سے نکاح کرلیا اور باقی دو سے (ایک روایت کے مطابق) محض ملک یمین کی بناء پر تمتع فرماتے رہے۔ ( فائدہ) وفت کے وقت آنحضرت ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ عائشہ ؓ ، حفصہ ؓ ، سودہ ؓ ، ام سلمہ ؓ ، زینب ؓ ، ام حبیبہ ؓ ، جویرہ ؓ ، صفیہ ؓ اور میمونہ ؓ ۔ ان میں سے پچھلی تین قریشی نہیں۔ (موضح) ۔5 اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں لڑائی میں گرفتار ہو کر نہ آئیں وہ آپ ﷺ کے لئے مباح نہیں ہیں بلکہ ” سراری “ کی تو آپ ﷺ کے لئے…
Read the full tafseer →(33:50) احللنا۔ ماضی جمع متکلم۔ احلال (افعال) مصدر۔ ہم نے حلال کردیا۔ اتیت۔ ایتاء (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو نے دیا۔ تو نے ادا کردیا۔ اجورہن اجر کی جمع مضاف ہن ضمیر جمع مؤنث غائب مضاف الیہ۔ ان عورتوں کا حق۔ ان کا مہر۔
وما ملکت میں وائو عاطفہ ہے اس کا عطف احللنا پر ہے ای واحللنا لک ما ملکت ۔۔ اور حلال کردی ہیں ہم نے تجھ پر۔۔ ما ملکت یمینک میں ما موصولہ ہے جو تمہارے دائیں ہاتھ کی ملک میں ہے یعنی کنیزیں ۔ مما۔ مرکب ہے من اور ما سے۔ یہاں من تبعیضیہ ہے اور ما موصولہ۔ اس میں سے جو ۔
افاء اللہ علیک۔ افائ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے لوٹایا۔ اس نے ہاتھ لگوایا۔ اس نے فئے میں عطا کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
لغات القرآن : آیت نمبر 49 تا 50
نکحتم : تم نے نکاح کرلیا
طلقتم : تم نے طلاق دے دی
تمسوا : تم نے ہاتھ لگایا (صحبت کی)
تعتدون : تم نے عدت کی
متعوا : تم سامان دے دو
سرحوا : تم چھوڑ دو
اجور (اجر) : مہر
افآء : مال غنیمت حاصل ہوا ۔ بغیر جنگ حاصل ہونے والا مال
وھبت : سپرد کردیا۔ ہبہ کردیا
تشریح آیت نمبر 49 تا 50
اسی سورت میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی رحمتوں اور آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنے والا ہے اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بےمثال زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ آپ کی زندگی وہ مبارک و پاکیزہ زندگی ہے جس کی اتباع اور پیروی ضروری ہے ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز…
Read the full tafseer →نکاح کرنے کی شرط۔
(ف 1) ان آیتوں میں اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم جن بیویوں کو مہر دے چکے ہو وہ اللہ نے تم پر حلال کردیں، نبی ﷺ کی بی بیوں کا مہر پانسودرہم تھا مگر اس حکم سے تین بی بیاں مستثنی ہیں ایک توام حبیبہ ؓ کہ ان کا مہر نجاشی بادشاہ نے چار سو دینا دیا۔ حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ ؓ کہ جن کو نبی ﷺ نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا۔
مسئلہ : غنیمت میں ملنے کا ذکر بھی یہاں فضیلت کے لیے ہے کیونکہ مملوکات مملکت میں خواہ خرید سے ملک میں آئی ہو یا ہبہ سے یا وراثت یا وصیت سے وہ سب حلال ہیں پھر فرمایا اے محبوب ﷺ اگر کوئی مسلمان عورت بغیر مہر اور بغیر مشروط نکاح اپنی جان آپ کو نذر کرے…
Read the full tafseer →[50] تنگی نہ رہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کی خواہشات نفسانی بہت بڑھی ہوئی تھیں جیسا کہ دشمنان اسلام نے آپ ﷺ کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے۔ اگر آپ ﷺ کی زندگی کو سامنے رکھا جائے تو اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں رہتا۔ آپ ﷺ نے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں خدیجہ ؓ سے کیا جن کی عمر اس وقت چالیس سال تھی اور وہ دو مرتبہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ پھر پورے پچیس سال تک آپ ﷺ انھیں کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے ایک اور سن رسیدہ خاتون سودہ ؓ سے جو بیوہ تھیں نکاح کیا اور پورے چار سال تک وہی آپ ﷺ کی بیوی رہیں۔ گویا 54, 53 سال کی عمر تک آپ ﷺ کے نکاح میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
حضور ﷺ کے تعددازدواج کا فلسفہ
2: مخالفین نے تعدد ازدواج پر بہت سے اعتراض کئے ہیں اور کہا ہے کہ جس شخص کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں ہوں ۔ وہ کیونکر روحانیت کا پیکر ہوسکتا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک روحانیت کے معنے مجرد اور ہبانیت کے ہیں ۔ اور خدا رسیدہ شخص ان کے نظریہ کے مطابق وہ ہے جو دنیوی برکات سے یک قلم محروم ہو ۔ قطع نظر اس اصول کے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شادی کے محرکات میں جنس جذبات نہ تھے ۔ بلکہ تبلیغی حاجات کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ حضور ﷺ قبائل عرب میں اشاعت دین کی خاطر یہ رستہ استوار کریں ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حقائق پر غور فرمائیے :۔
(1) پچیس سال کی عمر تک آپ نے کامل تجرد کی…
Read the full tafseer →50۔ اے نبی آپ کی یہ تمام بیویاں جن کے مہر آپ نے ادا کئے ہیں ہم نے آپکے لئے حلال رکھی ہیں اور وہ باندیاں جو اللہ تعالیٰ نے آپکو غنیمت کے مال میں سے دلوائی ہیں اور آپ کے ہاتھ ان کے مالک ہوئے یعنی جو آپ کی مملوکہ ہیں وہ بھی آپ کے لئے ہم نے حلال رکھی ہیں اور آپکے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیاں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالائوں کی بیٹیاں یہ سب بھی آپ کیلئے حلال ہیں بشرطیکہ انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو یعنی ان سے نکاح کرنا جائز اور حلال ہے اور وہ مسلمان عورت بھی ہم نے آپ کیلئے حلال کی جو بلا کسی عوض کے اپنے آپ کو نبی کیلئے ہبہ کر دے بشرطیکہ نبی بھی اس کو اپنے نکاح میں لاناچا…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی نکاح میں آنا چاہئے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم عام اور حکم خاص دیا جارہا ہے
50 ۔ ” اے پیغمبر اسلام ہم نے آپ ﷺ کے لئے آپ ﷺ کی بیویاں جن کو آپ ﷺ مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں “ سورة النساء میں یہ وضاحت تو تفصیل سے گزر چکی ہے کہ اسلام نے عام آدمیوں کے لئے چار تک شادیاں بیک وقت کرنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ شرعی ضرورت پیش آئے اور ان کے حقوق میں برابری بھی وہ کرسکیں تاہم چار سے زیادہ نکاح بیک وقت نہیں کئے جاسکتے اور ایک شادی کو مستحسن سمجھنا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ آپ ﷺ بیک وقت چار سے زیادہ شادیاں کرسکتے تھے بلکہ آپ ﷺ نے کی ہیں جیسا کہ ہم نے پیچھے اس سورت کی آیت 36 میں وضاحت کردی ہے اور اس کے بعد تمام…
Read the full tafseer →Commentary
These verses contain seven injunctions about marriage and divorce that are specific to the Holy Prophet t and these specifics signify his distinctive eminence and his special honor. Some of these injunctions are such that their being specific to the Holy Prophet t is absolutely plain and obvious and some of them are such that, despite their being general for all Muslims, they are subject to certain conditions and qualifications that are specific to the Holy Prophet ﷺ . The details are given below:
The First injunction
إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ…
Read the full tafseer →87 This, in fact, is an answer to the objection of the people who said that Muhammad (upon whom be Allah's peace) forbade others to keep more than four wives at a time but had himself taken a fifth wife. This objection was raised because at the time the Holy Prophet married Hadrat Zainab, he already had four wives with him: 11) Hadrat Saudah whom he had married in the 3rd year before the Hijrah, (2) Hadrat 'A'ishah whom he married in the 3rd year before the Hijrah but who came to live with him in Shawwal, A.H. I, (3) Hadrat Hafsah whom he married in Sha'ban, A.H. 3, and (4) Hadrat Umm Salamah…
Read the full tafseer →