Explained with ayahs 45–48
تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔
عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
سورة الْاَحْزَاب 84
یہاں بھی ایک عام مبلغ کی تبلیغ اور نبی کی تبلیغ کے درمیان وہی فرق ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ دعوت الی اللہ تو ہر مبلغ دیتا اور دے سکتا ہے، مگر وہ اللہ کی طرف سے اس کام پر مامور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس نبی اللہ کے اذن (Sanction) سے دعوت دینے اٹھتا ہے۔ اس کی دعوت نری تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی اس کے بھیجنے والے رب العالمین کی فرمانروائی کا زور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے بھیجے ہوئے داعی کی مزاحمت خود اللہ کے خلاف جنگ قرار پاتی ہے، جس طرح دنیوی حکومتوں میں سرکاری کام انجام دینے والے سرکاری ملازم کی مزاحمت خود حکومت کے خلاف جنگ سمجھی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
داعی الی اللہ سے مراد یہ ہے کہ آپ امت کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید اور اطاعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ داعیاً الیٰ اللہ کو باذنہ کے ساتھ مشروط فرمایا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور بلانے والے اللہ ہی کے اذن و اجازت سے ہیں۔ اس قید وشرط کا اضافہ اس اشارہ کے لئے ہے کہ تبلیغ و دعوت کی خدمت سخت دشوار ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و اجازت کے بغیر انسان کے بس میں نہیں آسکتی۔
سراج کے معنی چراغ اور منیر کے معنی روشن کرنے والا۔ آنحضرت محمد ﷺ کی پانچویں صفت اس میں یہ بیان فرمائی گئی کہ آپ روشن کرنے والے چراغ ہیں اور بعض حضرات نے سراج منیر سے مراد قرآن لیا ہے، مگر نسق کلام سے قریب یہی…
Read the full tafseer →وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبیرا (47)
یہ آ کے بشیر، ہونے کا پہلو واضح فرمایا کہ جو لوگ آ کی دعوت پر ایمان لائیں ان کو خوش خبری دیجئے کہ وہ مخالفوں کی مخالفت اور حالات کی نامساعدت سے ہراساں نہ ہوں۔ ان پر اللہ کی طرف سے ایک عظیم فضل ہونیوالا ہے اگر وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
46۔ 1 جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں، اسی طرح آپ ﷺ کے ذریعے سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوجائیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کر کے جو کمال وسعادت حاصل کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48)
نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔
وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس…
Read the full tafseer →11 یعنی دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ نے اس امت کو حضرت کے طفیل سب امتوں پر بزرگی اور برتری دی۔
Read the full tafseer →آیت 47 { وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلًا کَبِیْرًا } ”اور آپ ﷺ اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔“
Read the full tafseer →75 مومنوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل کیا ہے ؟ اور امت مسلمہ کی فضیلت :۔ مومنوں پر اللہ کا فضل کبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آفتاب نبوت کو ان لوگوں میں مبعوث فرمایا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو دوسری امتوں پر فضیلت اور بزرگی عطا فرمائی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : گذشتہ قوموں (یہود و نصاری) کے مقابلہ میں تمہارا رہنا ایسا ہے جیسے عصر سے سورج غروب ہونے کا وقت۔ اہل تورات کو تورات دی گئی انہوں نے (صبح سے) دوپہر تک مزدوری کی پھر تھک گئے تو انھیں ایک ایک قیراط ملا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی انہوں…
Read the full tafseer →101۔ (آپ کے واسطہ سے) یعنی دنیا میں غلبہ ونصرت اور آخرت میں عفو ومغفرت۔ پھر ہر نعمت اخروی میں دوام وبقاء۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →وبشر المؤمنین بان لھم من اللہ فضلا کبیرا . اور اہل ایمان کو خوشخبری دے دیجئے کہ اللہ کی طرف سے ان پر بڑا فضل (ہونے والا) ہے۔
ابن جریر نے عکرمہ اور حسن کی روایت سے بیان کیا ہے کہ فضل کبیر ‘ جنت ہے۔
Read the full tafseer →جس وقت سورة فتح کی شروع کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ ہم نے آپ کو واضح فتح دی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردے اس پر صحابہ کرام کہنے لگے یا رسول اللہ آپ کے لیے یہ مقام مبارک ہو باقی اللہ تعالیٰ کے یہاں ہمارے لیے کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل آیتیں نازل کیں کہ اے نبی کریم آپ مومنین کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے جنت میں اجر عظیم ہے۔
شان نزول : وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ (الخ)
ابن جریر نے عکرمہ اور حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ جس وقت حضور کے بارے میں یہ آیت مبارکہ لیغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ نازل ہوئی اس پر مسلمانوں میں سے کچھ حضرات نے عرض کیا یا…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِيْرًا : ”فضلا“ کا معنی زائد ہونا، یعنی برتری ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ) [ المؤمنون : 24 ] ”یہ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔“ یعنی اے نبی ! مومنوں کو بشارت دے دے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی برتری عطا ہونے والی ہے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو عطا ہونے والے فضل اور برتری کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة شوریٰ میں فرمایا : (تَرَى الظّٰلِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَهُوَ وَاقِـــعٌۢ…
Read the full tafseer →آیت وبشر المومنین وائو عاطفہ ہے جملہ کا عطف جملہ پر ہے۔ معنی ماقبل سے منقطع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے فضل کبیر کی بشارت دے۔ زجاج کے قول ذاسراج منیر وتالیاسراجا منیرا کے مطابق یہ کاف پر معطوف ہوگا مگر ارسلنک کے کاف پر معطوف نہیں ہوگا (1) ۔ ابن عطیہ نے کہا : ہمیں حضرت ابی ؓ نے کہا : میرے نزدیک کتاب اللہ میں یہ سب سے امید والی آیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ مومنوں کو بشارت دے کہ اس کہ ہاں ان کے لیے فضل کبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کبیر کی وضاحت اپنے اس ارشاد میں کی ہے : آیت والذین امنوا وعملوا الصالحات فی روضات الجنات لھم ما یشاء ون عند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا نازل ہوئی اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو آپ نے علی اور معاذ ؓ کو یمن کی طرف جانے کا حکم دیا اور فرمایا دونوں جاؤ پس لوگوں کو بشارت دینا اور نفرت نہ دلانا اور آسانی پیدا کرنا اور تنگی پید نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیر یعنی شہادت دینے والے اپنی امت پر اور خوشخبری دینے والے جنت کی اور ڈرانے والے آگ سے اور بلانے والے لا الہ…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِ [اور آپ ﷺ بشارت دیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کو ] بِاَنَّ لَهُمْ [کہ ان کے لئے ] مِّنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ] فَضْلًا كَبِيْرًا [بڑا فضل ہے ] ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا آپ اہل ایمان کو خوشخبری سنا دیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے، وہ فضل دنیا میں ایمان کی دولت سے اور آخرت میں دخول جنت اور وہاں کی نعمتوں سے نوازش فرمانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین
وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم
قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47:۔ و بشر المومنین الخ، جو مومنین آپ کے لائے ہوئے احکام شریعت بلا چوں و چرا مانتے ہیں اور اس رسم جاہلیت کو توڑنے میں آپ کے ساتھ ہیں انہیں اللہ کی طرف سے اجر عظیم کی خوشخبری سنا دیں۔ ولا تطع الکفرین الخ، یہ ابتداء سورت کے مضمون کا اعادہ ہے اور کفار و منافقین کی بات ہرگز نہ مانیں وہ چاہتے ہیں کہ آپ مسئلہ توحید میں نرمی اختیار کریں تاکہ وہ بھی نرم رویہ اختیار کرلیں۔ فھی عن مداراتھم فی امر الدعوہ ولین الجانب فی التبلیغ والمسامحۃ فی الانذار (روح ج 22 ص 47) و ابو السعود ج 6 ص 791 ۔ و دع اذاھم الخ، تبلیغ حق پر آپ کو ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے، آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور خدا کے بھروسے پر اپنا فریضہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ربط آیات
گزشتہ درس میں پہلے اہل ایمان کو کثرت سے ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنی مربانیوں کا تذکرہ کیا کہ وہ خود رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس سے پچھلی آیت میں حضور ﷺ کی فضیلت اور آپ کی ختم نبوت کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے معترضین اور مخالفین کا منہ بند کردیا اللہ نے واضح فرمایا کہ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ ساری امت کے روحانی باپ ہیں۔ لہٰذا نہ تو زید ؓ آپ کے حقیقی بیٹے ہیں اور نہ ان کی بیوی آپ کی بہو ہے کے اس سے نکاح حرام…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَہُمْ مِّنَ اللہِ فَضْلًا كَبِيْرًا 47
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلاً کَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 47)
(اور ایمان لانے والوں کو بشارت دیجیے ان کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔ )
اہلِ ایمان کو بشارت
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی جن منصبی ذمہ داریوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کو مبشر بنا کر بھیجا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو جو آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور اس کا حق ادا کرتے ہیں اور ہر طرح کی مخالفتوں اور اذیتوں کے مقابلے میں استقامت کا ثبوت دیتے ہیں بشارت دیجیے کہ وہ مخالفوں کی مخالفت اور حالات کی نامساعدت سے پریشان نہ ہوں۔ عنقریب ان پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد دلانے اور اس کی توحید کی شہادت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے۔
نبی معظم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا گیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کے حکم کے مطابق ” اللہ ” کی طرف بلائیں اور ” اللہ “ کی توحید کی دعوت اور شہادت دیں اور لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد کی تلقین کریں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل کی خوشخبری سنائیں۔ جو اس دعوت کا انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور جو لوگ دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنیں وہ کافر ہوں یا منافق انہیں انکے حال پر چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے…
Read the full tafseer →47: وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلًا کَبِیْرًا (اور مؤمنین کو خوشخبری دے دیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے۔ ) فضل کبیر سے بڑا ثواب مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46، وداعیا الی اللہ ، اس کی توحید اور اس کی طاعت کی طرف دعوت دینے والے ۔ ، باذنہ ، اس کے حکم سے ۔ ، وسراجا منیرا، رسول اللہ ﷺ کو روشن چراغ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح رات کی تاریکی میں چراغ جلایا جاتا ہے اور اس کی روشنی سے راستہ نظرآجاتا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے بھی روشنی اور ہدایت حاصل کی جاتی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت 45
یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اور وہ پانچ چیزیں ہیں :
(1) (شاھداً ) یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ : 173/2) ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔ “ اور فرمایا : (فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھیداً ) (النساء :31/3) ” پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کعے طور پر طلب کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
حضور ﷺ داعی الی اللہ اور روشن چراغ ہیں
قول باری ہے (وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے) حضور ﷺ کی ذات اقدس کو سراج منیر کے نام سے موسوم کرکے چراغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کے ذریعے تاریکی میں چیزوں پر روشنی پڑتی ہے۔ حضور ﷺ کی ذات بابرکات کی بھی یہی حیثیت تھی جب آپ مبعوث ہوئے اس وقت پوری دنیا پر کفر وشرک کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اس طرح دنیا میں آپ کی ذات کا ظہور اس چراغ کی طرح تھا جو تاریکی میں ظاہر ہوکر اسے دور کردیتا ہے۔
آپ کو سراج منیر کے نام سے اس طرح موسوم کیا گیا جس طرح قرآن نور، ہدایت اور روح کے ناموں سے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
87 پیغمبر کی صفت و شان داعی الی اللہ : یعنی اس کی توحید وصفات اور اس پر ایمان و اطاعت اور عبادت و بندگی کی طرف۔ کیونکہ یہ وہ اہم حقائق اور بنیادی امور ہیں جن پر سارے معاملے کا مدارو انحصار ہے۔ اور یہی وہ بنیادی حقائق ہیں جن کی تعلیم و تبلیغ نور وحی کے بغیر ممکن نہیں۔ سو پیغمبر کی صفت و شان دعوت الی اللہ کی صفت و شان ہے۔ یعنی مخلوق کو اس کے خالق کی طرف بلانا اور دعوت دینا۔ سو { داعیاً الی اللہ } کے اسی ایک کلمہ کریمہ سے کئی اہم اور عظیم الشان حقائق واضح اور آشکارا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ پیغمبر کا مشن اور ان کا منصب و مقام سب سے بڑا اور سب سے اعلیٰ و افضل ہوتا ہے کہ ان کا مشن و مقام اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت
تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52
اسرارومعارف
ذکر اللہ کی تاکید :
اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →ف 8 بقیہ امتوں سے ان کے درجات بلند ہوں گے اور انہیں جنت نصیب ہوگی جیسا کہ شوریٰ ( آیت : 22) میں اس ” فضل کبیر “ کی تفسیر وارد ہے۔ ( قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(33:47) وبشر المؤمنین وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فراقب احوال امتک (اپنی امت کے احوال کی نگہداشت فرمائیے۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیے) ۔ ان لہم من اللہ فضلا کبیرا۔ فضلا کبیرا موصوف وصفت مل کر اسم ان لہم خبر من اللہ خبر کا متعلق ۔ ان اپنے اسم اور خبر دونوں سے مل کر ب تاویل مفرد مصدر ہے۔ ترجمہ ہوگا :
اور آپ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل کبیر کی بشارت دیجئے۔
مثال :۔ لتعلموا ان اللہ علی شیء قدیر (65: 1 2) تاکہ تم کو ہر شی پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا علم ہوجائے۔ یا ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض (5:97) یہ اس لئے کہ زمین و آسمان میں ہر شے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 48
شاھد : گواہی دینے والا
مبشر : خوشخبری دینے والا
نذیر : ڈرانے والا۔ آگاہ کرنے والا
داعی : بلانے والا ۔ پکارنے والا
سراج : سورج۔ چراغ
منیر : روشن کرنے والا
لا تطع : پیچھے نہ چل۔ نہ کسی سے دبو
دع : چھوڑ دے
اذی : تکلیفیں
تشریح : آیات نمبر 45 تا 48
امہات المومنین ؓ اور ان کے بعد تمام اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ پوری طرح اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے رہیں۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں اور دشمنان اسلام کے غلط اور بےبنیاد پرو پیگنڈے سے کسی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ اب ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو کفار و مشرکین کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فضائل مصطفیٰ ﷺ ۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی ، اور کفر وشرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نورحقیقت افروز سے دور کردیا، اور خلق کے لیے معرفت و توحید الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں گم کرنے والوں کو اپنے نور نبوت سے ضمائر وبصائر اور قلوب وارواح کو منور کیا، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنادیے، اس لیے اس کی صفت منیرا ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خوش خبری دیدی کہ ان کے لی اللہ کی طرف سے بڑافضل ہے پھر فرمایا کہ جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتورڈالیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[48] یعنی نبی ﷺ اللہ کی ہستی، اس کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے گواہ ہیں۔ آپ ﷺ اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ ملائکہ، نزول وحی، بہشت دوزخ، حیات بعد الموت اور قیامت کا ظہور یہ سب کچھ ایک حقیقت ہے۔ اس طرح اسلامی اخلاق و تہذیب و معاشرت کے اصول اور احکام شریعت کے بھی آپ ﷺ گواہ ہیں۔ یہ گواہی صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً اپنی پوری زندگی میں آپ ﷺ نے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر جب قیامت کے دن اللہ کی عدالت قائم ہوگی اس وقت آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ جو پیغام دے کر آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا وہ بےکم وکاست آپ ﷺ نے لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ہے شہادت علی الناس جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 143 صفحہ 44 اور سورة نحل آیت 89 صفحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
حضور ﷺ کے چار منصب
1: اس آیت میں جناب رسالت مآب کے چار منصب بیان کئے گئے ہیں :۔ (1) آپ شاہد ہیں یعنی جو کچھ کہتے ہیں اور جس چیز کو پیش کرتے ہیں ۔ وہ آپ کا وجدانی تجزیہ ہے کیونکہ آپ حق وصداقت کی منزل تک عقل و استدلال کی راہوں سے نہیں پہنچتے ہیں ۔ بلکہ مشاہدہ واحساس کے ذریعے آپ نے رسائی حاصل کی ہے ۔ (2) حضور ﷺ سے پہلے جس قدر انبیاء مبعوث ہوئے ان کے سلوب بیان پر یا تو بشارت کا رنگ غالب تھا یا انداز کا ۔ یا تو ان کے پیغام کا غالب حظہ یہ ہو تاکہ وہ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائیں اور یا گناہ کے عواقب سے آگاہ کریں مگر حضور بیک وقت بشیر اور نذیر تھے ۔ آپ نے ایک ہی وقت میں تناسب کے ساتھ فتح…
Read the full tafseer →47۔ اور اے پیغمبر آپ ایمان والوں کو اس امر کی بشارت دیدیجئے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے اور بڑی بزرگی ملنے والی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب امتوں سے برتر یہی امت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ف 2۔ اس لئے کہ آپ کی ہر حالت طالبان انوار کے لئے سرمایہ ہدایت ہے۔ پس قیامت میں ان مومنین پر جو کچھ رحمت ہوگی وہ آپ ہی کی ان صفات بشیر و نذیر و داعی و سراج منیر کے واسطہ سے ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! مومنوں کو فضل کبیر کی خوشخبری سنادیں
47 ۔ گزشتہ دو آیتوں میں نبی اعظم وآخر ﷺ پر لطف وکرم اور انعامات الٰہیہ کا ذکر تھا اور آپ ﷺ کے مناقب واضح کیے گئے تھے اب اس ابررحمت کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو امت مسلمہ پر برسایا جانے والا ہے اور وحی الٰہی نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ اے میرے رسول ! اپنے اوپر سچے دل سے ایمان لانے والوں کو بھی یہ بشارت سنادو کہ اللہ کا فضل و کرم ان پر بھی بدستور ہوگا اور وہ فضل و کرم بھی محدود نہیں بلکہ بہت بڑا فضل ہوگا اور اس فضل کو خود رب ذوالجلال والاکرام نے کبیر ارشاد فرمایا اب ظاہر ہے کہ جس کو رب کریم فضل کبیر ارشاد فرمارہا ہے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
'One who calls people to' Allah' means that the Holy Prophet ﷺ calls his Ummah to believe in Allah's Being, Oneness and obedience. The act of calling towards Allah has been qualified by the phrase 'with His permission'. It means that the Holy Prophet ﷺ calls and invites people towards Allah with His permission. This condition is an indication that preaching and inviting towards Allah are very difficult tasks which cannot be performed successfully without Allah" permission and help.
سِرَاج (Siraj) means lamp and مُنِیر ('Munir' ) means luminous. The fifth attribute of the Holy Prophet ﷺ ، has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
84 Here also the same difference as pointed out above exists between the preaching of a common man and of a Prophet. As for the invitation to Allah, it is given, and can be given, by every preacher, but he is not appointed by Allah to do so. Contrary to this, a Prophet rises to call the people towards AIlah by the leave of Allah. His call is not mere preaching but has also the support of the authority of the Lord of the Universe, Who sent him. That is why resistance and opposition to the inviter to Allah amounts to rebellion against Allah Himself precisely as resistance to a government…
Read the full tafseer →