وَّسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِیْلًا ۟وَّ سَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا
اور صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And exalt Him morning and afternoon.
— Saheeh International
Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz
وَّسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِیْلًا ۟وَّ سَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا
اور صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And exalt Him morning and afternoon.
— Saheeh International
Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab
اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو
اور صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو
اور صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان کرو
اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔
اور صبح و شام اس کی پاکی بولو
اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو،
اور اس کی تسبیح کرو، پہلے پہر اور پچھلے پہر۔
اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو
اور اس کی تسبیح کرو صبح اور شام۔
اور اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتے رہا کرو صبح و شام
اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔
and glorify Him morning and evening.
and proclaim His purity at morn and eve.
and proclaim His purity at morn and eve.
And glorify His praises morning and Asila.
And glorify Him early and late.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And exalt Him morning and afternoon.
and glorify Him both in the mornings and in the evenings.
And glorify Him morning and evening.
And hallow Him morning and evening.
And glorify Him morning and evening.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 41–44
بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 78 اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ تلقین کرنا ہے کہ جب دشمنوں کی طرف سے اللہ کے رسول پر طعن وتشنیع کی بوچھاڑ ہو رہی ہو اور دین حق کو زک پہنچانے کے لیے ذات رسول کو ہدف بنا کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا جا رہا ہو، ایسی حالت میں اہل ایمان کا کام نہ تو یہ ہے کہ ان بیہودگیوں کو اطمینان کے ساتھ سنتے رہیں، اور نہ یہ کہ خود بھی دشمنوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں، اور نہ یہ کہ جواب میں ان سے گالم گلوچ کرنے لگیں، بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ عام دنوں سے بڑھ کر اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کو اور زیادہ یاد کریں۔ " اللہ کو کثرت سے یاد کرنے " کا مفہوم 63 میں بیان کیا جا چکا ہے۔…
Read the full tafseer →(آیت) وسبحوہ بکرة واصلاً ، یعنی اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام۔ صبح و شام سے مراد یا تو تمام اوقات ہیں، یا پھر صبح و شام کی تخصیص اس لئے ہے کہ ان اوقات میں ذکر اللہ کی تاکید بھی زیادہ ہے اور برکت بھی۔ ورنہ ذکر اللہ کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
یا یھا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکر اکثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا (41۔ 42) یہ مسلمانوں کو منافقین و مفسدین کی اس محاذ آرائی کے مقابل میں ثابت قدم رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور اس کی تدبیر یہ بتائی ہے کہ ان اشرار کے غوغا سے بےپروعا ہو کر تم زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ امر واضح رہے کہ شیطان اور اس کی ذریات کے مقابل میں مومن کی اصلی سپر اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں معاندین کے مقابل میں ثابت قدمی کی تلقین کی گئی ہے وہاں نماز کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم بحث کرتے آرہے ہیں۔ (مثلا دیکھئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) اس لیے وہ زید بن حارثہ ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انھیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انھیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب :5) کے نزول کے بعد انھیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
5 یعنی حق تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان فرمایا کہ ایسے عظیم الشان پیغمبر اور پیغمبروں کے سردار محمد ﷺ کو تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا۔ اس پر اس کا شکر ادا کرو۔ اور منعم حقیقی کو کبھی نہ بھولو، اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے، رات، دن صبح و شام، ہمہ اوقات اس کو یاد رکھو۔
Read the full tafseer →آیت 42 { وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا } ”اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔“
Read the full tafseer →68 یعنی جب تمہیں پریشانیوں کا اور اعدائے اسلام کے طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے اوقات میں اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو اور صبح و شام کی نمازوں کے علاوہ بالخصوص ان اوقات میں اللہ کی تسبیح و تہلیل بھی کیا کرو۔ اس طرح تمہارے اندر ایسی پریشانیوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اور دلوں کو اطمینان نصیب ہوگا۔
Read the full tafseer →94۔ یعنی اس کے ذکر وطاعت پر دوام رکھو، بکرۃ واصیلا اشارۃ علی المداومۃ (کبیر) اے کافۃ الاوقات (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…
Read the full tafseer →وسبحودہ بکرۃ واصیلا . اور صبح و شام (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً یعنی فکر کی نماز پڑھو۔ وَّاَصِیْلاً کلبی نے کہا : یعنی ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھو۔ مجاہد نے کہا کہ تسبیح سے مراد ہے : سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھنا۔ لفظ تسبیخ سے تمام ساتھی جملے مراد ہیں (یعنی تسبیح تحمید ‘ تہلیل ‘ تکبیر وغیرہ) ان الفاظ کو باوضو ‘ بےوضو اور جنب سب پڑھیں۔ میں کہتا ہوں : اول اللہ نے عمومی ذکر کا حکم دیا کہ کسی وقت خدا کی یاد نہ بھولے ‘ پھر مخصوص اوقات میں ذکر کا حکم دیا۔ اول سے مراد ہے ذکر خفی ‘ قلبی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ جو دل اور زبان سے طاعت و معصیت کے وقت خوب یاد کرو اور صبح و شام نمازیں پڑھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ۔۔ : ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت بعض اہل علم نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تمہیں زینب ؓ کے نکاح جیسے معاملات میں منافقین اور اسلام کے دوسرے دشمنوں کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے ساتھ الجھنے یا انھیں برا بھلا کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کثرت سے کرو، اس سے تمہیں اطمینان عطا ہوگا، اسلام پر استقامت ملے گی اور فتنے کا دروازہ جلدی بند ہوگا۔ خصوصاً ”وسبحوہ“ کے مفہوم میں منافقین کی باتوں سے اپنے بری ہونے کا اظہار بھی شامل ہے، یعنی نبی ﷺ یا کسی مومن پر کسی طعن یا بہتان کا ذکر ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اس کا ذکر کریں اور اس کا شکر بجا لائیں اور ذکر کثرت سے کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام کیا اللہ تعالیٰ نے بندے کی سہولت کی خاطر اسے بغیر کسی حد کے بنایا ہے۔ اور اس لیے بھی کیونکہ اس میں اجر عظیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : اللہ کا ذکر ترک کرنے میں کوئی معذور نہیں مگر جس کا عقل مغلوب ہو (1) ۔ حضرت ابو سعید نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے : ” اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنوں ہے “ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذکر کثیر وہ ہے جو دل کے ارحمۃ اللہ علیہخلاص کے ساتھ ہو۔ اور قلیل ذکر وہ ہے جو نفاق کی صورت میں ہو…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وسبحوہ بکرۃ واصیلا سے مراد ہے صبح کی نماز اور عصر کی نماز۔ 2۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان باتوں میں سے جو اپنے رب تبارک وتعالیٰ کی طرف ذکر کی جاتی ہیں وہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے فرمایا مجھے یاد کر فجر کے بعد اور عصر کے بعدا یک ساعت کے لیے میں تیری کفالت کروں گا درمیان والے وقت میں۔ 3۔ احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھ جاؤں اور میں اس کی بڑائی بیان کروں اور اسکی تعریف بیان کروں اور اسکی پاکی بیان کروں اور لا الہ الا اللہ…
Read the full tafseer →وَّسَبِّحُــوْهُ [اور تسبیح کرو اس کی ] بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا [صبح و شام ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ایمان والوں کو ذکر اللہ کی کثرت کرنے کا حکم اور اس بات کی بشارت کہ اللہ اور اس کے فرشتے مؤمنین پر رحمت بھیجتے ہیں یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی اور دوسری آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوب زیادہ ذکر کریں اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کریں۔ مفسرین نے فرمایا کہ صبح و شام تسبیح بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صبح سے دن کی اور شام سے رات کی ابتداء ہوتی ہے اس لیے خصوصیت کے لیے لیل و نہار کے ابتدائی اوقات میں ذکر کرنے کا خصوصی حکم دیا تاکہ لیل و نہار کے باقی اوقات میں بھی ذکر کے لیے ذہن حاضر رہے اور قلب و لسان ذکر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
43:۔ یا ایہا الذی اٰمنوا الخ، یہ مومنین سے پانچواں خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! پیغمبر خدا ﷺ کے رسم جاہلیت کو توڑنے اور اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرلینے کے بارے میں اگر تمہارے دل میں کوئی شک یا بدگمانی پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح و تقدیس کرو تاکہ تمہارا یہ قصور معاف ہوجائے ذکر کثیر میں زبانی ذکر کے علاوہ ہر نیکی وطاعت بھی داخل ہے اور یہ کہ کسی حال میں اس سے غافل نہ رہو کل طاعۃ و کل خیر من جملۃ الذکر (کشاف) ۔ قال ابن عباس الذکر الکثیر ان لا ینسی رجل شانہ و روی ذلک عن مجاہد ایضا (روح ج 22 ص 42) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے نکاح سے متعلق فرمایا کہ کسی مومن مرد و زن کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی منشاء کے خلاف اپنی مرضی چلانے ، پھر اللہ تعالیٰ نے زید ؓ پر کئے گئے انعامات کا ذکر کیا۔ پھر حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کے درمیان طلاق اور حضور ﷺ کے ساتھ حضرت زینب ؓ کے نکاح کا ذکر کیا۔ پھر اللہ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ اس ضمن میں مخالفین کے پراپیگنڈا کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ نکاح ہم نے خود کرایا ہے تاک اہل ایمان ر یہ مسئلہ واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح بالکل درست ہے فرمایا یہ دستور سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے اور اللہ نے اپنے انبیاء کے لئے جو…
Read the full tafseer →وَّسَبِّحُــوْہُ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا 42 سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ…
Read the full tafseer →و سبحوہ بکرۃ واصیلا اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو۔ سبحان اللہ بحمدہ سبحان اللہ العظیم کہو۔ بری باتوں سے اس کی پاکی بیان کرو کہ وہ سب عیبوں سے پاک ہے، بعض علماء نے اس سے صبح اور عصر کی نماز مراد لی ہے، ذکرِ الٰہی اور تسبیح و تہلیل کے بہت کچھ فضائل احادیث میں آئے ہیں۔ انسان کا دنیا کی کمائی میں سے یہی بڑا حصہ ہے، پھر جس کو خدا نصیب کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُواللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الاحزاب : 41، 42) (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہے۔ ) مسلمانوں کو الزامات کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تاکید یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حضرت زینب ( رض) سے نکاح کے باعث مشرکین اور منافقین نے آنحضرت ﷺ کے خلاف محاذآرائی شروع کر رکھی تھی اور ہر طرح کی شرافت سے تہی دامن ہو کر آپ ﷺ پر الزامات کی بوچھاڑ کی جارہی تھی۔ وہ وقت مسلمانوں کے لیے جذبات کے شدید امتحان کا وقت تھا۔ مخلص مسلمان ان بےہودگیوں اور یا وہ گوئیوں کو دیکھ کر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے امّتِ محمدیہ کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ اس کو نبی کریم ﷺ جیسا عظیم الشّان، عدیم المرتبت رحمت عالم اور ختم المرسلین نبی عطا فرمایا جس پر امت کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کا تقاضا ہے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔ ذکر ایسی عبادت ہے جس کے بارے میں حکم ہوا ہے کہ اسے کثرت کے ساتھ کیا کرو۔ یہاں ذکر کے دو مخصوص اوقات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ کیونکہ صبح و شام سے ہی انسان کی زندگی بنتی ہے۔ ہر انسان ہر صبح اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے اور شام کو اس کی دن بھر کی سرگرمیوں کا اختتام ہوتا ہے اس لحاظ سے دونوں اوقات بڑے…
Read the full tafseer →42: وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً (اور اس کی تسبیح کرو صبح) بُکرۃ دن کے ابتدائی حصہ کو کہتے ہیں۔ وَّ اَصِیْلًا (اور دن کے آخر میں) کثرت ذکر کا حکم ‘ وجہ تخصیص : ان دو اوقات کو ذکر کیلئے خاص کیا کیونکہ دن رات کے فرشتے ان دو اوقات میں جمع ہوتے ہیں۔ قولِ قتادہ m : سجواکا معنی یہ ہے کہ تم سبحان اللہ، والحمد اللّٰہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھو۔ دونوں فعل اذکروا اور سبحوا اوقات بکرہ اور اصیل کی طرف متوجہ ہیں۔ جیسا کہ کہتے ہیں۔ صم و صل یوم الجمعۃ اور تسبیح یہ منجملہ اذکار میں سے ہے تمام اقسام ذکر میں سے ان دو انواع کو خاص کرنا اسی طرح ہے جیسا کہ جبرئیل و…
Read the full tafseer →42، وسبحوہ، اس کے لیے نماز پڑھو۔ ، بکرۃ ، صبح کی ، واصیلا، اور عصر کی ۔ کلبی کا بیان ہے کہ یعنی ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھو۔ مجاہد کا قول ہے کہ تسبیح سے مراد ہے ، سبحان اللہ ، والحمد للہ ، ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ، پڑھنا ۔ لفظ تسبیح تمام جملے مراد ہیں جن کو بطور تسبیح کے پڑھاجاتا ہے ۔ تسبیح تحمید تہلیل ، تکبیر وغیرہ ۔ بعض حضرات نے کہا کہ ، ذکر اکثیرا، سے مرادوہ الفاظ ہیں جن کو باو ضو بےوضو، جنبی اور محدث پڑھ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41 تا 43۔ اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کی یاد کثرت سے کرنے کا اور تسبیح و تہلیل کا ذکر تھا اس لیے اس کے ساتھ ہی آیت کے دوسرے ٹکڑے میں یاد الٰہی کے فائدہ کا ذکر فرمایا بڑا فائدہ ذکر الٰہی کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذکرونی اذکرکم صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے (2 ؎ مشکوۃ 196 باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ۔ ) جو شخص مجھ کو تنہائی میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو تنہائی میں یاد کروں گا اور جو شخص مجھ کو آدمیوں کی جماعت میں یاد کرے گا تو میں اس کو فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا جو آدمیوں کی جماعت سے بہتر ہے اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40 نہیں ہیں رسول اللہ (محمد) حضرت محمد ﷺ (ابا احد من رجالکم) ” تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ “ اس سے آپ ﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہ کا انتساب منقطع ہوگیا۔ جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر معمول کیا جائے، یعنی آپ ﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بٹے کے باپ ہیں جب کہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرتا مومنوں کی مائیں ہیں، اس لئے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو، چناچہ فرمایا : (ولکن رسول اللہ وخاتم النبین) ” بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
متبنیٰ کی بیوی سے طلاق ہونے پر نکاح ہوسکتا ہے قول باری ہے (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ توتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اور (اس وقت کو بھی یاد کیجئے) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی فضل کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کی طرف سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ سفیان بن عینیہ نے علی بن زید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا : مجھ سے علی…
Read the full tafseer →79 صبح وشام اللہ کی تسبیح کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کی تسبیح کرتے رہا کرو صبح و شام "۔ کہ صبح و شام کے ان دونوں وقتوں میں ایک طرف تو دن رات کے ادلنے بدلنے میں قدرت کے عظیم الشان مظہر سامنے آتے ہیں اور نہایت واضح ثبوت ملتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں طرح طرح سے تبدیلی فرماتا ہے مگر وہ خود نہیں بدلتا ۔ فسبحان اللّٰہِ الَّذَیْ یُغِیّرُ وَلَا یَتّغَیَّرُ ۔ اور دوسری طرف یہ دونوں وقت فرشتوں کے اجتماع و حضور کے اور بڑے مبارک وقت ہوتے ہیں۔ اور تیسری طرف شب و روز کے دونوں کناروں کے ذکر سے باقی تمام اوقات اس میں خود بخود آجاتے ہیں۔ اور یہ عموم و دوام سے کنایہ قرار پا جاتا ہے۔ (کبیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 3 یعنی اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تحلیل کرتے رہو۔ اللہ کے ذکر خصوصاً سبحان اللہ و بحمدہٖ کہنے کی فضلیت ہیں متعد احادیث ثابت ہیں۔ صحیحین میں ہے کہ جس نے سو مرتبہ ” سبحان اللہ و بحمدہٖ “ کہا اس کے تمام گناہ ساقط کردیئے گئے چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(33:42) سبحوہ۔ سبحوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ اس کی تسبیح کرو ! اس کی پاکی بیان کرو۔ بکرۃ۔ دن کا اول حصہ۔ صبح۔ اسی رعایت سے سے نوجوان گائے جس نے ابھی بچھڑا نہ دیا ہو اسے بکر کہتے ہیں۔ لا فارض والا بکر (2:68) نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچھڑی۔ دو شیزہ۔ کنواری کو بھی بکر کہا جاتا ہے جیسے انا انشاناہن انشاء فجعلنا ہن ابکارا (56:36) ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا تو ان کو کنواریاں بنایا۔ اصیلا۔ الاصیل والاصیلۃ کے معنی عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہے، یعنی شام۔ بکرۃ واصیلا صبح و شام۔ اسی طرح بالغدو والاصال (7:205) صبح اور شام اصال اصیل کی جمع ہے۔ بکرۃ واصیلا بوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 44 اذکروا : یاد کرو سبحوا : تسبیح کرو۔ پاکیزگی بیان کرو بکرۃ : صبح اصیل : شام یصلی : وہ رحمتیں بھیجتا ہے تحیت : دعا اجر کریم : بڑا عزت والا اجر تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوتے ہی کفار و مشرکین اور منا فقین نے ہر طرف زبر دست ہنگامہ کھڑا کردیا۔ انہوں نے اپنی تیز زبانوں سے ا اس طرح پر پیگنڈہ کیا تا کہ اہل ایمان کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! کفار و مشرکین جس طرح اسلام اور نبی کریم ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں تم پنے عمل سے اس کا جواب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے مسلمانو، دل سے زبان سے ہاتھ پیروں سے ذکرالٰہی میں لگے رہو اور نمازوں میں صبح اور عصر کی نماز کا بڑاخیال رکھو کہ صبح کی نماز کا وقت غفلت کا وقت ہے اور عصر کی نماز کا وقت کام کاج کا ہوتا ہے آگے فرمایا کہ جو لوگ ذکرالٰہی میں اور نماز صبح اور شام کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعاء خیر کی برکت سے وہ گمراہی کے اندھیروں سے راہ راست کے اجالے میں رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر مہربان ہے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو دنیا میں راہ راست پر رکھے گا اور عقبی میں اس کے اجر میں ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں یہ لوگ خوشی سے آپس میں سلام علیک کریں گے، جس سلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
[44] تو زید ؓ کے بھی آپ ﷺ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی مطلقہ آپ ﷺ کے لئے حلال نہ ہوتی۔ [54] یعنی نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی لہذا اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تم لوگوں نے حرام کر رکھا ہے اس کی حِلّت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں اور کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے اس لئے یہ اور بھی ضروری تھا کہ جاہلیت کی رسم کا خاتمہ آپ ﷺ خود ہی کر کے جائیں۔ [64] اس لئے اللہ نے کسی مصلحت ہی سے اپنے رسول ﷺ کو نکاح کا حکم دیا۔ اور اس مصلحت پر اوپر حاشیہ گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے 1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی…
Read the full tafseer →42۔ اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کیا کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت رکھو ۔ عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد مقرر کی ہے لیکن ذکر کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی یعنی بیٹھتے اٹھتے لیٹتے چلتے پھرتے دن میں رات میں صحرا میں دریا میں غرض اس کا ذکر کرنا اور اس کو یاد کرنا ہر وقت مطلوب ہے اس کے ترک کیلئے کوئی عذر بھی نہیں سوائے اس کے کہ جنوں ہوجائے اور ذکرکرنیوالا پاگل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ کے جس قدر مسلمانوں پر احسانات ہیں ان پر غور کرو اور ذکر الٰہی کی کثرت رکھو خواہ ذکر لسانی ہو یا ذکر قلبی ہو اور صبح و شام اس کی تسبیح اور تقدیس کرتے رہو۔ اس جملے میں تمام طاعات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔ 5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔ (فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔ 6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔ 7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔
Read the full tafseer →اے امت مرحومہ کے لوگو ! صبح وشام اس کی پاکیزگی میں مصروف رہو 42 ۔ دن کے شروع اور دن کے خاتمہ کا ذکر کرکے پورے دن کو محصور کردیا اور پھر جہاں دن کا ذکرآیا رات اس سے باہر نہ رہ گئی کیونکہ دونوں لازم وملزوم ہیں اور اس طرح گویا ارشادیوں ہوا کہ تمہارا کوئی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو کیونکہ محاورہ عام ہے کہ جو دم غافل وہی دم کافر۔ غفلت کا پردہ کسی حال میں بھی اچھا نہیں ہے خواہ وہ بہت ہی تھوڑے وقت کے لئے ہو اس لئے انسان کو ہر وقت یادالٰہی اور شکر خداوندی میں مصروف رہنا چاہیے کیونکہ اس مصروفیت کا تعلق انسان کی پوری زندگی کے ساتھ وابستہ ہے کہ وہ جہاں بھی ہو اور جیسا بھی ہو اللہ کی یاد سے…
Read the full tafseer →وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ("And proclaim His purity at morn and eve". 33:42) Here morning and evening may, metaphorically, mean all the time. Alternatively, morning and evening have been mentioned specifically to lay emphasis on carrying out dhikrullah during these times and to indicate that it carries more blessings - otherwise dhikrullah is neither specified nor limited to any particular time.
Read the full tafseer →78 This is meant to instruct the Muslims to the effect: When the Messenger of Allah is being showered with taunts and abuses by the enemies and his person being made the target of a propaganda campaign to frustrate his mission, the believers should neither listen to these absurd things unconcerned nor should become themselves also involved in the doubts and suspicions spread by the enemies nor should resort to abusive language in retaliation, but they should turn to Allah and remember Him more than usual as a special measure, The meaning of "remembering AIlah much" has been explained in E.N.…
Read the full tafseer →