Al-Ahzaab 33:41

Al-Ahzaab · from ayah 41

33:41

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًا ۟ۙيٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اذۡكُرُوۡا اللّٰهَ ذِكۡرًا كَثِيۡرًا

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, remember Allah with much remembrance

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:41

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کو یاد کرو، بہت یاد کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو ! تم اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو یاد کرتے رہا کرو تم اللہ کو بہت کثرت سے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے اہل ِ ایمان اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, remember Allah much

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, remember Allah abundantly,

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, remember Allah abundantly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Remember Allah with much remembrance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Remember Allah with much remembrance.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, remember Allah with much remembrance

— Saheeh International

Believers, remember God very often

— Muhammad Sarwar

O you who believe! remember Allah, remembering frequently,

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! remember Allah with much remembrance.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Celebrate the praises of Allah, and do this often;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

بہترین دعا۔ بہت سی نعمتوں کے انعام کرنے والے اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ہمیں اس کا بکثرت ذکر کرنا چاہئے اور اس پر بھی ہمیں نعمتوں اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہارے بہتر عمل اور بہت ہی زیادہ پاکیزہ کام اور سب سے بڑے درجے کی نیکی اور سونے چاندی کو راہ اللہ خرچ کرنے سے بھی زیادہ بہتر اور جہاد سے بھی افضل کام نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے پوچھا حضور ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اللہ عزوجل کا ذکر (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) یہ حدیث پہلے والذاکرین کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ سے یہ دعا سنی ہے جسے میں کسی وقت ترک نہیں کرتا۔ دعا یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–41

سورة الْاَحْزَاب 77 اس ایک فقرے میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبی صلی اللہ علیہ و لم کے اس نکاح پر کر رہے تھے۔ ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ ﷺ کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ " محمّد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں "، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا ؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد ﷺ کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا، اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تم (احسانات آلہیہ کو عموماً اور ایسے اکمل رسل کی بعثت کے احسان کو خصوصاً یاد کر کے اس کا یہ شکر ادا کرو کہ) اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو (اس میں سب طاعات آگئیں) اور (اس ذکر وطاعت پر دوام رکھو پس) صبح وشام (یعنی علی الدوام) اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتے رہو (یعنی دل سے بھی اور اعضاء سے بھی اور زبان سے بھی پس جملہ اولیٰ سے عموم اعمال و طاعات کا اور جملہ ثانیہ میں عموم از منہ و اوقات کا حاصل ہوگیا یعنی نہ تو ایسا کرو کہ کوئی حکم بجا لائے اور کوئی نہ بجا لائے، اور نہ ایسا کرو کہ کسی دن کوئی کام کرلیا کسی دن نہ کیا، اور جیسا اس نے تم پر بہت احسان کئے ہیں اور آئندہ بھی کرتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

یا یھا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکر اکثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا (41۔ 42) یہ مسلمانوں کو منافقین و مفسدین کی اس محاذ آرائی کے مقابل میں ثابت قدم رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور اس کی تدبیر یہ بتائی ہے کہ ان اشرار کے غوغا سے بےپروعا ہو کر تم زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ امر واضح رہے کہ شیطان اور اس کی ذریات کے مقابل میں مومن کی اصلی سپر اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں معاندین کے مقابل میں ثابت قدمی کی تلقین کی گئی ہے وہاں نماز کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم بحث کرتے آرہے ہیں۔ (مثلا دیکھئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–43

(1) اس لیے وہ زید بن حارثہ ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انھیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انھیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب :5) کے نزول کے بعد انھیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–48

35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–44

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 41–42

5 یعنی حق تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان فرمایا کہ ایسے عظیم الشان پیغمبر اور پیغمبروں کے سردار محمد ﷺ کو تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا۔ اس پر اس کا شکر ادا کرو۔ اور منعم حقیقی کو کبھی نہ بھولو، اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے، رات، دن صبح و شام، ہمہ اوقات اس کو یاد رکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا } ”اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔“ مراد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے اور ایک پنجابی کہاوت ”ہتھ کا رول ‘ دل یا رول“ کے مصداق اپنے روز مرہ معمولاتِ زندگی کے دوران بھی ہر گھڑی ‘ ہر قدم پر اللہ کی یاد اس کے دل میں مستحضر رہے۔ عملی طور پر ”ذکر کثیر“ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم مسنون دعائوں کو یاد کر کے انہیں اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں۔ حضور ﷺ نے ہمیں ہر کیفیت اور ہر موقع محل کے لیے دعائیں تعلیم فرمائی ہیں۔ مثلاً گھر میں داخل ہونے کی دعا ‘ گھر سے باہر نکلنے کی دعا ‘ بازار میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–41

64 معترضین کے اس نکاح کے بارے میں اعتراضات :۔ اس جملے میں دشمنان اسلام کے اس طعن کی تردید ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ زید کے باپ ہیں ہی نہیں اور ایک زید ہی کیا کسی بھی مرد کے باپ نہیں۔ یعنی ان کی کوئی اولاد ایسی نہیں جو جوان ہو اور مرد کہلائے جانے کے قابل ہو۔ واضح رہے کہ رسول اللہ کے دو بیٹے قاسم اور طیب (جنہیں طاہر بھی کہا جاتا ہے) فوت ہوچکے تھے اور ابراہیم ابھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ حسن اور حسین آپ کے نواسے تھے۔ جنہیں آپ نے اپنا بیٹا بھی فرمایا مگر ایک تو وہ حقیقی بیٹے نہ تھے۔ دوسرے وہ بھی کمسن تھے جنہیں مرد نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

93۔ طاعتیں اور عبادتیں جتنی بھی ہیں، سب ذکر الہی ہی کی فرد ہیں۔ کل طاعۃ وکل خیرمن جملۃ الذکر (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کا ذکر خوب کثرت سے کیا کرو اور صبح وشام یعنی اول دن اور آخر دن میں (یعنی ہمیشہ) اس کی پاکی بیان کیا کرو وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی) تمہارے لئے دعاء رحمت کرتے ہیں، تاکہ تم کو ظلمت یعنی کفر سے نور یعنی ایمان کی طرف نکالے، یعنی اس خروج کو دوام بخشے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربان ہے، جس دن وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے لئے تحفہ اللہ کی جانب سے فرشتوں کی زبانی سلام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عمدہ صلہ تیار کررکھا ہے اور وہ جنت ہے اور اے نبی یقیناً ہم ہی نے آپ کو مُرسَل الیھم (یعنی) امت پر گواہ بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکرًا کثیرًا . اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر بہت کیا کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ذکر کے علاوہ اللہ نے ہر فرض کی ایک حد مقرر کردی ہے اور عذر کے وقت معذور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے مگر ذکر کی کوئی آخری حد مقرر نہیں کی اور سوائے دیوانہ کے کسی کو معذور نہیں قرار دیا بلکہ تمام حالتوں میں ذکر کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے : فَاذْکُرُوا اللہ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ اللہ کی یاد کرو کھڑے ‘ بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے۔ اور فرمایا ہے : اذْکُرُوا اللہ ذِکْرًا کَثِیرًا اللہ کی یاد بکثرت کیا کرو رات میں ‘ دن میں ‘ خشکی میں ‘ سمندر میں ‘ صحت میں ‘ بیماری میں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–42

(41۔ 42) اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ جو دل اور زبان سے طاعت و معصیت کے وقت خوب یاد کرو اور صبح و شام نمازیں پڑھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 41–42

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ۔۔ : ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت بعض اہل علم نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تمہیں زینب ؓ کے نکاح جیسے معاملات میں منافقین اور اسلام کے دوسرے دشمنوں کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے ساتھ الجھنے یا انھیں برا بھلا کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کثرت سے کرو، اس سے تمہیں اطمینان عطا ہوگا، اسلام پر استقامت ملے گی اور فتنے کا دروازہ جلدی بند ہوگا۔ خصوصاً ”وسبحوہ“ کے مفہوم میں منافقین کی باتوں سے اپنے بری ہونے کا اظہار بھی شامل ہے، یعنی نبی ﷺ یا کسی مومن پر کسی طعن یا بہتان کا ذکر ہو تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–42

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اس کا ذکر کریں اور اس کا شکر بجا لائیں اور ذکر کثرت سے کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام کیا اللہ تعالیٰ نے بندے کی سہولت کی خاطر اسے بغیر کسی حد کے بنایا ہے۔ اور اس لیے بھی کیونکہ اس میں اجر عظیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : اللہ کا ذکر ترک کرنے میں کوئی معذور نہیں مگر جس کا عقل مغلوب ہو (1) ۔ حضرت ابو سعید نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے : ” اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنوں ہے “ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذکر کثیر وہ ہے جو دل کے ارحمۃ اللہ علیہخلاص کے ساتھ ہو۔ اور قلیل ذکر وہ ہے جو نفاق کی صورت میں ہو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–41

1۔ البزار وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ عباس اور علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہم کو بتائیں کہ اپنے گھروالوں میں سے کون آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا میرے گھوالوں میں سے مجھے فاطمہ ؓ زیادہ محبوب ہے ان دونوں نے کہا ہم آپ سے فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن زید مجھے زیادہ محبوب ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور میں نے بھی انعام فرمایا علی ؓ نے پھر پوچھا یارسول اللہ پھر کون محبوب ہے ؟ فرمایا پھر تو پھر عباس محبوب ہے عباس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [اے لوگو جو ایمان لائے ] اذْكُرُوا اللّٰهَ [تم لوگ یاد کرو اللہ کو ] ذِكْرًا كَثِيْرًا [جیسے کثرت سے یاد کرنے کا حق ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 41 ۔ 42 ۔ میں مسلمانوں کو مخالفین کی محاذ آرائی کے مقابل میں ثابت قدم رہنے کی تدبیر بتائی ہے کہ ان کے غوغا سے بےپرواہ ہوکر تم زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرو۔ یہ مر واضح رہے کہ شیطان اور اس کی ذریات کے مقابل میں مومن کی اصلی سپر اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ اس لئے ذکر تو سانس کی طرح ہر وقت مطلوب ہے۔ (تدبر القرآن) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی حد مقرر نہ ہو۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–42

ایمان والوں کو ذکر اللہ کی کثرت کرنے کا حکم اور اس بات کی بشارت کہ اللہ اور اس کے فرشتے مؤمنین پر رحمت بھیجتے ہیں یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی اور دوسری آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوب زیادہ ذکر کریں اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کریں۔ مفسرین نے فرمایا کہ صبح و شام تسبیح بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صبح سے دن کی اور شام سے رات کی ابتداء ہوتی ہے اس لیے خصوصیت کے لیے لیل و نہار کے ابتدائی اوقات میں ذکر کرنے کا خصوصی حکم دیا تاکہ لیل و نہار کے باقی اوقات میں بھی ذکر کے لیے ذہن حاضر رہے اور قلب و لسان ذکر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تبشیر مومنین وانذار کا فرین ومنافقین وذکر بعض فضائل نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا۔۔۔ الی۔۔۔ و توکل علی وکفی باللہ وکیلا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت و کرامت یعنی آپ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ کے ذکر اور شکر میں لگے رہو خاص کر اللہ کی اس نعمت کو پیش نظر رکھو کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک بشیر ونذیر کو مبعوث فرمایا پس اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم اس بشیر ونذیر پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اور نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل ایمان اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

43:۔ یا ایہا الذی اٰمنوا الخ، یہ مومنین سے پانچواں خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! پیغمبر خدا ﷺ کے رسم جاہلیت کو توڑنے اور اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرلینے کے بارے میں اگر تمہارے دل میں کوئی شک یا بدگمانی پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح و تقدیس کرو تاکہ تمہارا یہ قصور معاف ہوجائے ذکر کثیر میں زبانی ذکر کے علاوہ ہر نیکی وطاعت بھی داخل ہے اور یہ کہ کسی حال میں اس سے غافل نہ رہو کل طاعۃ و کل خیر من جملۃ الذکر (کشاف) ۔ قال ابن عباس الذکر الکثیر ان لا ینسی رجل شانہ و روی ذلک عن مجاہد ایضا (روح ج 22 ص 42) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے نکاح سے متعلق فرمایا کہ کسی مومن مرد و زن کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی منشاء کے خلاف اپنی مرضی چلانے ، پھر اللہ تعالیٰ نے زید ؓ پر کئے گئے انعامات کا ذکر کیا۔ پھر حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کے درمیان طلاق اور حضور ﷺ کے ساتھ حضرت زینب ؓ کے نکاح کا ذکر کیا۔ پھر اللہ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ اس ضمن میں مخالفین کے پراپیگنڈا کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ نکاح ہم نے خود کرایا ہے تاک اہل ایمان ر یہ مسئلہ واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح بالکل درست ہے فرمایا یہ دستور سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے اور اللہ نے اپنے انبیاء کے لئے جو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللہَ ذِكْرًا كَثِيْرًا۝ 41ۙ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–41

ترکیب : ولکن بالتشدید فخبرہ محذوف ای ولکن رسول اللہ اب من غیر وراثتہ۔ او یقال ولکن کان رسول اللہ، بکرۃ واصیلا ظرفان للتسبیح تحیتھم اضافۃ المصدر الی المفعول مبتداء وسلام خبرہ یوم یلقونہ ظرف لہ۔ ای یحیون یوم لقائہٖ تعالیٰ عند الموت او الخروج من القبر او دخول الجنۃ بالسلام یقال لھم السلام علیکم او یخبر بالسلامۃ من کل مکروہ و آفتہ فضلا کبیرا اسم ان لہم خبرہ ومن اللہ صفتہ والجملۃ معطوف علی محذوف مثل فواقب احوال امتک۔ ماکان محمد ابا احد من رجالکم اب ان کے اس طعن کا جواب دیتا ہے کہ محمد ﷺ نے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا کہ محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ ہی نہیں کیونکہ اس وقت فاطمہ زہرا ؓ اور بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–42

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُواللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الاحزاب : 41، 42) (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہے۔ ) مسلمانوں کو الزامات کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تاکید یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حضرت زینب ( رض) سے نکاح کے باعث مشرکین اور منافقین نے آنحضرت ﷺ کے خلاف محاذآرائی شروع کر رکھی تھی اور ہر طرح کی شرافت سے تہی دامن ہو کر آپ ﷺ پر الزامات کی بوچھاڑ کی جارہی تھی۔ وہ وقت مسلمانوں کے لیے جذبات کے شدید امتحان کا وقت تھا۔ مخلص مسلمان ان بےہودگیوں اور یا وہ گوئیوں کو دیکھ کر کچھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–42

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے امّتِ محمدیہ کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ اس کو نبی کریم ﷺ جیسا عظیم الشّان، عدیم المرتبت رحمت عالم اور ختم المرسلین نبی عطا فرمایا جس پر امت کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کا تقاضا ہے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔ ذکر ایسی عبادت ہے جس کے بارے میں حکم ہوا ہے کہ اسے کثرت کے ساتھ کیا کرو۔ یہاں ذکر کے دو مخصوص اوقات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ کیونکہ صبح و شام سے ہی انسان کی زندگی بنتی ہے۔ ہر انسان ہر صبح اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے اور شام کو اس کی دن بھر کی سرگرمیوں کا اختتام ہوتا ہے اس لحاظ سے دونوں اوقات بڑے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: یٰٓـاَ یُّھَاالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو) قسم قسم کی ثناء کثرت کے ساتھ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 41۔ ، یایھا الذین آمنوا اذکر واللہ ذکرا کثیرا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، ذکر کے علا وہ اللہ نے ہر فرض کی ایک حد مقررکردی ہے اور عذر کے وقت معذور لوگوں کو چھوڑدیا ہے مگر ذکر کی کوئی آخری حد مقرر نہیں کی اور سوائے دیوانہ کے کسی کو معذور نہیں قرار دیا بلکہ تمام حالتوں میں ذکر کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے، فاذکروا اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم ، اللہ کی یاد کروکھڑے بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے اور فرمایا ہے، اذ کروا اللہ ذکرا کثیرا، اللہ کی یاد بکثرت کیا کرو، رات میں دن میں خشکی میں ، سمندر میں ، صحت میں ، بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر۔ مجاہد نے کہا کہ ذکر کثیر یہ ہے کہ کبھی اللہ کونہ بھولے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41 تا 43۔ اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کی یاد کثرت سے کرنے کا اور تسبیح و تہلیل کا ذکر تھا اس لیے اس کے ساتھ ہی آیت کے دوسرے ٹکڑے میں یاد الٰہی کے فائدہ کا ذکر فرمایا بڑا فائدہ ذکر الٰہی کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذکرونی اذکرکم صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے (2 ؎ مشکوۃ 196 باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ۔ ) جو شخص مجھ کو تنہائی میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو تنہائی میں یاد کروں گا اور جو شخص مجھ کو آدمیوں کی جماعت میں یاد کرے گا تو میں اس کو فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا جو آدمیوں کی جماعت سے بہتر ہے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–43

آیت 40 نہیں ہیں رسول اللہ (محمد) حضرت محمد ﷺ (ابا احد من رجالکم) ” تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ “ اس سے آپ ﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہ کا انتساب منقطع ہوگیا۔ جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر معمول کیا جائے، یعنی آپ ﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بٹے کے باپ ہیں جب کہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرتا مومنوں کی مائیں ہیں، اس لئے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو، چناچہ فرمایا : (ولکن رسول اللہ وخاتم النبین) ” بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–42

متبنیٰ کی بیوی سے طلاق ہونے پر نکاح ہوسکتا ہے قول باری ہے (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ توتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اور (اس وقت کو بھی یاد کیجئے) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی فضل کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کی طرف سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ سفیان بن عینیہ نے علی بن زید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا : مجھ سے علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 ذکر اللہ کی کثرت کا حکم وارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو یاد کرتے رہا کرو تم لوگ اللہ کو بہت کثرت سے "۔ ہر حال میں اور دل و جان سے۔ کہ اس کی یاد دلشاد ہی اصل مقصود اور تمام احکام و عبادات کی اصل روح و جان ہے۔ واضح رہے کہ ذکر خداوندی کے سوا اور کسی بھی عبادت و عمل کے لئے کثرت سے کرنے کا حکم نہیں دیا گیا کہ ایسے کرنا مشکل تھا۔ کیونکہ ہر عبادت کے لئے خاص شرائط و آداب کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے بخلاف ذکر الہی کے۔ کہ اس میں نہ کسی خاص وقت اور جگہ کی پابندی ہے اور نہ کسی خاص طریقہ کی۔ نہ اس میں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کسی مشقت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–48

اللہ کی یاد، نبی کی شان اور مومنوں کو بشارت تشریح : یہ آیات اتنی آسان، صریح اور واضح ہیں کہ ان کو پڑھ کر سارا مضمون آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔ اللہ ہمیں ان مقامات، فضیلتوں اور درجات کو حاصل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

آیات 41 تا 52 اسرارومعارف ذکر اللہ کی تاکید : اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام علی الدوام کرتے رہا کرو مناسب ہوگا کہ یہاں صاحب معارف القرآن کے مبارک الفاظ نقل کردیے جائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں حج بھی خاص مقام پر خاصاعمال مقررہ کرنے کا نام ہے زکوۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوئی مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیت قیام یا نشست مقرر ہے نہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 3 یعنی اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تحلیل کرتے رہو۔ اللہ کے ذکر خصوصاً سبحان اللہ و بحمدہٖ کہنے کی فضلیت ہیں متعد احادیث ثابت ہیں۔ صحیحین میں ہے کہ جس نے سو مرتبہ ” سبحان اللہ و بحمدہٖ “ کہا اس کے تمام گناہ ساقط کردیئے گئے چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(33:42) سبحوہ۔ سبحوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ اس کی تسبیح کرو ! اس کی پاکی بیان کرو۔ بکرۃ۔ دن کا اول حصہ۔ صبح۔ اسی رعایت سے سے نوجوان گائے جس نے ابھی بچھڑا نہ دیا ہو اسے بکر کہتے ہیں۔ لا فارض والا بکر (2:68) نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچھڑی۔ دو شیزہ۔ کنواری کو بھی بکر کہا جاتا ہے جیسے انا انشاناہن انشاء فجعلنا ہن ابکارا (56:36) ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا تو ان کو کنواریاں بنایا۔ اصیلا۔ الاصیل والاصیلۃ کے معنی عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہے، یعنی شام۔ بکرۃ واصیلا صبح و شام۔ اسی طرح بالغدو والاصال (7:205) صبح اور شام اصال اصیل کی جمع ہے۔ بکرۃ واصیلا بوجہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 44 اذکروا : یاد کرو سبحوا : تسبیح کرو۔ پاکیزگی بیان کرو بکرۃ : صبح اصیل : شام یصلی : وہ رحمتیں بھیجتا ہے تحیت : دعا اجر کریم : بڑا عزت والا اجر تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوتے ہی کفار و مشرکین اور منا فقین نے ہر طرف زبر دست ہنگامہ کھڑا کردیا۔ انہوں نے اپنی تیز زبانوں سے ا اس طرح پر پیگنڈہ کیا تا کہ اہل ایمان کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! کفار و مشرکین جس طرح اسلام اور نبی کریم ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں تم پنے عمل سے اس کا جواب اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–44

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے مسلمانو، دل سے زبان سے ہاتھ پیروں سے ذکرالٰہی میں لگے رہو اور نمازوں میں صبح اور عصر کی نماز کا بڑاخیال رکھو کہ صبح کی نماز کا وقت غفلت کا وقت ہے اور عصر کی نماز کا وقت کام کاج کا ہوتا ہے آگے فرمایا کہ جو لوگ ذکرالٰہی میں اور نماز صبح اور شام کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعاء خیر کی برکت سے وہ گمراہی کے اندھیروں سے راہ راست کے اجالے میں رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر مہربان ہے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو دنیا میں راہ راست پر رکھے گا اور عقبی میں اس کے اجر میں ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں یہ لوگ خوشی سے آپس میں سلام علیک کریں گے، جس سلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–42

[44] تو زید ؓ کے بھی آپ ﷺ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی مطلقہ آپ ﷺ کے لئے حلال نہ ہوتی۔ [54] یعنی نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی لہذا اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تم لوگوں نے حرام کر رکھا ہے اس کی حِلّت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں اور کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے اس لئے یہ اور بھی ضروری تھا کہ جاہلیت کی رسم کا خاتمہ آپ ﷺ خود ہی کر کے جائیں۔ [64] اس لئے اللہ نے کسی مصلحت ہی سے اپنے رسول ﷺ کو نکاح کا حکم دیا۔ اور اس مصلحت پر اوپر حاشیہ گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–45

عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے 1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–42

ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔ 5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔ (فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔ 6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔ 7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا کرو 41 ۔ جس چیز کی ابتدا ہے بلا شبہ اس کی انتہا بھی ضروری اور لازمی ہے۔ نبوت کی ابتداء ہوئی تو اس کی انتہا بھی لازم وضروری تھی اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے نبوت کا اجرا کیا تو محمد رسول اللہ ﷺ پر اس کی انتہا کردی اس طرح بحمد اللہ ابتدا بھی بخیرہوئی اور انتہا بھی بخیر ہوگئی اس بات پر اس ذات الٰہی کا جس نے نبوت و رسالت کا سلسلہ شروع کیا اور پھر اپنے اپنے وقت پر اس کو ختم بھی کردیا جتنا شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے غور کرو کہ جس طرح ابتداء ایک ہی امت سے ہوئی جو پوری دنیا میں پھیلنے والی تھی جس سے انسانیت کو شروع کیا گیا اور اس طرح پوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Mentioned in the preceding verse was the incident of Sayyidna Zaid ؓ and Sayyidah Zainab ؓ and in relation to it the Holy Prophet's ﷺ being the last of the prophets has been stated in the context of directions for the respect and reverence of the Holy Prophet ﷺ and saving oneself from causing any pain to him. Further on also, the perfect attributes of the Holy Prophet ﷺ are going to be stated; his person and attributes are the greatest blessings for Muslims in this world. The instruction of remembering Allah in abundance is given in the above verse to show gratitude for those…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–41

77 This one sentence arts at the root of aII those objections which the opponents were raising in connection with this marriage of the Holy Prophet. Their first objection was that he had married his own daughter-in-law, whereas according to his own law the son's wife is forbidden for the father. This was answered by saying: "Muhammad is not the father of any of your men." That is, Zaid was not his real son, and so it was not unlawful to marry his divorced wife. Their second objection was that even if his adopted son was not his real son, it was not necessary that he should have marred his…

Read the full tafseer →