Explained with ayahs 39–40
امی خاتم الانبیاء ﷺ۔
ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار حضرت محمد ﷺ ہیں۔ خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو حضور ﷺ نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ سے پہلے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
سورة الْاَحْزَاب 77
اس ایک فقرے میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبی صلی اللہ علیہ و لم کے اس نکاح پر کر رہے تھے۔ ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ ﷺ کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ " محمّد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں "، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا ؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد ﷺ کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔
ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا، اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(پہلی آیات میں نکاح زینب کا تبلیغ عملی ہونے اور سنت انبیاء ہونے کی حیثیت سے محمود ہونا بتلایا گیا تھا، آگے ان معترضین کا جواب ہے جو اس نکاح کو مذموم سمجھ کر طعنہ زنی کرتے تھے، یعنی) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں (یعنی جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے علاقہ اولاد نہیں رکھتے، جیسا کہ اس آیت میں عام صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا رجالکم یعنی تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ اس میں نسبت عام لوگوں کی طرف دی گئی، اور آنحضرت ﷺ سے نسبت قطع کی گئی۔ اس لئے اپنے خاندان کے افراد میں سے کسی مرد کا باپ ہونا اس کے منافی نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ عام امت کے لوگوں کے ساتھ آپ کو ایسی ابوت…
Read the full tafseer →ما کان محمد ابا اھد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین وکان اللہ بکل شئی علیما (40)
یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو آنحضرت ﷺ کو حضرت زید ؓ کا باپ قرار دے کر اس فتنے کے اٹھانے والے بنے تھے۔ فرمایا کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبی نہیں۔ نبی و رسول کی حیثیت سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ انہوں نے ادا کی اور چونکہ یہ خاتم النیبن ہیں اس وجہ سے ضروری تھا کہ انہی کے ذریعے سے اس رسم بد کی اصلاح ہوجائے۔ اگر ان کے بعد کوئی اور نبی آنے والا ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ اس معاملے کو اللہ تعالیٰ آئندہ پر اٹھا رکھتا لیکن اب کوئی نبی آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) اس لیے وہ زید بن حارثہ ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انھیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انھیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب :5) کے نزول کے بعد انھیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
35: چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو آنحضرت ﷺ نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا، اس لئے لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارتے تھے، پچھلی آیتوں میں جب یہ حکم جاری ہوا کہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار نہیں دیا جاسکتا، تو حضرت زید کو زید بن محمد ﷺ کہنے کی بھی ممانعت ہوگئی، چنانچہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں (کیونکہ آپ کی زندہ رہنے والی اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں) لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی وجہ سے پوری امت کے روحانی باپ ہیں، اور چونکہ آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں، اس جاہلیت کی رسموں کو اپنے عمل سے ختم کرنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40)
اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔
وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ…
Read the full tafseer →2 یعنی کسی کو اس کا بیٹا نہ جانو۔ ہاں اللہ کا رسول ﷺ ہے اس حساب سے سب ان کے روحانی بیٹے ہیں جیسا کہ ہم (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ) 33 ۔ الاحزاب :6) کے حاشیہ میں لکھ چکے ہیں۔
3 یعنی آپ ﷺ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی۔ اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی، بس جن کو ملنی تھی مل چکی۔ اسی لیے آپ ﷺ کی نبوت کا دورہ سب نبیوں کے بعد رکھا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی اخیر زمانہ میں بحیثیت آپ کے ایک امتی کے آئیں گے خود ان کی نبوت و رسالت کا عمل اس وقت جاری نہ ہوگا۔ جیسے آج تمام انبیاء اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں مگر شش جہت میں عمل صرف نبوت…
Read the full tafseer →آیت 40 { مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ } ”دیکھو ! محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں“
یہاں ایک دوسرے انداز میں واضح کردیا گیا کہ محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ زید رض بن حارثہ محض آپ ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے۔ اب جبکہ اس ضمن میں ایک واضح حکم نازل ہوچکا ہے تو یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے صاف ہوجانا چاہیے۔
حضور ﷺ کے ہاں جو نرینہ اولاد ہوئی اسے اللہ تعالیٰ نے بچپن میں ہی اٹھا لیا۔ آپ ﷺ کی آخری عمر میں حضرت ماریہ قبطیہ رض کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی لیکن وہ بھی بچپن ہی میں فوت ہوگئے۔ آپ ﷺ کو اپنے بیٹے ابراہیم رض سے بہت محبت تھی۔ ان کی وفات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
64 معترضین کے اس نکاح کے بارے میں اعتراضات :۔ اس جملے میں دشمنان اسلام کے اس طعن کی تردید ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ زید کے باپ ہیں ہی نہیں اور ایک زید ہی کیا کسی بھی مرد کے باپ نہیں۔ یعنی ان کی کوئی اولاد ایسی نہیں جو جوان ہو اور مرد کہلائے جانے کے قابل ہو۔ واضح رہے کہ رسول اللہ کے دو بیٹے قاسم اور طیب (جنہیں طاہر بھی کہا جاتا ہے) فوت ہوچکے تھے اور ابراہیم ابھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ حسن اور حسین آپ کے نواسے تھے۔ جنہیں آپ نے اپنا بیٹا بھی فرمایا مگر ایک تو وہ حقیقی بیٹے نہ تھے۔ دوسرے وہ بھی کمسن تھے جنہیں مرد نہیں…
Read the full tafseer →89۔ (اور جب ان کے کوئی بیٹا ہی نہیں تو بہو کے ساتھ نکاح کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا) اسم پاک محمد پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 4) میں گزر چکا۔ (آیت) ” وما محمد الا رسول “۔ کے تحت میں۔
90۔ (اور اسی طرح ساری امت کے روحانی مربی) اس میں یہ بھی اشارہ نکل آیا کہ آپ ﷺ کو امت کے ایک ایک فرد کے ساتھ جو تعلق شفقت و رحمت ہے وہ طبعی نہیں ماتحت رضاء الہی ہے۔
91۔ (اس لیے آپ ﷺ کی تربیت روحانی بھی غیر موقوف وغیر منقطع ہے) ختم نبوت کی یہ تصریح نہ ہوتی جب بھی دوسری آیات۔ مثلا (آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی “ وغیرہ اس عقیدہ کی بنیاد بننے کے لیے کافی تھیں۔ جب کوئی درجہ مزید تعلیم واصلاح کا باقی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن اور فرمانبردار مرد اور فرمانبرادر عورتیں اور ایمان میں مخلص مرد اور مخلص عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے اولی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور زندہ رکھنے والی عورتیں اور حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے معاصی سے مغفرت اور اطاعت پر اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت…
Read the full tafseer →ما کان محمد ابا احد من رجالکم . محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ یعنی محمد ﷺ زید کے باپ نہیں ہیں کہ زید کی بیوی سے نکاح کرنا ان کیلئے حرام ہو۔
ایک سوال قاسم ‘ طیب ‘ طاہر اور ابراہیم رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے اور حسن و حسین بھی حضور ﷺ کے صاحبزادے (مانے گئے) تھے ‘ پھر نفی اُبّوت کیسے صحیح ہے ؟
جواب چاروں صاحبزادوں کی وفات بچپن میں ہوچکی تھی ‘ کوئی بھی حد بلوغ کو نہیں پہنچا کہ اس کو رَجُل کہا جاتا ‘ رہی یہ بات کہ حضرت حسن کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ اسی طرح حضرت حسین کا رسول اللہ ﷺ کا بیٹا ہونا تو یہ بطور مجاز ہے (نہ واقع میں یہ دونوں بزرگ حضور ﷺ کے صلبی بیٹے…
Read the full tafseer →رسول اکرم ﷺ حضرت زید کے باپ نہیں بلکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں کہ آپ کے بعد اب کوئی بھی نبی نہ ہوگا۔
اور اللہ تعالیٰ تمہارے قول و فعل کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ : یعنی نبی ﷺ نے اگرچہ زید کو متبنّٰی بنایا، مگر وہ آپ کے بیٹے نہیں، نہ آپ اس کے حقیقی باپ ہیں، اس لیے انھیں زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ ہی کہو۔ نبی ﷺ کا کوئی بیٹا اتنی دیر زندہ نہیں رہا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچے۔ خدیجہ ؓ سے آپ ﷺ کے تین بیٹے قاسم، طیب اور طاہر پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ ماریہ قبطیہ ؓ سے ابراہیم پیدا ہوئے، وہ بھی دودھ پینے ہی کی عمر میں فوت ہوگئے، بیٹیاں چار پیدا ہوئیں، جو خدیجہ ؓ کے بطن سے تھیں، یعنی زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ، تین آپ ﷺ کی زندگی میں فوت ہوگئیں اور فاطمہ ؓ نے آپ ﷺ کی وفات کا صدمہ دیکھا،…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے شادی کرلی تو لوگوں نے کہا : آپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کی ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی حضرت زید رسول اللہ ﷺ کے بیٹے نہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ پر اس کی بیوی حرام ہوتی، بلکہ آپ اپنی امت کے باپ ہیں۔ یہ شان و عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ حضور ﷺ کی بیویاں ان پر حرام ہیں منافقوں اور دوسرے لوگوں کے دلوں میں جو کچھ واقع ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ساتھ سب کو دور کردیا۔ یہ چیز ذہن نشین کرلو کہ حضرت محمد ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، جو آپ ﷺ کے معاصر تھے۔ اس آیت سے یہ مقصد نہیں کہ حضور ﷺ کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ آپ کے مذکر بچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
1۔ البزار وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ عباس اور علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہم کو بتائیں کہ اپنے گھروالوں میں سے کون آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا میرے گھوالوں میں سے مجھے فاطمہ ؓ زیادہ محبوب ہے ان دونوں نے کہا ہم آپ سے فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن زید مجھے زیادہ محبوب ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور میں نے بھی انعام فرمایا علی ؓ نے پھر پوچھا یارسول اللہ پھر کون محبوب ہے ؟ فرمایا پھر تو پھر عباس محبوب ہے عباس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے…
Read the full tafseer →مَا كَانَ [نہیں ہیں ] مُحَـمَّـدٌ [محمد ﷺ ] اَبَآ اَحَدٍ [کسی ایک کے والد ] مِّنْ رِّجَالِكُمْ [تمہارے مردوں میں سے ] وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ [اور لیکن اللہ کے رسول ہیں ] وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ [اور نبیوں (کے سلسلہ) کو سیل بند کرنے والے ہیں ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کا ] عَلِــيْمًا [جاننے والا ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 40 ۔ میں ان لوگوں کے خیال کا رد ہے جو اپنی رسم جاہلیت کے مطابق بی بی زینب ؓ سے نبی ﷺ کے نکاح پر طعن کرتے تھے کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے رد کے لئے یہ کہہ دینا کافی تھا۔ آپ ﷺ زید ؓ کے باپ نہیں ہیں بلکہ ان کے باپ حارثہ ہیں۔ مگر اس میں تاکید…
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین ہیں
اس آیت کریمہ میں اول تو یہ فرمایا کہ تم میں جو مرد ہیں یعنی بالغ افراد ہیں محمد رسول اللہ ﷺ ان میں سے کسی کے نسبی والد نہیں ہیں، اس میں اس بات کی نفی ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی بھی ایسے شخص کے والد ہوں جو رجولیت کے حدود میں داخل ہوگیا ہو، اس کے عموم میں زید بن حارثہ ؓ کے والد ہونے کی بھی نفی ہوگئی۔ آیت میں یہ بتادیا کہ نسبی والد ہونے سے جو باپ بیٹے کے درمیان احکام شرعیہ مرتب ہوتے ہیں مثلاً میراث جاری ہونا اور حرمت مصاہرت ثابت ہونا، آپ ﷺ کے اور زید بن حارثہ ؓ یا کسی بھی صحابی کے درمیان ان میں سے کوئی حکم بھی جاری نہیں ہے، اور (رِّجَالِکُمْ ) اس لیے فرمایا کہ آپ ﷺ چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(بقیہ پچھلی آیت میں)
خلاصہ کلام یہ کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کے کلام معرفت التیام کا حاصل یہ ہے کہ خاتمیت ایک جنس ہے جس کی دو قسمیں ہیں ایک زمانی اور دوسرے رتبی۔ خاتمیت زمانیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضور پر نور سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیا کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور خاتمیت رتبہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضور پر نور ﷺ پر ختم ہیں اور حضور پر نور ﷺ دونوں اعتبار سے خاتم النبیین ہیں زمانہ کے اعتبار سے بھی اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضور ﷺ کی خاتمیت فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں…
Read the full tafseer →42:۔ ما کان الخ، یہ مومنین سے چوتھا خطاب ہے۔ اے ایمان والو ! محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ نہ زید کے نہ کسی اور کے، تو زید کی بیوی آپ ﷺ کی بہو نہ تھی اس لیے آپ ﷺ نے اگر زید کی مطلقہ سے نکاح کرلیا ہے تو اس میں کونسی برائی ہے اور اعتراض کا کیا موقع ہے ؟ اس میں جسمانی اور حقیقی ابوت کی نفی کی گئی ہے۔ رجال، رجل کی جمع ہے اور رجل بالغ مرد کو کہا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ کسی ایسے مذکر انسان کے باپ نہیں جو سنِ بلوغ کو پہنچا ہو کیونکہ آپ کے چاروں صاحبزادے حضرت ابراہیم، قاسم، طیب اور طاہر بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ اور صرف آپ کی صاحبزادیاں ہی سن بلوغ کو پہنچیں۔ ولکن رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات
جب حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کی مطلقہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیا تو کفار و منافقین نے طعنے دینے شروع کردیئے کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ وہ وراثت میں بھی حقدار ہوتا تھا اور اس کی بیوی سے نکاح بھی ناجائز تصور ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا لہٰذا اسے اس کے حقیقی باپ کے نام سے پکارا کرو۔ اور اگر اس کے باپ کا علم نہ ہو تو اسے اپنا بھائی اور رفیق کہہ کر بلا لیا کرو۔ البتہ اس کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئو اور ہو سکے تو اس کے ساتھ احسان کرو۔ البتہ اس پر…
Read the full tafseer →مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40ۧ
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ترکیب : ولکن بالتشدید فخبرہ محذوف ای ولکن رسول اللہ اب من غیر وراثتہ۔ او یقال ولکن کان رسول اللہ، بکرۃ واصیلا ظرفان للتسبیح تحیتھم اضافۃ المصدر الی المفعول مبتداء وسلام خبرہ یوم یلقونہ ظرف لہ۔ ای یحیون یوم لقائہٖ تعالیٰ عند الموت او الخروج من القبر او دخول الجنۃ بالسلام یقال لھم السلام علیکم او یخبر بالسلامۃ من کل مکروہ و آفتہ فضلا کبیرا اسم ان لہم خبرہ ومن اللہ صفتہ والجملۃ معطوف علی محذوف مثل فواقب احوال امتک۔
ماکان محمد ابا احد من رجالکم اب ان کے اس طعن کا جواب دیتا ہے کہ محمد ﷺ نے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا کہ محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ ہی نہیں کیونکہ اس وقت فاطمہ زہرا ؓ اور بعض…
Read the full tafseer →مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَـآ اَحَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 40)
(محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ )
مخالفین کے اعتراضات کا جواب اور آنحضرت ﷺ کے منصبی تقاضے
نبی کریم ﷺ کے حضرت زینب سے نکاح کے سلسلے میں جن لوگوں نے مخالفت کا طوفان اٹھایا اس کی سب سے بڑی بنیاد یہ تھی کہ زید نبی کریم ﷺ کے منہ بولا بیٹا ہونے کی وجہ سے حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی بیوی حضور ﷺ کی بہو ہے تو طلاق کی صورت میں وہ ان سے نکاح کیسے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : متبنّٰی کے متعلقہ مسائل بیان کرنے اور نبی ﷺ کے فرض منصبی کا ذکر کرنے کے بعد اب مردوں سے نبی ﷺ کا تعلق اور آپ کی رفعت شان اور مقام کا بیان ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں تھیں۔ ان میں سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے آپ ﷺ کی چاربیٹیاں ہوئیں جن کے اسمائے گرامی زینب، رقیہ، امّ کلثوم، فاطمہ (رح) ہیں اور حضرت خدیجہ ؓ سے آپ ﷺ کے تین بیٹے ہوئے جن کے اسمائے گرامی قاسم، ابراہیم، طیب ہیں۔
آپ ﷺ کے تینوں بیٹے اس آیت کریمہ کے نازل ہونے سے پہلے فوت ہوچکے تھے ان کے بعد آپ کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ محمد ﷺ مردوں میں سے…
Read the full tafseer →آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا :
40: مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّ جَالِکُمْ (محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں) حقیقتاً تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں کہ جس کی بنیاد پر آپ کے اور اس بیٹے کے درمیان حرمت مہرو نکاح ثابت ہوسکے۔ الرجالؔ سے بالغ اولاد مراد ہے اور حسن و حسین تو اس وقت بالغ نہ تھے ( یہ تو نواسے ہیں جو حکماً اولاد میں شامل ہوتے ہیں) طاہر و طیب وقاسم، ابراھیم ؓ بچپن میں فوت ہوگئے۔
وَلٰـکِنْ (لیکن وہ ہیں) رَّسُوْلَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں) ہر رسول اپنی امت کا باپ ہوتا ہے ان باتوں کے لحاظ سے جو ان کی توقیر و تعظیم کو امت میں لازم کرنے والی ہوں اور اسی طرح جو باتیں…
Read the full tafseer →40، ماکان محمد ابا احد من رجا لکم ، رجال سے مرا زید بن حارثہ ہے ۔ یعنی آپ ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں کہ جن کی وجہ سے ان کی بیویوں سے نکاح حرام ہو۔
سوال : قاسم طیب طاہر اور ابراہیم رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے اور حضرت حسن و حسین ؓ بھی حضور ﷺ کے صاحبزادے (مانے گئے) تھے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حسن ؓ سے فرمایا کہ یہ میرابیٹا سید ہے ؟۔
جواب : چار بیٹوں کی وفات بچپن میں ہوگئی تھی کوئی بھی حدبلوغ کو نہیں پہنچا کہ اس کی رجل کہاجاتا ۔ صحیح یہ بات ہے جو ہم نے کہی ہے مراداس سے یہ ہے کہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ۔ ، ولکن رسول اللہ وخاتم النبین ، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
36 تا 40۔ تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 2037201 ج 5۔ ) اس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے موضح القران میں بیان کیا ہے کہ حضرت زنیب ؓ اور ان کے راضی نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہ شان نزول صحیح بخاری 3 ؎ میں بھی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ہے (3 ؎ صفحہ 706 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) اب اس زنیب ؓ کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے خفگی سے آنحضرت ﷺ کو یہ جو فرمایا ہے کہ اے نبی جس چیز کو اللہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کو تم اپنے دل ہی دل میں کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40
نہیں ہیں رسول اللہ (محمد) حضرت محمد ﷺ (ابا احد من رجالکم) ” تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ “ اس سے آپ ﷺ کی طرف حضرت زید بن حارثہ کا انتساب منقطع ہوگیا۔
جب یہ نفی تمام احوال میں عام ہے تو اگر لفظ کو اپنے ظاہری معنوں پر معمول کیا جائے، یعنی آپ ﷺ نسب کے اعتبار سے کسی کے باپ ہیں نہ کسی منہ بولے بٹے کے باپ ہیں جب کہ گزشتہ سطور میں یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام مومنوں کے باپ ہیں اور آپ کی ازواج مطہرتا مومنوں کی مائیں ہیں، اس لئے احتراز فرمایا، تاکہ یہ نوع متذکرہ صدر عموم نہی میں داخل نہ ہو، چناچہ فرمایا : (ولکن رسول اللہ وخاتم النبین) ” بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
متبنیٰ کی بیوی سے طلاق ہونے پر نکاح ہوسکتا ہے
قول باری ہے (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ توتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اور (اس وقت کو بھی یاد کیجئے) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی فضل کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کی طرف سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
سفیان بن عینیہ نے علی بن زید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا : مجھ سے علی…
Read the full tafseer →74 پیغمبر ﷺ کی کوئی نرینہ بالغ اولاد نہیں تھی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " محمد[ ﷺ ] تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں "۔ اور جب وہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو پھر بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ کہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹوں میں سے کوئی شادی کی عمر کو پہنچا ہی نہیں تھا۔ طیب، طاہر، قاسم اور ابراہیم چاروں صاحبزادے بچپن ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ حضرت زید ؓ آپ کے حقیقی اور صلبی بیٹے نہیں تھے بلکہ وہ آپ کے متبنیٰ اور لے پالک تھے جو حقیقی اور صلبی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔ اور اس پر حقیقی بیٹے کے احکام جاری نہیں ہوتے۔ اور اس کی بیوی حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح نہیں ہوتی۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سیدنازید کی شادی اور طلاق کی مصلحت
تشریح : دراصل ان آیات میں اللہ کی اس حکمت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے جاہلیت کی وہ رسم سرے سے ختم کرنا مقصود تھا کہ جس کی وجہ سے لوگ منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے برابر درجہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے وراثت کے معاملہ میں بڑی الجھنیں پیدا ہوجاتی تھیں اور پھر اصلی رشتہ دار وراثت سے کافی حد تک محروم رہ جاتے تھے اسی طرح رشتہ داریوں کی حرمت اور درجات میں کافی گڑ بڑ ہوجاتی تھی۔ دین ِ اسلام اصلاح معاشرہ کا دین ہے اسی لیے اس غلط رسم کو جڑ سے نکال دیا گیا۔ ہوا اس طرح کہ جب خلاف خوشی سیدہ زینب اور سیدنازید کا نکاح اللہ کے حکم کے تحت ہوگیا تو اصل میں ان دونوں کو دلی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیات 35 تا 40
اسرارومعارفف
مرد اور عورت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عبادت کے برابر مکلف ہیں اور دونوں کا حساب ہوگا اجر پائیں گے :
چنانچہ یہ بات جان لی جائے کہ قبول اسلام اور اتباع شریعت بھی ایک کھیتی ہے جیسے زمین تیار کرنا بیج ڈالنا حفاظت کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے بیشک اسلام قبول کرنے والے مرد ہوں یا خواتین انہیں قبول اسلام سے یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دولت ایمان و یقین سے بہرہ ور مردوں اور خواتین کو عبادت و اطاعت کی توفیق ارزاں ہوتی ہے عبادت الہی بندے کو سچا اور کھرا بنا دیتی ہے سچے اور کھرے مرد اور خواتین کو نیکی پر استقامت گناہوں سے بچاؤ اور تکالیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ف 1 یعنی جس شخص زید ؓ بن حارثہ کی مطلقہ بیوی سے انہوں نے نکاح کیا ہے وہ ان کو بیٹا ہے کب کہ کوئی یہ اعتراض کرسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کے جتنے بیٹے ہوئے ؟ بچپن ہی میں گزر گئے اور کوئی بھی اس عمر کو نہیں پہنچا کہ مرد کہلا سکے۔ صرف لڑکیاں تھیں اور ان میں بھی صرف حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد باقی رہی۔2 لفظی ترجمہ یہ ہے۔” البتہ وہ اللہ کا رسول ﷺ ہے اور نبیوں ﷺ کا ختم کرنے والا “۔ اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ محمد ﷺ رہتی دنیا تک اللہ کے نبی ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور پھر احادیث صحیحہ میں اس خاتم النبین ہونے کی تشریح کردی گئی ہے جس کے بعد کسی…
Read the full tafseer →(33:40) ابا احد رسول اللہ۔ خاتم النبیین میں ابا۔ رسول۔ اور خاتم منصوب بوجہ خبر کان کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40
الخیرۃ : اختیار
امسک : روک لے
مبدی : ظاہر کرنے والا
وطر : حاجت
زوجنا : ہم نے نکاح کردیا
ادعیاء : بلاتے ہیں۔ پکارتے ہیں
یبلغون : وہ پہنچاتے ہیں
یخشون : وہ خوف رکھتے ہیں۔ ڈرتے ہیں
حسیب : حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
ان آیات میں حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، طلاق ، پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، منہ بولے بیٹوں کی شرعی حیثیت کے اہم ترین مسئلوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
حضرت زید ؓ ابن حارثہ بنو کلب کے حارثہ ابن شراحیل کے بیٹے تھے ۔ والد کا نام سعدٰی بنت ثعلبی تھا اور ان کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھا ۔ جب حضرت زید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
حقیقی باپ کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ اپنے نبی کے واسطے جائز کردیا ہے وہ مثل اس طریق کے ہے جو پہلے نبیوں کا طریقہ تھا کچھ اس سے ملبوث میں فرق نہیں آتا، دیکھو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک سوبیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان کی تین سوبیویاں تھیں اگر یہ نبی اس پر عمل درآمد کریں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ اللہ کا جوحکم مقرر ہوچکا ہے وہ نہیں ٹلتا، وہ انبیاء سابقین کیسے تھے جو اپنے رب کے پیغام امت کو پہنچایا کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اے محبوب تم تو سب سے افضل ہو، پھر تم لوگوں کا خوف کیوں کرو گے، پھر فرمایا کہ نیکوں کی فرمانبرداری اور بدوں کی بدگوئی کے حساب کتاب کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
[44] تو زید ؓ کے بھی آپ ﷺ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی مطلقہ آپ ﷺ کے لئے حلال نہ ہوتی۔
[54] یعنی نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی لہذا اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تم لوگوں نے حرام کر رکھا ہے اس کی حِلّت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں اور کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے اس لئے یہ اور بھی ضروری تھا کہ جاہلیت کی رسم کا خاتمہ آپ ﷺ خود ہی کر کے جائیں۔
[64] اس لئے اللہ نے کسی مصلحت ہی سے اپنے رسول ﷺ کو نکاح کا حکم دیا۔ اور اس مصلحت پر اوپر حاشیہ گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے
1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی…
Read the full tafseer →40۔ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے نسبی اعتبار سے باپ نہیں ہیں مگر ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخر النبین اور سب نبیوں پر مہر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شے کی مصلحت کو خوب جاننے والا ہے ۔ یعنی آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں چھوٹے بیچے وفات پاچکے کوئی حد بلوغت کو نہیں پہنچارہا ۔ زید بن حارث تو وہ بھی حقیقی اور نسبی بیٹا نہیں محض لے پالک اور متنبی تھا تبنیت کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں اس لئے کہ یہ قضیہ بالکل صحیح ہے کہ
ما کان محمد ابا احد من رجالکم نسبی ابوت کی نفی کے بعد آپ کی رسالت اور آخر النبین اور سلسلہ نبوت پر مہر لگا کر اس دروازے کو ہمیشہ کے لئے بند کردینے والے کا اثبات ہے۔ آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔
5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔
(فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔
6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔
7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ ﷺ تم مردوں سے کسی کے باپ نہیں ہیں
40 ۔ زید کے طلاق دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے سیدہ زینب سے نکاح کرلیا ، بس یہ نکاح ہونا تھا کہ آپ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈہ کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور رہتی کسر اس نے نکال دی گویا ایک جنگ احزاب تو وہ تھی جو خندق کے نام سے معروف ہوئی اور اب دوسری جنگ یہ شروع ہوگئی جس میں اس ملک کی ساری جاعتیں شریک ہوگئیں۔ مشرکین ، منافقین او یہود سب کے سب جو آپ ﷺ کی کامیابیوں پر جلے پڑے تھے احزاب اور احزاب کے بعد قریظ کے واقعات کا قلق ان کو بہت تھا اور وہ جلے بھنے بیٹھے تھے زینب ؓ کے نکاح کے ساتھ ہی ان سب لوگوں نے مل کر ایک پروپیگنڈا مہم چلا دی کہ…
Read the full tafseer →Commentary
The verse quoted above refutes the contention of those people who, in accordance with the custom of the days of ignorance, used to call Sayyidna Zayd Ibn Harithah رضی اللہ تعالیٰ عنہ as son of the Messenger of Allah and used to taunt at the nikah (marriage) of the Holy Prophet ﷺ with Sayyidah Zainab ؓ ، after she had been divorced by Sayyidna Zayd Ibn Harithah ؓ that the Holy Prophet ﷺ had married his son's wife. It was enough to say in refutation that the father of Sayyidna Zayd ؓ is not the Holy Prophet ﷺ but Harithah ؓ . But in order to emphasis the matter, the statement has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
77 This one sentence arts at the root of aII those objections which the opponents were raising in connection with this marriage of the Holy Prophet. Their first objection was that he had married his own daughter-in-law, whereas according to his own law the son's wife is forbidden for the father. This was answered by saying: "Muhammad is not the father of any of your men." That is, Zaid was not his real son, and so it was not unlawful to marry his divorced wife. Their second objection was that even if his adopted son was not his real son, it was not necessary that he should have marred his…
Read the full tafseer →