Al-Ahzaab 33:48

Al-Ahzaab · from ayah 48

33:48

وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَدَعْ اَذٰىهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ ؕ— وَكَفٰی بِاللّٰهِ وَكِیْلًا ۟وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَدَعۡ اَذٰٮهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيۡلًا

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not obey the disbelievers and the hypocrites but do not harm them, and rely upon Allah. And sufficient is Allah as Disposer of affairs.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:48

اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کی پرواہ نہ کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ رکھوالا بننے کے لیے کافی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کافروں اور منافقوں کا (یہ) کہنا (کہ ہمارے ساتھ مذہبی سمجھوتہ کر لیں ہرگز) نہ مانیں اور اُن کی ایذاء رسانی سے درگزر فرمائیں، اور اﷲ پر بھروسہ (جاری) رکھیں، اور اﷲ ہی (حق و باطل کی معرکہ آرائی میں) کافی کارساز ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان اور ان کی ایذا رسانی کی پروانہ کر اور اللہ پر بھروسا کر اور وکیل کی حیثیت سے اللہ کافی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے اور ان کی ایذا رسانی کی پروا نہ کیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کام بنانے کو اللہ ہی کافی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کافروں اور منافقوں کی بات کا دھیان نہ کرو اور ان کی ایذا رسانیوں کو نظر انداز نہ کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ اعتماد کے لئے کاف ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (دین کے بارے میں) کبھی بات نہ ماننا کافروں اور منافقوں کی اور خاطر میں نہیں لانا ان کی ایذاء رسانیوں کو اور بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر رکھنا اور اللہ کافی ہے کارسازی کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ کیجیے۔ اور ان کی اذیت رسانی کا خیال نہ کیجیے۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ ہی کافی کارساز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا دھیان نہ کریں اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل ّکریں۔ اور اللہ کافی ہے (آپ ﷺ کے لیے) مددگار کے طور پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا اور اللہ ہی کار ساز کافی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not yield to the unbelievers and the hypocrites, and disregard the hurt that comes from them, and put your trust in Allah. Allah suffices as the Guardian to entrust one's affairs to.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and do not obey the infidels and the hypocrites, and just ignore any hurt (that afflicts you) from them, and place your trust in Allah. Allah is sufficient (for you) to take care of all matters.

— Muhammad Taqi Usmani

and do not obey the infidels and the hypocrites, and just ignore any hurt (that afflicts you) from them, and place your trust in Allah. Allah is sufficient (for you) to take care of all matters.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And obey not the disbelievers and the hypocrites, and harm them not. And put your trust in Allah, and sufficient is Allah as a Trustee.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And incline not to the disbelievers and the hypocrites. Disregard their noxious talk, and put thy trust in Allah. Allah is sufficient as Trustee.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not obey the disbelievers and the hypocrites but do not harm them, and rely upon Allah. And sufficient is Allah as Disposer of affairs.

— Saheeh International

Do not yield to the disbelievers or the hypocrites. Ignore their annoying you. Trust in God. God is your all Sufficient Protector.

— Muhammad Sarwar

And be not compliant to the unbelievers and the hypocrites, and leave unregarded their annoying talk, and rely on Allah; and Allah is sufficient as a Protector.

— Muhammad Habib Shakir

And obey thou not the infidels and the hypocrites, and heed not their annoyances, and trust in Allah; and Allah sufficeth as a Trustee.

— Abdul Majid Daryabadi

And obey not (the behests) of the Unbelievers and the Hypocrites, and heed not their annoyances, but put thy Trust in Allah. For enough is Allah as a Disposer of affairs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–48

تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 46–48

سورة الْاَحْزَاب 84 یہاں بھی ایک عام مبلغ کی تبلیغ اور نبی کی تبلیغ کے درمیان وہی فرق ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ دعوت الی اللہ تو ہر مبلغ دیتا اور دے سکتا ہے، مگر وہ اللہ کی طرف سے اس کام پر مامور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس نبی اللہ کے اذن (Sanction) سے دعوت دینے اٹھتا ہے۔ اس کی دعوت نری تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی اس کے بھیجنے والے رب العالمین کی فرمانروائی کا زور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے بھیجے ہوئے داعی کی مزاحمت خود اللہ کے خلاف جنگ قرار پاتی ہے، جس طرح دنیوی حکومتوں میں سرکاری کام انجام دینے والے سرکاری ملازم کی مزاحمت خود حکومت کے خلاف جنگ سمجھی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–48

داعی الی اللہ سے مراد یہ ہے کہ آپ امت کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید اور اطاعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ داعیاً الیٰ اللہ کو باذنہ کے ساتھ مشروط فرمایا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور بلانے والے اللہ ہی کے اذن و اجازت سے ہیں۔ اس قید وشرط کا اضافہ اس اشارہ کے لئے ہے کہ تبلیغ و دعوت کی خدمت سخت دشوار ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و اجازت کے بغیر انسان کے بس میں نہیں آسکتی۔ سراج کے معنی چراغ اور منیر کے معنی روشن کرنے والا۔ آنحضرت محمد ﷺ کی پانچویں صفت اس میں یہ بیان فرمائی گئی کہ آپ روشن کرنے والے چراغ ہیں اور بعض حضرات نے سراج منیر سے مراد قرآن لیا ہے، مگر نسق کلام سے قریب یہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولا تطع الکفرین والنفقین و دع اذنلھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (48) یہ آپ کے ’ نذیر ‘ ہونے کے پہلو کی وضاحت ہے، لیکن مخالفوں کو مخاطب کرکے ان کو کچھ کہنے یا کہلانے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے بتا دیا کہ اس کو ان مخالفوں کے ساتھ آئندہ کے لئے کیا رویہ اختیار کرنا ہے۔ اس رویہ ہی کے اندر وہ انداز مضمر ہے جو پتہ دے رہا ہے کہ مستقبل قریب میں آپ کے یہ مخالفین کس انجام سے دو چار ہونے والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا ذرا دھیان نہ کرو، ان کی ایذا رسانیوں کو نظر انداز کرو، اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ اعتماد کے لئے کافی ہے۔ اس آیت کے اند رحضور ﷺ کے لئے جو تسلی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–48

46۔ 1 جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں، اسی طرح آپ ﷺ کے ذریعے سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوجائیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کر کے جو کمال وسعادت حاصل کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–48

35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–48

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی جب اللہ نے آپ کو ایسے کمالات اور ایسی برگزیدہ جماعت عنایت فرمائی تو آپ حسب معمول فریضہ دعوت و اصلاح کو پوری مستعدی سے ادا کرتے رہے اور اللہ جو حکم دے اس کے کہنے یا کرنے میں کسی کافر و منافق کی یادہ گوئی کی پروا نہ کیجئے۔ 1 یعنی اگر یہ بدبخت زبان اور عمل سے آپ ﷺ کو ستائیں تو ان کا خیال چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ رکھیے۔ وہ اپنی قدرت و رحمت سے سب کام بنا دے گا۔ منکروں کو راہ پر لے آنا یا سزا دینا سب اسی کے ہاتھ میں ہے، آپ کو اس فکر اور الجھن میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ آپ طعن وتشنیع وغیرہ سے گھبرا کر اپنا کام چھوڑ بیٹھیں۔ اگر بفرض محال آپ ایسا کریں تو گویا ان کا مطلب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 { وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَدَعْ اَذٰٹہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } ”اور آپ ﷺ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا دھیان نہ کریں اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل ّکریں۔“ { وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا } ”اور اللہ کافی ہے آپ ﷺ کے لیے مددگار کے طور پر۔“ یہ لوگ جو چاہیں منصوبے بنا لیں اور جس قدر چاہیں آپ ﷺ کے خلاف کوششیں کرلیں ‘ یہ آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 یعنی جن لوگوں نے طعن وتشنیع سے یہ طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا ہے ان کی نہ پروا کیجئے اور نہ ان سے بدلہ لینے کی فکر کیجئے۔ ورنہ یہ لوگ آپ کی منزل کھوٹی کردیں گے۔ آپ پوری توجہ سے اپنا کام کرتے جائیے اور انھیں خائب و خاسر بنانے کے لئے آپ کی طرف سے اللہ ہی کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

102۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ ان کے طعن پیہم سے آزردہ ہو کر ان پر تبلیغ ہی ترک کردیجئے۔ یہ تو نتیجہ اور مآل کے اعتبار سے عین انہیں کی رائے کا اتباع ہوگیا۔ 103۔ (جیسا کہ اس واقعہ نکاح میں کہ آپ ﷺ کی طرف سے تبلیغ فعلی تھی، ان کی طرف سے سخت اذیت قولی آپ ﷺ کو پہنچی) 104۔ (اور آپ کو ہر ضرر سے بچا لے گا) اللہ کی کارسازی کا مراقبہ خود ہر تلخی کو شیرینی میں تبدیل کردینے کے لیے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تطع الکفرین والمنفقین . اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ کیجئے۔ یعنی شریعت اسلامیہ کے خلاف کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانئے۔ یہ کافروں اور منافقوں کے قول کی مخالفت پر جمے رہنے کی ترغیب ہے۔ ودع اذا ھم . اور ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے اس کا خیال نہ کیجئے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ کافروں اور منافقوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کیجئے۔ دَعْ چھوڑ دیجئے یعنی ایک طرف کو پھینک دیجئے ‘ اس کی پروا نہ کیجئے ‘ اس کا خوف نہ کیجئے۔ زجاج نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ان سے جھگڑا نہ کیجئے ‘ ان کو دیکھ پہنچانے کا خیال نہ کیجئے۔ خلاصہ یہ کہ کافروں اور منافقوں کی (ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اب اللہ تعالیٰ پھر سورت کے ابتدائی مضمون کو دہراتا ہے کہ مکہ کے کافروں اور مدینہ منورہ کے منافقین کا کہنا نہ مانیے اور ان کو قتل نہ کیجیے اور اللہ پر بھروسا رکھیے۔ اس نے جو آپ کی مدد فرمانے یا یہ کہ حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے وہ اس میں کافی کارساز ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : یعنی کفار و منافقین جو آپ کو مداہنت کے لیے کہتے ہیں، لوگوں کے کفر و شرک پر خاموش رہنے کے لیے اصرار کرتے ہیں اور جاہلیت کی رسوم توڑنے سے روکتے ہیں، ان کا کہنا مت مان، بلکہ دعوت حق پر استقامت اختیار کر۔ اس سورت کے شروع میں یہی حکم دیا تھا، یعنی : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ) اب تاکید کے لیے اسے دوبارہ ذکر فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة قلم (8 تا 15) اور شوریٰ (15)۔ وَدَعْ اَذٰىهُمْ : یعنی دعوت دین کی وجہ سے وہ آپ کو جو تکلیف پہنچاتے ہیں اس کی پروا مت کریں، جیسا کہ فرمایا : (لَتُبْلَوُنَّ فِيْٓ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت ولا تطع الکافرین والمنافقین وہ ان کے معاملہ میں جس مداہنت کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہیں اس معاملہ میں ان کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کی طرف مائل نہ ہوجا ئیے۔ آیت الکافرین سے مراد ابو سفیان، عکرمہ، ابو اعور اسلمی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا : اے محمد ! ﷺ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہا کریں، تو ہم آپ کی اتباع کریں گے۔ آیت والمنافقین سے مراد عبد اللہ بن ابی، عبد اللہ بن سعد اور طعمہ بن ابیرق ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس امر پر برانگیختہ کیا کہ وہ مصلحت کی غرض سے آپ کی اس پیشکش کو قبول کرلیں۔ آیت ودع اذاھم اس امر کو چھوڑ دیں کہ وہ جو آپ کو اذیتیں دیتے ہیں اس کے بدلے میں آپ بھی انہیں اذیتیں دیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–48

1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا نازل ہوئی اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو آپ نے علی اور معاذ ؓ کو یمن کی طرف جانے کا حکم دیا اور فرمایا دونوں جاؤ پس لوگوں کو بشارت دینا اور نفرت نہ دلانا اور آسانی پیدا کرنا اور تنگی پید نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیر یعنی شہادت دینے والے اپنی امت پر اور خوشخبری دینے والے جنت کی اور ڈرانے والے آگ سے اور بلانے والے لا الہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا تُطِعِ [اور آپ ﷺ کہنا مت مانیں ] الْكٰفِرِيْنَ [کافروں کا ] وَالْمُنٰفِقِيْنَ [اور منافقوں کا ] وَدَعْ [اور آپ ﷺ چھوڑ دیں ] اَذٰىهُمْ [ان کے ستانے کو ] وَتَوَكَّلْ [اور آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [اللہ پر ] وَكَفٰى بِاللّٰهِ [اور اللہ کافی ہے ] وَكِيْلًا [بطور کار ساز کے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ ) (اور آپ کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے) انہیں گوارا نہیں ہے کہ آپ دعوت الی اللہ کا کام کریں اور جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے یعنی تبشیر اور انذار، آپ اسے چھوڑ دیں، اس سلسلے میں آپ ان کی کوئی بات نہ مانیں اور کسی طرح کی مسامحت اور مدارات اختیار نہ فرمائیں۔ (قال صاحب الروح : نھی عن مداراتھم فی امر الدعوۃ ولین الجانب فی التبلیغ والمسامحۃ فی الانذار) (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کافروں کی مدارات، اور ان کی رعایت اور چشم پوشی سے منع کیا گیا ہے۔ ) (وَدَعْ اَذٰیھُمْ ) (اور ان کی ایذا کو چھوڑئیے) یعنی ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–48

47:۔ و بشر المومنین الخ، جو مومنین آپ کے لائے ہوئے احکام شریعت بلا چوں و چرا مانتے ہیں اور اس رسم جاہلیت کو توڑنے میں آپ کے ساتھ ہیں انہیں اللہ کی طرف سے اجر عظیم کی خوشخبری سنا دیں۔ ولا تطع الکفرین الخ، یہ ابتداء سورت کے مضمون کا اعادہ ہے اور کفار و منافقین کی بات ہرگز نہ مانیں وہ چاہتے ہیں کہ آپ مسئلہ توحید میں نرمی اختیار کریں تاکہ وہ بھی نرم رویہ اختیار کرلیں۔ فھی عن مداراتھم فی امر الدعوہ ولین الجانب فی التبلیغ والمسامحۃ فی الانذار (روح ج 22 ص 47) و ابو السعود ج 6 ص 791 ۔ و دع اذاھم الخ، تبلیغ حق پر آپ کو ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے، آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور خدا کے بھروسے پر اپنا فریضہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–48

ربط آیات گزشتہ درس میں پہلے اہل ایمان کو کثرت سے ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنی مربانیوں کا تذکرہ کیا کہ وہ خود رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس سے پچھلی آیت میں حضور ﷺ کی فضیلت اور آپ کی ختم نبوت کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے معترضین اور مخالفین کا منہ بند کردیا اللہ نے واضح فرمایا کہ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ ساری امت کے روحانی باپ ہیں۔ لہٰذا نہ تو زید ؓ آپ کے حقیقی بیٹے ہیں اور نہ ان کی بیوی آپ کی بہو ہے کے اس سے نکاح حرام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَدَعْ اَذٰىہُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝ 0 ۭ وَكَفٰى بِاللہِ وَكِيْلًا۝ 48 طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–48

ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَدَعْ اَذٰھُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً ۔ (الاحزاب : 48) (اور کافروں اور منافقوں کی پرواہ نہ کیجیے اور ان کی اذیت رسانیوں کو نظرانداز کیجیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھئے، اور اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آپ ﷺ کی منصبی ذمہ داریوں میں انذار بھی شامل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کو نذیر کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی اسی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ کافر اور منافق جس طرح آپ کی ہر ممکن مخالفت پر تلے ہوئے ہیں آپ ان کی مخالفتوں کو بالکل وزن نہ دیں۔ یہ غوغائے رقیباں ہے جو خود اپنی موت مرجائے گا۔ اسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد دلانے اور اس کی توحید کی شہادت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ نبی معظم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا گیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کے حکم کے مطابق ” اللہ ” کی طرف بلائیں اور ” اللہ “ کی توحید کی دعوت اور شہادت دیں اور لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد کی تلقین کریں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل کی خوشخبری سنائیں۔ جو اس دعوت کا انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور جو لوگ دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنیں وہ کافر ہوں یا منافق انہیں انکے حال پر چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ (اور آپ کافروں اور منافقوں کی اتباع مت کیجئے) اس سے مراد اس حالت پر برانگیختہ کرنا اور دوام و ثبات پیدا کرنا ہے جس میں آپ تھے۔ وَدَعْ اَذٰھُمْ (اور ان کی طرف سے جو ایذاء پہنچے اس سے صرف نظر فرمائیں) اذیٰ بمعنی ایذاء ہے۔ نحو : نمبر 1۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کی اضافت فاعل کی طرف ہو ای اجعل ایذائھم ایاک فی جانب ان کی ایذاء کو ایک طرف رکھ اور اس کی کوئی پرواہ مت کرو اور نہ ان کی ایذاء سے ڈرو۔ نمبر 2۔ اضافت مفعول کی طرف ہو۔ ای دع إیذاء ک إیّاھم مکافأۃ لھم۔ آپ ان کو بطور بدلہ ایذاء دینے کو رہنے دیجئے۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48، ولا تطع الکافرین والمنا فقین، اس کی تفسیر ماقبل میں اس سورة کی ابتداء میں ذکر کی جاچکی ہے۔ ، ودع اذا ھم ، حضرت ابن عباس ؓ عنما اور قتادہ کا قول ہے کہ ان کی اذیت پر صبر کرے ۔ زجاج کا بیان ہے کہ ان سے جھگڑ انہ کیجئے ان کو دکھ پہنچا نے کا خیال نہ کیجئے ، یہ قتال کی آیت سے منسوخ ہے ۔ ، و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا، وہی تمام امور کی حفاظت کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–50

45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–48

آیت 45 یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اور وہ پانچ چیزیں ہیں : (1) (شاھداً ) یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ : 173/2) ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔ “ اور فرمایا : (فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھیداً ) (النساء :31/3) ” پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کعے طور پر طلب کریں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–48

حضور ﷺ داعی الی اللہ اور روشن چراغ ہیں قول باری ہے (وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے) حضور ﷺ کی ذات اقدس کو سراج منیر کے نام سے موسوم کرکے چراغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کے ذریعے تاریکی میں چیزوں پر روشنی پڑتی ہے۔ حضور ﷺ کی ذات بابرکات کی بھی یہی حیثیت تھی جب آپ مبعوث ہوئے اس وقت پوری دنیا پر کفر وشرک کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اس طرح دنیا میں آپ کی ذات کا ظہور اس چراغ کی طرح تھا جو تاریکی میں ظاہر ہوکر اسے دور کردیتا ہے۔ آپ کو سراج منیر کے نام سے اس طرح موسوم کیا گیا جس طرح قرآن نور، ہدایت اور روح کے ناموں سے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

91 حضور کے " نذیر " ہونے کے پہلو کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور خاطر میں نہیں لانا ان لوگوں کی ایذا رسانیوں کو اور بھروسہ اللہ ہی پر رکھنا کہ اللہ کافی ہے کارسازی کے لیے " کہ ان لوگوں کی ایذا رسانیوں کو خاطر میں لانے سے آپ کو تشویش بھی ہوگی اور اپنے فرائض کی ادائیگی پر اثر بھی پڑے گا۔ اور اعدائے حق یہی چاہتے ہیں۔ پس ان کی ان شرانگیزیوں اور ایذا رسانیوں کو خاطر میں نہ لائیں اور اپنے عظیم الشان مشن کو جاری رکھیں اور بھروسہ ہمیشہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر رکھیں کہ وہی سب کا مالک اور کارساز ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ پس ان کفار اور منافقین کی نہ کوئی بات ماننی ہے اور نہ ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–48

اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:48) لا تطع فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو اطاعت نہ کر، تو کہنا نہ مان۔ اطاعۃ مصدر ۔ دع۔ فعل امر واحد حاضر۔ تو چھوڑ دے۔ ودع مصدر۔ (مثال واوی) ۔ اذلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ستانا۔ ان کی ضرر رسانی۔ اذی ہر ضرر یا ایذا جو کسی جاندار کی روح یا جسم کو پہنچے خواہ وہ ضرر دنیوی ہو یا اخروی۔ قرآن مجید میں ہے لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:264) اپنے صدقوں کو احسان (جتا کر) اور اذیت (پہنچا کر) باطل نہ کرو۔ کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) کفایۃ مصدر۔ وہ کافی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو (33:39) مذکورہ بالا۔ وکیلا۔ وکل سے صفت مشبہ ہے منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ وکفی باللہ وکیلا اور اللہ کافی ہے اذروئے کارساز ہونے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–48

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 48 شاھد : گواہی دینے والا مبشر : خوشخبری دینے والا نذیر : ڈرانے والا۔ آگاہ کرنے والا داعی : بلانے والا ۔ پکارنے والا سراج : سورج۔ چراغ منیر : روشن کرنے والا لا تطع : پیچھے نہ چل۔ نہ کسی سے دبو دع : چھوڑ دے اذی : تکلیفیں تشریح : آیات نمبر 45 تا 48 امہات المومنین ؓ اور ان کے بعد تمام اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ پوری طرح اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے رہیں۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں اور دشمنان اسلام کے غلط اور بےبنیاد پرو پیگنڈے سے کسی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ اب ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو کفار و مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–49

فضائل مصطفیٰ ﷺ ۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی ، اور کفر وشرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نورحقیقت افروز سے دور کردیا، اور خلق کے لیے معرفت و توحید الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں گم کرنے والوں کو اپنے نور نبوت سے ضمائر وبصائر اور قلوب وارواح کو منور کیا، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنادیے، اس لیے اس کی صفت منیرا ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خوش خبری دیدی کہ ان کے لی اللہ کی طرف سے بڑافضل ہے پھر فرمایا کہ جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتورڈالیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–48

[48] یعنی نبی ﷺ اللہ کی ہستی، اس کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے گواہ ہیں۔ آپ ﷺ اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ ملائکہ، نزول وحی، بہشت دوزخ، حیات بعد الموت اور قیامت کا ظہور یہ سب کچھ ایک حقیقت ہے۔ اس طرح اسلامی اخلاق و تہذیب و معاشرت کے اصول اور احکام شریعت کے بھی آپ ﷺ گواہ ہیں۔ یہ گواہی صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً اپنی پوری زندگی میں آپ ﷺ نے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر جب قیامت کے دن اللہ کی عدالت قائم ہوگی اس وقت آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ جو پیغام دے کر آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا وہ بےکم وکاست آپ ﷺ نے لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ہے شہادت علی الناس جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 143 صفحہ 44 اور سورة نحل آیت 89 صفحہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

حضور ﷺ کے چار منصب 1: اس آیت میں جناب رسالت مآب کے چار منصب بیان کئے گئے ہیں :۔ (1) آپ شاہد ہیں یعنی جو کچھ کہتے ہیں اور جس چیز کو پیش کرتے ہیں ۔ وہ آپ کا وجدانی تجزیہ ہے کیونکہ آپ حق وصداقت کی منزل تک عقل و استدلال کی راہوں سے نہیں پہنچتے ہیں ۔ بلکہ مشاہدہ واحساس کے ذریعے آپ نے رسائی حاصل کی ہے ۔ (2) حضور ﷺ سے پہلے جس قدر انبیاء مبعوث ہوئے ان کے سلوب بیان پر یا تو بشارت کا رنگ غالب تھا یا انداز کا ۔ یا تو ان کے پیغام کا غالب حظہ یہ ہو تاکہ وہ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائیں اور یا گناہ کے عواقب سے آگاہ کریں مگر حضور بیک وقت بشیر اور نذیر تھے ۔ آپ نے ایک ہی وقت میں تناسب کے ساتھ فتح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48۔ اور اے پیغمبر آپ کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے اور ان کی ایذا رسانی کو چھوڑ دیجئے اور نظر انداز کر دیجئے اور ان کی ایذا رسانی کا خیال نہ کیجئے اور آپ اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ رکھیے اور اللہ تعالیٰ بااعتبار وکالت اور کار ساز ہونے کے کافی اور بس ہے۔ یعنی تبلیغ رسالت کے سلسلے میں جو تکالیف اور جو اذیتیں آپ کو یہ کافر اور منافق پہنچاتے ہیں ان کو نظر انداز کر دیجئے اور ان تکالیف کا خیال نہ فرمایئے خواہ وہ تکالیف قولی ہوں یا فعلی ہوں کیونکہ یہ تو ہر ایک حق کی تبلیغ کرنیوالوں کو پہنچتی ہیں آپ ان کی ایذا رسانی کی پروا نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیئے وہی اپنے بندوں کا کار…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب فرما کر امت محمدیہ کو ہدایت 48 ۔ زیر نظر آیت ان ہی آیات میں سے ہے جن میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد سے بات کی گئی ہے خواہ وہ اس وقت موجود تھے اور خواہ وہ اس وقت موجود ہیں اور خواہ آئندہ موجود ہوں گے یہ خطاب بدستور سب لوگوں کے لئے ہے فرمایا جب ہمارا وعدہ فضل کبیر کا موجود ہے تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ہی حکم کی اتباع و پیروی سے مل سکتا ہے اب آپ کو کافروں اور منافقوں کے طریقوں کی پیروی نہیں کرنی ہوگی اور رہی یہ بات کہ وہ جو آج تک آپ ﷺ کو اذیت دیتے رہے تو اب گویا جو کچھ زورلگا سکتے تھے انہوں نے لگا لیا اب آئندہ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکیں گے اگر تم نے خود ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–48

'One who calls people to' Allah' means that the Holy Prophet ﷺ calls his Ummah to believe in Allah's Being, Oneness and obedience. The act of calling towards Allah has been qualified by the phrase 'with His permission'. It means that the Holy Prophet ﷺ calls and invites people towards Allah with His permission. This condition is an indication that preaching and inviting towards Allah are very difficult tasks which cannot be performed successfully without Allah" permission and help. سِرَاج (Siraj) means lamp and مُنِیر ('Munir' ) means luminous. The fifth attribute of the Holy Prophet ﷺ ، has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–48

84 Here also the same difference as pointed out above exists between the preaching of a common man and of a Prophet. As for the invitation to Allah, it is given, and can be given, by every preacher, but he is not appointed by Allah to do so. Contrary to this, a Prophet rises to call the people towards AIlah by the leave of Allah. His call is not mere preaching but has also the support of the authority of the Lord of the Universe, Who sent him. That is why resistance and opposition to the inviter to Allah amounts to rebellion against Allah Himself precisely as resistance to a government…

Read the full tafseer →