لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم۔
فرماتا ہے کہ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی ﷺ پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 74
ان الفاظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے لیے تو اس طرح کا نکاح محض مباح ہے مگر نبی ﷺ کے لیے یہ ایک فرض تھا جو اللہ نے آپ پر عائد کیا تھا۔
سورة الْاَحْزَاب 75
یعنی انبیاء کے لیے ہمیشہ سے یہ ضابطہ مقرر رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم بھی آئے اس پر عمل کرنا ان کے لیے قضائے مُبْرَم ہے جس سے کوئی مفر ان کے لیے نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر کوئی کام فرض کر دے تو اسے وہ کام کر کے ہی رہنا ہوتا ہے خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت پر تل گئی ہو۔
Read the full tafseer →شبہات و اعتراضات کے جواب کی تمہید
(آیت) سنة اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدراً مقدوراً ، یہ تمہید ہے اس نکاح پر پیش آنے والے شکوک و شبہات کی کہ دوسری ازواج کے ہوتے ہوئے اس نکاح کا اہتمام کس لئے کیا گیا۔ ارشاد فرمایا کہ یہ سنت ہے اللہ کی جو محمد مصطفیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ سے پہلے انبیاء میں بھی جاری رہی ہے، کہ بمصالح دینیہ بہت سی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی، جن میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) زیادہ معروف ہیں کہ داؤد ؑ کے نکاح میں سو اور سلیمان ؑ کے نکاح میں تین سو بیبیاں تھیں۔ اگر رسول اللہ کے لئے دینی مصالح سے متعدد نکاح کی اجازت ہوئی اور یہ نکاح بھی ان میں شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدر مقدورا الذی یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احد الا اللہ وکفی باللہ حسیبا (38۔ 39)
یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ آپ کی زندگی کے پروگرام میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے مراحل جو رکھ ہیں یہ کسی زحمت کے لئے نہیں رکھے ہیں اور نہ یہ تنہا آپ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں بلکہ سابق انبیاء کو بھی اس طرح کے مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو اس نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضراتِ انبیا کو اس طرح کی مشکلات جو پیش آتی ہیں یہ ان کی تربیت اور امتحان کے لئے پیش آتی ہیں اور ٹھیک ٹھیک خدا کے مقرر…
Read the full tafseer →38۔ 1 یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ ﷺ کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔
38۔ 2 یعنی گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔
38۔ 3 یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
32: اس سے مراد حضرت زید بن حارثہ ؓ ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تو یہ تھا کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، اور اسلام لانے کی توفیق دی، یہاں تک کہ یہ ان چار خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ان پر احسان کی تفصیل یہ ہے کہ یہ آٹھ سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ اپنی ننھیال میں گئے تھے، وہاں قبیلہ قین کے لوگوں نے حملہ کر کے انہیں غلام بنایا، اور عکاظ کے میلے میں لے جا کر حضرت حکیم بن حزام کے ہاتھ بیچ دیا، انہوں نے یہ غلام اپنی پھوپی حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کو دے دیا۔ اس کے بعد جب حضرت خدیجہ ؓ سے حضور سرور عالم ﷺ کا نکاح ہوا تو حضرت خدیجہ نے انہیں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40)
اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔
وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1 یعنی اللہ کا حکم اٹل ہے جو بات اس کے یہاں طے ہوچکی ضرور ہو کر رہے گی۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ایسا کرنے میں کیا مضائقہ ہے جو شریعت میں روا ہوگیا۔ انبیاء و رسل کو اللہ کے پیغامات پہنچانے میں اس کے سوا کبھی کسی کا ڈر نہیں رہا۔ (چنانچہ آپ ﷺ نے بھی پیغام رسانی میں آج تک کسی چیز کی پروا نہیں کی نہ کسی کے کہنے سننے کے خیال سے کبھی متاثر ہوئے) پھر اس نکاح کے معاملہ میں رکاوٹ کیوں ہو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ اسی طرح سلیمان (علیہ السلام) کی کثرت ازواج مشہور ہے۔ جو الزام سفہاء آپ ﷺ کو دے سکتے ہیں انبیائے سابقین کی لائف میں اس سے بڑھ کر نظیریں موجود ہیں۔ لہذا اس طرح کی سفیہانہ اور جاہلانہ…
Read the full tafseer →آیت 38 { مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ } ”نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے۔“
{ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ } ”اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔“
تمام نبیوں اور رسولوں علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جو چیز ان پر فرض کردی جاتی تھی اس پر انہیں عمل کرنا ہوتا تھا۔
{ وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا } ”اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔“
یہ سارا معاملہ اللہ کی مشیت میں پہلے سے طے ہوچکا تھا اور اس فیصلے کی تنفیذ کے لیے وقت مقرر…
Read the full tafseer →62 یعنی اللہ کا یہ حکم ایسا تھا۔ جس کا اللہ پہلے ہی فیصلہ کرچکا تھا اور یہ نکاح کرنا نبی پر فرض کیا گیا تھا۔ کیونکہ اللہ اپنے نبی کے ذریعہ ہی اس رسم کو مٹانا چاہتا تھا۔ اور یہ کام بہرحال ہو کر ہی رہنا تھا۔ سابقہ انبیاء میں بھی اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ اللہ کا حکم بہرحال انھیں سرانجام دینا ہوتا تھا خواہ اس سلسلہ میں کتنی ہی مشکلات پیش آئیں اور پریشانیاں لا حق ہوں۔
Read the full tafseer →85۔ (تکوینا خواہ تشریعا) یہاں مراد اسی نکاح زینب سے ہے۔ اے فی ما احل لہ وامرہ بہ من تزویج زینب (ابن کثیر)
86۔ یعنی انبیاء سابقین کا یہی دستور رہا ہے کہ انہیں جس امر کی اجازت ہوتی ہے، اسے بلاتامل کر گزرتے ہیں۔ اور اس میں مورد طعن وملامت نہیں ہوسکتے۔ (آیت) ’ ’ الذین خلوا من قبل “۔ سے مراد انبیاء سابقین ہیں، جیسا کہ آئندہ آیت میں تصریح سے آرہا ہے۔ الذین یبلغون رسلت اللہ۔ اے من قبلک من الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام (روح)
87۔ یعنی بیشمار حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل دنیوی حکمرانوں کے احکام کی طرح فوری مقصد و ضرورت پر مبنی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن اور فرمانبردار مرد اور فرمانبرادر عورتیں اور ایمان میں مخلص مرد اور مخلص عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے اولی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور زندہ رکھنے والی عورتیں اور حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے معاصی سے مغفرت اور اطاعت پر اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت…
Read the full tafseer →ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ . اور پیغمبر کیلئے جو بات اللہ نے مقرر کردی تھی اس میں ان
پر کوئی الزام نہیں۔
حَرَجٌ‘ تنگی۔ فِیْمَا فَرَضَ اللہ لَہٗ یعنی عورتوں کی جو تعداد اللہ نے پیغمبر کیلئے مقرر اور مقدر کردی تھی۔ عرب کہتے ہیں : فُرِضَ لَہٗ فِی الدِّیْوَان رجسٹر میں اس کیلئے حصہ مقرر کردیا گیا۔ فروض العسکر فوج کی مقرر تنخواہیں۔ بعض علماء نے آیت میں فَرَضَ کے معنی اَحَلَّ (پیغمبر کیلئے اللہ کے جو کچھ حلال کردیا) بیان کئے ہیں۔
سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدرًا مقدورا . اللہ نے ان (پیغمبروں) کیلئے بھی
یہی معمول کر رکھا ہے جو پہلے گذر چکے ہیں اور اللہ کا فیصلہ (پہلے…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے حق میں بھی یہی معمول کر رکھا ہے جو رسول اکرم سے پہلے گزرے ہیں۔ چناچہ حضرت داؤد کی اور یا کی بیوی سے اور حضرت سلیمان کی بلقیس سے شادی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا تجویز کیا ہوا حکم ضرور پورا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو کام طے کردیا اور اس کا حکم دے دیا اس کے ادا کرنے میں اس پر کوئی تنگی نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ ”کان“ نفی کے استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کبھی کوئی تنگی نہیں۔“ اس لیے اسے وہ بات بتانے میں یا اس پر عمل کرنے میں کسی طعن و تشنیع یا ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرمایا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اسی طرح یہ بھی طے فرما دیا کہ نبی ﷺ اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح کریں گے۔ اس لیے آپ ﷺ کو اس کے اظہار یا اس پر عمل کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت سنۃ اللہ فی الذین خلو من قبل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام امت کو خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں انبیاء کی قدیمی سنتیں ہیں کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کیا۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کے لیے نکاح میں جو وسعت عطا کی یہ گزشتہ انبیاء کی سنت تھی جس طرح حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما السلام۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی ایک سو بیویاں اور تین سو لونڈیاں تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ ثعلبی نے مقاتل اور ابن کلبی سے روایت نقل کی ہے کہ اشارہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف ہے کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
1۔ البزار وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ عباس اور علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہم کو بتائیں کہ اپنے گھروالوں میں سے کون آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا میرے گھوالوں میں سے مجھے فاطمہ ؓ زیادہ محبوب ہے ان دونوں نے کہا ہم آپ سے فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن زید مجھے زیادہ محبوب ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور میں نے بھی انعام فرمایا علی ؓ نے پھر پوچھا یارسول اللہ پھر کون محبوب ہے ؟ فرمایا پھر تو پھر عباس محبوب ہے عباس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے…
Read the full tafseer →مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ [نہیں ہے ان نبی ﷺ پر ] مِنْ حَرَجٍ [کوئی بھی حرج ] فِيْمَا [اس میں جو ] فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ۭ [فرض کیا اللہ نے ان ﷺ کے لئے ] سُـنَّةَ اللّٰهِ [(آپ ﷺ پائیں گے) اللہ کی سنت کو ] فِي الَّذِيْنَ [ان (انبیاء) میں جو ] خَلَوْا [گزرے ] مِنْ قَبْلُ ۭ [اس سے پہلے ] وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ [اور ہے اللہ کا حکم ] قَدَرًا [ایک اندازے سے ] مَّقْدُوْرَۨا [اندازہ کیا ہوا ] ۔
Read the full tafseer →(مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ) (نبی پر اس بارے میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لیے مقرر فرما دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو مقدور فرما دیا اور حلال قرار دے دیا اس کے بارے میں نبی پر کوئی الزام و مواخذہ نہیں، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الزام نہیں تو مخلوق کو اعتراض کرنے کا اور طعن وتشنیع کا کوئی حق نہیں۔ (سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) (جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا یہی طریقہ رکھا ہے) یعنی سابقین انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ان کے لیے بہت سی چیزوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(بقیہ پچھلی آیت میں)
خلاصہ کلام یہ کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کے کلام معرفت التیام کا حاصل یہ ہے کہ خاتمیت ایک جنس ہے جس کی دو قسمیں ہیں ایک زمانی اور دوسرے رتبی۔ خاتمیت زمانیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضور پر نور سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیا کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور خاتمیت رتبہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضور پر نور ﷺ پر ختم ہیں اور حضور پر نور ﷺ دونوں اعتبار سے خاتم النبیین ہیں زمانہ کے اعتبار سے بھی اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضور ﷺ کی خاتمیت فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
41:۔ ما کان علی الخ، یہ آنحضرت ﷺ سے چوتھا خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے جو حکم صادر و مقدور فرمادیا ہے اس پر عمل کرنے میں اس کے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ ہونی چاہیے اور نہ اس سے پیغمبر (علیہ السلام) پر کوئی الزام ہی آسکتا ہے۔ گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) میں بھی اللہ کی سنت جاریہ یہی تھی کہ جائز کاموں کے کرنے میں ان پر کوئی الزام و اعتراض کی گنجائش نہ تھی۔ ای من قبلک من الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حیث لم یحرج جل شانہ علیھم الاقدام علی ما احل لھم ووسع علیہم فی باب النکاح وغیرہ (روح ج 22 ص 27) ۔ اب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے چونکہ متبنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز کردیا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات
جب حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کی مطلقہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیا تو کفار و منافقین نے طعنے دینے شروع کردیئے کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ وہ وراثت میں بھی حقدار ہوتا تھا اور اس کی بیوی سے نکاح بھی ناجائز تصور ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا لہٰذا اسے اس کے حقیقی باپ کے نام سے پکارا کرو۔ اور اگر اس کے باپ کا علم نہ ہو تو اسے اپنا بھائی اور رفیق کہہ کر بلا لیا کرو۔ البتہ اس کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئو اور ہو سکے تو اس کے ساتھ احسان کرو۔ البتہ اس پر…
Read the full tafseer →مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللہُ لَہٗ 0 ۭ سُـنَّۃَ اللہِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ 0 ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا 38ۡۙ
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
تفسیر … زینب ؓ کے قصہّ کی تحقیق اور مخالفوں کا جواب : فقال اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ امسک علیک زوجک و اتق اللہ و تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی الناس واللہ احق ان تخشہ، اس آیت میں ضرور ایک واقعہ گزشتہ کی طرف اشارہ ہے اور باتفاق مفسرین وہ زید بن حارثہ ؓ اور اس کی بیوی زینب بنت جحش ؓ کے جھگڑے کی طرف اشارہ اور اسی پر آیت کے الفاظ چسپاں ہیں۔ وہ قصہ یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ضمانت و کفالت اور بڑی کوشش سے زینب کا نکاح زید سے ہوا تھا۔ زینب قوم کی قریش اور اس پر تند خو تھیں، اکثر معاملات میں میاں بیوی کی تو تو میں میں رہتی تھی۔ آخر ناچار ہو کر زید نے حضرت ﷺ سے شکایت کی اور بجز آپ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
مَاکَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَـہٗ ط سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا نِ ۔ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَـہٗ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلاَّاللّٰہَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔ (الاحزاب : 38، 39)
(نبی کے لیے ایسے کام میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردیا ہے، یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے معاملے میں جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : پہلے فرمان کا تتمہّ ۔
اللہ تعالیٰ کا ہر حکم تعمیل کے لیے ہوتا ہے جس بنا پر سب سے پہلے اس پر نبی عمل کرتا ہے لہٰذا کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرے۔ اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں بھی یہی طر یقہ رہا ہے۔ اس کا حکم قطعی ہوا کرتا ہے یعنی اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں پس وپیش کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہی پیغمبروں کی شان ہے کہ ان پر جو احکام نازل ہوئے انہوں نے لوگوں کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پروا کیے بغیر انہیں من و عن اپنی امتوں تک پہنچایا اور اس پر عمل کر کے دکھلایا۔ اے نبی ﷺ آپ کو…
Read the full tafseer →حلال کے استعمال میں پیغمبر ﷺ کو کیا قباحت :
38: مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ (اور نبی اکرم ﷺ پر کوئی الزام نہیں اس بات میں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کردی) فرض اللہ ؔ سے مراد جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کیا اور اس کا حکم دیا اور وہ زید ؓ کی بیوی زینب ؓ سے نکاح تھا۔ نمبر 2۔ جو عورتوں کی تعداد آپ کے لئے مقرر کردی تھی۔
سُنَّۃَ اللّٰہِ (اللہ عزوجل کا طریقہ) اور اللہ تعالیٰ نے یہی معمول بنا رکھا ہے) سنۃ یہ اسم ہے جس کو مصدر کی جگہ رکھا گیا ہے جیسے کہتے ہیں : تربًا وجندلًا، یہ ماکان علی النبی من حرج کی تاکید ہے۔ گویا تقدیر کلام اس طرح ہے سن اللہ ذلک…
Read the full tafseer →تفسیر 38۔ ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حلال کردی۔ ، سنۃ اللہ، منصوب ہے حرف جر کے مخدوف ہونے کی وجہ سے ۔ اصل عبارت یوں تھی، کسنۃ اللہ ، بعض نے کہا کہ منصوب بنابر اغراء ہے فعل محذوف کی وجہ سے ۔ ، ای الزمواسنۃ اللہ ،۔۔۔ ، فی الذین خلوامن قبل ، ماقبل انبیاء کرام (علیہم السلام) سے بھی اس با ت کا مواخذہ نہیں کیا گیا جو اشیاء ان کے لیے حلال کردی گئی تھیں۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد ہیں حضرت داؤد (علیہ السلام) کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی ایک عورت کی طرف مائل ہوگئے تھے جس سے انہوں نے نکاح کرلیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب سے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
36 تا 40۔ تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 2037201 ج 5۔ ) اس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے موضح القران میں بیان کیا ہے کہ حضرت زنیب ؓ اور ان کے راضی نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہ شان نزول صحیح بخاری 3 ؎ میں بھی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ہے (3 ؎ صفحہ 706 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) اب اس زنیب ؓ کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے خفگی سے آنحضرت ﷺ کو یہ جو فرمایا ہے کہ اے نبی جس چیز کو اللہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کو تم اپنے دل ہی دل میں کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37
ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے ایک عام قانون مشروع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے، تمام وجوہ سے، حقیقی بیٹوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں اور ان کی بیویوں کے ساتھ، متنبیٰ بنانے والوں کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ معاملہ ان امور عادیہ میں شمار ہوتا تھا جو کسی بہت بڑے حادثے کے بغیر ختم نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ یہ قانون رسول ﷺ کے قول و فعل کے ذریعے سے وجود میں آئے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے کوئی سبب مقرر کردیتا ہے۔
(زید بن حارثہ کو ” زید بن محمد “ کہہ کر پکارا جاتا تھا جنہیں نبی مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
متبنیٰ کی بیوی سے طلاق ہونے پر نکاح ہوسکتا ہے
قول باری ہے (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ توتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اور (اس وقت کو بھی یاد کیجئے) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی فضل کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کی طرف سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
سفیان بن عینیہ نے علی بن زید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا : مجھ سے علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
69 حضرت زید ؓ پر خصوصی انعام و احسان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان فرمایا اور آپ نے بھی " یعنی حضرت زید بن حارثہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اسلام و ایمان کی نعمت سے نوازنے کا انعام فرمایا تھا اور حضور نے ان پر عتق و آزادی بخشنے اور اتنے اونچے رشتے کا احسان فرمایا تھا۔ حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کی یہ شادی ہو تو اگرچہ گئی تھی مگر دونوں کی طبیعتوں میں موافقت نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کا نباہ نہ ہوسکا، یہاں تک کہ حضرت زید طلاق دینے کو تیار ہوگئے۔ تو حضور کو یہ شاق ہوا کہ زینب پہلے تو اس رشتے کے لئے سرے سے راضی ہی نہ تھیں اور میرے کہنے پر رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سیدنازید کی شادی اور طلاق کی مصلحت
تشریح : دراصل ان آیات میں اللہ کی اس حکمت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے جاہلیت کی وہ رسم سرے سے ختم کرنا مقصود تھا کہ جس کی وجہ سے لوگ منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے برابر درجہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے وراثت کے معاملہ میں بڑی الجھنیں پیدا ہوجاتی تھیں اور پھر اصلی رشتہ دار وراثت سے کافی حد تک محروم رہ جاتے تھے اسی طرح رشتہ داریوں کی حرمت اور درجات میں کافی گڑ بڑ ہوجاتی تھی۔ دین ِ اسلام اصلاح معاشرہ کا دین ہے اسی لیے اس غلط رسم کو جڑ سے نکال دیا گیا۔ ہوا اس طرح کہ جب خلاف خوشی سیدہ زینب اور سیدنازید کا نکاح اللہ کے حکم کے تحت ہوگیا تو اصل میں ان دونوں کو دلی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیات 35 تا 40
اسرارومعارفف
مرد اور عورت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عبادت کے برابر مکلف ہیں اور دونوں کا حساب ہوگا اجر پائیں گے :
چنانچہ یہ بات جان لی جائے کہ قبول اسلام اور اتباع شریعت بھی ایک کھیتی ہے جیسے زمین تیار کرنا بیج ڈالنا حفاظت کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے بیشک اسلام قبول کرنے والے مرد ہوں یا خواتین انہیں قبول اسلام سے یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دولت ایمان و یقین سے بہرہ ور مردوں اور خواتین کو عبادت و اطاعت کی توفیق ارزاں ہوتی ہے عبادت الہی بندے کو سچا اور کھرا بنا دیتی ہے سچے اور کھرے مرد اور خواتین کو نیکی پر استقامت گناہوں سے بچاؤ اور تکالیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ف 1 یعنی جس شخص زید ؓ بن حارثہ کی مطلقہ بیوی سے انہوں نے نکاح کیا ہے وہ ان کو بیٹا ہے کب کہ کوئی یہ اعتراض کرسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کے جتنے بیٹے ہوئے ؟ بچپن ہی میں گزر گئے اور کوئی بھی اس عمر کو نہیں پہنچا کہ مرد کہلا سکے۔ صرف لڑکیاں تھیں اور ان میں بھی صرف حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد باقی رہی۔2 لفظی ترجمہ یہ ہے۔” البتہ وہ اللہ کا رسول ﷺ ہے اور نبیوں ﷺ کا ختم کرنے والا “۔ اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ محمد ﷺ رہتی دنیا تک اللہ کے نبی ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور پھر احادیث صحیحہ میں اس خاتم النبین ہونے کی تشریح کردی گئی ہے جس کے بعد کسی…
Read the full tafseer →(33:38) فرض : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب فرض مصدر (باب ضرب) الفرض کے معنی سخت چیز کو کاٹنے اور اس میں نشان ڈالنے کے ہیں۔ مثلاً لکڑی کا ٹنا یا لکڑی چھید کرنا۔ قرآنی اصطلاح میں اس کے کئی معنی آئے ہیں۔
(1) مقرر کرنا۔ معین کرنا۔ مثلاً وقد فرضتم لہن فریضۃ (2:237) لیکن تم ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے ہو۔
(2) کسی چیز کا کسی پر واجب کرنا۔ (اگر مفعول دائم پر علی آئے) مثلاً ان الذی فرض علیک القران (28:75) (اے پیغمبر) جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے یعنی اس پر عمل کرنا تجھ پر لازم کیا ہے۔
(3) عزم کرنا۔ اپنے اوپر لازم کرلینا مثلاً فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج (2: 1 97) اور ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40
الخیرۃ : اختیار
امسک : روک لے
مبدی : ظاہر کرنے والا
وطر : حاجت
زوجنا : ہم نے نکاح کردیا
ادعیاء : بلاتے ہیں۔ پکارتے ہیں
یبلغون : وہ پہنچاتے ہیں
یخشون : وہ خوف رکھتے ہیں۔ ڈرتے ہیں
حسیب : حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
ان آیات میں حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، طلاق ، پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، منہ بولے بیٹوں کی شرعی حیثیت کے اہم ترین مسئلوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
حضرت زید ؓ ابن حارثہ بنو کلب کے حارثہ ابن شراحیل کے بیٹے تھے ۔ والد کا نام سعدٰی بنت ثعلبی تھا اور ان کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھا ۔ جب حضرت زید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
حقیقی باپ کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ اپنے نبی کے واسطے جائز کردیا ہے وہ مثل اس طریق کے ہے جو پہلے نبیوں کا طریقہ تھا کچھ اس سے ملبوث میں فرق نہیں آتا، دیکھو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک سوبیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان کی تین سوبیویاں تھیں اگر یہ نبی اس پر عمل درآمد کریں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ اللہ کا جوحکم مقرر ہوچکا ہے وہ نہیں ٹلتا، وہ انبیاء سابقین کیسے تھے جو اپنے رب کے پیغام امت کو پہنچایا کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اے محبوب تم تو سب سے افضل ہو، پھر تم لوگوں کا خوف کیوں کرو گے، پھر فرمایا کہ نیکوں کی فرمانبرداری اور بدوں کی بدگوئی کے حساب کتاب کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[43] مراد اسی نکاح زینب ؓ سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 2: حضرت زنیب کے نکاح کرکے حضور ﷺ نے ایک پرانی رسم کو توڑدیا ۔ مگر دل منقیض تھا ۔ اس لئے آپ نہیں چاہتے تھے ۔ کہ اس طریق سے لوگوں کو نفس اسلام کے متعلق کچھ کہنے اور سننے کا موقع نہ ملے ۔ اس آیت میں آپ کی مزید طمانیت قلب کے لئے فرمایا کہ اس قسم کے معاملات میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ کہ پیغمبر ہمیشہ عوام الناس کی خواہشات کے خلاف اقدام کرکے خود ملامتوں اور طعنوں کا نشانہ بن جایا کرتا ہے ۔ وہ تو مبعوث ہی اس لئے ہوتے ہیں ۔ کہ سوسائٹی اور سماج کے غلط مقام کو درہم برہم کردیں ۔ ان کے آنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے ۔ کہ اپنے عمل سے اپنے لئے ایک بالکل اچھوتے اور جداگانہ طریق زندگی کی طرح…
Read the full tafseer →38۔ اللہ تعالیٰ نے جو بات نبی کے لئے مقرر کردی اس بات کے کرنے میں نبی پر کوئی الزام اور کچھ مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ کا یہی معمول اور یہی دستور ان لوگوں میں بھی رہا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم تو پہلے سیت جو یز شدہ ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔
5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔
(فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔
6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔
7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔
Read the full tafseer →جس چیز کو اللہ نے حلال اور جائز رکھا ہے اس میں نبی کوئی مضائقہ نہیں سمجھے گا
38 ۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ تقسیم خود رب ذوالجلال والا کرام ہی نے کردی ہے۔ 1) ” نبی کریم ﷺ کے لئے اس کام میں مضائقہ نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کردیا۔ “ مطلب بالکل صاف ہے کہ لوگوں کا رواج کیا ہے اور وہ کیا کہتے ہیں ؟ اس کی طرف تو وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ڈر اپنے دلوں میں نہیں رکھتے بلکہ لوگوں کے ڈر اور خوف کو اپنے دلوں میں جمائے بیٹھے ہیں اور نبی کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو جو اہمیت حاصل ہے اس کے سامنے دنیا کے لوگوں کی وہ کوئی پرواہ اپنے دل میں…
Read the full tafseer →Prefacing an answer to doubts and objections
The opening sentence of verse 38: سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا (a customary practice of Allah in the case of those who have gone before--- And Allah's command is pre-determined by destiny - 38) is a preface to doubts to be encountered in the wake of this marriage, particularly about why so much concern was shown in the case of this marriage despite there being other wives in the household. It was said: 'This is a sunnah of Allah (His customary practice not restricted to Muhammad…
Read the full tafseer →74 These words show that for the other Muslims such a marriage is just permissible but for the Holy Prophet it was a duty which Allah had imposed on him.
75 That is, "For the Prophets it has always been a law that whatever Command they receive from Allah, they have to act on it as a duty which they cannot in any case avoid. When Allah enjoins something on His Prophet, he has to accomplish it even if the whole world is deadly opposed to it."
Read the full tafseer →