Al-Ahzaab 33:44

Al-Ahzaab · from ayah 44

33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ۚۖ— وَّاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا ۟تَحِيَّتُهُمۡ يَوۡمَ يَلۡقَوۡنَهٗ سَلٰمٌ ۖۚ وَاَعَدَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَرِيۡمًا

جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Their greeting the Day they meet Him will be, "Peace." And He has prepared for them a noble reward.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:44

جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہو گا اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن مومن لوگ اللہ سے ملیں گے اس دن ان کا استقبال سلام سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت انعام تیار کر رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن وہ (مومِن) اس سے ملاقات کریں گے تو ان (کی ملاقات) کا تحفہ سلام ہوگا، اور اس نے ان کے لئے بڑی عظمت والا اجر تیار کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کی دعا، جس دن وہ اس سے ملیں گے، سلام ہوگی اور اس نے ان کے لیے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن وہ اللہ سے ملیں گے ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور اس نے ان کے لئے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کی تحیت، جس دن وہ اس سے ملیں گے، سلام ہوگی اور اس نے ان کے لئے باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور دنیا کی ان رحمتوں کے علاوہ آخرت میں بھی) جس روز وہ اس سے ملیں گے تو ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان (خوش نصیبوں) کے لئے بہت بڑا اجر (وثواب)

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز وہ اس سے ملیں گے انہیں دعا (دی جائے گی) سلام سے۔ اور اس نے ان کیلئے معزز صلہ تیار کر رکھا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

} جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا سلام ہوگی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس روز وہ ان سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ اللہ کی طرف سے سلام ہوگا اور اس نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day they meet Him they will be greeted with: “Peace.” He has prepared for them a generous reward.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their greeting, on the Day when they will meet Him, will be, :Salam . And He has prepared for them a noble reward.

— Muhammad Taqi Usmani

Their greeting, on the Day when they will meet Him, will be, :Salam . And He has prepared for them a noble reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their greeting on the Day they shall meet Him will be "Salam (Peace!)" And He has prepared for them a generous reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their salutation on the day when they shall meet Him will be: Peace. And He hath prepared for them a goodly recompense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Their greeting the Day they meet Him will be, "Peace." And He has prepared for them a noble reward.

— Saheeh International

On the day when they will be brought into the presence of their Lord, their greeting to each other will be, "Peace be with you." God has prepared an honorable reward for them.

— Muhammad Sarwar

Their salutation on the day that they meet Him shall be, Peace, and He has prepared for them an honourable reward.

— Muhammad Habib Shakir

Their greeting on the Day whereon they meet Him will be: peace. And He hath gotten ready for them a generous hire.

— Abdul Majid Daryabadi

Their salutation on the Day they meet Him will be "Peace!"; and He has prepared for them a generous Reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 80 اصل الفاظ ہیں تَحِیَّتُھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہ سَلٰمٗ " ان کا تحیہ اس سے ملاقات کے روز سلام ہوگا۔ " اس کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود السلام علیکم کے ساتھ ان کا استقبال فرمائے گا، جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا کہ سلاَمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ (آیت 58)۔ دوسرے یہ کہ ملائکہ ان کو سلام کریں گے، جیسے سورة نحل میں ارشاد ہوا اَلَّذِیْنَ تَتْوَفّٰھُمُ الْمَلٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، " جن لوگوں کی روحیں ملائکہ اس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاکیزہ لوگ تھے، ان سے وہ کہی گے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) تحیتہم یوم یلقونہ سلام، یہ اسی صلوٰة کی توضیح و تفسیر ہے جو اللہ کی طرف سے مومن بندوں پر ہوتی ہے، یعنی جس روز یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو اس کی طرف سے ان کا اعزازی خطاب سلام سے کیا جائے گا یعنی السلام علیکم کہا جائے گا۔ اللہ سے ملنے کا دن کون سا ہوگا ؟ امام راغب وغیرہ نے فرمایا کہ مراد اس سے روز قیامت ہے، اور بعض آئمہ تفسیر نے فرمایا کہ جنت میں داخلہ کا وقت مراد ہے، جہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام پہنچے گا اور سب فرشتے بھی سلام کریں گے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اللہ سے ملنے کا دن موت کا دن قرار دیا ہے کہ وہ دن سارے عالم سے چھوٹ کر صرف ایک اللہ کے سامنے حاضری کا دن ہے، جیسا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تحپتھم یوم یلقونہ سلم و واعڈ لھم اجرا کریما (44) اوپر کی آیت میں اس رحمت و برکت کا ذکر ہے جو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بایمان بندوں پر نازل ہوتی ہے۔ اس آیت میں اس سلام و پیغام کا ذکر ہے جو آخرت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے بایمان بندوں کے پاس آئے گا۔ فرمایا کہ ان کا خیر مقدم، جس دن وہ اس سے (اپنے رب سے) ملیں گے، سلام سے ہوگا اور اللہ نے ان کے لئے نہایت باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے۔ لفظ تعیۃ یہاں اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے اور اس کا صحیح مفہوم خیر مقدم ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام آئے گا اور فرشتے بھی ان کا خیر مقدم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

44۔ 1 یعنی جنت میں فرشتے اہل ایمان کو یا مومن آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–48

35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–44

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اللہ ان پر سلام بھیجے گا اور فرشتے سلام کرتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے۔ اور مومنین کی آپس میں بھی یہ ہی دعا ہوگی جیسا کہ دنیا میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 44 { تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌج وَاَعَدَّ لَہُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا } ”جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا ”سلام“ ہوگی ‘ اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 اس سلام کی بھی تین صورتیں ہیں اور تینوں ہی قرآن کی بعض دوسری آیات سے ثابت ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود انھیں سلام کہے گا، دوسرے یہ کہ فرشتے انھیں سلام کہیں گے اور تیسرے یہ کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

97۔ اللہ اپنے بندوں کو خود سلام کرے، جنت میں مومنین کے اعزاز واکرام کی یہ انتہا ہوگی ! وتحیۃ اللہ لھم یقول لل مومنین السلام علیکم مرحبا بعبادی الذین ارضونی (بحر) یہی سلام اہل جنت کا آپس میں اور فرشتوں کی طرف سے بھی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما . جس روز وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کا دعائیہ کلمہ السلام علیکم ہو گا اور اللہ نے ان کیلئے (جنت میں) عمدہ صلہ تیار کر رکھا ہے۔ تَحِیَّتُھُمْ یعنی اللہ کی طرف سے جو تحیت ان کو کی جائے گی۔ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے یعنی مرنے کے وقت ‘ یا قبر سے نکلنے کے وقت ‘ یا جنت میں داخلہ کے وقت ‘ یا دیدار خداوندی ہونے کے وقت۔ سَلٰمٌ یعنی اللہ کی طرف سے بطور تحیت ان کو سلام کیا جائے گا اور اللہ ان کو تمام ناگوار باتوں سے امن و سلامتی میں رکھے گا۔ اَجْرًا کَرِیْمًا یعنی جنت یا اللہ کا دیدار اور اس کی خوشنودی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور مومنین جس روز اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کو جو اسلام ہوگا وہ یہ ہوگا السلام علیکم اور فرشتے ان کو جنت کے دروازوں پر سلام کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں عمدہ صلہ تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ : یعنی جس دن اللہ تعالیٰ سے ان کی ملاقات ہوگی اللہ تعالیٰ انھیں سلام کہے گا، جیسا کہ فرمایا : (سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ) [ یٰسٓ : 58 ] ”سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بیحد مہربان ہے۔“ فرشتے انھیں سلام کہیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ) [ الرعد : 23، 24 ] ”اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔ سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔“ اور ایک دوسرے کے لیے ان کی دعا بھی سلام ہوگی، جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت یلقونہ کی ضمیر جس اسم کی طرف لوٹ رہی ہے اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں پر رحم فرمانے والا ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ اس دن وہ اس سے ملاقات کریں گے۔ آیت تحیتھم بعض کا بعض کے لیے سلام ہوگا۔ سلام یعنی ہماری اور تمہاری اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلام ہوگا۔ معنی ہے : اللہ تعالیٰ انہیں آفات سے محفوظ رکھے گا یا مختلف قسم کے خوفوں سے امن کی بشارت دے گا۔ آیت یوم یلقونہ قیامت کے روز جنت میں دخل ہونے کے بعد وہ اس سے ملاقات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت تحیتہم یوم یلقونہ سلم ان کا تھفہ سلام ہوگا جس دن وہ ملاقات کریں یعنی جنت والوں کا تحیہ سلام ہوگا آیت واعد لہم اجرا کریما اور ان کے لیے عمدہ اجر تیار کر رکھا ہے۔ یعنی جنت۔ ملک الموت کا سلام 2۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن ابی الدنیا فی زذکر الموت وعبد بن حمید وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ آیت واعدلہم اجرا کریما یعن جس دن وہ ملک الموت سے ملیں گے اور کوئی مومن ایسا نہیں ہے کہ جب اس کی روح قبض کرتے ہیں تو اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَحِيَّتُهُمْ [ان کی دعا ] يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ [جس دن وہ ملیں گے اس سے ] سَلٰمٌ ڻ [سلام ہوگی ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [اور اس نے تیار کیا ان کے لئے ] اَجْرًا كَرِيْمًا [ایک باعزت اجر ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چوتھی آیت میں فرمایا (تَحِیَّتُھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌ) (جس دن اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحیہ سلام ہوگا) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلام بھیجا جائے گا۔ کما قال فی یٰسین (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ) اور فرشتے بھی ان پر داخل ہوں گے اور ان پر سلام پیش کریں گے۔ کما فی سورة الرعد (وَالْمَلآءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے روح قبض ہونے کے وقت کا تحیہ مراد ہے کیونکہ جب فرشتہ مومن بندہ کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ) کہہ کر خطاب کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔ تحیتہم الخ، جس طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں مومنوں پر مہربان ہے اسی طرح آخرت میں بھی مومنوں پر مہربان ہوگا اور قیامت کے دن اللہ کے حکم سے فرشتے اسکا استقبال کریں گے اور عذاب جہنم سے ان کو امن و سلامتی کی خوشخبری سنائی گے اور وہ اللہ کی طرف سے بہت عمدہ صلہ پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے نکاح سے متعلق فرمایا کہ کسی مومن مرد و زن کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی منشاء کے خلاف اپنی مرضی چلانے ، پھر اللہ تعالیٰ نے زید ؓ پر کئے گئے انعامات کا ذکر کیا۔ پھر حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کے درمیان طلاق اور حضور ﷺ کے ساتھ حضرت زینب ؓ کے نکاح کا ذکر کیا۔ پھر اللہ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ اس ضمن میں مخالفین کے پراپیگنڈا کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ نکاح ہم نے خود کرایا ہے تاک اہل ایمان ر یہ مسئلہ واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح بالکل درست ہے فرمایا یہ دستور سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے اور اللہ نے اپنے انبیاء کے لئے جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَحِيَّتُہُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌ۝ 0ۖۚ وَاَعَدَّ لَہُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا۝ 44 تحیۃ وقوله عزّ وجلّ : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها أَوْ رُدُّوها [ النساء/ 86] ، وقوله تعالی: فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النور/ 61] ، فَالتَّحِيَّة أن يقال : حيّاک الله، أي : جعل لک حياة، وذلک إخبار، ثم يجعل دعاء . ويقال : حَيَّا فلان فلانا تَحِيَّة إذا قال له ذلك، وأصل التّحيّة من الحیاة، ثمّ جعل ذلک دعاء تحيّة، لکون جمیعه غير خارج عن حصول الحیاة، أو سبب حياة إمّا في الدّنيا، وأمّا في الآخرة، ومنه «التّحيّات لله» «1»…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–48

ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَحِیَّـتُـھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَـہٗ سَلٰـمٌ صلے ج وَاَعَدَّلَھُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا۔ (الاحزاب : 44) (ان کا خیرمقدم جس دن وہ اس سے ملیں گے سلام سے ہوگا، اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے۔ ) آخرت میں اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سلام و پیغام دنیا میں تو اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور فرشتے ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ کے اہل ایمان بندے جب وہاں پہنچیں گے تو ان کا خیرمقدم اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے سلام سے ہوگا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں سلام پہنچے گا۔ اور یہ ایک ایسا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–44

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کا ذکر لازم ہے اور اس کے بیشمار فوائد ہیں جن میں سے چھ کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ َ أَنَّ رَسُول اللَّہِ قَالَ إِنَّ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَلاَءِکَۃً فُضُلاً یَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ یَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّکْرِ فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلاَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ حَتَّی یَبْلُغُوا الْعَرْشَ فَیَقُول اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ مِنْ أَیْنَ جِءْتُمْ فَیَقُولُونَ مِنْ عِنْدِ عَبِیدٍ لَکَ یَسْأَلُونَکَ الْجَنَّۃَ وَیَتَعَوَّذُونَ بِکَ مِنَ النَّارِ وَیَسْتَغْفِرُونَکَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

44: تَحِیَّتُہُمْ (ان کا سلام) یہ اضافت مصدرالیٰ المفعول کی قسم میں سے ہے۔ ای تحیۃ اللہ لکم۔ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ (جس دن وہ اس کو ملیں گے) اس کو دیکھیں گے۔ سَلٰمٌ (اللہ تعالیٰ السلام علیکم فرمائیں گے) وَاَعَدَّلَھُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اجر کریم تیار کر رکھا ہے) اجر کریم یعنی جنت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 44۔ ، تحیتھم ، مؤ منین کا سلام۔ ، یوم یلقونہ، جس دن وہ اللہ کو دیکھیں گے، یہ ہوگا۔ ، سلام ، اللہ کی طرف سے بطور تحیہ ان کو سلام کیا جائے گا اور اللہ ان کو تمام ناگوارباتوں سے امن و سلامتی میں رکھے گا۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں، تحیتھم یوم یلقونہ ، جس وقت ان سے ملک الموت ملے گا وہ کسی مؤمن کی روح اس وقت تک قبض نہیں کرتے جب تک اس پر سلام نہ بھیج دیں ۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جب ملک الموت مؤمن کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو کہتا ہے، ان ربک یقرئک السلام ، کہ تمہارے رب نے تجھے سلام بھیجا ہے۔ بعض نے کہا کہ ملک الموت یہ کہتا ہے کہ تجھے فرشتے سلام بھیجتے ہیں اور قبروں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41 تا 43۔ اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کی یاد کثرت سے کرنے کا اور تسبیح و تہلیل کا ذکر تھا اس لیے اس کے ساتھ ہی آیت کے دوسرے ٹکڑے میں یاد الٰہی کے فائدہ کا ذکر فرمایا بڑا فائدہ ذکر الٰہی کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذکرونی اذکرکم صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے (2 ؎ مشکوۃ 196 باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ۔ ) جو شخص مجھ کو تنہائی میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو تنہائی میں یاد کروں گا اور جو شخص مجھ کو آدمیوں کی جماعت میں یاد کرے گا تو میں اس کو فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا جو آدمیوں کی جماعت سے بہتر ہے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 44 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل وتحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ اور مناسب یہی ہے کہ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–45

جنت میں سلامتی کی دعائیں قول باری ہے (تحیتھم یوم یلقونہ سلام۔ جس روز وہ اس سے ملیں گے انہیں لفظ سلام سے دعا دی جائے گی) قتادہ کا قول ہے کہ اہل جنت کی تحیت اسلام ہے ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کی مثال یہ قول باری ہے (دعواھم فیھا سبحانک اللھم وتحیتھم فیھا سلام۔ ان (باغات) میں ان کا قول ہوگا پاک ہے تو اے اللہ ! اور ان میں ان کی باہمی دعا ” سلام “ ہوگی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

83 اہل ایمان کے اکرام و اعزاز کی بشارت و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز وہ اس سے ملیں گے تو ان کا استقبال سلام سے ہوگا "۔ سو ان خوش نصیبوں کو اس روز اس ربِّ رحیم کی طرف سے بھی سلام ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَلامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رِّحِیْمً } ۔ (یٰٰس ٓنمبر : 58) اور اس کے نوری فرشتوں کی طرف سے بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَلامٌ عَلَیْکُمْ ادْخُلُوْا الْجَنَّۃٖ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ۔ (النحل : آیت نمبر 32) ۔ اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { تَحِیُّتُہُمْ فِیْہَا سَلامٌ } ۔ (یونس :10) ۔ پس اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–48

اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 43–44

ف 4 مراد ہے موت کا دن یا قبروں سے اٹھنے کا دن یا جنت میں داخل ہونے کا دن (قرطبی)5 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلام بھیجا جائے گا۔ ( دیکھئے یٰسین آیت 58) یا فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ ( سورة نحل آیت 32) یا جنتی ایک دوسرے کو سلام کرینگے (یونس آیت : 10)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:44) تجیتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا سلام ، ان کی دعائے خیر، ان کی دعائے زندگی۔ یہ حیاۃ سے ماخوذ ہے حی یحی تحیۃ (باب تفعیل) مصدر۔ سلام کہنا، دعائے حیات کرنا۔ قرآن مجید میں ہے واذا جاؤک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ (58 :8) اور وہ جب آپ کے پاس آتے ہیں آپ کو ایسے الفاظ میں سلام کرتے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ تحیۃ کے معنی کسی حیاک اللہ کہنے کے ہیں یعنی اللہ تجھے زندہ رکھے۔ حیاک اللہ اصل میں جملہ خبریہ ہے لیکن دعا کے طور پر استعمال ہوتا ہے لہٰذا تحیۃ کے معنی دعائے حیات کے ہوئے پھر ہر دعا کے لئے آنے لگا اور سلام کے معنی دینے لگا۔ اس کی جمع تحیات وتحایا (سلام و تعظیم) ہے۔ یوم۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 44 اذکروا : یاد کرو سبحوا : تسبیح کرو۔ پاکیزگی بیان کرو بکرۃ : صبح اصیل : شام یصلی : وہ رحمتیں بھیجتا ہے تحیت : دعا اجر کریم : بڑا عزت والا اجر تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوتے ہی کفار و مشرکین اور منا فقین نے ہر طرف زبر دست ہنگامہ کھڑا کردیا۔ انہوں نے اپنی تیز زبانوں سے ا اس طرح پر پیگنڈہ کیا تا کہ اہل ایمان کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! کفار و مشرکین جس طرح اسلام اور نبی کریم ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں تم پنے عمل سے اس کا جواب اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–44

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے مسلمانو، دل سے زبان سے ہاتھ پیروں سے ذکرالٰہی میں لگے رہو اور نمازوں میں صبح اور عصر کی نماز کا بڑاخیال رکھو کہ صبح کی نماز کا وقت غفلت کا وقت ہے اور عصر کی نماز کا وقت کام کاج کا ہوتا ہے آگے فرمایا کہ جو لوگ ذکرالٰہی میں اور نماز صبح اور شام کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعاء خیر کی برکت سے وہ گمراہی کے اندھیروں سے راہ راست کے اجالے میں رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر مہربان ہے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو دنیا میں راہ راست پر رکھے گا اور عقبی میں اس کے اجر میں ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں یہ لوگ خوشی سے آپس میں سلام علیک کریں گے، جس سلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–44

[47] بندوں پر اللہ کے درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے اور فرشتوں کے درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–45

عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے 1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

44۔ جس دن مسلمان اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے تو اس کی طرف سے السلام علیکم کا تحفہ اور دعا عطا کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے با عزت صلہ اور اجر تیار کر رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ ان پر سلام بھیجے گا اور آپس میں بھی یہی دعا ہے اور ہوگی ۔ 12 یعنی قیامت میں جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے یا مرتے وقت جب ملک الموت کے ہمراہ فرشتے سلام کرتے ہیں یا قبر سے اٹھتے وقت فرشتے سلامتی کا پیام اور بشارت دیں گے یا آپس میں دخول جنت کے بعد السلام علیکم کہتے ہوں گے۔ مفسرین کے کئی قول ہیں راجح وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے مؤمنین کیلئے سلام کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–45

ف 1۔ اس کا رحمت بھیجنا تو رحمت کرنا ہے، اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر خوش آمدید پیش کی جائے گی جب وہ اس سے ملاقات کریں گے 44 ۔ اخروی انعامات میں سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوجائے کیونکہ یہی سب کامیابیوں سے بڑی کامیابی ہے اور پھر جب وہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی بارگاہ میں پیش ہوں تو ان کی پذیرائی ” سلامت رہو “ کے خطاب سے کی جائے گی اور بلا شبہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو نصیب فرمائے ، میدان حشر میں بھی دن قیامت کے بھی اور جنت میں داخلہ کے وقت بھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موت کے دن بھی جب انسان کی روح رب کریم کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔ غور کرو کہ ” السلام علیکم “ کا جملہ اپنے اندر کتنی وسعت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has stated that Salah from Allah is blessing, from angels it is prayer for forgiveness and from humans it is supplication. The word Salah carries all the three meanings. تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ (Their greeting, the Day they will meet Him, will be, "Salam" - 33:44). This is the explanation of the Salah that is sent to believers from-Allah. It means that the day they would meet Allah, they will be respectfully addressed by Him with the word, 'Salami i.e. (Assalamu ` alaykum) . The day of meeting Allah according to Imam Raghib, would be the Doomsday;…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

80 This can have three meanings: (1) That Allah will Himself receive them with: Peace be upon you," as has been stated in Surah Ya Sin :58: "...they have been greeted with 'peace' from the Merciful Lord." (2) That the angels will greet them, as stated in Surah An-Nahl: 32: "This is the reward for those pious people whose souls are received in a pure state, by the angels, who welcome them, saying: 'Peace be upon you: enter into Paradise as the reward of your good deeds." (3) That they will greet one another among themselves, as stated in Surah Yunus:10 thus: `Therein their prayer will be…

Read the full tafseer →