Al-Ahzaab 33:45

Al-Ahzaab · from ayah 45

33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ۟ۙيٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, indeed We have sent you as a witness and a bringer of good tidings and a warner.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:45

اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے واﻻ، خوشخبریاں سنانے واﻻ، آگاه کرنے واﻻ بھیجا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبیِ (مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! بیشک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی ! ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوش خبری پہنچانے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف، اس کے اذن سے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے بطور گواہ۔ اور بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ ! یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, We have sent you forth as a witness, a bearer of good tidings, and a warner,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O prophet, We have sent you as a witness and as a bearer of good news and a warner,

— Muhammad Taqi Usmani

O prophet, We have sent you as a witness and as a bearer of good news and a warner,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! Verily, We have sent you as witness, and a bearer of glad tidings, and a warner,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! Lo! We have sent thee as a witness and a bringer of good tidings and a warner.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, indeed We have sent you as a witness and a bringer of good tidings and a warner.

— Saheeh International

Prophet, We have sent you as a witness, a bearer of glad news, a warner,

— Muhammad Sarwar

O Prophet! surely We have sent you as a witness, and as a bearer of good news and as a warner,

— Muhammad Habib Shakir

Prophet! verily We have sent thee a witness and a bearer of glad tidings and a warner.

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! Truly We have sent thee as a Witness, a Bearer of Glad Tidings, and Warner,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–48

تورات میں نبی اکرم ﷺ کی صفات۔ عطابن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی صفتیں تورات میں کیا ہیں ؟ فرمایا جو صفتیں آپ کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ درگذر کرتا ہے۔ اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا۔ جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 81 مسلمانوں کو نصیحت کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے چند کلمات تسکین ارشاد فرماتا ہے۔ مقصود کلام یہ ہے کہ آپ کو ہم نے یہ کچھ مراتب عالیہ بخشے ہیں، آپ کی شخصیت اس سے بہت بلند ہے کہ یہ مخالفین اپنے بہتان و افترا کے طوفان اٹھا کر آپ کا کچھ بگاڑ سکیں۔ لہٰذا آپ نہ ان کی شرارتوں سے رنجیدہ ہوں اور نہ ان کے پروپیگینڈے کو پرکاہ کے برابر بھی کوئی وقعت دیں۔ اپنے فرائض منصبی ادا کیے جائیے اور انہیں جو کچھ ان کا جی چاہے بکنے دیجیے۔ ان کے ساتھ ضمناً تمام خلق کو، جس میں مومن و کافر سب شامل ہیں، یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا سابقہ کسی معمولی انسان سے نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

رسول اللہ ﷺ کی خاص صفات (آیت) یایہا النبی انا ارسلنک شاہداً ومبشراً اونذیراً ، وداعیاً الیٰ اللہ باذنہ وسراجاً منیراً ، یہ پھر عود ہے رسول اللہ ﷺ کی خاص صفات کمال اور مناقب کی طرف، اس میں رسول اللہ ﷺ کی پانچ صفات کا ذکر فرمایا۔ شاہد، مبشر، نذیر، داعی الی اللہ، سراج، منیر، شاہد سے مراد یہ ہے کہ آپ قیامت کے روز امت کے لئے شہادت دیں گے جیسا کہ صحیح بخاری، نسائی، ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوسعید خدری سے ایک طویل حدیث روایت ہے جس کے بعض جملے یہ ہیں کہ قیامت کے روز نوح ؑ پیش ہوں گے تو ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا آپ نے ہمارا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا تھا وہ عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا، پھر ان کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–46

یاکھا النبی انا ارسلنک شاہدا و مبشرا ونذیرا وادعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (45۔ 46) یہ نبی ﷺ کو خطاب کرکے آپ کا منصب بتایا گیا ہے اور اس منصب کے ساتھ جو زمہ داریاں وابستہ ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ پر بھی یہ واضح ہوجائے کہ آپ کو کیا کام کرنے ہیں اور کس طرح کرے ہیں اور دوسروں پر بھی آپ کی شخصیت کی اصلی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ موافقین و مخالفین دونوں اسی روشنی میں اپنے اپنے رویے کا جائزہ لے سکیں۔ فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے تم کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ’ شاھد ‘ سے مراد ہے اللہ کے دین اور اس کے احکام و مرضیات کی گواہی دینے والا۔ رسول کی بعثت کا اصلی مقصد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 بعض لوگ شاہد کے معنی حاضر و ناظر کے کرتے ہیں جو قرآن کے اصل لفظ سے معنوی ہے۔ نبی ﷺ اپنی امت کی گواہی دیں گے، ان سے بھی جو آپ پر ایمان لائے اور ان کی بھی جنہوں نے تکذیب کی۔ آپ ﷺ قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کے اعضائے وضو سے پہچان لیں گے جو چمکتے ہونگے، اسی طرح آپ ﷺ دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ گواہی اللہ کے دیئے ہوئے یقینی علم کی بنیاد پر ہوگی۔ اس لئے نہیں کہ آپ ﷺ تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ہیں، یہ عقیدہ تو احکام قرآنی کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–48

35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–48

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اللہ کی توحید سکھاتے اور اس کا راستہ بتاتے ہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں دل سے اور عمل سے اس پر گواہ ہیں اور محشر میں بھی امت کی نسبت گواہی دیں گے کہ خدا کے پیغام کو کس نے کس قدر قبول کیا۔ 9 یعنی نافرمانوں کو ڈراتے اور فرمانبرداروں کو خوشخبری سناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 { یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا } ”اے نبی ﷺ ! یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔“ اس آیت کے الفاظ نبوت اور رسالت کے درمیان ربط وتعلق کو بھی واضح کر رہے ہیں۔ نبوت اور رسالت کے تعلق یا فرق کو کسی شخص کے کسی محکمے کے لیے منتخب ہونے اور پھر اس محکمے کے اندر کسی مخصوص منصب پر اس کے ”تقرر“ کی مثال سے سمجھنا چاہیے۔ مثلاً جو لوگ مقابلے کے امتحان میں کامیاب قرار پاتے ہیں وہ سی ایس پی کیڈر cadre کے لیے منتخب ہوجاتے ہیں۔ لیکن محض اس کیڈر میں منتخب ہوجانے سے ان میں سے کسی کو نہ تو کوئی اختیار ملتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 نبی کی شہادت کی تین صورتیں :۔ وہ گواہی یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور معبود برحق صرف ایک اللہ ہے دوسرا کوئی اس الوہیت اور حاکمیت میں شریک نہیں۔ اور نبی کی یہ گواہی تین طرح سے ہوتی ہے ایک یہ کہ نظام کائنات کے مطالعہ سے وہ خود اس نتیجہ پر پہنچتا ہے اور بعض انبیاء کو ملکوت السمٰوات والارض دکھائی اور اس کی سیر بھی کرائی جاتی ہے تاکہ جس شہادت کے وہ داعی بننے والے ہیں اس کا انھیں عین الیقین حاصل ہو۔ دوسری گواہی ان کی دعوت پر سب سے پہلے ان کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یعنی ان کی عملی زندگی اس بات پر گواہ ہوتی ہے کہ نبی جو شہادت دے رہا ہے وہ درست اور برحق ہے۔ اور تیسری شہادت وہ قیامت کے دن اپنی امت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98۔ اس صفت کا ظہور حشر میں ہوگا، جب آپ ﷺ کی شہادت پر آپ کی امت کا فیصلہ ہوگا۔ (آیت) ” شاھدا “۔ کے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ آپ ﷺ تمام امتوں کے رسولوں پر بطور شاہد پیش ہوں گے کہ وہ ادائے رسالت کرچکے۔ قیل المراد شاھدا علی جمیع الامم یوم القیامۃ بان انبیاء ھم قد بلغوھم الرسالۃ (روح) اور مولانائے رومی (رح) نے تو یہ پہلولیا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بندوں کے مختلف مراتب ومنازل سے مطلع کر رکھا ہے۔ ع : درنظر بودش مقامات العباد زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا . اے نبی ! ہم نے آپ کو (آپ کی امت کا) گواہ بنا کر بھیجا ہے۔ ابن مبارک نے سعید بن مسیب کا قول بیان کیا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ صبح و شام رسول اللہ کی امت کو آپ کے سامنے نہ لایا جاتا ہو۔ آپ اپنی امت کو ان کے چہروں سے (یا خصوصی علامات سے) پہچانتے ہیں اسی لئے آپ ان پر شہادت دیں گے (یعنی گواہی دیں گے کہ یہ میری امت والے ہیں) یا شاہد ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جب امت اسلامیہ شہادت دے گی کہ تمام نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا تو رسول اللہ اپنی امت کی تصدیق کریں گے۔ بخاری ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–46

(45۔ 46) اے نبی اکرم ہم نے آپ کو اس شان کے ساتھ بھیجا ہے کہ آپ اپنی امت پر تبلیغ رسالت کے گواہ ہوں گے اور آپ مومنین کو جنت کی خوشخبری دینے والے ہیں اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ کے مانند ہیں کہ آپ کی ہر حالت پیروی کے قابل ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی پانچ صفات بیان فرمائیں، جن سے وہ عظیم الشان مراتب معلوم ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فائز فرمایا اور ان ذمہ داریوں پر روشنی پڑتی ہے جو رسول کی حیثیت سے آپ پر عائد ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو اتنے عالی مراتب عطا فرمائے ہیں کہ آپ کے مخالفین جتنے بہتان باندھ لیں اور جتنی زبان درازی کرلیں، آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس لیے آپ اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیں اور ان کی باتوں کی پروا مت کریں۔ ان میں سب سے پہلی صفت ”شَاهِدًا“ ہے۔ یہ شہادت دو طرح سے ہے، ایک دنیا میں اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس آیت میں نبی کریم ﷺ اور مومنوں کے لیے انس پیدا کیا جا رہا ہے اور ان سب کی تکریم کی جا رہی ہے۔ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے چھ اسماء کے اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ اور ہمارے نبی کے کثیر اسماء ہیں اور جلیل القدر علامات ہیں۔ ان کا ذکر کتاب، سنت اور متقدم کتب میں وارد ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے اسماء میں سے محمد اور احمد کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے۔ ثقہ اور عادل لوگوں نے جو آپ سے روایات نقل کی ہیں ان میں ہے۔ ” میرے پانچ نام ہیں میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں اللہ میرے ساتھ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں لوگ میرے قدم پر اٹھیں گے اور میں عاقب ہوں “ (1) ۔ ٓصحیح مسلم میں حضرت جبیر بن مطعم سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–48

1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا نازل ہوئی اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو آپ نے علی اور معاذ ؓ کو یمن کی طرف جانے کا حکم دیا اور فرمایا دونوں جاؤ پس لوگوں کو بشارت دینا اور نفرت نہ دلانا اور آسانی پیدا کرنا اور تنگی پید نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیر یعنی شہادت دینے والے اپنی امت پر اور خوشخبری دینے والے جنت کی اور ڈرانے والے آگ سے اور بلانے والے لا الہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ] اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ [بیشک ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو ] شَاهِدًا [گواہ ہوتے ہوئے ] وَّمُبَشِّرًا [اور بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ] وَّنَذِيْرًا [اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 45 ۔ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ بعض لوگ اس کو یہ معنی پہناتے ہیں کہ آپ ﷺ آخرت میں لوگوں کے اعمال پر گواہی دیں گے۔ اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ آپ ﷺ تمام لوگوں کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ ورنہ بےدیکھے شہادت کیسے دیں گے۔ لیکن قرآن کی رو سے یہ تاویل بالکل غلط ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اعمال پر شہادت قائم کرنے کے لئے اللہ نے ایک دوسرا انتظام فرمایا ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ کی صفات جمیلہ : یہ چار آیات کا ترجمہ ہے، پہلی دو آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان فرمائی ہیں اور تیسری آیت میں آپ کو بشارت دینے کا حکم دیا ہے اور چوتھی آیت میں کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننے کا اور ان سے جو تکلیفیں پہنچیں ان کی طرف دھیان نہ دینے کا اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اول تو یوں فرمایا ہے (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا) کہ اے نبی ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا ہے، شاہد گواہ کو کہتے ہیں، سورة بقرہ میں فرمایا ہے (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–46

46:۔ یا ایہا النبی الخ، یہ آں حضرت ﷺ سے پانچواں خطاب ہے۔ میرے پیغمبر ! میں نے تجھے اس لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ حق کو کھول کر بیان کرے۔ سننے والوں کو خوشخبری دے اور منکرین کو عذاب سے ڈرائے اور میں نے تجھے توحید کی دعوت کے لیے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں سراج منیر بنا کر بھیجا ہے اس لیے آپ حق بات کو واضح کر کے بیان کریں۔ اگرچہ کفار و مشرکین اور منافقین مخالفت کریں۔ مثلا متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے کے بارے میں صاف اعلان کردیں کہ یہ جائز ہے اور مخالفین کی مخالفت کی ذرا بھر پرواہ نہ کریں۔ شاھدا کلمہ توحید کا اقرار و اعلان کرنے والا اور وحدانیت کی شہادت دینے والا، قیل المراد شاھدا بان لا الہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–48

ربط آیات گزشتہ درس میں پہلے اہل ایمان کو کثرت سے ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنی مربانیوں کا تذکرہ کیا کہ وہ خود رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس سے پچھلی آیت میں حضور ﷺ کی فضیلت اور آپ کی ختم نبوت کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے معترضین اور مخالفین کا منہ بند کردیا اللہ نے واضح فرمایا کہ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ ساری امت کے روحانی باپ ہیں۔ لہٰذا نہ تو زید ؓ آپ کے حقیقی بیٹے ہیں اور نہ ان کی بیوی آپ کی بہو ہے کے اس سے نکاح حرام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا۝ 45ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–48

ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ (الاحزاب : 45، 46) (اے نبی ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے دعوت دینے والا بنا کر، اور ایک روشن چراغ بنا کر۔ ) آنحضرت ﷺ کے منصبی فرائض پیشِ نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے خطاب فرما کر آپ ﷺ کو ان عظیم ذمہ داریوں سے باخبر کیا جارہا ہے جن سے آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں عہدہ برا ہونا ہے۔ اور یہ ذمہ داریاں ایسی ہیں جن کی ادائیگی کے سلسلے میں قدم قدم پر آپ ﷺ کو شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد دلانے اور اس کی توحید کی شہادت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ نبی معظم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا گیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کے حکم کے مطابق ” اللہ ” کی طرف بلائیں اور ” اللہ “ کی توحید کی دعوت اور شہادت دیں اور لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد کی تلقین کریں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل کی خوشخبری سنائیں۔ جو اس دعوت کا انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور جو لوگ دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنیں وہ کافر ہوں یا منافق انہیں انکے حال پر چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پیغمبر ﷺ کے اوصاف خمسہ : 45: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا (اے نبی (ﷺ) ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بناکر بھیجا کہ آپ شاہد ہونگے) ان پر جن کی طرف آپ مبعوث ہوئے اور ان کی تصدیق و تکذیب پر یعنی آپ کا قول ان کے متعلق خواہ حق میں ہو یا خلاف قبول کیا جائے گا۔ جیسا کہ شاہد عادل کا قول فیصلہ میں قبول کیا جائے گا۔ نحو : یہ حال مقدرہ ہے جیسا تم کہو مررت برجل معہ صقر صائدا بہ غدا ای مقدرًا بہٖ الصید غدًا۔ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا جس کے پاس باز ہے۔ اس حال میں کہ وہ اس سے صبح شکار کرنے والا ہے یعنی اسکے مقدر کیا گیا ہے شکار کو کل وَّ مُبَشِّرًا ( اور خوشخبری دینے والے ہیں) ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45، یا یھا النبی انا ارسلنا ک شاھدا ومبشرا ونذیرا، شاہد اسے مراد انبیاء کرام (علیہم السلام) کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی رسالت والا پیغام پہنچا دیا ہے۔ ، ومبشرا، اور انبیاء پر ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری دینے والے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو دوزخ سے ڈرانے والا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–50

45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–48

آیت 45 یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اور وہ پانچ چیزیں ہیں : (1) (شاھداً ) یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ : 173/2) ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔ “ اور فرمایا : (فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھیداً ) (النساء :31/3) ” پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کعے طور پر طلب کریں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–45

جنت میں سلامتی کی دعائیں قول باری ہے (تحیتھم یوم یلقونہ سلام۔ جس روز وہ اس سے ملیں گے انہیں لفظ سلام سے دعا دی جائے گی) قتادہ کا قول ہے کہ اہل جنت کی تحیت اسلام ہے ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کی مثال یہ قول باری ہے (دعواھم فیھا سبحانک اللھم وتحیتھم فیھا سلام۔ ان (باغات) میں ان کا قول ہوگا پاک ہے تو اے اللہ ! اور ان میں ان کی باہمی دعا ” سلام “ ہوگی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

85 پیغمبر کے " شاہد " ہونے کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " اے پیغمبر ہم نے آپکو گواہ بناکر بھیجا ہے "۔ یعنی حق و صداقت کا گواہ بنا کر۔ پس حق اور صدق وہی ہے جس کو آپ ﷺ نے حق اور صدق بتایا اور اپنے قول و فعل اور عمل و کردار سے اس کو واضح فرمایا ہے۔ جس میں سب سے بڑا حق اور تمام صداقتوں کی اساس و بنیاد اللہ پاک کی توحید و وحدانیت کی صداقت کبریٰ ہے۔ اور اس کی تعریف و توضیح میں وہی بات معتبر ہے جس کی تعلیم و تلقین آپ ﷺ نے فرمائی۔ اور اس کے علاوہ دنیا کی ہر حقیقت اور ہر صداقت کے بارے میں وہی بیان معتبر ہے جو آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن اور آپ ﷺ کی چھوڑی ہوئی سنت کے مطابق ہوگا۔ اور حق و صداقت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–48

اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کہ آپ ﷺ اپنے قول و عمل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیں اور قیامت کے دن اپنی امت کے گواہ ہوں کہ آپ ﷺ نے ان کو اللہ کا پیغام بےکم وکاست پہنچا دیا تھا، بلکہ دوسری امتوں کو بھی گواہی دیں گے کہ ان کے انبیاء ( علیہ السلام) نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 143)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:45) شاھدا۔ بطور گواہ کے۔ مبشرا بطور مومنون کو جنت کی خوشخبری دینے والے کے نذیرا کافروں کو دوزخ کی آگ سے ڈرانے والے کے داعیا لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والا سراجا منیرا بطور ایک روشن چراغ کے۔ جس کے نور ہدایت سے ہر کوشش کرنے والا سیدھی راہ پاسکے۔ سب بوجہ مال ہونے کے منصوب ہیں۔ سراجا منیرا۔ ترکیب توصیفی ہے۔ السراج کے معنی ہیں وہ چیز جو تیل اور بتی سے روشن ہوتی ہے (مراد چراغ) مجازا ہر روشن چیز کو سراج کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے و جعل الشمس سراجا (7 1: 1 6) اور اس نے سورج کو چراغ (کی مانند روشن ) بنایا۔ منیرا۔ اسم فاعل واحد مذکرسراجا کی صفت ہو کر موصوف کی رعایت سے منصوب آیا ہے یہ انارۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–48

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 48 شاھد : گواہی دینے والا مبشر : خوشخبری دینے والا نذیر : ڈرانے والا۔ آگاہ کرنے والا داعی : بلانے والا ۔ پکارنے والا سراج : سورج۔ چراغ منیر : روشن کرنے والا لا تطع : پیچھے نہ چل۔ نہ کسی سے دبو دع : چھوڑ دے اذی : تکلیفیں تشریح : آیات نمبر 45 تا 48 امہات المومنین ؓ اور ان کے بعد تمام اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ پوری طرح اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے رہیں۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں اور دشمنان اسلام کے غلط اور بےبنیاد پرو پیگنڈے سے کسی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ اب ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو کفار و مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–49

فضائل مصطفیٰ ﷺ ۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی ، اور کفر وشرک کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نورحقیقت افروز سے دور کردیا، اور خلق کے لیے معرفت و توحید الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں گم کرنے والوں کو اپنے نور نبوت سے ضمائر وبصائر اور قلوب وارواح کو منور کیا، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنادیے، اس لیے اس کی صفت منیرا ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں کو خوش خبری دیدی کہ ان کے لی اللہ کی طرف سے بڑافضل ہے پھر فرمایا کہ جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتورڈالیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–48

[48] یعنی نبی ﷺ اللہ کی ہستی، اس کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے گواہ ہیں۔ آپ ﷺ اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ ملائکہ، نزول وحی، بہشت دوزخ، حیات بعد الموت اور قیامت کا ظہور یہ سب کچھ ایک حقیقت ہے۔ اس طرح اسلامی اخلاق و تہذیب و معاشرت کے اصول اور احکام شریعت کے بھی آپ ﷺ گواہ ہیں۔ یہ گواہی صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً اپنی پوری زندگی میں آپ ﷺ نے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر جب قیامت کے دن اللہ کی عدالت قائم ہوگی اس وقت آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ جو پیغام دے کر آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا وہ بےکم وکاست آپ ﷺ نے لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ہے شہادت علی الناس جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 143 صفحہ 44 اور سورة نحل آیت 89 صفحہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–45

عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے 1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

45۔ اے نبی یقینا ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہی دینے والے ہیں اور آپ بشارت اور خوشخبری بنانے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–45

ف 1۔ اس کا رحمت بھیجنا تو رحمت کرنا ہے، اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو شاہد ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ 45 ۔ قرآن کریم میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو شاہد بھی فرمایا گیا ہے اور شہید بھی جیسا کہ زیر نظر آیت میں { شاھدا } کا لفظ آیا ہے ۔ اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا { انا ارسلنک…… ونذیر } (الفتح 8:48) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا { ویکون……… شھیدا } (البقرہ 143:2) اور ایک جگہ فرمایا { وجئنا…… … شھید } (النساء 41:4) اور ایک جگہ فرمایا { وفی ………… علیکم } (الحج 78:22) شہادت کیا ہے ؟ امر واقع کو بیان کرنا اور دوسرے شخص کو اپنے بیان کے ذریعے سے اس امر کا باور کرانا ہے بلا شبہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی شہادت جسے آپ ﷺ نے ادا کیا اور جسے ادا فرما کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Special Attributes of the Holy Prophet ﷺ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿45﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا ﴿46﴾ O prophet, We have sent you as a witness and a bearer of good news and a warner and as one who calls (people) towards Allah with His permission, and as a luminous lamp. (33:45-46) The text here reverts to the special perfect attributes of the Holy Prophet ﷺ . Five attributes have been mentioned here - 'Shahid', 'mubashshir', "nadhir', da` i ila Allah'. 'siraj munir'. 'Shahid' (a witness) means that the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

81 After admonishing the Muslims, Allah now addresses a few words of consolation to His Prophet, as if to say: `We have blessed you with such and such a high rank and raised you to an exalted place of honour. Your opponents will not be able to harm you in any way by their propaganda campaign of slander and calumny. Therefore, you should not take their mischief to heart, nor give any weight to their propaganda. You should continue doing the duties of your mission, and Iet them utter whatever nonsense they like. " Along with this, incidentally, the other people, both the believers and the…

Read the full tafseer →