عظمت زید بن حارثہ ؓ۔
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کے نبی ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کو ہر طرح سمجھایا۔ ان پر اللہ کا انعام تھا کہ اسلام اور متابعت رسول ﷺ کی توفیق دی۔ اور حضور ﷺ کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کردیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور حضور ﷺ کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان حب الرسول کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی حب بن حب کہتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ جس لشکر میں انہیں حضور ﷺ بھیجتے تھے اس لشکر کا سردارانہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ بن جاتے (احمد) بزار میں ہے حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں میں مسجد میں…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 67
یہاں سے آیت 48 تک کا مضمون اس وقت نازل ہوا جب حضرت زینب ؓ سے نبی ﷺ نکاح کرچکے تھے اور اس پر منافقین ‘ یہود اور مشرکین نے آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان عظیم بر پا کر رکھا تھا۔ ان آیات کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ ارشادات ان دشمنوں کی تفہیم کے لیے نہیں تھے جو قصداً حضور ﷺ کو بدنام کرنے اور اپنے دل کی جلن نکالنے کے لئے جھوٹ اور بہتان اور طعن وتشنیع کی مہم چلا رہے تھے، بلکہ اصل مقصود مسلمانوں کو ان کی اس مہم کے اثرات سے بچانا اور ان کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات سے محفوظ کرنا تھا۔ اس سے اگر اطمینان نصیب ہوسکتا تھا تو انہی لوگوں کو جو…
Read the full tafseer →دوسرا واقعہ
حضرت زینب بنت جحش کا نکاح بامر نبی کریم ﷺ حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ ہوگیا، مگر دونوں کی طبیعتوں میں موافقت نہ ہوئی۔ حضرت زید ان کی تیز زبانی اور نسبی شرافت کی بنا پر اپنے کو اونچا سمجھنے اور اطاعت میں کوتاہی کرنے کی شکایت کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی یہ بتلا دیا گیا تھا کہ زید ان کو طلاق دیں گے، اس کے بعد زینب آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ ایک روز حضرت زید نے انہی شکایات کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کر کے اپنا یہ ارادہ ظاہر کیا کہ ان کو طلاق دے دیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اگرچہ منجانب اللہ یہ علم ہوگیا تھا کہ واقعہ یوں ہی پیش آنے والا ہے، کہ زید ان کو طلاق دے دیں گے، پھر یہ نبی…
Read the full tafseer →واذ تقول للذی انعمل اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ فلما قضی زید منھا وطرازوجنکھا لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائھم اذ ققنوا منھن وطراط وکان امر امفعولا (37)
یہ اصل واقعہ کی طرف اجمالی اشارہ ہے۔ حضرت زید ؓ کا ذکر یہاں انعمل اللہ علیہ وانعمت علیہ کی صفت کے ساتھ ہوا ہے یعنی اللہ اور رسول دونوں کے انعام یافتہ اور منظور نظر۔ اس صفت کے ساتھ ذکر کرنے کی یہاں خاص وجہ ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ منافقین و منافقات نے حضرت زید ؓ کو غلامی کا طعنہ دے کر لوگوں کی نگاہوں میں ان کو گرانے کی پوری کوشش کی تاکہ پیش نظر مہم میں ان…
Read the full tafseer →37۔ 1 لیکن چونکہ ان کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جب کہ زید کے دامن میں غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی جس کا تذکرہ حضرت زید نبی ﷺ سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے۔ لیکن نبی ﷺ انکو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین فرماتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرمادیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اسکی مطلقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
32: اس سے مراد حضرت زید بن حارثہ ؓ ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تو یہ تھا کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، اور اسلام لانے کی توفیق دی، یہاں تک کہ یہ ان چار خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ان پر احسان کی تفصیل یہ ہے کہ یہ آٹھ سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ اپنی ننھیال میں گئے تھے، وہاں قبیلہ قین کے لوگوں نے حملہ کر کے انہیں غلام بنایا، اور عکاظ کے میلے میں لے جا کر حضرت حکیم بن حزام کے ہاتھ بیچ دیا، انہوں نے یہ غلام اپنی پھوپی حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کو دے دیا۔ اس کے بعد جب حضرت خدیجہ ؓ سے حضور سرور عالم ﷺ کا نکاح ہوا تو حضرت خدیجہ نے انہیں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40)
اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔
وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ…
Read the full tafseer →4 یعنی زید نے طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی، زینب سے کچھ غرض مطلب نہ رہا۔
5 حضرت زینب زید کے نکاح میں آئیں تو وہ ان کی آنکھوں میں حقیر لگتا۔ مزاج کی موافقت نہ ہوئی۔ جب آپس میں لڑائی ہوتی تو زید آکر حضرت ﷺ سے ان کی شکایت کرتے اور کہتے میں اسے چھوڑتا ہوں حضرت منع فرماتے کہ میری خاطر اور اللہ و رسول ﷺ کے حکم سے اس نے تجھ کو اپنی منشاء کے خلاف قبول کیا۔ اب چھوڑ دینے کو وہ اور اس کے عزیز دوسری ذلت سمجھیں گے۔ اس لیے خدا سے ڈرو اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگاڑ مت کر۔ اور جہاں تک ہو سکے نباہ کی کوشش کرتا رہ۔ جب معاملہ کسی طرح نہ سلجھا، اور بار بار جھگڑے قضیے پیش آتے رہے تو ممکن ہے آپ ﷺ کے دل میں آیا ہو…
Read the full tafseer →آیت 37 { وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو“
اس سے مراد حضرت زید رض ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم ﷺ کا انعام و احسان یہ تھا کہ وہ گردش زمانہ سے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور آپ ﷺ کے گھر میں گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے رہے تھے۔ ان کے والد حارثہ بن شراحیل کا تعلق قبیلہ کلب سے تھا۔ حضرت زید رض جب آٹھ سال کے بچے تھے تو اپنی ماں کے ساتھ اپنے…
Read the full tafseer →56 آپ کے سیدنا زید بن حارثہ پر احسانات :۔ اس شخص سے مراد زید بن حارثہ ہیں۔ ان پر اللہ اور اللہ کے رسول کا احسان یہ تھا کہ آپ قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شرحبیل کے بیٹے تھے۔ آٹھ سال کے ہی تھے کہ ایک قبائلی جنگ میں گرفتار ہوئے ان حملہ آوروں نے انھیں عکاظ کے میلہ میں جاکر بیچ ڈالا۔ خریدنے والے سیدہ خدیجہ ؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام تھے۔ انہوں نے مکہ آکر اس غلام کو اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہ ؓ کی خدمت میں تحفتا ً پیش کردیا۔ جب رسول اللہ کا سیدہ خدیجہ ؓ سے نکاح ہوا اس وقت زید بن حارثہ 15 سال کے تھے۔ ان کی عادات واطوار رسول اللہ کو اس قدر پسند آئیں کہ آپ نے سیدہ خدیجہ ؓ سے اپنے لئے مانگ لیا اور انہوں نے…
Read the full tafseer →77۔ (بطور فہمائش ومشورہ، نہ بطور حکم وجوبی) اے امر ندب (بحر)
78۔ مراد وہی حضرت زید صحابی ہیں۔ اللہ کا انعام تو ظاہر ہے کہ اسلام و ایمان کی توفیق دی، جو سب سے بڑی دینی نعمت ہے۔ اور پھر غلامی سے نجات دلائی جو سب سے بڑی دنیوی نعمت ہے۔ اور رسول کی طرف سے انعام یہ ہے کہ آپ نے امور دین کی تعلیم فرمائی، غلامی سے آزاد کیا۔ اپنی قریبی رشتہ کی بہن سے نکاح کرا دیا۔ حدیث میں ان کے لیے الفاظ آئے ہیں۔ کان من احب الناس الی، میرے محبوب ترین انسانوں میں ہیں۔
79۔ یعنی بیوی کے حقوق میں کوتاہی نہ کر۔ واتق اللہ فی معاشر تھا (بحر) (آیت) ” زوجک “۔ یہ بیوی صاحبہ وہی حضرت زینب ؓ تھیں، آخر ان شوہر کو بھی راضی نہ رکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن اور فرمانبردار مرد اور فرمانبرادر عورتیں اور ایمان میں مخلص مرد اور مخلص عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے اولی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور زندہ رکھنے والی عورتیں اور حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے معاصی سے مغفرت اور اطاعت پر اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت…
Read the full tafseer →واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ اور جب
آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور آپ نے بھی اس پر انعام کیا تھا ‘ کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔
یہ خطاب رسول اللہ کو ہے۔ حاکم نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ زید بن حارثہ رسول اللہ کی خدمت میں زینب بنت جحش کی شکایت کرنے آئے تو آپ نے فرمایا : اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو تو یہ آیت نازل ہوئی۔
اَنْعَمَ اللہ اللہ نے اس پر فضل کیا کہ اسلام کی اور آپ کے ساتھ رہنے کی اس کو توفیق دی اور آپ کے دل میں اس کی محبت پیدا کردی (جس کی وجہ سے آپ نے اس کو آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا…
Read the full tafseer →اور جبکہ آپ حضرت زید سے فرما رہے تھے (جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور آپ نے بھی ان کو آزاد کر کے ان پر انعام فرمایا) کہ اپنی بیوی کو طلاق مت دو اور حق سے ڈرو اور آپ زید کے طلاق دینے کی صورت میں اپنے دل میں حضرت زینب سے نکاح کرنے کے ارادہ کو چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ بذریعہ قرآن حکیم ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کے طعن کا بھی اندیشہ کر رہے تھے اور ڈرنا تو آپ کو اللہ ہی سے زیادہ مناسب ہے۔
چناچہ جب حضرت زید کا حضرت زینب سے جی بھر گیا اور انہوں نے ان کو طلاق دے دی اور طلاق کی عدت بھی پوری ہوگئی تو ہم نے حضرت زینب سے آپ کا نکاح کرا دیا تاکہ اس کے بعد مسلمانوں کو اپنے…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْٓ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ۔۔ : ان آیات کے نزول کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ حکم نازل کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کے حکم میں کسی طرح بھی نہیں ہیں اور یہ کہ اگر وہ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں، تو انھیں یعنی منہ بولے بیٹے بنانے والوں کے لیے ان سے نکاح جائز ہے، کیونکہ وہ عورتیں حقیقی بیٹوں کی بیویوں کی طرح ان کی بہو نہیں ہیں۔ تو اس وقت متبنّٰی کی رسم معاشرے میں اس قدر پختہ اور مستحکم ہوچکی تھی کہ بہت بڑے اقدام کے بغیر اس کی اصلاح ممکن نہ تھی اور ضروری تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے قول کے علاوہ آپ کے عمل کے ساتھ اس پر کاری ضرب لگائی جائے۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ امام ترمذی نے روایت کیا علی بن حجر، دائود بن زبر قان سے وہ دائود بن ابی ہند سے وہ شعبی سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ وحی میں سے کوئی چیز چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے آیت واذتقول للذی انعم اللہ علیہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت کے ساتھ اس پر انعام کیا (1) ۔ آیت وانعمت علیہ اور آپ نے اسے آزاد کرتے ہوئے اس پر انعام کیا آیت امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناسو اللہ احق ان تخشہ فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم اذا قضوا منھن وطراوکان امر اللہ مفعولا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
1۔ البزار وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ عباس اور علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہم کو بتائیں کہ اپنے گھروالوں میں سے کون آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا میرے گھوالوں میں سے مجھے فاطمہ ؓ زیادہ محبوب ہے ان دونوں نے کہا ہم آپ سے فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن زید مجھے زیادہ محبوب ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور میں نے بھی انعام فرمایا علی ؓ نے پھر پوچھا یارسول اللہ پھر کون محبوب ہے ؟ فرمایا پھر تو پھر عباس محبوب ہے عباس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَقُوْلُ [اور جب آپ ﷺ کہتے تھے ] لِلَّذِيْٓ [اس (شخص) سے ] اَنْعَمَ اللّٰهُ [انعام کیا اللہ نے ] عَلَيْهِ [جس پر ] وَاَنْعَمْتَ [اور آپ ﷺ نے انعام کیا ] عَلَيْهِ [جس پر ] اَمْسِكْ [(کہ) تو تھامے رکھ ] عَلَيْكَ [اپنے پاس ] زَوْجَكَ [اپنی بیوی کو ] وَاتَّقِ اللّٰهَ [اور تو تقوی کر اللہ کا ] وَتُخْــفِيْ [اور آپ ﷺ چھپاتے تھے ] فِيْ نَفْسِكَ [اپنے جی میں ] مَا [اس کو ] اللّٰهُ مُبْدِيْهِ [اللہ ظاہر کرنے والا تھا جس کو ] وَتَخْشَى النَّاسَ ۚ [اور آپ ﷺ ڈرتے تھے لوگوں سے ] وَاللّٰهُ اَحَقُّ [اور اللہ سب سے زیادہ حقدا ہے ] اَنْ تَخْشٰـىهُ ۭ [کہ آپ ﷺ ڈریں اس سے ] فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ [تو پھر…
Read the full tafseer →زینب بنت جحش ؓ کا رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنا
(وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ ) (اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اس شخص سے (بطور فہمائش اور مشورہ) فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا کہ تم اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو) حضرت زید بن حارثہ ؓ پر اللہ تعالیٰ نے یہ انعام فرمایا کہ انہیں اپنے رسول ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، غلامی سے چھڑایا اور اسلام کی توفیق دی، اور آپ ﷺ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ محبتوں اور شفقتوں کے ساتھ اپنے پاس رکھا، دین سکھایا اور اپنی پھوپھی زاد بہن سے نکاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(بقیہ پچھلی آیت میں)
خلاصہ کلام یہ کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کے کلام معرفت التیام کا حاصل یہ ہے کہ خاتمیت ایک جنس ہے جس کی دو قسمیں ہیں ایک زمانی اور دوسرے رتبی۔ خاتمیت زمانیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضور پر نور سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیا کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور خاتمیت رتبہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضور پر نور ﷺ پر ختم ہیں اور حضور پر نور ﷺ دونوں اعتبار سے خاتم النبیین ہیں زمانہ کے اعتبار سے بھی اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضور ﷺ کی خاتمیت فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں…
Read the full tafseer →39:۔ واذ تقول الخ، یہ آں حضرت ﷺ سے تیسرا خطاب ہے اس میں آں حضرت ﷺ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے اپنی حقیقی پھوپھی کی بیٹی حضرت زینب بنت جحش کا نکاح اپنے متبنی حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ کردیا۔ لیکن خاوند بیوی کے درمیان موافقت نہ ہوسکی اس لیے زید نے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا اورحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا اظہار کیا۔ آپ نے زید کو عتاب فرمایا اور سختی سے حکم دیا کہ خدا سے ڈر اور اپنی بیوی کو طلاق مت دے۔ اصل میںحضور ﷺ نے زید کو طلاق دینے سے اس لیے منع فرمایا کہ اگر زید طلاق دے دے تو زینب کے دل آزردہ کا مداوا صرف اسی میں ہے کہ آپ خود ان سے نکاح کرلیں لیکن یہ بھی نہیں چاہتے تھے کیونکہ اس میں منافقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی ان صفات کا ذکر کیا جن کے ذریعے وہ کمال حاصل کرسکتے ہیں اور ان صفات کو اسلام کی بنیادی قدریں قرار دیا اس سے پہلے اللہ نے ازواج مطہرات کی حیثیت اور مرتبے کو بیان فرمایا اور ان کی کوتاہیوں پر تنبیہ فرمائی۔ پیشتر ازیں غزوہ خندق کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی۔ اس سے بھی قبل اللہ نے نبی (علیہ السلام) کے حقوق کا ذکر کیا اور امت کو خبردار کیا کہ نبی کے اعزازو اکرام کو ملحوظ خاطر رکھیں اور قول و فعل سے کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اللہ کے نبی کو اذیت پہنچے۔ اب آج کی آیات میں بھی یہی مضمون مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔
ارشاد…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْٓ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْہِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللہَ وَتُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللہُ مُبْدِيْہِ وَتَخْشَى النَّاسَ 0 ۚ وَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىہُ 0 ۭ فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَہَا لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِيْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَاۗىِٕہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا 0 ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوْلًا 37
نعم
النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
تفسیر … زینب ؓ کے قصہّ کی تحقیق اور مخالفوں کا جواب : فقال اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ امسک علیک زوجک و اتق اللہ و تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی الناس واللہ احق ان تخشہ، اس آیت میں ضرور ایک واقعہ گزشتہ کی طرف اشارہ ہے اور باتفاق مفسرین وہ زید بن حارثہ ؓ اور اس کی بیوی زینب بنت جحش ؓ کے جھگڑے کی طرف اشارہ اور اسی پر آیت کے الفاظ چسپاں ہیں۔ وہ قصہ یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ضمانت و کفالت اور بڑی کوشش سے زینب کا نکاح زید سے ہوا تھا۔ زینب قوم کی قریش اور اس پر تند خو تھیں، اکثر معاملات میں میاں بیوی کی تو تو میں میں رہتی تھی۔ آخر ناچار ہو کر زید نے حضرت ﷺ سے شکایت کی اور بجز آپ کے اس…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَااللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ ج وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ط فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰـکَھَا لِکَیْ لاَ یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَـآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلاً ۔ (الاحزاب : 37)
(اے پیغمبر، یاد کرو جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو، اور آپ اپنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ اب بتلایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے تابع رہ کر میاں اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ جس کی مثال حضرت زینب اور حضرت زید کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔
اس سورة مبارکہ کی آیت پانچ کی تشریح میں عرض کیا گیا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ نبی کریم ﷺ کے غلام تھے جسے آپ نے آزاد فرما کر اپنا متبنّٰی بنا لیا تھا۔ زید بن حارثہ کا تعلق قبیلہ کلب سے تھا جب آٹھ سال کے ہوئے تو ان کی والدہ انہیں ننھال لے گئی وہاں دشمن قبیلے نے ان کے ننھال پر حملہ کردیا۔ دشمن دوسرے…
Read the full tafseer →حضرت زید ؓ کا تذکرہ :
37: وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ (اور جب آپ فرما رہے تھے اس کو جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا) اسلام کی توفیق دی جو سب سے اعلیٰ نعمت ہے۔ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ (اور آپ نے انعام کیا) اس کو آزاد فرما کر متبنّیٰ بنا لیا۔ گویا وہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے انعامات میں کروٹ بدلنے والا ہے مراد اس سے زید بن حارثہ ہیں۔ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ (اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے) زوجؔ سے مراد یہاں زینب بنت جحش ہیں۔ اور واقعہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زید سے نکاح کے بعد ان کو دیکھا تو اچھی معلوم ہوئیں آپ نے فرمایا سبحان اللہ مقلب القلوب اس سے قبل…
Read the full tafseer →واذ تقول للذی انعم اللہ کا شان نزول
37، واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ انعمت علیہ امسک علیک زوجک ، ایک روزرسول اللہ ﷺ کسی کام سے (حضرت زینب ؓ کی طرف) گئے ۔ زینت گوری اور قریش کی حسین ترین عورت تھیں۔ اس وقت صرف کرتہ اور دوپٹہ پہنے کھڑی تھیں ۔ حضور ﷺ کی جو نظر ان پر پڑی تو اچھی معلوم ہوئیں اور دل کو بھاگئیں ۔ فورازبان سے نکلا : سبحان اللہ ! اللہ دل کو پلٹنے والا ہے ۔ اس کے بعد لوٹ آئے۔ جب حضرت زید آئے تو ان سے حضور ﷺ نے اس بات کا تذکرہ کردیا۔ زید سمجھ گئے اور اسی وقت سے ان کے دل میں زینت کی طرف سے کراہت پیداگئی ۔ کچھ مدت بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہو کر عرض کیا : یارسول اللہ ! (ﷺ) میں اپنی بیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
36 تا 40۔ تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 2037201 ج 5۔ ) اس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے موضح القران میں بیان کیا ہے کہ حضرت زنیب ؓ اور ان کے راضی نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہ شان نزول صحیح بخاری 3 ؎ میں بھی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ہے (3 ؎ صفحہ 706 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) اب اس زنیب ؓ کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے خفگی سے آنحضرت ﷺ کو یہ جو فرمایا ہے کہ اے نبی جس چیز کو اللہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کو تم اپنے دل ہی دل میں کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37
ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے ایک عام قانون مشروع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے، تمام وجوہ سے، حقیقی بیٹوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں اور ان کی بیویوں کے ساتھ، متنبیٰ بنانے والوں کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ معاملہ ان امور عادیہ میں شمار ہوتا تھا جو کسی بہت بڑے حادثے کے بغیر ختم نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ یہ قانون رسول ﷺ کے قول و فعل کے ذریعے سے وجود میں آئے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے کوئی سبب مقرر کردیتا ہے۔
(زید بن حارثہ کو ” زید بن محمد “ کہہ کر پکارا جاتا تھا جنہیں نبی مصطفیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
متبنیٰ کی بیوی سے طلاق ہونے پر نکاح ہوسکتا ہے
قول باری ہے (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ توتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) اور (اس وقت کو بھی یاد کیجئے) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی فضل کیا ہے اور آپ نے بھی اس پر عنایت کی ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کی طرف سے اندیشہ کررہے تھے حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
سفیان بن عینیہ نے علی بن زید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا : مجھ سے علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
69 حضرت زید ؓ پر خصوصی انعام و احسان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان فرمایا اور آپ نے بھی " یعنی حضرت زید بن حارثہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اسلام و ایمان کی نعمت سے نوازنے کا انعام فرمایا تھا اور حضور نے ان پر عتق و آزادی بخشنے اور اتنے اونچے رشتے کا احسان فرمایا تھا۔ حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کی یہ شادی ہو تو اگرچہ گئی تھی مگر دونوں کی طبیعتوں میں موافقت نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کا نباہ نہ ہوسکا، یہاں تک کہ حضرت زید طلاق دینے کو تیار ہوگئے۔ تو حضور کو یہ شاق ہوا کہ زینب پہلے تو اس رشتے کے لئے سرے سے راضی ہی نہ تھیں اور میرے کہنے پر رضا مندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سیدنازید کی شادی اور طلاق کی مصلحت
تشریح : دراصل ان آیات میں اللہ کی اس حکمت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے جاہلیت کی وہ رسم سرے سے ختم کرنا مقصود تھا کہ جس کی وجہ سے لوگ منہ بولے بیٹے کو سگے بیٹے کے برابر درجہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے وراثت کے معاملہ میں بڑی الجھنیں پیدا ہوجاتی تھیں اور پھر اصلی رشتہ دار وراثت سے کافی حد تک محروم رہ جاتے تھے اسی طرح رشتہ داریوں کی حرمت اور درجات میں کافی گڑ بڑ ہوجاتی تھی۔ دین ِ اسلام اصلاح معاشرہ کا دین ہے اسی لیے اس غلط رسم کو جڑ سے نکال دیا گیا۔ ہوا اس طرح کہ جب خلاف خوشی سیدہ زینب اور سیدنازید کا نکاح اللہ کے حکم کے تحت ہوگیا تو اصل میں ان دونوں کو دلی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیات 35 تا 40
اسرارومعارفف
مرد اور عورت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عبادت کے برابر مکلف ہیں اور دونوں کا حساب ہوگا اجر پائیں گے :
چنانچہ یہ بات جان لی جائے کہ قبول اسلام اور اتباع شریعت بھی ایک کھیتی ہے جیسے زمین تیار کرنا بیج ڈالنا حفاظت کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے بیشک اسلام قبول کرنے والے مرد ہوں یا خواتین انہیں قبول اسلام سے یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دولت ایمان و یقین سے بہرہ ور مردوں اور خواتین کو عبادت و اطاعت کی توفیق ارزاں ہوتی ہے عبادت الہی بندے کو سچا اور کھرا بنا دیتی ہے سچے اور کھرے مرد اور خواتین کو نیکی پر استقامت گناہوں سے بچاؤ اور تکالیف…
Read the full tafseer →ف 4 زید ؓ بن حارثہ پر آنحضرت ﷺ نے بڑا احسان یہ کیا کہ ان کو آزاد کر کے اپنا متنبی ٰ بنا لیا اور پھر اپنی پھوپھی زاد بہن سے ان کا نکاح کردیا۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب یہ نکاح ہوچکا تھا لیکن میاں بیوی کے درمیان تعلقات نے ناخوشگوار صورت اختیار کرلی تھی۔ حتیٰ کہ زید ؓ نے طلاق دینے کا تہیہ کرلیا تھا۔5 یعنی اسے طلاق دینے میں جلدی نہ کرو اور اس کے معاملے میں اللہ سے ڈر۔6 یہ بات کیا تھی ؟ تفاسیر میں اس باب میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شان نبوت کے سراسر منافی ہیں، اس لئے حافظ فتح الباری میں لکھتے ہیں :” کہ ان کا بیان مناسب نہیں ہے “۔ اور حافظ ابن کثیر (رح) نے…
Read the full tafseer →(33:37) اذ تقول۔ یہ خطاب حضرت رسول کریم ﷺ سے ہے ای اذکر وقت قولک۔ وہ وقت یاد کرو جب تو نے کہا
الذی۔ اسم موصول ہے (مراد یہاں حضرت زید بن حارثہ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) صحابی رسول اللہ ﷺ جس کو آپ نے متبنی بنایا تھا اور جن کے ساتھ آپ نے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت حجش ؓ کا نکاح کردیا تھا۔ جو بعد میں بوجہ اختلاف طبائع و دیگر وجوہ آپس میں علیحدگی پر منتج ہوا۔ ان حضرت زینب کو بعد میں بمنشائے ایزدی حضور ﷺ نے اپنی زوجیت میں داخل فرمایا) ۔
انعم اللہ علیہ۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا (کہ حضرت زینب زید بن حارثہ کو غلامی سے آزاد کرایا۔ اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور خصوصا نبی کریم ﷺ کے زیر سایہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40
الخیرۃ : اختیار
امسک : روک لے
مبدی : ظاہر کرنے والا
وطر : حاجت
زوجنا : ہم نے نکاح کردیا
ادعیاء : بلاتے ہیں۔ پکارتے ہیں
یبلغون : وہ پہنچاتے ہیں
یخشون : وہ خوف رکھتے ہیں۔ ڈرتے ہیں
حسیب : حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
ان آیات میں حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، طلاق ، پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، منہ بولے بیٹوں کی شرعی حیثیت کے اہم ترین مسئلوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
حضرت زید ؓ ابن حارثہ بنو کلب کے حارثہ ابن شراحیل کے بیٹے تھے ۔ والد کا نام سعدٰی بنت ثعلبی تھا اور ان کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھا ۔ جب حضرت زید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) شان نزول :
یہ آیت حضرت زینب بنت حجش ؓ اسدیہ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حجش اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب کے حق میں نازل ہوئی ، ایک مرتبہ حضور پرنور نے زید بن حارچہ کی جن کو نبی ﷺ نے آزاد کیا تھا، اور وہ حضور ہی کی خدمت میں رہتے تھے نبی ﷺ نے زینب سے جو آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں منگنی کرنی چاہی، انہوں نے انکار کیا اور عرض کرنے لگیں، یارسول اللہ میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں اور قریش کی سردار ہوں میں اپنے لیے زید کو پسند نہیں کرتی ، ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حجش نے بھی انکار کیا، اس وقت میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئیں کہ جب خدا اور رسول ایک بات کا حکم دے چکے تو پھر ایمان والوں کو…
Read the full tafseer →[36] یعنی زید ؓ بن حارثہ سے۔
[37] یعنی اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی۔
[38] یعنی پالا پوسا، امور دین کی تعلیم فرمائی اور اپنی پھوپھی زاد بہن سے نکاح کردیا۔
[39] زید ؓ اور زینب ؓ کے مزاجوں میں ناموافقت کی وجہ سے زیدؓ نے طلاق دینا چاہی اور رسول اکرم ﷺ سے مشورہ کیا۔ آپ ﷺ نے فہمائش کی کہ طلاق مت دو کیونکہ زینب ؓ نے میری خاطر اللہ اور رسول ﷺ کے حکم سے تجھے اپنی منشاء کے خلاف قبول کیا اب چھوڑ دینے کو وہ اور اس کے عزیز دوسری ذلت سمجھیں گے۔ مگر جب کسی طرح موافقت نہ ہوئی تو زید ؓ نے طلاق دینے کا عزم کیا۔ اس وقت رسول اکرم ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا کہ زید ؓ ضرور طلاق دیں گے اور زینب ؓ کا…
Read the full tafseer →حضرت زینب کا قصہ
1: حضرت زید غلام تھے ۔ حضور نے انہیں آزادی کی نعمت بخشی ۔ اور پھر اپنی آغوش تربیت میں لے لیا ۔ یہ بڑھے اور پروان چڑھے ۔ حضور ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن ان کے نکاح میں دیدی ۔ تاکہ غلام کے رتبہ کو وشیا میں بلند کیا جائے ۔ اور یہ بتایا جائے کہ اسلام میں آقا و غلام کی کوئی تمیز نہیں ۔ جب کوئی شخص مسلمان ہوجاتا ہے اور آزادی کی نعمت کو بھی پالیتا ہے تو سابقہ غلامی کا داغ اس کے دامن پر نہیں رہتا ۔ بلکہ وہ اسلام کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے ۔ پھر ایسا اتفاق ہوا ۔ کہ حضرت زید کی وجہ سے سماج کی ایک اور رسم کو توڑنا اللہ کو منظور ہوا ۔ اس لئے میاں بیوی میں نبھاؤ نہ ہوسکا ۔ حضور ﷺ کی خواہش تو…
Read the full tafseer →37۔ اور اے پیغمبر وہ واقعہ یاد کیجئے کہ جب آپ اس شخص پر جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور آپ نے بھی اس پر احسان کیا ہے یوں فرما رہے تھے کہ اپنی بیوی زینب ؓ کو اپنی زوجیت میں روکے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے ڈر اور آپ اپنے جی میں وہ باپ چھپا رہے تھے جس کو اللہ تعالیٰ خود ظاہر کرنیوالا تھا اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس سے ہی ڈریں پھر جب زید کو اس زینب ؓ سے کوئی حاجت باقی نہ رہی اور زید اس سے اپنی غرض پوری کرچکا یعنی طلاق دے چکا اور عدت پوری ہوگئی تو ہم نے اس زینب ؓ کو آپ کے نکاح میں دیدیا تاکہ مسلمانوں کو متنبی اور لے پالکوں اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔
5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔
(فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔
6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔
7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔
Read the full tafseer →زیر نظر آیت زیدوزینب کے مہتم بالشان واقع کی طرف اشارات کررہی ہے
37 ۔ ہر قوم میں کچھ رسومات پائی جاتی ہیں جن رسومات کی وہ اس قدر پابند ہوتی ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے کہ یہ رسم باقی رہے ، ہمارا کچھ باقی رہے با لکل نہ رہے اگرچہ ان رسومات کی حقیقت کچھ بھی نہ ہو الا یہ کہ اس قوم کے آباء و اجداد وہ کرتے رہے ہیں اور یہی وہ دلیل ہے جو ہزار ہا دلیلوں پر حاوی ہوتی ہے۔ یہودیوں میں یہ رسم گھر کرگئی کہ کوئی شخص جو بیت المقدس کا خادم ہو کر اپنی زندگی بیت المقدس کے لئے وقف کردے اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس خدمت کو قبول کرلینے کے بعد بھی ازواجی زندگی قائم کرے اور یہ رواج اتنا…
Read the full tafseer →The Second Event
As ordered by the Holy Prophet ﷺ ، the marriage of Sayyidah Zainab bint Jahsh ؓ ' was solemnized with Sayyidna Zayd Ibn Harithah ؓ . But, their temperaments did not match and merge with each other. Sayyidna Zayd used to complain about the sharpness of her tongue, the airs she assumed because of her inborn lineal nobility and her failure to listen to him. On the other side, the Holy Prophet ﷺ was informed through revelation that Zayd would divorce her where after she would be married to him. On a certain day, Sayyidna Zayd presented these very complaints before the Holy…
Read the full tafseer →67 The discourse from here to verse 48 was sent down after the Holy Prophet had married Hadrat Zainab, and the hypocrites, the Jews and the mushriks had started a relentless propaganda campaign against him. While studying these verses one should bear in mind the fact that this Divine discourse was not meant for the instruction of the enemies who were engaged. in a wilful campaign of vilification and slander and falsehood to defame the Holy Prophet intentionally and to satisfy their rancour. But its real object was to protect the Muslims against the influence of their campaign and to safeguard…
Read the full tafseer →