Al-Ahzaab 33:50

Al-Ahzaab · from ayah 50

33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ؗ— وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا ۗ— خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ؕ— قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ وَمَا مَلَـكَتۡ يَمِيۡنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِىۡ هَاجَرۡنَ مَعَكَ وَامۡرَاَةً مُّؤۡمِنَةً اِنۡ وَّهَبَتۡ نَفۡسَهَا لِلنَّبِىِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِىُّ اَنۡ يَّسۡتَـنۡكِحَهَا خَالِصَةً لَّـكَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ؕ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِىۡۤ اَزۡوَاجِهِمۡ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ لِكَيۡلَا يَكُوۡنَ عَلَيۡكَ حَرَجٌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا

اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, indeed We have made lawful to you your wives to whom you have given their due compensation and those your right hand possesses from what Allah has returned to you [of captives] and the daughters of your paternal uncles and the daughters of your paternal aunts and the daughters of your maternal uncles and the daughters of your maternal aunts who emigrated with you and a believing woman if she gives herself to the Prophet [and] if the Prophet wishes to marry her, [this is] only for you, excluding the [other] believers. We certainly know what We have made obligatory upon them concerning their wives and those their right hands possess, [but this is for you] in order that there will be upon you no discomfort. And ever is Allah Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:50

اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! ہم نے تمہارے لیے وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کو تم نے ان کا مہرا دا کردیا ہے۔ نیز اللہ نے غنیمت کا جو مال تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آچکی ہیں وہ بھی (تمہارے لیے حلال ہیں) اور تمہاری وہ چچا کی بیٹیاں اور پھوپی کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ نیز کوئی مسلمان عورت جس نے مہر کے بغیر نبی کو اپنے آپ (سے نکاح کرنے) کی پیش کش کی ہو، بشرطیکہ نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ سارے احکام خاص تمہارے لیے ہیں، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں وہ احکام خوب معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں ان پر عائد کیے ہیں۔ (اور تمہیں ان سے مستثنی کیا ہے) تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں یہ خصوصیت تمہاری اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! بیشک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کردیں جن کا تو نے مہر دیا ہے اور وہ عورتیں جن کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنا ہے، اس (غنیمت) میں سے جو اللہ تجھ پر لوٹا کر لایا ہے اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں، جنھوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مومن عورت اگر وہ اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، اگر نبی چاہے کہ اسے نکاح میں لے لے۔ یہ خاص تیرے لیے ہے، مومنوں کے لیے نہیں۔ بیشک ہم نے جان لیا جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان عورتوں کے بارے میں فرض کیا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! ہم نے آپ پر آپ کی وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کے حق مہر آپ ادا کرچکے ہیں اور وہ کنیزیں بھی جو آپکے قبضہ میں ہیں جو اللہ نے آپ کو غنیمت کے مال سے دی ہیں۔ نیز آپ کے چچا، پھوپھیوں ، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ نیز وہ مسلمان عورت بھی جو اپنے آپ کو نبی کے لئے ہبہ کر دے اور نبی اس کو نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت صرف آپ کے لئے ہے دوسرے مسلمانوں کو نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے مومنوں پر ان کی بیویوں اور مقبوضہ کنیزوں کے بارے میں کیا فرض کیا ہے۔ (اور آپ کو یہ رعایت اس لئے ہے) کہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی، ہم نے تمہاری ان بیویوں کو تمہارے لئے جائز کیا جن کے مہر تم دے چکے ہو اور تمہاری ان مملوکات کو بھی تمہارے لئے حلال کیا جو اللہ نے تم کو بطور غنیمت عطا فرمائیں اور تمہارے چچا کی بیٹیوں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیوں اور تمہارے ماموں کی بیٹیوں اور تمہاری خالائوں کی بیٹیوں میں سے بھی ان کو حلال ٹھہرایا جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے اور اس مومنہ کو بھی جو اپنے تئیں نبی کو ہبہ کردے بشرطیکہ پیغمبر اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ خاص تمہارے لئے ہیں، مسلمانوں سے الگ۔ ہم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کچھ ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے باب میں فرض کیا ہے تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے نبی ہم نے آپ کے لئے حلال کردیں آپ کی وہ بیویاں جن کے مہر آپ نے ادا کر دئیے اور وہ باندیاں بھی جو آپ کی ملکیت میں آچکی ہوں ان عورتوں میں سے جو اللہ نے آپ کو غنیمت میں عطا فرمائیں ہیں اور آپ کی وہ چچا زاد پھوپھی زاد ماموں زاد وخالہ زاد بہنیں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو اور وہ مومن عورت بھی جو بلاعوض اپنے آپ کو نبی کو دے دے اگر نبی اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں (یہ سب احکام) خاص آپ ﷺ کے کیلئے ہیں نہ کہ دوسرے مسلمانوں کے لئے ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ کہ ہم نے فرض کیا ہے ان (عام مومنوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی ان باندیوں کے بارے میں جو کہ ان کی ملکیت میں ہوں (اور آپ کے لئے ایسا اس لئے کیا گیا کہ) تاکہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی ہم نے آپ کے لئے آپ کی (یہ) بیویاں حلال کی ہیں جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں۔ اور وہ عورتیں بھی جو آپ کی ملک میں ہیں جنہیں اللہ نے آپ کو غنیمت میں دلوایا ہے۔ اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں۔ اور آپ کی ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور اس مسلمان عورت کو (بھی) جو (بلاعوض) اپنے کو نبی کو دے دے۔ بشرطیکہ نبی (بھی) اسے نکاح میں لانا چاہیں (یہ حکم) آپ کے لئے مخصوص ہے نہ کہ (اور) مومنیں کے لئے ہم کو وہ (احکام) معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے بارے میں ان پر مقرر کئے ہیں۔ تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ (واقع) ہو۔ اور اللہ تو بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں ور (ان کو بھی) جو آپ ﷺ کی ملک یمین (باندیاں) ہیں ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فے عطا کیں (اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے) اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ (رعایت) خالص آپ ﷺ کے لیے ہے مومنین سے علیحدہ۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان (عام مسلمانوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے } تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ہم نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو اللہ نے تم کو کفار سے بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے مامؤوں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں سب حلال ہیں اور کوئی مومن عورت اگر خود کو پیغمبر کے لیے بخش دے یعنی بغیر مہر لیے نکاح میں آنا چاہے بشرطیکہ پیغمبر بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ بھی حلال ہے لیکن یہ اجازت اے محمد ﷺ خاص آپ کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو مہر واجب الادا مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, We have made lawful for you your wives whose bridal dues you have paid, and the slave-girls you possess from among the prisoners of war, and the daughters of your paternal uncles and paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles and maternal aunts who have migrated with you, and a believing woman who gives herself to the Prophet and whom he wants to take in marriage. (O Prophet), this privilege is yours alone to the exclusion of other believers. We know well what restrictions We have imposed upon them as regards their wives and those whom their right hands possess, (and have exempted you from those restrictions) that there may be no constraint upon you. Allah is Most Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O prophet, We have made lawful for you all your wives whom you have given their dowers, and those (bondwomen) whom you own, out of the captives Allah has given to you as spoils of war, and daughters of your paternal uncle, and daughters of your paternal aunts, and daughters of your maternal uncle, and daughters of your maternal aunts, who have migrated with you, and a believing woman who offers herself for (marrying) the prophet without dower, if the prophet wishes to bring her into his marriage, these rules being exclusive for you, and not for the (rest of the) believers, — We know what We have prescribed for them in respect of their wives and the slave-girls they own — so that there should be no difficulty for you. Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

O prophet, We have made lawful for you all your wives whom you have given their dowers, and those (bondwomen) whom you own, out of the captives Allah has given to you as spoils of war, and daughters of your paternal uncle, and daughters of your paternal aunts, and daughters of your maternal uncle, and daughters of your maternal aunts, who have migrated with you, and a believing woman who offers herself for (marrying) the prophet without dower, if the prophet wishes to bring her into his marriage, these rules being exclusive for you, and not for the (rest of the) believers, — We know what We have prescribed for them in respect of their wives and the slave-girls they own — so that there should be no difficulty for you. Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! Verily, We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due (dowery), and those (slaves) whom your right hand possesses -- whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles and the daughters of your paternal aunts and the daughters of your maternal uncles and the daughters of your maternal aunts who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet, and the Prophet wishes to marry her -- a privilege for you only, not for the (rest of) the believers. Indeed We know what We have enjoined upon them about their wives and those (slaves) whom their right hands possess, in order that there should be no difficulty on you. And Allah is Ever Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! Lo! We have made lawful unto thee thy wives unto whom thou hast paid their dowries, and those whom thy right hand possesseth of those whom Allah hath given thee as spoils of war, and the daughters of thine uncle on the father's side and the daughters of thine aunts on the father's side, and the daughters of thine uncle on the mother's side and the daughters of thine aunts on the mother's side who emigrated with thee, and a believing woman if she give herself unto the Prophet and the Prophet desire to ask her in marriage - a privilege for thee only, not for the (rest of) believers - We are Aware of that which We enjoined upon them concerning their wives and those whom their right hands possess - that thou mayst be free from blame, for Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, indeed We have made lawful to you your wives to whom you have given their due compensation and those your right hand possesses from what Allah has returned to you [of captives] and the daughters of your paternal uncles and the daughters of your paternal aunts and the daughters of your maternal uncles and the daughters of your maternal aunts who emigrated with you and a believing woman if she gives herself to the Prophet [and] if the Prophet wishes to marry her, [this is] only for you, excluding the [other] believers. We certainly know what We have made obligatory upon them concerning their wives and those their right hands possess, [but this is for you] in order that there will be upon you no discomfort. And ever is Allah Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Prophet, We have made lawful for you your wives whom you have given their dowry, slave girls whom God has given to you as gifts, the daughters of your uncles and aunts, both paternal and maternal, who have migrated with you. The believing woman, who has offered herself to the Prophet and whom the Prophet may want to marry, will be specially for him, not for other believers. We knew what to make obligatory for them concerning their wives and slave girls so that you would face no hardship (because we have given distinction to you over the believers). God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

O Prophet! surely We have made lawful to you your wives whom you have given their dowries, and those whom your right hand possesses out of those whom Allah has given to you as prisoners of war, and the daughters of your paternal uncles and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles and the daughters of your maternal aunts who fled with you; and a believing woman if she gave herself to the Prophet, if the Prophet desired to marry her-- specially for you, not for the (rest of) believers; We know what We have ordained for them concerning their wives and those whom their right hands possess in order that no blame may attach to you; and Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

O Prophet! verily We have allowed unto thee thy wives unto whom thou hast given their hires, and also those whomsoever thy right hand ownEth of those whomsoever Allah hath given thee as spoils of war, and the daughters of thy paternal uncle, and the daughters of thy paternal aunts, and the daughters of thy maternal uncle, and the daughters of thy maternal aunts, who migrated with thee, and any believing woman, when she offereth herself unto the Prophet if the Prophet desire to wed her --purely for thee, above the rest of the believers. Surely We know that which We have ordained unto them concerning their wives and those whom their right hands won: in order that there may be no blame upon thee: And Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! We have made lawful to thee thy wives to whom thou hast paid their dowers; and those whom thy right hand possesses out of the prisoners of war whom Allah has assigned to thee; and daughters of thy paternal uncles and aunts, and daughters of thy maternal uncles and aunts, who migrated (from Makka) with thee; and any believing woman who dedicates her soul to the Prophet if the Prophet wishes to wed her;- this only for thee, and not for the Believers (at large); We know what We have appointed for them as to their wives and the captives whom their right hands possess;- in order that there should be no difficulty for thee. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ پر حلال ہیں۔ آپ کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المومنین حضرت حبیبہ بنت ابی سفیان عنہا کا مہر حضرت نجاشی ؒ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی ؓ کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ بھی تھیں پھر آپ نے انہیں آزاد کردیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کرلیا۔ اور حضرت جویریہ بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ نے حضرت ثابت بن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 87 یہ دراصل جواب ہے ان لوگوں کے اعتراض کا جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ دوسرے لوگوں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع قرار دیتے ہیں، مگر خود انہوں نے یہ پانچویں بیوی کیسے کرلی۔ اس اعتراض کی بنیاد یہ تھی کہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کے وقت نبی ﷺ کی چار بیویاں موجود تھیں۔ ایک حضرت سودہ جن سے 3 قبل ہجرت میں آپ نے نکاح کیا تھا۔ دوسری، حضرت عائشہ جن سے نکاح تو 3 قبل ہجرت میں ہوچکا تھا مگر انکی رخصتی شوال 1 ہجری میں ہوئی تھی، تیسری، حضرت حفصہ جن سے شعبان 3 ھجری میں آپ کا نکاح ہوا۔ اور چوتھی، حضرت ام سلمہ، جنہیں حضور ﷺ نے شوال 4 ہجری میں زوجیت کا شرف عطا فرمایا۔ اس طرح حضرت زینب آپ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اے نبی (بعض احکام آپ کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے آپ کا اختصاص اور شرف بھی ثابت ہوتا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں، حکم اول) ہم نے آپ کے لئے آپ کی یہ بیبیاں (جو کہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اور) جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں (باوجود چار سے زائد ہونے کے) حلال کی ہیں (حکم دوم) اور وہ عورتیں بھی (خاص طور پر حلال کی ہیں) جو تمہاری مملوکہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوا دی ہیں (اس خاص طور کا بیان معاف و مسائل میں آئے گا حکم سوم) اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں (مراد اس سے باپ کے خاندان کی بیٹیاں ہیں) اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں (مراد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یایھا النبی انا احللنا لک ازواجک التہ اتیت اجورھن وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک و بنت عمک عمتک وبنت خالک وبنت خلتک التی ھاجرون معک وامراۃ مومنۃ ان وھبت نفسھا للنبی ان اراد النبی ان یستنکمھا خالصہ لک مندون المومنین قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وما ملکت ایمانھم نکیلا یکون علیک حرج وکان اللہ غفورا رحیما (50) ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس وقت تحدید ازواج کا حکم نازل ہوا ہے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے نکاح میں چار ہی بیویاں… حضرت عائشہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ … تھیں۔ اس وجہ سے نہ حضور کے لئے کسی بیوی کو طلاق دینے کا سوال پیدا ہوتا تھا اور نہ اس باب میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 بعض احکام شرعیہ میں نبی ﷺ کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلا اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ ﷺ پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ؓ کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ ؓ کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔ 50۔ 2 چناچہ حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کرلیا اور رحانہ اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

38:ٓآیت نمبر 50 اور 51 میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بارے میں وہ احکام بیان فرمائے ہیں جو صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان میں سے پہلا حکم یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے چار سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن آنحضرت ﷺ کو چار سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے۔ اس اجازت میں بہت سی حکمتیں تھیں جن کی تفصیل دیکھنی ہو تو ”معارف القرآن“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ 39: یہ دوسرا حکم ہے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، عام مسلمان اس میں شریک نہیں ہیں۔ اور وہ یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان عورت سے یا اہل کتاب (یعنی عیسائیوں اور یہودیوں) میں سے کسی عورت سے بھی نکاح کرسکتے ہیں، لیکن حضور نبی کریم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 50–52

یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52) نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی لونڈیاں، باندیاں جو غنیمت وغیرہ سے ہاتھ لگی ہوں۔ 4 تیری عورتیں جن کا مہر دے چکا یعنی جواب تیرے نکاح میں ہیں خواہ قریش سے ہوں اور مہاجر ہوں یا نہ ہوں سب حلال رہیں ان میں سے کسی کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کی بیٹیاں یعنی قریش میں سے جو باپ یا ماں کی طرف سے قرابت دار ہوں بشرط ہجرت کے حلال ہیں ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ اور جو عورت بخشے نبی کو اپنی جان یعنی بلا مہر کے نکاح میں آنا چاہے وہ بھی حلال ہے اگر آپ اس طرح نکاح میں لانا پسند کریں۔ یہ اجازت خاص پیغمبر کے لیے ہے گو آپ نے بھی اس پر عمل نہیں کیا (کما فی الفتح) شاید " ان اراد النبی " کی شرط سے اباحت مرجوحہ سمجھی ہو۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں“ { وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ } ”اور ان کو بھی جو آپ ﷺ کی ملک یمین باندیاں ہیں ‘ ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور ’ فے ‘ عطا کیں“ جیسے مصر کے فرمانروا مقوقس نے حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کو آپ ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ { وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ } ”اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت اور اس کی وجہ :۔ یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب ہے۔ سیدنا زینب بنت جحش جن سے آپ نے اللہ کے حکم سے نکاح کیا تھا یا جن کا نکاح سات آسمانوں پر ہوا تھا آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس سے پہلے چار بیویاں سیدہ عائشہ ؓ بنت ابی بکر سیدہ سودہ بنت زمعۃ ؓ سیدہ حفصہ ؓ بنت عمر اور سیدہ ام سلمہ ؓ موجود تھیں۔ اور عام مومنوں کے لئے چار بیویوں سے زائد کا جواز نہیں تھا۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عام قاعدہ سے مستثنیٰ کردیا۔ یہ اعتراض کافروں کی طرف سے تو یقینا تھا تاہم مسلمانوں کو بھی اس کا خیال آسکتا تھا۔ لہذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی کہ عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

107۔ (باوجود اس کے کہ وہ چار کے جائز عدد سے زائد ہیں) پیغمبر کے شرف و امتیاز نیز آپ کی ضرورتوں اور مصلحتوں کے پیش نظر آپ کی ازدواجی زندگی سے متعلق اب بعض مخصوص احکام کا بیان ہورہا ہے۔ 108۔ (کنیز شرعی کی حیثیت سے) یعنی ان سب کے رکھنے کی آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے اجازت ہے۔ (آیت) ” افآء اللہ علیک “۔ کی قید سے زر خرید باندیاں اس حکم اجازت سے نکل گئیں۔ 109۔ دونوں کا خلاصہ یہ کہ آپ کے والد کے خاندان کی بیٹیاں۔ 110۔ دونوں کا حاصل یہ کہ آپ کی والدہ کے خاندان کی بیٹیاں۔ 111۔ یعنی دادھیالی اور نانہالی خاندانوں کی بھی سب عورتیں نہیں، بلکہ وہی جنہوں نے عمل ہجرت میں موافقت کی ہو غیر مہاجر بیویاں اس قید سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی انا احللنالک ازواجک التی اتیت اجورھن اے نبی ! ہم نے آپ کیلئے آپ کی یہ بیویاں جن کا مہر آپ دے چکے ہیں ‘ حلال کردی ہیں۔ اجور (اجر کی جمع ہے) سے مراد ہے مہر کیونکہ مہر تمتع اندوزی کا بدل ہے ‘ مہر ادا کردینے کی قید (احترازی نہیں بلکہ) ایک واقعہ کا بیان ہے۔ رسول اللہ کی عادت ہی تھی کہ ہر بیوی کا مہر آپ نے فوراً ادا کردیا تھا ‘ یا یوں کہا جائے کہ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ کی صراحت اس لئے کی کہ مہر معجل یعنی مہر کی فوراً ادائیگی افضل ہے اور رسول اللہ نے اسی کو اختیار کیا تھا۔ بہرحال باتفاق علماء (یعنی ان علماء کے نزدیک بھی جو مفہوم مخالف کے قائل ہیں) اس جگہ مفہوم مخالف نہیں ہے (یعنی یہ مطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی اکرم ہم نے آپ نے کے لیے آپ کی یہ ازواج مطہرات جن کو آپ ان کا مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں اور وہ عورتیں بھی حلال کی ہیں جو تمہاری ملکیت ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوا دی ہیں جیسا کہ حضڑت ماریہ قبطیہ اور آپ کی چچا کی بیٹیوں سے بھی آپ کے لیے شادی کرنا حلال ہے باوجود تعداد میں زیادہ ہونے کے کیونکہ یہ آپ کی خصوصیت ہے اور اسی طرح پھوپھی زاد بہنیں یعنی بنی عبدالمطلب اور آپ کی ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں یعنی بنی عبد مناف بن زہرہ جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی ہو۔ اور مسلمان عورت کو بھی خاص آپ کے لیے حلال کیا ہے جو بغیر مہر کے خود کو پیغمبر خدا کے حوالے کر بشرطیکہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ دوسرے لوگوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں ممنوع قرار دیتے ہیں تو خود انھوں نے چار سے زیادہ شادیاں کیسے کرلیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ تمام بیویاں حلال کی ہیں جن کا آپ نے مہر دیا ہے۔ مراد وہ بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ کے نکاح میں تھیں۔ مطلب یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے ہم ہیں اور آپ کے لیے اس شرط کو ختم کرنے والے بھی ہم ہیں۔ جن عورتوں سے آپ نے نکاح فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی، جن میں سے نو بیویاں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں انیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ سدی نے کہا ابو صالح سے وہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ عہنا سے روایت نقل کرتے ہیں (1) ۔ کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے دعوت نکاح دی تو میں نے آپ ﷺ سے معذرت کی تو آپ نے میری معذرت کو قبول کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا : آیت انا احللنا لک۔ کہا : میں آپ ﷺ کے حلال نہ تھی کیونکہ میں نے ہجرت نہ کی تھی میں طلقاء (جن کو چھوڑ دیا گیا) میں سے تھی۔ اسے ابو عیسیٰ ترمذی نے روایت کیا ہے۔ کہا : یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے اسی سند سے پہچانتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : یہ بہت ہی ضعیف ہے۔ یہ حدیث کسی ایسی صحیح سند سے مروی نہیں جس سے استدلال کیا جاسکے (2) ۔ مسئلہ نمبر 2۔ جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن سعد وابن راہویہ وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا میں نے معذرت کی آپ نے میرا عذر قبول فرمالیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی انااحللنا لک ازواجک سے لے کر آیت التی ہاجرن تک تو میں رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال نہیں کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور میں آزاد عورتوں میں سے تھی۔ 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے دوسری سند سے ام ہانی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وبنت خٰلتک التی ہاجرن معک اور آپ کے چچا کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ [بیشک ہم نے حلال کیں آپ ﷺ کے لئے ] اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ [آپ ﷺ کی ان بیویوں کو جن کو ] اٰتَيْتَ [آپ ﷺ نے دیا ] اُجُوْرَهُنَّ [ان کا اجر (مہر)] وَمَا [اور ان کو جن کا ] مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ [مالک ہوا آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ (کنیز)] مِمَّآ [ان میں سے جن کو ] اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ [لوٹایا اللہ نے آپ ﷺ پر (مال غنیمت میں)] وَبَنٰتِ عَمِّكَ [اور آپ ﷺ کے چچا کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ [اور آپ ﷺ کے پھوپھیوں کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ خَالِكَ [اور آپ ﷺ کے ماموں کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ [اور آپ ﷺ کے خالاؤں کی بیٹیاں ] الّٰتِيْ [جنہوں نے ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نکاح کے بعض احکام رسول اللہ ﷺ کی بعض خصوصیات حضرت خدیجہ ؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے متعدد عورتوں سے نکاح فرمایا جن کے اسمائے گرامی آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا) کے ذیل میں بیان کیے جاچکے ہیں، ان بیویوں میں اکثر بیویاں مہاجرات تھیں، البتہ صفیہ ؓ بنت حی بن اخطب یہود خیبر کے قیدیوں میں سے اور حضرت جویریہ ؓ غزوہ بنی المصطلق کے قیدیوں میں سے تھیں ان بیویوں کو آیت بالا میں (الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ ) میں بیان فرمایا اور آپ کی بعض سراری یعنی باندیاں بھی تھیں جنہیں (وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآء اللّٰہُ عَلَیْکَ )…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–52

ذکر بعض احکام نکاح و طلاق وبعض خصائص نبوی دوبارہ نکاح قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذا نکحتم ال مومن ات۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء رقیبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حضرت زینب ؓ کے نکاح اور طلاق کا قصہ مذکور تھا۔ اس لئے آئندہ آیات میں نکاح اور طلاق وغیرہ کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں۔ بعض احکام تو وہ ہیں جو عام مومنین سے متعلق ہیں اور بعض احکام وہ ہیں جو خاص آنحضرت ﷺ کے نکاح سے متعلق ہیں اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہیں جو آپ ﷺ کی فضیلت اور شرف اور کرامت کی دلیل ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی ایک خاص شان امتیازی ہے جس کی بنا پر نبی کے حق میں بعض احکام امت کے احکام سے جدا ہیں اور نکاح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:۔ یا ایہا النبی الخ یہ آں حضرت ﷺ سے چھٹا خطاب ہے۔ اس میں حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ کے لیے حسب ذیل چار قسم کی عورتیں حلال ہیں۔ اور ان کے علاوہ اور آپ کے لیے حلال نہیں اول، التی اتیت اجورھن یعنی وہ بیویاں جو آپ کے نکاح میں ہیں اور آپ ان کا مہر ادا کرچکے ہیں وہ قریش سے ہوں یا غیر قریش سے مہاجرہ ہوں یا غیر مہاجرہ۔ دوم وما ملکت یمینک الخ جو باندیاں مال غنیمت میں سے اللہ نے آپ کو دی ہیں۔ سوم و بنت عمک الخ، قریش کی وہ عورتیں جو آپ کے ساتھ ہجرت کرچکی ہیں۔ چہارم وہ ایمان والی عورت جو بلا مہر اپنے کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کردے۔ خالصۃ لک الخ، بلا مہر نکاح کرنا یہ صرف آپ کے لیے خاص حکم ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیت میں مطلقہ عورت کی عدت کا مسئلہ بیان ہوا تھا کہ اگر کسی عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی جائے تو اس کے لئے کوئی عدت نہیں ، وہ جس وقت چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ پھر اللہ نے حسن معاشرت کے ضمن میں فرمایا کہ طلاق شدہ عورت کو کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر اچھے طریقے سے رخصت کرو۔ اور اگر مہر مقرر ہے اور ابھی ادا نہیں کیا تو وہ بھی ادا کرو۔ اگر مہر مقرر نہیں ہوا تو کپڑوں کا جوڑا دینا واجب ہوگا ، بصورت دیگر مستجب ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سلسلے میں پیغمبر ﷺ کی سات خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے چار خصوصیات اس آیت کریمہ میں آگئی ہیں اور باقی تین آمدہ دروس میں بیان ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَہُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِيْ ہَاجَرْنَ مَعَكَ۝ 0 ۡوَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَہَا۝ 0 ۤ خَالِصَۃً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 0 ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْہِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ۝ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝ 50 حلَال حَلَّ الشیء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–50

ترکیب : وامراۃ منصوب بفعل محذوف یفسر و ما قبلہ ای حللنا لک امراۃ مؤمنۃ ویمکن ان یکون معطوفا علی ماسبق ولا یمنعہ ان التی للاستقلال فی قولہ ان وھبت لان المراد بالاحلال الاعلام بالحل اذا وقع الفعل علی ذلک کما یقال ابحت لک الکلام بزیدان سلم علیک خالصۃ یمکن ان یکون حالا من الضمیر فی وھبت وان یکون صفۃ المصدر اے ھبۃً ویجوزان یکون مصدرا ای اخلصنا لک ذلک اخلاصا و قد جاءت فاعلہ مصدر امثل العاقبۃ۔ تفسیر … اول حکم : اس کے بعد خود اس صلائے عام کا نبی ( علیہ السلام) کو حکم دیتا ہے۔ فقال وبشر المؤمنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا کہ ایمانداروں کو خوشخبری دے کہ اللہ کا ان پر بڑا فضل ہے۔ دنیا میں ان کو ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَـکَ اَزْوَاجَکَ الَّتِیْٓ اٰ تَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَـکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰـتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ ز وَامْرَاۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَالنَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا ق خَالِصَۃً لَّـکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط قَدْعَلِمْنَا مَافَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلاَ یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 50) (اے نبی ہم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مومنوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اسی طرح سرور دوعالم کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ بھی اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ تاہم آپ کو اپنی بیویوں کے بارے میں کچھ رعایت دی گئی ہے تاکہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں گھریلو حالات رکاوٹ نہ بن سکیں۔ 1 مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے ازواجی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ جس میں ازواجی زندگی میں نبی ﷺ کے امتیازات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو حق مہر کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اس لیے پہلے وضاحت فرمادی کہ آپ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نہم شرط ‘ تابید نکاح ہے : 50: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْ (اے نبی مکرم (ﷺ) ہم نے آپ کیلئے آپ کی یہ بیویاں جن کے مہر) اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ (آپ دے چکے ہیں حلال کی ہیں) اجور کا معنی مہر ہے۔ کیونکہ مہر بضع کا بدلہ ہے۔ ( اتیت اجورھن کی قید احترازی نہیں۔ واقعی ہے کیونکہ آپ جلد ادا فرماتے تھے) کرخی (رح) کا قول : لفظ اجارہ سے نکاح اسی لئے جائز ہے کیونکہ مہرکو اجور فرمایا۔ جواب کرخی m : نکاح کی شرط تابید ہے اور اجارہ کی شرط تاقیت ہے اور دونوں میں منافات ہے اور ایتائو ھاؔ کا معنی اعطاء ھا عا جلاً ان کو جلد ادا کرنا یا اس کو مقرر کرنا اور عقد میں اس کا نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 50، یایھا النبی انا احللنالک ازواجک اللاتی آتیت اجورھن، اس سے مراد مہر ہے۔ ، وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک ، اس آیت میں کفار پر رد ہے۔ کفار یہ کہتے تھے کہ ان کو پہلے قید کیا، پھر ان سے نکاح کرایا جیسے صفیہ اور جو یریہ جبکہ حضرت ماریہ کسی جہاد سے گرفتارکرکے نہیں لائی گئی تھیں بلکہ مقو قس شاہ مصر نے بطور ہدیہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ان کو بھیجا تھا۔ ، وبنا ت عمک وبنات عماتک ، اس سے مراد قریش کی عورتیں ہیں ۔ ، وبنات خالک وبنات خالاتک ، خاندان بنوزہرہ کی بیٹیاں۔ ، اللاتی ھاجرن معک ، جنہوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی اور جن عورتوں نے ان میں سے کسی عورت کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور مدینہ آئی، ان سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–50

45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 50 اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ پر کچھ ایسی چیزیں حلال ٹھہرائیں جو مومنوں کے لئے بھی حلال ہیں اور کچھ چیزیں ایسی بھی حلال ٹھہرائیں جو صرف آپ کے لئے مختص ہیں، چناچہ فرمایا : (یاھا النب انا احلنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن) ” اے نبی ! ہم نے تیرے لئے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کا اجر دے چکا ہے۔ “ یعنی آپ نے جن بیویوں کو مہر عطا کردیا ہے۔ یہ ان امور میں شمار ہوتا ہے جو نبی ﷺ اور یدگر اہل ایمان کے درمیان مشترک ہیں، کیونکہ اہل ایمان کے لئے بھی ان کی وہی بیویاں مباح ہیں جن کو انہوں نے حق مہر ادا کردیا ہے۔ (و) ” اور “ اسی طرح ہم نے آپ کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

بیویوں کے بارے میں کیا فرض ہوا ؟ قول باری ہے (قا علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم۔ ہم کو وہ (احکام) معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں کے بارے میں ان پر مقرر کیے ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ یہ فرض کردیا گیا کہ عورت کا نکاح ولی اور دو گواہوں نیز مہر کے بغیر نہ کرایا جائے۔ مرد چار سے زیادہ شادیاں نہ کرے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ یہ فرض کردیا گیا ہے کہ مرد چار شادیاں کرے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وما ملکت ایمانھم اور ان کی لونڈیوں کے بارے ) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس اباحت کا علم ہے جو اس نے ملک یمین کی بنیاد پر اہل ایمان کے لئے کردی ہے جس طرح یہ اباحت حضور ﷺ کے لئے کردی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–50

93 نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر : سو اس ارشاد سے ایمان والوں کیلئے نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خصوصی ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں اور اس بارے جو حکم مومن عورتوں کا ہے یہی حکم کتابیہ عورتوں کا بھی ہے مگر مومنہ کی قید لگا کر گویا اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ مومن کے لئے اصل اور بہتر یہی ہے کہ وہ ایماندار عورت ہی سے نکاح کرے نہ کہ کتابیہ سے ۔ قولہ المؤمنات تحریض علی نکاحہن ۔ (جامع : ج 2 ص 170) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگوں میں سے جو کوئی نکاح کے بعد اپنی بیوی کو قبل ازمسیس یعنی رخصتی اور ملاقات سے پہلے ہی طلاق دے دے تو اس پر عدت کی کوئی پابندی نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–52

نبی کے لیے احکامات اور خاص رعایتیں تشریح : اوپر دی گئی آیات میں سات احکامات نکاح و طلاق کے بارے میں دیے گئے ہیں جو خاص طور پر صرف نبی اکرم ﷺ کے لیے دیے گئے ہیں۔ مگر ان تمام احکامات میں آپ کے لیے بھی حدود رکھی گئی ہیں کہ ان سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے نکاح اور طلاق کا معاملہ اختیار کریں۔ کیونکہ اللہ ہر مسئلہ کی حقیقت، انجام اور اچھائی و برائی سے اچھی طرح واقف ہے اس لیے اس نے عام مسلمانوں کے لیے کچھ مختلف احکامات دیے ہیں اور نبی اکرم کی برتری کے اور معروفیت کے سبب کچھ خاص رعایتیں ان کو دی ہیں۔ پھر آخر میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے “۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 مراد آنحضرت ﷺ کی بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں۔4 اس اجازت کے تحت آپ ﷺ نے صفیہ ؓ ، جویرہ ؓ اور ماریہ قبطیہ ؓ اور ریحانہ ؓ کو اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا۔ صفیہ ؓ اور جویرہ ؓ سے نکاح کرلیا اور باقی دو سے (ایک روایت کے مطابق) محض ملک یمین کی بناء پر تمتع فرماتے رہے۔ ( فائدہ) وفت کے وقت آنحضرت ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ عائشہ ؓ ، حفصہ ؓ ، سودہ ؓ ، ام سلمہ ؓ ، زینب ؓ ، ام حبیبہ ؓ ، جویرہ ؓ ، صفیہ ؓ اور میمونہ ؓ ۔ ان میں سے پچھلی تین قریشی نہیں۔ (موضح) ۔5 اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں لڑائی میں گرفتار ہو کر نہ آئیں وہ آپ ﷺ کے لئے مباح نہیں ہیں بلکہ ” سراری “ کی تو آپ ﷺ کے لئے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:50) احللنا۔ ماضی جمع متکلم۔ احلال (افعال) مصدر۔ ہم نے حلال کردیا۔ اتیت۔ ایتاء (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو نے دیا۔ تو نے ادا کردیا۔ اجورہن اجر کی جمع مضاف ہن ضمیر جمع مؤنث غائب مضاف الیہ۔ ان عورتوں کا حق۔ ان کا مہر۔ وما ملکت میں وائو عاطفہ ہے اس کا عطف احللنا پر ہے ای واحللنا لک ما ملکت ۔۔ اور حلال کردی ہیں ہم نے تجھ پر۔۔ ما ملکت یمینک میں ما موصولہ ہے جو تمہارے دائیں ہاتھ کی ملک میں ہے یعنی کنیزیں ۔ مما۔ مرکب ہے من اور ما سے۔ یہاں من تبعیضیہ ہے اور ما موصولہ۔ اس میں سے جو ۔ افاء اللہ علیک۔ افائ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے لوٹایا۔ اس نے ہاتھ لگوایا۔ اس نے فئے میں عطا کیا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 49–50

لغات القرآن : آیت نمبر 49 تا 50 نکحتم : تم نے نکاح کرلیا طلقتم : تم نے طلاق دے دی تمسوا : تم نے ہاتھ لگایا (صحبت کی) تعتدون : تم نے عدت کی متعوا : تم سامان دے دو سرحوا : تم چھوڑ دو اجور (اجر) : مہر افآء : مال غنیمت حاصل ہوا ۔ بغیر جنگ حاصل ہونے والا مال وھبت : سپرد کردیا۔ ہبہ کردیا تشریح آیت نمبر 49 تا 50 اسی سورت میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی رحمتوں اور آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنے والا ہے اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بےمثال زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ آپ کی زندگی وہ مبارک و پاکیزہ زندگی ہے جس کی اتباع اور پیروی ضروری ہے ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

نکاح کرنے کی شرط۔ (ف 1) ان آیتوں میں اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم جن بیویوں کو مہر دے چکے ہو وہ اللہ نے تم پر حلال کردیں، نبی ﷺ کی بی بیوں کا مہر پانسودرہم تھا مگر اس حکم سے تین بی بیاں مستثنی ہیں ایک توام حبیبہ ؓ کہ ان کا مہر نجاشی بادشاہ نے چار سو دینا دیا۔ حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ ؓ کہ جن کو نبی ﷺ نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا۔ مسئلہ : غنیمت میں ملنے کا ذکر بھی یہاں فضیلت کے لیے ہے کیونکہ مملوکات مملکت میں خواہ خرید سے ملک میں آئی ہو یا ہبہ سے یا وراثت یا وصیت سے وہ سب حلال ہیں پھر فرمایا اے محبوب ﷺ اگر کوئی مسلمان عورت بغیر مہر اور بغیر مشروط نکاح اپنی جان آپ کو نذر کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[50] تنگی نہ رہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کی خواہشات نفسانی بہت بڑھی ہوئی تھیں جیسا کہ دشمنان اسلام نے آپ ﷺ کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے۔ اگر آپ ﷺ کی زندگی کو سامنے رکھا جائے تو اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں رہتا۔ آپ ﷺ نے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں خدیجہ ؓ سے کیا جن کی عمر اس وقت چالیس سال تھی اور وہ دو مرتبہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ پھر پورے پچیس سال تک آپ ﷺ انھیں کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے ایک اور سن رسیدہ خاتون سودہ ؓ سے جو بیوہ تھیں نکاح کیا اور پورے چار سال تک وہی آپ ﷺ کی بیوی رہیں۔ گویا 54, 53 سال کی عمر تک آپ ﷺ کے نکاح میں ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–52

حضور ﷺ کے تعددازدواج کا فلسفہ 2: مخالفین نے تعدد ازدواج پر بہت سے اعتراض کئے ہیں اور کہا ہے کہ جس شخص کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں ہوں ۔ وہ کیونکر روحانیت کا پیکر ہوسکتا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک روحانیت کے معنے مجرد اور ہبانیت کے ہیں ۔ اور خدا رسیدہ شخص ان کے نظریہ کے مطابق وہ ہے جو دنیوی برکات سے یک قلم محروم ہو ۔ قطع نظر اس اصول کے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شادی کے محرکات میں جنس جذبات نہ تھے ۔ بلکہ تبلیغی حاجات کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ حضور ﷺ قبائل عرب میں اشاعت دین کی خاطر یہ رستہ استوار کریں ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حقائق پر غور فرمائیے :۔ (1) پچیس سال کی عمر تک آپ نے کامل تجرد کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50۔ اے نبی آپ کی یہ تمام بیویاں جن کے مہر آپ نے ادا کئے ہیں ہم نے آپکے لئے حلال رکھی ہیں اور وہ باندیاں جو اللہ تعالیٰ نے آپکو غنیمت کے مال میں سے دلوائی ہیں اور آپ کے ہاتھ ان کے مالک ہوئے یعنی جو آپ کی مملوکہ ہیں وہ بھی آپ کے لئے ہم نے حلال رکھی ہیں اور آپکے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیاں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالائوں کی بیٹیاں یہ سب بھی آپ کیلئے حلال ہیں بشرطیکہ انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو یعنی ان سے نکاح کرنا جائز اور حلال ہے اور وہ مسلمان عورت بھی ہم نے آپ کیلئے حلال کی جو بلا کسی عوض کے اپنے آپ کو نبی کیلئے ہبہ کر دے بشرطیکہ نبی بھی اس کو اپنے نکاح میں لاناچا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم عام اور حکم خاص دیا جارہا ہے 50 ۔ ” اے پیغمبر اسلام ہم نے آپ ﷺ کے لئے آپ ﷺ کی بیویاں جن کو آپ ﷺ مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں “ سورة النساء میں یہ وضاحت تو تفصیل سے گزر چکی ہے کہ اسلام نے عام آدمیوں کے لئے چار تک شادیاں بیک وقت کرنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ شرعی ضرورت پیش آئے اور ان کے حقوق میں برابری بھی وہ کرسکیں تاہم چار سے زیادہ نکاح بیک وقت نہیں کئے جاسکتے اور ایک شادی کو مستحسن سمجھنا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ آپ ﷺ بیک وقت چار سے زیادہ شادیاں کرسکتے تھے بلکہ آپ ﷺ نے کی ہیں جیسا کہ ہم نے پیچھے اس سورت کی آیت 36 میں وضاحت کردی ہے اور اس کے بعد تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary These verses contain seven injunctions about marriage and divorce that are specific to the Holy Prophet t and these specifics signify his distinctive eminence and his special honor. Some of these injunctions are such that their being specific to the Holy Prophet t is absolutely plain and obvious and some of them are such that, despite their being general for all Muslims, they are subject to certain conditions and qualifications that are specific to the Holy Prophet ﷺ . The details are given below: The First injunction إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

87 This, in fact, is an answer to the objection of the people who said that Muhammad (upon whom be Allah's peace) forbade others to keep more than four wives at a time but had himself taken a fifth wife. This objection was raised because at the time the Holy Prophet married Hadrat Zainab, he already had four wives with him: 11) Hadrat Saudah whom he had married in the 3rd year before the Hijrah, (2) Hadrat 'A'ishah whom he married in the 3rd year before the Hijrah but who came to live with him in Shawwal, A.H. I, (3) Hadrat Hafsah whom he married in Sha'ban, A.H. 3, and (4) Hadrat Umm Salamah…

Read the full tafseer →