نکاح کی حقیقت۔
اس آیت میں بہت سے احکام ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عقد پر بھی نکاح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت میں اس سے زیادہ صراحت والی آیت اور نہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ لفظ نکاح حقیقت میں صرف ایجاب و قبول کے لئے ہے ؟ یا صرف جماع کے لئے ہے ؟ یا ان دونوں کے مجموعے کے لئے ؟ قرآن کریم میں اس کا اطلاق عقد و وطی دونوں پر ہی ہوا ہے۔ لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 85
یہ عبارت اس باب میں صریح ہے کہ یہاں لفظ نکاح کا اطلاق صرف عقد پر کیا گیا ہے۔ علمائے لغت میں اس امر پر بہت کچھ اختلاف ہوا ہے کہ عربی زبان میں نکاح کے اصل معنی کیا ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ لفظ وطی اور عقد کے درمیان لفظاً مشترک ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ ان دونوں میں معنیً مشترک ہے۔ تیسرا کہتا ہے کہ اس کے اصل معنی عقد ترْویج کے ہیں اور وطی کے لیے اس کو مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ اور چوتھا کہتا ہے کہ اس کے اصل معنی وطی کے ہیں اور عقد کے لیے یہ مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ثبوت میں ہر گروہ نے کلام عرب سے شواہد پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن راغب اصفہانی نے پورے زور کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تمہارے نکاح کے احکام میں سے تو ایک حکم یہ ہے کہ) جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو (اور) پھر ان کو قبل ہاتھ لگانے کے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو (تاکہ ان کو اس عدت میں نکاح ثانی سے روک سکو جیسا کہ عدت واجب ہونے کی صورت میں شرعاً یہ روکنا جائز بلکہ واجب ہے اور جب اس صورت میں عدت نہیں) تو ان کو کچھ (مال) متاع دے دو اور خوبی کے ساتھ ان کو رخصت کردو (اور مومنات کی طرح کتابیات کا بھی یہی حکم ہے) آیت میں مومنات کی قید بطور شرط کے نہیں بلکہ ایک ترغیبی ہدایت ہے، کہ مومن کو اپنے نکاح میں مسلمان عورت ہی کا انتخاب کرنا بہتر…
Read the full tafseer →9۔ آگے کا مضمون۔ آیات 49۔ 52
اس مجموعہ آیات کے پس منظر کو بھی اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے اس لئے کہ اس میں بڑا ایجاز ہے جس کے سبب سے مفسرین کو بڑی الجھنیں پیش آئی ہیں۔
یہ آیات در حقیقت سورة نساء کی آیت 3 پر جس میں عام مسلمانوں کے لئے تحدید ازواج کا حکم بیان ہوا ہے۔ استدراک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نساء کی مذکورہ آیت کے نزول کے بعد جن مسلمانوں کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں انہوں نے زائد بیویوں کو طلاق دے دی لیکن حضور ﷺ سے متعلق کسی بیوی کو طلاق دینا ثابت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت حضور ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کیا تو…
Read the full tafseer →49۔ 1 نکاح کے بعد جن عورتوں سے ہم بستری کی جاچکی ہو وہ بھی جوان ہوں، ایسی عورتوں کو طلاق مل جائے تو ان کی عدت تین حیض ہے اور جن سے نکاح ہوا ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان ہم بستری نہیں ہوئی۔ ان کو اگر طلاق ہوجائے تو عدت نہیں ہے یعنی ایسی غیر مدخولہ مطلقہ بغیر عدت گزارے فوری طور پر کہیں نکاح کرنا چاہے، تو کرسکتی ہے، البتہ ہم بستری سے قبل خاوند فوت ہوجائے تو پھر اسے 4 ماہ اور دس دن کی عدت گزارنا پڑے گی (فتح القدیر، ابن کثیر) چھونا یا ہاتھ لگانا، یہ کنایہ ہے۔ جماع (ہم بستری) سے نکاح لفظ خاص جماع اور عقد زواج دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عقد کے معنی میں ہے۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی…
Read the full tafseer →36: اگر رخصتی کے بعد طلاق ہو تو عورت کو عدت گزارنے کا حکم ہے جو سورة بقرۃ (2: 228) میں گزرا ہے کہ ایسی عورت تین مرتبہ ایام ماہواری گزرنے تک عدت میں بیٹھے گی، اور اس کے بعد نکاح کرسکے گی، لیکن اگر رخصتی نہ ہوئی ہو تو اس کا حکم اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر عدت گزارنا واجب نہیں ہے، بلکہ وہ طلاق کے فوراً بعد بھی نکاح کرسکتی ہے، آیت میں چھونے کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد رخصتی ہے یعنی میاں بیوی کو ایسی تنہائی میسر آجائے کہ اگر وہ ہم بستری کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہ ہو، اگر ایسی تنہائی میسر آجائے تو عدت واجب ہوجاتی ہے، چاہے ہم بستری ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
37: متاع…
Read the full tafseer →درس نمبر 192 ایک نظر میں
اس سبق کے ابتدائی حصہ میں عام خاندانی اور عائلی قانون سازی ہے۔ مطلقہ جسے رخصتی سے قبل طلاق ہوچکی ہو ، اس کا حکم عدت وغیرہ۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خاندانی زندگی کے لیے ہدایات ، ازواج کے ساتھ آپ کے تعلقات ، اور رواج کے دوسرے لوگوں سے رابطے کی ضابطہ بندی اور مسلمانوں کا رسول کے گھرانے سے تعلق ، اور پھر اس گھرانے پر درود وسلام۔ پھر پردے کا عام حکم جس میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں ، بیویاں اور مومنین کی تمام عورتیں شامل ہیں یہ کہ جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں سینوں پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ اس لباس کے ساتھ پہچانی جاسکیں اور ان کے ساتھ تعرض نہ کیا جاسکے۔…
Read the full tafseer →2 یعنی جو مرد اپنی عورت کو بغیر صحبت کیے طلاق دے اگر اس کا مہر بندھا تھا تو نصف مہر دینا ہوگا ورنہ کچھ فائدہ پہنچا کر (یعنی عرف اور حیثیت کے موافق ایک جوڑا پوشاک دے کر) خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دے۔ اور عورت اسی وقت چاہے تو نکاح کرلے۔ اس صورت میں عدت نہیں۔ (حنفیہ کے نزدیک خلوت صحیحہ بھی صحبت کے حکم میں ہے تفصیل فقہ میں دیکھ لی جائے) یہ مسئلہ یہاں بیان فرمایا۔ حضرت کی ازواج کے ذکر میں جس کا سلسلہ دور سے چلا آتا تھا۔ درمیان میں چند آیات ضمنی مناسبت سے آگئی تھیں۔ یہاں سے پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ جب اس کے نزدیک گئے کہنے لگی اللہ تجھ سے…
Read the full tafseer →آیت 49 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ } ”اے اہل ایمان ! جب تم مومن خواتین سے نکاح کرو ‘ پھر انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ انہیں چھوئو“
اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیات 236 اور 237 میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میں مہر سے متعلق ہدایات ہم پڑھ چکے ہیں۔ مذکورہ آیات کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مہر مقرر نہ ہوا ہو اور خلوت سے قبل ہی شوہر اپنی منکوحہ کو طلاق دے دے تو ایسی صورت میں وہ اسے کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے۔ اور اگر مہر مقرر ہوچکا ہو اور قبل از خلوت طلاق کی نوبت آجائے تو اس صورت میں مرد کے لیے آدھے مہر…
Read the full tafseer →77 طلاق دینے والے کو ہدایات :۔ اس آیت میں چند امور قابل ذکر ہیں۔ پہلا یہ کہ اگرچہ آیت میں مومن عورتوں سے نکاح کا ذکر ہے۔ تاہم اگر نکاح کتابیہ عورت سے ہو تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگا۔ دوسرا یہ کہ صحبت سے پیشتر طلاق دینے سے بھی نصف حق مہر ادا کرنا واجب ہے۔ بشرطیکہ حق مہر طے ہوچکا ہو۔ (2: 237) تیسرا یہ کہ اگر حق مہر مقرر ہی نہ کیا گیا ہو تو پھر کچھ نہیں دینا ہوگا۔ البتہ دونوں صورتوں میں عورت کو کچھ نہ کچھ دے دلا کر رخصت کرنا چاہئے۔ اور اس کچھ نہ کچھ کی مقدار طلاق دینے والے کی مالی حیثیت کے لحاظ سے ہوگی۔ چوتھا یہ کہ اگر عورت کو طلاق ہی دینا ہے تو پھر اس پر کوئی الزام نہ لگانا چاہئے۔ نہ ہی اسے…
Read the full tafseer →105۔ (اور اس لیے انہیں فوری نکاح ثانی سے کوئی مدت عدت مانع نہیں درآنحالیکہ مدخولہ کی طلاق کی بعد عدت واجب ہوجاتی ہے) (آیت) ” نکحتم “۔ نکاح کے لغوی معنی تو صحبت یا جماع کے ہیں۔ مگر قرآن مجید میں عموما عقد نکاح کے معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” تمسوھن “۔ ہاتھ لگانا کنایہ صحبت سے ہے۔ حقیقۃ یا حکما مثل خلوت صحیحہ کے۔ پس دونوں سے عدت واجب ہے (تھانوی (رح) والخلوۃ الصحیۃ کالمس (مدارک) (آیت) ” اذا نکحتم ال مومنت “۔ الفاظ آیت سے فقہاء مفسرین نے یہ نکالا ہے کہ نکاح گوجائز کتابیہ عورتوں سے بھی ہے۔ لیکن اولی یہی ہے کہ مومنات کے ساتھ کیا جائے۔ وفی تخصیص المومنات مع ان الکتابیات تساوی ال مومن ات فی ھذا الحکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اذا نکحتم المؤمنت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن . اے ایمان والو !
جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو ‘ پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو ۔
یہ حکم مسلمان عورتوں کا بھی ہے اور کتابی عورتیں جن سے مسلمانوں نے نکاح کرلیا ہو ‘ ان کا بھی یہی حکم ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ صرف مؤمنات کا ذکر کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مسلمان عورتوں سے ہی نکاح کرنا مسلمانوں کیلئے مناسب ہے۔
ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ پھر (یعنی نکاح کے بعد) تم نے ان کو طلاق دے دی ہو۔
بغوی نے کہا کہ اس فقرہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ نکاح پر طلاق کو منتفرع…
Read the full tafseer →اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے شادی کرو اور ان کا کوئی مہر مقرر کرو اور پھر صحبت سے پہلے ان کو طلاق دے دو تو ان پر حیض یا مہینوں کے ذریعے سے کوئی عدت واجب نہیں۔
اور ان کو متعہ طلاق یعنی تین کپڑے اوڑھنی قمیص اور چادر دے دو اور بغیر کسی اذیت دینے کے سنت کے مطابق ان کو طلاق دے کر رخصت کردو۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ۔۔ : سورت کے شروع سے متبنّٰی بنانے کی رسم توڑنے کا، رسول اللہ ﷺ کے متبنٰی زید ؓ کے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کا اور رسول اللہ ﷺ کے اس کے ساتھ نکاح کا ذکر آ رہا تھا۔ اس پر منافقین کی باتوں کا تذکرہ بھی ہوا اور ان کی پروا نہ کرنے کا بھی، پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کا منصب، آپ کی رفعت شان اور آپ کی ذمہ داریاں نہایت جامع انداز میں بیان فرمائیں۔ اب دوبارہ نکاح و طلاق کے کچھ مسائل کا ذکر ہوتا ہے، جن میں سے اکثر کا سابقہ رسول اللہ ﷺ کو بھی پیش آیا۔
”مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ“ میں ہاتھ لگانے سے مراد جماع ہے اور یہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ آیت یا ایھا الذین امنوا اذا نکحتم المومنات ثم طلقتموھن جب حضرت زید اور حضرت زینب کا طلاق کا واقعہ ہوا جب کہ وہ ایسی عورت تھیں جن کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کیے گئے تھے۔ ان کی عدت ختم ہونے کے بعد حضور ﷺ نے انہیں دعوت نکاح دی۔ جس طرح ہم وضاحت کرچکے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو خطاب کیا جب کہ انہوں نے پنی بیویوں کو حقوق زوجیت ادا کرنے سے قبل طلاق دے دی ہو۔ اور اس حکم کو امت کے لیے واضح کیا۔ مطلقہ اگر ایسی ہو کہ اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہ کیے گئے ہوں تو اس پر عدت لازم نہیں ہوگی۔ یہ کتاب اللہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اگر اس کے ساتھ خاوند نے دخول کیا ہو تو…
Read the full tafseer →ہمبستری سے پہلے طلاق ہوجائے تو عدت لازم نہیں
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت اذا نکحتم المومنات کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جس نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر جماع سے پہلے اس کو طلاق دے سی۔ اگر اس کو ایک طلاق دی تو اس سے وہ جدا ہوگئی تو اس عورت پر کوئی عدت نہیں اگر چاہے دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ پھر فرمایا آیت فمتعوہن وسرحوہن سراحا جمیلا تو ان کو کچھ مال دیدو اور خوبصورتی سے ان کو رخصت کردو۔ یعنی اگر اس کے لیے مہر مقرر کیا تھا تو اس کے لیے آدھا مہر ہوگا اور اس کے لیے ہر مقرر نہیں کیا تھا تو اس کو مرد کی حیثیت کے مطابق متعہ ملے گا یہی آیت ”…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اِذَا نَكَحْتُمُ [جب تم لوگ نکاح کرتے ہو ] الْمُؤْمِنٰتِ [مومن عورتوں سے ] ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ [پھر تم لوگ طلاق دیتے ہو ان کو ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] تَمَسُّوْهُنَّ [تم لوگ چھوؤ ان کو ] فَمَا لَكُمْ [تو نہیں ہے تمہارے لئے ] عَلَيْهِنَّ [ان عورتوں پر ] مِنْ عِدَّةٍ [کوئی بھی گنتی کرنا ] تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ [تم لوگ اہتمام سے گنتے ہو جس کو (یعنی عدت)] فَمَتِّعُوْهُنَّ [تو سامان (تحفہ) دو ان کو ] وَسَرِّحُوْهُنَّ [اور آزاد کرو ان کو ] سَرَاحًا جَمِيْلًا [خوبصورتی سے آزاد کرنا ] ۔
نوٹ۔ 1: نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے…
Read the full tafseer →عدت کے بعض مسائل :
شریعت اسلامیہ میں نکاح اور طلاق، ادائے مہر نان نفقہ اور طلاق کے بعد عدت گزارنے کے بہت سے احکام ہیں جو قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہیں اور فقہاء کرام نے ان کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ نکاح تو بہت مبارک اور مستحسن اقدام ہے اور بعض صورتوں میں واجب بھی ہوتا ہے اور طلاق بھی شریعت اسلامیہ میں مشروع ہے لیکن اسے ابغض المباحات قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرلے جس سے نکاح حلال ہو تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اب وہ اس کے نکاح سے اسی وقت نکلے گی جب یہ شخص مرجائے یا طلاق بائن یا مغلظہ دیدے یا طلاق رجعی دے کر عدت گزرنے تک رجوع نہ کرے۔
لفظ (عِدّت عَدَّیَعُدُّ ) کا مصدر ہے جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ذکر بعض احکام نکاح و طلاق وبعض خصائص نبوی دوبارہ نکاح
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذا نکحتم ال مومن ات۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء رقیبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت زینب ؓ کے نکاح اور طلاق کا قصہ مذکور تھا۔ اس لئے آئندہ آیات میں نکاح اور طلاق وغیرہ کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں۔ بعض احکام تو وہ ہیں جو عام مومنین سے متعلق ہیں اور بعض احکام وہ ہیں جو خاص آنحضرت ﷺ کے نکاح سے متعلق ہیں اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہیں جو آپ ﷺ کی فضیلت اور شرف اور کرامت کی دلیل ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی ایک خاص شان امتیازی ہے جس کی بنا پر نبی کے حق میں بعض احکام امت کے احکام سے جدا ہیں اور نکاح…
Read the full tafseer →48:۔ یا ایہا الذین امنوا الخ، یہ مومنوں سے چھٹا خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ اور پھر صحبت سے قبل ہی ان کو طلاق دیدو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ انہیں ثیات متعہ (قمیص اور دوپٹہ) دے کر چھوڑ دو ۔ وہ جہاں چاہیں نکاح کرلیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ حضرت زینت کا عدت گذارنا اگرچہ ثابت ہے لیکن یہاں غیر مدخول بہا کے لیے عدت نہ ہونے کے ذکر کی مناسبت اور ماقبل سے ربط اس صورت میں زیادہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت زینب کی عدت نہ ہو بلغۃ الحیران میں حضرت شیخ قدس سرہ کی طرف نفی عدت کی نسبت قصور تعبیر سے ناشی ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں متنبیٰ کی مطلقہ سے نکاح کا مسئلہ بیان ہوا۔ پھر حضور ﷺ کے مرتبہ عالیہ اور آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور فرشتوں کی طرف سے دعائے رحمت کا بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے آخری پیغمبر کو شاہد ، مبشر ، نذیر ، داعی الی اللہ اور سراج منیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ پھر آخری امت کی فضیلتکا تذکرہ بھی ہوا۔ حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ایذاررسانیوں کی طرف توجہ نہ کریں بلکہ اپنا مشن دلجمعی کے ساتھ جاری رکھیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں کہ حقیقی کارساز وہی ہے۔
عدت کے مسائل
گزشتہ دروس میں حضرت زید…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا 0 ۚ فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 49
نكح
أصل النِّكَاحُ للعَقْدِ ، ثم استُعِيرَ للجِماع، ومُحالٌ أن يكونَ في الأصلِ للجِمَاعِ ، ثمّ استعیر للعَقْد، لأَنَّ أسماءَ الجِمَاعِ كلَّهَا كِنَايَاتٌ لاسْتِقْبَاحِهِمْ ذكرَهُ كاسْتِقْبَاحِ تَعَاطِيهِ ، ومحال أن يَسْتَعِيرَ منَ لا يَقْصِدُ فحْشاً اسمَ ما يَسْتَفْظِعُونَهُ لما يَسْتَحْسِنُونَهُ. قال تعالی: وَأَنْكِحُوا الْأَيامی
[ النور/ 32] ، إِذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ترکیب : وامراۃ منصوب بفعل محذوف یفسر و ما قبلہ ای حللنا لک امراۃ مؤمنۃ ویمکن ان یکون معطوفا علی ماسبق ولا یمنعہ ان التی للاستقلال فی قولہ ان وھبت لان المراد بالاحلال الاعلام بالحل اذا وقع الفعل علی ذلک کما یقال ابحت لک الکلام بزیدان سلم علیک خالصۃ یمکن ان یکون حالا من الضمیر فی وھبت وان یکون صفۃ المصدر اے ھبۃً ویجوزان یکون مصدرا ای اخلصنا لک ذلک اخلاصا و قد جاءت فاعلہ مصدر امثل العاقبۃ۔
تفسیر … اول حکم : اس کے بعد خود اس صلائے عام کا نبی ( علیہ السلام) کو حکم دیتا ہے۔ فقال وبشر المؤمنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا کہ ایمانداروں کو خوشخبری دے کہ اللہ کا ان پر بڑا فضل ہے۔ دنیا میں ان کو ہر طرح…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَـکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَا لَـکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا ج فَمَتِّعُوْھُنَّ وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً ۔ (الاحزاب : 49)
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کا تمہیں لحاظ کرنا ہو، پس ان کو کچھ دے دلادو اور خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردو۔ )
ایک ضمنی سوال کا جواب
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں سورة الاحزاب نازل ہورہی تھی اس زمانے میں اس طرح کا کوئی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ اب لوگوں پر لازم ہے کہ وہ کفار اور مشرکین کی بات ماننے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانیں جس ایک کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تم اپنی بیویوں کو چھوئے بغیر طلاق دے دو تو پھر بھی انہیں رخصت کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ گویا کہ گھریلو معاملات میں بھی نبی کریم ﷺ کا حکم ماننا چاہیے۔
ارشادہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو ! تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ اگر انہیں چھونے سے پہلے طلاق کی نوبت پیش آجائے تو تمہاری بیویوں پر عدّت گذارنے کی کوئی پابندی نہیں۔ طلاق کے…
Read the full tafseer →وجوبِ عدت :
49: یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِذَا نَـکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ (اے ایمان والو ! جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو) یعنی جب تم شادی کرو۔ نکاحؔ کا لفظ اصل میں وطی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور عقد کو بھی نکاح اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وطی تک پہنچنے کا ذریعہ اور واسطہ ہے جیسا کہ شراب کو اثم کہتے ہیں کیونکہ وہ شراب اس گناہ کا سبب ہے جیسا کہ راجز کے اس قول میں :
اسنمۃ الا بال فی سحابہٖ
شاعر نے پانی کا نام اسنمۃ الا بال رکھا کیونکہ وہ اونٹوں کے موٹا ہونے کا سبب اور ان کی سناموں کی بلندی کا سبب ہے۔
النکاحؔ :
نکاح کا لفظ قرآن مجید میں عقد کے معنی میں ہی وارد ہوا ہے۔ کیونکہ وطی کے معنی…
Read the full tafseer →49، یایھا الذین آمنو ا اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن، یہ آیت اس بات پر دلا لت کرتی ہے کہ طلاق نکاح سے پہلے واقع نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح پر مرتب کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی غیر عورت سے اس طرح کہا ہے کہ جب میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے ۔ پھر اس سے نکاح کرلیا تو نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اگر اس طرح کہا کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق ہے پھر کسی عورت سے نکاح کرلیا تو طلاق واقع ہوگئی ۔ یہ قول حضرت علی ، حضرت ابن عباس ، حضرت جابر، حضرت معاذ ، حضرت عائشہ صدیقہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ہے۔ سعید بن مسیتب ، سعد بن جبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت 49
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو آگاہ فرماتا ہے کہ جب وہ مومن عورتوں کے ساتھ نکاح کریں، پھر ان کو چھوئے بغیر طلاق دے دیں تو اس صورت میں مطلقہ عورتوں پر کوئی عدت نہیں، مگر اللہ مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس صورت میں بھی ان کو کچھ متاع دیں جو ان کی اس دل شکنی کا ازالہ کرے جو انہیں طلاق کی وجہ سے لاحق ہوئی ہے، نیز انہیں حکم دیتا ہے کہ وہ کسی مخاصمت، گالی گلوچ اور کسی مطالبہ وغیرہ کے بغیر اچھے طریقے سے ان کو علیحدہ کریں۔
اس آیت مبارکہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ طلاق صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو طلاق دے دے یا طلاق کو نکاح پر معلق کر دے، تو یہ طلاق…
Read the full tafseer →نکاح سے پہلے طلاق کا بیان
قول باری ہے : (یایھا الذین امنوا اذ نکحتم المومنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن وسرحوھن سراجا جمیلا۔ اے ایمان لانے والو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تمہارے لئے ان کے بارے میں کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرنے لگو، انہیں کچھ مال دے دو اور خوبی کے ساتھ رخصت کردو) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ تزویج کی شرط پر طلاق واقع کرنے کی صحت پر آیا یہ دلالت کرتی ہے یا نہیں۔ اس بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے۔ اگر میں کسی عورت سے نکاح کرلو تو اس پر طلاق ہے۔ “ کچھ حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
93 نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر : سو اس ارشاد سے ایمان والوں کیلئے نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خصوصی ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں اور اس بارے جو حکم مومن عورتوں کا ہے یہی حکم کتابیہ عورتوں کا بھی ہے مگر مومنہ کی قید لگا کر گویا اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ مومن کے لئے اصل اور بہتر یہی ہے کہ وہ ایماندار عورت ہی سے نکاح کرے نہ کہ کتابیہ سے ۔ قولہ المؤمنات تحریض علی نکاحہن ۔ (جامع : ج 2 ص 170) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگوں میں سے جو کوئی نکاح کے بعد اپنی بیوی کو قبل ازمسیس یعنی رخصتی اور ملاقات سے پہلے ہی طلاق دے دے تو اس پر عدت کی کوئی پابندی نہیں۔…
Read the full tafseer →طلاق کی ایک اور صورت
تشریح : اس آیت میں تین احکامات دیے گئے ہیں جو ایسی عورت و مرد کے لیے ہیں جنہوں نے نکاح کے بعد ایک دوسرے کو چھوا نہ ہو کہ اس سے پہلے ہی کسی وجہ سے طلاق ہوگئی ہو پہلا حکم (1) ایسی عورت پر عدت کا پورا کرنا واحب نہیں وہ فوراً دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ (2) حکم یہ ہے کہ ایسی مطلقہ کو شرافت اور حسن سلوک کے ساتھ کچھ سامان دے کر رخصت کیا جائے۔ اور مہرمقرر کیا گیا ہو تو مہر کی آدھی رقم ان کو ادا کر دینی چاہیے۔ (3) حکم یہ ہے کہ ان کو خوبی کے ساتھ رخصت کرو اور پابندی ہے کہ رخصت کے وقت کوئی سخت بات ان سے نہ کہو۔
ان تمام صورتوں میں اسلام کی عظمت یوں بیان ہو رہی ہے۔ کہ مخالفت، جھگڑا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52
اسرارومعارف
ذکر اللہ کی تاکید :
اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →ف 10 اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں لفظ ” نکاح ‘ بمعنی عقد ہے اور جماع کے معنی میں بطور استعارہ آتا ہے۔ ( مفرادت) اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح سے قبل کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شخص کہہ دیتا ہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے پھر اس کے بعد نکاح کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ یہی مسلک جمہور اہل علم ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
1 لہٰذا وہ طلاق کے فوراً بعد کسی مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ اس پر جمیع صحابہ ؓ اور بعد کے اہل علم کا اجماع ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس نے تا حال اپنی عورت سے صحبت نہ کی ہو تو عورت پورے مہر کی بھی حقدارہو گی اور اسے چار ماہ دس دن کی عدت بھی پوری کرنی…
Read the full tafseer →(33:49) ان تمسوہن۔ میں ان مصدریہ ہے ۔ تمسوا فعل مضارع منصوب (بوجہ عمل ان، سقوط نون اعرابی) جمع مذکر حاضر۔ ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب من قبل ان تمسوہن۔ بیشتر اس کے کہ تم ان کو چھوؤ یا ہاتھ لگائو۔ مس مصدر (باب سمع) ان تمسوہن مضاف الیہ ہے اور قبل اس کا مضاف ہے۔
فما لکم علیہن۔ لکم تمہارے لئے علیہن ان کے ذمہ۔ تو تمہارے لئے ان پر (عدت گذارنا) ضروری نہیں ہے۔ فمتعوہن۔ترتیب کا ہے متعوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتیع (باب تفعیل) مصدر۔ تم متعہ دو ، تم کچھ مال متاع دو ۔
سرحوہن سرحوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تسریح (تفعیل) مصدر۔ تم ان عورتوں کو رخصت کرو۔ تم ان عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
لغات القرآن : آیت نمبر 49 تا 50
نکحتم : تم نے نکاح کرلیا
طلقتم : تم نے طلاق دے دی
تمسوا : تم نے ہاتھ لگایا (صحبت کی)
تعتدون : تم نے عدت کی
متعوا : تم سامان دے دو
سرحوا : تم چھوڑ دو
اجور (اجر) : مہر
افآء : مال غنیمت حاصل ہوا ۔ بغیر جنگ حاصل ہونے والا مال
وھبت : سپرد کردیا۔ ہبہ کردیا
تشریح آیت نمبر 49 تا 50
اسی سورت میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی رحمتوں اور آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرنے والا ہے اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بےمثال زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ آپ کی زندگی وہ مبارک و پاکیزہ زندگی ہے جس کی اتباع اور پیروی ضروری ہے ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فضائل مصطفیٰ ﷺ ۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی ، اور کفر وشرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نورحقیقت افروز سے دور کردیا، اور خلق کے لیے معرفت و توحید الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں گم کرنے والوں کو اپنے نور نبوت سے ضمائر وبصائر اور قلوب وارواح کو منور کیا، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنادیے، اس لیے اس کی صفت منیرا ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خوش خبری دیدی کہ ان کے لی اللہ کی طرف سے بڑافضل ہے پھر فرمایا کہ جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتورڈالیں تو…
Read the full tafseer →[49] پچھلی آیات میں رسول اکرم ﷺ کی چند صفات اور آپ ﷺ کی مخصوص شان کا ذکر تھا اب آگے
آپ ﷺ کی ان خصوصیات کا ذکر آ رہا ہے جو نکاح و طلاق کے معاملے میں آپ ﷺ کے ساتھ ایک گونہ خصوصیت رکھتی ہیں۔ اس لئے بطور تمہید کے طلاق کے متعلق ایک عام حکم اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: اس آیت کی قبل کی آیات میں حضور ﷺ کو بتالای گیا تھا ۔ کہ آپ کے تعلقات آپ کے حرم کے ساتھ کس طرح کے ہونے چاہئیں ۔ اور اس میں یہ بتایا کہ خود مومنین اپنے سامنے کیا لائحہ عمل رکھیں ارشادہ ہے ۔ کہ اگر تم عورت کو حساس سے قبل طلادے دو ۔ تو ان پر عدت واجب نہیں ۔ اور تمہارے لئے یہ موزوں ہے کہ ان کو جب رخصت کرو تو کچھ مال ومتاع دے کر اور اس طرح کہ اس کو جمیل کہا جاسکے ۔ یعنی جب یہ عورت جس کے ساتھ تمہارے تعلقات زیادہ گہرے نہیں ہیں ۔ تمہارے اعتقات کی اس درجہ مستحق ہے ۔ کہ اس کو عزت واحترام کے ساتھ چھوڑنا لازم ہے ۔ تو پھر ان عورتوں کے ساتھ تمہارا حسن سلوک کس درجہ کا ہونا چاہئے ۔ جو تم سے وابستہ ہیں ۔…
Read the full tafseer →49۔ اے ایمان والوں ! جب تم مسلمانوں عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دیدو یعنی وطی اور خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دیدو تو ان پر تمہاری کوئی عدت نہیں کہ جس کی گنتی ان پر پوری کر ائو ہاں ان کو کچھ متاع اور کچھ فائدہ دیدو اور ان کو بھلی طرح رخصت کردو ، یعنی مومن مردوں کو خطاب فرمایا ۔ اوپر ازواج مطہرات کا ذکر تھا اسی سلسلے میں یہ بات بیان کی کہ تا کہ معلوم ہو کہ یہ حکم سب کے لئے عام ہے ، پیغمبر ﷺ کے لئے خاص نہیں ہے۔
منکوحہ عورت کے ساتھ ہم بستری نہ کی جائے اور خلوت صحیحہ کی بھی نوبت نہ آئے یعنی وطی حقیقی ہو نہ حکمی ہو اور اس عورت کو طلاق دیدی جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں…
Read the full tafseer →ف 4۔ ہاتھ لگانا کنایہ صحبت سے ہے، حقیقة یا حکما مثل خلوت صحیحہ ہے۔
5۔ متاع میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کا مہر مقرر نہیں ہوا تو یہ متاع ایک جوڑا ہے۔ اور اگر مہر مقرر ہوا ہے تو یہ متاع نصف مہر ہے۔
6۔ سراح جمیل یہ کہ امساک بلاحق نہ کرے، اس کا متاع واجب نہ رکھے اور دیا ہوا واپس نہ لے، کوئی سخت بات نہ کہے۔
Read the full tafseer →نکاح کے بعد طلاق کا مسئلہ درپیش آئے تو ایمان والوں کو کیا کرنا ہوگا ؟
49 ۔ عقد ونکاح کیا ہے ؟ شرعی طور پر نکاح یا عقد نام ہے ایجاب و قبول کا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ولی کے ذریعہ نکاح کا پیغام دے اور عورت اس پیغام کو قبول کرلے تو ولی اس کا نکاح اس مرد کے ساتھ کردے اس میں شرعی ضرورت کے مطابق دو گواہوں کی ضرورت ہے جن کے روبرو یہ معاملہ طے ہوجائے اور بہتر ہے کہ حق مہر طے کرلیا جائے لیکن اگر طے نہ بھی ہوا تو نکاح درست ہوجائے گا بہرحال اس ایجاب و قبول کے بعد وہ عورت اس مرد کے لئے حلال و جائز ہوگئی اور وہ مرد اس عورت کے لئے حلال و جائز قرار پا گیا کہ یہ دونوں ازواجی زندگی کی ابتداء کرسکتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Commentary
Some attributes and the special eminence of the Holy Prophet ﷺ have been mentioned in the preceding verse. Some special rules that are exclusive to him in matters of marriage and divorce are intended to be mentioned in forthcoming verses in which he has a distinction over the general Ummah. But before that, a general rule regarding divorce has been mentioned as a prologue which is applicable to all Muslims in general.
There are three injunctions regarding divorce in this verse.
The first injunction is that if after nikah (marriage) a woman is divorced before the spouses have had…
Read the full tafseer →85 This sentence is explicit that the word nikah here has been used for the contract of marriage only. The lexicographers have greatly disputed over the real meaning of the Arabic word nikah. One section of them says that as a word it is common both for intercourse and for the contract of marriage. The second section says that in its meaning it is common for both. The third section opines that its real meaning is the contract of marriage and for intercourse it is used only figuratively. And the fourth section expresses the opinion that its real meaning is intercourse and for the contract of…
Read the full tafseer →