Explained with ayahs 41–44
بہترین دعا۔
بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 79
اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ کفار و منافقین کی ساری جلن اور کڑھن اس رحمت ہی کی وجہ سے ہے جو اللہ کے اس رسول کی بدولت تمہارے اوپر ہوئی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے ایمان کی دولت تمہیں نصیب ہوئی، کفر و جاہلیت کی تاریکیوں سے نکل کر تم اسلام کی روشنی میں آئے۔ اور تمہارے اندر یہ بلند اخلاقی و اجتماعی اوصاف پیدا ہوئے جن کے باعث تم علانیہ دوسروں سے برتر نظر آتے ہو۔ اسی کا غصہ ہے جو حاسد لوگ اللہ کے رسول پر نکال رہے ہیں۔ اس حالت میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کر بیٹھنا جس سے تم خدا کی اس رحمت سے محرم ہوجاؤ۔
صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے صلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے حق…
Read the full tafseer →(آیت) ہو الذین یصلی علیکم وملئکة، یعنی جب تم ذکر اللہ کی کثرت کے عادی ہوگئے اور صبح و شام کی تسبیح پر مداومت کرنے لگے تو اس کا اعزازو اکرام اللہ کے نزدیک یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعا کریں گے۔
آیت مذکورہ میں لفظ صلوٰة اللہ تعالیٰ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور فرشتوں کے لئے بھی، لیکن مصداق صلوٰة کا الگ الگ ہے۔ اللہ کی صلوٰة تو یہ ہے کہ وہ رحمت نازل فرمائے، اور فرشتے خود تو کسی کام پر قادر نہیں ان کی صلوٰة یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نزول رحمت کی دعا مانگیں۔
اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صلوٰة اللہ کی طرف سے رحمت ہے اور فرشتوں کی طرف سے…
Read the full tafseer →ھو الذی یصلی علیکم و ملئکتہ لیخرجکم من الظلمنت الی النور وکان بالمومنین رحیما (43)
یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی برکت بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے بایمان بندوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ بھی برابر اہل ایمان پر حمت کے لئے دعا کرتے رہے ہیں۔ لیخرجکم من الظلمب الی النور، یہ اس رحمت کی برکت بیان ہوئی ہے کہ یہ اسی کا فیض ہے کہ وہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ یہاں تاریکی سے مراد ظاہر ہے کہ عقائد و اعمال کی تاریکی اور روشنی سے مراد ہدایت و شریعت کی روشنی ہے۔ ’ وکان بالمومنین رحیما ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ اپنے بایمان بندوں پر نہایت مہربان ہے۔
’ یصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) اس لیے وہ زید بن حارثہ ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انھیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انھیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب :5) کے نزول کے بعد انھیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44)
اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ کو بکثرت یاد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنی رحمت تم پر نازل کرتا ہے جو فرشتوں کے توسط سے آتی ہے۔ یہ ہی رحمت و برکت ہے جو تمہارا ہاتھ پکڑ کر جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے علم وتقویٰ کے اجالے میں لاتی ہے۔ اگر اللہ کی خاص مہربانی ایمان والوں پر نہ ہو تو دولت ایمان کہاں سے ملے اور کیونکر محفوظ رہے۔ اسی کی مہربانی سے مومنین رشد و ہدایت اور ایمان و احسان کی راہوں میں ترقی کرتے ہیں۔ یہ تو دنیا میں ان کا حال ہوا، آخرت کا اعزاو اکرام آگے مذکور ہے۔
Read the full tafseer →آیت 43 { ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی ‘ تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔“
یہاں پر اہل ایمان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہونے کے حوالے سے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو اسی سورت کی آیت 56 میں نبی اکرم ﷺ کے لیے آئے ہیں۔ وہاں فرمایا گیا : { اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ } ”یقینا اللہ اور اس کے فرشتے رحمتیں بھیجتے ہیں نبی ﷺ پر“۔ بہر حال یہ آیت مومنین کے حق میں ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ کی رحمتوں اور عنایتوں میں سے ہر اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →69 صحابہ کرام ؓ پر صلوٰۃ وسلام :۔ یصلی کا صلہ علیٰ اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی اللہ کا بندے پر اپنی مہربانی اور رحمت نازل کرنا ہوتا ہے اور اگر یہ نسبت فرشتوں کی طرف ہو تو دعائے رحمت کرنا اور اگر بندے کی طرف ہو تو اس کے معنی دعائے رحمت بھی، دعائے جنازہ بھی اور نماز جنازہ بھی اور درود پڑھنا اور بھیجنا بھی ہوتا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر 56 میں مذکور ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت اور دعائے رحمت بھیجتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ کرام ؓ اور پیروکاروں کو بھی اس فضل و رحمت میں شریک فرمایا۔
70 یعنی اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنے کے نتیجہ میں اللہ تم پر اپنی…
Read the full tafseer →95۔ (اسی کے حکم سے) اللہ کا رحمت بھیجنا تو ظاہر ہی ہے۔ فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔
96۔ (کہ اللہ کی رحمت اور ملائکہ کی دعاء کی برکت سے یہ نعمت تمہیں برابر حاصل ہوتی رہے) (آیت) ” الظلمت “۔ سے مراد جہل وضلالت کی تاریکیاں ہیں۔ (آیت) ” النور “۔ سے مراد علم وہدایت کا نور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →ھو الذی یصلی علیکم وملئکتہ . وہ (خود بھی) اور اس کے فرشتے (بھی) تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے : اللہ کی طرف سے صلوٰۃ کا معنی ہے رحمت اور ملائکہ کی صلوٰۃ کا معنی ہے دعاء مغفرت۔ بعض کے نزدیک اللہ کی بندہ پر صلوٰۃ کا معنی ہے بندہ کے ذکر خیر کو لوگوں میں پھیلانا۔ بعض نے کہا : اللہ کی طرف سے بندہ کی ثناہ ہونا صلوٰۃ اللہ ہے۔
قاموس میں ہے : صلوٰۃ (کا معنی ہے) دعائے رحمت ‘ استغفار ‘ اللہ کی طرف سے رسول کی اچھی تعریف۔ وہ عبادت جس میں رکوع اور سجود بھی ہوتا ہے ‘ صاحب قاموس نے اس عبارت کا تقاضا کیا ہے کہ لفظ صلوٰۃ چند معانی میں مشترک ہے ‘ پس جو اہل ادب عموم مشترک جائز قرار دیتے ہیں اور…
Read the full tafseer →وہ ایسا ہے کہ تمہاری مغفرت فرما رہتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور وہ تمہیں کفر سے ایمان کی روشنی کی طرف لے آیا ہے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے۔
شان نزول : هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ (الخ)
عبد بن حمید نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جس وقت ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی (الخ) یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی آپ پر خیر اور اچھائی کی بات نازل کی ہے اس میں ہمیں شریک کیا ہے (اور اس قیام پر شریک نہیں کیا) تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ۔۔ : صلاۃ کا معنی رحمت بھی ہے، ذکر خیر بھی اور دعا بھی۔ صحیح بخاری میں ابو العالیہ سے نقل ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی صلاۃ کا مطلب اس کا فرشتوں کے پاس تعریف کرنا ہے اور فرشتوں کی صلاۃ کا مطلب دعا کرنا ہے۔“ قاموس میں ہے : ”اَلصَّلَاۃُ الدُّعَاءُ وَالرَّحْمَۃُ وَالْإِسْتِغْفَارُ وَ حَسَنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللّٰہِ عزَّ وَجَلَّ عَلٰی رَسُوْلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ عِبَادَۃٌ فِیْھَا رُکُوْعٌ وَ سُجُوْدٌ، اسْمٌ یُوْضَعُ مَوْضِعَ الْمَصْدَرِ“ ”صلاۃ سے مراد دعا، رحمت، استغفار، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے رسول ﷺ کی تعریف اور رکوع و سجود والی…
Read the full tafseer →آیت ھو الذی یصلی علیکم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب یہ آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی نازل ہوئی تو مہاجرین اور انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو خا ص آپ ﷺ کے لیے ہے۔ اس میں ہمارے لیے تو کچھ بھی نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔
میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ اس امت پر سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام دوسری امتوں پر فضیلت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت کنتم خیر امۃ اخرجت لناس ( آل عمران : 110) اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندے کے لیے صلوۃ یہ اس کی رحمت اور اس کے ہاں برکت ہے۔ ملئ کہ کی صلوۃ مومنوں کے لیے دعا اور ان کے لیے استغفار ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب آیت ان اللہ وملئ کہ یصلون علی النبی نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو بھی خیر نازل فرمائی تو ہم اس میں شریک ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ یعنی وہ خود بھی اور اس کے فرشتے بھی تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔
فرشتوں کو مومنین کے حق میں دعا
2۔ الحاکم والبیہقی نے دلائل میں سلیم بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابو امامہ ؓ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی نیند میں دیکھا ہے کہ فرشتے آپ پر رحمت کی دعا کرتے ہیں جب بھی آپ داخل…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ [وہ، وہ ہے جو ] يُصَلِّيْ [شفقت کرتا ہے ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ [اور اس کے فرشتے (دعا کرتے ہیں)] لِيُخْرِجَكُمْ [تاکہ وہ نکالے تم لوگوں کو ] مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ [اندھیروں سے نور کی طرف ] وَكَانَ [اور وہ ہے ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں پر ] رَحِيْمًا [رحم کرنے والا ] ۔
Read the full tafseer →مسموع نہیں بجز اس کے کہ عقل و حواس ہی نہ رہیں اور بےہوش ہوجائے۔
تیسری آیت میں یہ فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓءِکَتُہٗ ) کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے استغفار کرتے ہیں) اس میں جو لفظ یُصَلِّیْ وارد ہوا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور فرشتوں کی طرف بھی حضرات اکابر علماء نے فرمایا ہے کہ صلوٰۃ کی نسبت جو اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس سے رحمت مراد ہے، یعنی اے مومنو ! اللہ تم پر رحمت بھیجتا ہے۔ اور فرشتوں کی طرف جو صلوٰۃ کی نسبت ہے اس سے استغفار مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے تمہارے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں (کما فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین
وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم
قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…
Read the full tafseer →44:۔ ھو الذی الخ، اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت مہربان ہے اور مسلسل ان پر رحمت نازل فرماتا ہے اور انہیں گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے معمور ومنور کرتا ہے اور اللہ کے فرشتے بھی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی درخواست کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تم پر ایسا مہربان ہے تو تم بھی اسے یاد رکھو۔ اس کی اطاعت کرو اور اس کی تسبیح و تمجید میں مصروف رہو۔ تو وہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے نکاح سے متعلق فرمایا کہ کسی مومن مرد و زن کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی منشاء کے خلاف اپنی مرضی چلانے ، پھر اللہ تعالیٰ نے زید ؓ پر کئے گئے انعامات کا ذکر کیا۔
پھر حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کے درمیان طلاق اور حضور ﷺ کے ساتھ حضرت زینب ؓ کے نکاح کا ذکر کیا۔ پھر اللہ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ اس ضمن میں مخالفین کے پراپیگنڈا کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ نکاح ہم نے خود کرایا ہے تاک اہل ایمان ر یہ مسئلہ واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح بالکل درست ہے فرمایا یہ دستور سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے اور اللہ نے اپنے انبیاء کے لئے جو…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُہٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ 0 ۭ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا 43
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا۔ (الاحزاب : 43)
(وہی ہے جو تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔ )
صلوٰۃ کا مفہوم
یُصَلِّیْ … صلوٰۃ سے ہے۔ یہ ایسا لفظ ہے جس کی نسبت بدل جانے سے معنی بدل جاتا ہے۔ یہ لفظ جب عَلٰی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے۔ اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے رحمت نازل کرنا، اور مہربانی اور شفقت فرمانا۔ اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کا ذکر لازم ہے اور اس کے بیشمار فوائد ہیں جن میں سے چھ کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ َ أَنَّ رَسُول اللَّہِ قَالَ إِنَّ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَلاَءِکَۃً فُضُلاً یَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ یَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّکْرِ فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلاَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ حَتَّی یَبْلُغُوا الْعَرْشَ فَیَقُول اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ مِنْ أَیْنَ جِءْتُمْ فَیَقُولُونَ مِنْ عِنْدِ عَبِیدٍ لَکَ یَسْأَلُونَکَ الْجَنَّۃَ وَیَتَعَوَّذُونَ بِکَ مِنَ النَّارِ وَیَسْتَغْفِرُونَکَ…
Read the full tafseer →صلوٰۃ کا مطلب :
43: ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عََلَیْکُمْ وَمَلٰٓپکَتُہٗ (وہ وہی ذات ہے جو کہ تم پر رحمتیں بھیجتی ہے اور اس کے فرشتے) مصلی کی جب یہ حالت ہے کہ وہ اپنے رکوع اور سجدہ میں متوجہ ہوا ہے۔ تو دوسرے پر شفقت و نرمی کے ساتھ متوجہ ہونے والے کیلئے بطور استعارہ استعمال ہونے لگا۔ جیسا کہ مریض کی عیادت کرنے والا مریض پر شفقت میں اور عورت اپنے بیٹے پر شفقت کرتی ہے پھر اس کا استعمال کثرت سے رحمت و مہربانی میں ہونے لگا اور اسی معنی میں عرب کا یہ قول ہے : صلی اللہ علیک یعنی تم پر رحم فرمائے اور مہربانی فرمائے۔
صلاۃِؔ ملائکہ :
سے مراد ملائکہ کا یہ قول ہے : اللھم صل علی المؤمنین کیونکہ وہ مستجاب…
Read the full tafseer →43۔ ، ھو الذی یصلی علیکم وملائکتہ، کی صلوۃ کی نسبت اگر اللہ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور صلوۃ کی نسبت اگر فرشتوں کی طرف کردی جائے تو اس سے مراد استغفار ہوتا ہے مؤمنین کے لیے ۔ سدی کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا ہمارا ر ب صلوۃ کرتا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ سوال بہت شاق گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی، ان سے کہہ دو کہ میں صلوۃ کرتا ہوں مگر میری صلوۃ بمعنی رحمت ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ کی بندے پر صلوۃ کا معنی ہے بندے کے ذکر خیر کو لوگوں میں پھیلانا۔ بعض نے کہا کہ اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41 تا 43۔ اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کی یاد کثرت سے کرنے کا اور تسبیح و تہلیل کا ذکر تھا اس لیے اس کے ساتھ ہی آیت کے دوسرے ٹکڑے میں یاد الٰہی کے فائدہ کا ذکر فرمایا بڑا فائدہ ذکر الٰہی کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذکرونی اذکرکم صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے (2 ؎ مشکوۃ 196 باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ۔ ) جو شخص مجھ کو تنہائی میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو تنہائی میں یاد کروں گا اور جو شخص مجھ کو آدمیوں کی جماعت میں یاد کرے گا تو میں اس کو فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا جو آدمیوں کی جماعت سے بہتر ہے اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40
نہیں ہیں رسول اللہ (محمد) حضرت محمد ﷺ (ابا احد من رجالکم) ” تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ “ اس سے آپ ﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہ کا انتساب منقطع ہوگیا۔
جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر معمول کیا جائے، یعنی آپ ﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بٹے کے باپ ہیں جب کہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرتا مومنوں کی مائیں ہیں، اس لئے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو، چناچہ فرمایا : (ولکن رسول اللہ وخاتم النبین) ” بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔…
Read the full tafseer →خدا کی صلوٰۃ کیا ہے ؟
قول باری ہے (ھوالذی یصلی علیکم وملا ئکتہ۔ وہ ایسا کہ وہ خود اور اس کے فرشتے تمہارے اوپر رحمت بھیجتے رہتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ کے معنی رحمت کے ہیں اور بندوں کی طرف سے صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں۔ اعشی کا شعر ہے۔
علیک مثل الذی صلیت فاغمضی
نوما فان لجنب المرء مضطجعا
تجھ پر بھی اس جیسی دعائیں اتریں جو تونے بھیجی ہیں اب نیند میں اپنی آنکھیں بند کرلے اور سوجا کیونکہ انسان کے پہلو کے لئے لیٹنے کی جگہ ہوتی ہے۔
معمر نے حسن سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا تھا کہ آیا تمہارا رب نماز پڑھتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →80 ذکر خداوندی نزول رحمت کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی "۔ یعنی وہ رحمت کی دعا کرتے ہیں ۔ اَی بالدُّعَائِ والاسْتِغْفَارِ- (جامع، صفوہ وغیرہ) ۔ اور فعل کی نسبت کے بدلنے سے اس کے معنیٰ کی تبدیلی ایک مشہور و معروف اصول و ضابطہ ہے۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ یاد کرنے کی برکت اور اس کے اثر و نتیجہ کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس سے تم کو اس کی رحمتیں نصیب ہوتی ہیں اور اس کے فرشتوں کی دعائیں بھی۔ اور اسی کی بنا پر وہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ سو ذکر الہی اور یاد خداوندی سے انسان کا تعلق اپنے خالق ومالک اور عالم بالا سے قائم ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت
تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52
اسرارومعارف
ذکر اللہ کی تاکید :
اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 4 مراد ہے موت کا دن یا قبروں سے اٹھنے کا دن یا جنت میں داخل ہونے کا دن (قرطبی)5 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلام بھیجا جائے گا۔ ( دیکھئے یٰسین آیت 58) یا فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ ( سورة نحل آیت 32) یا جنتی ایک دوسرے کو سلام کرینگے (یونس آیت : 10)
Read the full tafseer →(33:43) ھو الذی یصلی علیکم میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے یصلی۔ صلی یصلی تصلیۃ (تفعل) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ صلو مادہ سے مشتق ہے الصلوۃ کے معنی دعا دینے تحسین وتبریک کرنے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعا دی، نشوونمادی اور بڑھایا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے وصل علیہم ان صلوتک سکن لہم (9: 1 03) اور (اے رسول) آپ ان کے حق میں دعا کریں آپ کی دعا ان کے حق میں باعث تسکین ہے اسی طرح فرشتوں کی طرف سے صلوۃ کے معنی دعا و استغفار ہی آتے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے دعا کرنا کے معنی ہیں نشوونمادینا۔ بڑھانا۔ خیروبرکت عطا کرنا۔ چناچہ آیت شریفہ ان اللہ وملئکتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 44
اذکروا : یاد کرو
سبحوا : تسبیح کرو۔ پاکیزگی بیان کرو
بکرۃ : صبح
اصیل : شام
یصلی : وہ رحمتیں بھیجتا ہے
تحیت : دعا
اجر کریم : بڑا عزت والا اجر
تشریح : آیت نمبر 41 تا 44
نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوتے ہی کفار و مشرکین اور منا فقین نے ہر طرف زبر دست ہنگامہ کھڑا کردیا۔ انہوں نے اپنی تیز زبانوں سے ا اس طرح پر پیگنڈہ کیا تا کہ اہل ایمان کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! کفار و مشرکین جس طرح اسلام اور نبی کریم ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں تم پنے عمل سے اس کا جواب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے مسلمانو، دل سے زبان سے ہاتھ پیروں سے ذکرالٰہی میں لگے رہو اور نمازوں میں صبح اور عصر کی نماز کا بڑاخیال رکھو کہ صبح کی نماز کا وقت غفلت کا وقت ہے اور عصر کی نماز کا وقت کام کاج کا ہوتا ہے آگے فرمایا کہ جو لوگ ذکرالٰہی میں اور نماز صبح اور شام کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعاء خیر کی برکت سے وہ گمراہی کے اندھیروں سے راہ راست کے اجالے میں رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر مہربان ہے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو دنیا میں راہ راست پر رکھے گا اور عقبی میں اس کے اجر میں ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں یہ لوگ خوشی سے آپس میں سلام علیک کریں گے، جس سلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[47] بندوں پر اللہ کے درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے اور فرشتوں کے درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے
1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی…
Read the full tafseer →43۔ وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تم پر رحمت بھیجتارہتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے استغفار کیا کرتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ تم کو گناہوں کی تاریکیوں سے طاعت و فرمانبرداری کی روشنی کی جانب نکال لائے۔ اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر نہایت مہربان ہے۔ فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں مسلمانوں کیلئے یا استغفار کرتے ہیں اور ظلمات سے مراد معاصی کی تاریکیاں ہیں یا شک کی اسی مناسبت سے نور سے مراد طاعت کی روشنی ہے بالیقین کی روشنی ۔
خلاصہ۔ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مختلف تاریکیوں سے خواہ معاصی کی اندھیریاں ہوں یا شکوک و شبہات کی ہوں ان تاریکیوں سے نکاح کر طاعت اور یقین کی روشنی اور نور کی جانب لاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ف 1۔ اس کا رحمت بھیجنا تو رحمت کرنا ہے، اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی دعا میں مصروف ہیں
43 ۔ غور کرو کہ ایک ہی چیز کا جب مرجع بدلا جاتا ہے تو اس کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے اگر یہ بات لوگوں کو یاد رہے تو سارے جھگڑے ختم ہوکررہ جائیں مثلاً یہ کہ اللہ خالق ہے اور قرآن کریم نے کتنی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ اس کے سوا کوئی خالق نہیں ہے یہاں تک کہ لوگوں کو چیلنج کیا ہے کہ { ھذا…………………… دونہ } (لقمن 11:31) ” یہ سب تو اللہ کی تخلیق ہے اب ذرا مجھے دکھائو ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ “ یہ چیلنج کیوں کیا ؟ اس لئے کہ اس نے اس کی وضاحت بہت سی جگہوں پر کردی کہ { والذین……………… یخلقون } (النحل 20:16) ” اور اللہ کے سوا جن…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ (He is such that He and His angels send blessings to you. 33:43) It means that when you have become used to dhikrullah in abundance and have become regular in recounting the perfections of Allah morning and evening, Allah would honor you and respect you by bestowing His Blessings and by the angels supplicating for you.
The word 'Salah' has been used in this verse for Allah Ta’ ala as well as for the angels but the applicable meaning are different. For Allah it means His bestowing blessings, and for angels who have no volition on their own, it…
Read the full tafseer →79 This is meant to make the Muslims realize this: 'The jealousy and malice of the disbelievers and hypocrites towards you is only due to the mercy that Allah has shown you through His Messenger. It is through him that you have been blessed with the faith, that you have come out from the darkness of unbelief and ignorance into the light of Islam, that you have developed the high moral and social qualities by virtue of which you stand distinguished above others. It is this which has filled the jealous people with malice and rage against the Messenger of Allah. However, in this state you should…
Read the full tafseer →