Al-Ahzaab 33:46

Al-Ahzaab · from ayah 46

33:46

وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا ۟وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذۡنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيۡرًا

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

— Fateh Muhammad Jalandhari

And one who invites to Allah, by His permission, and an illuminating lamp.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:46

اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے واﻻ اور روشن چراغ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا او ر چمکادینے دینے والا ا ٓ فتاب

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے اور روشنی کرنے والا چراغ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ (بنا کر بھیجا ہے)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دعوت دینے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلانے والا اللہ کی طرف اسی کے حکم سے اور ایک عظیم الشان روشن کرنے والا چراغ بنا کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے۔ اور بطور ایک روشن چراغ کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ﷲ کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن۔

— محترمہ رفعت اعجاز

as one who calls people to Allah by His leave, and as a bright, shining lamp.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and as the one who calls (people) towards Allah with His permission, and as a luminous lamp.

— Muhammad Taqi Usmani

and as the one who calls (people) towards Allah with His permission, and as a luminous lamp.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And as one who invites to Allah by His leave, and as a lamp spreading light.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as a summoner unto Allah by His permission, and as a lamp that giveth light.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And one who invites to Allah, by His permission, and an illuminating lamp.

— Saheeh International

a preacher for God by His permission and as a shining torch.

— Muhammad Sarwar

And as one inviting to Allah by His permission, and as a light-giving torch.

— Muhammad Habib Shakir

And a summoner unto Allah by His command and an illuminating lamp.

— Abdul Majid Daryabadi

And as one who invites to Allah's (grace) by His leave, and as a lamp spreading light.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–48

تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 46–48

سورة الْاَحْزَاب 84 یہاں بھی ایک عام مبلغ کی تبلیغ اور نبی کی تبلیغ کے درمیان وہی فرق ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ دعوت الی اللہ تو ہر مبلغ دیتا اور دے سکتا ہے، مگر وہ اللہ کی طرف سے اس کام پر مامور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس نبی اللہ کے اذن (Sanction) سے دعوت دینے اٹھتا ہے۔ اس کی دعوت نری تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی اس کے بھیجنے والے رب العالمین کی فرمانروائی کا زور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے بھیجے ہوئے داعی کی مزاحمت خود اللہ کے خلاف جنگ قرار پاتی ہے، جس طرح دنیوی حکومتوں میں سرکاری کام انجام دینے والے سرکاری ملازم کی مزاحمت خود حکومت کے خلاف جنگ سمجھی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–48

داعی الی اللہ سے مراد یہ ہے کہ آپ امت کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید اور اطاعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ داعیاً الیٰ اللہ کو باذنہ کے ساتھ مشروط فرمایا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور بلانے والے اللہ ہی کے اذن و اجازت سے ہیں۔ اس قید وشرط کا اضافہ اس اشارہ کے لئے ہے کہ تبلیغ و دعوت کی خدمت سخت دشوار ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و اجازت کے بغیر انسان کے بس میں نہیں آسکتی۔ سراج کے معنی چراغ اور منیر کے معنی روشن کرنے والا۔ آنحضرت محمد ﷺ کی پانچویں صفت اس میں یہ بیان فرمائی گئی کہ آپ روشن کرنے والے چراغ ہیں اور بعض حضرات نے سراج منیر سے مراد قرآن لیا ہے، مگر نسق کلام سے قریب یہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–46

یاکھا النبی انا ارسلنک شاہدا و مبشرا ونذیرا وادعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (45۔ 46) یہ نبی ﷺ کو خطاب کرکے آپ کا منصب بتایا گیا ہے اور اس منصب کے ساتھ جو زمہ داریاں وابستہ ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ پر بھی یہ واضح ہوجائے کہ آپ کو کیا کام کرنے ہیں اور کس طرح کرے ہیں اور دوسروں پر بھی آپ کی شخصیت کی اصلی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ موافقین و مخالفین دونوں اسی روشنی میں اپنے اپنے رویے کا جائزہ لے سکیں۔ فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے تم کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ’ شاھد ‘ سے مراد ہے اللہ کے دین اور اس کے احکام و مرضیات کی گواہی دینے والا۔ رسول کی بعثت کا اصلی مقصد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–48

46۔ 1 جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں، اسی طرح آپ ﷺ کے ذریعے سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوجائیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کر کے جو کمال وسعادت حاصل کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–48

35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–48

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 پہلے جو فرمایا تھا کہ اللہ کی رحمت مومنین کو اندھیرے سے نکال کر اجالے میں لاتی ہے۔ یہاں بتلا دیا کہ وہ اجالا اس روشن چراغ سے پھیلا ہے۔ شاید چراغ کا لفظ اس جگہ اس معنی میں ہو جو سورة " نور " میں فرمایا " وجعل القمر فیہن نورا وجعل الشمس سراجا " (اللہ نے چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا) یعنی آپ آفتاب نبوت و ہدایت ہیں جس کے طلوع ہونے کے بعد کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی سب روشنیاں اسی نور اعظم میں محو و مدغم ہوگئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 { وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا } ”اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر۔“ یہاں پر بِـاِذْنِہٖ کا لفظ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے ”مامور من اللہ“ ہو کر آتا ہے۔ ویسے تو اللہ کا جو بندہ بھی لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے وہ داعی الی اللہ ہے ‘ لیکن ایک عام داعی اور ایک رسول کی دعوت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق اس مثال سے سمجھئے کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ یہ گویا اصول شہریت ہے اور عام طور پر گلی محلے میں ایک دوسرے کو اس کی تلقین بھی کی جاتی ہے ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 اس مادی دنیا یا کائنات میں اللہ تعالیٰ نے سورج کو سراج (چراغ) کا نام دیا ( سورة نوح : 16) جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ چاند اور ستارے بالواسطہ اسی سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور روحانی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سراج منیر (چمکتا ہوا چراغ) کا لقب عطا فرمایا۔ گویا نبوت کے آفتاب آپ ہیں آپ کے طلوع ہونے کے بعد اب کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہر انسان کو اپنے ہر شعبہ زندگی کے لئے ہدایت اسی آفتاب نبوت و ہدایت سے حاصل کرنا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99۔ (آیت) ” داعیا الی اللہ “۔ پر ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ 100۔ (سرتاپانمونہ ہدایت ہونے کے لحاظ سے) مفسرین قدیم نے لکھا ہے کہ بجائے آفتاب کے چراغ سے آپ کے تشبیہ دینے میں یہ نکتہ ہے کہ نور آفتاب گو تیز وقوی ہوتا ہے۔ لیکن اس کا فیضان ضعیف ہے اپنا سا کسی کو نہیں بنا سکتا بخلاف اس کے چراغ سے صدہاہزار ہا چراغ جلتے چلے جاتے ہیں۔ چناچہ امت میں فیضان رسول سے قیامت تک اولیاء و ابرار ہوتے رہیں گے۔” احقر کے نزدیک چراغ سے تشبیہ دینے میں یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو چراغ تک رسائی آسان ہے۔ پھر چراغ سے ہر وقت نور حاصل کرنا ممکن ہے۔ پھر سہل الحصول ہے، پھر اس سے نور حاصل کرنے میں اکتساب اور قصد کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وداعیا الی اللہ باذنہ . اور اللہ کے حکم (اور اس کی توفیق) سے اللہ کی (توحید اور طاعت یا جنت یا بےکیف دیدار کی) طرف بلانے والا۔ بِاِذْنِہٖ کی قید کا اضافہ کرنے سے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ کی توحید و اطاعت کی دعوت دینا بڑا سخت کام ہے ‘ اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر اس کی تکمیل ناممکن ہے ‘ خصوصاً اللہ کے دیدار کی دعوت تو اتنی دشوار ہے کہ بغیر خاص فضل خداوندی کے بندہ کی رسائی بارگاہ الٰہی تک محال ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہ یَھْدِی مِنْ یَّشَآءُ آپ اگر کسی کو ہدایت یاب کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ‘ بلکہ اللہ جس کو سیدھے راستہ پر چلانا چاہتا ہے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–46

(45۔ 46) اے نبی اکرم ہم نے آپ کو اس شان کے ساتھ بھیجا ہے کہ آپ اپنی امت پر تبلیغ رسالت کے گواہ ہوں گے اور آپ مومنین کو جنت کی خوشخبری دینے والے ہیں اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ کے مانند ہیں کہ آپ کی ہر حالت پیروی کے قابل ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙ وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ : یعنی آپ اللہ کی توحید اور اس کے احکام کی اطاعت کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والے ہیں اور یہ دعوت اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ اب جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کو مامور کرنے والے کی مخالفت کرتا ہے۔ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا : قرآن مجید میں دو جگہ سورج کو ”سراج“ کہا گیا ہے، جیسا کہ آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا : (وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا) [ نوح : 16 ] ”اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنادیا۔“ اور دوسری جگہ فرمایا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت وداعیا الی اللہ کہا : اس سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ باذنہ سے مراد اس کے امر سے آیت وسراجا منیرا کہا : اس سے مراد قرآن ہے۔ زجاج نے کہا : وسراجا یعنی ایسا سراج جو نور والا ہے۔ یعنی روشن کتاب۔ یہ بھی جائز قرار دیا کہ یہ اس معنی میں ہو وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–48

1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا نازل ہوئی اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو آپ نے علی اور معاذ ؓ کو یمن کی طرف جانے کا حکم دیا اور فرمایا دونوں جاؤ پس لوگوں کو بشارت دینا اور نفرت نہ دلانا اور آسانی پیدا کرنا اور تنگی پید نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیر یعنی شہادت دینے والے اپنی امت پر اور خوشخبری دینے والے جنت کی اور ڈرانے والے آگ سے اور بلانے والے لا الہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّدَاعِيًا : اور بلانے والا ہوتے ہوئے ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] بِاِذْنِهٖ [اس کی اجازت سے ] وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا [اور روشن چراغ ہوتے ہوئے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ ) (اور ہم نے آپ کو اللہ کی طرف بلانے والا بھیجا اللہ کے حکم سے) آپ سارے انسانوں اور سارے جنات کو توحید کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں، آپ نے بڑی محنت سے اللہ کی طرف بلایا اور اللہ کا بول بالا کیا اور اس بارے میں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔ اس میں جو لفظ (بِاِذْنِہٖ ) وارد ہوا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (ای بِتَسْھِیْلِہٖ وتیسرہ تعالیٰ ) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے دعوت کا کام آپ کے لیے آسان کردیا، تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے آپ آگے بڑھتے رہے اور آپ ﷺ کے سامنے ہی امت مسلمہ کی بھاری تعداد وجود میں آگئی، دعوت کا کام ہمیشہ جاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–46

46:۔ یا ایہا النبی الخ، یہ آں حضرت ﷺ سے پانچواں خطاب ہے۔ میرے پیغمبر ! میں نے تجھے اس لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ حق کو کھول کر بیان کرے۔ سننے والوں کو خوشخبری دے اور منکرین کو عذاب سے ڈرائے اور میں نے تجھے توحید کی دعوت کے لیے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں سراج منیر بنا کر بھیجا ہے اس لیے آپ حق بات کو واضح کر کے بیان کریں۔ اگرچہ کفار و مشرکین اور منافقین مخالفت کریں۔ مثلا متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے کے بارے میں صاف اعلان کردیں کہ یہ جائز ہے اور مخالفین کی مخالفت کی ذرا بھر پرواہ نہ کریں۔ شاھدا کلمہ توحید کا اقرار و اعلان کرنے والا اور وحدانیت کی شہادت دینے والا، قیل المراد شاھدا بان لا الہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–48

ربط آیات گزشتہ درس میں پہلے اہل ایمان کو کثرت سے ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنی مربانیوں کا تذکرہ کیا کہ وہ خود رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس سے پچھلی آیت میں حضور ﷺ کی فضیلت اور آپ کی ختم نبوت کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے معترضین اور مخالفین کا منہ بند کردیا اللہ نے واضح فرمایا کہ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ ساری امت کے روحانی باپ ہیں۔ لہٰذا نہ تو زید ؓ آپ کے حقیقی بیٹے ہیں اور نہ ان کی بیوی آپ کی بہو ہے کے اس سے نکاح حرام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّدَاعِيًا اِلَى اللہِ بِـاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا۝ 46 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–48

ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ (الاحزاب : 45، 46) (اے نبی ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے دعوت دینے والا بنا کر، اور ایک روشن چراغ بنا کر۔ ) آنحضرت ﷺ کے منصبی فرائض پیشِ نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے خطاب فرما کر آپ ﷺ کو ان عظیم ذمہ داریوں سے باخبر کیا جارہا ہے جن سے آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں عہدہ برا ہونا ہے۔ اور یہ ذمہ داریاں ایسی ہیں جن کی ادائیگی کے سلسلے میں قدم قدم پر آپ ﷺ کو شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد دلانے اور اس کی توحید کی شہادت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ نبی معظم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا گیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کے حکم کے مطابق ” اللہ ” کی طرف بلائیں اور ” اللہ “ کی توحید کی دعوت اور شہادت دیں اور لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد کی تلقین کریں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل کی خوشخبری سنائیں۔ جو اس دعوت کا انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور جو لوگ دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنیں وہ کافر ہوں یا منافق انہیں انکے حال پر چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ (اور دعوت دینے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے حکم سے) اس کے امر سے یا اس کے میسر کردینے سے۔ نحو : تمام حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا (اور روشن چراغ ہیں) آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ظلمات شرک کو روشن کردیا گمراہوں کو ہدایت ملی جیسا کہ رات کے اندھیرے روشن سورج سے روشن ہوجاتے ہیں۔ اور روشنی سے راستہ پایا جاتا ہے۔ قول جمہور کہ سراج منیر سے مراد قرآن مجید ہے۔ اسکے مطابق تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ ذا سراج منیر اور سراج منیر کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ منیرؔ کی صفت سراج کیلئے لائی گئی کیونکہ جب دیئے کی بتی چھوٹی ہوجاتی اور تیل کم ہوجاتا ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 46–47

46، وداعیا الی اللہ ، اس کی توحید اور اس کی طاعت کی طرف دعوت دینے والے ۔ ، باذنہ ، اس کے حکم سے ۔ ، وسراجا منیرا، رسول اللہ ﷺ کو روشن چراغ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح رات کی تاریکی میں چراغ جلایا جاتا ہے اور اس کی روشنی سے راستہ نظرآجاتا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے بھی روشنی اور ہدایت حاصل کی جاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–50

45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–48

آیت 45 یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اور وہ پانچ چیزیں ہیں : (1) (شاھداً ) یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ : 173/2) ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔ “ اور فرمایا : (فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھیداً ) (النساء :31/3) ” پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کعے طور پر طلب کریں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–48

حضور ﷺ داعی الی اللہ اور روشن چراغ ہیں قول باری ہے (وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے) حضور ﷺ کی ذات اقدس کو سراج منیر کے نام سے موسوم کرکے چراغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کے ذریعے تاریکی میں چیزوں پر روشنی پڑتی ہے۔ حضور ﷺ کی ذات بابرکات کی بھی یہی حیثیت تھی جب آپ مبعوث ہوئے اس وقت پوری دنیا پر کفر وشرک کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اس طرح دنیا میں آپ کی ذات کا ظہور اس چراغ کی طرح تھا جو تاریکی میں ظاہر ہوکر اسے دور کردیتا ہے۔ آپ کو سراج منیر کے نام سے اس طرح موسوم کیا گیا جس طرح قرآن نور، ہدایت اور روح کے ناموں سے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–47

87 پیغمبر کی صفت و شان داعی الی اللہ : یعنی اس کی توحید وصفات اور اس پر ایمان و اطاعت اور عبادت و بندگی کی طرف۔ کیونکہ یہ وہ اہم حقائق اور بنیادی امور ہیں جن پر سارے معاملے کا مدارو انحصار ہے۔ اور یہی وہ بنیادی حقائق ہیں جن کی تعلیم و تبلیغ نور وحی کے بغیر ممکن نہیں۔ سو پیغمبر کی صفت و شان دعوت الی اللہ کی صفت و شان ہے۔ یعنی مخلوق کو اس کے خالق کی طرف بلانا اور دعوت دینا۔ سو { داعیاً الی اللہ } کے اسی ایک کلمہ کریمہ سے کئی اہم اور عظیم الشان حقائق واضح اور آشکارا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ پیغمبر کا مشن اور ان کا منصب و مقام سب سے بڑا اور سب سے اعلیٰ و افضل ہوتا ہے کہ ان کا مشن و مقام اور ان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–48

اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 جس سے کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں واضح ہدایت ملتی ہے ” نور “ سے مراد وہ روشنی جو شریعت اسلامیہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ( قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–47

(33:47) وبشر المؤمنین وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فراقب احوال امتک (اپنی امت کے احوال کی نگہداشت فرمائیے۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیے) ۔ ان لہم من اللہ فضلا کبیرا۔ فضلا کبیرا موصوف وصفت مل کر اسم ان لہم خبر من اللہ خبر کا متعلق ۔ ان اپنے اسم اور خبر دونوں سے مل کر ب تاویل مفرد مصدر ہے۔ ترجمہ ہوگا : اور آپ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل کبیر کی بشارت دیجئے۔ مثال :۔ لتعلموا ان اللہ علی شیء قدیر (65: 1 2) تاکہ تم کو ہر شی پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا علم ہوجائے۔ یا ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض (5:97) یہ اس لئے کہ زمین و آسمان میں ہر شے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–48

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 48 شاھد : گواہی دینے والا مبشر : خوشخبری دینے والا نذیر : ڈرانے والا۔ آگاہ کرنے والا داعی : بلانے والا ۔ پکارنے والا سراج : سورج۔ چراغ منیر : روشن کرنے والا لا تطع : پیچھے نہ چل۔ نہ کسی سے دبو دع : چھوڑ دے اذی : تکلیفیں تشریح : آیات نمبر 45 تا 48 امہات المومنین ؓ اور ان کے بعد تمام اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ پوری طرح اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے رہیں۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں اور دشمنان اسلام کے غلط اور بےبنیاد پرو پیگنڈے سے کسی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ اب ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو کفار و مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–49

فضائل مصطفیٰ ﷺ ۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی ، اور کفر وشرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نورحقیقت افروز سے دور کردیا، اور خلق کے لیے معرفت و توحید الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں گم کرنے والوں کو اپنے نور نبوت سے ضمائر وبصائر اور قلوب وارواح کو منور کیا، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنادیے، اس لیے اس کی صفت منیرا ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خوش خبری دیدی کہ ان کے لی اللہ کی طرف سے بڑافضل ہے پھر فرمایا کہ جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتورڈالیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–48

[48] یعنی نبی ﷺ اللہ کی ہستی، اس کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے گواہ ہیں۔ آپ ﷺ اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ ملائکہ، نزول وحی، بہشت دوزخ، حیات بعد الموت اور قیامت کا ظہور یہ سب کچھ ایک حقیقت ہے۔ اس طرح اسلامی اخلاق و تہذیب و معاشرت کے اصول اور احکام شریعت کے بھی آپ ﷺ گواہ ہیں۔ یہ گواہی صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً اپنی پوری زندگی میں آپ ﷺ نے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر جب قیامت کے دن اللہ کی عدالت قائم ہوگی اس وقت آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ جو پیغام دے کر آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا وہ بےکم وکاست آپ ﷺ نے لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ہے شہادت علی الناس جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 143 صفحہ 44 اور سورة نحل آیت 89 صفحہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

حضور ﷺ کے چار منصب 1: اس آیت میں جناب رسالت مآب کے چار منصب بیان کئے گئے ہیں :۔ (1) آپ شاہد ہیں یعنی جو کچھ کہتے ہیں اور جس چیز کو پیش کرتے ہیں ۔ وہ آپ کا وجدانی تجزیہ ہے کیونکہ آپ حق وصداقت کی منزل تک عقل و استدلال کی راہوں سے نہیں پہنچتے ہیں ۔ بلکہ مشاہدہ واحساس کے ذریعے آپ نے رسائی حاصل کی ہے ۔ (2) حضور ﷺ سے پہلے جس قدر انبیاء مبعوث ہوئے ان کے سلوب بیان پر یا تو بشارت کا رنگ غالب تھا یا انداز کا ۔ یا تو ان کے پیغام کا غالب حظہ یہ ہو تاکہ وہ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائیں اور یا گناہ کے عواقب سے آگاہ کریں مگر حضور بیک وقت بشیر اور نذیر تھے ۔ آپ نے ایک ہی وقت میں تناسب کے ساتھ فتح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

46۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے اور داعی ہیں اور آپ ایک روشن اور چمکتے ہوئے چراغ ہیں ۔ گواہ ہوں گے یعنی اپنی امت پر گواہی دیں گے یا انبیاء کی تبلیغ رسالت پر شہادت دیں گے مستحقین بشارت یعنی مؤمنین کو خوشخبری دینے والے اور منکرین دین حق کو عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ، سراج منیر سے مراد یا تو قرآن کریم ہے یعنی تالیا ً سراجا ً منیرا ۔ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرینوالے یا آپ کی ذات تمام طالبین انوار کیلئے موجب ہدایت و رہنمائی ہے ۔ چراغ شاید اس لئے فرمایا کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے دین کی روشنی ہر کچے اور پکے مکان بلکہ ہر آبادی میں پہنچنے والی ہے اس لئے آپ کو چراغ فرمایا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–47

ف 2۔ اس لئے کہ آپ کی ہر حالت طالبان انوار کے لئے سرمایہ ہدایت ہے۔ پس قیامت میں ان مومنین پر جو کچھ رحمت ہوگی وہ آپ ہی کی ان صفات بشیر و نذیر و داعی و سراج منیر کے واسطہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور ایک چمکتا ہوا سورج ہیں 46 ۔ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کی دو خصوصیات اور بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ آپ ﷺ دعوت الی اللہ پہنچانے والے ہیں اور دوسری یہ کہ آپ ﷺ طلوع آفتاب ہیں اور بلا شبہ یہ دونوں صفات بھی آپ ﷺ ہی کا خاصہ ہیں آپ ﷺ نے جس سرگرمی سے دعوت الی اللہ کا کام کیا اور پھر جس کامیابی تک اس کو پہنچایا وہ آپ ﷺ ہی کا حصہ تھا ، اشارات اس طرح ہیں : 1… نبی اعظم وآخر ﷺ کے پہاڑ کے وعظ کو دیکھو جس میں آپ ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو پکارا اور فرمایا کہ یا ال فھرایا آل غالب۔ اور ظاہر ہے کہ یہ آپ ﷺ کے اپنے خاندان کے سربراہ تھے جن کی اولاد کثیر اور قبائل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–48

'One who calls people to' Allah' means that the Holy Prophet ﷺ calls his Ummah to believe in Allah's Being, Oneness and obedience. The act of calling towards Allah has been qualified by the phrase 'with His permission'. It means that the Holy Prophet ﷺ calls and invites people towards Allah with His permission. This condition is an indication that preaching and inviting towards Allah are very difficult tasks which cannot be performed successfully without Allah" permission and help. سِرَاج (Siraj) means lamp and مُنِیر ('Munir' ) means luminous. The fifth attribute of the Holy Prophet ﷺ ، has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–48

84 Here also the same difference as pointed out above exists between the preaching of a common man and of a Prophet. As for the invitation to Allah, it is given, and can be given, by every preacher, but he is not appointed by Allah to do so. Contrary to this, a Prophet rises to call the people towards AIlah by the leave of Allah. His call is not mere preaching but has also the support of the authority of the Lord of the Universe, Who sent him. That is why resistance and opposition to the inviter to Allah amounts to rebellion against Allah Himself precisely as resistance to a government…

Read the full tafseer →