Explained with ayahs 39–40
امی خاتم الانبیاء ﷺ۔
ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار حضرت محمد ﷺ ہیں۔ خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو حضور ﷺ نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ سے پہلے تمام…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 76
اصل الفاظ ہیں کفیٰ بِا للّٰہِ حَسِیْباً۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر خوف اور خطرے کے مقابلے میں اللہ کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کسی اور کی باز پرس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →آگے ان انبیاء (علیہم السلام) کی خاص صفات کا ذکر ہے، جن کے لئے پچھلے زمانے میں متعدد بیویاں رکھنے کی اجازت اوپر معلوم ہوئی ہے، فرمایا (آیت) الذین یبلغون رسلت اللہ، یعنی یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) سب ہی اللہ تعالیٰ کے پیغامات اپنی اپنی امتوں کو پہنچاتے تھے۔
ایک حکمت
شاید اس میں انبیاء (علیہم السلام) کی کثرت ازواج کی حکمت کی طرف بھی اشارہ ہو کہ ان کے تمام اعمال و اقوال امت کو پہنچنا ضروری ہیں، اور مردوں کا ایک بڑا حصہ وقت کا اپنے زنانے مکان میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ گزرتا ہے، اس وقت میں جو کوئی وحی نازل ہو یا خود پیغمبر کوئی حکم صادر فرما دیں یا کوئی عمل کریں، یہ سب امت کی امانت ہے جس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدر مقدورا الذی یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احد الا اللہ وکفی باللہ حسیبا (38۔ 39)
یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ آپ کی زندگی کے پروگرام میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے مراحل جو رکھ ہیں یہ کسی زحمت کے لئے نہیں رکھے ہیں اور نہ یہ تنہا آپ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں بلکہ سابق انبیاء کو بھی اس طرح کے مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو اس نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضراتِ انبیا کو اس طرح کی مشکلات جو پیش آتی ہیں یہ ان کی تربیت اور امتحان کے لئے پیش آتی ہیں اور ٹھیک ٹھیک خدا کے مقرر…
Read the full tafseer →39۔ 1 اس لئے کسی کا ڈر یا خوف انھیں صرف اللہ کا پیغام پہنچانے میں مانع بنتا نہ طعن و ملامت کی انھیں کوئی پرواہ ہوتی تھی۔
39۔ 2 یعنی ہر جگہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے موجود ہے، اس لئے وہ اپنے بندوں کی مدد کے لئے کافی ہے اور اللہ کے دین کی تبلیغ و دعوت میں انھیں جو مشکلات آتیں ان میں وہ چارہ سازی فرماتا اور دشمنوں کے مذموم ارادوں اور سازشوں سے انھیں بچاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
32: اس سے مراد حضرت زید بن حارثہ ؓ ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تو یہ تھا کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، اور اسلام لانے کی توفیق دی، یہاں تک کہ یہ ان چار خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ان پر احسان کی تفصیل یہ ہے کہ یہ آٹھ سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ اپنی ننھیال میں گئے تھے، وہاں قبیلہ قین کے لوگوں نے حملہ کر کے انہیں غلام بنایا، اور عکاظ کے میلے میں لے جا کر حضرت حکیم بن حزام کے ہاتھ بیچ دیا، انہوں نے یہ غلام اپنی پھوپی حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کو دے دیا۔ اس کے بعد جب حضرت خدیجہ ؓ سے حضور سرور عالم ﷺ کا نکاح ہوا تو حضرت خدیجہ نے انہیں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40)
اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔
وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1 یعنی اللہ کا حکم اٹل ہے جو بات اس کے یہاں طے ہوچکی ضرور ہو کر رہے گی۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ایسا کرنے میں کیا مضائقہ ہے جو شریعت میں روا ہوگیا۔ انبیاء و رسل کو اللہ کے پیغامات پہنچانے میں اس کے سوا کبھی کسی کا ڈر نہیں رہا۔ (چنانچہ آپ ﷺ نے بھی پیغام رسانی میں آج تک کسی چیز کی پروا نہیں کی نہ کسی کے کہنے سننے کے خیال سے کبھی متاثر ہوئے) پھر اس نکاح کے معاملہ میں رکاوٹ کیوں ہو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ اسی طرح سلیمان (علیہ السلام) کی کثرت ازواج مشہور ہے۔ جو الزام سفہاء آپ ﷺ کو دے سکتے ہیں انبیائے سابقین کی لائف میں اس سے بڑھ کر نظیریں موجود ہیں۔ لہذا اس طرح کی سفیہانہ اور جاہلانہ…
Read the full tafseer →آیت 39 { نِ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ } ”وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں“
یعنی سابقہ انبیاء و رسل علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی بلاخوفِ لومۃ لائم تبلیغ کرتے رہے ہیں اور اس معاملے میں انہوں نے کسی کی پروا نہیں کی۔
{ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا } ”اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
Read the full tafseer →63 باز پرس سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے خطرے اور پریشانیوں کے مقابلہ میں اللہ کافی ہے۔
Read the full tafseer →88۔ (چنانچہ آج جو آپ پر طعن کرنے والے ہیں وہ بھی کل حساب سے بچے نہ رہیں گے) (آیت) ” یبلغون رسلت اللہ “۔ تبلیغ پیام الہی عام ہے قولی اور فعلی ہر قسم کی تبلیغ کے لیے انبیاء گزشتہ کے قصے محض آپ ﷺ کی تقویت قلب کے لیے ہیں، ورنہ آپ تو یوں بھی کبھی غیر اللہ کے خوف کو خاطر میں نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن اور فرمانبردار مرد اور فرمانبرادر عورتیں اور ایمان میں مخلص مرد اور مخلص عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے اولی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور زندہ رکھنے والی عورتیں اور حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے معاصی سے مغفرت اور اطاعت پر اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت…
Read the full tafseer →الذین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدًا الا اللہ . وہ (سب پیغمبر ایسے تھے کہ) اللہ
کے احکام (امت کو) پہنچایا کرتے تھے اور اس باب میں اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔
جس طرح آپ اللہ کے احکام امر و نہی میں اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
وکفی باللہ حسیبًا . اور اللہ حساب لینے کیلئے کافی ہے۔
اس لئے اس سے ڈرنا ضروری ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہر مقام خوف کیلئے کافی ہے (اس لئے اس کے سوا کسی سے نہ ڈرنا چاہئے ‘ مترجم) ۔
Read the full tafseer →ان حضرات کی شادی کے بارے میں بھی جو احکام خداوندی کو پہنچایا کرتے تھے یعنی داؤد و سلیمان (علیہما السلام) اور رسول اکرم اور احکام پہنچانے میں اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حساب لینے والا کافی ہے۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ۔۔ : پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ کا یہی طریقہ ان لوگوں میں رہا ہے جو اس سے پہلے تھے۔ اب ان کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کا پیغام پہنچانے میں اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو ان کی طرح اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچانے اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرنے کی تلقین ہے، جیسا کہ فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ) [ الأنعام : 90 ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“
وَكَفٰى باللّٰهِ حَسِيْبًا : ”حَسِيْبًا“ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت سنۃ اللہ فی الذین خلو من قبل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام امت کو خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں انبیاء کی قدیمی سنتیں ہیں کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کے لیے نکاح میں جو وسعت عطا کی یہ گزشتہ انبیاء کی سنت تھی جس طرح حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما السلام۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی ایک سو بیویاں اور تین سو لونڈیاں تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ ثعلبی نے مقاتل اور ابن کلبی سے روایت نقل کی ہے کہ اشارہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف ہے کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
1۔ البزار وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ عباس اور علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہم کو بتائیں کہ اپنے گھروالوں میں سے کون آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا میرے گھوالوں میں سے مجھے فاطمہ ؓ زیادہ محبوب ہے ان دونوں نے کہا ہم آپ سے فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن زید مجھے زیادہ محبوب ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور میں نے بھی انعام فرمایا علی ؓ نے پھر پوچھا یارسول اللہ پھر کون محبوب ہے ؟ فرمایا پھر تو پھر عباس محبوب ہے عباس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] يُبَلِّغُوْنَ [تبلیغ کرتے ہیں ] رِسٰلٰتِ اللّٰهِ [اللہ کے پیغامات کی ] وَيَخْشَوْنَهٗ [اور وہ ڈرتے ہیں اس سے ] وَلَا يَخْشَوْنَ [اور وہ لوگ نہیں ڈرتے ] اَحَدًا [کسی ایک سے ] اِلَّا اللّٰهَ ۭ[سوائے اللہ کے ] وَكَفٰى بِاللّٰهِ [اور کافی ہے اللہ ] حَسِيْبًا [بطور حساب کرنے والے کے ] ۔
Read the full tafseer →(الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ ) (جو اللہ کے پیغاموں کو پہنچاتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں) (وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ) (اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) یہ (الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) کی صفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حکم مقدور اور مقرر فرما دیا ہے اس پر بغیر کسی جھجک کے عمل کرلیا یہ حضرات انبیا۔ کا طریقہ رہا ہے، ان حضرات کی شان یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغاموں کی تبلیغ کرتے تھے اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے، مخلوق کی کسی قسم کی کوئی ملامت انہیں تبلیغ حق سے نہیں روکتی تھی وہ قول سے بھی تبلیغ کرتے تھے اور عمل کرکے بھی دکھاتے تھے۔ (وَکَفٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(بقیہ پچھلی آیت میں)
خلاصہ کلام یہ کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کے کلام معرفت التیام کا حاصل یہ ہے کہ خاتمیت ایک جنس ہے جس کی دو قسمیں ہیں ایک زمانی اور دوسرے رتبی۔ خاتمیت زمانیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضور پر نور سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیا کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور خاتمیت رتبہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضور پر نور ﷺ پر ختم ہیں اور حضور پر نور ﷺ دونوں اعتبار سے خاتم النبیین ہیں زمانہ کے اعتبار سے بھی اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضور ﷺ کی خاتمیت فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
41:۔ ما کان علی الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے چوتھا خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے جو حکم صادر و مقدور فرمادیا ہے اس پر عمل کرنے میں اس کے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ ہونی چاہیے اور نہ اس سے پیغمبر (علیہ السلام) پر کوئی الزام ہی آسکتا ہے۔ گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) میں بھی اللہ کی سنت جاریہ یہی تھی کہ جائز کاموں کے کرنے میں ان پر کوئی الزام و اعتراض کی گنجائش نہ تھی۔ ای من قبلک من الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حیث لم یحرج جل شانہ علیھم الاقدام علی ما احل لھم ووسع علیہم فی باب النکاح وغیرہ (روح ج 22 ص 27) ۔ اب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے چونکہ متبنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز کردیا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات
جب حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کی مطلقہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیا تو کفار و منافقین نے طعنے دینے شروع کردیئے کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ وہ وراثت میں بھی حقدار ہوتا تھا اور اس کی بیوی سے نکاح بھی ناجائز تصور ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا لہٰذا اسے اس کے حقیقی باپ کے نام سے پکارا کرو۔ اور اگر اس کے باپ کا علم نہ ہو تو اسے اپنا بھائی اور رفیق کہہ کر بلا لیا کرو۔ البتہ اس کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئو اور ہو سکے تو اس کے ساتھ احسان کرو۔ البتہ اس پر…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللہِ وَيَخْشَوْنَہٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللہَ 0 ۭ وَكَفٰى بِاللہِ حَسِيْبًا 39
بَلَاغ : التبلیغ،
نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ :
بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] .
والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] ، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ
[ المائدة/ 67] ، أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
تفسیر … زینب ؓ کے قصہّ کی تحقیق اور مخالفوں کا جواب : فقال اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ امسک علیک زوجک و اتق اللہ و تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی الناس واللہ احق ان تخشہ، اس آیت میں ضرور ایک واقعہ گزشتہ کی طرف اشارہ ہے اور باتفاق مفسرین وہ زید بن حارثہ ؓ اور اس کی بیوی زینب بنت جحش ؓ کے جھگڑے کی طرف اشارہ اور اسی پر آیت کے الفاظ چسپاں ہیں۔ وہ قصہ یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ضمانت و کفالت اور بڑی کوشش سے زینب کا نکاح زید سے ہوا تھا۔ زینب قوم کی قریش اور اس پر تند خو تھیں، اکثر معاملات میں میاں بیوی کی تو تو میں میں رہتی تھی۔ آخر ناچار ہو کر زید نے حضرت ﷺ سے شکایت کی اور بجز آپ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
مَاکَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَـہٗ ط سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا نِ ۔ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَـہٗ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلاَّاللّٰہَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔ (الاحزاب : 38، 39)
(نبی کے لیے ایسے کام میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردیا ہے، یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے معاملے میں جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : پہلے فرمان کا تتمہّ ۔
اللہ تعالیٰ کا ہر حکم تعمیل کے لیے ہوتا ہے جس بنا پر سب سے پہلے اس پر نبی عمل کرتا ہے لہٰذا کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرے۔ اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں بھی یہی طر یقہ رہا ہے۔ اس کا حکم قطعی ہوا کرتا ہے یعنی اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں پس وپیش کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہی پیغمبروں کی شان ہے کہ ان پر جو احکام نازل ہوئے انہوں نے لوگوں کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پروا کیے بغیر انہیں من و عن اپنی امتوں تک پہنچایا اور اس پر عمل کر کے دکھلایا۔ اے نبی ﷺ آپ کو…
Read the full tafseer →39: الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ (یہ سب لوگ ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو پہنچایا کرتے تھے)
نحو : اول الذین سے بدل ہے نمبر 2۔ محل رفع میں کلام ابتدائی نمبر 3۔ مدح کی وجہ سے منصوب اے ھم الذین یبلغون نمبر 4۔ اعنی الذین یبلغون۔
وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے) اس آیت میں انبیاء (علیہم السلام) کا وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے ہیں۔ یہ تصریح کے بعد تعریض ہے و تخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اب اس آیت کے پیش نظر تخشی الناس کا معنی لیا جائے گا جو آپ کے مناسب ہوگا…
Read the full tafseer →39۔ ، الذین یبلغون رسالات اللہ، وہ سب انبیاء ایسے تھے جو اللہ کے پیغام کو پہنچا تے تھے ۔ ، ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ ، وہ لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے تھے اور ان کے آئمہ بھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا تھا اور ان پر فرض کیا تھا۔ ، وکفی باللہ حسیباوہ مخلوقات کے اعمال کے محافظ اور ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے والے ہیں۔ جب آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کیا تو لوگوں نے یہ باتیں کہنا شروع کردیں کہ دیکھو محمد (ﷺ) نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
36 تا 40۔ تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 2037201 ج 5۔ ) اس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے موضح القران میں بیان کیا ہے کہ حضرت زنیب ؓ اور ان کے راضی نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہ شان نزول صحیح بخاری 3 ؎ میں بھی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ہے (3 ؎ صفحہ 706 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) اب اس زنیب ؓ کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے خفگی سے آنحضرت ﷺ کو یہ جو فرمایا ہے کہ اے نبی جس چیز کو اللہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کو تم اپنے دل ہی دل میں کیوں…
Read the full tafseer →آیت 39
یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو کثرت ازواج کے ضمن میں آپ ﷺ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں جب کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں، چناچہ فرمایا : (مان کان علی النبی من حرج) ” نبی پر کوئی حرج نہیں ہے “ یعنی کوئی گناہ نہیں ہے (فیما فرض اللہ لہ) ” ان چیزوں میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جو بیویاں مقرر کی ہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کثرت از واج کو اسی طرح مباح کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے دیگر انبیاء کے لئے مباح کیا، اس لئے فرمایا : (سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل و کان امر اللہ قدراً مقدوراً ) ” جو لوگ پہلے گزر گئے ان میں بھی اللہ کا یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
متبنیٰ کی بیوی سے طلاق ہونے پر نکاح ہوسکتا ہے
قول باری ہے (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ توتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اور (اس وقت کو بھی یاد کیجئے) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی فضل کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کی طرف سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
سفیان بن عینیہ نے علی بن زید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا : مجھ سے علی…
Read the full tafseer →73 اللہ تعالیٰ کے محاسبے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافی ہے اللہ حساب لینے کو۔ پس اس کے ساتھ اپنا معاملہ صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی اور سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ فَاِیَّاہ نسأل التوفیق لذالک۔ اور ابن کثیر اور کشاف نے " حسیب " کی تفسیر و تشریح " ناصر " اور " معین " سے کی ہے۔ یعنی اللہ کافی ہے بندے کی نصرت و امداد اور تمام خطرات سے اس کی حفاظت کیلئے۔ لہذا دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھا جائے لیکن حسیب کے عام اور مشہور معنیٰ حساب کرنے والے ہی کے آتے ہیں۔ جیسا کہ ترجمہ میں اسی معنیٰ کو اختیار کیا گیا ہے۔ سو اس صورت میں یہ ارشاد تنبیہہ و تذکیر کے مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سیدنازید کی شادی اور طلاق کی مصلحت
تشریح : دراصل ان آیات میں اللہ کی اس حکمت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے جاہلیت کی وہ رسم سرے سے ختم کرنا مقصود تھا کہ جس کی وجہ سے لوگ منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے برابر درجہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے وراثت کے معاملہ میں بڑی الجھنیں پیدا ہوجاتی تھیں اور پھر اصلی رشتہ دار وراثت سے کافی حد تک محروم رہ جاتے تھے اسی طرح رشتہ داریوں کی حرمت اور درجات میں کافی گڑ بڑ ہوجاتی تھی۔ دین ِ اسلام اصلاح معاشرہ کا دین ہے اسی لیے اس غلط رسم کو جڑ سے نکال دیا گیا۔ ہوا اس طرح کہ جب خلاف خوشی سیدہ زینب اور سیدنازید کا نکاح اللہ کے حکم کے تحت ہوگیا تو اصل میں ان دونوں کو دلی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیات 35 تا 40
اسرارومعارفف
مرد اور عورت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عبادت کے برابر مکلف ہیں اور دونوں کا حساب ہوگا اجر پائیں گے :
چنانچہ یہ بات جان لی جائے کہ قبول اسلام اور اتباع شریعت بھی ایک کھیتی ہے جیسے زمین تیار کرنا بیج ڈالنا حفاظت کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے بیشک اسلام قبول کرنے والے مرد ہوں یا خواتین انہیں قبول اسلام سے یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دولت ایمان و یقین سے بہرہ ور مردوں اور خواتین کو عبادت و اطاعت کی توفیق ارزاں ہوتی ہے عبادت الہی بندے کو سچا اور کھرا بنا دیتی ہے سچے اور کھرے مرد اور خواتین کو نیکی پر استقامت گناہوں سے بچاؤ اور تکالیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ف 1 یعنی جس شخص زید ؓ بن حارثہ کی مطلقہ بیوی سے انہوں نے نکاح کیا ہے وہ ان کو بیٹا ہے کب کہ کوئی یہ اعتراض کرسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کے جتنے بیٹے ہوئے ؟ بچپن ہی میں گزر گئے اور کوئی بھی اس عمر کو نہیں پہنچا کہ مرد کہلا سکے۔ صرف لڑکیاں تھیں اور ان میں بھی صرف حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد باقی رہی۔2 لفظی ترجمہ یہ ہے۔” البتہ وہ اللہ کا رسول ﷺ ہے اور نبیوں ﷺ کا ختم کرنے والا “۔ اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ محمد ﷺ رہتی دنیا تک اللہ کے نبی ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور پھر احادیث صحیحہ میں اس خاتم النبین ہونے کی تشریح کردی گئی ہے جس کے بعد کسی…
Read the full tafseer →(33:39) الذین یبلغون رسلت اللہ ۔۔ الا اللہ یہ الذین خلوا کی صفت ہے یبلغون مضارع جمع مذکر غائب بمعنی کانوا یبلغون۔ تبلیغ (تفعیل) مصدر۔ وہ پہنچایا کرتے تھے۔ (اللہ کے احکام) ۔ یخشونہ۔ مضارع جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اللہ کی طرف راجع ہے۔ اور وہ اسی ڈرتے تھے خشیۃ مصدر (باب سمع) ۔
رسلت۔ رسالۃ کی جمع ہے پیغامات۔ احکامات۔ کفی۔ ماضی کا صیغہ مراد استمرار ہے کفایۃ مصدر۔ اسم ۔ اس کے معنی وہ چیز جو ہر ضرورت پوری کر دے اور اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کافی ہے۔ حسیبا۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔ حساب مصدر بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40
الخیرۃ : اختیار
امسک : روک لے
مبدی : ظاہر کرنے والا
وطر : حاجت
زوجنا : ہم نے نکاح کردیا
ادعیاء : بلاتے ہیں۔ پکارتے ہیں
یبلغون : وہ پہنچاتے ہیں
یخشون : وہ خوف رکھتے ہیں۔ ڈرتے ہیں
حسیب : حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
ان آیات میں حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، طلاق ، پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، منہ بولے بیٹوں کی شرعی حیثیت کے اہم ترین مسئلوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
حضرت زید ؓ ابن حارثہ بنو کلب کے حارثہ ابن شراحیل کے بیٹے تھے ۔ والد کا نام سعدٰی بنت ثعلبی تھا اور ان کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھا ۔ جب حضرت زید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
حقیقی باپ کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ اپنے نبی کے واسطے جائز کردیا ہے وہ مثل اس طریق کے ہے جو پہلے نبیوں کا طریقہ تھا کچھ اس سے ملبوث میں فرق نہیں آتا، دیکھو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک سوبیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان کی تین سوبیویاں تھیں اگر یہ نبی اس پر عمل درآمد کریں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ اللہ کا جوحکم مقرر ہوچکا ہے وہ نہیں ٹلتا، وہ انبیاء سابقین کیسے تھے جو اپنے رب کے پیغام امت کو پہنچایا کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اے محبوب تم تو سب سے افضل ہو، پھر تم لوگوں کا خوف کیوں کرو گے، پھر فرمایا کہ نیکوں کی فرمانبرداری اور بدوں کی بدگوئی کے حساب کتاب کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[43] مراد اسی نکاح زینب ؓ سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 2: حضرت زنیب کے نکاح کرکے حضور ﷺ نے ایک پرانی رسم کو توڑدیا ۔ مگر دل منقیض تھا ۔ اس لئے آپ نہیں چاہتے تھے ۔ کہ اس طریق سے لوگوں کو نفس اسلام کے متعلق کچھ کہنے اور سننے کا موقع نہ ملے ۔ اس آیت میں آپ کی مزید طمانیت قلب کے لئے فرمایا کہ اس قسم کے معاملات میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ کہ پیغمبر ہمیشہ عوام الناس کی خواہشات کے خلاف اقدام کرکے خود ملامتوں اور طعنوں کا نشانہ بن جایا کرتا ہے ۔ وہ تو مبعوث ہی اس لئے ہوتے ہیں ۔ کہ سوسائٹی اور سماج کے غلط مقام کو درہم برہم کردیں ۔ ان کے آنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے ۔ کہ اپنے عمل سے اپنے لئے ایک بالکل اچھوتے اور جداگانہ طریق زندگی کی طرح…
Read the full tafseer →39۔ وہ اگلے پیغمبر ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اعمال کا حساب لینے کے لئے کافی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو بات پیغمبر کے لئے مقرر کردے یہ تقریر خواہ تکوینی ہو یا تشریعی ، اس کے کرنے میں کوئی الزام اور مواخذہ نبی پر نہیں ۔
غرض ! جو چیز اس کے لئے مباح کردی گئی وہ مباح ہے یہی طریقہ انبیائے سابقین میں بھی رہا ہے کہ جس بات کو ان کو اجازت دیدی گئی اس پر کوئی مواخذہ یا تنگی نہیں اور اللہ تعالیٰ کا کام اور اس کا حکم تو ایک طے شدہ اور پہلے سے تجویز کردہ ہوتا ہے۔ آگے ان پیغمبروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔
5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔
(فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔
6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔
7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔
Read the full tafseer →مبلغ رسالت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کا ڈر اپنے دل میں نہ رکھے
39 ۔ کہنے کو انسان بہت کچھ کہہ سکتا ہے لیکن معاملہ جب اخلاق وکردار کے امتحان کا آتا ہے تو اللہ والے نکھر کر سامنے آجاتے ہیں اور سب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ چوریاں کھانے والے کون ہیں اور خود دینے والے کون ہیں ؟ اور پھر جب بات اس طرح واضح ہوتی ہے تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ چوریاں کھانے والے بہانے تراشتے ہیں اور مصلحت اندیشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور خون دینے والے سامنے میدان میں آکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ بات اس لئے عرض کرنا پڑی کہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ نبی ورسول باوجود انسان ہونے کے عام انسانوں میں اپنی حیثیت بالکل الگ تھلگ…
Read the full tafseer →Mentioned next are particular attributes of the prophets علیہم السلام about whom we have learnt a while ago that they were permitted to have several wives in earlier times. It was said: الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّـهِ (those who convey the messages of Allah and have awe of Him and have no awe of anyone except Allah - 39), that is, all these esteemed prophets, may peace be upon them, convey the messages of Allah to their respective communities without fear of anyone.
A wise consideration
Perhaps, in this, there may be a hint towards the wisdom behind the multiplicity of marriages…
Read the full tafseer →76 The words in the Text havc two meanings: (1) That Allah is enough to counter every fear and danger; and (2) that Allah is enough to take account: none else but Allah should be feared for accountability.
Read the full tafseer →